Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 46

“جی بولیں کس سے بات کرنی ہے آپ کو۔۔۔؟؟”
اُس لڑکی کی عجیب سی مدہوش آواز مہروسہ کے تن بدن میں آگ بھڑکا گئی تھی۔۔۔۔
“تم کون ہو۔۔۔ یہ میرے شوہر کا نمبر ہے۔۔۔ اُنہیں سے بات کرنے کے لیے ہی کال کی ہوگی نا۔۔۔ “
مہروسہ اتنے غصے میں آچکی تھی کہ اُس سے بولنا محال ہوا تھا۔۔۔۔
“وہ اِس وقت تم سے بات نہیں کرسکتا۔۔۔ کیونکہ وہ اِس وقت میرے ساتھ بزی ہے۔۔۔”
وہ لڑکی عجیب سے دلربانہ انداز میں بولتی فون رکھ گئی تھی۔۔۔ جبکہ مہروسہ بنا فون کان سے ہٹائے کتنے ہی لمحے ایسے ہی بیٹھی رہی تھی۔۔۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوچکے تھے۔۔۔
غصے اور اشتعال کے مارے اُس کا بُرا حال تھا۔۔۔ حمدان صدیقی ایسا کیسے کرسکتا تھا۔۔۔
مہروسہ نے دوبارہ کال کی تھی۔۔۔ پہلے کسی نے اٹینڈ نہیں کیا تھا۔۔۔ اور بعد میں نمبر بزی کردیا تھا۔۔۔ مہروسہ کا خون بُری طرح کھول اُٹھا تھا۔۔۔
“شاید تم بھول چکے ہو ایس پی حمدان صدیقی کہ تمہاری بیوی کتنی بڑی گینگسٹر ہے۔۔۔ ابھی مزا چکھاتی ہوں میں تمہیں۔۔۔”
اُس نے جلدی سے اپنے ایک آدمی کا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔۔
“ہیلو کاشف۔۔۔ میں ایک نمبر سینڈ کررہی ہوں۔۔۔ مجھے اگلے پانچ منٹ کے اندر اِس کی لوکیشن چاہیے۔۔۔”
مہروسہ آرڈر دیتی فون بند کرچکی تھی۔۔۔ اُس کے اندر آگ لگی ہوئی تھی۔۔۔ اُسی کسی طور چین نہیں آرہا تھا۔۔۔ حمدان کا کسی اور لڑکی کے ساتھ ہونے کا خیال ہی اُسے کوئلوں پر لیٹا گیا تھا۔۔۔۔
ٹھیک پانچ منٹ بعد اُس کے نمبر پر لوکیشن سینڈ کردی گئی تھی۔۔۔
یہ کسی ہوٹل کی لوکیشن تھی۔۔۔
“کاشف اپنی ٹیم کو لے کر اِس ہوٹل میں پہنچو۔۔ اور ٹریس کرو یہ موبائل کس روم میں ہے۔۔۔۔ اُس روم میں چھاپا مار دوں۔۔۔ لیڈیز میں سے کسی کو ساتھ لے کر جانا۔۔۔ اور مجھے وہاں جاکر ساری صورتحال سے آگاہ کرو۔۔۔”
مہروسہ کے اِس نئے آرڈر پر اُس کی ٹیم پوری طرح تیار ہوتی چند ہی منٹوں میں اُس کے دیئے مشن کے لیے نکل گئی تھی۔۔۔
“مجھے وہاں کی ساری فوٹیج چاہیئں۔۔۔”
مہروسہ یہ کہہ کر کال کاٹتی پلٹی تھی۔۔۔۔ جب اپنے عین پیچھے کھڑے حمدان کو دیکھ اُس کا دل دھک سے رہ گیا تھا۔۔۔
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے حمدان کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔ مگر جیسے ہی اُسے وہ فون کال یاد آئی۔۔۔ وہ ہر لحاظ بھلاتی۔۔۔حمدان کا گریبان مُٹھیوں میں جکڑتی اُس کے قریب ہوئی تھی۔۔۔
“کون تھی وہ لڑکی۔۔۔۔؟؟ کیا تعلق ہے آپ کا اُس کے ساتھ۔۔۔ کب سے آپ دونوں کا افیئر چل رہا ہے۔۔۔ “
مہروسہ اُس کا گریبان مُٹھیوں میں جکڑے ایک ہی سانس میں سوالوں کی برسات کر گئی تھی۔۔۔
