Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

حمدان باہر کی سیکورٹی چیک کرکے واپس اندر آیا تھا۔۔۔ جہاں اُسے حبہ کہیں نظر نہیں آرہی تھی۔۔۔ وہ متلاشی نگاہوں سے چاروں جانب دیکھتا آگے بڑھا ہی تھا جب اُسے دائیں جانب سے ہیلز کی ٹک ٹک کی آواز سنائی دی تھی۔۔۔
بے اختیار وہ اُس طرف پلٹا تھا۔۔۔ جہاں سے اُسے سیاہ ساڑھی میں ایک درمیانی عمر کی عورت آتی دیکھائی تھی۔۔۔۔ اُس نے چہرے پر لباس کے ڈیزائن کا ماسک لگا رکھا تھا۔۔۔ میک اپ سے سجی آنکھوں پر نظر کی گلاسز لگارکھی تھیں۔۔۔۔ اُس کی جھڑیوں زدہ پیشانی اور جوڑے میں جکڑے سفیدی لیے بالوں سے حمدان اُس کی عمر کا اندازہ لگا پایا تھا۔۔۔
اُسے اپنی جانب آتا دیکھ حمدان وہیں رُک گیا تھا۔۔۔۔
“ایکسکیوزمی۔۔۔۔ میرا پرس باہر گاڑی میں رہ گیا ہے۔۔۔ کیا آپ مجھے لاکر دے سکتے ہیں۔۔۔۔”
وہ ایک ادا سے اپنی ساڑھی کا پلو سیٹ کرتی اُسے مخاطب کرتے بولی۔۔۔۔ اُس عورت کی بات سن کر حمدان کے ماتھے پر بل واضح ہوئے تھے۔۔۔ اُسے اِن سیاسی لیڈروں کی بالکل بھی سمجھ نہیں آتی تھی۔۔۔ جو اُن لوگوں کو اپنا ذاتی ملازم سمجھتے تھے۔۔۔
مگر اِس وقت اُس نے خود اپنی مرضی سے اِن لوگوں کی سیکیورٹی کا بیڑا اُٹھایا تھا۔۔۔ ناچاہتے ہوئے بھی اِن کے کمفرٹ کا خیال رکھنا تھا اُسے۔۔۔۔
“زبیر ادھر آؤ۔۔۔۔ اِن میڈم سے اِن کی گاڑی کا نمبر پوچھ کر اِن کے ڈرائیور سے اِن کا پرس لاکر دو۔۔۔۔”
حمدان فوراً اپنے ماتحت کو آواز دیتا اپنے مخصوص مغرورانہ انداز میں بولا تھا۔۔۔ اُس کے اِسی انداز کی ہی سامنے کھڑی لڑکی دیوانی تھی۔۔۔ اپنی گلاسز ٹھیک کرتے مہروسہ نے کن اکھیوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
جو اب فون کان سے لگاتا واپس مُڑا تھا۔۔۔۔
“نو۔۔۔۔ میرے پرس میں بہت امپورٹنٹ چیزیں ہیں۔۔۔ میں ایسے ہی کسی پر ٹرسٹ نہیں کر سکتی۔۔۔ پرس لینے تو آپ کو ہی جانا پڑے گا۔۔۔ مسٹر ایس پی۔۔۔۔”
مہروسہ اپنی ساڑھی کا پلو ٹھیک کرتے حمدان کا راستہ کاٹتی اُسے مزید تپا گئی تھی۔۔۔ مہروسہ کو کسی بھی صورت میں حمدان جو حبہ تک نہیں پہنچنے دینا تھا۔۔۔۔ جبکہ حمدان حبہ سے رابطہ نہ ہونے پر تشویش کا شکار تھا۔۔۔۔۔
“یہ میرا قابلت اعتبار آدمی ہے۔۔۔ آپ کا پرس بالکل سیلفی آپ تک پہنچا دے گا۔۔۔۔ ڈونٹ وری۔۔۔”
حمدان بمشکل ضبط کرتے بولا تھا۔۔۔
“آپ کے لیے قابلے اعتبار ہے میرے لیے نہیں۔۔۔۔ میں ایسا کوئی رسک نہیں لے سکتی۔۔۔۔”
مہروسہ بضد تھی۔۔۔۔ دونوں بازو سینے پر باندھے وہ حمدان کے سامنے کھڑی اُس کا ضبط سے لال پڑتا چہرا دیکھ دل ہی دل میں مسکرا دی تھی۔۔۔۔ ہمیشہ یہ شخص اُسے تڑپاتا تھا۔۔۔ آج اِسے زچ کر کے اُسے بہت مزا آرہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“دیکھیں آپ۔۔ ۔۔”
