No Download Link
Rate this Novel
Episode 51
“اسلام و علیکم شاہ سر۔۔۔۔۔”
حمدان آفس گیا ہوا تھا۔۔ جبکہ باقی سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔۔۔ جب مہروسہ نے شاہ ویز کو کال ملائی تھی۔۔۔۔
“سر مجھے حمدان کے خفیہ لاکر سے رضوان صدیقی کے کمرے اور لاکرز کی کیز مل چکی ہیں۔۔۔ اب میں بہت جلد رضوان صدیقی کے کمرے تک پہنچ جاؤں گی۔۔ اور وہ ثبوت ہاتھ لگ جائیں گے۔۔۔ جن کا ہمیں سالوں سے انتظار تھا۔۔۔۔”
مہروسہ شاہ ویز سے بات کرتے کرتے جیسے ہی پلٹی اپنے عین پیچھے کھڑی ہستی کو دیکھ وہ سناٹے میں آگئی تھی۔۔۔۔
مریم کب اُس کے روم میں داخل ہوئی تھی اُسے پتا بھی نہیں چلا تھا۔۔۔ وہ اتنی بے خبر تو کبھی نہیں رہی تھی۔۔۔ مریم کے تاثرات بتا رہے تھے وہ اُس کی ساری باتیں سن چکی ہے۔۔۔۔
“تم یہاں میرے روم میں کیا کررہی ہو۔۔۔؟”
مہروسہ کو یہ لڑکی پہلے دن سے بہت بُری لگتی تھی۔۔۔ جو حمدان کے سامنے معصوم بننے کا ناٹک کرکے اُس کی ہمدردی حاصل کررہی تھی۔۔۔
“تمہارا روم نہیں ہے یہ حمدان کا روم ہے۔۔۔ جس میں آنے کے لیے مجھے کم از کم تمہاری اجازت کی ضرورت تو بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔۔ اتنی بے خبر نہیں ہوں میں۔۔۔ بہت اچھے سے اندازہ ہے مجھے حمدان کے نزدیک تمہاری اہمیت کا۔۔۔۔”
مریم اُس کے بیڈ پر پورے استحقاق سے بیٹھتی مہروسہ کی جانب طنزیا مسکراہٹ اُچھال گئی تھی۔۔۔۔
جبکہ مہروسہ مُٹھیاں بھینچے بہت مشکل سے اُس کی بات پر ضبط کیے کھڑی تھی۔۔۔ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا۔۔۔ ابھی اِس گھٹیا عورت کی گردن مڑور کر رکھ دے۔۔۔۔۔۔
“شرافت سے میرے کمرے سے نکل جاؤ۔۔۔ ورنہ میرا اپنایا طریقہ تمہیں پسند نہیں آئے گا۔۔۔۔”
مہروسہ مُٹھیاں بھینچے چلائی تھی۔۔۔۔
“اوہ ہو اتنا غصہ۔۔۔ مہروسہ کنول عرف اُجالا اتنی بھی کیا جلدی ہے۔۔۔۔ چلی جاؤں گی میں۔۔۔ پہلے میری بات تو سن لو۔۔۔ کیا پتا اِس میں تمہارا ہی فائدہ ہو۔۔۔۔”
مریم کے منہ سے اپنا اصلی نام سنتے مہروسہ کو شاک لگا تھا۔۔۔ اِس کا مطلب وہ جو سوچ رہی تھی۔۔۔ ویسا ہی کچھ تھا۔۔۔ مریم کوئی عام لڑکی نہیں تھی۔۔۔
“ویسے ماننا پڑے گا۔۔۔ بہت شاطر ہو تم۔۔۔ اتنے سالوں سے حمدان صدیقی کو اپنے قریب نہیں لا سکی۔۔۔ اور تم کچھ دنوں میں ہی اُس کی بیوی کے عہدے پر فائز ہوگئی۔۔۔ کافی سنا تھا تم لوگوں کی زہانت اور کارکردگی کے بارے میں۔۔۔۔ آج دیکھ بھی لیا۔۔۔ ویسے تمہارے باقی دنوں لیڈر بھی سنا ہے کافی ہینڈسم ہیں۔۔۔ اُنہیں ہی پھانس لیتی۔۔ میرے حمدان کو تو میرے لیے چھوڑ دیتی۔۔۔ “
مریم اور بھی نجانے کیا کیا بکواس کررہی تھی۔۔۔ جب مہروسہ اپنے اصل روپ میں آتی اُس پر جھپٹی تھی۔۔۔ اور اُس کی گردن کو اپنی گرفت میں لیتی اُسے زمین پر گرا گئی تھی۔۔۔
