Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

“ایسے جائیں گے آپ۔۔۔۔”
فرح نے اُس کے یونیفارم کی جانب اشارہ کیا تھا۔۔۔ حمدان نے اُن سب کی مسکراہٹ دیکھ جیسے ہی سامنے لگے شیشے کی جانب دیکھا اُس کا منہ بھی کھل چکا تھا۔۔۔۔
اُس کی پوری شرٹ آگے اور پیچھے سے آٹے کے نشانوں سے سجی ہوئی ہوئی تھی۔۔۔
اور اب وہ قاتل حسینہ یہ کارنامہ سرانجام دے کر معصوم بنی سب کے درمیان سر جھکائے کھڑی تھی۔۔۔۔
حمدان اُس پر ایک تیز نگاہ ڈالتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
تم کتنی کیوٹ ہو نا۔۔۔۔”
فرح سب کے جانے کے بعد اُس کے گال کھینچتی مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔
مہروسہ نے ناسمجھی سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“میں جانتی ہوں تم نے بھائی کو جان بوجھ کر روکا ہے۔۔۔ تاکہ وہ آج آفس نہ جائیں اور میرے اِس ایونٹ میں میرے ساتھ رہیں۔۔۔ تم بہت اچھی اور پیاری لڑکی ہو۔۔۔۔”
فرح اُس کا شکریہ ادا کرتی وہاں سے ہٹ گئی تھی۔۔۔ جبکہ مہروسہ نے ہونق بنے اُسے جاتے دیکھا تھا۔۔۔۔
وہ یہ چاہتی تھی کہ حمدان آج اپنی مصروفیات ترک کرکے گھر والوں کے ساتھ رہے۔۔۔ مگر اُس نے یہ سب حمدان کو روکنے کے لیے بالکل بھی نہیں کیا تھا۔۔۔۔
وہ حقیقتاً کاکروچ سے ڈرتی تھی۔۔۔۔۔
مگر فرح کی خوشی دیکھ وہ اُسے کوئی وضاحت نہیں دے پائی تھی۔۔۔۔ اِس سے پہلے کے وہ فرح کو پکارتی۔۔۔ اُس کے پیچھے جاتی۔۔۔۔
حمدان نے اُس کی کلائی مڑور کر انتہائی سکتی سے اُسے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔۔
مہروسہ اپنے دھیان میں کھڑی اِس افتاد کے لیے قطعاً تیار نہیں تھی۔۔۔۔ اُس کے کھینچ کر دیوار سے لگانے پر وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پائی تھی۔۔۔ اُس کا سر اور کمر بہت زور سے دیوار سے ٹکراتے اُس کی ٹیسیں نکال گئے تھے۔۔۔۔
“آہہہ۔۔۔۔۔”
مہروسہ کے ہونٹوں سے تکلیف کے مارے بے اختیار کراہ نکلی تھی۔۔۔ اُسے اپنی گردن سے زرا نیچے کندھے پر شدید جلن محسوس ہوئی تھی۔۔۔ جیسے کوئی نوکیلی شے چبھ گئی ہو۔۔۔۔ شاید دیوار پر کیل تھا جو اُس کے کندھے میں چبھا تھا۔۔۔
لیکن اپنی تکلیف کا احساس کیے بغیر وہ گھبرائی نگاہوں سے اُس سنگدل کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ جو اُس کے نہایت قریب کھڑے ہوتے اُس کی کلائی اتنی زور سے تھامے ہوئے تھا۔۔۔ کہ مہروسہ جیسی مضبوط لڑکی کی بھی چیخیں نکل رہی تھیں۔۔۔ اُسے لگا تھا آج تو اُس کی ہڈی توڑ کر ہی چھوڑے گا یہ شخص۔۔۔۔۔
وہ اِس تکلیف کو بمشکل برداشت کرتی بس اُس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ سمجھ چکی تھی کہ حمدان فرح کی کہی باتیں سن چکا ہے۔۔۔ اور اب وہ بھی وہی سمجھ کر شاید اُس پر دوبارہ اپنا اعتبار کھو چکا ہے۔۔۔۔۔۔
“فرح آپی کو غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔ میں سچ میں کاکروچ۔۔۔۔۔۔”
