Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

“کل ہی دربار پر جاکر سو لوگوں کو کھانا کھلا کر آپ سے ملاقات کی منت مانگی تھی۔۔۔ دیکھیں میری محبت کی طاقت آج آپ میرے سامنے کھڑے ہیں۔۔۔۔”
زونیا دیوانہ وار نگاہوں سے حازم کے نقاب میں چھپے چہرے کو نہارتے بولی۔۔۔۔ اُس نے حازم کو دیکھ رکھا تھا۔۔۔ یہ چہرا نہ دیکھانے والی احتیاط صرف حبہ کے لیے برتی گئی تھی۔۔۔۔
” اتنے سچے دل سے اپنے لیے ہدایت مانگ لیتی۔۔۔ تو تمہاری زندگی ہی سنور جاتی۔۔۔۔”
حازم ہمیشہ کی طرح اُسے سرد اور سپاٹ لہجے میں جواب دیتے بولا۔۔۔۔۔
اُس کا نرم اور محبت بھرا انداز صرف ایس پی حبہ کے لیے ہی ہوتا تھا۔۔۔۔ حازم نے دوبارہ روم کی جانب قدم بڑھائے تھے جب زونیا اُس کے مقابل آتے دوبارہ اُس کا راستہ کاٹ گئی تھی۔۔۔۔
“اتنے سنگدل مت بنیں میر جی۔۔۔۔۔ بہت تڑپا ہے یہ دل آپ کے لیے۔۔۔۔ “
زونیا کی آنکھوں میں نمی سی در آئی تھی۔۔۔۔ میر حازم سالار اُس کے لیے کیا تھا۔۔۔ کوئی اُس کے دل سے پوچھتا۔۔۔۔۔ اتنے سالوں سے وہ اِس شخص سے ایک ملاقات کرنے کے لیے خوار ہورہی تھی۔۔۔۔
“تم جانتی ہو سب پھر بھی ہر بار یہ فضول باتیں شروع کیوں کردیتی ہو۔۔۔۔؟؟؟”
حازم اب کی بار اُسے کڑے تیوروں سے گھورتا سنجیدگی سے بولا تھا۔۔۔۔
“میں یہ بھی جانتی ہوں۔۔۔ وہ آپ سے محبت نہیں کرتی۔۔۔ اور میں جان دیتی ہوں آپ پر۔۔۔۔ کیونکہ یہ جان آپ ہی کی تو دی ہوئی ہے۔۔۔۔”
زونیا اُس کے گلے میں بانہیں حمائل کرتے اُس کے قریب ہو آئی تھی۔۔۔۔ جب اُسی لمحے حبہ روم کا لاک توڑتی دروازہ کھول کر باہر نکلی تھی۔۔۔۔
کسی لڑکی کو حازم کے ساتھ بالکل چپکا دیکھ اُس کے تن بدن میں ناگواری کی لہر دوڑ گئی تھی۔۔۔ حازم کی اُس کی جانب بیک تھی۔۔ وہ حازم کے تاثرات نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔۔ مگر وہ لڑکی آنکھوں میں چاہت کے دیپ جلائے جس طرح اُس کے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔۔۔ حبہ یہ چیز نظر انداز نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔
اِس شخص سے اُس کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔۔۔ مگر پھر بھی نجانے کیوں یہ منظر دیکھ اُس کے دل میں ایک اَن دیکھی آگ بھڑک اُٹھی تھی۔۔۔۔
“تم کیوں مجھے اپنے اُس عمل پر پچھتانے پر مجبور کررہی ہو۔۔۔ جو تمہاری جان بچا کر میں نے کیا ہے۔۔۔۔؟؟ تمہاری بہتری اِسی میں ہے کہ مجھ سے دور رہو۔۔۔۔”
حازم اُس کی بانہیں اپنے گلے سے نکالتا اُسے قہر بڑھی نگاہوں سے دیکھتا خود سے دور جھٹک گیا تھا۔۔۔۔۔
اُسے غصہ بہت کم آتا تھا۔۔۔ اور اِس وقت زونیا کی حرکتیں اُسے شدید غصہ دلا گئی تھیں۔۔۔۔
وہ جیسے ہی پلٹا تھا سامنے کھڑی حبہ کو دیکھ پل بھر کے لیے ساکت ہوا تھا۔۔۔ اُس کا ماسک میں چھپا چہرا بتا رہا تھا کہ وہ اِس وقت کس قدر تپی ہوئی ہے۔۔۔۔ مگر کم موڈ خراب اِس وقت حازم کا بھی نہیں تھا۔۔۔۔
“تم باہر کیوں آئی۔۔۔۔؟؟؟”