“اب بول کیا بکواس کررہی تھی۔۔۔؟؟ میرے حمدان کو مجھ سے چھینے گی۔۔۔ بلیک سٹار کا نام سنا ہے تو اُن کی دہشت بھی سنی ہوگی۔۔۔۔ “
مہروسہ اُس کی گردن پر پورا دباؤ ڈالے غرائی تھی۔۔۔ اِس لڑکی نے اُس کے تین بہت اہم لوگوں کے حوالے سے بات کرکے اُس کے قہر کو آواز دی تھی۔۔۔
“مجھے مت مارو۔۔۔ ورنہ اقبال کیانی۔۔۔ حمدان کو۔۔۔۔”
مریم دم گھٹتا محسوس کرتی بمشکل بولی تھی۔۔۔ جب اُس کے منہ سے اقبال کیانی کا نام سن کر مہروسہ کے ہاتھ تھم سے گئے تھے۔۔۔
“اقبال کیانی کو کیسے جانتی ہو تم…؟؟؟ وہ حمدان کو نقصان کیوں پہنچائے گا۔۔۔۔؟؟”
مہروسہ اُسے بالوں سے کھینچ کر سیدھا کرتے کاٹ دار لہجے میں بولی تھی۔۔۔ مریم آج اپنی آنکھوں سے بلیک سٹار کی دہشت دیکھ کانپ گئی تھی۔۔۔۔
“وہ میں نہیں بتا سکتی۔۔۔۔”
مریم کھانستے ہوئے اپنی سانسیں بحال کرنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔۔۔
“مر تو سکتی ہو نا۔۔۔۔”
مہروسہ نے اپنا پسٹل نکال کر اُس کی کنپٹی پر رکھا تھا۔۔۔
“میرے ہوتے ہوئے میرے حمدان کو کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔ اور تم جیسے گیدڑ اُس شیر کا کچھ بگاڑ سکتے بھی نہیں ہیں۔۔۔ تم سے ساری سچائی اب میرے آدمی خود ہی اُگلوا لیں گے۔۔۔.”
مہروسہ اپنے دوپٹے سے اُس کے ہاتھ پیر باندھنے لگی تھی۔۔۔۔
“حمدان کو اگر پتا چل گیا تو تمہیں چھوڑے گا نہیں وہ۔۔۔”
مریم اپنے بچاؤ کی پوری کوشش کررہی تھی۔۔۔
“میری فکر مت کرو۔۔۔ مجھے خود کو بچانا آتا ہے۔۔۔”
مہروسہ اُس کے منہ پر بھی کپڑا باندھتی اپنے آدمی قاسم کو کال کر گئی تھی۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
پریسا آفندی مینشن واپس آچکی تھی۔۔۔ جہاں یاسمین بیگم نے اُس کی دو دن کی غیر موجودگی کو اپنے طریقے سے سنبھال لیا تھا۔۔۔۔ ویسے بھی سب سفیان کی وجہ سے اتنے پریشان تھے کہ پریسا پر کسی کا دھیان گیا ہی نہیں تھا۔۔۔۔
پریسا سمجھ نہیں پارہی تھی کہ شاہ ویز نے اُسے واپس کیوں بھیج دیا تھا۔۔۔
“پری مجھے بات کرنی ہے تم سے۔۔۔ میرے روم میں آؤ۔۔۔”
پریسا اپنے خیالوں میں کھوئی سیڑھیاں اُتر رہی تھی۔۔۔ جب اپنی پشت پر سفیان کی آواز سنتے وہ پلٹی تھی۔۔۔
“جی بولیں۔۔۔ کیا بات کرنی ہے آپ کو۔۔۔۔؟؟”
پریسا وہیں کھڑے پوچھنے لگی تھی۔۔۔ وہ اب شاہ ویز سکندر کی بیوی تھی۔۔۔ سفیان آفندی کی بات سننے اُس کے کمرے میں نہیں جاسکتی تھی۔۔۔
“پری میں نے تمہیں روم میں آنے کو کہا ہے۔۔۔”
سفیان کا انداز عجیب سا تھا۔۔۔
“لیکن میں روم میں نہیں آنا چاہتی مجھے یہیں بات سننی ہے۔۔۔۔”
پریسا کو آج اُس کی اپنے وجود پر اُٹھتی یہ عجیب نگاہیں بہت ناگوار گزر رہی تھیں۔۔۔
