No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
“ابھی اور اِسی وقت پانی لاکر دو۔۔۔ ورنہ تم لوگوں کے ساتھ بہت بُرا ہوگا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اپنی جگہ سے کھڑے ہوکر اُن کی جانب مُڑتا لال آنکھوں سے اُنہیں گھورتا بے حد خوفزدہ کرگیا تھا۔۔۔۔ بلیک بیسٹ کی دہشت سے یہاں کا آئی جی بھی کانپ اُٹھتا تھا۔۔ وہ تو پھر صرف ایک جیلر تھا۔۔۔۔۔
اُس کا عجیب سا خوفناک چہرا اور سُرخ آنکھیں دیکھ جیلر سمیت باقی سب بھی اپنی جگہ سہم اُٹھے تھے۔۔۔ اِس جگہ پر آکر آج تک کبھی کسی نے اِتنی اکڑ اور دہشت نہیں دیکھائی تھی ۔۔۔ جتنی یہ پھانسی کے قریب پہنچا شخص دیکھا رہا تھا۔۔۔۔
اُس کے چہرے پر موت کے خوف کا نام و نشان تک نہ تھا۔۔۔۔۔ اُس کے چہرے کے بگڑے زاویے بتا رہے تھے کہ اُسے یہ جیل کس قدر بُری لگی تھی۔۔۔ اور اُس کے رہنے کے شیانے شان بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔
جیلر نے بھاگ کر آتے ایک مٹی کے پیالے میں اُسے پانی دیا تھا۔۔۔ جیلر جو یہی سمجھا تھا کہ یہ شخص پیاس کی وجہ سے ایسا کررہا ہے۔۔۔۔ اُسے پانی اپنے ہاتھ پر گرا کر ہاتھ کو رگڑتے دیکھ وہ جیلر اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا کر رہ گیا تھا۔۔۔۔ اُس کا دل تو چاہا تھا جیل کے اندر جا کر اِس اُلٹی کھونپڑی والے مجرم کی بھی ویسے ہی دھلائی کرے جیسے وہ پہلے یہاں آئے مجرموں کے ساتھ سلوک کرتا تھا۔۔۔۔
مگر شاہ ویز سکندر کا کسرتی وجود دیکھ وہ یہ سب بس سوچ کر ہی رہ گیا تھا۔۔۔
اپنے ہاتھ سے خون کے لال دھبے مٹا کر شاہ کو سکون ملا تھا۔۔۔ اُس کی آنکھوں کی وحشت ناکی میں کچھ حد تک کمی آچکی تھی۔۔۔۔
اُسے پولیس کی حراست میں آئے پندرہ گھنٹے ہوچکے تھے۔۔۔ اب بس نو گھنٹے باقی تھے اُس کے یہاں سے رہاع ہونے کے۔۔۔۔۔۔
اُسے مہروسہ اور اپنے ساتھیوں پر پورا بھروسہ تھا۔۔۔۔ جن کی باہر سے دی جانے والی دھمکیوں کی وجہ سے ابھی تک نہ ہی اُس کا کسی قسم کا جسمانی ریمانڈ لیا گیا تھا اور نہ ہی ابھی تک کوئی تفشتیشی افسر اُس کے پاس آیا تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
مہروسہ کے کھائی سے نیچے کودنے کے بعد ہی حمدان اپنی ٹیم کے ساتھ دوسرے راستے سے نیچے پہنچا تھا۔۔۔ مگر وہاں کسی بھی شے کا نام و نشان تک نہیں تھا۔۔۔۔
“ڈیمڈ۔۔۔۔”
حمدان کا غصے سے بُرا حال تھا۔۔۔ اُس چھٹانک بھر کی لڑکی نے پورے ملک کی پولیس کو آگے لگا رکھا تھا۔۔۔ اور اُس کی اتنی کوششوں کے بعد بھی اُس کے ہاتھ تک نہیں آرہی تھی۔۔۔۔
سیاسی پارٹیز اور سوشل میڈیا پر لوگوں کا پریشر اُن پر بڑھتا جارہا تھا۔۔ ملک کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دینے کے نعرے لگانے والے سیاسی لیڈر اپنے بچوں کے اغوا ہوجانے پر پوری طرح بوکھلا چکے تھے۔۔۔ ہمیشہ غریبوں کے مرنے پر اور اُن پر آئے دن ہونے والے ظلم و ستم پر چند لفظی مذمت کرکے آگے بڑھ جانے والے لیڈر۔۔۔۔ آج اپنے بچوں کی تکلیف پر ملک تک کا سودا کرنے پر اُتر آئے تھے۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے بلیک سٹارز گینگ کا مطالبہ ماننے کا حکم بھی جاری کردیا تھا۔۔۔۔ مگر آئی جی صاحب اتنی جلدی اِس گینگ کے آگے سرنڈر کرنے کے حق میں نہیں تھے۔۔۔۔ اور اِس بار جو موقع اُن کے ہاتھ لگا تھا اُسے وہ کسی قیمت پر گنوانا نہیں چاہتے تھے۔۔۔۔ بلیک سٹارز کی لیڈر نے اُنہیں چوبیس گھنٹوں کا وقت دیا تھا۔۔۔ حمدان ان آخری نو گھنٹوں میں بھی ہمت نہیں ہارنا چاہتا تھا۔۔۔۔
“وہ لڑکی اغوا کیے گئے بچے کے ساتھ اِسی ایریا میں کہیں چھپی ہے۔۔۔۔ رحمان چوک اور ایف بلاک کے درمیان جتنے بھی گھر ہیں لیڈیز پولیس اہلکاروں کو لے جاکر اُن سب گھروں میں چھاپا مارو۔۔۔۔ وہ لڑکی کسی قیمت پر یہاں سے بچ کر نہیں نکلنی چاہیئے۔۔۔۔”
حمدان وائرلیس پر سب کو آرڈر دیتا خود بھی وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“میم وہ ایس پی حمدان کو شک ہوچکا ہے۔۔۔ کہ ہم یہیں اِسی علاقے میں چھپے ہوئے ہیں۔۔۔ اُس نے گھروں میں چھاپے مروانے شروع کر دیئے ہیں۔۔۔ وہ کسی بھی وقت یہاں پہنچ سکتا ہے۔۔۔۔ اب کیا کریں گے ہم۔۔۔۔ سب بچے تو یہیں ہمارے پاس ہیں۔۔۔۔ ہمیں بچوں کو ایک ساتھ یہاں نہیں رکھنا چاہیے تھا۔۔۔ اگر ہم بھی پکڑے گئے تو ہمارا گینگ سرے سے ختم ہوجائے گا۔۔۔۔”
