No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
“خوشی ہوئی آپ کے ارادے جان کر۔۔۔ ویسے اب ہم بھی کچھ ایسے ہی نیک خیالات رکھتے ہیں۔۔۔۔”
حازم بنا اُس کی حرکت پر کوئی جوابی کارروائی کیے دھیرے سے اُس کے قریب جھک کر اُس کے وجود سے اُٹھتی مہک اپنی سانسوں میں اُتار گیا تھا۔۔۔۔
حبہ جھٹکا کھا کر پیچھے ہٹی تھی۔۔۔
شاہ ویز نے بے تاثر نگاہوں سے حازم کو گھورتے نظریں پھیر لی تھیں۔۔۔۔
حبہ کے تن بدن میں نفرت کی شدید لہر دوڑ گئی تھی۔۔۔۔ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا اِس شخص کا سینہ گولیوں سے چھلنی کردے۔۔۔۔۔۔
“ارے ایس پی صاحبہ اتنے پیار سے دیکھ کر ہمارے صبر کو کیوں آزما رہی ہیں۔۔۔ جلدی سے ہتھکڑی لگا دیں۔۔۔ ایسے نہ میری اگلی کی جانے والی تخریب کاری آپ پر گراں گزرے۔۔۔۔۔۔”
حازم کو اُس کا غصے اور ضبط سے لال پڑتا چہرا بہت مزا دے رہا تھا۔۔۔۔ ہیزل گرین آنکھوں پر سایہ فگن گھنیری پلکیں، غصے سے پھولے سرخی مائل گال اور بے حد سُرخ ہوتا ناک، کٹاؤ دار گلابی ہونٹ۔۔۔ جنہیں وہ اپنا غصہ ضبط کرنے کے لیے مسلسل اپنے موتیوں جیسے سفید دانتوں سے کاٹتی ظلم ڈھا رہی تھی۔۔۔۔ حازم کو اُس کا یہ عمل بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا۔۔۔ لیکن یہ اپنے پیشے سے بے حد مخلص لڑکی اُس کے دل کو کافی حد تک بھا گئی تھی۔۔۔۔
آج تک کسی کی جرأت نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔ میر حازم سالار کو زرا سی خراش بھی پہنچانے کی۔۔۔۔
مگر یہ لڑکی اُس پر وار کرنے کی گستاخی کرنے کے بعد بھی سر اُٹھائے زندہ سلامت اُس کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔ جس کا ریزن ایک ہی ہوسکتا تھا۔۔۔ کہ کہیں نہ کہیں یہ لڑکی میر حازم سالار کے دل کو بھا گئی تھی۔۔۔۔
“میر۔۔۔ وہ پولیس والی ہے۔۔۔۔ کنٹرول کرو۔۔۔۔ جتنا غصہ تم اُسے دلا چکے ہو۔۔۔۔ تمہارا اِن کاؤنٹر کرنے میں زیادہ ٹائم نہیں لگائے گی۔۔۔۔”
اِن پیار محبت جیسے جذبوں سے بالکل بے پرواہ شاہ ویز نے میر کی حرکتوں پر اُکتا کر اُسے ٹوکا تھا۔۔۔۔
“شاہ مجھے یہ بہت اچھی لگی ہے۔۔۔۔ کیا ہم جیل سے فرار ہوتے اِسے بھی ساتھ اُٹھا کر لے جاسکتے ہیں۔۔۔۔”
حازم کی نگاہیں فاصلے پر جاکر کھڑی ہوتی حبہ امتشال سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔۔۔۔
اِس سے پہلے کے شاہ ویز اُسے کوئی کرارہ سا جواب دیتا جب ایس پی عمار ہتھکڑیاں اُٹھائے اُن کے قریب آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“تم لوگ جو کوئی بھی ہو۔۔۔۔ چاہے جتنے بھی جرائم کرچکے ہو۔۔۔۔ مگر آج جو کام تم لوگوں نے کیا ہے۔۔۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں۔۔۔ تمہارے پچھلے سارے گناہ معاف ہوچکے ہونگے۔۔۔۔۔۔”
ایس پی عمار اُن دونوں کے گھنی داڑھی والے چہروں کی جانب داد دیتی نظروں سے دیکھتا ہتھکڑیاں لگاتا پیچھے ہٹ گیا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں اُس سے کچھ نہیں بولے تھے۔۔۔۔
