No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
“شہباز ڈاکٹر کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔ کیا ہوا ہے میری بچی کو۔۔۔۔ یہ آنکھیں کیوں نہیں کھول رہی۔۔۔۔۔ “
یاسمین بیگم پریسا کا سر اپنی گود میں رکھے فکرمندی سے بولی تھیں۔۔۔۔ فضہ نے وہاں پیش آیا سارا واقع سنا دیا تھا۔۔۔ جسے سن کر اور پریسا کی حالت دیکھ کر سب گھر والے پریشان ہوچکے تھے۔۔۔
سفیان اور شہباز صاحب بھی آفس سے ساری میٹنگز کینسل کرتے فوراً گھر پہنچے تھے۔۔۔۔
نور محل کے ہر فرد کی جان بستی تھی اپنی اِس نازک سی گڑیا میں۔۔۔ وہ بن ماں باپ کی بچی اُن سب کی آنکھوں کا تارا تھی۔۔۔۔ اُس کے چچا شہباز آفندی جہاں اُسے باپ جیسی شفقت فراہم کرتے تھے وہیں۔۔۔ اُن کی بیگم یاسمین آفندی نے ہمیشہ اُسے ممتا کی چھاؤں تلے رکھا تھا۔۔۔۔
نور محل میں شہباز آفندی اپنے دو بھائیوں اور اُن کی فیملیز کے ساتھ وہاں رہتے تھے۔۔۔۔
شہباز آفندی کے دو بیٹے تھے بڑا کامران آفندی اور اُس سے چھوٹا سفیان آفندی۔۔۔ جس کا بچپن سے پریسا کے ساتھ رشتہ طے تھا۔۔۔ جس بات سے وہ دونوں باخبر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو بہت پسند بھی کرتے تھے۔۔۔۔
جہاں پریسا سفیان کے معاملے میں بہت پوزیسو تھی۔۔۔ وہیں سفیان بھی اُس پر جان دیتا تھا۔۔۔ اُسکی چھوٹی سے چھوٹی خواہش پوری کرنا سفیان کی زندگی کا اہم مقصد بن چکا تھا۔۔۔۔
وہ اُس کی کوئی بھی بات رد نہیں کرتا تھا۔۔۔۔ چاہے خود کتنی بھی مشکل برداشت کرلے۔۔۔۔۔ شہباز آفندی کے بڑے بھائی اور پریسا کے فادر ظفر آفندی اکیس سال پہلے ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں اپنی بیوی نگہت بیگم کے ساتھ دنیا سے کوچ کر گئے تھے۔۔۔
تب پریسا کی کمر صرف دو سال تھی۔۔۔۔ اُس معصوم سی بچی کو یاسمین بیگم اور گھر کے باقی افراد نے بہت ہی محبت اور شفقت سے اُسے پال پوس کر بڑا کیا تھا۔۔۔۔
شہباز آفندی سے چھوٹے شوکت آفندی تھے جن کی وائف ثمینہ بیگم اور دو اولادیں۔۔۔۔ ایک بیٹی فضہ اور بیٹا احد تھے۔۔۔۔ اُن سے چھوٹے عامر آفندی تھے۔۔۔۔ جن کی وائف سلمہ بیگم۔۔۔ اور تین اولادیں تھی۔۔۔ عمر، طلحہ اور فجر۔۔۔۔۔
جہاں گھر کے مردوں کا کام مختلف ملکوں میں پھیلا وسیع و عریض بزنس سنبھالنا تھا۔۔۔ وہیں گھر کی تمام خواتین ہاؤس وائف تھیں۔۔۔۔ ہر طرح کی آزادی حاصل ہونے کے باوجود ایک بات کی اجازت اُن میں سے کسی کو نہیں تھی۔۔۔۔ اور وہ تھی جاب کرنے کی اجازت۔۔۔۔۔
نجانے ایسی کیا وجہ تھی کہ شہباز آفندی کو گھر کی عورتوں کا جاب کرنا بالکل بھی پسند نہیں تھا۔۔۔ نہ ہی اپنے آفس میں اور نہ کسی اور جگہ۔۔۔۔