یہ دیکھے بنا کے وہ فل یونیفارم میں ملبوس کتنا تھکا تھکا سا لگ رہا تھا۔۔۔۔
“ایکسکیوزمی مسز۔۔۔ کیا آپ کو اندازہ بھی ہے کہ آپ کیا بول رہی ہیں۔۔۔۔؟؟؟ کونسی لڑکی۔۔۔۔ میرے ساتھ تو آج بہت ساری لڑکیاں تھیں۔۔۔ “
حمدان اُس کا غصے سے لال چہرا اور تنی بھنویں دیکھ اُسے اپنے قریب کرتے سوالیہ لہجے میں بولتا اُسے مزید جلا کر راکھ کر گیا تھا۔۔۔۔
حمدان کو اس لڑکی کی اپنے لیے یہ تڑپ بہت مزا دیتی تھی۔۔۔ اِس وقت بھی وہ شدید تھکن کے باوجود اُسے چھیڑنے سے باز نہیں آیا تھا۔۔۔
ملک کے سب سے بڑے گینگ کی لیڈر پولیس فورس کے سب سے ایماندار پولیس آفیسر کی دیوانی تھی۔۔۔
“کیا مطلب۔۔۔۔؟؟ آپ کن لڑکیوں کے ساتھ تھے۔۔۔؟؟”
مہروسہ کی آنکھوں سے آنسو پھسل آئے تھے۔۔۔۔ حمدان کے سینے پر ہتھیلیوں کا دباؤ ڈالتے اُس نے دور ہونا چاہا تھا۔۔۔
اُس کی آنکھوں سے نکلتے آنسو نجانے کیوں حمدان صدیقی کا دل بوجھل کر گئے تھے۔۔۔
وہ خود اِس لڑکی کو رُلانہ چاہتا تھا۔۔۔ اِس سمیت اِس کے پورے گینگ کا نام صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا تھا۔۔۔
اُن کو بہت دردناک سزا دینا چاہتا تھا۔۔۔ مگر نجانے کیوں اِس وقت اُسے مہروسہ کی آنکھوں میں چمکتے آنسو بے چین سا کرگئے تھے۔۔۔
وہ شدید ناراضگی کا اظہار کرتی اُس سے دور ہوئی تھی۔۔۔ جب حمدان اُسے واپس اپنے قریب کرگیا تھا۔۔۔
“کیا پرابلم ہے۔۔۔۔؟؟ میں کیس کے سلسلے میں پورا دن مصروف رہا ہوں۔۔۔ کالجز میں ڈرگز پھیلانے والے لڑکیوں کے ایک بہت بڑے گینگ کو گرفتار کیا ہے۔۔۔۔ مگر تم ایسے کیوں پوچھ رہی ہو؟؟؟ کیا کچھ ہوا ہے؟؟؟”
حمدان کو اُس کا شکی بیویوں والا انداز اچھا لگ رہا تھا۔۔۔
“آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔؟؟ آپ بہت ساری نہیں صرف ایک لڑکی کے ساتھ تھے۔۔۔ ابھی اُسی کے پاس سے آرہے ہیں۔۔۔۔ میں نے کال کی تھی آپ کے موبائل پر۔۔۔ میرے پاس ریکارڈنگ بھی موجود ہے۔۔۔۔ اُسی لڑکی نے کال اٹینڈ کی تھی۔۔۔ جس کے ساتھ آپ۔۔۔ آپ دونوں کے بیچ۔۔۔ “
مہروسہ غصے سے بات کرتی آخر میں شرمندگی اور خفت سے کچھ بول بھی نہیں پائی تھی۔۔۔۔
جبکہ حمدان اُس کے لال پڑتے گالوں کو دیکھ کر اپنی مسکراہٹ نہیں روک پایا تھا۔۔۔
“کیا کررہا تھا میں اُس کے ساتھ۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان نے اُس کا چہرا ٹھوڑی سے تھام کر اُوپر اُٹھایا تھا۔۔۔ وہ اُسے یہ مہروسہ وہ پہلی ملاقات والی مہروسہ نہیں لگی تھی۔۔۔ جو صرف اُسے بھٹکانے اور اپنی شناخت چھپانے کے لیے نہایت ہی عامیانہ لہجے میں بولی تھی۔۔۔ وہ بہت اچھے سے سمجھ چکا تھا کہ بلیک سٹارز گینگ بہت ہی منظم طریقے سے پراپر پلاننگ کے ساتھ کام کرتا تھا۔۔۔۔ جن کو پکڑ پانا واقعی آسان نہیں تھا۔۔۔
