Jaan e Sitamgar By Farwa Khalid Readelle50120 Last Episode Last Part
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Last Part
پریسا کی آنکھ جیسے ہی کھلی اُس نے خود کو نیم تاریک سے چھوٹے سے کمرے میں پایا تھا۔۔۔
جہاں ایک چھوٹی سی ونڈو بنی ہوئی تھی۔۔۔۔ جس سے چھن کر آتی ہلکی سی روشنی میں پریسا کچھ دیکھنے کے قابل ہوئی تھی۔۔۔
مگر وہ یہاں کیسے پہنچی تھی۔۔۔
پریسا نے اپنے دماغ پر زور دیا تھا جب اُسے یاد آیا تھا کہ اُسے چائے دینے کے لیے ایک ملازمہ اُس کے روم میں آئی تھی۔۔۔
وہ چائے پیتے اُس کا سر چکرایا تھا۔۔۔
اُس کے بعد کا پریسا کو کچھ یاد نہیں تھا۔۔۔ مگر اب کی سچویشن دیکھ وہ اتنا تو سمجھ چکی تھی کہ اُسے اغوا کیا گیا ہے۔۔۔
اُسے نجانے کیوں خوف محسوس نہیں ہوا تھا۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھی اُس کے رب کے بعد اُس کا محافظ اُس کا شوہر اُسے کچھ نہیں ہونے دے گا۔۔۔
اِسی سوچ کے ساتھ ہی وہ دل ہی دل میں قرآنی دعاؤں کا ورد کرتی وہیں نیچے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
جب اچانک اُس کے کانوں میں کسی لڑکی کی نسوانی آواز ٹکرائی تھی۔۔۔
پریسا گھبرا کر اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔۔۔ چیخوں کے ساتھ ساتھ اُس لڑکی کی اونچی اونچی رونے کی آوازیں آنے لگی تھیں۔۔۔
جیسے وہ کسی کے آگے گڑگڑا رہی ہو۔۔۔
پریسا یہ سب سنتے وہاں سکون سے نہیں بیٹھ پائی تھی۔۔۔۔
اُس نے جلدی سے دروازے کو ہلاتے اُسے کھولنا چاہا تھا۔۔۔ جب اچانک معجزانہ طور پر وہ اُس کے ہلکے ہلکے جھٹکوں سے باہر سے لگا لاک کھل گیا تھا۔۔۔
اُسے بے ہوش سمجھ کر شاید وہ لگایا ہی ایسے گیا تھا۔۔۔
مگر جو بھی تھا پریسا بس اب جلد از جلد اُس لڑکی تک پہنچنا چاہتی تھی۔۔۔
جو بچاری شاید کسی بہت بڑی مشکل میں تھی۔۔۔ باہر کا پورا کوریڈور خالی پڑا تھا۔۔۔
آواز کی سمت کا تعین کرتے پریسا اردگرد دیکھتی جلدی سے آگے بڑھی تھی۔۔۔
آوازیں آہستہ آہستہ قریب آتی محسوس ہورہی تھیں۔ پریسا اُس روم کے سامنے آن کھڑی ہوئی تھی جو آدھ کھلا تھا اور وہیں سے آوازیں آرہی تھیں۔۔۔
پریسا کا پورا وجود خوف کے عالم میں لرز رہا تھا۔۔ لیکن اُس لڑکی کا خیال کرتی وہ خود کو روک نہیں پائی تھی۔۔۔۔
ہلکا سا دروازہ دھکیلتے وہ جلدی سے وہاں لگے پردوں کی اوٹ میں ہوئی تھی۔۔۔
جب سامنے کا منظر دیکھ اُسے اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
فیصل بخشی کو وہ بہت اچِھے سے پہچانتی تھی اور اُس کی گندی نگاہوں سے بھی باخبر تھی۔۔ یہ اکثر آفندی مینشن میں نظر آتا تھا اُسے۔۔۔
اور اِس شخص کے آتے ہی وہ اپنے روم میں گھس جایا کرتی تھی۔۔۔
لیکن اُسے اِس بات کا اندازہ بالکل بھی نہیں تھا کہ یہ شخص اتنا گھٹیا نکلے گا۔۔۔۔ وہ اُس روتی بلکتی لڑکی سے زبردستی کرنے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔۔
پریسا کو یہ سمجھنے میں ایک پل بھی نہیں لگا تھا کہ اُسے بھی فیصل بخشی نے ہی اغوا کیا ہے۔۔۔
لیکن اُن دونوں کے بیچ اِس ہاتھا پائی میں چلتی گفتگو پریسا کو گہرے دھچکے سے دوچار کر گئی تھی۔۔۔
“تم اپنی بات سے پلٹ کر بہت غلط کررہے ہو فیصل بخشی۔۔۔ تم نے مجھے کہا تھا کہ پریسا آفندی کو تمہارے حوالے کردوں تو تم حمدان کو میرے حوالے کردو گے۔۔۔ تم نے تو آج رات پریسا کو لے کر ملک سے چلے جانا ہے نا۔۔۔ تو تم میری زندگی کیوں برباد کررہے ہو۔۔۔۔”