“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی تم مجھے انکار کرو۔۔۔ گھر والوں کی جانب سے ملنے والی اہمیت نے تمہارا دماغ خراب کردیا ہے۔۔۔۔”
سفیان کو آج وہ بے حد کانفیڈنٹ سی پریسا ایک آنکھ نہیں بھائی تھی۔۔۔
وہ آگے بڑھتا اُس کی کلائی تھام کر زبردستی اپنے ساتھ کمرے میں لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ مگر اِس سے پہلے کہ اُس کا ہاتھ پریسا کی کلائی تک پہنچتا۔۔۔ اچانک سفیان کو اپنے بازو پر کسی کی آہنی گرفت محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔۔
پریسا نے سر اُٹھا کر اپنے سامنے آتے شاہ ویز کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ وہ وہاں کب آیا تھا وہ دیکھ ہی نہیں پائی تھی۔۔۔۔
“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی۔۔۔۔ “
شاہ ویز اُس کے بازو کو زور دار جھٹکا دیتا ناکارہ کر گیا تھا۔۔۔ اُس کی دھاڑتی آواز اتنی بلند تھی کہ آفندی مینشن کے تمام لوگ وہاں آن پہنچے تھے۔۔۔۔
پریسا پھٹی پھٹی نگاہوں سے شاہ ویز کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔ جو سرد پتھریلے تاثرات کے ساتھ سفیان کو بُری طرح پیٹنا شروع ہوچکا تھا۔۔۔
“کون ہو تم۔۔۔ ؟؟ کیوں مار رہے ہو میرے بیٹے کو۔۔۔ “
شہباز آفندی اور باقی سب شاہ ویز کی گرفت سے سفیان کو چھڑوانے آئے تھے۔۔۔
لیکن اُس نے سفیان کا حلیہ مار مار کر بگاڑ دیا تھا۔۔۔ اور ایک ہی جھٹکے سے اُن سب کو بھی دور پھینک دیا تھا۔۔۔ وہ سب بہت بُری طرح پیچھے فرش پر جاگرے تھے۔۔۔
شاہ ویز وہاں اکیلا آیا تھا۔۔۔ اور وہ اکیلا ہی سب پر بھاری ثابت ہورہا تھا۔۔۔
پریسا ایک جانب سہمی کھڑی اپنے وحشی درندے کی یہ درندگی دیکھ رہی تھی۔۔۔
باقی سب خواتین بھی سہم کر ایک کونے میں جا کھڑی ہوئی تھیں۔۔۔ ایک یاسمین بیگم ہی تھیں۔۔۔ جو آنکھوں میں آنسو بھرے یہ سب دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
وہ جانتی تھیں اُن کے خاندان والوں کے گناہوں کا گھڑا بھرنے والا تھا۔۔۔۔
جس کے بعد ایسا ہی قہر ٹوٹنے والا تھا اُن سب پر۔۔۔۔
“پولیس کو فون کرو۔۔۔۔”
شہباز آفندی چلائے تھے۔۔۔
“میں نے کئی بار ٹرائے کیا ہے۔۔۔ مگر کال نہیں جارہی نیٹ ورک ایشو ہے۔۔۔۔”
شوکت آفندی نے سفیان کے لہولہان ہوتے وجود کو دیکھ گھبرا کر کہا تھا۔۔۔ شہباز آفندی باہر موجود گارڈز کو بلانے باہر کی جانب بڑھے تھے۔۔۔ مگر گیٹ کو باہر سے لاک کیا گیا تھا۔۔۔
اُنہوں نے بوکھلاہٹ میں سارے دروازے چیک کرلیے تھے۔۔ جن سب کو لاک کیا گیا تھا۔۔۔ یہ شخص پوری پلاننگ کے ساتھ اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔
“میرا بیٹا مر جائے گا۔۔۔۔ کیوں اتنا ظلم کررہے ہو اُس پر۔۔۔۔؟؟”