جس پر سب نے خاموشی سے سر جھکا دیا تھا۔۔۔۔
“زیادہ پریشانی کی بات نہیں ہے۔۔۔۔ بچی نے اُس وقت جو منظر دیکھا ہے۔۔۔۔ اُس سے خوفزدہ ہوکر گہرے صدمے میں چلی گئی ہے۔۔۔۔۔ لیکن ڈاکٹرز کا کہنا ہے۔۔۔ کچھ دیر میں ہوش میں آجائے گی۔۔۔۔ پری کے ہوش میں آنے کے بعد اُس سے کوئی سوال نہ کیا جائے۔۔۔۔ جتنا ہوسکے اُسے ریلیکس رکھنے کی کوشش کریں۔۔۔۔۔”
شہباز آفندی آنکھیں موندے یاسمین بیگم کی گود میں سر رکھے لیٹی پری کے ماتھے پر پیار کرتے وہاں سے نکل گئے تھے۔۔۔۔۔
“سفیان بیٹا آپ بھی جاکر ریسٹ کر لو۔۔۔۔ کافی تھک گئے ہوگے۔۔۔۔ پری کو جیسے ہی ہوش آتا ہے میں آپ کو انفارم کردوں گی۔۔۔۔۔”
یاسمین آفندی نے ایک جانب تھکے تھکے کھڑے سفیان کی جانب دیکھتے کہا تھا۔۔۔ جو آج صبح کی دبئی سے لوٹا تھا۔۔۔۔ اور زرا سا بھی آرام کیے بغیر آفس میں ہوتی کچھ اہم میٹنگز میں بزی رہا تھا۔۔۔۔
“نہیں ماما پری کو میں اِس حالت میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ جب تک پری کو ہوش نہیں آجاتا میں۔۔۔ یہیں رہوں گا۔۔۔۔۔ “
سفیان وہیں پریسا کے قریب چیئر رکھے بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔
جبکہ یاسمین پری کے لیے اُس کی اتنی محبت دیکھ دھیرے سے مسکرا دی تھیں۔۔۔ پریسا آفندی تھی ہی اتنی پیاری کہ کوئی بھی اُس سے پیار کرنے سے خود کو باز نہیں رکھ سکتا تھا۔۔۔۔
سفیان کتنے ہی لمحے یک ٹک اُسے دیکھے گیا تھا۔۔۔۔ دودھیا رنگت، پرکشش نقوش، ستواں ناک۔۔۔ پنکھڑیوں سے گلابی نازک تراشیدہ لب، اور گول مٹول آنکھوں پر سایہ فگن گھنی لانبی پلکیں۔۔۔۔ اپنی بے پناہ خوبصورتی سے انجان وہ پیاری سی لڑکی بہت ہی صاف دل اور سادہ تھی۔۔۔۔ اُس میں بناوٹ نام کو نہیں تھی۔۔۔۔۔
یاسمین بیگم مسلسل اُس پر کچھ پڑھ کر پھونک رہی تھیں۔۔۔۔ سفیان نجانے کتنے ہی لمحے اُسے ایسے ہی یک ٹک دیکھے جاتا جب پری نے کسمساتے آنکھیں نیم واں کی تھیں۔۔۔۔
“پری تم ٹھیک ہو۔۔۔۔”
سفیان فوراً اُس کے قریب آیا تھا۔۔۔۔
” بڑی ماما۔۔۔ سفیان وہ۔۔۔ وہاں وہ نقاب پوش۔۔۔ وہ خون۔۔۔۔ قتل۔۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔۔”
پریسا اُسی خوف کے زیرِ اثر بے ربط بولتی یاسمین آفندی کی گود میں منہ چھپا گئی تھی۔۔۔
“پری تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ کسی میں اتنی جرأت نہیں جو تمہیں نقصان پہنچا سکے۔۔۔۔۔۔ ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔۔ وہ جو بھی ہوا اُسے بھیانک خواب سمجھ کر بھول جاؤ۔۔۔۔ اور جس نے وہ سب کیا ہے میں اُسے چھوڑوں گا نہیں۔۔۔۔”
