No Download Link
Rate this Novel
Episode 39
“بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ ورنہ گاڑی سے باہر پھینک دوں گا میں تمہیں۔۔۔ میرے نام کے ساتھ اُس کا نام جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ محبت تو بہت دور کی بات زرا سی اہمیت بھی نہیںں رکھتی وہ میری زندگی میں۔۔۔۔”
شاہ ویز نے حازم دے زیادہ اِس بات کا یقین خود کو دلایا تھا۔۔۔
جبکہ حازم اُس کی لال پڑتی آنکھیں دیکھ مسکرا دیا تھا۔۔۔۔
“یہ تو کل پتا چلے گا میرے یار۔۔۔ کہ وہ اہمیت رکھتی ہے یا نہیں۔۔۔ جب وہ اپنا سب کچھ کسی اور کے نام لکھوا دے گی۔۔۔۔۔”
حازم بولنے سے اب بھی باز نہیں آیا تھا۔۔۔۔
“فرق نہیں پڑتا مجھے۔۔۔۔ “
شاہ ویز اپنی ضد پر قائم تھا ابھی بھی۔۔۔۔
“تم پوری دنیا سے اپنا آپ چھپا سکتے ہو شاہ ویز سکندر۔۔۔ مگر مجھ سے نہیں۔۔۔۔ کل رات پریسا کے اندر آگ میں جلنے کے خیال سے تم باہر جل رہے تھے۔۔۔۔ تم جانتے تھے کہ اندر جانا کسی رسک سے کم نہیں ہے۔۔۔ اور پریسا سے پیپرز پر سائن کروانے کے بعد اب وہ تمہارے لیے اتنی اہم رہی بھی نہیں ہے۔۔۔ پھر بھی تم بنا سوچے سمجھے اُس آگ میں کود گئے۔۔۔ تم اپنی محبت سے انکار کرکے پریسا آفندی کو بے وقوف بنا سکتے ہو۔۔۔ میر حازم سالار کو نہیں۔۔۔۔”
حازم اُسے احساس دلانا چاہتا تھا کہ وہ اپنی ضد اور غصے میں اپنا کتنا بڑا نقصان کررہا ہے۔۔۔۔
اُس کی بات کا شاہ ویز کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔
وہ اپنے اندر چھڑی جنگ سے نہیں لڑ پارہا تھا۔۔ حازم کی باتوں کا بھلا اُسے کیا جواب دیتا۔۔۔۔
اُس نے زور سے بریک لگاتے گاڑی حمدان کے گھر سے زرا فاصلے پر روکی تھی۔۔
حمدان نے سیکیورٹی کے تحت فنکشن کے تمام اریجمنٹس اپنے گھر میں ہی کروائے تھے۔۔ جہاں وہ دونوں ویٹر بن کر داخل ہوئے تھے۔۔۔۔
وہ بس کسی بھی طرح مہروسہ کے آس پاس رہ کر اُسے حمدان کی کسی بھی سازش سے بچانا چاہتے تھے۔۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ حمدان صدیقی اُن کے ساتھ کھیل کھیل کر مہروسہ کو نہیں بلکہ جنید کو مارنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں اندر تو داخل ہوچکے تھے مگر اُنہیں مہروسہ تک پہنچ پانے میں دشواری پیش آرہی تھی۔۔۔
“حمدان صدیقی نے جان بوجھ کر اتنے سارے گیسٹ بلائے ہیں۔۔۔۔ “
حازم کو اب غصہ آرہا تھا۔۔۔۔ اُن دونوں کو مہروسہ کی فکر ہوئی تھی۔۔۔
“وہ کوئی اور کھیل کھیل رہا ہے۔۔۔۔ “
شاہ ویز اپنے چہرے پر موجود ماسک کو ٹھیک کرتا حازم کو بھی الرٹ کر گیا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
مہروسہ نے بہت کوشش کی تھی یہاں سے نکلنے کی۔۔۔ مگر ہر بار حمدان کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کر دیتا تھا جس کی وجہ سے وہ کچھ نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔
مہروسہ کی حالت غیر ہوچکی تھی۔۔۔۔ اُسے ریڈ لہنگا پہنا کر اُس کا ہار سنگھار کر دیا گیا تھا۔۔۔