مہروسہ کے لب پھڑپھڑائے تھے۔۔۔۔ مگر حمدان نے اُس کے ہونٹوں پر انگلی رکھتے اُسے وہیں خاموش کروا دیا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کی اِس حرکت پر مہروسہ کے دل کی دھڑکن غیر معمولی حد تک بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
“جانتا ہوں۔۔۔ تمہیں وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔”
حمدان چہرا اُس کے بالکل قریب کیے اُس کی آنکھوں میں جھانکتا اُس نازک جان پر قیامت برپا کرگیا تھا۔۔۔۔
اُس کی گرفت جس قدر بے رحم تھی۔۔۔۔ لہجہ اُتنا ہی مہربان تھا۔۔۔۔
مہروسہ اُس کے سحر میں جکڑی کھڑی یک ٹک اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔۔
“یہ معصوم چہرا دھوکے باز بھلا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔ ہیں نا؟؟؟؟”
اُس کے چہرے کو ٹھوڑی سے تھام کر اُوپر کرتے وہ بھاری گھمبیر لہجے میں بولتا مہروسہ کو سر سے پیر تک لال کرگیا تھا۔۔۔۔
ہمیشہ اُس سے ایسے ہی اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرنے والی وہ بلیک سٹارز کی گینگ لیڈر اِس وقت ایس پی حمدان کے میدان میں آتے ہی کانپنے لگی تھی۔۔۔ اُسے کچھ دیکھائی اور سنائی ہی نہیں دے رہا تھا۔۔۔
نہ کندھے کی تکلیف نہ ہی کلائی کا درد۔۔۔۔۔
وہ تو بس اِس ساحر کی شخصیت کے سحر میں جکڑی کھڑی تھی۔۔۔
“میں نے تم پر شک کرکے بہت غلط کیا۔۔۔ میری زندگی کا گزرتا ہر لمحہ مجھے احساس دلاتا ہے کہ میں کتنا غلط تھا۔۔۔۔ آئم سوری فار ایوری تھنگ۔۔۔۔”
حمدان اُس کے کانوں میں رس گھول رہا تھا۔۔۔ اور وہ آنکھیں غیر یقینی حد تک کھولے اُسے یک ٹک تکے جارہی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز کی کل رات کی کہی باتیں بھول چکی تھیں۔۔۔ اُسے یاد رہا تھا تو صرف سامنے کھڑا شخص اور اپنے پہلو میں بے قابو ہوکر دھڑکتا دل۔۔۔۔
شاہ ویز نے اُسے جس بربادی کی بات کی تھی وہ اُس کے دہانے پر آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
“مجھے اعتبار ہے تم پر۔۔۔۔”
حمدان صدیقی اُس کی آنکھوں میں جھانکتا بہت کاری وار کر گیا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کو لگا تھا وہ اب پوری زندگی اِس لمحے سے نہیں نکل پائے گی۔۔۔۔
“ہنستی رہا کرو۔۔۔ تمہاری مسکراہٹ بہت پیاری ہے۔۔۔”
حمدان اُس کا گال تھپتھپاتا وہاں سے ہٹ گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ مہروسہ نجانے کتنے ہی لمحے وہیں ساکت کھڑی رہی تھی۔۔۔۔۔ اُسے لگا تھا بس جیسے اُس کی زندگی اِسی ایک لمحے میں آکر ٹھہر گئی ہو۔۔۔
“بی بی جی۔۔۔۔۔”
ملازمہ کے آکر پکارنے پر مہروسہ نے گم صم سے انداز میں اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“بی بی جی حمدان صاحب آپ کو اپنے روم میں بلا رہے ہیں۔۔۔ وہ کہہ رہے ہیں اُن کا یونیفارم پریس کردیں۔۔۔”
ملازمہ کو بھجوائے اِس نئے پیغام پر مہروسہ کی سٹی گم ہوئی تھی۔۔۔۔
اُس کا سنگدل ستمگر ایک دم اتنا مہربان کیسے ہوگیا تھا۔۔۔۔۔ مہروسہ کو لگا تھا گولی کے وار سے تو وہ ہمیشہ بچتی آئی تھی۔۔۔ مگر اس شخص کی محبت کے وار اُس کی جان نکال دیں گے۔۔۔