حمدان کا ضبط بس اتنا ہی تھا۔۔۔۔ وہ شدید غصے کے عالم میں کچھ بولنے ہی والا تھا جب مہروسہ نے ہاتھ اُٹھا کر اُسے وہیں روک دیا تھا۔۔۔
“آپ نہیں جانا چاہتے مت جائیں۔۔۔ میں خود ہی چلی جاتی ہوں۔۔۔ لیکن اگر باہر مجھے کوئی نقصان پہنچا تو اُس کی زمہ داری آپ پر ہوگی۔۔۔۔”
مہروسہ اپنی ساڑھی کو پلو اپنے گرد مزید مضبوطی سے لپیٹتی ٹک ٹک کرتی مین گیٹ کی جانب بڑھی تھی۔۔۔
حمدان کا دل چاہا تھا اِس پاگل عورت کا گلا دبا دے۔۔۔۔
سختی سے مُٹھیاں بھینچتا وہ اُس کے پیچھے گیا تھا۔۔۔۔
“رکیں آپ۔۔۔۔۔ میں لے آتا ہوں آپ کا پرس۔۔۔۔”
حمدان اُسے وہیں رکنے کا کہتا۔۔۔ سرد تاثرات کے ساتھ باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔
مہروسہ اُس کی چوڑی پشت کو دیکھتی دھیرے سے مسکرا دی تھی۔۔۔۔
مگر حمدان کو باہر گئے ابھی پانچ منٹ ہی گزرے تھے۔۔۔ جب باہر سے ایک دم گولیوں کی پوچھاڑ شروع ہوچکی تھی۔۔۔ اندرونی حصے میں کھڑی مہروسہ کسی انہونی کے خیال سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔
“نن نو ایسا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔ وہ لوگ حمدان کو کچھ نہیں کرسکتے۔۔۔۔”
مہروسہ اپنے اُوپر سے ساڑھی اُتار پھینتی اپنے حلیے میں واپس لوٹتی اپنی گنز نکالتی فوراً باہر کو بھاگی تھی۔۔۔۔ جب باہر آتے آگے کا منظر دیکھ اُس کے پاؤں زمین میں ہی جکڑے جاچکے تھے۔۔۔۔
باہر کسی نے بھی حمدان پر حملہ نہیں کیا تھا۔۔۔ بلکہ یہ سب کچھ جان بوجھ کر حمدان نے خود کیا تھا۔۔۔۔ صرف اُس کی اصلیت سامنے لانے کے لیے۔۔۔۔
اُس کے چہرے پر اب بھی ماسک تھا۔۔۔۔ اُس نے واپس پلٹنا چاہا تھا۔۔۔ جب حمدان کے اشارے پر پولیس والے اُسے چاروں جانب سے گھیر چکے تھے۔۔۔۔
“تمہیں کیا لگا۔۔۔ ہر بار تم لوگ ہمیں بے وقوف بنا کر نکل جاؤ گے۔۔۔ اور ہم کچھ نہیں کر پائیں گے۔۔۔۔ مس مہروسہ کنول تمہاری اِس آنکھ مچولی کا کھیل اب ختم ہوا۔۔۔ اب میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔۔”
حمدان بندوقوں میں گھری کھڑی مہروسہ کے قریب آتا اُسے نفرت آمیز نگاہوں سے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔۔
مگر اُسے مہروسہ کی آنکھوں میں اِس مقام پر پہنچ کر بھی خوف کی زرا دی رمق بھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔
حمدان اُس کے سر پر پہنچ چکا تھا۔۔۔ مہروسہ اِس وقت سیاہ لباس میں ملبوس تھی۔۔۔۔ اُس نے اوپر لیا ساڑھی کا کپڑا آتے ہوئے اُتار پھینکا تھا۔۔۔۔ گلاسز بھی اُتر چکی تھیں۔۔۔۔ جس سے اُس کی میک اپ سے سجی قاتل نگاہیں حمدان کے سامنے آچکی تھیں۔۔۔۔
اُس نے ہاتھ بڑھا کر مہروسہ کے چہرے سے ماسک ہٹانا چاہا تھا۔۔۔۔ مگر مہروسہ نے سر جھٹکتے چہرا فوراً نیچے کرلیا تھا۔۔۔۔