حازم حبہ کے پاس آتے دبی دبی آواز میں غرایا تھا۔۔۔ زونیا دور کھڑی اُنہیں ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ حبہ کی نظریں بھی حازم سے ہٹتے زونیا پر گئی تھیں۔۔۔
“تاکہ تمہارا اصل چہرا دیکھ سکوں۔۔۔ جو ہر دوسری عورت کے ساتھ چپکنے اُن کی قربت حاصل کرنے اور ہوس کا بھوکا انسان ہے۔۔۔۔ تم جیسا بدکردار انسان میں نے۔۔۔۔۔۔”
حبہ مزید بھی بہت کچھ بول رہی تھی۔۔۔۔ جب حازم اُسے بازو سے کھینچتا روم میں داخل ہوکر۔۔۔ روم کا دروازہ زور دار آواز میں بند کرتا اُسے دروازے کے ساتھ لگاتا اُس پر جھکا تھا۔۔۔۔۔
“جو انسان اپنا جائز اور شرعی حق رکھنے کے باوجود اپنی عورت کو اُس کی مرضی کے بغیر چھو نہیں رہا۔۔۔ اپنا حق استعمال نہیں کر رہا۔۔۔ کیا اُسے بدکردار مرد کہتے ہیں۔۔۔۔ آج تک کیا بُرا کام کرتے دیکھا ہے تم نے مجھے۔۔۔۔ بتاؤ مجھے۔۔۔۔ تمہارے جس سیاسی لیڈر کو مارا تھا نا اُس کی اصلیت تم بھی بہت اچھے سے جانتی ہو۔۔۔۔ جن غداروں اور نام نہاد معزز شہریوں کو تم لوگ پروٹوکول دیتے ہو۔۔۔ اُن کی حفاظت کے لیے اپنا خون پسینہ ضائع کرتے ہو۔۔ جانتے بوجھتے اُنہیں اُن کے جرموں کی سزا دینے کے بجائے اُن کی خدمتیں کرنے پر مجبور ہو۔۔۔۔ ہم اُنہیں حرام خوروں کا بوجھ اِس دنیا سے ختم کررہے ہیں۔۔۔۔ “
حازم شدید غصے میں خود پر کنٹرول نہیں رکھ پاتا تھا۔۔۔ یہ اُس کی سب سے بڑی کمزوری تھی۔۔۔ اِس وقت بھی اُس کے ساتھ یہی ہوا تھا۔۔۔۔
وہ اپنے منہ سے ہی حبہ کے سامنے اپنی اصلیت بیان کرگیا تھا۔۔۔ مگر حبہ تو اُس کے پہلے جملے پر ہی اٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔
“کک کیا مطلب۔۔۔ کس پر حق رکھتے ہو تم۔۔۔؟؟؟”
حبہ اُسے بیچ میں ہی ٹوکتی سوالیہ نگاہوں سے پوچھتے بولی۔۔۔۔
جس پر حازم کو بھی بریک لگی تھی۔۔۔ وہ غصے میں کیا غضب کرنے جا رہا تھا۔۔۔ وہ اِس لڑکی کو کسی قیمت پر اپنی اصلیت نہیں بتا سکتا تھا۔۔۔۔
حازم دانتوں پر دانت چڑھائے مُٹھیاں سختی سے بھینچتا اُسے دور ہوا تھا۔۔۔۔ اُس کی آنکھیں بالکل لال ہوچکی تھیں۔۔۔ اور کنپٹی کی رگیں باہر کو اُبھر آئی تھیں۔۔۔۔۔
اُس کے دور ہونے سے پہلے ہی حبہ اُس کے دونوں کالر واپس مُٹھیوں میں بھینچتی اپنے قریب کھینچ گئی تھی۔۔۔۔۔۔
“میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے۔۔۔۔”
حبہ اُس کی آنکھوں میں جھانکتے سوال کررہی تھی۔۔۔
وہ نہیں جانتی تھی ہر وقت اُس کی ہر اُلٹی سیدھی بات برداشت کرنے والا۔۔۔ اِس وقت بہت مشکل کیفیت میں تھا۔۔۔۔۔
وہ اِس وقت حبہ کے قریب نہیں جانا چاہتا تھا۔۔۔ مگر وہ اُتنا ہی اُسے دور نہ جانے پر بضد تھی۔۔۔ جب آخر کار حازم بھی اپنی کیفیت سے ہار مانتا۔۔۔ اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتا اُسے اپنے بے حد قریب کھینچ گیا تھا۔۔۔۔ اُن دونوں کے درمیان انچ بھر کا فاصلہ بھی نہیں بچا تھا۔۔۔۔