اُن دونوں نے اپنے خوبرو چہروں پر ایسا ماسک لگا رکھا تھا۔۔۔ جو دیکھنے والوں کو اُن کا اصلی چہرا ہی لگتا تھا۔۔۔۔۔ لمبے بال اور عجیب سی اُلجھی ہوئی مونچھیں داڑھی۔۔۔۔۔ وہ اب تک ایسے کئی کارنامے سرانجام دے چکے تھے۔۔۔۔ مگر آج تک ایک بار بھی اپنا اصلی چہرا کسی کے سامنے نہیں آنے دیا تھا۔۔۔۔۔
“میری سٹڈی میں آرہے ہو تم۔۔۔۔ سارے کس بل نہ نکال دیئے تو میرا نام بھی ایس پی حبہ امتشال نہیں۔۔۔۔۔ اب آزادی کو زندگی بھر کے لیے بھول جانا۔۔۔۔۔۔”
حبہ اُس کے قریب آکر چیلنجنگ انداز میں اُسے گھورتے انسپکٹر کو اُسے ساتھ لانے کا اشارہ کر گئی تھی۔۔۔
“نام بہت پیارا ہے۔۔۔۔ مزید پیارا ہوجائے گا۔۔۔ اگر اِس نام کے آخر میں میرا نام جڑ جائے۔۔۔۔۔”
حازم ایک آنکھ دبا کر شوخی سے بولتا اُسے مزید پاگل کر گیا تھا۔۔۔۔ اُس نے غصے سے اُبلتے دماغ کے ساتھ اپنا پسٹل نکالنا چاہا تھا۔۔۔ جب عمار نے آگے آتے اُسے تنبیہی نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔۔۔
“اپنے ہاتھوں سے اِس شخص کے سینے میں گولیاں نہ اُتاریں تو اپنی یہ جاب چھوڑ دوں گی۔۔۔۔۔۔”
حبہ نے دانت پیستے زبان سے بہت بڑے الفاظ ادا کیے تھے۔۔۔۔۔ آنے والے وقت سے بے خبر کے یہ الفاظ اُس پر کتنے بھاری پڑنے والے تھے۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“تم نے اُس شخص کا چہرا نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔کون تھا وہ۔۔۔۔؟؟؟ تمہارے تو بہت قریب آکر کھڑا ہوا تھا نا وہ۔۔۔۔۔”
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھی یونیورسٹی جارہی تھیں۔۔۔ جب فضہ نے پریسا کا بجھا بجھا چہرا دیکھ سوال کیا تھا۔۔۔۔۔
“نام مت لو۔۔۔۔ اُس درندے صفت انسان کو۔۔۔ بلکہ وہ تو انسان کہنے کے لائق بھی نہیں ہے۔۔۔ کس بے دردی سے اُس نے اُن لوگوں کو پل بھر میں ختم کردیا۔۔۔۔۔ کوئی بھلا اتنا ظالم کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔ وہ مرنے والے بچارے کسی کے بیٹے، بھائی اور شوہر ہونگے۔۔۔۔ اُن کے لواحقین کی بدعائیں اُس شخص کو چین سے جینے نہیں دیں گی۔۔۔۔ اللہ پوچھے گا اُس سے۔۔۔۔۔ میرا کیک بھی خراب کردیا۔۔۔ اِس بات کے لیے تو میں اُس شخص کو زندگی بھر معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔”
پریسا وہ واقع دوبارہ یاد کرتے روہانسے لہجے میں بولی۔۔۔۔ اُس کی طبیعت ابھی ٹھیک سے سنبھلی نہیں تھی۔۔۔۔ مگر آج ایک بہت امپورٹینٹ اسائنمنٹ سبمٹ کروانے کے لیے اُسے یونی جانا پڑ رہا تھا۔۔۔۔ سفیان نے اُسے بہت روکا بھی تھا مگر وہ اپنی پڑھائی کے معاملے میں کوئی کمپرومائز نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔
“پری اب خدا کے لیے اُس کیک کو تو بھول جاؤ۔۔۔۔ ہم آج دوبارہ چلے جائیں گے کیک لینے کے لیے۔۔۔۔۔ “