وہ نہیں چاہتی تھی حمدان اِس سچویشن میں اُس کا چہرا دیکھے۔۔۔۔۔
مگر اُس کی اِس حرکت پر حمدان سختی سے اُس کی کلائی اپنی گرفت میں دبوچتا گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ جہاں پہلے ہی پوری ٹیم تیار کھڑی تھی۔۔۔ حمدان اب اُسے فرار ہونے کی زرا سی مہلت نہیں دینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
مہروسہ نے نگاہیں اُٹھا کر دائیں جانب دیکھا تھا۔۔۔ جہاں کھڑے جنید نے ہاتھ سے اُس کی جانب وکٹری کا سائن بنا کر اُسے اپنی پہلی کامیابی پر مبارک باد دی تھی۔۔۔
مہروسہ نے مسکراتی نگاہوں سے سر ہلا کر اپنے ساتھ چلتے حمدان کو دیکھا تھا۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“تم۔۔۔ تم یہاں ہو تو اکبر سعید کہاں ہے۔۔۔۔؟؟؟ تم نے اُنہیں بھی مار دیا کیا۔۔۔۔؟؟”
حبہ شاک کی کیفیت میں ایک دم سامنے کا بدلتا منظر دیکھتے بولی۔۔۔۔
“ارے۔۔۔ تم اتنا ظالم کیوں سمجھتی ہو مجھے۔۔۔ میں اتنا بُرا بھی نہیں ہوں۔۔۔۔”
حازم اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتا اُسے اپنے قریب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔
“تم گھٹیا انسان۔۔۔۔ چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔۔”
حبہ اُس کے پیٹ میں زور دار پنچ رسید کرتی اُس پر دھاڑی تھی۔۔۔۔
“تم کبھی نارمل رہ کر بات نہیں کرسکتی کیا۔۔۔۔؟؟؟”
حازم اُس کی ٹھوڑی کو چھوتا اُسے مزید آگ لگا گیا تھا۔۔۔
“تم لوگ آخر چاہتے کیا ہو۔۔۔ اکبر سعید تو اچھا انسان تھا نا۔۔۔ اُسے کیوں مار دیا۔۔۔۔ اُس کے ساتھ کیا دشمنی تھی تمہاری۔۔۔۔۔ اور اتنے دنوں سے اُس معصوم لڑکی کو کیوں اغوا کر رکھا ہے۔۔۔ کیا بگاڑا ہے اُس نے تمہارا۔۔۔۔ ؟؟؟”
حبہ اُس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتے زہر خند لہجے میں بولی تھی۔۔۔
“وہ کیا ہے نا کہ آج تک تمہارے کسی سوال کا ٹھیک سے جواب اِس کیے نہیں دے پاتا۔۔۔ کیونکہ مجھے صرف پیار اور نرمی کی زبان سمجھ آتی ہے۔۔۔ ایک بار پیار سے مخاطب کرکے تو دیکھو سب کچھ بتا دوں گا۔۔۔۔”
حازم نے ہاتھ بڑھا کر اُس کی چین کو باہر نکالا تھا۔۔۔ جو اُن نے اپنے گریبان کے اندر چھپا رکھی تھی۔۔۔۔
حبہ اب بنا مزاحمت کیے اُس کی گرفت میں خاموشی سے کھڑی اُسے غصیلی نگاہوں سے گھور رہی تھی۔۔۔۔ یہ شخص اُسے دنیا کا سب سے بڑا سائیکو معلوم ہوتا تھا۔۔۔۔
جو کبھی کوئی سیدھی بات تو کر ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔
“تم مر کیوں نہیں جاتے۔۔۔۔۔؟؟؟ میری دل سے بد دعا ہے۔۔۔ کہ تم بلیک سٹارز نست و نابود ہوجاؤ۔۔۔۔ جیسے تم لوگ دوسروں کے گھر اُجاڑ رہے ہو۔۔۔ ویسا ہی حال تم لوگوں کے ساتھ بھی ہو۔۔۔۔”