مریم چلا رہی تھی گڑگڑا رہی تھی۔۔۔ اُس سے اپنی عزت کی بھیک مانگ رہی تھی۔۔۔ مگر فیصل بخشی جیسے درندے پر اِن سب چیزوں کو کبھی کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
پریسا نے غور سے مریم کی جانب دیکھا تھا یہ وہی لڑکی تھی۔۔۔ جو اُس کی چائے میں کچھ مکس کرکے لائی تھی۔۔۔۔۔
پریسا نے افسوس بھری نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ اُس نے جو گڑھا پریسا کے لیے کھودا تھا وہ خود اُس میں منہ کے بل گرنے والی تھی۔۔۔
لیکن پریسا اُس کی طرح بے ضمیر نہیں تھی۔۔۔
اُسے اب بھی مریم پر بے اختیار رحم آگیا تھا۔۔۔۔
اُس نے اردگرد نگاہیں گھمائی تھیں جب اُس کی نظر ایک جانچ کے نوکیلے ڈیکوریشن پیس پر پڑی تھی۔۔۔
اُس میں نجانے ایک دم اتنی طاقت کہاں سے آئی تھی کہ وہ اللہ کا نام لیتی آگے بڑھی تھی۔۔۔۔
وہ شاید آج ثابت کردینا چاہتی تھی کہ وہ بلیک بیسٹ کی بیوی تھی نڈر اور بے خوف۔۔۔
پریسا نے ڈیکوریشن پیس اُٹھایا تھا۔۔۔
فیصل بخشی کی اُس کی جانب بیک تھی۔۔۔
مریم کی نظر اُس پر پڑ چکی تھی۔۔۔ پریسا کو اپنی مدد کے لیے آتا دیکھ اُس کی نگاہیں ندامت کے احساس سے جھک گئی تھیں۔۔۔۔
اُس کا دل چاہا تھا زمین پھٹے اور وہ اُس میں سما جائے۔۔۔
جس لڑکی کے ساتھ اُس نے اتنا غلط کیا تھا۔۔۔ وہ لڑکی خود کو خطرے میں ڈال کر اُسے بچانے آرہی تھی۔۔۔
فیصل بخشی مریم کو پوری طرح اپنے شکنجے میں لے چکا تھا۔۔۔
اِس سے پہلے کے وہ کچھ غلط کرتا پریسا نے پوری قوت سے وہ ڈیکوریشن پیس اُس کے سر پر دے مارا تھا۔۔۔۔
اُس کی نکلی نوکیلی سائیڈیں فیصل بخشی کے سر میں بہت بُری طرح دھنسی تھیں۔۔۔۔
وہ شاک کی کیفیت میں پلٹا تھا۔۔۔
جب پریسا نے دوبارہ اُسے پوری قوت سے مارتے وہیں گرنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔۔
اُسی لمحے باہر سے گولیاں چلنے کی آوازیں آئی تھیں۔۔۔
اور ساتھ ہی شاہ ویز کی اپنی پری کے لیے تڑپتی آواز۔۔۔
پریسا نے اُسی وقت پلٹ کر دیکھا تھا۔۔۔
جب شاہ ویز روم میں داخل ہوا تھا۔۔۔
“شاہ۔۔۔۔”
پریسا کے لب پھڑپھڑائے تھے۔۔۔
پریسا کو وہاں سہی سلامت شاہ ویز کی جان میں جان آئی تھی۔۔
وہ جلدی سے اُس کی جانب بڑھتا پریسا کو اپنے چوڑے سینے میں بھینچتا اُس کے اپنے سامنے ہونے کا یقین کرنے لگا تھا۔۔۔
شاہ ویز کے پیچھے حمدان اور مہروسہ بھی اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔
سامنے جو منظر تھا وہ دیکھ اُن تینوں کو ساری صورتحال سمجھنے میں زیادہ وقت نہیں لگا تھا۔۔۔
مریم کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے۔۔۔ وہ ایک جگہ سہمی کھڑی تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔
اُس کے عین قدموں میں فیصل بخشی سر سے نکلتے خون کے ساتھ منہ کے بل نیچے پڑا تھا۔۔۔
جبکہ پریسا کے پاس گرا خون آلود ڈیکوریشن پیس اُنہیں ساری سچویشن اچھے سگ باور کروا گیا تھا۔۔۔۔
مہروسہ جو مریم کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی اِس وقت اُس کی حالت دیکھ اُسے رحم آیا تھا۔۔۔
وہ آگے بڑھی تھی اور بیڈ پر پڑی چادر اُٹھا کر مریم کے گرد اوڑھا دی تھی۔۔۔ جبکہ مریم مہروسہ کو زندہ سلامت اپنے سامنے دیکھ گہرے شاک میں گھر گئی تھی۔۔۔
حمدان مریم کو سامنے دیکھ مُٹھیاں بھینچے بہت مشکل سے خود کو اُس کا گلا دبانے سے روک پایا تھا۔۔۔