وہ ملازمہ کو اثبات میں سر ہلا کر جواب دیتی سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔
“یہ دیوار پر خون۔۔۔ یہ کہاں سے آیا۔۔۔۔؟؟؟”
وہاں سے ہٹتے اچانک ملازمہ کی غیر ارادی نظر اُسی دیوار پر پڑی تھی۔۔۔ جہاں مہروسہ کھڑی تھی۔۔۔
اُس نے فوراً نظریں گھما کر مہروسہ کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ مگر اُس کی کندھے پر پڑے بال اور دوپٹے کی وجہ سے وہ اندازہ نہیں لگا پائی تھی کہ یہ خون کس کا ہے۔۔۔۔
اِس لیے بنا کچھ بولے خاموشی سے اُسے صاف کرنے لگ گئی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“اپنی جان ہی کو بچایا ہے۔۔۔۔”
اُس کی آنکھوں میں جھانکتے شاہ ویز سرگوشیانہ لہجے میں بوجھل پن سے بولتا پریسا کو کچھ پل کے لیے اپنے آس پاس کی دنیا بھلا گیا تھا۔۔۔
وہ آنکھیں پھاڑے یک ٹک اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
“کک کیا مطلب ؟؟؟ میں سمجھی نہیں۔۔۔۔؟؟”
پریسا کو اپنے حلق میں کچھ اٹکتا محسوس ہوا تھا۔۔۔ دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آن ٹپکے گا۔۔۔
“اُن غنڈوں سے میری جان کو بھی خطرہ تھا۔۔۔ تو اُنہیں ختم کرکے میں نے اپنی جان کو بچایا ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز اپنے مخصوص کھردرے لہجے میں بولتا اُس کی ساری خوش فہمی ہوا کر گیا تھا۔۔۔
“اُف میں پاگل کیا سوچ رہی ہوں۔۔۔ جس انسان کے سینے میں دل ہی نہیں ہے۔۔۔ وہ بھلا کسی بھی قسم کے احساسات اور جذبات کے بارے میں کیا جانتا ہوگا۔۔۔۔ میں کیوں یہ اول فول سوچ رہی ہوں۔۔۔ یہ شخص پتھر ہے جس سے ساری زندگی سر پھوڑنے کے سوا کچھ نہیں مل سکتا۔۔۔۔۔”
پریسا دل ہی دل میں خود کو کوستے ہوئے بول رہی تھی۔۔۔۔ مگر دل تھا کہ بار بار اِسی شخص کے لیے ہمک رہا تھا۔۔۔۔
“یہاں کیوں آئے ہو۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا نے اُسے دور ہونا چاہا تھا۔۔۔ جب اُوپر سے گرتی بیل کی وجہ سے دور ہونے کے بجائے وہ اُس کے مزید قریب ہوگئی تھی۔۔۔۔
“میرے پودے خراب ہورہے ہیں۔۔۔۔”
اپنی ساری بیلوں کو ایک ایک کرکے ٹوٹتے دیکھ پریسا روہانسے لہجے میں بولی۔۔۔
شاہ ویز نے ایک نظر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے اُسے آرام سے اُٹھا کر اپنے کندھے پر ڈالتا اُنہیں پودوں کے پیچھے سے ہوتا آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔
“تم کہاں لے کر جارہے ہو مجھے۔۔۔ میں شور مچا دوں گی۔۔۔ چھوڑو مجھے۔۔۔۔”
پریسا کا دل خوف سے لرز اُٹھا تھا۔۔۔۔ وہ اب مزید اِس شخص کی جان لیوا قید برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔
“مچا دو شور۔۔۔۔ تمہارے سارے خاندان کو تم سمیت اُوپر پہنچانے میں پانچ منٹ سے زیادہ وقت نہیں لگے کا مجھے۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اپنی دھمکی سے اُس کی بولتی وہیں بند کرتا پچھلے حصے کے آخری کونے میں آن پہنچا تھا۔۔۔
پریسا کو نیچے اُتارتے اُس نے سب سے پہلے وہاں موجود گھاس کو ہاتھ سے نیچے دھکیلا تھا۔۔۔۔