حبہ اُس کی شرٹ سینے سے دونوں مُٹھیوں میں دبوچتی اُسے دل سے بد دعا دے گئی تھی۔۔۔۔ جس پر کچھ لمحے اُسے گہری نگاہوں سے دیکھتے حازم اُسے اپنے قری تر کر گیا تھا۔۔۔ اتنا کہ حبہ کو اُس کی گرم سانسوں سے اپنا چہرا جھلستا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
“تمہاری دی گئی بد دعا بھی سر آنکھوں پر ایس پی صاحبہ۔۔۔ مگر کہیں ایسا نہ ہو میرے مرنے پر سب سے زیادہ آنسو بھی کہیں تم ہی بیٹھ کر نہ بہا رہی ہو۔۔۔ اور رہی بات گھر اُجڑنے کی۔۔۔ تو جن کے گھر ہوں ہی نہ اُنہیں اُجڑنے کا کیا ڈر۔۔۔۔۔ “
حازم اُس کے ماتھے پر لب رکھتے بولتا حبہ کو کچھ لمحے کے لیے مسمرائز کرگیا تھا۔۔۔۔ حبہ یک ٹک اُسے تکے گئی تھی۔۔۔۔
“کون ہو تم؟؟؟؟”
حبہ کے لب پھڑپھڑائے تھے۔۔
“اپنی شناخت بہت پہلے سے تمہارے گلے میں پہنا دی ہے۔۔۔۔۔ کھول کے دیکھ لو۔۔۔۔”
حازم کی بات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی۔۔۔ جب اُسے اپنے سینے پر کوئی نوکیلی شے محسوس ہوئی تھی۔۔۔
حبہ اُسے باتوں میں لگا کر اُس کے سینے پر اپنی گن رکھ چکی تھی۔۔۔۔
“گن رکھی ہے تو گولی بھی چلا دو۔۔۔۔۔”
حازم اُس کے دلکش نقوش کو آنکھوں میں سجاتا دھیرے سے مسکرایا تھا۔۔۔۔
“اکبر سعید کہاں ہے۔۔۔۔۔؟؟؟ تم کیوں نقصان پہنچانا چاہتے ہو اُنہیں۔۔۔۔”
حبہ آنکھوں میں نفرت لیے اُس سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔
“اکبر سعید بالکل ٹھیک ہے۔۔۔۔ ساتھ والے کمرے میں سکون کی نیند سو رہا ہے۔۔۔۔۔ ہم یہاں اُسے یا باقی آئے مہمانوں کو نقصان پہنچانے نہیں آئے تھے۔۔۔ بلکہ اپنے کسی بہت اہم مقصد سے آئے تھے۔۔۔ جو کہ اب پورا ہوچکا ہے۔۔۔۔۔ بلیک سٹارز کون ہیں۔۔۔؟ کہاں سے آئیں ہیں؟ کہاں رہتے ہیں؟ اور کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اِن سوالات کے جوابات تم لوگوں کو تب تک نہیں مل پائیں گے جب تک ہم خود نہیں چاہیں گے۔۔۔۔۔۔ لیکن ایک سوال کا جواب اب تمہیں خود ہی ڈھونڈنا ہوگا۔۔۔ بلیک سٹارز نے اب تک کتنے گھر برباد کیے ہیں۔۔۔ کتنے مظلوموں پر ظلم کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟ اور مجھے بہت انتظار رہے گا تمہارے اِس سوال کے جواب کا۔۔۔۔”
حازم اُسے کچھ بھی بتانے کے بجائے مزید اُلجھا چکا تھا۔۔۔
اُس نے سینے پر بندوق تو تان لی تھی۔۔۔ مگر وہ اس شخص کو مار نہیں سکتی تھی۔۔۔۔۔
“میں وعدہ کرتی ہوں تم سے۔۔۔۔ تمہارے منہ سے تمہارا ایک ایک گناہ اگلوا کر اپنے ہاتھوں سے ماروں گی تمہیں۔۔۔۔”
حبہ گن پیچھے ہٹا چکی تھی۔۔۔۔
حازم نے اُسے اپنی گرفت سے آزاد ابھی بھی نہیں کیا تھا۔۔۔ مگر حبہ کے لیے یہ بات بھی سب سے زیادہ حیرت کی بات تھی کہ اِس درندے کی گرفت اُس کے لیے ہمیشہ بہت ہی نرم ہوا کرتی تھی۔۔۔