“حمدان میری بات۔۔۔۔۔”
مریم حمدان کو پکارتے اُس کے قریب گئی تھی۔۔۔
جب حمدان خود پر ضبط نہ رکھ پاتے ایک زناٹے دار تھپڑ مریم کے منہ پر رسید کرگیا تھا۔۔۔
مریم دور لڑکھڑا کر نیچے جا گری تھی۔۔۔
“حمدان اِسے اِس کے کیے کی عبرت ناک سزا ملے گی۔۔۔ اِسے۔۔۔ مگر ابھی ہمیں حازم کے پاس پہنچنا ہوگا۔۔۔ “
شاہ ویز حمدان کے مقابل آتا اُسے مریم کی جانب دوبارہ بڑھنے سے روک گیا تھا۔۔۔
اِس وقت اُسے حازم کی ٹینشن ہوئی تھی۔۔۔ ورنہ جتنا غصہ اُسے اِس لڑکی پر تھا وہ اِس کے ٹکڑے ٹکڑے کردینے کا خواہشمند تھا۔۔۔
اُن کے ساتھ آئے اُن کے آدمی فیصل بخشی کے ساتھ ساتھ مریم کو بھی وہاں سے لے گئے تھے۔۔۔۔
اُن دونوں کا ٹھکانا اب قبر سے پہلے بلیک سٹارز کی کال کوٹھڑی ہونے والی تھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“جنید تمام نیوز چینلز تک اقبال کیانی کے خلاف اکٹھے کیے گئے تمام ثبوت پہنچا دو۔۔۔ فکس نو بجے تمام ثبوت عوام کے سامنے آجانے چاہییں۔۔۔ شبر چوہان کا مرنے سے پہلے کیا گیا اقبالِ جرم، سیٹھ فاروق اور اِس پارٹی کے باقی تمام لیڈرز جو ہمارے ہاتھوں نشانہ بن چکے ہیں۔۔۔ کیونکہ اُس کے بعد بہت جلد اقبال کیانی خود لائیو ہوکر سب کے سامنے اقبالِ جرم کرکے اپنی اِس نام نہاد کرپٹڈ اور کریمینل سے بھری جماعت کو ختم کرنے کا اعلان کردے گا۔۔۔۔ “
شاہ ویز کی ہدایت پر سر تسلیمِ خم کرتا جنید فون بند کر گیا تھا۔۔۔
وہ تینوں بلیک سٹارز جانتے تھے کہ جس مشن کے پیچھے اُنہوں نے اتنے سالوں سے اپنے دن رات ایک کر رکھے تھے۔۔۔ اور اِس ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کی جڑوں کو کمزور کرکے بہت حد تک لوگوں کو اِن کی غلامی سے نجات بھی دلوا چکے تھے۔۔۔ مگر وہ اتنا سب کرکے بھی اپنے ملک سے برائی کا خاتمہ نہیں کر سکتے تھے۔۔۔
کیونکہ یہاں چھوٹے سے چھوٹے پیمانے پر کرپشن کی جاتی تھی۔۔۔ غریب کا حق مارا جاتا تھا۔۔۔
جب تک اس ملک کی عوام خود کو نہیں بدلتی تب تک اِن پر حکمرانی کرتے حکمرانوں کو بھی رائے راست پر نہیں لایا جاسکتا تھا۔۔۔
حازم اور حبہ اقبال کیانی کے بنگلے پر پہنچ گئے تھے۔۔۔ جن کے پیچھے ہی شاہ ویز، حمدان اور مہروسہ بھی آگئے تھے۔۔۔
اقبال کیانی کی سیکورٹی کے لیے تعینات افسران حمدان اور حبہ کو اپنے سامنے دیکھ حیران رہ گئے تھے۔۔۔
جو آج اُن کے ساتھ نہیں بلکہ بلیک سٹارز کے ساتھی بن کر آئے تھے۔۔۔
لیکن ہر جانب اقبال کیانی کی جنگل میں لگی آگ کی طرح پھیلتی خبر نے اُس کی سیکورٹی پر موجود بہت سے لوگوں کے ضمیر جگا دیئے تھے۔۔
وہ سب حمدان اور حبہ کے پیچھے جا کھڑے ہوئے تھے۔۔۔
اُن میں سے اب کوئی بھی اقبال کیانی جیسے حکمران کے لیے آپس میں خون خرابہ نہیں چاہتے تھے۔۔۔
شاہ ویز، مہروسہ اور حازم نے اپنی شناخت اب بھی اُن سب سے پوشیدہ ہی رکھی تھی۔۔۔
وہ تینوں ساری عمر بلیک سٹارز بن کر ہی رہنا چاہتے تھے۔۔۔ جس کے لیے وہ اپنے آپ کو کسی کے سامنے بھی نہیں لانا چاہتے تھے۔۔۔
اقبال کیانی کے کمرے کے باہر تعینات سیکورٹی اہلکار خود بخود پیچھے ہٹ گئے تھے۔۔۔
اقبال کیانی جو اپنے سینے کو مسلتا ٹی وی پر چلتی خبریں دیکھ اپنے ڈوبتے دل کو بچانے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔۔ تین سیاہ وردی میں ملبوس نقاب پوشوں کو دیکھ اُس کی آنکھیں باہر کو اُبل پڑی تھیں۔۔۔