شہباز آفندی آخر کار بے بس ہوتے شاہ ویز کے پاس آتے ہاتھ جوڑتے گھٹنوں کے بل اُس کے پیروں کے قریب بیٹھ گئے تھے۔۔۔ جو دیکھ شاہ ویز کی آنکھوں میں سکون اُترتا چلا گیا تھا۔۔۔۔
“اِس نے میری بیوی کو چھونے اور ڈرانے کی کوشش کی ہے۔۔۔ اِسی کی سزا تھی یہ۔۔۔۔”
سفیان کو مار مار کر وہ اُس کی حالت خراب کر گیا تھا۔۔۔
شہباز آفندی کو اپنے قدموں کے قریب بیٹھا دیکھ وہ سفیان کو زمین پر پھینکتا صوفے کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔
اُس نے ایک جانب سہمی کھڑی پریسا کی جانب ایک بار بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔
جس بیوی کی خاطر ایک شخص کو موت کے منہ میں پہنچا دیا تھا۔۔۔ اُس کی بیوی کی جانب ایک نگاہ ڈالنا بھی گوارہ نہیں کی تھی اُس نے۔۔۔۔
بڑے سے صوفے پر شاہانہ انداز میں ٹیک لگا کر نیم دراز ہوتے وہ اپنا سگریٹ سلگھاتے ہونٹوں میں دبا گیا تھا۔۔۔
“اگر اپنے بیٹے کی زندگی چاہتے ہو۔۔۔ تو جب تک میں نہ کہوں ایسے ہی بیٹھے رہو۔۔۔۔”
شہباز آفندی نے اُٹھنا چاہا تھا۔۔۔ جب شاہ ویز نے اُنگلی اُٹھا کر وارن کرتے اُسے اُسی پوزیشن میں رہنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔ جبکہ پریسا اپنے اُس بلیک بیسٹ کو بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
جو حقیقت میں درندے کے رُوپ میں تو آج سامنے آیا تھا اُس کے۔۔۔۔
“بابا آپ۔۔۔۔۔”
پریسا شہباز آفندی کی حالت نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔ اور آنکھوں میں آنسو لیے اُنہیں اُٹھانے کے لیے اُن کی جانب بڑھی تھی ۔۔
“خبردار پریسا آفندی۔۔ دور رہو۔۔۔ ورنہ پورے آفندی مینشن کو آگ لگا دوں گا۔۔۔۔”
شاہ ویز پریسا کی آنکھوں میں اُن لوگوں کے لیے تکلیف برداشت نہ کر پاتے غصے سے بپھرتا جلتا ہوا لائٹر درمیان میں رکھے چھوٹے سے کارپٹ پر پھینکتا وہاں آگ بھڑکا گیا تھا۔۔۔
پریسا آگ دیکھ خوف سے چیخ مارتی پیچھے ہوئی تھی۔۔۔
“تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔ پریسا میری ہونے والی بہو ہے۔۔۔ وہ تمہاری بیوی کیسے بن سکتی ہے۔۔۔۔ تم زیادہ دیر تک میرے گھر میں یوں غنڈہ گردی نہیں مچا پاؤ گے۔۔۔ بہت جلدی تمہیں سلاخوں کے پیچھے بھیج کر رہوں گا۔۔۔۔”
شہباز آفندی کا بس نہیں چل رہا تھا۔۔۔ سامنے بیٹھے مغرور اور جلاد شخص کا سینہ گولیوں سے بھون دے۔۔۔۔
“مجھے اپنے نکاح کو ثبوت تمہیں دینے کا کوئی شوق نہیں ہے شہباز آفندی۔۔۔ ہاں مگر یہ ضرور بتانا چاہوں گا کہ میں کون ہوں۔۔۔ اور یہاں کس حیثیت سے آیا ہوں۔۔۔ حمیرا سکندر اور سکندر شاہ کو بھولے تو نہیں ہوگے تم سب۔۔۔۔؟؟”