جنید گھبرایا سا اندر داخل ہوتا مہروسہ کو اُن بچوں میں مصروف دیکھ خفگی سے بولا تھا۔۔۔ مہروسہ کو بچے بہت زیادہ پسند تھے۔۔۔ اور اِس وقت وہ متوقع خطرے سے بے پرواہ اُن اغوا کیے بچوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی۔۔۔۔
جنید کی بات پر اُس کے نقاب زدہ چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔ اپنی شناخت سامنے نہ لانے کی وجہ سے اُس نے بچوں کو اپنا چہرا نہیں دیکھایا تھا۔۔۔۔
“تم تو بہت زیادہ گھبرائے ہوئے ہو۔۔۔۔ پہلے یہ ٹھنڈا پانی پیوں اور اپنے دماغ کو ٹھنڈا کرو۔۔۔۔۔ “
مہروسہ نے گلاس میں پانی اُنڈیلتے جنید کی جانب بڑھایا تھا۔۔۔۔ جس سے چند گھونٹ بھرنے کے بعد جنید نے واپس ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔۔۔ مہروسہ کا یہ پرسکون انداز۔۔۔ اُس کی سمجھ سے بالا تر تھا۔۔۔۔
“ایس پی حمدان اپنی فورسز کا سب سے قابل اور زہین آفیسر ہے۔۔۔۔ خود کو اپنی زندگی کے اِس سب سے اہم کیس میں ہارتا کسی قیمت پر نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ جس کی خاطر وہ ہاتھ پیر تو مارے گا ہی نا۔۔۔۔ مگر ایس پی حمدان صدیقی کو سمجھنا ہوگا کہ کبھی کبھی کچھ اچھا حاصل کرنے کے لیے۔۔۔۔ ایسی چھوٹی موٹی ہار تو برداشت کرنا ہی پڑتی ہے۔۔۔۔ تم فکر مت کرو۔۔۔۔ ہم بالکل سیف ہیں۔۔۔ اِن بچے آٹھ گھنٹوں میں وہ ہم تک نہیں پہنچ پائیں گے۔۔۔ “
مہروسہ اُسے تسلی دیتی ٹیبل پر رکھے موبائل کو اُٹھاتی ایک بہت مشہور نیوز چینل کو کال ملا چکی تھی۔۔۔۔
جنید کو اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی اپنے گینگ لیڈرز کے کام کرنے کا طریقہ سمجھ میں نہیں آیا تھا۔۔۔
“بلیک سٹارز گینگ کی لیڈر بات کررہی ہوں۔۔۔۔ اپنی حکومت تک یہ بات پہنچا دو کہ میرے دیئے گئے وقت میں سے بہت کم ٹائم رہ گیا ہے۔۔۔۔ اگر میرا مطالبہ پورا نہیں کیا گیا تھا۔۔۔ ابھی صرف ایک بچے کی جان لی ہے۔۔۔۔ چند گھنٹوں بعد باقی کی لاشیں بھی اُن کے گھروں تک پہنچا دوں گی۔۔۔۔۔ ایک ویڈیو بھیج رہی ہوں۔۔۔۔ جن کو میری دھمکیوں پر یقین نہیں آرہا وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔۔۔۔ “
مہروسہ نے بنا آگے سے کچھ سنیں کال کاٹتے ایک ویڈیو اُس نمبر پر سینڈ کرتے موبائل جنید کی جانب بڑھا دیا تھا۔۔۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے اُس نے کھیل کھیل میں حمزہ کی ایک ویڈیو بنا لی تھی۔۔۔ جس میں منسٹر کا بیٹا حمزہ سانس روکے فرش پر لیٹا رہا تھا۔۔۔۔ اُس کے کپڑوں پر مہروسہ نے پہلے ہی سُرخ سیاہی مل دی تھی۔۔۔۔
ویڈیو میں یہی لگ رہا تھا۔۔۔ کہ حمزہ کی ڈیتھ ہو چکی ہے۔۔۔۔ مہروسہ کو یہ سب کرتے بہت بُرا لگا تھا۔۔۔۔ مگر اِس وقت یہ سب کرنے کے سوا اُس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔
“وہ ہمیں ٹریس کروا سکتے ہیں۔۔۔”
جنید کو مہروسہ کی دماغی حالت پر شبہ ہوا تھا۔۔۔
“میری بھیجی گئی ویڈیو دیکھنے کے بعد ایسا کرنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔۔ “
مہروسہ کے مسکرا کر کہنے پر جنید نے جلدی سے موبائل اوپن کرتے وہ ویڈیو دیکھی۔۔۔ اور جھٹکے سے نظریں اُٹھا کر زندہ سلامت ہنستے کھیلتے حمزہ کو دیکھا تھا۔۔۔
“یہ سب کیسے کیا آپ نے۔۔۔ ؟؟”
جنید اپنی لیڈر کے کمالات دیکھ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔۔۔۔
“بس تم ہمیشہ مجھے انڈر اسٹیمیٹ کرتے ہو۔۔۔ دیکھ لو اب میرا کمال۔۔۔۔ ایس پی حمدان کا نمبر ملا کر دو مجھے۔۔۔۔”
مہروسہ کا اگلا حکم سن کر جنید کا سر ایک بار پھر چکرا گیا تھا۔۔۔ مگر اِس بار بنا کوئی سوال جواب کیے وہ حمدان کا نمبر ڈائل کرتا فون اُسے تھما گیا تھا۔۔۔۔ جو اُنہوں نے اِس مشن سے پہلے یہاں کے تمام آفیسرز کا پرسنل ڈیٹا اکٹھا کرکے حاصل کیا تھا۔۔۔۔
“ایس پی حمدان صدیقی سپیکنگ!…..”
