No Download Link
Rate this Novel
Episode 49
حمدان اپنے فادر سے سخت ناراضگی کے باعث قطع تعلق کرچکا تھا۔۔۔ مگر کہیں نہ کہیں اِس قطع تعلق کا بڑا ریزن یہی تھا کہ وہ اپنے ماں باپ سے نگاہیں ملانے کے قابل نہیں سمجھتا تھا خود کو۔۔۔۔۔
اُس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے بڑے بھائی کو قتل کیا تھا۔۔۔ جو بے شک غلط نہیں تھا۔۔۔ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو اُس کا بھائی مزید تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا۔۔۔ اور ایسے ہی انتشار پھیلا کر مظلوموں پر ظلم کرتا رہتا۔۔۔
حمدان نے رضوان کے روم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کروا دیا تھا۔۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا رضوان کا نام اخباروں میں اُچھلے اور اُس کے بُرے فعل سامنے آئیں۔۔۔
وہ مرنے کے بعد اب اپنے بھائی کو رسوا نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔۔۔ اِس لیے یہاں پر خود غرضی کا مظاہرہ کرتے اُس نے رضوان کے پاس موجود اُس سیاسی پارٹی کے خلاف تمام ثبوت اپنے پاس محفوظ کر لیے تھے۔۔۔
اور اب کبھی اُنہیں سامنے نہیں لانا چاہتا تھا۔۔۔۔ وہ اچھے سے یہ بھی جانتا تھا کہ یہ چند ثبوت اُس پارٹی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔۔۔
شاہ ویز ، حازم اور مہروسہ کے گینگ کا اب سب سے بڑا مشن اُسی سیاسی پارٹی کو بے نقاب کرکے اُس کا نام تک ملک سے ختم کرنا تھا جو بظاہر تو دنیا والوں کے لیے سب سے معزز پارٹی تھی۔۔۔ لیکن اُن کی حقیقت بہت ہی بُری تھی۔۔۔۔
جن کا لیڈر تھا ملک اقبال کیانی۔۔۔۔ وہ بہت سالوں سے چیئرمین کی کرسی پر بیٹھا عوام کی واہ واہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پیٹھ پیچھے اُنہی کی رسیاں کاٹ رہا تھا۔۔
اُس کی پارٹی کا ہر بندہ کرپٹ تھا۔۔۔ جن میں سے بہت سارے لیڈروں کو تو بلیک سٹارز موت کے گھاٹ اُتار چکے تھے۔۔۔
اور اُن سب کے ثبوت بھی اپنے پاس ریکارڈ کر رکھے تھے۔۔۔ لیکن جب تک اقبال کیانی کے خلاف اُنہیں ثبوت نہ ملتا وہ تب تک لوگوں کے دلوں میں اُس کے لیے نفرت نہیں بھر سکتے تھے۔۔۔ اُسے ختم کرنا اُن کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا مگر وہ اُنہیں بے نقاب کرکے مارنا چاہتے تھے۔۔۔
جن کے خلاف کافی جد تک ثبوت حمدان کے پاس موجود تھے۔۔۔۔ وہ خود حیران تھے کہ اتنا ایماندار، قابل اور نڈر ایس پی اتنے اہم ثبوت چھپا کر کیوں بیٹھا تھا۔۔۔
لیکن جب اُن کے سامنے حقیقت کھلی تو تب وہ حمدان صدیقی کی ایمانداری سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ پائے تھے۔۔۔۔
جس نے اپنی ڈیوٹی اور اپنے ملک کے ساتھ ایمانداری اور مخلص پن کا ثبوت دیتے اپنے بھائی تک کو نہیں چھوڑا تھا۔۔۔
مہروسہ کا صدیقی ولا میں جانے کا مقصد ہی یہی تھا۔۔۔ اُسے وہ ثبوت حاصل کرنے تھے مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ پوری طرح حمدان صدیقی کی محبت میں گرفتار ہوجائے گی۔۔۔۔