شاہ ویز نے اُن سب کے سروں پر بم پھوڑتے اُنہیں ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔
اُن سب میں ایک پریسا ہی تھی جو حیران نگاہوں سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔۔ اُسے اِس سب تماشے کے بعد اپنے حواس ساتھ چھوڑتے محسوس ہوئے تھے۔۔۔۔
اُس کی نازک جان مزید یہ سب برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔ جس شخص سے اُس نے بے پناہ محبت کی تھی۔۔۔ وہ اُس کے گھر والوں کے ساتھ یہ سب کررہا تھا۔۔۔
“تم۔۔۔ تم سکندر۔۔۔۔”
شہباز آفندی ہکلا گئے تھے۔۔۔
“ہاں۔۔۔ میں اُنہیں کا بیٹا شاہ ویز سکندر ہوں۔۔۔۔ اِس آفندی مینشن سمیت تمہاری ملکیت میں موجود ہر شے کا اکلوتا وارث۔۔۔۔ جسے اُس رات آگ میں جھلسانا بھول گئے تھے تم۔۔۔۔۔”
شاہ ویز جلدی سے اپنی جگہ سے اُٹھتا پریسا کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ اور اُس کے بے ہوش ہوکر گرنے سے پہلے ہی اپنی مضبوط پناہوں میں بھر گیا تھا۔۔۔
پریسا جو یہی سمجھ رہی تھی کہ شاہ ویز اُسے اگنور کرتا اُس کی جانب سے بالکل غافل ہوچکا ہے اِس وقت۔۔۔ ایسا بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔۔
اُس کی جانب نہ دیکھتے ہوئے بھی اُس کے سارے دھیان پریسا آفندی کی جانب ہی تھے۔۔۔۔
باقی سب جو اُسے کا درندگی بھرا روپ دیکھ سہمے خوفزدہ سے کھڑے تھے۔۔۔ پریسا کے لیے اُس کا اتنا کیئرنگ اور محبت بھرا انداز دیکھ اُن سب کی بے یقینی مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
“میری بیوی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اِس لیے فلحال کے لیے بخش رہا ہوں تم لوگوں کو۔۔۔ اپنے بیٹے کو ہوش میں لانے کی کوشش کر سکتے ہو تو کر لو۔۔۔۔ اب اتنا بے رحم بھی نہیں ہوں میں۔۔۔ کہ تم لوگوں کو تمہارے بیٹے کے قریب نہ جانے دوں۔۔۔”
شاہ ویز اُن سب پر نفرت بھری نگاہ ڈالتا پریسا کو اُٹھائے اُس کے روم میں بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
پریسا کو بیڈ پر لٹاتے اُس نے سرتاپا اپنی بے حد نازک بیوی کو دیکھا تھا۔۔۔ جو ہمیشہ اُسی کے خوف سے بے ہوش ہوکر گرتی تھی۔۔۔۔
سیاہ لباس میں ملبوس وہ اُس کی پوری توجہ اپنی جانب کھینچ گئی تھی۔۔۔۔ بالوں کو جوڑے کی شکل میں کیچر میں مقید کیا گیا تھا۔۔۔ جس میں سے نکلتی شریر لٹیں اُس کے چہرے کو چھوتیں شاہ ویز سکندر کا ڈسٹرب کر رہی تھیں۔۔۔
وہ ہاتھ بڑھاتا اُس کے بالوں کو چہرے سے ہٹا گیا تھا۔۔۔
آرزوں پر سجی لانبی خمدار پلکوں سے ہوتی اُس کی نگاہ پریسا کے گلابی ہونٹوں پر آن ٹکی تھی۔۔۔ کہ لڑکی اُس کے لیے کسی آزمائش سے کم نہیں تھی۔۔۔
اِس سے پہلے کہ اُس کی بے خبری میں وہ بہکتا۔۔۔ شاہ ویز نے سائیڈ ٹیبل پر رکھے جگ سے گلاس میں پانی اُنڈیلتے پریسا کے چہرے پر ڈال دیا تھا۔۔۔