حمدان کی گھمبیر بھاری غصے سے لبریز آواز مہروسہ کی سماعتوں سے ٹکراتی اُس کی کاجل سے سجی جھیل سی آنکھوں کے دیپ روشن کر گئی تھی۔۔۔۔ وہ خود بھی سمجھ نہیں پارہی تھی۔۔۔ آخر یہ شخص اُس کے دل کو اتنا کیوں بھا گیا تھا۔۔۔۔
کیوں اُس کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتا انجانے ميں مہروسہ کنول جیسی لڑکی پر اپنا کنٹرول جما رہا تھا۔۔۔۔
“بلیک سٹارز گینگ کی لیڈر بات کررہی ہوں۔۔۔ “
مہروسہ کی دلکش مسکراتی سر بکھیرتی آواز حمدان صدیقی کو مزید انگاروں پر لو ٹا گئی تھی۔۔۔۔ اُس نے جلدی سے اپنے آدمی کو اشارہ کرتے اِس فون کال کی لوکیشن ٹریس کرنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔۔
“میں جانتی ہوں مجھ تک پہنچنے کے لیے بہت بے چین ہیں آپ ایس پی صاحب۔۔۔۔۔ حال تو میرا بھی کچھ ایسا ہی ہے۔۔۔۔ مگر اپنے دل پر پتھر رکھ کر کہنا پڑ رہا ہے کہ ابھی یہ ملاقات ممکن نہیں ہوسکتی۔۔۔۔۔ لیکن وعدہ رہا آپ سے بہت جلد ملنے آؤں گی آپ کو۔۔۔۔۔ “
مہروسہ کی فضول ترین باتوں پر حمدان کا خون کھول اُٹھا تھا۔۔۔۔۔ اگر کال ٹریس نہ کی جارہی ہوتی تو وہ کب کا یہ منحوس کال کاٹ چکا ہوتا۔۔۔۔
“جو تم کر رہی ہو۔۔۔ اُس کا انجام بہت بُرا ہوگا۔۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے عبرت ناک موت ماروں گا تمہیں میں۔۔۔۔ اب زیادہ دیر تک چھپ نہیں پاؤ گی تم مجھ سے۔۔۔”
حمدان کا بس نہیں چل رہا تھا موبائل فون کے اندر ہاتھ ڈال کر اُس کی گردن اپنے شکنجے میں دبوچ لے۔۔۔۔
“انجام کی پرواہ کسے ہے صاحب۔۔۔۔ ہاں آپ کی تھوڑی سی محبت کی طلب پیدا ہوگئی ہے اِس دل میں۔۔۔۔ جو حسرت بن کر مرتے دم تک ساتھ رہنے والی ہے۔۔۔۔”
مہروسہ نے ٹھنڈی آہیں بھرتے کہا تھا۔۔۔ وہ خود بھی دیکھ نہیں پائی تھی کہ یہ بات کرتے اُس کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔۔۔۔
“تم نے یہی گھٹیا بکواس کرنے کے لیے کال کی تھی مجھے۔۔۔۔۔ “
حمدان کا ضبط جواب دے چکا تھا۔۔۔۔
“نہیں یہ بتانے کے لیے کے مجھے ڈھونڈنے کے لیے بچارے لوگوں کے گھروں کی تلاشی لینا اور اِس وقت میری کال ٹریس کروانا بند کردیں۔۔۔۔ اور مان لیں کے آپ اِس لڑکی کے ہاتھوں اپنا پہلا کیس ہار چکے ہیں۔۔۔ اور بہت جلد دل کی بازی بھی ہاریں گے۔۔۔ انشاء اللہ۔۔۔ “
مہروسہ دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ اُس کا خون مزید جلاتی کال کاٹ گئی تھی۔۔۔۔ جب اُسی لمحے ایس ایچ او ندیم اُسے اپنے قریب آتا دیکھائی دیا تھا۔۔۔۔
“سر آئی جی صاحب کا آرڈر ہے کہ اِس ایریا سے سارے ناکے ختم کردیئے جائیں۔۔۔۔ اور اُنہوں نے بلیک سٹارز کے دونوں لیڈرز کو چھوڑنے کا بھی کہہ دیا ہے۔۔۔۔ اُس ظالم لڑکی نے اُس معصوم بچے کی جان لے لی ہے۔۔۔۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر پولیس والوں کو مزید رگیدا جارہا ہے۔۔۔۔ اور ہیلتھ منسٹر بھی تقریباً پاگل ہوچکا ہے۔۔۔ “
ایس ایچ او کی بات پر حمدان نے شدید طیش کے عالم میں موبائل سامنے رکھے بڑے سے پتھر پر دے مارا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“یہ لڑکی اب میرے ہاتھوں نہیں بچ پائے گی۔۔۔ اِس کی زندگی تباہ و برباد کرکے نہ رکھ دی تو میرا نام بھی ایس پی حمدان صدیقی نہیں۔۔۔۔”
حمدان راستے میں آئی ہر شے کو ٹھوکر سے اُڑاتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔ اُس معصوم بچے کی موت کا زمہ دار وہ خود کو سمجھ رہا تھا۔۔۔۔۔ کاش وہ اوپر سے دیئے گئے آرڈر کو فالو نہ کرتے اُس لڑکی کی کھونپڑی اُڑا دیتا تو اُس معصوم بچے کی جان بچ گئی ہوتی۔۔۔۔۔
ہر کیس میں کامیابی اور داد سمیٹنے والے ایس پی حمدان صدیقی کے لیے یہ ہار بہت بھاری ثابت ہورہی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“صاحب آپ کی ساتھی نے جو طوفان برپا کر رکھا ہے۔۔۔ اُس کو دیکھتے ہوئے اُوپر سے آرڈر آگیا ہے کہ آپ کو جیل سے آزاد کردیا جائے۔۔۔۔ مگر ہماری اے ایس پی صاحب ایسا کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔۔۔ اُن کے مطابق آپ جیسے شر پسند مجرم کو کھلا چھوڑنا بے وقوفی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔۔۔۔ وہ آپ کو یہاں سے کسی ایسی جگہ غائب کردینا چاہتی ہیں۔۔۔ جہاں نہ آپ کے ساتھی پہنچ پائیں اور نہ پولیس۔۔۔۔۔۔ اے ایس پی صاحبہ کسی بھی وقت یہاں پہنچنے والی ہیں۔۔۔۔ میرے لیے کیا حکم ہے۔۔۔۔؟؟؟”
میر حازم جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑا اُس اہلکار کی بات سن کر مسکرایا تھا۔۔۔
“ْآنے دو اُس اے ایس پی کو۔۔۔ نبٹ لیں گے اُس سے بھی۔۔۔۔۔ تم باہر جاؤ۔۔۔ گیٹ کے دائیں جانب سفید لباس اور گھنگھریالے بالوں والا ایک آدمی کھڑا ہوگا۔۔۔۔ اُسے کہو تیار رہے۔۔۔ “