سفیان اُس کا ہاتھ اپنی نرم گرفت میں تھامتا محبت پاش لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔ جس پر پری کو اپنے دائیں ہاتھ پر بے اختیار اُس نقاب پوش قاتل کا وہ سخت ترین لمس محسوس ہوا تھا۔۔۔ جس نے اُسے ایسے پکڑا تھا جیسے اُس کے ہاتھ کی ہڈیاں توڑ دے گا۔۔۔۔
سفیان اور یاسمین بیگم کا پریشان چہرا دیکھ پریسا نے بہت مشکل سے خود کو کچھ حد تک نارمل کیا تھا۔۔۔
“بہت بُرا انسان تھا وہ۔۔۔ بہت بے دردی سے اُس نے اُن لوگوں کی زندگی چھین لی۔۔۔۔ بڑی ماما کوئی انسان بھلا اتنا ظالم بھی ہوسکتا ہے کیا۔۔۔ ؟؟؟”
پریسا کوشش کے باوجود اُس شخص کی سیاہ آنکھیں فراموش نہیں کر پارہی تھی۔۔۔ جو اُسے اِس وقت بھی اپنے وجود میں گڑھی محسوس ہورہی تھیں۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
شبیر چوہان کے گھر پر ڈھیروں کے حساب سے جگہ جگہ پر سیکیورٹی گارڈز تعینات کیے گئے تھے۔۔۔۔ پولیس ، رینجرز اور بھی نجانے کون کون سی فورسز کو بلوا لیا گیا تھا۔۔۔۔ شبیر چوہان کو جب سے بلیک سٹارز کی جانب سے دھمکی ملی تھی۔۔۔
وہ مزید خوف اور ہڑبڑاہٹ کا شکار ہوچکا تھا۔۔۔۔ نجانے کتنے سیکیورٹی گارڈز چینج کیے گئے تھے۔۔۔ شبیر چوہان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی بھی طرح اپنے سر پر منڈلاتے اُن بلیک سٹارز سے خود کو کہیں چھپا لے۔۔۔۔۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اب اُس کے گناہوں کا گھڑا بھر چکا تھا۔۔۔۔ اور بہت جلد وہ بلیک سٹارز اُس کے سر پر پہنچنے والے تھے۔۔۔۔۔
“بہت بڑا رسک لے رہے ہو۔۔۔۔ وہ لوگ اِن کاؤنٹر کرکے تم لوگوں کو مار بھی سکتے ہیں۔۔۔۔”
شبیر چوہان اور باہر موجود اُس کی سیکیورٹی پر تعینات آفیسرز کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔۔۔ کہ شبیر چوہان کی سیکیورٹی کا مین انچارج کوئی اور نہیں بلکہ شاہ ویز سکندر اور میر حازم سالار کا بہت گہرا دوست تھا۔۔۔۔ جس کی مدد سے اُنہیں شبیر چوہان کے بنگلے میں داخل ہونے میں پندرہ منٹ سے زیادہ کا وقت نہیں لگا تھا۔۔۔۔۔
اِس وقت حماد اُن کے سامنے کھڑا اُنہیں متوقع خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔
“جتنے بڑے بڑے خطروں سے ہم کھیل چکے ہیں۔۔۔ اُس کے آگے یہ رسک کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔ تمہارے اِس احسان کو کبھی نہیں بھولیں گے۔۔۔۔ زندگی رہی تو دوبارہ ملاقات ہوگی۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔۔۔”