“اپنی محبت پر حق رکھتا ہوں۔۔۔۔ جان سے زیادہ عزیز ہے وہ مجھے۔۔۔ اُس پر بُری نظر ڈالنے والوں کو کاٹ کر رکھنے کا حوصلہ رکھتا ہوں۔۔۔۔ “
حازم اُس کے چہرے سے ماسک سرکاتا بوجھل آواز میں بولتا حبہ کے اندر خطرے کی گھنٹی بجا گیا تھا۔۔۔ آج تک وہ جب بھی اُس کے قریب آیا تھا۔۔۔ مذاق اور شوخی لیے اُس کا انداز چھیڑتا ہوا ہی ہوتا تھا۔۔۔
مگر آج یہ بہکا بہکا انداز۔۔۔
حبہ نے اُس سے دور ہونا چاہا تھا۔۔۔۔
مگر حازم تو جیسے اِس وقت اتنے سالوں سے روٹھا اپنے دل کا قرار اِس لڑکی سے واپس چھیننا چاہتا تھا۔۔۔
“دور رہو تم۔۔۔۔۔”
حبہ نے اُسے دور دھکیلنا چاہا تھا۔۔۔ مگر حازم اُس کے ہونٹوں پر جھک کر اُنہیں ہلکے سے چھوتا حبہ کی جان نکال گیا تھا۔۔۔۔
حبہ کو اُس سے اتنی جرأت کی اُمید بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔ اُسے جیسے کرنٹ چھو کر گزر گیا تھا۔۔۔۔ اُس کے دونوں ہاتھ حازم کی گرفت میں تھے۔۔۔ وہ مزاحمت نہیں کر پارہی تھی۔۔۔۔
وہ اگلے ہی لمحے حبہ کے دائیں کان پر جھکتا اُس کی لوح کو پوری طرح لال کرتا آنکھوں میں خمار بھرے اُسے کی آنکھوں میں جھانکنے لگا تھا۔۔۔
“آئندہ مجھ سے میرے حق کے بارے میں کبھی سوال مت کرنا۔۔۔۔ اپنی محبت کے معاملے میں خود پر قابو کر پانا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔۔۔۔۔ “
اُس کے لال پڑتے گال کو چومتا وہ اُسے اپنے حصار سے آزاد کر گیا تھا۔۔۔۔ اُسے جب بھی غصہ آتا تھا اُس کی مدت دو تین دن تو ہوتی ہی تھی۔۔۔ مگر آج حیرت انگیز طور پر حبہ کی دلفریب قربت نے اُس پر کیسا اثر دیکھایا تھا کہ دس منٹ بھی نہیں لگے تھے اُس کا غصہ اُڑن چھو ہونے میں۔۔۔۔
حازم واپس پلٹتا اپنی ہی اِس بے یقینی کیفیت پر مسکرا دیا تھا۔۔۔ اگر اُس کے ساتھی یہ دیکھ لیتے تو صدمے سے نہ نکل پاتے۔۔۔۔۔
لیکن حازم کو حبہ سے دور چلے ابھی چند قدم ہی ہوئے تھے۔۔۔۔ جب فائرنگ کی آواز کے ساتھ ساتھ پولیس کے سائرن اردگرد بجنے شروع ہوچکے تھے۔۔۔۔
حازم جھٹکے سے واپس پلٹا تھا۔۔۔۔ جہاں اُس کی قربت اور گستاخیوں سے لال ہوئی حبہ آنکھوں میں نفرت لیے اُس پر پسٹل تانے کھڑی تھی۔۔۔۔۔
“تمہیں کیا لگا۔۔۔۔؟؟ تم اہنے پاک صاف اور ایماندار ہونے کی کہانی سناؤ گے اور میں مان جاؤں گی۔۔۔۔ اُس دن تو چکما دے کر بھاگ نکلے تھے۔۔۔ آج کیا کرو گے۔۔۔ آج اگر یہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی تو میری فورسز کو کوئی بھی آدمی تمہیں گولی سے اُڑا دے گا۔۔۔۔ “
جو کچھ تھوڑی دیر پہلے اِس شخص نے اُس کے ساتھ کیا تھا۔۔۔ اُس کی دھڑکنیں ابھی تک قابو میں نہیں آسکی تھیں۔۔۔۔ وہ خود سمجھ نہیں پارہی تھی اِس انسان کے قریب آنے سے اُس کا دل اتنی بُری طرح کیوں دھڑک رہا ہے۔۔۔۔ آخر کیوں اِس کی قربت اُس کے دل و دماغ پر اتنی اثر انداز ہورہی تھی۔۔۔۔
حازم وہی کھڑا والہانہ نگاہوں سے اپنی جنگلی بلی کو ایکشن میں آتے دیکھ رہا تھا۔۔۔ جب دروازہ کھول کر چار پولیس والے اندر داخل ہوکر حبہ کے آس پاس آن کھڑے ہوتے ۔۔۔ حازم پر اپنے ہتھیار تان گئے تھے۔۔۔