میر کی بات پر وہ اہلکار بنا کوئی سوال کیے سر ہلاتا وہاں سے ہٹ گیا تھا۔۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ اِس آدمی کی پہنچ بہت اُوپر تک تھی۔۔۔ اتنی سخت سیکورٹی کے باوجود وہ بہت آسانی سے اپنے آدمیوں سے رابطہ کر پارہا تھا۔۔۔۔
اے ایس پی حبہ امتشال کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔۔۔۔ کہ پولیس یونیفارم میں ملبوس اُس کا اپنا اہلکار میر حازم سالار کے لیے کام کرتا تھا۔۔۔۔۔
ابھی اُس اہلکار کو گئے کچھ دیر ہی ہوئی تھی۔۔۔ جب جیل کی سلاخوں کے ساتھ کمر ٹکائے کھڑے حازم کے نتھنوں سے انتہائی دلفریب خوشبو کا جھونکا ٹکرایا تھا۔۔۔۔ بنا دیکھے ہی وہ اِس خوشبو کی مالک کو پہچان گیا تھا۔۔۔۔
“زہے نصیب۔۔۔۔ اے ایس پی صاحب۔۔۔۔ تو آخر کار آپ کو ہماری یاد آہی گئی۔۔۔۔”
حازم فل یونیفارم میں ملبوس اے ایس پی حبہ امتشال کو سر سے پیر تک گہری نگاہوں سے گھورتا اُس کے پورے وجود میں ناگواری کی لہر دوڑا گیا تھا۔۔۔ حبہ کے پیچھے بندوقیں اُٹھائے دو اہلکار بھی موجود تھے۔۔۔ وہ جانتی تھی اِس جیسے مجرم سے اکیلے مقابلہ کرنا جذباتیت اور بے وقوفی سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔۔۔
” اب جو میں تمہارے ساتھ کرنے جارہی ہوں۔۔۔ یاد تو تم مجھے ضرور کرو گے۔۔۔۔”
حبہ جیل کا لاک کھولتی اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔ اُس کے ہاتھ میں ہتھکڑی تھی جس کا لاک کھولتے اُس نے کیز اپنی پاکٹ میں ڈال لی تھیں۔۔۔۔
“قسم سے تم سے پہلے اتنی نازک پولیس والی کبھی نہیں دیکھی۔۔۔۔ “
حازم نے ہر بار کی طرح اب بھی اس کی بات کو نظرانداز کرتے اپنے مطلب کا جواب دیا تھا۔۔۔۔ جس پر حبہ نے غصے سے پاگل ہوتے اُس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگانی چاہی تھی۔۔۔۔ لیکن اُس سے پہلے ہی حازم اُس کی کلائی دبوچتا اُس کی پاکٹ سے پسٹل نکالتا اُسے اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔
“خبردار!.. اگر کسی نے آگے آنے کی کوشش کی۔۔۔ تو تمہاری اِس آفیسر کی کھونپڑی اُڑانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا مجھے۔۔۔۔”
حازم کی دھمکی پر وہ اہلکار بھی ڈھیلے پڑے تھے۔۔۔۔ جبکہ حبہ کا چہرا شدتِ ضبط سے سُرخ پڑ چکا تھا۔۔۔۔ وہ پوری کوشش کررہی تھی خود کو آزاد کروانے کی مگر اِس شخص کے ہاتھ میں گن موجود تھی۔۔۔ اور حبہ اِس شخص سے کسی بھی بات کی اُمید کر سکتی تھی۔۔۔
“اِس خوشبو کو بہت مس کروں گا۔۔۔ “
ہتھکڑی سے حبہ کے دونوں ہاتھ پیچھے کمر پر باندھے وہ اُس کے وجود سے اُٹھتی دلفریب مہک اپنی سانسوں میں اُتارنے لگا تھا۔۔۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے ابھی بھاگ جاؤ گے تو دوبارہ تم تک نہیں پہنچ پاؤں گی میں۔۔۔۔”
حبہ نے اُسے پیر سے ایک زوردار کک رسید کی تھی۔۔۔۔ جو میر کے فولادی وجود کا کچھ نہیں بگاڑ پائی تھی۔۔۔۔
میر اُسے ایسے ہی یرغمال بنائے گیٹ تک لے آیا تھا۔۔۔۔ اُس کے ہاتھ میں گن دیکھ کوئی بھی قریب نہیں آپایا تھا۔۔۔۔
“نہیں اب اگلی بار میں تمہارے پاس نہیں تم میرے پاس آؤ گی۔۔۔۔ میرے بلاوے کا انتظار کرنا اے ایس پی حبہ امتشال۔۔۔۔۔”
میر وہاں موجود تھانے کے تمام اہلکاروں کے سامنے اُس کے اُوپر جھک کر اُس کی کنپٹی پر سے پسٹل ہٹا کر وہاں اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑتے لمحوں کے اندر گیٹ سے باہر اچانک بنتی بھیڑ میں گم ہوگیا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“یہ دہشت گرد تو وہی قاتل ہے۔۔۔ جس نے میرے سامنے ان بچارے لوگوں کو مارا تھا۔۔۔۔۔ نہیں میں یوں ڈر کر اور خاموش بیٹھ کر بہت غلط کروں گی۔۔۔۔ مجھے پولیس والوں کی مدد کرنی ہوگی۔۔۔۔۔ لیکن اگر وہ وہی شخص نہ ہوا کوئی اور ہوا تو۔۔۔۔۔ میں کیسے پتا لگاؤں کے یہ وہی ہے۔۔۔۔۔ کوئی ثبوت بھی تو۔۔۔۔۔”
پریسا اپنے روم میں ٹہلتی مسلسل تفتیش کا شکار تھی۔۔۔ اُسے کسی طور چین نہیں مل رہا تھا۔۔۔ اُسے شدید نفرت محسوس ہورہی تھی اُس شخص سے جسے لوگوں کی زندگیاں چھیننے کے سوا کچھ آتا ہی نہیں تھا۔۔۔۔
اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ پولیس والوں تک یہ بات پہنچا کر اُن کی مدد کیسے کرے۔۔۔ جب اچانک اُسے گل بہار بیکرز کے باہر لگا سی سی ٹی وی کیمرہ یاد آیا تھا۔۔۔۔ جس کے ساتھ ہی اُس کی آنکھیں چمک اُٹھی تھیں۔۔۔۔
اِس وقت وہ بالکل بے خوف تھی کیونکہ وہ وہ عجیب و غریب شکل والا شخص ابھی پولیس کی حراست میں تھا۔۔۔ اِس لیے اب وہ اُس کے خلاف پولیس والوں کو مزید ثبوت دے کر اُسے زیادہ وقت تک اندر ہی قید رہنے دینے کی ایک کوشش تو کر ہی سکتی تھی۔۔۔
پریسا اپنا موبائل اُٹھاتی روم سے نکل آئی تھی۔۔۔ اِس وقت سب لوگ ڈرائینگ روم میں بیٹھے شام کی چائے پینے میں مصروف تھے۔۔۔۔ اُس کی خراب طبیعت کی وجہ سے کوئی اُسے جانے نہ دیتا اِس لیے وہ ڈرائینگ میں جھانکے بغیر ہی باہر باہر سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