“میں بھی وعدہ کرتا ہوں۔۔۔ تم سے شادی کیے بغیر تو اِس دنیا سے رخصت نہیں ہونگا۔۔۔۔”
حبہ کے گال پر اپنے ہونٹوں کا نشان چھوڑتا وہ ہر بار کی طرح اِس بار بھی اُس کی دونوں کلائیاں اپنے سکارف سے باندھ چکا تھا۔۔۔۔
“آئی ول کل یو۔۔۔۔۔”
اُس کے لمس پر حبہ چلائی تھی۔۔۔۔
“بٹ آئی لو یو مائی لو۔۔۔۔۔”
حازم دور سے اُس کی جانب فلائنگ کس اُچھالتا کھڑکی سے باہر جمپ کر گیا تھا۔۔۔ کیونکہ اُسے جنید کا میسیج موصول ہوچکا تھا۔۔۔ اُن کے پلان کے مطابق مہروسہ ایس پی حمدان کی قید میں جاچکی تھی۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

اُس کی آنکھوں کے سامنے اُس کا پورا گھر جل رہا تھا۔۔۔ وہ چلا رہا تھا۔۔۔ روک رہا تھا اُن لوگوں کو۔۔۔ مگر اُس کے ہاتھ پیر باندھ کر اُسے کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا تھا۔۔۔۔
وہ بے بسی سے اپنوں کو آگ میں زندہ جلتے دیکھتے رہنے کے سوا کچھ نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔
وہ رو رہا تھا چلا رہا تھا۔۔۔ مگر کوئی اُس پر رحم نہیں کھا رہا تھا۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے اُس کا سب کچھ خاک ہوگیا تھا۔۔۔ مگر وہ کچھ نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔
سیاہ پردوں سے سجا وہ سیاہ کمرہ اِس وقت پوری طرح تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔ جس کے بیچوں بیچ پڑے بیڈ پر لیٹا وہ وجود آج پھر اپنی زندگی کے سب سے بھیانک خواب کے زیرِ اثر اذیت میں تھا۔۔۔۔
اُس کا پورا وجود پسینے سے شرابور ہوچکا تھا۔۔۔۔ تکیے پر سر ادِھر اُدھر مارتا وہ بیڈ شیٹ کو اپنی مُٹھیوں میں دبوچے ہوئے تھا۔۔۔۔ اُس کی بند آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔ مت مارو انہیں۔۔۔۔ چھوڑ دو انہیں۔۔۔ مت جلاؤ۔۔۔ مت مارو۔۔۔۔۔ وہ جل رہے ہیں۔۔۔ کوئی تو بچاؤ اُنہیں۔۔۔۔”
وہ آنکھیں کھولتا زور سے دہاڑا تھا۔۔۔۔ اُس کی شیر کی سی للکاڑ روم کے باہر سے گزرتی پریسا آفندی کو خوف کے مارے لڑکھڑانے پر مجبور کر گئی تھی۔۔۔۔
“یی۔۔۔ یہ کون ہے۔۔۔؟؟ کون کس کو جلا رہا ہے۔۔۔؟؟ یہ شخص اِس طرح کیوں چلا رہا ہے۔۔۔۔”
پریسا تشویش زدہ سی آگے بڑھتی اُس کمرے کے سیاہ دروازے کو دھکیل کر اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔
مگر سامنے کا منظر دیکھ وہ اپنی جگہ پتھر کی ہوئی تھی۔۔۔۔ وہ بھیانک خواب سے ڈرا ہوا شخص کوئی اور نہیں اِس بلیک ہاؤس کا بلیک بیسٹ تھا۔۔۔۔
وہ پل بھر میں دوسروں کی گردنیں اُڑا دینے والا شاہ ویز سکندر تھا۔۔۔ جو اِس وقت انتہائی قابلے رحم حالت میں تھا۔۔۔۔
پریسا نجانے کس احساس کے تحت اُس کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔ بیڈ پر سر جھکائے بیٹھا وہ شخص اسے کہیں سے بھی بلیک بیسٹ نہیں لگا تھا۔۔۔
“آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟؟؟”
پریسا نے اُس کے قریب جاتے کمزور سی آواز میں پوچھا تھا۔۔۔۔
اُس کی پکار پر شاہ ویز نے جھٹکے سے سر اُوپر اُٹھایا تھا۔۔۔ چند لمحے اُسے خالی خالی نگاہوں سے گھورتے وہ اُس کی کلائی اپنی گرفت میں لیتا اگلے ہی لمحے اُسے اپنی جانب کھینچتا اپنے حصار میں لے چکا تھا۔۔۔
پریسا اِس غیر متوقع عمل پر گھبرا گئی تھی۔۔۔
“تم وعدہ کرو کبھی مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤ گی۔۔۔۔ نہیں رہ سکتا میں تمہارے بغیر۔۔۔۔۔ تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتی کتنی ضروری ہو تم میرے لیے۔۔۔۔”
پریسا کو اپنی متاعِ جاں کی طرح اپنے سینے میں بھینچے بولتا وہ اُسے ساکت کر گیا تھا۔۔۔۔ اُس کے مضبوط لمس میں پھڑپھڑاتی وہ اپنی جگہ ساکت ہوئی تھی۔۔۔
یہ شخص کیا بول رہا تھا۔۔۔۔ کیا یہ سب اُس کے لیے تھا؟؟؟
نہیں وہ تو اُسے جانتی تک نہیں تھی۔۔۔ یہ شخص اُس کے لیے ایسا کیسے بول سکتا تھا۔۔۔۔
وہ خود کو اُس کی مضبوط گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔ مگر وہ ایسا کرنے کو تیار ہی نہیں تھا۔۔۔۔
“چھچ چھوڑیں مجھے۔۔۔۔ “
پریسا اُس کے اِس جنونی لمس سے گھبرا گئی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد جاکر اُس کی گرفت ڈھیلی پڑی تھی۔۔ شاید وہ اِس وقت نیند میں ہی تھا۔۔۔ اور اب دوبارہ غنودگی میں جارہا تھا۔۔۔۔۔۔ جس کا فائدہ اُٹھاتے پریسا جلدی سے اُس کی گرفت سے نکلتی وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔
دروازے پر پہنچتے اُس نے پلٹ کر شاہ ویز کی جانب دیکھا تھا.۔۔۔ جو اب تکیے پر سر رکھے بے سدھ پڑا تھا۔۔۔
جس شخص کے رعب و دبدے سے اِس بلیک ہاؤس کا ایک ایک فرد ڈرتا تھا۔۔۔ جس کی دہشت ملک کی نامور شخصیات سے لے کر عام شخص کے دل میں اپنی دھاک بٹھائے ہوئے تھی۔۔۔
اُس کا ایک رُوپ ایسا بھی ہوسکتا تھا پریسا کو یقین نہیں آیا تھا۔۔۔ دوسروں کو اذیت میں ڈالنے والا یہ شخص خود بھی اِس قدر اذیت کا شکار کیسے تھا۔۔۔۔؟؟؟
پریسا کا دماغ بالکل ماؤف ہوچکا تھا۔۔۔۔ اُسے بے اختیار خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔ اگر شاہ ویز سکندر کو پتا چل گیا کہ وہ اُسے رات کو اِس حال میں دیکھ چکی ہے تو وہ اُس کا کیا حشر کرے گا۔۔۔۔
پریسا خود کو جی بھر کر لعنت ملامت کرچکی تھی۔۔۔ کہ اُسے ضرورت ہی کیا تھی رحم کھا کر اُس شخص کے قریب جانے کی۔۔۔۔۔
اِن سب خیالات سے اُلجھتے اچانک پریسا کے کانوں میں شاہ ویز کے کہے الفاظ دوہرائے تھے۔۔۔۔