جس کے ساتھ ہی حازم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“تم میرے اتنے قریب میرے بیڈ پر کیا کررہی ہو۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان نے اتنی زور سے اُس کی کلائی دبوچی تھی کہ مہروسہ کو اپنی ہڈیاں ٹوٹتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔
مہروسہ کو خود بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ ہوا کیا تھا۔۔۔۔ اُس کے پلان میں تو ایسا کچھ شامل ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔
اِس انسان کی قربت اُسے کمزور کرتی تھی۔۔۔ اور وہ اپنے کام میں ناکام ہوسکتی تھی۔۔۔ اِس لیے اُس نے اب حمدان صدیقی سے دور رہنے کا فیصلہ ہی کیا تھا۔۔۔ مگر قسمت اُسے ایک بار پھر اُسے یہاں تک لے آئی تھی۔۔۔۔
“مم میں نہیں جانتی۔۔۔۔ مجھے تو فرح آپی نے یہاں بھیجا تھا۔۔۔۔ مجھے تو یہ بھی نہیں پتا کہ یہ آپ کا روم ہے۔۔۔۔”
مہروسہ نے اپنے کردار میں رہتے نہایت ہی خوفزدہ انداز میں اُس بپھرے شیر کو جواب دیا تھا۔۔۔۔
جو عنقریب اُس کا گلا دبانے کا ارادہ ہی رکھتا تھا۔۔۔۔
“آخر تم کیوں کررہی ہو یہ سب۔۔۔۔؟؟؟ میرے گھر والوں کے بیچ رہنے کا مقصد کیا ہے تمہارا۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان بہت بُری طرح پھنس چکا تھا۔۔۔ اُس کے گھر والے اُسے اِس لڑکی سے سختی برتنے نہیں دے رہے تھے۔۔۔ اور وہ اِس لڑکی کو یہاں رہنے نہیں دے سکتا تھا۔۔۔۔
اِسے بس سلاخوں کے پیچھے ہی دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔
“مم نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔۔۔۔”
وہ اُس کی بات پر آنکھوں میں آنسو بھرے منمنائی تھی۔۔۔ حمدان نے کچھ لمحے یک ٹک اُس کے دلکش نقوش کو گھورا تھا۔۔۔ جس کے چہرے کی معصومیت اور بھولپن ایسا ہی تھا کہ وہ واقعی کچھ نہیں جانتی۔۔۔ اور اُس سے زیادہ معصوم شاید پوری دنیا میں کوئی نہیں ہے۔۔۔
“پلیز مجھے چھوڑیں۔۔۔ جانے دیں۔۔۔۔”
اُس کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتے مہروسہ کو لگ رہا تھا اُس کا دھڑک دھڑک کر پاگل ہوتا دل پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا۔۔۔۔
“چھوڑوں گا تو اب میں تمہیں کسی صورت نہیں۔۔۔۔ بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی تمہیں اِس دھوکے کی۔۔ “
حمدان اُسے کلائی سے تھام کر بیڈ سے نیچے کھینچ چکا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کبھی اُس کے سامنے بنا دوپٹے کے نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔ مگر اِس وقت دوپٹہ ہونا تو دور کی بات اُس کے کمر سے نیچے آتے لمبے گھنے بال چٹیا میں مقید حمدان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔۔۔۔
وہ سر تاپا قیامت سا حُسن رکھتی تھی۔۔۔ اِس بات سے حمدان صدیقی بھی انکار نہیں کر پایا تھا۔۔۔ مگر اُسے اِس لڑکی سے نفرت کے علاوہ کوئی جذبہ محسوس نہیں ہوتا تھا۔۔۔۔