اور اُس شخص کو بے پناہ چاہے گی جو اس سے شدید نفرت کرتا تھا۔۔۔۔
حازم حبہ کے سامنے کبھی نہیں آنا چاہتا تھا۔۔۔ مگر اُس دن اُسے سامنے دیکھ وہ خود سے کیا وعدہ بھول گیا تھا۔۔۔ حبہ کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھ وہ برداشت نہیں کر پایا تھا۔۔۔ وہ چاہتا تھا حبہ اُس سے محبت کرے۔۔۔
وہ اتنی جلدی اپنی سچائی حبہ کے سامنے نہیں لانا چاہتا تھا۔۔۔ مگر اُس دن اپنی ایس پی کے پلان کے آگے ہار مانتے اُسے سامنے آنا پڑا تھا۔۔۔۔
لیکن حبہ اُس سے جو چاہتی تھی۔۔۔ حازم ویسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔ اُس کے لیے اپنی زندگی سے پہلے بلیک سٹارز تھے۔۔۔ اور اُن کا مشن تھا۔۔ اپنے ملک کو اِن نام نہاد سیاسیوں اور معزز لوگوں کے قہر سے بچانے کا۔۔۔۔ اِس لیے اُس نے حبہ کو خود سے بدظن کرنے کے لیے اُس سچ کو اِس طرح پیش کیا تھا کہ وہ اُس سے نفرت کرنے لگے۔۔۔۔
اُس نے صرف خود کو اُس کے بابا کا قاتل بنا کر پیش کیا تھا۔۔۔ اُس کے بابا کی حقیقت اشکار کرکے اُس کا دل نہیں توڑا تھا۔۔۔۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ ایسا کرنے سے اُس کی حبہ ناراض ہوکر اُس سے اتنی دور چلی جائے گی۔۔۔
جو کام فورسز اور باقی ایجنسی اپنے ہاتھ بندھے ہونے کی وجہ سے نہیں کر پارہے تھے۔۔۔ وہ کام اب تک بلیک سٹارز کرتے آئے تھے اور اب آگے بھی کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔۔۔
اُنہیں پرواہ نہیں تھی کہ دنیا اُنہیں بُرا کہے یا اچھا۔۔۔ اُنہیں صرف اپنی عوام اور اپنے لوگوں کی پرواہ تھی۔۔۔ جو اب اداروں سے زیادہ مشکل وقت میں اُنہیں یاد کرتے تھے۔۔۔
اور ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ بلیک سٹارز کبھی کسی کی پکار پر وہاں نہ پہنچے ہوں۔۔۔۔ ہمیشہ ہر جگہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر وہ پہنچے تھے۔۔۔
وہ کہنے کو بلیک سٹارز تھے جنہوں نے اپنی زندگیوں میں سیاہیاں بھر کر باقی لوگوں کی زندگیاں روشن کر رکھی تھی۔۔۔
بلیک سٹارز کی دہشت سے لوگ کانپتے ضرور تھے۔۔۔ مگر صرف وہ لوگ جنہوں نے کچھ غلط کیا ہوتا تھا۔۔۔ وہ بلیک سٹارز تھے جو اب کسی اور کے انصاف کرنے کا انتظار نہیں کرتے تھے۔۔۔
بلکہ خود ہی انصاف کرتے تھے۔۔۔ اور اُن کا کیا گیا انصاف سہنا آسان کبھی نہیں رہا تھا۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
حمدان کی آنکھ کھلی تو اُس کی نظریں سیدھی مہروسہ کی جانب گئی تھیں۔۔۔ جو اُسی طرح اُس کا سر اپنی گود میں رکھے ہوئے تھی۔۔۔۔ اُس کا اپنا سر بیڈ کراؤن سے ٹکا ہوا تھا۔۔۔۔