مہروسہ نے بے دلی سے بیوٹیشن کی کہی ہر بات کو فالو کیا تھا۔۔۔ مگر تیار ہونے کے بعد جیسے ہی اُس نے خود کو آئینے میں دیکھا وہ دیکھتی رہ گئی تھی۔۔۔۔
اُس نے زندگی میں آج تک کاجل کے سوا میک اپ کے نام پر کچھ بھی نہیں لگایا تھا۔۔۔ مگر آج تو زرا سے بناؤ سنگھار نے اُس کا حُسن نکھار کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔
سُرخ عروسی جوڑے میں اُس کا نازک سراپا مزید دلفریب لگ رہا تھا۔۔۔ جیولری اور پھولوں کے گجروں میں سجی سجائی وہ دیکھنے والوں کا ایمان ڈگمگانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔۔۔
ہمیشہ اُس کے دشمن اُس کی گولی کے وار سے نہیں بچ پائے تھے۔۔۔ مگر آج ایس پی حمدان صدیقی اُس کے دو آتشہ حُسن کے وار سے نہیں بچنے والا تھا۔۔۔
مہروسہ کی اُداسی اُس کے حُسن کو چار چاند لگا رہی تھی۔۔۔۔۔
بیوٹیشن سمیت باقی سب بھی باہر جا چکی تھیں۔۔۔
مہروسہ کا دل چاہا تھا اِسی حلیے میں بھاگ نکلے یہاں سے۔۔۔۔ کیونکہ حمدان صدیقی جو سلوک اُس کے ساتھ کرنے والا تھا۔۔۔۔ وہ شاید برداشت نہ کر پاتی۔۔۔۔
“اللہ جی پلیز میرے ساتھیوں کی حفاظت کرنا۔۔۔۔”
مہروسہ کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر چکی تھیں۔۔۔
جب اُسی لمحے دروازہ کھلا تھا اور دو ویٹر کے یونیفارم میں ملبوس افراد اندر آئے تھے۔۔۔۔ مہروسہ اُنہیں پہلی نظر میں ہی دیکھ کر پہچان چکی تھی۔۔۔ کہ اُس کے بلیک سٹارز وہاں پہنچ چکے تھے۔۔۔۔
“شاہ سر۔۔۔۔ میر سر۔۔۔۔ آپ لوگ یہاں۔۔۔۔”
مہروسہ فوراً اُٹھ کر اُن کے قریب گئی تھی۔۔۔۔
“شاہ تمہیں نہیں لگتا ہم غلط کمرے میں آگئے ہیں۔۔۔۔ “
حازم مہروسہ کو دلہن کے روپ میں تیار کھڑی مہروسہ کو دیکھ پر مزاح لہجے میں بولا تھا۔۔۔ جو بالکل بھی پہچانی نہیں جارہی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز بھی مہروسہ کو دیکھ کر ایک پل کے لیے پہچان نہیں پایا تھا۔۔۔
“میر سر۔۔۔۔۔”
مہروسہ نے منہ پھلاتے اُسے دیکھا تھا۔۔۔۔
“مہرو۔۔۔ کیا تم واقعی حمدان سے شادی کرنا چاہتی ہو۔۔۔ تم پر ہمارے مشن کو لے کر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔۔۔۔ تم اگر اب بھی چاہو تو انکار کرسکتی ہو۔۔۔۔”
شاہ ویز مہروسہ کے مقابل آن کھڑا ہوتا سنجیدگی بھرے لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔۔۔۔
اُس کی بات پر مہروسہ کی آنکھوں سے آنسو گرا تھا۔۔۔
اُس نے لرزتے وجود کے ساتھ سامنے کھڑے شاہ ویز اور حازم کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
یہ دونوں اُس کے لیے سگے بھائیوں سے بڑھ کر تھے۔۔۔ اُنہوں نے اُسے حرام موت مرنے سے بچا کر اُسے اتنی خوبصورت زندگی دی تھی۔۔۔۔ اُس کی چھوٹی سے چھوٹی تکلیف کا خیال رکھا تھا۔۔۔۔
کتنی بار حازم اور شاہ ویز نے اُس کے نام کی گولی اپنے وجود پر کھائی تھی۔۔۔ اور اُس پر آنچ تک نہیں آنے دی تھی۔۔۔
آج بھی وہ ہر شے کو پسِ پشت ڈال کر صرف اُس کی خوشی چاہتے تھے۔۔۔