وہ دونوں اُس سے بغل گیر ہوتے ویٹر کے حلیے میں کھانے کی ٹرالی گھسیٹتے شبیر چوہان کے بیڈ روم کی جانب بڑھ گئے تھے۔۔۔۔ حماد بھی اُن کے ساتھ ساتھ ہی تھا۔۔۔ جسے دیکھ کر سیکیورٹی اہلکاروں نے اُنہیں نہیں روکا تھا۔۔۔ مگر دروازے تک پہنچتے ہی وہ شاہ ویز کے اشارے پر کال آجانے کا بہانہ کرتا سائیڈ پر ہوگیا تھا۔۔۔ شاہ ویز نہیں چاہتا تھا کہ اُن کے ساتھ ساتھ وہ بھی پھنس جائے۔۔۔۔
ٹرالی گھسیٹتے وہ دونوں اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔۔
جہاں شبیر چوہان اپنے بڑے بھائی کے ساتھ بیٹھا کسی بھی طرح ملک سے فرار ہونے کا پلان ترتیب دے رہا تھا۔۔۔ اُنہیں اندر آتا دیکھ وہ جلدی سے خاموش ہوئے تھے۔۔۔
“یہ سب یہیں رکھو اور جاؤ یہاں سے۔۔۔۔”
شبیر نے اُن دونوں کو سر سے پیر تک مشکوک نگاہوں سے دیکھتے وہاں سے جانے کو بولا تھا۔۔۔۔
جس پر وہ دونوں اُسی خاموشی کے ساتھ دروازے کی جانب بڑھ گئے تھے۔۔۔ مگر دروازہ کھول کر باہر جانے کے بجائے وہ اُسے اندر سے لاک کرتے واپس شبیر چوہان کی جانب پلٹے تھے۔۔۔۔
“کک کون ہو تت تم۔۔۔ تم لوگ۔۔۔۔”
شبیر چوہان تکیے کے نیچے رکھا اپنا پسٹل تلاشتے خوف کے مارے چیخ اُٹھا تھا۔۔۔۔ اُس کے ساتھ کھڑے اُس کے بھائی کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔۔۔۔
“ہم تو یہاں صرف تمہیں مارنے آئے تھے۔۔۔ مگر یہ بالکل بھی نہییں جانتے تھے کہ تمہارا یہ سیاہ کار بھائی بھی یہاں مل جائے گا۔۔۔۔ “
شاہ ویز اپنے چہرے سے ویٹر کا حلیہ تبدیل کرتا اپنے اصل روپ میں واپس آیا تھا۔۔۔
“تم۔۔۔۔ ؟؟؟”
شبیر نے کچھ بولنا چاہا تھا۔۔۔۔ جب حازم کو اپنی جانب پیش قدمی کرتے دیکھ اُس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگی تھیں۔۔۔۔
“وہیں جن کا اتنی شدت سے انتظار تھا تمہیں۔۔۔۔ “
حازم نے شبیر چوہان کی کنپٹی پر پسٹل کی نال رکھتے اُس کے سفید پڑتے چہرے کو استہزایہ نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔۔۔
“کک کیا بگاڑا ہے۔۔۔ میں نے تم لوگوں کا۔۔۔ کیوں مارنا چاہتے ہو تم لوگ مجھے۔۔۔۔۔ “
شبیر چوہان کو اِس وقت موت کا فرشتہ اپنے آس پاس منڈلاتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
“ہمارا نہیں۔۔۔۔مگر ہماری اِس پاک سرزمین کا بہت کچھ بگاڑا ہے تم نے۔۔۔۔ جس کا حساب دینے کا وقت آگیا ہے ایم این اے صاحب۔۔۔۔”
شاہ ویز بھی اپنے پسٹل سے اَن دیکھی دھول صاف کرتا اُس کے قریب آیا تھا۔۔۔۔
“چاہتے کیا ہو تم لوگ۔۔۔۔”
شبیر چوہان کو اُن کی سرد جامد نگاہوں سے خوف محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔
“اپنے گناہوں کا اعتراف کر لو۔۔۔۔ کیا پتا تمہیں مارنے کا ہمارا پلان بدل جائے۔۔۔۔۔”