جس کے بعد وہاں کی زمین کو آگے کی جانب سرکتے دیکھ پریسا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔۔۔ اتنے سالوں سے وہ یہاں رہ رہی تھی۔۔۔ مگر وہ اس سب کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔۔۔۔
“یہ سب۔۔۔۔۔”
پریسا نے سوالیہ نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“اُترو نیچے۔۔۔۔”
شاہ ویز نے سپاٹ تاثرات کے ساتھ اپنے حاکمانہ لہجے میں اُسے آرڈر دیا تھا۔۔۔
“نن نہیں۔۔۔ نہیں اُتروں گی میں۔۔۔ “
پریسا اُس سے خوفزدہ ہوتی وہاں سے جانے کے لیے پلٹی تھی۔۔۔ مگر اُس سے پہلے ہی شاہ ویز اُس کی کلائی تھامتا اُسے کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیئے بغیر اُسے بانہوں میں اُٹھاتا اُس حصے میں نیچے کو جاتی سیڑھیاں اُتر گیا تھا۔۔۔۔
اُن کے نیچے جاتے ہی شاہ ویز کے اشارے پر پیچھے سے کسی نے اُس حصے کو واپس ڈھانپ دیا تھا۔۔۔۔
“پلیز۔۔۔ مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔۔۔ یی یہ تم کہاں لے کر آؤ ہو مجھے۔۔۔۔”
پریسا وہاں چھایا گھپ اندھیرا دیکھ اُس کے کندھے پر سر ٹکاتی آنکھیں سختی سے میچ گئی تھی۔۔۔ اندھیرے سے جان جاتی تھی اُس کی۔۔۔۔
اور اس شخص کی وحشت ناکی اور جان لیوا قربت سے وہ شدید خوفزدہ تھی۔۔۔۔
اُس کی شاید اِسی کیفیت کو دیکھتے شاہ ویز نے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارتے اُس تہہ خانے کو روشنیوں سے بھر دیا تھا۔۔۔۔
پریسا نے اُس کے کندھے سے سر اُٹھا کر اردگرد دیکھا تھا۔۔۔ اور پھر دیکھتی رہ گئی تھی۔۔۔۔
یہ حصہ اُوپر والے گھر سے کہیں زیادہ خوبصورت تھا۔۔۔۔ اِس حصے کو ڈرائینگ روم کی طرح بہت شاندار طریقے سے سجایا گیا تھا۔۔۔
پریسا اپنا کھلا منہ بند کرنا بھول چکی تھی۔۔۔
“یہ۔۔ یہ۔۔۔”
اُسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اِس وقت آفندی مینشن کے بیسمنٹ میں کھڑی ہے۔۔۔۔ یہ کب بنا تھا۔۔۔۔
اُسے تو ہمیشہ سے یہی بتایا گیا تھا کہ اِس گھر کا کوئی بیسمنٹ نہیں ہے۔۔۔۔
“میرے پاس تمہاری یہ حیرانی دیکھنے اور اِس جگہ کے حوالے سے تمہیں مزید وضاحتیں دینے کا ٹائم بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔۔ جتنی جلدی میری بات مانو گی۔۔۔ اُتنی جلدی یہاں سے آزادی پا سکو گی۔۔۔۔”
شاہ ویز نے اُس کے قریب آتے اُس کی ٹھوڑی اُوپر کرتے اُس کا منہ بند کردیا تھا۔۔۔
اُس کی اِس حرکت پر پریسا اُسے گھورتی خود ہی دور ہوگئی تھی۔۔۔ اُس کا یوں پیچھے ہونا شاہ ویز سکندر جیسے گھمنڈی شخص کو کافی ناگوار گزرا تھا۔۔۔ وہ اُسے سے مزید فاصلہ بناتا دور صوفے پر جا بیٹھا تھا۔۔۔
“کیسا کام۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا کو چند سیکنڈ لگے تھے اُس کے یوں دور جاکر بیٹھنے کی وجہ سمجھنے میں۔۔۔۔
“اِن پیپرز پر سائن کردو۔۔۔۔ تو جاسکتی ہو یہاں سے۔۔۔ انکار کرنے سے پہلے سوچ لینا۔۔۔ بلیک ہاؤس میں تمہیں مجھ سے بچانے کے لیے بہت سے لوگ تھے۔۔۔ مگر اِس تہہ خانے میں تم پوری طرح میرے رحم و کرم پر ہوگی۔۔۔۔ “