فضہ اُس کا آنسوؤں بھرا چہرا دیکھ فکرمندی سے بولی تھی۔۔۔۔
“اوہ شٹ۔۔۔۔ نیشنل پارٹی کے راہنما شبیر چوہان کو رات کو بلیک سٹار گینگ نے قتل کردیا ہے۔۔۔۔۔ اور اُس گینگ کے دو لیڈرز کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔۔۔۔”
فضہ نے سوشل میڈیا پر چھائی خبر کو پڑھتے شاکی نگاہوں سے پریسا کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جس کی حالت بھی کچھ اُس جیسی ہی تھی۔۔۔ شبیر چوہان شہباز آفندی کے قریبی دوست تھے۔۔۔ وہ لوگ بھی ایک دو پارٹیز میں اُن سے مل چکی تھیں۔۔۔۔۔
پری کو وہ بہت اچھے لگے تھے۔۔۔ مگر آج اُن کے بارے میں اتنی بُری خبر سن کر اُس کا دل دکھ سے بھر گیا تھا۔۔۔
“کتنے ظالم لوگ ہیں یہ۔۔۔۔؟؟؟ کیوں کرتے ہیں یہ۔۔۔ کیوں لوگوں کی زندگیوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔۔۔ اللہ پوچھے اِن سے۔۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا کا دل چاہا تھا دنیا سے ایسے درندوں کو ختم کردے۔۔۔۔۔۔ جو دوسروں کی زندگیوں سے کھیل جاتے تھے۔۔۔۔۔
“مانی بھائی جلدی چلائیں گاڑی۔۔۔۔ ہمیں یونی سے دیر ہورہی ہے۔۔۔۔۔”
فضہ نے گھڑی پر ٹائم دیکھتے فکرمندی سے کہا تھا۔۔۔ اگر اسائنمنٹ سبمٹ کروانے کا ٹائم نکل جاتا تو اُن کے حد سے زیادہ وقت کے پابند سر نے اُن سے نہیں لینی تھی۔۔۔۔
کافی دیر سے اُن کی گاڑی ٹریفک میں پھنسی ہوئی تھی۔۔۔۔
“میڈم جی آگے پولیس کی گاڑیاں کھڑی ہیں۔۔ جن میں وہی لوگ ہیں جنہوں نے شبیر چوہان کا مارا ہے۔۔۔۔ اُن کی پارٹی کے لوگ اور عوام اُن قاتلوں کو مارنا چاہتی ہے۔۔۔۔ قیدیوں والی گاڑیوں کو آگے نہیں جانے دیا جارہا ہے۔۔۔ اِس لیے راستے بلاک ہوا پڑا ہے۔۔۔ اب ہم نہ واپس پیچھے جاسکتے اور نہ ہی آگے بڑھنے کا کوئی راستہ ہے۔۔۔۔ ہمیں کچھ گھنٹے تو یہیں انتظار کرنا پڑے گا۔۔۔۔”
ڈرائیور کی بات سن کر اُن دونوں کے چہروں پر اسائنمنٹ میں فیل ہونے کی فکرمندی کے ساتھ ساتھ اُن قاتلوں کے لیے شدید نفرت چھا گئی تھی۔۔۔۔
“ْآپ لوگ باہر نہ نکلیں۔۔۔ باہر گولیاں بھی چل سکتی ہیں۔۔۔۔ خطرہ ہے بہت۔۔۔۔”
پری کو باہر نکلتا دیکھ ڈرائیور نے اُسے روکنا چاہا تھا۔۔۔۔
مگر وہ اَن سنی کرتی فائل اُٹھا کر فضہ کو بھی باہر آنے کا اشارہ کرتی گاڑی سے نکل آئی تھی۔۔۔
وہ اِس اسائنمنٹ میں کسی صورت فیل نہیں ہونا چاہتی تھی۔۔۔۔ اِس لیے اُس رش زدہ ایریا سے نکل کر آگے ٹیکسی سے جانے کا ارادہ تھا۔۔۔۔
اور اگر موقع ملتا تو وہ اُن قاتلوں کے مکروہ چہرے دیکھنے کی خواہشمند بھی تھی۔۔۔۔۔۔
“وہاں بہت بھیڑ ہے لوگوں کی۔۔۔۔ ہم پھنس جائیں گے پری۔۔۔ آجاؤ واپس نہیں جاتے۔۔۔۔”
فضہ اتنے سارے مشتعل لوگوں کا بے قابو ہوتا ہجوم دیکھ گھبرا کر بولی۔۔۔۔۔
“تو تم چاہتی ہو اس بار سمسٹر میں ٹاپ کرنے کے بجائے میں فیل ہوجاؤں۔۔۔۔ ہر گز نہیں۔۔۔ ہم جائیں گے۔۔۔۔”