ایسا ہی کچھ حلیہ اُس نے بلیک سٹارز کے حوالے سے سن رکھا تھا۔۔۔
اُسے اپنا پورا وجود پسینے میں شرابور ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔۔
“کون ہو تم لوگ۔۔۔ “
اقبال کیانی اُن تینوں کے پیچھے فل یونیفارم میں ملبوس حبہ اور حمدان کو داخل ہوتے دیکھ کرسی پر پیچھے جاگرا تھا۔۔۔
اِس کا مطلب اُس کی موت کا وقت اُس کے سر پر آن پہنچا تھا۔۔۔
اقبال کیانی نے اپنے دل کو مسلنا شروع کردیا تھا۔۔۔
“ہمیں نہیں پہچانا۔۔۔ اتنی شدت سے ہمارے ملنے کے منتظر تھے اور اب ہمیں سامنے دیکھ پہچان ہی نہیں پارہے۔۔۔ دیٹس ناٹ فیئر کیانی صاحب۔۔۔ “
شاہ ویز اپنے چہرے سے نقاب ہٹاتا وہاں رکھی ایک کرسی پر بیٹھتا سیگریٹ سلگھاتے بولا تھا۔۔۔
“ارسلان صدیقی تو یاد ہی ہوگا تمہیں۔۔۔ اُسے تو کبھی نہیں بھول سکتے تم۔۔۔ جس کو بلیک میل اور مینٹلی ٹارچر کرکے تم نے اُسے خودکشی کرنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔۔۔ “
حمدان آگے بڑھا تھا اور گن کی پشت اقبال کیانی کی گردن پر اتنی شدت سے ماری تھی کہ وہ بلبلا کر رہ گیا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کی بات پر باقی سب نے بھی بے یقینی سے حمدان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
وہ تو اب تک یہی سمجھتے آئے تھے کہ حمدان نے اپنے بھائی کو اپنے ہاتھوں سے ختم کیا ہے۔۔۔
لیکن اِس وقت حمدان کی آنکھوں میں اُترتا خود اور چہرے پر سجے درد کے تاثرات مہروسہ کا دل بھی دکھ سے چیر گئے تھے۔۔۔
آہستہ آہستہ اُس کے سامنے حمدان صدیقی کے اندر کی اذیتیں سامنے آرہی تھیں۔۔۔ اُسے اب سمجھ آرہا تھا کہ اِس شخص نے اپنے دل کو پتھر کیوں کررکھا تھا۔۔۔
وہ کسی کو بھی اپنے قریب کیوں نہیں آنے دیتا تھا۔۔۔
مہروسہ کے آنسو پھسل کر اُس کے نقاب میں جذب ہوئے تھے۔۔۔۔
“مجھے معاف کردو۔۔۔ تم لوگ جو چاہتے ہو میں وہی کروں گا۔۔۔ پوری دنیا کے سامنے اپنا ہر گناہ کا اقرار اپنے منہ سے کروں گا۔۔۔ یہ ملک ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر کہیں دور بھاگ جاؤں گا۔۔۔ پر خدا کے لیے مجھے مت مارو۔۔۔۔”
اقبال کیانی اِس وقت اُن کے آگے بالکل بے بس ہوچکا تھا۔۔۔
کچھ گھنٹے پہلے وہ جن کے مرنے کی خبریں سن کر جشن منا رہا تھا۔۔۔
اِس وقت وہ اُنہیں کے آگے اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔۔۔
“یہ خدا تمہیں اُس وقت یاد کیوں نہ آیا جب تم اپنے لالچ میں مظلوم لوگوں پر ظلم ڈھاتے تھے۔۔ نجانے کتنے لوگوں نے تمہاری وجہ سے بے بس اور لاچار ہوکر حرام موت کو گلے لگایا۔۔۔ “
حازم اپنے جگہ سے اُٹھا تھا اور اُس کے گردن پر عین زخم والی جگہ پر دباتے اُس کی چیخیں نکال دی تھیں۔۔۔
“میں اِن سب لوگوں سے تمہاری جان خلاصی کروا سکتا ہوں۔۔۔۔ مگر اُس کے لیے تمہیں میری بات ماننی ہوگی۔۔۔۔”
حازم کی گرفت اتنی سخت تھی کہ وہ تڑپ اُٹھا تھا۔۔۔
اُس نے حازم کی بات سن کر فوراً اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔۔
“اُس کیمرے سامنے اپنے ہر جرم کا اقرار کرنا ہوگا۔۔۔ اپنی پارٹی کے ہر اُس ملک فروش غدار کا نام لینا ہوگا جو تمہارے ساتھی رہے ہیں۔۔۔ اور ایس پی حمدان کے بھائی ایس پی ارسلان کے اُوپر لگوائے اپنے اُس الزام کی تردید کرنی ہوگی۔۔۔ جس سے اُسے غدار قرار دیا گیا تھا۔۔۔ “