شاہ ویز نے پاکٹ سے سیگریٹ نکال کر ہونٹوں میں دباتے اُس کے خوف میں مزید اضافہ کردیا تھا۔۔۔
“کک کیا مطلب۔۔۔ ؟؟؟ کیسے سائن۔۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز سکندر کے ساتھ یہاں اکیلے قید رہنے کے خوف سے ہی اُسے اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ اُس سے کن پیپرز پر سائن لینا چاہتا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز جس صوفے پر بیٹھا تھا اُس کے بالکل سامنے ٹیبل پر اُس پیپرز اور پین رکھ دیا تھا۔۔۔۔
“یہ کس چیز کے پیپرز ہیں۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا نے اُس کے سامنے ٹیبل کے قریب آتے مشکوک نگاہوں سے اُس کے خوبرو چہرے کو گھورا تھا۔۔۔ جو اب نقاب اُتار کر آرام سے سیگریٹ سے خود کو پرسکون کررہا تھا۔۔۔
“وہ بہت جلد تمہیں پتا چل جائے گا۔۔۔ ابھی بس سائن کرو۔۔۔۔۔ “
پریسا نے پیپرز اُٹھانے چاہے تھے۔۔۔۔ جب شاہ ویز اُس کے ہاتھ سے فاصلہ برقرار رکھتے پیپرز کو تھامتا واپس ٹیبل پر رکھ چکا تھا۔۔۔
“تمہیں اِنہیں پڑھے بغیر اِن پر سائن کرنے ہونگے۔۔۔۔”
شاہ ویز نے اُس کے سر پر ایک اور بم پھوڑا تھا۔۔۔
“میں ایسا کچھ نہیں کروں گی۔۔۔۔ “
پریسا نے فوراً نفی میں سر ہلاتے انکار کیا تھا۔۔۔
“تو ٹھیک ہے پھر۔۔۔۔ دونوں بیٹھتے ہیں یہیں۔۔۔”
شاہ ویز صوفے پر ٹانگیں رکھتا نیم دراز ہوتے بولا تھا۔۔۔
“تم یہ ٹھیک نہیں کررہے۔۔۔ تم کیا سمجھتے ہو ہر بار وہی ہوگا جو تم چاہتے ہو؟؟ میرے گھر والے مجھے گھر میں نہ پاکر۔۔۔ مجھے یہاں تک ڈھونڈنے ضرور آئیں گے۔۔۔”
پریسا نے اُسے ڈرانا چاہا تھا۔۔۔
مگر اُس کی بات کے جواب میں سیگریٹ کا دھواں فضا میں چھوڑتے شاہ ویز نے نظریں گھما کر بغور اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“کیا تم واقعی اتنی بے وقوف ہے۔۔۔؟؟ یا صرف مجھے لگتی ہو۔۔۔”
سیگریٹ کو زمین پر پھینک کر پیر سے مسلتا وہ صوفے سے اُٹھ کر اُس کے مقابل آیا تھا۔۔۔
“کیا مطلب۔۔۔”
پرہسا اُس کی نظروں سے گھبرا گئی تھی۔۔۔ کبھی کبھی وہ اُسے ایسی گہری نگاہوں سے دیکھتا تھا کہ پریسا اندر تک کانپ اُٹھتی تھی۔۔۔ ابھی بھی ایسا ہی ہوا تھا۔۔۔
وہ اِس شخص کو سمجھ نہیں پارہی تھی۔۔۔ وہ اُس کا دشمن تھا، ہمدرد اور محافظ تھا۔۔۔ یا پھر۔۔۔ اِس سے آگے کا تصور وہ کر نہیں پائی تھی۔۔۔
کیونکہ یہ وحشی درندہ بھلا محبت جیسے جذبے سے کیسے واقف ہوسکتا تھا۔۔۔
“تمہیں کیا واقعی لگتا ہے اِس گھر کے کسی ایک بھی فرد کو تمہاری فکر ہے۔۔۔۔؟؟ وہ باہر جو تمہاری ہمدرد بنی تمہاری کزن تم سے میرے متعلق اُگلوانا چاہتی تھی اُس کا ریزن یہی ہے۔۔۔ کہ جن پر تک اندھا اعتماد کرتی ہو۔۔۔ اُنہیں تم پر رتی برابر بھی بھروسہ نہیں ہے۔۔۔۔ وہ صرف تمہیں۔۔۔۔۔۔۔”
پریسا کی آنکھوں میں اپنی وحشت ناک لال آنکھیں گاڑھے بولتا وہ اُسے اپنی جگہ سن کر گیا تھا۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں بھرتی نمی دیکھ شاہ ویز نے بہت مشکل سے اپنے ہونٹوں کو بھینچتے خود کو مزید کچھ کہنے سے روکا تھا۔۔۔