“میں ایس پی حمدان صدیقی سے بہت محبت کرتی ہوں شاہ سر۔۔۔۔ مگر میں یہ بھی جانتی ہوں وہ مجھے مارنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ لیکن آپ دونوں کے ساتھ رہتے موت کا خوف تو بہت پیچھے رہ گیا ہے۔۔۔ میں جتنے وقت زندہ ہوں میں اپنا یہ مشن پورا کرنے کے ساتھ ساتھ۔۔۔ حمدان صدیقی کے نام کے ساتھ زندہ رہنا چاہتی ہوں۔۔۔ میں جانتی ہوں میری اصلیت جاننے بعد وہ مجھے نہیں چھوڑیں گے۔۔۔۔
لیکن میں اِس معاملے میں بے بس ہوچکی ہوں۔۔۔ مجھے معاف کردیں آپ لوگ۔۔۔۔ مگر میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں۔۔۔۔۔ اپنے مشن میں کوئی کوتاہی نہیں آنے دوں گی۔۔۔ جیت ہماری ہی ہوگی۔۔۔۔”
مہروسہ آنسوؤں میں بھیگتی اُن دونوں کی آنکھیں بھی لال کر گئی تھی۔۔۔۔
وہ دونوں مُٹھیاں بھینچے بہت مشکل سے ضبط کرکے کھڑے تھے۔۔۔۔
وہ دونوں ہمیشہ سے اُسے اپنی چھوٹی سی گڑیا سمجھ کر اُسے ہر تکلیف ہر درد سے بچاتے آئے تھے۔۔۔۔ مگر آج محبت کے درد سے نہیں بچا پائے تھے۔۔۔
کیونکہ وہ خود اِسی اذیت میں جل رہے تھے۔۔۔۔
“تمہارا فیصلہ ہمیں دل و جان سے قبول ہے۔۔۔ مگر مشن کے ساتھ ساتھ تمہاری سلامتی بھی چاہتے ہیں۔۔۔ اگر اپنی سلامتی پر زرا سا بھی کمپرومائز کیا تو بتا رہا ہوں تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے اُس ایس پی کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔۔۔۔۔۔ “
حازم نے اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے اُسے شفقت بھرے انداز میں ہدایت دیتے دھمکی دی تھی۔۔۔۔
جبکہ شاہ ویز بنا کچھ بولے چند قدم پیچھے ہٹ گیا تھا۔۔۔ مہروسہ کے آنسوؤں میں اُسے کسی اور کے آنسو دکھائی دے رہے تھے۔۔۔۔
اُسے خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اُسے ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔ وہ کیوں اُس لڑکی کے بارے میں اتنا سوچ رہا تھا۔۔۔
جو اُس کے لیے بالکل بھی اہمیت کے حامل نہیں تھی۔۔۔
مہروسہ نے شاہ ویز کے انداز پر پریشان ہوتے سوالیہ نگاہوں سے حازم کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“پریسا آفندی کا نکاح ہے کل۔۔۔۔۔”
حازم کی بات سن کر مہروسہ کو ایک لمحہ لگا تھا ساری بات سمجھنے میں۔۔۔۔
“شاہ سر۔۔۔۔ پریسا کی زندگی برباد ہوجائے گی اگر اُس کا نکاح سفیان جیسے کریمنل سے ہوگیا تو۔۔۔۔۔ پلیز اُس معصوم لڑکی کو بچا لیں۔۔۔ آپ سے زیادہ بہتر اُس کے لیے کوئی نہیں ہوسکتا۔۔۔۔”
مہروسہ اُس کی بے چینی سمجھتی اُسے سمجھانے کی خاطر اپنی سی کوشش کر گئی تھی۔۔۔۔
جس پر شاہ ویز نے اُسے جن سرد نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔۔ وہ گھبرا کر حازم کو دیکھنے لگی تھی۔۔۔
“سفیان آفندی ایک معزز شہری ہے۔۔۔۔ وہ بالکل ٹھیک فیصلہ کررہی ہے۔۔۔ کریمنل میں ہوں وہ نہیں۔۔۔ اتنی بے وقوف نہیں ہے وہ۔۔۔۔ اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز کا لہجہ ابھی بھی بے لچک اور احساس سے عاری تھا۔۔۔