“آپ خود ہی سن لیں۔۔۔۔”
مہروسہ نے ریکارڈنگز میں سے حمدان کے نمبر پر کی کال اُسے سنائی تھی۔۔۔ جسے سنتے ہی حمدان اپنا قہقہ نہیں روک پایا تھا۔۔۔
جبکہ مہروسہ نے اُس کی جانب غصے سے دیکھا تھا۔۔ مگر اُسے دل سے مسکراتے دیکھ وہ مبہوت ہوئی تھی۔۔۔ وہ اُس کے غصے کی دیوانی تو تھی ہی۔۔۔ مگر اب اُس کی مسکراہٹ پر بھی اپنا دل ہار بیٹھی تھی۔۔۔
وہ یک ٹک دیوانہ وار نگاہوں سے اُسے تکے گئی تھی۔۔۔ آج پہلی بار اُسے حمدان کے انداز میں بناوٹ کا احساس محسوس نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
“آج صبح ہی مختلف کالجز میں بھاگ دوڑ کے دوران میرا موبائل کہیں کر گیا تھا۔۔۔ مگر یہ معاملہ اتنا سیریس اور اہم تھا کہ میں اپنا موبائل ڈھونڈنے پر ٹائم ویسٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ شاید کسی اور کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔۔۔ اور آپ جس کی بات کر رہی ہیں۔۔ وہ کسی اور کا شوہر ہوگا آپ کا نہیں۔۔۔۔”
حمدان اُسے ساری تفصیل بتاتا آخر میں طنزیا لہجے میں بولتا وہاں سے جانے لگا تھا۔۔۔ جب مہروسہ ایک دم اُس کے سامنے آن کھڑی ہوتی اُس کے سنجیدہ چہرے کی جانب دیکھے گئی تھی۔۔۔۔
حمدان کے جواب پر شدید شرمندگی کے ساتھ ساتھ اُس کا دل خوش ہوتا واپس سے کھل اُٹھا تھا۔۔۔ وہ بھلا سوچ بھی کیسے سکتی تھی کہ اُس کی محبت۔۔۔ اُس کا ایس پی بدکردار ہوسکتا تھا۔۔۔ مہروسہ کو خود پر شدید غصہ آیا تھا۔۔۔ اور حمدان پر بہت زیادہ پیار بھی۔۔۔
جو خود پر شک کیے جانے اور ایسی تہمت کے باوجود بنا غصہ کیے آرام سے وضاحت دے گیا تھا۔۔۔ اس شخص کی یہی خوبیاں تو اُسے مزید دیوانہ کر جاتی تھیں اُس کا۔۔۔۔
“آئم سوری۔۔۔۔ میں نے جان بوجھ کر۔۔۔۔”
مہروسہ ندامت بھرے لہجے میں ہونٹ کاٹتی بولتی حمدان کو ایک بار پھر اپنی جانب متوجہ کر گئی تھی۔۔۔
“اٹس اوکے۔۔ مجھے بُرا نہیں لگا۔۔۔ بہت اچھا لگا ہے۔۔۔ میں بھی اپنی ملکیت کے معاملے میں ایسے ہی پوزیسو ہوں۔۔۔ مگر میری ایک بات یاد رکھنا۔۔۔ حمدان صدیقی نہ کبھی کسی کو دھوکا دیتا ہے۔۔۔ اور نہ خود کو دھوکا دینے والے کو بخشتا ہے۔۔۔ جس سے محبت کروں گا میری وفا بھی اُسی کے ساتھ ہوگی۔۔۔۔”
حمدان اُس کی ہونٹوں کو دانتوں کے ستم سے آزاد کرواتا اُس کے دلکش چہرے کو گہری نگاہوں کے حصار میں لیتا بہت کچھ باور کروا گیا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کے انداز اور الفاظ پر مہروسہ اندر تک کانپ گئی تھی۔۔۔۔
“میرے سر میں بہت درد ہے ایک سٹرانگ سی کافی بنا کر لاؤ روم میں۔۔۔ “
حمدان اُسے آرڈر دیتا روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کا تھکن زدہ انداز دیکھ مہروسہ کو خود پر مزید تپ چڑھی تھی۔۔۔۔ جس نے فضول بات کے لیے اُسے ایسے ہی روکے رکھا تھا۔۔۔