“تمہاری بہتری اِسی میں ہے۔۔۔ کہ خاموشی سے اِن پیپرز پر سائن کردو۔۔۔ تمہارے روم میں اِس وقت میری گینگ کی ممبر پریسا آفندی بن کر سو رہی ہے۔۔۔ تمہارے پیاروں کو زرا سا بھی شک نہیں ہوگا کہ تم یہاں ہو۔۔۔”
شاہ ویز اُس کی جانب سے رُخ موڑتا بات بدل چکا تھا۔۔
“بات مکمل کریں اپنی مسٹر شاہ ویز سکندر۔۔۔ کیوں میرے خاندان والوں کو مجھ پر بھروسہ نہیں۔۔۔ اگر اُن کے متعلق زرا سا بھی پروف ہے تو سامنے لاؤ۔۔۔ تم اپنی دشمنی میں مجھے اُن کے خلاف کرکے اپنے فائدے کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔۔۔۔ اور نہ میں اتنی بے وقوف ہوں کہ تمہاری باتوں میں آؤں گی۔۔۔ تم جیسے لوگ۔۔۔۔”
پریسا اُس کے بات ادھوری چھوڑنے پر اُس کی کشادہ پشت کو گھورتی غصے سے بولی تھی جب شاہ ویز نے ایک دم واپس پلٹتے اُس کی دونوں کلائیاں تھام کر کمر پر مڑورتے اُسے اپنے قریب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔
“میں کون ہوں؟؟؟ کیا ہوں۔۔۔؟؟ اگر یہ تمہیں اور تمہارے خاندان والوں کو پتا چل گیا تو پیروں تلے زمین نہیں بچے گی۔۔۔ اِس لیے دوبارہ ایسی بکواس مت کرنا۔۔۔ مجھے تمہیں کسی کے خلاف کرنے کا کوئی شوق نہیں۔۔۔ نہ ہی اپنی سائیڈ لانے کی کوئی خواہش ہے۔۔۔ تم اپنے اُس سفیان آفندی کو ہی مبارک ہو۔۔ “
شاہ ویز آگ اُگلتے لہجے میں بولتا پریسا آفندی کا چہرا لال کر گیا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“انسپکٹر جمال مجھے آج کے آج ہی شکار پور جانا ہے۔۔۔ مجھے بابا کے کار حادثے والا کیس ری اوپن کرنا ہے۔۔۔۔ اِس سلسلے میں آپ میرے ساتھ چلیں گے۔۔۔ کیونکہ آپ کے علاوہ میں کسی پر اعتبار نہیں کرسکتی۔۔۔”
حبہ انسپکٹر جمال کو بلاتے اپنے ارادوں سے آگاہ کرتے بولی۔۔۔۔
وہ حادثہ شکار پور میں پیش آیا تھا۔۔۔ اُس کے حوالے سے ساری فائلز وہیں کے پولیس اسٹیشن میں موجود تھیں۔۔۔ اُس کی ماما نے اُسے یہی بتایا تھا کہ اُس حادثے کو پولیس والوں نے پوری جانچ پڑتال کے بعد ایک حادثہ ہی بتایا تھا۔۔۔ وہ آگ حادثاتی طور پر لگی تھی۔۔۔ اُس میں کسی کی کوئی سازش نہیں تھی۔۔۔
پولیس فورس جوائن کرنے کے بعد اُس کے دماغ میں کبھی اِس حوالے سے خیال ہی نہیں آیا تھا۔۔۔ مگر اب وہ اُس کیس کو ایک بار پھر ری اوپن کرکے۔۔۔ اپنے لحاظ سے تسلی کرنا چاہتی تھی۔۔۔
انسپکٹر جمال اُس کے بابا کی ایج کے تھے۔۔۔ اور جب سے اُس نے یہ فورس جوائن کی تھی وہ اُسی کے انڈر کام کررہے تھے۔۔۔۔
اُسے اُن سے زیادہ کسی پر بھروسہ نہیں تھا۔۔۔
وہ ابھی اُنہیں مزید کچھ بتانے ہی لگی تھی۔۔۔ جب اُس کا موبائل بج اُٹھا تھا۔۔۔
ای جی صاحب کا نمبر دیکھ اُس کا ماتھا ٹھنکا تھا۔۔۔
“ایس پی حبہ آج شام پانچ مجھے میٹنگ ہے۔۔۔ ایک بہت امپورٹنٹ کیس کے حوالے سے بات کرنی ہے۔۔۔”
ای جی صاحب اُسے آرڈر دیتے فون رکھ چکے تھے۔۔۔ جبکہ حبہ موبائل سکرین کو گھور کر رہ گئی تھی۔۔۔
بھلا آج ہی یہ نیا کیس آنا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