پریسا اُس کی کوئی بات بھی سنے بغیر اُس کا ہاتھ کھینچتی آگے کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
بظاہر دیکھنے میں یہی لگ رہا تھا کہ پولیس کی گاڑیوں کے اِردگرد موجود ہجوم شبیر چوہان کے جیالوں کا تھا۔۔۔ مگر اصل حقیقت اِس سے مختلف تھی۔۔۔۔ اُس ہجوم میں اکٹھی کی گئی بھیڑ بلیک ٹائیگر فورس کی تھی۔۔۔۔ جو کہ ایک پراپر پلان کے تحت کیا گیا تھا۔۔۔۔
تاکہ وہ یہیں سے حازم اور شاہ ویز کو فرار کروا سکیں۔۔۔۔
“ہمارے آدمی پہنچ چکے ہیں۔۔۔۔”
شاہ ویز نے ایک جانب لگی جالی سے باہر کا منظر دیکھا تھا۔۔۔۔
“ہممہ اور بہت جلد ہم یہاں سے باہر ہونگے۔۔۔۔۔”
حازم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔۔۔ وہ اپنا یہ مشن بھی کامیابی سے ختم کرچکے تھے۔۔۔۔
وہ اِس وقت پولیس کی بکطل بند وین میں تھے۔۔۔۔ جس میں اُن کے پاس چار پولیس اہلکار بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔ جنہیں وہ نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔۔۔۔
لیکن اِس وقت فرار کے لیے اُنہوں نے اِن کا بندوبست کرنا تھا۔۔۔۔ چند سیکنڈز ہی گزرے تھے۔۔۔۔ جب کسی نے گاڑی کے لاک پر زور دار انداز میں ضرب لگائی تھی۔۔۔۔ اور ساتھ ہی شاہ ویز اور حازم کو کلو بھی دے دیا تھا۔۔۔۔۔
اُن دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کی جانب اشارہ کیا تھا۔۔۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے دونوں نے اُن پولیس اہلکاروں کو کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیئے بغیر اُن کی گردنوں پر حملہ آور ہوکر ایک مخصوص رگ دبا دی تھی۔۔۔۔ جس سے وہ بے ہوش ہوتے ایک جانب لڑھک گئے تھے۔۔۔۔۔
باہر موجود ہجوم میں اُن کی فورس کا کیپٹن جنید گاڑی کے لاک پر ضربیں لگاتا آخر کار لاک توڑنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔۔۔۔
اُس کے لاک کھولتے ہی شاہ ویز اور حازم گاڑی سے باہر نکل آئے تھے۔۔۔۔ کسی بھی پولیس اہلکار کو اُن پر گولی چلانے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔ جس بات کا وہ لوگ بھرپور فائدہ اُٹھا رہے تھے۔۔۔۔۔
اُن دونوں نے یہاں سے الگ الگ ہوکر نکلنا تھا۔۔۔ مگر وہاں تیز رفتار سے آتی پولیس نفری کو دیکھ اُنہیں اپنا فرار خطرے میں پڑتا دیکھائی دیا تھا۔۔۔۔
اُن کو باہر نکلتا دیکھ وہاں ٹریفک میں پھنسے لوگوں کا ہجوم اُمڈ آیا تھا۔۔۔۔ عجیب ہی کوئی دھکم پیل مچ گئی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز نے انتہائی پھرتی سے ایک جانب سے راستہ بناتے آگے بڑھنا چاہا تھا۔۔۔۔
جب اچانک نسوانی چیخ کے ساتھ ہی کوئی نازک وجود اُس کے سینے سے آن ٹکرایا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز جیسے لمبے چوڑے کسرتی وجود کے آگے وہ موم سی گڑیا آج پھر اُس دن کی طرح آنسوؤں میں بھیگی کھڑی تھی۔۔۔۔