حمدان نے اُسے دروازہ کھولتے روم کے باہر اتنی زور سے دھکا دیا تھا کہ مہروسہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ پاتی روم کے باہر سامنے لگی ریلنگ کے ساتھ ٹکرا گئی تھی۔۔۔
اُس کی پیشانی پر شدید چوٹ آئی تھی۔۔
بھل بھل پیشانی سے نکلتے خون کی پرواہ کیے بنا حمدان اُس کے منہ پر دروازہ زور دار آواز میں بند کرگیا تھا۔۔۔
مہروسہ کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر بے مول ہوئے تھے۔۔۔۔ جنہیں اگلے ہی لمحے رگڑتی وہ دھیرے سے مسکرا دی تھی۔۔۔
اِس شخص کی جانب سے کیا ہر ستم اُسے قبول تھا۔۔۔۔ اور ویسے بھی زندگی میں اب تک جتنا درد اور تکلیف وہ سہہ چکی تھی۔۔۔ اُس کے آگے یہ چوٹ تو کچھ بھی نہیں تھیں۔۔۔۔
مگر اُس کی زندگی کی ایک ہی خواہش تھی اب کہ وہ مرنے سے پہلے بس ایک بار اِس شخص کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ بس ایک بار۔۔۔۔۔
جو کہ وہ جانتی تھی کبھی ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔۔ اُس کی یہ خواہش شاید ادھوری ہی رہ جانی تھی۔۔۔۔
مہروسہ کی آنکھوں میں درد کی گہری چادر چھائی ہوئی تھی۔۔۔ مگر چہرے پر اپنی مخصوص دلفریب مسکراہٹ لیے وہ وہاں سے اُٹھ گئی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“پری میری گڑیا آپ ٹھیک ہو۔۔۔۔؟؟؟ اُن لوگوں نے آپ کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچایا۔۔۔ سفیان ڈاکٹر کو کال کرو وہ ابھی تک پہنچا کیوں نہیں۔۔۔”
یاسمین بیگم نجانے کتنی بار پریسا کا چہرا چوم چکی تھیں۔۔۔۔ رات کے دو بجے پریسا کو آفندی مینشن کے آگے کوئی گاڑی چھوڑ کر چلی گئی تھی۔۔۔ پریسا اُس وقت بے ہوشی کی حالت میں تھی۔۔۔
مگر جیسے ہی اُسے ہوش آیا اُس نے اپنے پورے خاندان کو اپنے آس پاس پایا تھا۔۔۔ سامنے ہی سفیان اور شہباز آفندی آنکھوں میں گہرا تفکر لیے اُسے دیکھ رہے تھے۔۔۔
پریسا کو ہوش میں آتے دیکھ سب کی چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔۔۔۔
“ماما میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ اُن لوگوں نے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔۔۔ مجھے اتنے ٹائم ایک اندھیرے روم میں قید رکھا۔۔۔ جہاں ایک ملازم آکر تینوں ٹائم کا کھانا دے جاتا تھا۔۔۔ اُس کے علاوہ نہ کوئی میرے روم میں آیا نہ مجھے کچھ کہا۔۔۔ “
پریسا نے اقراء کے رٹے رٹائے الفاظ بتائے تھے۔۔۔
“تم نے وہاں کسی کا چہرا دیکھا۔۔۔ اور کیا اُس ملازم کا حلیے بتا سکتی ہو تم۔۔۔۔؟؟”
سفیان پریسا کے قریب آکر اُس کا ہاتھ تھامتے فکرمندی سے بولا تھا۔۔۔۔
جب پریسا کی آنکھوں میں اُس وحشی کی شبییہ لہرائی تھی۔۔۔۔ جو دیکھنے میں جس قدر ہینڈسم اور پیارا تھا عادتوں اور حرکتوں میں اُتنا ہی جلاد تھا۔۔۔۔