کچن کی جانب بڑھتے اُس کا موبائل وائبریٹ ہوا تھا۔۔۔
“میم ہم نے موبائل ٹریس کرلیا ہے۔۔ ہوٹل کے روم میں ایک آدمی کسی لڑکی کے ساتھ پکڑا گیا ہے۔۔۔ اب بتائیں اِن کے ساتھ کیا کرنا ہے۔۔۔۔”
کاشف کی بات سن کر مہروسہ نے سر پر ہاتھ مارا تھا۔۔۔
“موبائل لے کر چھوڑ دو اُنہیں۔۔۔۔ “
مہروسہ کے نارمل سے انداز پر کاشف حیران ہوتا فون بند کر گیا تھا۔۔ کیونکہ مہروسہ نے پہلے جتنے غصے بھرے انداز میں بات کی تھی۔۔۔ اب اتنا ہی نارمل لہجہ تھا اُس کا۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

حازم بلیک ہاؤس کے گارڈن میں بے چینی سے ٹہلتا عجیب سے احساسات کا شکار تھا۔۔۔ اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اُس نے حبہ کو وہ سب کہہ کر ٹھیک کیا تھا یا نہیں۔۔۔۔
“کیا ہوا۔۔۔۔ تم ٹھیک ہو۔۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز کی آواز پر وہ پلٹا تھا۔۔۔
“ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔۔ مجھے کیا ہونا ہے۔۔۔۔؟؟”
سیگریٹ سلگھاتے حازم نے نارمل انداز میں جواب دیا تھا۔۔۔۔
“جب جانتے ہو کہ جھوٹ بولنے میں کامیاب نہیِں ہوسکتے تو کیوں بولتے ہو۔۔۔ جب اُس لڑکی سے اتنی محبت کرتے ہو۔۔۔ تو کیوں نہیں سب سچ بتا دیتے اُسے۔۔۔”
شاہ ویز کرسی پر براجمان ہوتا اُسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کر گیا تھا۔۔
“وہ نہیں سمجھ پائے گی۔۔۔ وہ پھر بھی نفرت ہی کرے گی مجھ سے۔۔۔۔ میں ہر تکلیف برداشت کرسکتا ہوں۔۔ مگر اُسے کی آنکھوں میں نفرت برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔ اُسے خود سے دور جاتا نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ مگر میں جانتا ہوں ایسا ایک دن ہونا ہی ہے۔۔۔ “
حازم کی آنکھیں شدت ضبط سے لال ہوچکی تھیں۔۔۔۔
“تو تم نے جو انکشاف کیا ہے اُس کے سامنے۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے اُس کے بعد نفرت نہیں کرے گی تم سے۔۔۔۔ دور نہیں جائے گی تم سے۔۔۔۔”
شاہ ویز حازم کی تکلیف نہیں دیکھ پارہا تھا۔۔۔
“نہیں کیونکہ وہ جانتی ہے۔۔۔ میں کتنا بڑا درندہ کیوں نہ بن جاؤں مگر اُس کے بابا کو کبھی قتل نہیں کرسکتا۔۔۔ وہ اِس بات پر یقین کبھی نہیں کرے گی۔۔۔ بہت محبت کرتی ہے مجھ سے۔۔۔۔ میں کیا بتاؤں اُسے کہ میں واقعی کتنا بڑا درندہ بن چکا ہوں۔۔۔ اُس کے بابا کو مارنے والا سچ میں میں ہی ہوں۔۔۔۔”
اپنے عمل کا اقرار کرتے حازم کی آنکھوں سے خون ٹپکنے لگا تھا۔۔۔ جبکہ کنپٹی کی رگیں خوفناک حد تک تن گئی تھیں۔۔۔