پریسا جو فضہ کو لے کر اُس ہجوم کو چیرنے نکل تو آئی تھی۔۔۔۔ مگر راستہ میں آکر وہ بُری طرح پھنس گئی تھی۔۔۔۔ چاروں جانب سے ملنے والے دھکوں نے اُن کو گھما کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔
فضہ کا ہاتھ کب اُس کے ہاتھ سے چھوٹا تھا اُسے پتا ہی نہیں چلا تھا۔۔۔۔ دھکوں کے بیچ پولیس وین کے قریب پہنچتے نجانے کس جانب سے اُڑتا ہوا پتھر اُس کے سر پر آن لگتا اُس کے سر کو بُری طرح زخمی کر گیا تھا۔۔۔۔
یہ پتھروں کا سلسلہ سنبھلا نہیں تھا۔۔۔ یکے بعد دیگر ہونے والی پتھروں کی برسات سے پریسا کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔ اُسے محسوس ہوا تھا کہ وہ اب یہاں سے بچ کر نہیں نکل پائے گی۔۔۔
جب اچانک کسی کے مہربان مضبوط کشادہ سینے سے ٹکراتی وہ جیسے تپتی دھوپ سے گھنی چھاؤں میں آن ٹھہری تھی۔۔۔۔ شاہ ویز کی سرد نگاہیں اُس کے زخمی ماتھے پر ٹک گئی تھیں۔۔۔ جہاں سے خون بہتا اب اُس کے دلنشین چہرے کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔۔
اِس لڑکی کو پہچاننے میں اُسے ایک سیکنڈ نہیں لگا تھا۔۔۔ بنا دوپٹے کے اُس کے حصار میں کھڑی وہ لرزتی کانپتی لائٹ پنک کلر کے فراک میں کسی اپسرا سے کم معلوم نہیں ہورہی تھی۔۔۔۔۔
سیاہ گھنے بالوں میں لگا کیچر نجانے کب ٹوٹ کر گر چکا تھا۔۔۔۔ اُس کی حسین زلفیں اُس کے نازک سراپے کی دلکشی کو چھپانے میں ناکام تھیں۔۔۔۔
اگر کوئی اور ہوتا تو اِس حسین پری کے وجود کی دلفریبی میں ڈوب جاتا۔۔۔ جس کی گول گول آنکھیں خوف سے مزید پھیل چکی تھیں۔۔۔ مگر اِس وقت پریسا آفندی جس کے حصار میں کھڑی تھی وہ کوئی اور نہیں بلکہ شاویز سکندر تھا۔۔۔۔ جسے رنگوں سے نفرت تھی۔۔۔۔ جس کے نزدیک پیار محبت جیسے رشتے بالکل بے معنی تھے۔۔۔ جسے مسکرانا دنیا کا سب سے ناپسندیدہ عمل لگتا تھا۔۔۔۔ جو صرف لوگوں کو گولیوں سے اُڑانا جانتا تھا۔۔۔۔ جس کی زندگی اُس کے مشن سے لے کر اُس کے مشن پر ختم ہوتی تھی۔۔۔ جس کے سینے کے اندر دل نہیں بلکہ خون کا ایک لوتھرا تھا۔۔۔ جس میں احساس و جذبات نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔۔۔۔۔
شاویز سکندر کو پریسا آفندی کا حسن زرا بھی متاثر نہیں کر پایا تھا۔۔۔ بلکہ اُسے اِس نازک لڑکی پر ہر دفع پہلے سے بڑھ کر غصہ آتا تھا۔۔۔ اُسے اول تو لڑکیاں پسند ہی نہیں تھیں۔۔۔ اور پریسا جیسی نازک کانچ کی گڑیا جیسی لڑکیوں سے تو شدید اُلجھن محسوس ہوتی تھی۔۔۔ جو حد درجہ ڈرپوک ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا خیال رکھنا تک نہیں جانتی تھیں۔۔۔۔
شاہ ویز مُڑنے لگا تھا۔۔۔ جب پریسا نے نجانے کس احساس کے زیرِ اثر بنا اُس کی جانب دیکھے اُس کا بازو اپنے ملائم ہاتھوں میں جکڑ لیا تھا۔۔۔۔
اُس کے لمس پر شاہ ویز سکندر کو کرنٹ سا چھو کر گزر گیا تھا۔۔۔ اُس نے آج تک کبھی کسی لڑکی کو اپنے زرا سے قریب بھی نہیں آنے دیا تھا۔۔۔۔