اپنے ڈرائیور کو وہ پہلے ہی آرڈر دے چکی تھی۔۔۔۔۔
گل بہار بیکرز تک پہنچتے اُسے اچھا خاصہ ٹائم لگا گیا تھا۔۔۔۔ شام آہستہ آہستہ رات میں ڈھل رہی تھی۔۔۔۔
“گل بھائی آپ سے ایک بہت ضروری کام تھا۔۔۔۔”
پریسا اُنہیں کیک کے کاؤنٹر کے قریب کھڑا دیکھ اُن کے پاس آتے بولی تھی۔۔۔۔۔
“جی بیٹا بولیں۔۔۔۔”
گل شیر نے اُس کی پریشان صورت دیکھ اپنی مصروفیت ترک کرتے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“مجھے آپ کی بیکری کے باہر کی کل شام کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنی ہے۔۔۔۔ پلیز یہ امپورٹنٹ ہے۔۔۔ میری ہیلپ کردیں۔۔۔۔”
پریسا آس پاس موجود لوگوں کے خیال سے قدرے آہستہ آواز میں بولی تھی۔۔۔۔
“مجھے آپ کی مدد کرکے بہت خوشی ہوتی بیٹا۔۔۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ باہر جو کیمرہ لگا ہے وہ ایک ہفتے سے خراب ہے۔۔۔۔ اُس میں تو کوئی ریکارڈنگ ہو ہی نہیں رہی۔۔۔۔۔۔”
گل شیر کی بات پر پریسا کے چہرے پر نااُمیدی پھیل گئی تھی۔۔۔ وہ اثبات میں سر ہلا کر اُنہیں خدا حافظ کرتے وہاں سے نکل آئی تھی۔۔۔۔
“اب میں کیسے ثبوت اکٹھا کھڑوں گی اُس شخص کے خلاف۔۔۔۔۔۔”
پریسا زیرِ لب بڑبڑاتی اپنی گاڑی کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ جب کسی نے اُس کی کلائی اپنی فولادی گرفت میں سختی سے جکڑتے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔#جانِ_ستمگر
ازقلمفرواخالد
قسط_نمبر_5
“ابھی اور اِسی وقت پانی لاکر دو۔۔۔ ورنہ تم لوگوں کے ساتھ بہت بُرا ہوگا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اپنی جگہ سے کھڑے ہوکر اُن کی جانب مُڑتا لال آنکھوں سے اُنہیں گھورتا بے حد خوفزدہ کرگیا تھا۔۔۔۔ بلیک بیسٹ کی دہشت سے یہاں کا آئی جی بھی کانپ اُٹھتا تھا۔۔ وہ تو پھر صرف ایک جیلر تھا۔۔۔۔۔
اُس کا عجیب سا خوفناک چہرا اور سُرخ آنکھیں دیکھ جیلر سمیت باقی سب بھی اپنی جگہ سہم اُٹھے تھے۔۔۔ اِس جگہ پر آکر آج تک کبھی کسی نے اِتنی اکڑ اور دہشت نہیں دیکھائی تھی ۔۔۔ جتنی یہ پھانسی کے قریب پہنچا شخص دیکھا رہا تھا۔۔۔۔
اُس کے چہرے پر موت کے خوف کا نام و نشان تک نہ تھا۔۔۔۔۔ اُس کے چہرے کے بگڑے زاویے بتا رہے تھے کہ اُسے یہ جیل کس قدر بُری لگی تھی۔۔۔ اور اُس کے رہنے کے شیانے شان بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔
جیلر نے بھاگ کر آتے ایک مٹی کے پیالے میں اُسے پانی دیا تھا۔۔۔ جیلر جو یہی سمجھا تھا کہ یہ شخص پیاس کی وجہ سے ایسا کررہا ہے۔۔۔۔ اُسے پانی اپنے ہاتھ پر گرا کر ہاتھ کو رگڑتے دیکھ وہ جیلر اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا کر رہ گیا تھا۔۔۔۔ اُس کا دل تو چاہا تھا جیل کے اندر جا کر اِس اُلٹی کھونپڑی والے مجرم کی بھی ویسے ہی دھلائی کرے جیسے وہ پہلے یہاں آئے مجرموں کے ساتھ سلوک کرتا تھا۔۔۔۔
مگر شاہ ویز سکندر کا کسرتی وجود دیکھ وہ یہ سب بس سوچ کر ہی رہ گیا تھا۔۔۔
اپنے ہاتھ سے خون کے لال دھبے مٹا کر شاہ کو سکون ملا تھا۔۔۔ اُس کی آنکھوں کی وحشت ناکی میں کچھ حد تک کمی آچکی تھی۔۔۔۔
اُسے پولیس کی حراست میں آئے پندرہ گھنٹے ہوچکے تھے۔۔۔ اب بس نو گھنٹے باقی تھے اُس کے یہاں سے رہاع ہونے کے۔۔۔۔۔۔
اُسے مہروسہ اور اپنے ساتھیوں پر پورا بھروسہ تھا۔۔۔۔ جن کی باہر سے دی جانے والی دھمکیوں کی وجہ سے ابھی تک نہ ہی اُس کا کسی قسم کا جسمانی ریمانڈ لیا گیا تھا اور نہ ہی ابھی تک کوئی تفشتیشی افسر اُس کے پاس آیا تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
مہروسہ کے کھائی سے نیچے کودنے کے بعد ہی حمدان اپنی ٹیم کے ساتھ دوسرے راستے سے نیچے پہنچا تھا۔۔۔ مگر وہاں کسی بھی شے کا نام و نشان تک نہیں تھا۔۔۔۔
“ڈیمڈ۔۔۔۔”
حمدان کا غصے سے بُرا حال تھا۔۔۔ اُس چھٹانک بھر کی لڑکی نے پورے ملک کی پولیس کو آگے لگا رکھا تھا۔۔۔ اور اُس کی اتنی کوششوں کے بعد بھی اُس کے ہاتھ تک نہیں آرہی تھی۔۔۔۔
سیاسی پارٹیز اور سوشل میڈیا پر لوگوں کا پریشر اُن پر بڑھتا جارہا تھا۔۔ ملک کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دینے کے نعرے لگانے والے سیاسی لیڈر اپنے بچوں کے اغوا ہوجانے پر پوری طرح بوکھلا چکے تھے۔۔۔ ہمیشہ غریبوں کے مرنے پر اور اُن پر آئے دن ہونے والے ظلم و ستم پر چند لفظی مذمت کرکے آگے بڑھ جانے والے لیڈر۔۔۔۔ آج اپنے بچوں کی تکلیف پر ملک تک کا سودا کرنے پر اُتر آئے تھے۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے بلیک سٹارز گینگ کا مطالبہ ماننے کا حکم بھی جاری کردیا تھا۔۔۔۔ مگر آئی جی صاحب اتنی جلدی اِس گینگ کے آگے سرنڈر کرنے کے حق میں نہیں تھے۔۔۔۔ اور اِس بار جو موقع اُن کے ہاتھ لگا تھا اُسے وہ کسی قیمت پر گنوانا نہیں چاہتے تھے۔۔۔۔ بلیک سٹارز کی لیڈر نے اُنہیں چوبیس گھنٹوں کا وقت دیا تھا۔۔۔ حمدان ان آخری نو گھنٹوں میں بھی ہمت نہیں ہارنا چاہتا تھا۔۔۔۔