شاہ ویز خاموشی نگاہوں سے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ سب لوگوں کے سامنے وہ تینوں انتہائی ظالم اور جابر درندہ صفت بلیک سٹارز تھے۔۔۔ مگر اُن میں سے کوئی بھی اُن کے دلوں میں پلتے زخموں اور اذیتوں کا اندازہ نہیں لگا سکتے تھے۔۔۔۔
اِس سے پہلے کہ شاہ ویز اُس سے کوئی بات کرتا حازم کا فون بجا تھا۔۔۔۔
نجمہ بیگم کا نمبر دیکھ حازم نے فوراً کال پک کی تھی۔۔۔
“واٹ۔۔۔ حبہ ملک چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔ یہ کیا کہہ رہیں ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟”
نجمہ بیگم کی بات سن کر حازم جھٹکے سے اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔۔۔ آج شاہ ویز کے نکاح میں وہ اِس قدر مصروف رہا تھا کہ وہ حبہ کے حوالے سے کچھ پتا بھی نہیں لگوا پایا تھا۔۔۔۔۔
“حبہ بھلا ایسے کیسے کرسکتی ہے۔۔۔؟؟”
حازم اضطرابی کیفیت میں پیشانی رگڑتا کرسی سے اُٹھا تھا۔۔۔
“کونسی فلائٹ میں گئی ہے حبہ۔۔۔۔”
شاہ ویز نے موبائل نکالتے اُس سے پوچھا تھا۔۔۔۔ انعم بھی اُسی وقت اُن دونوں کے لیے کافی لیے وہاں آئی تھی۔۔۔
“نو بجے کی پاکستان سے دبئی جانے والی فلائٹ میں۔۔۔ آگے سے نجانے کہاں جائے گی۔۔۔۔؟؟”
حازم اُسے بتاتے ہونٹ سختی سے میچ گیا تھا۔۔۔
جب اُس کی بات دن کر انعم کے ہاتھ سے ٹرے چھوٹ کر گری تھی۔۔۔
اُن دونوں نے مُڑ کر انعم کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“کیا انعم۔۔۔؟؟”
اُس کی حالت دیکھ وہ دونوں فکرمندی سے اُس کے قریب آئے تھے۔۔۔۔
“ابھی میں نیوز سن کر آرہی ہوں۔۔۔ اِس فلائٹ کا پلین کریش ہوگیا ہے۔۔۔۔ اِس پلین میں موجود تمام افراد کی موقع پر ہی ڈیتھ ہوگئی ہے۔۔۔ کوئی ایک بھی نہیں بچا۔۔۔۔”
انعم کے اِس انکشاف پر حازم کو اپنے وجود سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
“یہ کیا بکواس کررہی ہو تم۔۔۔۔؟؟؟”
حازم اُسے خون آلود نگاہوں سے دیکھتا اندر کی جانب بھاگا تھا۔۔۔ مگر اندر ایل سی ڈی سکرین پر چلتی نیوز دیکھ حازم وہیں بیٹھتا چلا گیا تھا۔۔۔۔
سکرین پر چلتی سیاہ پٹی پر جہاز میں سوار لوگوں کے نام آرہے تھے۔۔۔ جن میں لکھا حبہ امتشال کا نام حازم سالار کی دنیا اندھیر کر گیا تھا۔۔۔۔
“نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔ وہ اِس طرح مجھ سے ناراض ہوکر مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتی۔۔۔ نہیں ہوسکتا ایسا۔۔۔ جھوٹ ہے یہ۔۔۔۔۔”
حازم اپنے ہاتھ کی مضبوط مُٹھی بنا کر فرش پر پوری قوت سے مارتا اُسے لہولہان کر گیا تھا۔۔۔
شاہ ویز آگے بڑھا تھا۔۔۔۔
“حازم ہوش میں آؤ۔۔۔۔ ایس پی حبہ امتشال پر زندگی ختم نہیں ہوتی تمہاری۔۔۔ تمہاری زندگی کا مقصد کوئی اور ہے۔۔۔ جسے اِس وقت بھول رہے ہو تم۔۔۔۔”