“پلیز میری ہیلپ کریں۔۔۔ ایسے مت جائیں۔۔۔ ورنہ میں مر جاؤں گی یہاں۔۔۔۔۔۔۔”
پریسا نے ہچکیوں کے درمیان اُسے روکنے کی کوشش کرتے جیسے ہی چہرا اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔ شاہ ویز کے داڑھی مونچھوں سے ڈھکے ماسک زدہ چہرے کو دیکھ وہ خوف کے مارے کانپ اُٹھی تھی۔۔۔۔ شاہ ویز سکندر کا چہرا اِس وقت اتنا ہی خوفناک دیکھائی دے رہا تھا۔۔۔ جسے دیکھ کمزور دل کی مالک پریسا آفندی کے ہارٹ اٹیک ہونے کے اسی فیصد چانسز تھے۔۔۔۔۔
شاہ ویز نے ایک نظر اردگرد کے خراب ہوتے حالات پر ڈالی تھی۔۔۔۔ اگر یہ لڑکی اُس کے راستے میں نہ آئی ہوتی۔۔۔ تو اب تک وہ یہاں سے بہت دور نکل چکا ہوتا۔۔۔۔۔
شاہ ویز کی بالوں سے ڈھکی چوڑی پیشانی پر اَن گنت بل نمایاں ہوئے تھے۔۔۔۔ اُس نے ناگواری بھری نگاہوں سے پریسا کے بنا دوپٹے کے رعنائیاں بکھیرتے وجود کو گھورتے جلدی سے اپنی سیاہ جیکٹ اُتار کر اُس کی جانب بڑھا دی تھی۔۔۔۔۔
“اِسے پہن لو۔۔۔۔ اور آئندہ گھر سے کوئی ایسا کپڑا کرکے نکلو جو صرف فیشن کے لیے ہی کام نہ آئے بلکہ تمہاری عصمت کی حفاظت بھی کرسکے۔۔۔۔”
شاہ ویز نے سرد ٹھٹھڑا دینے والی آواز میں اُسے وارن کرتے ایک جانب بھیڑ چیر کر قریب آتے جیند کو اشارہ کیا تھا۔۔۔۔
“اِس لڑکی کو باحفاظت یہاں سے لے جاؤ۔۔۔ اور اپنے آدمیوں کو کہوں پلان یہیں روک کر یہاں سے ہٹ جائیں۔۔۔۔ عام شہریوں کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے اِس دھکم پیل میں۔۔۔۔ اور اِن معصوم لوگوں کو ہمارے کسی عمل سے نقصان ہو یہ ہمارا مقصد کبھی نہیں رہا۔۔۔۔ میں واپس پولیس کسٹڈی میں جارہا ہوں۔۔۔۔ میرے اگلے حکم کا انتظار کرنا۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز جنید سے دھیمی آواز میں بات کرتا پریسا کو اُس کے حوالے کر گیا تھا۔۔۔۔ کوئی شاہ ویز سکندر سے ہیلپ مانگے اور شاہ ویز سکندر انکار کردے۔۔۔ ایسا ہونا ناممکنات میں سے تھا۔۔۔ چاہے مدد مانگنے والا اُس کے دشمنوں میں سے ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔
پریسا نے جنید کے ساتھ جاتے مڑ کر شاہ ویز کی جانب دیکھا تھا۔۔ مگر وہ اب وہاں کہیں بھی نہیں تھا۔۔۔۔ پریسا کے دماغ میں اُس شخص کی عجیب و غریب سی شکل مگر اُس کی کھردرے لفظ سے مزین انتہائی سحر انگیز آواز جیسے فیڈ ہوکر رہ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
“رک جاؤ۔۔۔ اگر ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو گولی چلا دوں گی میں۔۔۔۔۔”
حازم جو شاہ ویز کی جانب سے ملنے والے آرڈر پر فرار ہونے کا ارادہ ترک کرتا واپس پولیس وین کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔ جب اپنے دائیں جانب سے ایس پی حبہ امتشال کی دلفریب مترنم سی آواز نے اُس کے قدم روک دیئے تھے۔۔۔۔ وہ ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ سجائے جان بوجھ کر ہاتھ اُوپر کرتا اُس کی جانب مُڑا تھا۔۔۔۔ جیسے یہی ظاہر کررہا ہو کہ حبہ نے اُسے واقعی بھاگتے پکڑا ہو۔۔۔۔