حازم کی گرفت لمحہ با لمحہ سخت ہوتی جارہی تھی۔۔۔
“ہاں میں بولوں گا۔۔ سب بولنے کو تیار ہوں میں۔۔۔”
اقبال کیانی اذیت سے ہاتھ پیر نیچے مارتا تڑپ رہا تھا۔۔۔
جب اُس کی بات سنتے حازم نے اُسے چھوڑ دیا تھا۔۔۔
کیمرے کی لائٹ آن ہوتے ہی اقبال کیانی پوری عوام مے کے سامنے لائیو ہوا تھا۔۔۔
اپنی جان بچانے کے خوف سے وہ اپنا کیا ہر جرم ثبوتوں کے ساتھ لوگوں کے آگے رکھتا چلا گیا تھا۔۔۔
اپنے بھائی کے اُوپر سے الزام ہٹتے دیکھ حمدان آنکھیں سختی سے میچ گیا تھا۔۔۔ کاش اُس کا بھائی وہ جذباتی قدم نہ اُٹھاتا اور آج یہاں اُس کے ساتھ ہوتا۔۔۔
اقبال کیانی کا اقرارِ جرم سنتے ہی سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ پر اُسے جان سے مارنے کا مطالبہ شروع کردیا گیا تھا۔۔۔۔۔
حکومت اور باقی سارے ادارے اِس ہنگامے کو روکنے اور بلیک سٹارز کو قانون ہاتھ میں نہ لینے کے لیے وارن کررہے تھے۔۔۔
عوام کو یقین دلایا جارہا تھا کہ اقبال کیانی کو اُس کے جرم کی سزا ضرور ملے گی۔۔۔
حمدان کے بعد حبہ کو کمشنر صاحب کی کال موصول ہوئی تھی۔۔ جو اُنہیں اقبال کیانی کے بنگلے پر پہنچنے کی ہدایت کررہے تھے۔۔۔
اُن دونوں نے اپنے آفیسر کو اقبال کیانی کی جان بچانے کی یقین دہانی کرواتے فون کاٹ دیا تھا۔۔۔
“سر آپ فکر مت کریں۔۔۔ میں اپنی پوری فورسز کے ساتھ اقبال کیانی کے بنگلے میں ہی داخل ہورہا ہوں۔۔۔ ہم اُنہیں بچانے کی پوری کوشش کریں گے۔۔۔۔”
حمدان فون بند کرتا اپنے گن میں موجود ساری گولیاں اقبال کیانی کے سینے میں پیوست کر گیا تھا۔۔۔
باقی سب نے خاموشی سے حمدان کو اپنا انتقام لیتے دیکھا تھا۔۔۔
“ایک اور جیت مبارک ہو بلیک سٹارز پلس اوور ایس پیز۔۔۔۔۔”
حازم مسکراتی آنکھوں سے اُن چاروں کی جانب بڑھا تھا۔۔
“ان شاء اللہ ہماری یہ ٹیم ہمیشہ قائم اور دائم رہ کر ایسے ہی اِن ملک فروشوں کا خاتمہ کرتی رہے گی۔۔۔۔”
شاہ ویز نے اپنی ہتھیلی آگے بڑھائی تھی جس پر وہ سب باری باری ہاتھ رکھتے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک سے بھی عہد کر گئے تھے۔۔۔
یہ اُن کا طریقہ تھا جو حکومت کے ساتھ ساتھ باقی بہت سارے لوگوں کی نظروں میں چاہے غلط تھا۔۔۔ مگر وہ اور اُن کا رب اُن کی نیت جانتا تھا۔۔۔۔
اِسی لیے ہر معاملے میں اُن کا ساتھ دے کر اُنہیں سرخرو کرتا آیا تھا۔۔۔۔
وہ تینوں بلیک سٹارز وہاں سے نکل گئے تھے۔۔۔۔
حبہ اور حمدان پوری فورس کے ساتھ اقبال کیانی کے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔۔ جہاں اُنہوں نے اُسے مردہ پایا تھا۔۔۔۔
اقبال کیانی کی سیکورٹی پر تعینات افسران کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔۔۔۔
نیوز چینلز پر ہر طرف گردش کرتی اِس خبر نے ہر طرف مسرتیں بکھیر دی تھی۔۔۔۔
بڑی تعداد میں عوام بلیک سٹارز کو دعائیں دیتی اِس خبر کا جشن منا رہی تھی۔۔۔
ایس پی حمدان صدیقی اور ایس پی حبہ اِس کیس کی چھان بین کرتے بلیک سٹارز کو تلاش کرنے کی کوشش کررہے تھے۔۔۔
مگر بلیک سٹارز ایسے غائب ہوئے تھے کہ کسی کو اُن کا زرا سا سراغ بھی نہیں مل پایا تھا۔۔۔۔
اور اِسی کے ساتھ ہی اُن کا یہ دوسرا پلان بھی پایہ تکمیل تک جا پہنچا تھا۔۔۔۔ جس میں وہ پانچوں نہایت ہی صفائی سے سب کی آنکھوں میں دھول جھونک گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