“وہ لڑکی اغوا کیے گئے بچے کے ساتھ اِسی ایریا میں کہیں چھپی ہے۔۔۔۔ رحمان چوک اور ایف بلاک کے درمیان جتنے بھی گھر ہیں لیڈیز پولیس اہلکاروں کو لے جاکر اُن سب گھروں میں چھاپا مارو۔۔۔۔ وہ لڑکی کسی قیمت پر یہاں سے بچ کر نہیں نکلنی چاہیئے۔۔۔۔”
حمدان وائرلیس پر سب کو آرڈر دیتا خود بھی وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“میم وہ ایس پی حمدان کو شک ہوچکا ہے۔۔۔ کہ ہم یہیں اِسی علاقے میں چھپے ہوئے ہیں۔۔۔ اُس نے گھروں میں چھاپے مروانے شروع کر دیئے ہیں۔۔۔ وہ کسی بھی وقت یہاں پہنچ سکتا ہے۔۔۔۔ اب کیا کریں گے ہم۔۔۔۔ سب بچے تو یہیں ہمارے پاس ہیں۔۔۔۔ ہمیں بچوں کو ایک ساتھ یہاں نہیں رکھنا چاہیے تھا۔۔۔ اگر ہم بھی پکڑے گئے تو ہمارا گینگ سرے سے ختم ہوجائے گا۔۔۔۔”
جنید گھبرایا سا اندر داخل ہوتا مہروسہ کو اُن بچوں میں مصروف دیکھ خفگی سے بولا تھا۔۔۔ مہروسہ کو بچے بہت زیادہ پسند تھے۔۔۔ اور اِس وقت وہ متوقع خطرے سے بے پرواہ اُن اغوا کیے بچوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی۔۔۔۔
جنید کی بات پر اُس کے نقاب زدہ چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔ اپنی شناخت سامنے نہ لانے کی وجہ سے اُس نے بچوں کو اپنا چہرا نہیں دیکھایا تھا۔۔۔۔
“تم تو بہت زیادہ گھبرائے ہوئے ہو۔۔۔۔ پہلے یہ ٹھنڈا پانی پیوں اور اپنے دماغ کو ٹھنڈا کرو۔۔۔۔۔ “
مہروسہ نے گلاس میں پانی اُنڈیلتے جنید کی جانب بڑھایا تھا۔۔۔۔ جس سے چند گھونٹ بھرنے کے بعد جنید نے واپس ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔۔۔ مہروسہ کا یہ پرسکون انداز۔۔۔ اُس کی سمجھ سے بالا تر تھا۔۔۔۔
“ایس پی حمدان اپنی فورسز کا سب سے قابل اور زہین آفیسر ہے۔۔۔۔ خود کو اپنی زندگی کے اِس سب سے اہم کیس میں ہارتا کسی قیمت پر نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ جس کی خاطر وہ ہاتھ پیر تو مارے گا ہی نا۔۔۔۔ مگر ایس پی حمدان صدیقی کو سمجھنا ہوگا کہ کبھی کبھی کچھ اچھا حاصل کرنے کے لیے۔۔۔۔ ایسی چھوٹی موٹی ہار تو برداشت کرنا ہی پڑتی ہے۔۔۔۔ تم فکر مت کرو۔۔۔۔ ہم بالکل سیف ہیں۔۔۔ اِن بچے آٹھ گھنٹوں میں وہ ہم تک نہیں پہنچ پائیں گے۔۔۔ “
مہروسہ اُسے تسلی دیتی ٹیبل پر رکھے موبائل کو اُٹھاتی ایک بہت مشہور نیوز چینل کو کال ملا چکی تھی۔۔۔۔
جنید کو اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی اپنے گینگ لیڈرز کے کام کرنے کا طریقہ سمجھ میں نہیں آیا تھا۔۔۔
“بلیک سٹارز گینگ کی لیڈر بات کررہی ہوں۔۔۔۔ اپنی حکومت تک یہ بات پہنچا دو کہ میرے دیئے گئے وقت میں سے بہت کم ٹائم رہ گیا ہے۔۔۔۔ اگر میرا مطالبہ پورا نہیں کیا گیا تھا۔۔۔ ابھی صرف ایک بچے کی جان لی ہے۔۔۔۔ چند گھنٹوں بعد باقی کی لاشیں بھی اُن کے گھروں تک پہنچا دوں گی۔۔۔۔۔ ایک ویڈیو بھیج رہی ہوں۔۔۔۔ جن کو میری دھمکیوں پر یقین نہیں آرہا وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔۔۔۔ “
مہروسہ نے بنا آگے سے کچھ سنیں کال کاٹتے ایک ویڈیو اُس نمبر پر سینڈ کرتے موبائل جنید کی جانب بڑھا دیا تھا۔۔۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے اُس نے کھیل کھیل میں حمزہ کی ایک ویڈیو بنا لی تھی۔۔۔ جس میں منسٹر کا بیٹا حمزہ سانس روکے فرش پر لیٹا رہا تھا۔۔۔۔ اُس کے کپڑوں پر مہروسہ نے پہلے ہی سُرخ سیاہی مل دی تھی۔۔۔۔
ویڈیو میں یہی لگ رہا تھا۔۔۔ کہ حمزہ کی ڈیتھ ہو چکی ہے۔۔۔۔ مہروسہ کو یہ سب کرتے بہت بُرا لگا تھا۔۔۔۔ مگر اِس وقت یہ سب کرنے کے سوا اُس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔
“وہ ہمیں ٹریس کروا سکتے ہیں۔۔۔”
جنید کو مہروسہ کی دماغی حالت پر شبہ ہوا تھا۔۔۔
“میری بھیجی گئی ویڈیو دیکھنے کے بعد ایسا کرنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔۔ “
مہروسہ کے مسکرا کر کہنے پر جنید نے جلدی سے موبائل اوپن کرتے وہ ویڈیو دیکھی۔۔۔ اور جھٹکے سے نظریں اُٹھا کر زندہ سلامت ہنستے کھیلتے حمزہ کو دیکھا تھا۔۔۔
“یہ سب کیسے کیا آپ نے۔۔۔ ؟؟”
جنید اپنی لیڈر کے کمالات دیکھ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔۔۔۔
“بس تم ہمیشہ مجھے انڈر اسٹیمیٹ کرتے ہو۔۔۔ دیکھ لو اب میرا کمال۔۔۔۔ ایس پی حمدان کا نمبر ملا کر دو مجھے۔۔۔۔”
مہروسہ کا اگلا حکم سن کر جنید کا سر ایک بار پھر چکرا گیا تھا۔۔۔ مگر اِس بار بنا کوئی سوال جواب کیے وہ حمدان کا نمبر ڈائل کرتا فون اُسے تھما گیا تھا۔۔۔۔ جو اُنہوں نے اِس مشن سے پہلے یہاں کے تمام آفیسرز کا پرسنل ڈیٹا اکٹھا کرکے حاصل کیا تھا۔۔۔۔
“ایس پی حمدان صدیقی سپیکنگ!…..”