حازم نے پسٹل کی نال اُس کے سینے کے مقام پر پھیرتے اُسے بچ جانے کی راہ بتائی تھی۔۔۔۔
“میں تیار ہوں۔۔۔ مگر تم لوگ پھر مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچاؤ گے۔۔۔۔”
شبیر بنا ایک سیکنڈ کے لیے بھی سوچے جواب دے گیا تھا۔۔۔۔
جس کے ساتھ ہی حازم نے کیمرہ آن کرکے اُس کے سامنے رکھ دیا تھا۔۔۔۔ شبیر چوہان جیسے جیسے اپنے کال دھندوں کا اعتراف کرتا گیا تھا۔۔۔ اُن دونوں کے چہرے کے کرخت تاثرات میں اضافہ ہوتا گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ بظاہر ملک کا معزز سیاسی لیڈر بنا اندر سے نجانے کن کن جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کررہا تھا۔۔۔ جن میں انسانوں کی اسمگلنگ جیسا گھناؤنا جرم بھی شامل تھا۔۔۔۔۔ اپنی جان بچانے کی خاطر وہ سب بتاتا چلا گیا تھا۔۔۔۔۔ جسے شاہ ویز نے اپنے موبائل میں ریکارڈ کرکے مہروسہ کو سینڈ کردیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“میں نے تمہاری بات مان لی ہے۔۔۔۔ اب تم بھی اپنا وعدہ پورا کرو۔۔۔۔”
شبیر چوہان نے اُن کے آگے ہاتھ جوڑتے اپنی زندگی کی بھیک مانگی تھی۔۔۔
“تم دونوں کے پاس ایک منٹ کا وقت ہے۔۔۔۔ مرنے سے پہلے اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر کلمہ پڑھ لو۔۔۔۔ “
شاہ ویز کی بات پر شبیر چوہان کی حالت مزید خراب ہوئی تھی۔۔۔۔ اُس نے فرار ہونا چاہا تھا جب اُن دونوں کی گن سے نکلنے والی یکے بعد دیگر آٹھ گولیاں اُس کا کام تمام کر گئی تھیں۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“بچاؤ۔۔۔۔بچاؤ…. کوئی تو بچاؤ مجھے۔۔۔۔ پلیز مدد کرو میری۔۔۔۔۔ یہ غنڈے مجھے اغوا کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔”
وہ لڑکی بکھرے بالوں اور انتہائی رف سے حلیے میں چیختی چلاتی اپنے پیچھے آتے تین افراد سے بچنے کے لیے سڑک پر آگے آگے دوڑ رہی تھی۔۔۔۔ اُس کے ایک ہاتھ میں سفید رنگ کا پرس تھا۔۔۔ جسے وہ انتہائی مضبوطی سے تھامے اتنی تیز رفتاری سے بھاگ رہی تھی۔۔۔۔ کہ اُس کے پیچھے آپاتے وہ تینوں افراد اُس کی رفتار کا مقابلہ کر پانے میں ناکام ہوتے اب ہانپ رہے تھے۔۔۔۔
اُس لڑکی کی پھرتیاں عام لڑکیوں کی جیسی نہیں تھیں۔۔۔۔ کیونکہ وہ لڑکی مہروسہ کنول تھی۔۔۔ اپنے نام کی صرف ایک ہی۔۔ سب سے مختلف اور جدا۔۔۔۔
“کیا ہوا بیٹی۔۔۔۔؟؟؟ کون ہیں یہ لوگ۔۔۔۔”
وہاں موجود لوگ جلدی سے مہروسہ کے قریب آتے اُس سے پوچھنے لگے تھے۔۔۔
“یی یہ میرے پیچھے لگے ہیں۔۔۔ مجھے اغوا کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔”