“نن نہیں۔۔۔ وہ ملازم جب بھی آتا تھا تو اُس کا چہرا ڈھکا ہوتا تھا۔۔۔ مجھے وہاں بے ہوش کرکے لے جایا اور واپس لایا گیا ہے۔۔۔ میں کسی بھی چیز کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔۔۔۔”
پریسا نے بہت مشکل سے اور شاید پہلی بار اپنے گھر والوں سے جھوٹ بولا تھا۔۔۔ کیونکہ یہاں اُس وحشی کے نہ ہوتے ہوئے بھی اُس نے اُسے اپنی دھمکیوں کے زیرِ اثر باندھ رکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“اوکے۔۔۔ اُن لوگوں کو تو ہم ڈھونڈ کر اُن کے انجام تک پہنچا کر رہیں گے۔۔۔ لیکن اب کوئی بھی میری بیٹی سے مزید کوئی سوال نہیں کرے گا۔۔۔ دیکھوں بچاری کا چہرا کیسے تھکن اور کمزوری کی وجہ سے مرجھایا پڑا ہے۔۔۔۔ سب لوگ رش ختم کریں اور پری کو آرام کرنے دیں۔۔۔”
شہباز آفندی اُس کے قریب آکر اُس کا ماتھا چوم کر اُسے پیار کرتے باقی سب کو روم سے جانے کا بول گئے تھے۔۔۔
جبکہ پریسا اُن سب کے اتنے خلوص اور محبت پر مزید شرمندہ ہوئی تھی۔۔۔
وہ بھلا اِن لوگوں کے خلاف کیسے جاسکتی تھی۔۔۔ وہ بھی شاہ ویز سکندر جیسے شخص کی وجہ سے۔۔۔۔
مگر اُس کی سفیان کو مار دینے کی دھمکی بار بار پریسا کے کانوں میں گونجتی اُس کے حلق خشک کر دیتی تھی۔۔۔۔
سب لوگ روم سے ایک ایک کرکے نکل چکے تھے۔۔۔ جب سفیان اُس کے قریب آیا تھا۔۔۔۔
“تم سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔ اِن گزرے دنوں میں کس قیامت سے گزرا ہوں۔۔ کوئی ایک لمحہ سکون سے نہیں گزرا۔۔۔۔ آئندہ کبھی مجھ سے دور مت جانا۔۔۔ تمہارا بغیر نہیں رہ سکتا سفیان آفندی۔۔۔۔”
سفیان اُس کا نازک ہاتھ تھامے اُس سے اپنی محبت کا اظہار کرتے بولا تھا۔۔۔۔ جس پر پریسا کا دماغ ایک بار پھر شاہ ویز سکندر کی طرف پہنچ چکا تھا۔۔۔ جو ہر بار اُسے مارنے اور گلا دبانے کی دھمکی ہی دیتا رہتا تھا۔۔۔۔
پریسا نے ایکدم اُس کا خیال جھٹکا تھا۔۔۔ وہ بلیک ہاؤس سے تو آگئی تھی۔۔۔ مگر اُس بلیک بیسٹ کے حصار سے نہیں نکل پارہی تھی۔۔۔۔
“میں نے بھی آپ کو وہاں بہت یاد کیا بہت روئی ہوں۔۔۔۔ وہ بہت ظالم لوگ تھے۔۔۔۔ آپ کو گولی لگی تھی نا۔۔۔ آپ ٹھیک ہیں اب۔۔۔۔”
پریسا نے اُس کے بازو کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“تم واپس آگئی ہو نا۔۔۔ اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ اور چند دنوں بعد ہونے والے ہمارے نکاح کے بعد تو مزید ٹھیک ہوجاؤں گا۔۔۔۔۔”
سفیان کے شوخی بھرے انداز پر پریسا نے فوراً اُس کی گرفت سے اپنا ہاتھ آزاد کروا لیا تھا۔۔۔۔
وہ اپنے دل کی کیفیت سمجھ نہیں پارہی تھی۔۔۔ اُس کے سامنے اُس کا بچپن کا منگیتر بیٹھا تھا۔۔۔ جس سے کچھ دنوں میں اُس کا نکاح ہونے والا تھا۔۔۔ مگر اُس کے دل و دماغ پر بار بار اُس بلیک بیسٹ کا سایہ کیوں لہرا رہا تھا۔۔۔۔
کیوں بار بار اُس کا دھیان اُس وحشی کے جانب جارہا تھا۔۔۔ جس نے اُسے رُلانے، درد اور تکلیف دینے کے سوا کچھ نہیں کیا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