حمدان کی گھمبیر بھاری غصے سے لبریز آواز مہروسہ کی سماعتوں سے ٹکراتی اُس کی کاجل سے سجی جھیل سی آنکھوں کے دیپ روشن کر گئی تھی۔۔۔۔ وہ خود بھی سمجھ نہیں پارہی تھی۔۔۔ آخر یہ شخص اُس کے دل کو اتنا کیوں بھا گیا تھا۔۔۔۔
کیوں اُس کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتا انجانے ميں مہروسہ کنول جیسی لڑکی پر اپنا کنٹرول جما رہا تھا۔۔۔۔
“بلیک سٹارز گینگ کی لیڈر بات کررہی ہوں۔۔۔ “
مہروسہ کی دلکش مسکراتی سر بکھیرتی آواز حمدان صدیقی کو مزید انگاروں پر لو ٹا گئی تھی۔۔۔۔ اُس نے جلدی سے اپنے آدمی کو اشارہ کرتے اِس فون کال کی لوکیشن ٹریس کرنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔۔
“میں جانتی ہوں مجھ تک پہنچنے کے لیے بہت بے چین ہیں آپ ایس پی صاحب۔۔۔۔۔ حال تو میرا بھی کچھ ایسا ہی ہے۔۔۔۔ مگر اپنے دل پر پتھر رکھ کر کہنا پڑ رہا ہے کہ ابھی یہ ملاقات ممکن نہیں ہوسکتی۔۔۔۔۔ لیکن وعدہ رہا آپ سے بہت جلد ملنے آؤں گی آپ کو۔۔۔۔۔ “
مہروسہ کی فضول ترین باتوں پر حمدان کا خون کھول اُٹھا تھا۔۔۔۔۔ اگر کال ٹریس نہ کی جارہی ہوتی تو وہ کب کا یہ منحوس کال کاٹ چکا ہوتا۔۔۔۔
“جو تم کر رہی ہو۔۔۔ اُس کا انجام بہت بُرا ہوگا۔۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے عبرت ناک موت ماروں گا تمہیں میں۔۔۔۔ اب زیادہ دیر تک چھپ نہیں پاؤ گی تم مجھ سے۔۔۔”
حمدان کا بس نہیں چل رہا تھا موبائل فون کے اندر ہاتھ ڈال کر اُس کی گردن اپنے شکنجے میں دبوچ لے۔۔۔۔
“انجام کی پرواہ کسے ہے صاحب۔۔۔۔ ہاں آپ کی تھوڑی سی محبت کی طلب پیدا ہوگئی ہے اِس دل میں۔۔۔۔ جو حسرت بن کر مرتے دم تک ساتھ رہنے والی ہے۔۔۔۔”
مہروسہ نے ٹھنڈی آہیں بھرتے کہا تھا۔۔۔ وہ خود بھی دیکھ نہیں پائی تھی کہ یہ بات کرتے اُس کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔۔۔۔
“تم نے یہی گھٹیا بکواس کرنے کے لیے کال کی تھی مجھے۔۔۔۔۔ “
حمدان کا ضبط جواب دے چکا تھا۔۔۔۔
“نہیں یہ بتانے کے لیے کے مجھے ڈھونڈنے کے لیے بچارے لوگوں کے گھروں کی تلاشی لینا اور اِس وقت میری کال ٹریس کروانا بند کردیں۔۔۔۔ اور مان لیں کے آپ اِس لڑکی کے ہاتھوں اپنا پہلا کیس ہار چکے ہیں۔۔۔ اور بہت جلد دل کی بازی بھی ہاریں گے۔۔۔ انشاء اللہ۔۔۔ “
مہروسہ دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ اُس کا خون مزید جلاتی کال کاٹ گئی تھی۔۔۔۔ جب اُسی لمحے ایس ایچ او ندیم اُسے اپنے قریب آتا دیکھائی دیا تھا۔۔۔۔
“سر آئی جی صاحب کا آرڈر ہے کہ اِس ایریا سے سارے ناکے ختم کردیئے جائیں۔۔۔۔ اور اُنہوں نے بلیک سٹارز کے دونوں لیڈرز کو چھوڑنے کا بھی کہہ دیا ہے۔۔۔۔ اُس ظالم لڑکی نے اُس معصوم بچے کی جان لے لی ہے۔۔۔۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر پولیس والوں کو مزید رگیدا جارہا ہے۔۔۔۔ اور ہیلتھ منسٹر بھی تقریباً پاگل ہوچکا ہے۔۔۔ “
ایس ایچ او کی بات پر حمدان نے شدید طیش کے عالم میں موبائل سامنے رکھے بڑے سے پتھر پر دے مارا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“یہ لڑکی اب میرے ہاتھوں نہیں بچ پائے گی۔۔۔ اِس کی زندگی تباہ و برباد کرکے نہ رکھ دی تو میرا نام بھی ایس پی حمدان صدیقی نہیں۔۔۔۔”
حمدان راستے میں آئی ہر شے کو ٹھوکر سے اُڑاتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔ اُس معصوم بچے کی موت کا زمہ دار وہ خود کو سمجھ رہا تھا۔۔۔۔۔ کاش وہ اوپر سے دیئے گئے آرڈر کو فالو نہ کرتے اُس لڑکی کی کھونپڑی اُڑا دیتا تو اُس معصوم بچے کی جان بچ گئی ہوتی۔۔۔۔۔
ہر کیس میں کامیابی اور داد سمیٹنے والے ایس پی حمدان صدیقی کے لیے یہ ہار بہت بھاری ثابت ہورہی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“صاحب آپ کی ساتھی نے جو طوفان برپا کر رکھا ہے۔۔۔ اُس کو دیکھتے ہوئے اُوپر سے آرڈر آگیا ہے کہ آپ کو جیل سے آزاد کردیا جائے۔۔۔۔ مگر ہماری اے ایس پی صاحب ایسا کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔۔۔ اُن کے مطابق آپ جیسے شر پسند مجرم کو کھلا چھوڑنا بے وقوفی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔۔۔۔ وہ آپ کو یہاں سے کسی ایسی جگہ غائب کردینا چاہتی ہیں۔۔۔ جہاں نہ آپ کے ساتھی پہنچ پائیں اور نہ پولیس۔۔۔۔۔۔ اے ایس پی صاحبہ کسی بھی وقت یہاں پہنچنے والی ہیں۔۔۔۔ میرے لیے کیا حکم ہے۔۔۔۔؟؟؟”
میر حازم جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑا اُس اہلکار کی بات سن کر مسکرایا تھا۔۔۔
“ْآنے دو اُس اے ایس پی کو۔۔۔ نبٹ لیں گے اُس سے بھی۔۔۔۔۔ تم باہر جاؤ۔۔۔ گیٹ کے دائیں جانب سفید لباس اور گھنگھریالے بالوں والا ایک آدمی کھڑا ہوگا۔۔۔۔ اُسے کہو تیار رہے۔۔۔ “
میر کی بات پر وہ اہلکار بنا کوئی سوال کیے سر ہلاتا وہاں سے ہٹ گیا تھا۔۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ اِس آدمی کی پہنچ بہت اُوپر تک تھی۔۔۔ اتنی سخت سیکورٹی کے باوجود وہ بہت آسانی سے اپنے آدمیوں سے رابطہ کر پارہا تھا۔۔۔۔
اے ایس پی حبہ امتشال کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔۔۔۔ کہ پولیس یونیفارم میں ملبوس اُس کا اپنا اہلکار میر حازم سالار کے لیے کام کرتا تھا۔۔۔۔۔
ابھی اُس اہلکار کو گئے کچھ دیر ہی ہوئی تھی۔۔۔ جب جیل کی سلاخوں کے ساتھ کمر ٹکائے کھڑے حازم کے نتھنوں سے انتہائی دلفریب خوشبو کا جھونکا ٹکرایا تھا۔۔۔۔ بنا دیکھے ہی وہ اِس خوشبو کی مالک کو پہچان گیا تھا۔۔۔۔
“زہے نصیب۔۔۔۔ اے ایس پی صاحب۔۔۔۔ تو آخر کار آپ کو ہماری یاد آہی گئی۔۔۔۔”