شاید ابھی کچھ دیر پہلے ہی اُس کی آنکھ لگی تھی۔۔ اُس کے چہرے پر تھکن ، بے آرامی اور تکلیف کے آثار دیکھ حمدان کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔ آج ایک بار پھر اُس کا دل اِس لڑکی کی محبت پر ایمان لے آیا تھا۔۔۔ جو اُس کے سکون کے خیال سے خود اتنی اذیت برداشت کر گئی تھی۔۔ حمدان اُٹھ کر نجانے کتنی ہی دیر اُس کے صبیحہ دلکش چہرے کی جانب دیکھے گیا تھا۔۔۔
ہر وقت اُسے اپنے سحر میں جکڑتی اِس لڑکی کی قاتل نگاہیں اِس وقت بند تھیں۔۔۔ شیفون کا دوپٹہ اُس کی گردن کے گرد لپٹا ہوا تھا۔۔۔ حمدان نے ہاتھ بڑھا کر نہایت ہی احتیاط سے اُس کی گردن سے سختی سے کھنچا دوپٹہ ہٹانا چاہا تھا۔۔۔۔
جو شاید وہ حمدان کے نیچے آجانے کی وجہ سے کھینچ نہیں پائی تھی۔۔۔۔ اور اپنی گردن میں نجانے کتنی دیر سے یہ تکلیف برداشت کرتی رہی تھی۔۔۔۔
حمدان کے دوپٹہ نکالتے ہی اُس کی دودھیا گردن حمدان کے سامنے آن ٹھہری تھی۔۔۔۔ جو ریشمی دوپٹے کی رگڑ کی وجہ سے کئی جگہوں سے لال ہوچکی تھی۔۔۔۔
حمدان نے اُس کی ٹانگوں کو سیدھا کیا تھا۔۔۔ جب نیند میں بھی مہروسہ کے ہونٹوں سے سسکاری نکل گئی تھی۔۔۔۔۔۔
اُس کی تکلیف کا سوچ حمدان کو خود پر شدید غصہ آیا تھا اور ساتھ میں مہروسہ پر بھی۔۔۔۔
وہ کیوں اُس کی اتنی نفرت کے بدلے اُسے اتنا چاہتی تھی۔۔۔ وہ اب تک اُس کے ساتھ ہر طرح سے غلط کر چکا تھا۔۔۔ اُسے نجانے کتنی اذیت دی تھی۔۔۔ مگر وہ اُسے پھر بھی یوں دیوانوں کی طرح چاہتی تھی۔۔۔
حمدان اُس کے نازک وجود کو بانہوں میں بھرتا اُسے آرام دہ حالت میں بیڈ پر لٹاتا اُس کا سر تکیے پر رکھ گیا تھا۔۔۔۔۔
غلافی گھنیری پلکوں سے سجی سیاہ آنکھیں جن میں کاجل ڈال کر اُنہیں مزید قاتل بناتی وہ اُس کے دل پر پوری طرح حملہ آور ہونے کی کوشش کرتی تھی۔۔۔۔ کٹاؤ دار گلابی گداز لبوں کے اُوپر سجا سیاہ تل کسی کا بھی ایمان ڈگمگانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔۔۔ گلابیاں چھلکاتے ملائم گال اور چھوٹی سی ستواں ناک۔۔۔۔۔
وہ دلکشی کی مورتی تھی۔۔۔۔ جس میں حمدان صدیقی خود کو گم ہونے سے نہیں روک پایا تھا۔۔۔۔ وہ جھکا تھا اور باری باری اُس کے دونوں گالوں پر اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا چلا گیا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کسمسائی تھی۔۔۔۔ جب حمدان فوراً پیچھے ہوا تھا۔۔۔۔ مہروسہ کے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے۔۔۔۔ جو نجانے کیوں حمدان برداشت نہیں کر پارہا تھا۔۔۔
اُس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھے انٹر کام سے ملازمہ کو پین کلر لانے کو کہا تھا۔۔۔۔
جب اُس کی آواز سنتے اور اُسے اپنے پاس سے اُٹھتا محسوس کرتے مہروسہ کی آنکھ کھل گئی تھی۔۔۔
“آپ کہاں جارہے ہیں۔۔۔؟؟”
مہروسہ نے جلدی سے بیڈ سے اُٹھ کر اُس کے پیچھے جانا چاہا تھا۔۔۔ جب ٹانگوں میں ہوتے درد کی وجہ سے وہ نیچے اُترتے ہی بُری طرح لڑکھڑا گئی تھی۔۔۔
حمدان نے جلدی سے اُس کے قریب آتے اُسے اپنی بانہوں میں تھام لیا تھا۔۔۔۔