شاہ ویز کے ادا کیے سنگدلانہ الفاظ پر حازم نے زخمی نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
زندگی میں پہلی بار اُسے شاہ ویز اور اُس کی سنگدلی پر غصہ آیا تھا۔۔۔ جو اُس کا درد سمجھنے سے قاصر اُسے مزید اشتعال دلا گیا تھا۔۔۔
حازم اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔۔۔۔
وہاں موجود ہر فرد نے آج پہلی بار اپنے سب سے مضبوط اعصاب کے مالک گینگ لیڈر کو روتے دیکھا تھا۔۔۔۔
“شاہ ویز سکندر بیوی ہے وہ میری۔۔۔ میری محبت میرا عشق ہے۔۔۔۔ تم آج میرے درد کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔۔۔ میری تکلیف اور تڑپ کا اندازہ تمہیں اُس وقت ہوگا۔۔۔ جب پریسا آفندی کو کھوئے گے تم۔۔۔ ارے نہیں۔۔۔ بلکہ تمہیں تو یہ تڑپ تب بھی محسوس نہیں ہوگی۔۔۔۔ تم کونسا محبت کرتے ہو اُس سے۔۔۔۔”
حازم اپنے اندر کا اُبال شاہ ویز پر نکالتا غصے سے بپھرا تھا۔۔۔۔ اُن کے لوگ بے یقینی کے ساتھ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُن دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
جو آج پہلی بار یوں آمنے سامنے آئے تھے۔۔۔ جس کا ریزن عورت تھی۔۔۔۔
اُن میں سے کسی میں ہمت نہیں تھی اُن دونوں بپھرے شیروں کے درمیان آنے کی۔۔۔ سب کو شدت سے اپنی تیسری گینگ لیڈر کی یاد آئی تھی۔۔۔۔
“تم اِس وقت اپنے حواسوں میں نہیں ہو۔۔۔۔ “
شاہ ویز نے اُس کی غیر ہوتی حالت دیکھ سرد لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔
جبکہ حازم اِس وقت اتنے غصے میں تھا کہ وہ راستے میں آئی ہر شے ٹھوکروں سے اُڑاتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
“حامد اور قاسم۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کی دھاٰڑ پر وہ دونوں فوراً حاظر ہوئے تھے۔۔۔۔
“گارڈز کی دو ٹیمز لے کر حازم کے ساتھ ساتھ رہو۔۔۔ اُسے زرا سی خراش بھی نہیں آنی چاہیے۔۔۔۔ “
شاہ ویز کے حکم پر وہ سب لوگ نکل گئے تھے۔۔۔۔
جبکہ شاہ ویز کا چہرا ضبط کی کوشش میں لال ہوچکا تھا۔۔۔ اُس کا عزیز از جان دوست اِس قدر اذیت میں تھا۔۔۔۔۔۔ مگر فلحال پورا اختیار ہوتے ہوئے بھی وہ چاہنے کے باوجود کچھ نہیں کر پارہا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

پریسا نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں اُس نے خود کو شاہ ویز کے کمرے میں پایا تھا۔۔۔ وہ شاہ ویز کے بیڈ پر لیٹی تھی۔۔۔ جبکہ ہمیشہ کی طرح روم میں مدھم سی روشنی کے ساتھ ہر جانب اندھیرا چھایا ہوا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز کہیں نہیں تھا۔۔۔۔
پریسا خود پر سے کمبل ہٹاتی بیڈ سے نیچے اُتری تھی۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