جو دیکھ حازم غصے سے اُس کی جانب سے رُخ موڑ گیا تھا۔۔۔
“بے وقوف تو بہت بڑی ہے۔۔۔ جو تمہاری محبت کو نفرت سمجھ رہی ہے۔۔۔۔ “
حازم نے دبے لہجے میں کہا تھا۔۔۔ جو شاہ ویز اور مہروسہ کے کانوں تک پہنچ چکی تھی۔۔۔
اُسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی تھی۔۔۔۔
“سر جنید کہا ہے۔۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ اچانک ہوش میں آتے جلدی سے بولی تھی۔۔۔
“کیوں کیا ہوا۔۔۔۔؟؟؟”
اُس کے ہوں اچانک گھبرانے پر شاہ ویز ٹھٹھکا تھا۔۔۔
“ایس پی حمدان کو پتا چل چکا ہے اُس کے بارے میں۔۔۔ وہ آج اُسے مروانا چاہتا ہے۔۔۔ آپ لوگ پلیز اُسے بچا لیں۔۔۔۔ “
مہروسہ کی بات سنتے حازم نے فوراً جنید کا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔۔
مگر جواب نہ موصول ہوتے دیکھ اُن تینوں کے رنگ اُڑ چکے تھے۔۔۔۔ آج پہلی بار بلیک سٹارز کو مات ہونے والی تھی۔۔۔۔
“اپنا خیال رکھنا۔۔۔ “
شاہ ویز اور حازم باری باری اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے کھڑکی کے راستے وہاں سے نکل گئے تھے۔۔۔۔
جنید سے رابطہ نہ ہو پانا۔۔۔ اُنہیں کچھ غلط ہونے کا الارم دے گیا تھا۔۔۔
جبکہ دوسری جانب مہروسہ کو روم میں داخل ہوتی لڑکیاں۔۔۔ نکاح کی رسم کے لیے باہر لے جانے لگی تھی۔۔ کچھ لمحوں بعد وہ اپنا آپ ایس پی حمدان کے نام لگوانے والی تھی۔۔۔
یہ سوچ کر ہی اُس کے وجود پر کپکپی طاری ہوچکی تھی۔۔۔۔۔
“خالہ میرا نام نکاح میں اُجالا ہی لیا جائے گا۔۔۔ “
مہروسہ کو اچانک خیال آیا تھا تو اُس نے فوراً قدم روکتے اپنے ساتھ چلتی نسرین بیگم کو پکارا تھا۔۔۔
“میں نے مولوی صاحب اور چند ایک علما سے بات کرلی ہے۔۔۔۔ اُن کا یہی کہنا ہے کہ اگر لڑکی اور لڑکا نکاح کی محفل میں موجود ہیں۔۔۔ اور اپنی زبان سے قبول کررہے ہیں نکاح کو۔۔۔ تو غلط نام لینے سے فرق نہیں پڑتا نکاح ہوجائے گا۔۔۔ اِسی لیے میں نے الگ الگ جگہ بیٹھانے کے بجائے باہر ایک ساتھ نکاح کی محفل ارینج کروائی ہے۔۔۔ ویسے بھی حمدان جانتا ہے تم اُجالا نہیں مہروسہ ہو۔۔ تو کسی قسم کا کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔۔۔ وہ تمہیں مہروسہ سمجھ کر ہی قبول کررہا ہے۔۔۔۔”
نسرین بیگم نے تفصیل بتاتے اُس کی اِس اُلجھن کو دور کردیا تھا۔۔۔۔
مہروسہ نے تشکر بھری نگاہوں سے اُنہیں دیکھا تھا۔۔۔۔ جو بالکل اُس کی حقیقی ماں کی طرح ہر موڑ پر اُس کا ساتھ دے رہی تھیں۔۔۔۔ مہروسہ نے جھک کر اُن کا ہاتھ چوم لیا تھا۔۔۔۔۔
“کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ کو لاکر بیٹھانے کی کچھ دیر بعد نکاح شروع کردیا گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ اِس وقت جس کنڈیشن کے زیرِ اثر تھی۔۔۔۔ اُسے ہوش بھی نہیں رہا تھا کہ کب مولوی صاحب نے نکاح شروع کیا ہے۔۔۔۔ اُسےخاموش پاکر مولوی صاحب نے دوسری بار پوچھا تھا۔۔۔ جب نسرین بیگم نے مہروسہ کے قریب آتے اُس کا کندھا ہلایا تھا۔۔۔۔