“پہلی بار ایسی لڑکی دیکھی ہے۔۔۔ جس کی کوئی بھی بات گولی لفظ کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔”
حازم نے جلدی سے چند قدم آگے بڑھاتے ہاتھ بڑھا کر حبہ کے سر پر رکھ دیا تھا۔۔۔ حبہ جو اُس کی گستاخی پر غصے سے پاگل ہوتی گولی چلانے ہی والی تھی۔۔۔ جب اپنے سر کے قریب عین حازم کے ہاتھ والی جگہ پر بوتل ٹوٹنے پر وہ پل بھر کے لیے اپنی جگہ ساکت ہوئی تھی۔۔۔
حازم نے اُس کے سر پر ہاتھ اُس کی طرف پھینکی گئی کانچ کی بوتل بچانے کے لیے رکھا تھا۔۔۔ جو اب حازم کے ہاتھ پر ٹوٹتی اُسے لہولہان کر گئی تھی۔۔۔۔۔
“یہ۔۔۔۔”
حبہ نے کچھ بولنا چاہا تھا۔۔۔۔
“ایس پی حبہ جلدی سے اِسے لے کر گاڑی کی جانب بڑھیں۔۔۔ حالات آؤٹ آف کنٹرول ہوچکے ہیں۔۔۔ یہاں کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔۔ جلدی سے نکلنا ہوگا۔۔۔۔”
عمار کی بات پر حبہ ایک سخت نگاہ حازم کے خون آلود ہاتھ پر ڈالتے اُس کے ساتھ آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
اُس کے نزدیک یہ بھی اِس شخص کی کوئی چال تھی۔۔۔ جو بہت سوچنے کے باوجود وہ سمجھ نہیں پائی تھی۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“ایس پی حمدان صدیقی آپ کو میں نے یہاں ایک بہت اہم کیس سونپنے کے لیے بلایا ہے۔۔۔۔۔ ابھی ابھی کال موصول ہوئی ہے۔۔۔ کہ این پی پی کے سابقہ چیئرمین اشفاق بٹ کے پوتے کو بھی سکول سے واپسی پر اغوا کرلیا گیا ہے۔۔۔۔ پچھلے پانچ گھنٹوں کے اندر یہ تیسرا بچہ اغوا ہوا ہے۔۔۔۔ اور وہ بھی ملک کی بڑی بڑی سیاسی شخصیت کی فیملیز سے۔۔۔۔ مجھے پورا یقین ہے سر یہ کام بلیک سٹارز گینگ کے لوگ ہی کررہے ہیں۔۔۔۔ اپنے لیڈرز کو آزاد کروانے کے لیے۔۔۔۔۔ شبیر چوہان جیسی اتنی بڑی سیاسی جماعت کے قتل کے بعد ملک کے حالات ناقابلے یقین حد تک خراب ہوچکے ہیں۔۔۔۔ جنہیں ٹھیک کرنے کی زمہ داری میں آپ اور آپ کی ٹیم کو دے رہا ہوں۔۔۔۔ یہ سارا ایریا ہمارے انڈر آتا ہے۔۔۔۔۔ یہاں اب مزید کسی قسم کا نقصان نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔۔۔ جو بھی لوگ بچوں کو اغوا کرنے کی یہ گھناؤنی حرکت کررہے ہیں بہت جلد اُنہیں گرفتار کرکے بچوں کو بازیاب کروانے کی کوشش کریں۔۔۔ مگر دھیان رکھیئے گا اُن بچوں کو زرا سی بھی خراش نہیں آنی چاہیے۔۔۔۔۔۔”
اے آئی جی صاحب شہر کی خراب ہوتے حالات کو دیکھ شدید پریشانی کا شکار تھے۔۔۔ سیاسی شخصیت کا انوالو ہونے کی وجہ سے اُن پر پریشر مزید بڑھ چکا تھا۔۔۔۔
جس کا اُنہوں نے ایک ہی حل یہ نکالا تھا کہ اپنا سارا بوجھ ایس پی حمدان کے کندھوں پر ڈال دیا تھا۔۔۔ اِس بات پر یقین ہوتے ہوئے کہ ایس پی حمدان صدیقی ہر بار کی طرح اِس معاملے کو بھی سنبھال لے گا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