پریسا ہڑبڑا کر اُٹھتی خوف کے عالم میں سامنے بیٹھے شاہ ویز سے ٹکرا گئی تھی۔۔۔۔
جو ایک بار پھر سے سیگریٹ سلگھاتا بیڈ کی پائنتی پر لیٹتا چہرا موڑ کر اُسے دیکھنے لگا تھا۔۔۔ جو ہمیشہ کی طرح اُس کے سامنے پنجے جھاڑ کر اُس سے لڑنے کو تیار نہیں ہوئی تھی۔۔۔
بلکہ اُس کے خوف سے کانپتی سہمی سے بیڈ کراؤن سے جا لگی تھی۔۔۔
“نفرت محسوس ہورہی ہے مجھ سے۔۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز سیگریٹ کا دھواں اُس کی جانب چھوڑتے اُسے دیکھنے لگا تھا۔۔۔
مگر اِس بار شاید وہ اُس سے زیادہ خوفزدہ ہوچکی تھی۔۔ اس لیے بنا بولے بس بھیگتی آنکھوں سے اُسے تکے گئی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز جو ہمیشہ یہی چاہتا تھا کہ اُس کے سامنے آواز اُٹھانے کی جرأت کوئی نہ کرے۔۔۔ پریسا کا یہ سہما انداز اُسے آج بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔
سگریٹ کو دور پھینکتے وہ پریسا کو اپنے اُوپر گرا گیا تھا۔۔۔۔۔
“میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے۔۔۔ پریسا شاہ ویز سکندر۔۔۔ جواب دو۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے بالوں سے کیچر نکالتا اُس کی سیاہ زلفوں کی آبشار کو آزاد کرواتا دونوں کے گرد حصار بنا گیا تھا۔۔۔
“مجھے ڈر لگ رہا ہے تم سے۔۔۔ میں جانتی ہوں تم میرے ساتھ بھی وہی کرو گے۔۔ جو تم نے سفیان کے ساتھ کیا۔۔۔۔ مگر میں نے سفیان کو نہیں۔۔۔۔”
پریسا اپنی صفائی میں مزید بھی کچھ کہہ رہی تھی۔۔۔۔
“واٹ ربش تم پاگل ہوگئی ہو کیا۔۔۔۔؟؟ “
شاہ ویز اُٹھ کر بیٹھتا غصے سے دھاڑا تھا۔۔۔ اُس کی بیوی اُسے اپنے باکردار ہونے کا ثبوت دے رہی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز غصے سے پاگل ہوگا اُسے خود سے دور کرتا بیڈ سے اُٹھا تھا۔۔۔
“تم نے سوچ بھی کیسے لیا میں تم پر شک کروں گا۔۔۔ کیا واقعی تمہارے پاس دماغ نہیں ہے۔۔۔ تم شاہ ویز سکندر کی بیوی ہو۔۔۔ تمہیں اب تک اپنی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوا۔۔؟؟؟”
شاہ ویز نے قہرآلود نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“آئم سوری۔۔۔ “
پریسا اُسے اتنے غصے میں آتے دیکھ دھیرے سے بولتی شاہ ویز کو سکندر کو ساکت کر گئی تھی۔۔۔ یہ لڑکی کیوں آج اُس کا ضبط آزمانے پر تلی ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ آگے بڑھا تھا اور اُسے دونوں کندھوں سے تھام کر اُوپر اُٹھاتے اپنے مقابل کر گیا تھا۔۔۔۔ اُس کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتے پریسا اندر تک کانپ گئی تھی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