وہ اُس کے سہارے کھڑی اُس کے سینے سے آن لگی تھی۔۔۔ تکلیف کے مارے اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔
“میری وجہ سے خود کو اتنی تکلیف میں کیوں ڈالا۔۔۔۔؟؟ میرے آرام کا اتنا خیال کیوں ہے تمہیں۔۔۔۔”
حمدان اُسے اپنے سہارے اُٹھائے کھڑا سرد نگاہوں سے اُسے گھور رہا تھا۔۔۔ جو اُسے پرسکون کھڑا دیکھ دھیرے سے مسکرا دی تھی۔۔۔ وہ ایسے ہی اُس کی زندگی کی ہر تکلیف اپنے اُوپر لے لینا چاہتی تھی۔۔۔
“میں نے ریزن آپ کو بتایا تھا رات کو۔۔۔ میرا مجھ پر اختیار نہیں ہے آپ کے معاملے میں۔۔۔ بہت بے بس ہوں میں۔۔۔۔ “
مہروسہ کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر نیچے گرتے حمدان کو بے چین سا کر گئے تھے۔۔۔ وہ اِس لڑکی کے معاملے میں اپنے دل کو پتھر کرنا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن اِس وقت وہ موم کی طرح لمحہ با لمحہ اِس کی دیوانگی کے آگے پگھلتا جا رہا تھا۔۔۔
آج تک اُس کے لیے کبھی کسی نے اتنی اذیت برداشت نہیں کی تھی۔۔ کیونکہ اُس نے ہر انسان کو اپنے بُرے رویے کی وجہ سے خود سے نفرت کرنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔ لیکن ایک واحد یہ لڑکی تھی۔۔۔ جس کے ساتھ اُس نے اب تک سب سے زیادہ نارواں سلوک رکھا تھا۔۔۔ مگر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ وہ اُس کی اثیر ہو رہی تھی۔۔۔ اور ساتھ اُس کو بھی اپنا دیوانہ بنانے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔
“تم جانتی ہو مجھے تم سے محبت نہیں ہے اور شاید نہ کبھی کر پاؤں۔۔۔ پھر کیوں خوار کررہی ہو خود کو میرے پیچھے۔۔۔۔۔ تمہیں یہاں کچھ نہیں ملنے والا۔۔۔۔”
حمدان کی نگاہیں اُس کی دودھیا گردن پر بنے سُرخ نشانوں پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔
جو اُسی کے دیئے ہوئے تھے۔۔۔۔
اُس کے انداز پر مہروسہ کو اچانک اپنے بنا دوپٹے کے ہونے کا احساس ہوا تھا۔۔۔۔
اُس نے فوراً حمدان کے حصار سے نکلنا چاہا تھا۔۔۔۔ جب اُسی لمحے حمدان اُس اپنے مزید قریب کھینچتا اُس کی گردن پر جھکا تھا۔۔۔۔ اور اُس کے زخم پر اپنے لبوں کا مرہم رکھتا اُس کا رات کا قرض اُتار گیا تھا۔۔۔۔ مہروسہ کی سانسیں منتشر ہوئی تھیں۔۔۔۔
وہ حمدان کا بدلہ بدلہ انداز نوٹ کر چکی تجی مگر اُسے حمدان سے اِس استحقاق بھرے عمل کی اُمید بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔ اُس کا چہرا لال انگارہ ہوچکا تھا۔۔۔۔
ہمیشہ بڑھ چڑھ کر اپنی محبت کا اظہار کرنے والی اپنے ایس پی کے میدان میں آتے ہی ایسی ہی سہمی ہرنی بن جایا کرتی تھی۔۔۔۔
وہ اِس لڑکی کو محبت کے وار سے زخمی کرکے اُس کی اصلیت سامنے لانا چاہتا تھا۔۔۔ مگر وہ ہر بار محبت کا ایسا امتحان پار کر جاتی تھی کہ حمدان چاہنے کے باوجود اپنے کہے پر عمل نہیں کر پاتا تھا۔۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ اُس کے سحر میں جکڑتا جا رہا تھا۔۔۔ اِس وقت بھی سرزد کیا گیا اُس کا عمل بالکل بے اختیاری تھا۔۔۔۔۔