حمدان کچھ دنوں کے لیے چھٹی لیتا اپنا یہ پورا وقت اپنی پیاری بیوی مہروسہ کے ساتھ گزارنے کے ارادے سے واپس لوٹا تھا۔۔۔
جہاں آگے سے ملنے والی خبر نے اُس کے ہوش اُڑا دیئے تھے۔۔۔۔
مہروسہ اُس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی۔۔۔ فرح نے مہروسہ کا چھوڑا خط حمدان تک پہنچایا تھا۔۔۔
“میں جانتی ہوں میرے اِس فیصلے سے آپ کو بہت تکلیف پہنچے گی اور بہت غصہ بھی آئے گا۔۔۔ مگر میرا آپ کے قریب رہنا آپ کو اُس سے زیادہ اذیت سے دوچار کرسکتا ہے۔۔۔ اِسی لیے میں آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔۔۔ آپ اپنی جیسی بہت اچھی اور خاندانی لڑکی ڈیزرو کرتے ہیں۔۔۔۔
آپ کی خوشیوں کے لیے دعا گو۔۔۔
مہروسہ کنول۔۔۔۔ “
حمدان خط پڑھنے کے ساتھ ہی غصے سے آگ بھگولا ہوچکا تھا۔۔۔۔
“فرح اگر یہ کوئی مذاق ہے تو میں بتا رہا ہوں بہت بُری سزا ملے گی اِس کی۔۔۔۔۔ سچ سچ بتاؤ مجھے مہروسہ کہا ہے۔۔۔۔”
حمدان اُس خط کے ٹکڑے کرتا فضا میں اُچھال چکا تھا۔۔۔
“یہ کوئی مذاق نہیں ہے بیٹا مہروسہ سچ میں گھر چھوڑ کر جا چکی ہے۔۔۔ ہمیں اگر زرا سا بھی اِس بات کا علم ہوتا تو ہم اُسے ضرور روکتے مگر ہمیں تو خود یہ خط ملا ہے اُسے کے کمرے سے۔۔۔۔”
سمیعہ بیگم حمدان کو غصے سے بپھرتے دیکھ اُس کے قریب آتے اپنی پریشانی بیان کر گئی تھیں۔۔۔۔
جو سنتے حمدان مُٹھیاں بھینچتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
اُس کے غصے بھرے تیور بتا رہے تھے کہ آج مہروسہ کی اُس کے ہاتھوں خیر نہیں ہونے والی تھی۔۔۔
“جلدی سے بتاؤ تمہاری وہ سرپھری میڈم کہا ہے۔۔۔ آج اُس کی عقل ٹھکانے نہ لگا دی تو میرا نام بھی حمدان صدیقی نہیں۔۔۔۔”
حمدان نے گاڑی میں بیٹھتے ہی جنید کا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔۔
“سر کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں مہرو میڈم کے ہاتھوں ہی شہید ہوں۔۔۔”
جنید کی سپیکر پر مسکین سی آواز اُِبھری تھی۔۔۔
“تم فون پر ہی بتا رہے ہو یا میں پہلے تمہارے پاس آؤں۔۔۔”
حمدان کے دھمکی آمیز الفاظ پر جنید کو اُسے بتاتے ہی بنی تھی۔۔۔۔
حمدان سیدھا اُس فلیٹ پر پہنچا تھا جہاں اُس کی بیوی اُس سے فرار اختیار کیے بیٹھی تھی۔۔۔۔
اگر جنید نہ بتاتا تو حمدان کو اِس فلیٹ کا کبھی پتا نہ چلتا۔۔۔
حمدان نے بیرونی گیٹ کے سامنے کھڑے ہوتے بیل بجائی تھی۔۔۔ مہروسہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ حمدان اتنی جلدی اُس تک پہنچ جائے گا۔۔۔۔
دروازہ کھولتے ہی سامنے خونخوار تیور لیے کھڑے ایس پی حمدان صدیقی کو دیکھ مہروسہ کے چودہ طبق روشن ہوچکے تھے۔۔۔۔
“آپ۔۔۔۔؟؟”
اُسے اندر آتے دیکھ مہروسہ اُلٹے قدموں پیچھے ہٹی تھی۔۔۔ حمدان دروازہ اندر سے لاک کرتا لال آنکھوں کے ساتھ اُس کی جانب پلٹا تھا۔۔۔
اُس کے تیور دیکھ مہروسہ کا دل بہت بُری طرح دھڑک رہا تھا۔۔۔ وہ ابھی شاور لے کر نکلی تھی۔۔۔ اُس کی گیلی زلفیں سر پر بندھے ٹاول میں قید تھیں۔۔۔ جن سے ٹپکتا پانی اُس کی شفاف گردن کو بھیگو رہا تھا۔۔۔
اورنج رنگ کے کھلتے رنگ کا شیفون کا لباس زیب تن کیے وہ اُسے واقعی بہار کے موسم میں کھلتا پھول محسوس ہوئی تھی۔۔۔
اُس کا ریشمی دوپٹہ بار بار کندھوں سے پھسلتا اُس کے نازک سراپے کی دلکشی کو نمایاں کررہا تھا۔۔۔
“یہ کیا نیا ڈرامہ ہے۔۔۔؟؟ کیا بکواس کی تھی تم نے اُس خط میں۔۔۔ تم میرے ساتھ رہنے کے قابل نہیں ہو۔۔۔ ایک بار وہی ساری باتیں میری آنکھوں میں دیکھ کر دوہراؤ۔۔۔ “