“کیا یہ وحشی انسان کسی سے محبت کرتا تھا۔۔۔ اور وہ لڑکی اِسے چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔۔ یہ آخر کس کے بارے میں بات کررہا تھا۔۔۔۔۔ اِس کے چنگل سے بھلا کوئی لڑکی کیسے بچ کر جاسکتی ہے۔۔۔ اگر یہ اُس لڑکی سے محبت کرتا ہوتا تو اُسے زبردستی اپنے پاس بھی رکھ سکتا تھا۔۔۔۔ کہیں وہ لڑکی مر تو نہیں گئی۔۔۔ جس کی وجہ سے یہ اتنا پاگل درندہ بن چکا ہے۔۔۔۔”
پریسا کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔۔ اِنہیں اُلٹی سیدھی سوچوں میں اُلجھتے کب اُس کی آنکھ لگی تھی اُسے پتا بھی نہیں چلا تھا۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“آپ نے کل سے کھانا کیوں نہیں کھایا۔۔۔۔؟؟؟ اب یہ تو آپ کی پسند کا ہے نا۔۔۔”
اُس کے کمرے میں ناشتے کی ٹرے لے کر داخل ہوتی اقرا نے اُسے گم صم بیٹھے دیکھ پوچھا تھا۔۔۔۔
پریسا کو وہاں جو پروٹوکول مل رہا تھا۔۔۔ کبھی کبھی وہ اُس پر بھی حیران رہ جاتی تھی۔۔۔ اگر اِن لوگوں کی اُس سے اور اُس کے گھر والوں سے دشمنی تھی تو شاہ ویز کے علاوہ باقی سب کا اُس سے رویہ اتنا اچھا کیوں تھا۔۔۔
اُسے اُس کی پسند کی ہر شے کیوں مہیا کی جارہی تھی۔۔۔ جو بھی تھا مگر وہ اتنا تو جان گئی تھی کہ اُس بلیک بیسٹ کی مرضی کے سوا اِس بلیک ہاؤس میں کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا۔۔۔۔
“مجھے بھوک نہیں تھی۔۔۔۔؟؟”
پریسا نے نارمل انداز میں جواب دیا تھا۔۔۔۔
اُس کا دل شاہ ویز کے خوف سے لرز رہا تھا۔۔۔۔
“ابھی تو بھوک لگی ہوگی نا۔۔۔ ابھی کھا لیں۔۔۔ ویسے ایک بات پوچھوں آپ سے۔۔۔”
پریسا نے اقرا کے سوال پر چونک کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“جج جی پوچھیں۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا بمشکل اپنی ہکلاہٹ پر قابو پایا تھا۔۔۔
“رات کو کہیں آپ شاہ سر کے کمرے میں تو نہیں گئی تھیں۔۔”
اقراء نے کھوجتی نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“نہیں تو۔۔۔ مجھے بھلا کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے جو میں اُس کے کمرے میں جاؤں گی۔۔۔۔”
پریسا نے فوراً انکار کیا تھا۔۔۔
“آپ یہ کیوں پوچھ رہیں ؟”
پریسا نے کپکپاتی اُنگلیوں کو مڑورتے سرسری سا سوال کیا تھا۔۔۔
“نہیں وہ سر کے روم میں جانے کی ہم میں سے کسی کو اجازت نہیں ہے۔۔۔ آپ نے دیکھا ہوگا اُن کا روم الگ ایریا میں سب سے الگ تھلگ ہے۔۔۔۔ رات کے وقت کوئی وہاں نہیں جاتا۔۔۔۔ سر کو لگ رہا ہے کہ کل رات کوئی اُن کے روم میں اُن کے پاس آیا ہے۔۔۔ مگر اُنہیں یاد نہیں وہ کون تھی۔۔۔۔۔ اگر اُنہیں یاد آگیا تو خیر نہیں اُس لڑکی کی۔۔”
اقراء نے آج پہلی بار اُس سے اتنی تفصیل سے بات کی تھی۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