مہروسہ کی آنکھیں نم ہوچکی تھیں۔۔۔
حمدان اُس کے لرزتے کانپتے وجود کو بانہوں میں اُٹھاتا بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
“خاموشی سے یہیں بیٹھو۔۔۔ اور آرام کرو۔۔۔ میں جانتا ہوں تم رات بھر نہیں سوئی۔۔۔۔ “
حمدان اُس کی جھکی نگاہوں اور کپکپاتے ہونٹوں پر ایک گہری نگاہ ڈالتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ مہروسہ اپنے دھڑک دھڑک کر بے قابو ہوتے دل پر ہاتھ رکھتی اپنی دھڑکنوں کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔۔۔۔
اُسے آج پہلی بار حمدان کی آنکھوں میں اپنا عکس دکھائی دیا تھا۔۔۔ جس پر خوش ہونے کے بجائے وہ شدید ٹینشن میں آچکی تھی۔۔۔ محبت کا درد کتنا شدید ہوتا تھا۔۔۔ اُس سے بڑھ کر بھلا کون سمجھ سکتا تھا۔۔۔
وہ حمدان کو اِس اذیت میں مبتلا ہوتا نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ اُسے اب جلد از جلد رضوان کے کمرے تک پہنچ کر وہ ثبوت حاصل کرکے حمدان کے گھر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینا تھا۔۔۔۔
یہ بات سوچتے ہی مہروسہ کو اپنا وجود بے جان ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“میں نے حبہ کو روکنے کی بہت کوشش کی۔۔۔ مگر وہ آپ پر بہت غصہ تھی بیٹا۔۔۔ اُسی غصے میں وہ ہم سے اتنی دور چلی گئی۔۔۔ “
نجمہ بیگم اُس کے سینے سے لگ کر رو رہی تھیں۔۔۔ جبکہ حازم بالکل ساکت کھڑا اُنہیں حوصلے کے لیے ایک لفظ بھی نہیں کہہ پایا تھا۔۔۔۔
وہ بنا کچھ بولے وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔ اُسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اُس سے اُس کی زندگی بھر کا اثاثہ چھین لیا گیا ہو۔۔۔۔۔
گاڑی میں آن بیٹھتے اُس نے گاڑی فل سپیڈ پر دوڑانہ شروع کردی تھی۔۔۔۔ اُس کا دل چاہا رہا تھا وہ خود کو ختم کردے۔۔۔۔
وہ سیدھا بلیک ہاؤس پہنچا تھا۔۔۔ جہاں سامنے ہی اُسے شاہ ویز فون پر بات کرتا نظر آیا تھا۔۔۔ اور دوسرے ہاتھ میں اُس نے سیگریٹ تھام رکھا تھا۔۔۔۔ حازم کو دیکھ اُس کی آنکھیں روشن ہوئی تھیں۔۔۔
“آگئے تم۔۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز اُسے اپنے سامنے کرسی پر گرتے دیکھ فون رکھتا اُس کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔۔۔
“تم خود سے گستاخی کرنے والوں کو کبھی نہیں بخشتے نا۔۔۔ میں نے بھی کل رات تمہیں بہت بُرا بھلا کہا۔۔۔ اُسی کی سزا دے دو مجھے۔۔۔ ختم کردو مجھے۔۔۔ میں یہ تکلیف برداشت نہیں کر پارہا۔۔۔ اپنے تمام سورسز لگا چکا ہوں۔۔۔ مگر ہر جانب سے یہی اطلاع مل رہی ہے کہ حبہ اُس جہاز میں موجود تھی۔۔۔ اُس کے جہاز میں داخل ہونے کی ریکارڈنگ بھی دیکھ چکا ہوں۔۔۔ مگر پھر بھی میرے دل کو یقین نہیں آرہا کہ حبہ مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جا چکی ہے۔۔۔۔”