حمدان اُس کا بازو تھام کر اُسے دیوار کے ساتھ لگاتے تیز لہجے میں بولا تھا۔۔۔
اُس کی کنپٹی کی رگیں اُوپر کو اُبھر آئی تھیں۔۔۔
مہروسہ کی دھڑکنیں کئی گنا بڑھ گئی تھیں۔۔۔ اُسے بے اختیار خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔
“میں نے جو اُس خط میں لکھا میں اب بھی وہی چاہتی ہوں۔۔۔ میں چاہتی ہوں آپ اپنے معیار کی کسی لڑکی سے شادی کر لیں۔۔ جو آپ کی شریک حیات بننا ڈیزرو کرتی ہو۔۔۔ مجھ جیسی لڑکی آپ کی بیوی بن کر رہنے کے قابل نہیں ہے۔۔۔۔”
یہ الفاظ ادا کرتے مہروسہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔ حمدان کو آہستہ آہستہ سمجھ آرہا تھا کہ وہ اُسے اگنور کیوں کررہی تھی۔۔۔
“واٹ ربش۔۔۔۔ تمہاری باتیں اب میرا دماغ خراب کررہی ہیں مہروسہ۔۔۔۔”
حمدان اُسے کی کمر میں بازو حمائل کرتا اُسے جھٹکے سے اپنے قریب تر کر گیا تھا۔۔۔
اتنا کہ دونوں کی سانسیں ایک دوسرے سے ٹکرانے لگی تھیں۔۔۔
اُس نے اپنی مُٹھیاں بھینچ رکھی تھیں۔۔۔ وہ شدید غصے میں تھا۔۔ مگر مہروسہ کی آنکھوں سے گرتے آنسو اُسے اُس کی تکلیف کا اندازہ کروا گئے تھے۔۔۔
اُس کے جھٹکے کی وجہ سے مہروسہ کے بالوں سے ٹاول نیچے جاگرا تھا۔۔۔ اُس کی گیلی زلفیں حمدان کے چہرے سے ٹکراتیں اُس کی سانسوں کو معطل کر گئی تھیں۔۔۔۔
حمدان جھکا تھا اور مہروسہ کی آنکھوں سے گرتا ایک ایک آنسو اپنے لبوں سے چننے لگا تھا۔۔۔
مہروسہ کی سانسیں اٹک کر رہ گئی تھیں۔۔۔ اپنے اِس سنگدل کا یہ مہربان لمس سے اُسے اپنے زخموں پر مرہم بن کر محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔
“تم شاید ابھی تک نہیں جان پائی کہ تم حمدان صدیقی کے لیے کیا بن چکی ہو۔۔۔ میری آتی جاتی سانسوں کے لیے کتنی ضروری ہو۔۔۔ تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ تم حمدان صدیقی کو ڈیزرو نہیں کرتی۔۔۔۔ میں خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان تصور کرتا ہوں جس کی زندگی میں تم جیسی لڑکی شامل ہوئی ہے۔۔۔ جو بہت پاکیزہ اور صاف دل کی مالک ہے۔۔۔۔ جو دنیا کی بہتر سے بہترین شے ڈیزرو کرتی ہے۔۔۔۔ جو دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی ہے۔۔۔۔ اور جو حمدان صدیقی کے دل پر راج کرتی ہے۔۔۔۔ جس کے نام کی مالا حمدان صدیقی کی دھڑکنیں جپتی ہیں۔۔۔ اور جو بہت زیادہ سرپھری اور پاگل ہے۔۔۔
جسے اب بھی لگتا ہے کہ اُس کا شوہر اُس کی پوری حقیقت نہیں جانتا۔۔۔ “
حمدان کی بات پر آنکھیں بند کیے کھڑی مہروسہ نے جھٹکے سے آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔ جب اُسی لمحے حمدان اُس کی آنکھوں کو چوم گیا تھا۔۔۔۔
“تم سے نکاح سے پہلے ہی میں تمہارے بارے میں سارا بائیو ڈیٹا نکلوا چکا تھا میں۔۔۔ تمہیں اُجالا نہیں مہروسہ کے نام سے ہی قبول کیا تھا میں نے۔۔۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اُن سب باتوں سے۔۔۔۔ تم اپنی پہچان خود بنا چکی ہو۔۔۔ تم ایک بلیک سٹار اور ایس پی حمدان کی بیوی اور اُس کے دل کی ملکہ ہو۔۔۔۔ جسے اب آگے کی ساری زندگی اپنے ایس پی سنگت میں خوشیوں سے بھرپور ہوکر گزارنی ہوگی۔۔۔ اذیت کے دن بیت چکے ہیں میری جان۔۔۔ اب کوئی اذیت اور کسی بھی درد کو اپنے قریب نہیں بھٹکنے دینا۔۔۔ کیونکہ اب ہم دونوں کی محبت کی طاقت ایسے کسی غم کو ہمارے قریب نہیں آنے دے گی۔۔۔ اور اگر آئی تو اُس سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ہم۔۔۔۔”