مہروسہ نے آنسو بہاتے اداکاری کے اگلے پچھلے سبھی ریکارڈ توڑ دیئے تھے۔۔۔۔ مہروسہ کے منہ سے ابھی اتنا ہی نکلنا تھا۔۔۔۔ جب وہ جذباتی پاکستانی عوام بنا پورا معاملہ سمجھے مہروسہ کے پیچھے آتے اُن تینوں سول کپڑوں میں ملبوس پولیس والوں پر ٹوٹ پڑے تھے۔۔۔۔۔
مہروسہ آنکھوں ہی آنکھوں میں مسکراتی اُن پولیس والوں کو وہاں پٹتا چھوڑ جلدی سے وہاں سے پلٹی تھی۔۔۔۔۔۔
اور لوگوں کی بھیڑ سے نکل کر وہاں سے بھاگنے کے ساتھ ساتھ بار بار پیچھے مُڑ کر بھی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ جب اچانک سامنے موجود کسی چٹان جیسی جسامت کے مالک انسان سے بُری طرح ٹکرا گئی تھی۔۔۔۔۔
مہروسہ نے گھبرا کر نظریں اُٹھائی تھیں۔۔۔۔ اور پھر جیسے پلٹنا بھول گئی ہو۔۔۔۔۔
تیکھے نقوش، احمری لب، گالوں پر بنتے گڑھے، کنپٹی کی اُبھریں رگیں۔۔۔۔ اور پولیس یونیفارم میں ملبوس اونچا لمبا ورزشی سراپا۔۔۔۔۔
مہروسہ سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا تھا کہ اِس وقت وہ کس قدر خطرے میں تھی۔۔۔۔ کہیں سے بھی آتی اندھی گولی اُس کا کام تمام کرسکتی تھی۔۔۔۔ مگر اِس وقت وہ جیسے پل بھر کے لیے سب کچھ فراموش کر گئی تھی۔۔۔۔ سٹریٹ لائٹ کی روشنی میں کھڑا وہ سحر انگیز شخصیت کا مالک شخص پورے ماحول کے ساتھ ساتھ اُس کے دل و دماغ پر بھی چھا گیا تھا۔۔۔۔
ہمیشہ اپنا کام میں حد درجہ سنجیدگی اور پوری توجہ سے کرنے والی مہروسہ اِس وقت خود بھی اپنی کیفیت سمجھ نہیں پائی تھی۔۔۔۔۔
پولیس والوں کی وردی تک سے شدید نفرت کرنے والی۔۔۔ اِس وقت اپنے سامنے کھڑے پولس والے کے آگے جیسے اپنا دل ہار گئی تھی۔۔۔۔ وہ سمجھ نہیں پارہی تھی آخر اُسے ہوکیا گیا ہے۔۔۔۔ اِس شخص کے سامنے وہ پتھر کی کیوں ہوگئی ہے۔۔۔۔ قدم آگے کیوں نہیں بڑھا پارہی ہے۔۔۔۔
“مہرو میم نکلیں وہاں سے۔۔۔۔ آپ کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔۔۔۔ اِس پولیس والے کو آپ پر شک ہوچکا ہے۔۔۔ اگر اِس نے کچھ فاصلے پر پٹتے اپنے آدمیوں کو دیکھ لیا تو یہ آپ کو نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔ اور اِس وقت ہم آپ کا بھی اریسٹ ہونا افورڈ نہیں کرسکتے۔۔۔۔”
اُس کے کان میں لگے آئیر پیس میں مسلسل جنید کے چلانے کی آوازیں آرہی تھیں۔۔۔ جو اُسے وہاں سے بھاگ جانے کو کہہ تھا۔۔۔۔ مگر مہروسہ ایسے کھڑی تھی۔۔۔ جیسے وہاں پتھر کی مورت بن چکی ہو۔۔۔۔
“کون ہو تم۔۔۔۔؟؟؟”