حازم فل یونیفارم میں ملبوس اے ایس پی حبہ امتشال کو سر سے پیر تک گہری نگاہوں سے گھورتا اُس کے پورے وجود میں ناگواری کی لہر دوڑا گیا تھا۔۔۔ حبہ کے پیچھے بندوقیں اُٹھائے دو اہلکار بھی موجود تھے۔۔۔ وہ جانتی تھی اِس جیسے مجرم سے اکیلے مقابلہ کرنا جذباتیت اور بے وقوفی سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔۔۔
” اب جو میں تمہارے ساتھ کرنے جارہی ہوں۔۔۔ یاد تو تم مجھے ضرور کرو گے۔۔۔۔”
حبہ جیل کا لاک کھولتی اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔ اُس کے ہاتھ میں ہتھکڑی تھی جس کا لاک کھولتے اُس نے کیز اپنی پاکٹ میں ڈال لی تھیں۔۔۔۔
“قسم سے تم سے پہلے اتنی نازک پولیس والی کبھی نہیں دیکھی۔۔۔۔ “
حازم نے ہر بار کی طرح اب بھی اس کی بات کو نظرانداز کرتے اپنے مطلب کا جواب دیا تھا۔۔۔۔ جس پر حبہ نے غصے سے پاگل ہوتے اُس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگانی چاہی تھی۔۔۔۔ لیکن اُس سے پہلے ہی حازم اُس کی کلائی دبوچتا اُس کی پاکٹ سے پسٹل نکالتا اُسے اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔
“خبردار!.. اگر کسی نے آگے آنے کی کوشش کی۔۔۔ تو تمہاری اِس آفیسر کی کھونپڑی اُڑانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا مجھے۔۔۔۔”
حازم کی دھمکی پر وہ اہلکار بھی ڈھیلے پڑے تھے۔۔۔۔ جبکہ حبہ کا چہرا شدتِ ضبط سے سُرخ پڑ چکا تھا۔۔۔۔ وہ پوری کوشش کررہی تھی خود کو آزاد کروانے کی مگر اِس شخص کے ہاتھ میں گن موجود تھی۔۔۔ اور حبہ اِس شخص سے کسی بھی بات کی اُمید کر سکتی تھی۔۔۔
“اِس خوشبو کو بہت مس کروں گا۔۔۔ “
ہتھکڑی سے حبہ کے دونوں ہاتھ پیچھے کمر پر باندھے وہ اُس کے وجود سے اُٹھتی دلفریب مہک اپنی سانسوں میں اُتارنے لگا تھا۔۔۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے ابھی بھاگ جاؤ گے تو دوبارہ تم تک نہیں پہنچ پاؤں گی میں۔۔۔۔”
حبہ نے اُسے پیر سے ایک زوردار کک رسید کی تھی۔۔۔۔ جو میر کے فولادی وجود کا کچھ نہیں بگاڑ پائی تھی۔۔۔۔
میر اُسے ایسے ہی یرغمال بنائے گیٹ تک لے آیا تھا۔۔۔۔ اُس کے ہاتھ میں گن دیکھ کوئی بھی قریب نہیں آپایا تھا۔۔۔۔
“نہیں اب اگلی بار میں تمہارے پاس نہیں تم میرے پاس آؤ گی۔۔۔۔ میرے بلاوے کا انتظار کرنا اے ایس پی حبہ امتشال۔۔۔۔۔”
میر وہاں موجود تھانے کے تمام اہلکاروں کے سامنے اُس کے اُوپر جھک کر اُس کی کنپٹی پر سے پسٹل ہٹا کر وہاں اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑتے لمحوں کے اندر گیٹ سے باہر اچانک بنتی بھیڑ میں گم ہوگیا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“یہ دہشت گرد تو وہی قاتل ہے۔۔۔ جس نے میرے سامنے ان بچارے لوگوں کو مارا تھا۔۔۔۔۔ نہیں میں یوں ڈر کر اور خاموش بیٹھ کر بہت غلط کروں گی۔۔۔۔ مجھے پولیس والوں کی مدد کرنی ہوگی۔۔۔۔۔ لیکن اگر وہ وہی شخص نہ ہوا کوئی اور ہوا تو۔۔۔۔۔ میں کیسے پتا لگاؤں کے یہ وہی ہے۔۔۔۔۔ کوئی ثبوت بھی تو۔۔۔۔۔”
پریسا اپنے روم میں ٹہلتی مسلسل تفتیش کا شکار تھی۔۔۔ اُسے کسی طور چین نہیں مل رہا تھا۔۔۔ اُسے شدید نفرت محسوس ہورہی تھی اُس شخص سے جسے لوگوں کی زندگیاں چھیننے کے سوا کچھ آتا ہی نہیں تھا۔۔۔۔
اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ پولیس والوں تک یہ بات پہنچا کر اُن کی مدد کیسے کرے۔۔۔ جب اچانک اُسے گل بہار بیکرز کے باہر لگا سی سی ٹی وی کیمرہ یاد آیا تھا۔۔۔۔ جس کے ساتھ ہی اُس کی آنکھیں چمک اُٹھی تھیں۔۔۔۔
اِس وقت وہ بالکل بے خوف تھی کیونکہ وہ وہ عجیب و غریب شکل والا شخص ابھی پولیس کی حراست میں تھا۔۔۔ اِس لیے اب وہ اُس کے خلاف پولیس والوں کو مزید ثبوت دے کر اُسے زیادہ وقت تک اندر ہی قید رہنے دینے کی ایک کوشش تو کر ہی سکتی تھی۔۔۔
پریسا اپنا موبائل اُٹھاتی روم سے نکل آئی تھی۔۔۔ اِس وقت سب لوگ ڈرائینگ روم میں بیٹھے شام کی چائے پینے میں مصروف تھے۔۔۔۔ اُس کی خراب طبیعت کی وجہ سے کوئی اُسے جانے نہ دیتا اِس لیے وہ ڈرائینگ میں جھانکے بغیر ہی باہر باہر سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
اپنے ڈرائیور کو وہ پہلے ہی آرڈر دے چکی تھی۔۔۔۔۔
گل بہار بیکرز تک پہنچتے اُسے اچھا خاصہ ٹائم لگا گیا تھا۔۔۔۔ شام آہستہ آہستہ رات میں ڈھل رہی تھی۔۔۔۔
“گل بھائی آپ سے ایک بہت ضروری کام تھا۔۔۔۔”
پریسا اُنہیں کیک کے کاؤنٹر کے قریب کھڑا دیکھ اُن کے پاس آتے بولی تھی۔۔۔۔۔
“جی بیٹا بولیں۔۔۔۔”
گل شیر نے اُس کی پریشان صورت دیکھ اپنی مصروفیت ترک کرتے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“مجھے آپ کی بیکری کے باہر کی کل شام کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنی ہے۔۔۔۔ پلیز یہ امپورٹنٹ ہے۔۔۔ میری ہیلپ کردیں۔۔۔۔”
پریسا آس پاس موجود لوگوں کے خیال سے قدرے آہستہ آواز میں بولی تھی۔۔۔۔
“مجھے آپ کی مدد کرکے بہت خوشی ہوتی بیٹا۔۔۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ باہر جو کیمرہ لگا ہے وہ ایک ہفتے سے خراب ہے۔۔۔۔ اُس میں تو کوئی ریکارڈنگ ہو ہی نہیں رہی۔۔۔۔۔۔”
گل شیر کی بات پر پریسا کے چہرے پر نااُمیدی پھیل گئی تھی۔۔۔ وہ اثبات میں سر ہلا کر اُنہیں خدا حافظ کرتے وہاں سے نکل آئی تھی۔۔۔۔
“اب میں کیسے ثبوت اکٹھا کھڑوں گی اُس شخص کے خلاف۔۔۔۔۔۔”
پریسا زیرِ لب بڑبڑاتی اپنی گاڑی کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ جب کسی نے اُس کی کلائی اپنی فولادی گرفت میں سختی سے جکڑتے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