سامنے بیٹھا حمدان صدیقی سرد و سپاٹ نگاہوں کے ساتھ گھونگھٹ میں چھپی بیٹھی مہروسہ کو گھور رہا تھا۔۔۔
جو اُس کی سب سے بڑی دشمن تھی۔۔۔۔ جس نے ایس پی حمدان صدیقی کو ہارنے پر مجبور کیا تھا۔۔۔۔
مگر اب حمدان صدیقی اُسے پل پل اُس ہار کی اذیت سے روشناس کروانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
حبہ کو جیسے ہی ہوش آیا اُس نے خود کو اپنے بیڈ روم میں پایا تھا۔۔۔۔
حبہ کا چہرا شدید غصے کے عالم میں لال ہوچکا تھا۔۔۔
“تم کیوں کررہے ہو حازم ایسا۔۔۔ کیوں۔۔۔۔؟؟ تم سمجھتے کیوں نہیں ہو۔۔۔ جو تم کررہے ہو وہ بہت غلط ہے۔۔۔ خدا کے لیے مت کرو یہ ظلم۔۔۔۔ “
حبہ چہرا دونوں ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔۔
اُس نے خود کو کبھی اتنا بےبس محسوس نہیں کیا تھا جتنا اِس وقت کررہی تھی۔۔۔
وہ حازم کو اُس سب سے نکالنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر وہ ہر بار اُس سے دو قدم آگے چل کر اُسے یوں ہی ہار ماننے پر مجبور کردیتا تھا۔۔۔۔
وہ اپنی ڈیوٹی پر کوئی کمپرومائز نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر وہ اپنے شوہر کو بھی برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔ وہ اِس وقت ہر طرف سے بُری طرح پھنس چکی تھی۔۔۔ اُسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر وہ کرے کیا۔۔۔۔۔
حبہ بیڈ سے اُٹھی تھی۔۔۔ اُسے ابھی اپنے سینئرز کو بھی اپنے واپس لوٹ آنے کی اطلاع دینی تھی جب اُس کا موبائل بج اُٹھا تھا۔۔۔
حمدان کا نمبر دیکھ اُس نے جلدی سے کال پک کی تھی۔۔۔۔
مگر دوسری جانب سے جو اطلاع اُسے ملی تھی۔۔۔ حبہ کو اپنی سانسیں اٹکتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔۔
“بلیک سٹارز کے سب سے خاص آدمی جنید پر حملہ کروا دیا ہے میں نے۔۔۔ بیچ راہ میں پڑا تڑپ رہا ہے۔۔۔۔ میں نے سنا ہے وہ بلیک سٹارز باقی گینگسٹرز سے تھوڑے مختلف ہیں۔۔۔۔ اپنے لوگوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔۔۔۔ اپنے آدمی کو یوں تڑپتے نہیں دیکھ سکیں گے۔۔۔۔ اُن کی ایک سٹار اِس وقت میرے پاس ہے۔۔۔ تو باقی دونوں سٹارز کو باہر نکلنا ہی پڑے گا۔۔۔۔ جیسے ہی وہ دونوں جنید کے پاس آئیں گے۔۔۔۔ میرے شارپ شوٹرز اُنہیں اُڑا دیں گے۔۔۔۔ اور یہاں ختم ہوگا بلیک سٹارز کا قصہ۔۔۔۔۔”
حمدان زہر خند لہجے میں بولتا حبہ سے اُس کی سانسیں چھین گیا تھا۔۔۔
اگر اُسے حازم کے حوالے سے علم نہ ہوتا تو اِس وقت وہ سب سے زیادہ خوش ہو رہی ہوتی۔۔۔۔ مگر اِس وقت حمدان کی بات سن کر حبہ کو اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہونا مشکل ہوا تھا۔۔۔۔
“آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے۔۔۔”
حبہ نے بنا سوچے سمجھے بے اختیاری میں بولتے اُسے اِس سنگین قدم سے روکنا چاہا تھا۔۔۔
مگر تب تک حمدان کال ڈسکنکٹ کر گیا تھا۔۔۔۔