ایس پی حمدان کی گھمبیر بھاری آواز اُس کی سماعتوں سے ٹکراتی اُسے ہوش کی دنیا میں کھینچ لائی تھی۔۔۔ لمحہ بھر کو تو اُسے کچھ یاد ہی نہیں رہا تھا۔۔۔ مگر اگلے ہی لمحے اپنے اردگرد سے آتی خطرے کی بو سونگھتی وہ ہاتھ میں پکڑے پرس پر گرفت مزید مضبوط کیے اُس کے آگے سے ہٹی تھی۔۔۔۔
مگر اُس کے دور جانے سے پہلے ہی حمدان اُس کی کلائی دبوچ کر اُسے اپنے سامنے کر گیا تھا۔۔۔۔
اُس لڑکی کا فقیرنیوں جیسا حلیہ حمدان جیسے ٹرینڈ آفیسر کو مشکوک کرچکا تھا۔۔۔۔۔
“جانے دو صاحب مجھے۔۔۔۔۔۔ “
مہروسہ نے اُس کے ہاتھ سے کلائی چھڑوانے کی ناکام کوشش کی تھی۔۔۔۔ وہ چاہتی تو ایک سیکنڈ میں خود کو آزاد کروا لیتی۔۔۔۔۔ مگر وہ سامنے کھڑے شخص پر حملہ نہیں کر پارہی تھی۔۔۔۔
“مہرو میم پلیز۔۔۔۔ فار گاڈ سیک۔۔۔۔ نکلیں وہاں سے۔۔۔۔ آپ میری بات نہیں سن رہیں اب مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔”
جنید چلا چلا کر زچ ہوتا آخر میں دوٹوک لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔ اِس سے پہلے کے مہروسہ اُسے روک پاتی۔۔۔۔ جنید نے جھاڑیوں کے پیچھے سے نکل کر حمدان کے پیروں کے قریب سموک گرنیٹ پھینک دیا تھا۔۔۔ جس کے پھٹتے ہی چاروں اور دھواں ہی دھواں پھیل گیا تھا۔۔۔۔
حمدان کی گرفت مہروسہ کی کلائی پر ڈھیلی پڑی تھی۔۔۔۔ اُسی لمحے آنکھوں پر گلاسز چڑھائے جنید بھاگ کر آتا مہروسہ کا ہاتھ تھامتا اپنے ساتھ کھینچ کر لے گیا تھا۔۔۔۔۔
حمدان کے گلے تک گیس گھس چکی تھی۔۔۔۔ اُس نے کھانس کھانس کر بے حال ہوتے پیچھے جانا چاہا تھا۔۔۔ مگر تب تک وہ لوگ گاڑی میں بیٹھ کر نگاہوں سے اوجھل ہوچکے تھے۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“مسٹر حماد آپ یہاں کیا کررہے ہیں۔۔۔؟؟؟ آپ کو تو فل ٹائم شبیر سر کے ساتھ رہنے کو بولا گیا تھا نا۔۔۔۔”
حبہ جو دو گھنٹے کے اندر کو بیس بار شبیر کی سیکیورٹی چیک کر چکی تھی۔۔۔۔ حماد کو سیڑھیوں کے قریب کھڑے فون سنتے دیکھ اُس کی آنکھیں باہر کو اُبل پڑی تھیں۔۔۔۔
“وہ شبیر سر نے مجھے روم سے باہر رہنے کو کہا تھا۔۔۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ کوئی اہم بات ڈسکس کررہے تھے۔۔۔ میں کافی ٹائم سے وہاں ہی تھا۔۔۔ ابھی فون سننے یہاں آیا ہوں۔۔۔۔ “
حماد نے اپنے تاثرات بالکل نارمل رکھتے یہاں موجود تمام آفیسرز میں سے حد درجہ ایماندار آفیسر حبہ امتشال کو جواب دیتے کہا تھا۔۔۔
“اور وہ جو ویٹر کھانا دینے گئے تھے وہ۔۔۔ واپس آگئے۔۔۔۔”
مُڑتے مُڑتے حبہ کو دوبارہ خیال آیا تھا۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔۔ میں ابھی وہیں دیکھنے۔۔۔۔۔”
حماد کے باقی الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے۔۔۔۔ جب اندرونی حصے سے لگاتار ہوتی فائرنگ نے اُن سب کے پیروں تلے سے زمین کھسکا گئی تھی۔۔۔۔