حازم تھکے تھکے لہجے میں بولتا شاہ ویز کو بھی اپنے ساتھ اذیت میں مبتلا کر گیا تھا۔۔۔
“ہمیشہ مجھے اور مہروسہ کو حوصلہ دیتے آئے ہو۔۔۔ ہمیں کبھی ٹوٹنے نہیں دیا تم نے۔۔۔ تو پھر آج کیوں ٹوٹ رہے ہو۔۔۔ پوری زندگی کتنی اذیت برداشت کی ہے تم نے۔۔۔ پھر اب کیوں نہیں برداشت کر پارہے۔۔۔ میں اپنے گینگ کے سب سے مضبوط انسان کو یوں ٹوٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتا ہے۔۔۔”
شاہ ویز بول رہا تھا۔۔۔۔ جبکہ حازم سختی سے آنکھیں میچے نفی میں سر ہلا گیا تھا۔۔۔۔
“نہیں یہ درد برداشت نہیں کرسکتا میں۔۔۔ میرے زخموں کا مرہم اور میرے ہر درد کا مداوا تھی وہ۔۔ میں کیسے اُسے بھول جاؤں۔۔۔۔ جینا بھول سکتا ہوں شاہ مگر اُسے نہیں بھول سکتا۔۔۔ نہیں رہ پاؤں گا میں اُس کے بغیر۔۔۔ اِسی لیے بہتر یہی ہے میں خود کو ختم کرلوں۔۔۔۔”
حازم نے پسٹل اُٹھاتے اپنی کنپٹی پر رکھی تھی۔۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں مرنے دوں گا حازم سالار۔۔۔ تم اور مہروسہ میرے لیے میری زندگی سے بڑھ کر ہو۔۔۔۔ تم دونوں پر زرا سی آنچ آنے سے پہلے شاہ ویز سکندر خود کو قربان کردے گا۔۔۔۔ میں تمہیں ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں۔۔۔ میں ہر شے پر اختیار رکھتا ہوں۔۔۔ پھر تمہاری زندگی کو تم سے دور کیسے جانے دے سکتا تھا۔۔۔۔ “
شاہ ویز کی بات پر حازم نے جھٹکے سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جو سیگریٹ کا گہرا کش لیتا کرسی کی پشت سے سر ٹکاتا اُسے دیکھنے لگا تھا۔۔۔۔ اُسے کچھ بولنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی۔۔۔ وہ شاہ ویز کے بنا بولے ہی سب سمجھ چکا تھا۔۔۔۔
“پریسا بالکل ٹھیک کہتی ہے تم وحشی درندے سے کم نہیں ہو۔۔۔۔ “
حازم اُس کے ایک جملے میں دبی بات سمجھ چکا تھا۔۔۔۔ اور جیسے اُس کے تڑپتے دل کو قرار آگیا تھا۔۔۔
“وہ پاگل ہے۔۔۔۔۔ اور پاگل کچھ بھی بولتے ہیں۔۔۔”
پریسا کے ذکر پر شاہ ویز کی آنکھوں میں اُبھر کر معدوم ہوتی ہلکی سی مسکراہٹ حازم کو حیران کر گئی تھی۔۔۔۔ آج پہلی بار اُس نے شاہ ویز کے چہرے پر یہ نہایت معمولی سی مسکان دیکھی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز نے بنا کچھ بولے اُس کی جانب ایک انویلپ بڑھا دیا تھا۔۔۔
وہ دونوں وہیں بیٹھے تھے جب اُن کے کانوں میں پریسا کی نسوانی دلخراش چیخ ٹکرائی تھی۔۔۔
“پری۔۔۔۔”
شاہ ویز سیگریٹ وہیں پھینکتا بے اختیاری میں زیرِ لب بڑبڑاتا اُس جانب بھاگا تھا۔۔۔۔
“اُسے زرا سی تکلیف میں دیکھ اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دیوانوں کی طرح اُس کی جانب دوڑ پڑتا ہے۔۔۔ اور اِس وحشی کو اپنی پری سے محبت نہیں ہے ابھی۔۔۔۔”
حازم جس کو شاہ ویز کے ایک جملے نے اُس کی زندگی واپس لوٹا دی تھی۔۔۔ وہ اُس کے اِس بے خود انداز پر مسکراتا اپنی منزل کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