حبہ کو کسی شے کا ہوش ہی نہیں رہا تھا۔۔۔ وہ فوراً باہر کی جانب دوڑی تھی۔۔۔۔۔ اُسے اپنی ٹانگیں کانپتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔
آہستہ آہستہ جسم سے جان نکلتی محسوس ہورہی تھی۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“نہیں۔۔۔ پلیز مت جاؤ مجھے چھوڑ کر۔۔۔ پلیز مت جاؤ۔۔۔ میں محبت کرتی ہوں تم سے۔۔۔۔۔”
پریسا نیند میں کسی بُرے خواب کے زیرِ اثر سر تکیے پر دائیں سے بائیں مارتی مسلسل چلا رہی تھی۔۔۔۔
“نہیں پلیز شاہ ویز کو کچھ مت کرو۔۔۔۔”
پریسا کے چہرے پر پسینہ اور خوف کے تاثرات نمایاں تھے۔۔۔۔
جب اُسے خواب میں شاہ ویز خون میں لت پت دکھائی دیا تھا۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے وہ چیخ مارتی اُٹھ بیٹھی تھی۔۔۔۔۔ اُس کا پورا وجود پسینہ میں شرابور ہوتا ہولے ہولے لرز رہا تھا۔۔۔۔
“یہ کیسا خواب تھا۔۔۔؟؟ کیوں آرہا ہے وہ میرے خواب میں۔۔۔ وہ جب مجھ سے اتنی نفرت کرتا ہے تو میں خواب میں بھی کیوں تڑپ رہی ہوں اُس کے لیے۔۔۔۔ مگر یہ کیسا خواب تھا۔۔۔ وہ ٹھیک تو ہے نا۔۔۔۔”
پریسا چاہنے کے باوجود اپنے دل کو اُس کی اتنی دھتکار کے بعد بھی اُس کی جانب سے سخت نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔۔
اِس وقت وہ کسی بھی طرح اپنے اُس وحشی دشمنِ جاں کی خیریت دریافت نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ اُس کے پاس کسی کا نمبر بھی موجود نہیں تھا۔۔۔
پریسا کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی رواں ہوچکی تھی۔۔۔۔ اُس کا دل عجیب بے چین اور بوجھل سا ہورہا تھا۔۔۔۔
“میں اُس کے پاس نہیں جا سکتی مگر اُس کے لیے دعا تو کر سکتی ہوں نا۔۔۔۔ وہ نفرت کرتا ہے مجھ سے۔۔۔ میں تا محبت کرتی ہوں نا اُس سے۔۔۔۔ “
اُس کی نفرت کو یاد کرتے پریسا کے ہونٹوں سے سسکاری نکلی تھی۔۔۔
وہ اپنا دوپٹہ اُٹھاتی واش روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ وضو کرکے جائے نماز بچھاتے اُس کے لبوں پر صرف ایک ہی دعا تھی۔۔۔ شاہ ویز سکندر کی سلامتی کی دعا۔۔۔۔
“اے میرے پروردگار اُس کی حفاظت کرنا۔۔۔۔ میں جانتی ہوں وہ دنیا والوں کے سامنے خود کو ظالم درندہ ظاہر کرتا ہے۔۔۔ مگر میرا دل کہتا ہے وہ بُرا انسان نہیں ہے۔۔۔ نہ ہی کوئی بُرے کام کرتا ہے۔۔۔۔ میں جانتی ہوں وہ مجھ سے نفرت کرتا ہے۔۔۔ میں آپ سے اُس کا ساتھ نہیں مانگ رہی۔۔۔ مگر بس اُس کی سلامتی مانگتی ہوں۔۔۔ میرے مولا اُس کی حفاظت کرنا۔۔۔ اُسے کچھ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔۔”
پریسا بھیگی آواز میں اپنے رب کا پکارتی سجدہ ریز ہوتی رو دی تھی۔۔۔۔
مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اُس کی یہ آہیں اور سسکیاں عرش تک پہنچتی اُس کی جھولی میں اُس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی ڈالنے والی تھیں۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