سب سے زیادہ قریب حبہ ہی تھی۔۔۔۔ وہی سب سے پہلے بھاگ کر تیز رفتاری سے اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔
مگر سامنے کا منظر دیکھ کمرے کے در و دیوار اُس کی نگاہوں کے سامنے گھوم گئے تھے۔۔۔۔ آج اپنے کیرئیر میں پہلی بار وہ اپنے کسی فرض میں ناکام ٹھہری تھی۔۔۔
شبیر چوہان اور اُس کے بھائی کی خون میں لت پت پڑی لاشیں دیکھ حبہ نے مُڑ کر نفرت آمیز نگاہوں سے وہاں اپنے حلیے تبدل کیے کھڑے حازم اور شاہ ویز کو دیکھا تھا۔۔۔
اور اُسی لمحے غصے کی شدید لہر کے زیرِ اثر اُس نے بنا سوچے سمجھے اپنے پسٹل کو اَن لاک کرتے شاہ ویز سے آگے کھڑے حازم پر فائر کرنا چاہا تھا۔۔۔۔
جب بروقت ایس پی عمار نے اندر آتے اُس کے پسٹل کا رُخ دوسری جانب موڑ دیا تھا۔۔۔۔
“ہوش میں رہیں ایس پی حبہ۔۔۔۔ آپ اِن لوگوں کو مار کر کتنی بڑی مصیبت میں پھنس سکتی ہیں۔۔۔۔ اپنی جاب سے ہاتھ دھو سکتی ہیں۔۔۔ اِنہیں مارنے نہیں صرف گرفتار کرنے کی اجازت دی گئی ہے ہمیں۔۔۔۔”
عمار نے اُسے بہت مشکل سے قابو کرتے سمجھایا تھا۔۔۔ جبکہ اپنے چہرے پر دوسرے چہرے والا ماسک چڑھائے کھڑے حازم نے نہایت دلچسپی سے اُس لیڈی آفیسر کو دیکھا تھا۔۔۔ جو باقی کچھ سیکیورٹی اہلکار کی طرح اندر متوقع خطرے کو دیکھ کمرے میں آنے سے گھبرائی نہیں تھی۔۔۔۔ اور اب بھوکی شیرنی کی طرح اُن پر حملہ آور ہونے کو تیار تھی۔۔۔۔
اگر وہ دونوں چاہتے تو یہاں سے آرام سے نکل سکتے تھے۔۔۔ مگر وہ یہاں کھڑے کسی ایک بھی پولیس آفیسر اور اپنے ملک کے محافظوں کو زرا سی خراش نہیں پہنچانا چاہتے تھے۔۔۔ اِس لیے اپنے ہتھیار وہیں پھینک دیئے تھے۔۔۔۔
“میں چھوڑوں گی نہیں تم غداروں کو۔۔۔ جو اِسی پاک سرزمین پر پل بڑھ کر اب اِسی کو بیچنے پر تلے ہوئے ہو۔۔۔۔۔۔۔”
حبہ کا بس نہیں چل رہا تھا اُن دونوں کی گردنیں اُڑا دے۔۔۔۔ وہ حازم کے قریب آتی اُس کے کندھے پر اپنے پسٹل کی پشت سے ایک زور دار وار کر گئی تھی۔۔۔۔ جو دو لوگوں کی جان لے کر مسلسل مسکراتا اُسے زہر سے بھی بُرا لگ رہا تھا۔۔۔۔
“خوشی ہوئی آپ کے ارادے جان کر۔۔۔ ویسے اب ہم بھی کچھ ایسے ہی نیک خیالات رکھتے ہیں۔۔۔۔”
حازم بنا اُس کی حرکت پر کوئی جوابی کارروائی کیے دھیرے سے اُس کے قریب جھک کر اُس کے وجود سے اُٹھتی مہک اپنی سانسوں میں اُتار گیا تھا۔۔۔۔
حبہ جھٹکا کھا کر پیچھے ہٹی تھی۔۔۔
شاہ ویز نے بے تاثر نگاہوں سے حازم کو گھورتے نظریں پھیر لی تھیں۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