حمدان کے محبت میں ڈوبے الفاظ سن کر مہروسہ ایک دم سرشار ہوئی تھی۔۔۔ اُس کے سر سے بہت بھاری بوجھ ہٹ گیا تھا۔۔۔ وہ کھل کر مسکرا دی تھی۔۔۔
جس میں حمدان نے بھی اُس کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔۔۔۔
“اور میں دنیا کی سب سے زیادہ خوش قسمت لڑکی ہوں جس کے حصے میں ایس پی حمدان آیا ہے۔۔۔ “
مہروسہ اُوپر کو ہوتی حمدان کے ماتھے پر لب رکھ گئی تھی۔۔۔ جبکہ اُس کی اِس دلفریب ادا پر نثار ہوتے حمدان اُس کے گیلے بالوں میں چہرا چھپاتے اُس کے ہونٹوں کی دلکش مسکراہٹ کی دلفریبی کو مزید بڑھا گیا تھا۔۔۔۔
مہروسہ نے بہت ساری قربانیوں میں سرخرو ہوتے اپنی زندگی کے سب سے قیمتی شخص کو پا لیا تھا۔۔۔ وہیں حمدان صدیقی بھی مہروسہ کے روپ میں ایک پرخلوص ساتھی پاکر اپنی قسمت پر نازاں ہوا تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
نجمہ بیگم نے حازم کا روم کھلوا کر بہت شاندار طریقے سے سیٹ کروا دیا تھا۔۔۔
جو اب صرف حازم کا ہی نہیں بلکہ حبہ کا بھی کمرہ تھا۔۔۔ اُن سب نے مل کر کچھ دیر پہلے ڈنر کیا تھا۔۔۔
کچھ اہم فون کالز کرنے کے بعد حازم روم میں آیا تھا۔۔۔ واش روم کا خالی دروازہ دیکھ وہ سمجھ گیا تھا کہ حبہ واش روم میں ہی ہے۔۔۔
اِس لیے وہ وہیں بیڈ پر نیم دراز ہوتا حبہ کے آنے کا انتظار کرنے لگا تھا۔۔ مگر اِسی چکر میں وہ نجانے کتنے سیگریٹ پھونک چکا تھا۔۔ لیکن حبہ نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔
حازم آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا بہت ضبط کے ساتھ اُس کا انتظار کررہا تھا جب اچانک اُسے اپنے پیروں پر نرم گرم سا لمس محسوس ہوا تھا۔۔۔
حازم فوراً آنکھوں سے بازو ہٹاتا جھٹکے سے اُٹھ بیٹھا تھا۔۔ حبہ کو اپنے پیر تھامے دیکھ اُس نے کرنٹ کھاتے اپنے پیر پیچھے کیے تھے۔۔۔
“حبہ یہ کیا کر رہی ہو تم۔۔۔؟؟”
حازم اُسے بیڈ کے قریب نیچے بیٹھے دیکھ فوراً بیڈ سے اُٹھتا اُس کے پاس جا بیٹھا تھا جو اِس وقت اُسی کے پسند کے لہنگے میں ملبوس بے پناہ دلکش لگ رہی تھی۔۔۔
حازم اُس کے اِس دو آتشہ حسن کی رعنائیوں میں اپنا دل اٹکتا محسوس کرنے لگا تھا۔۔۔
جو آج اُس کے دل کو اپنے حُسن کی حشر سامانیوں کے ساتھ پاگل کرکے رکھ دینے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔
لیکن حبہ کی یہ حرکت اُس کی سمجھ سے باہر تھی۔۔۔ آخر وہ اُس سے کس بات کی معافی مانگنا چاہتی تھی۔۔۔
حازم نے اُس کے جڑے ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیتے اُسے اپنے مقابل کھڑا کیا تھا۔۔۔
“میں نہیں جانتی تھی میرے بابا اتنے غلط کاموں میں ملوث تھے۔۔۔ آپ نے اتنے سال جس اذیت میں گزارے میں اُس کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔۔۔ پلیز مجھے معاف کردیں آپ کی اذیت کا اندازہ لگائے بغیر میں نے آپ پر اتنے غلط الزام لگائے۔۔۔ آپ کو بہت بُرا بھلا کہا جس کے لیے میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گی۔۔۔ “
حبہ حازم کی اذیت کا سوچتی اُس کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔
حازم نے اُسے منع کیا تھا کہ وہ نجمہ بیگم اور صبا کو یہ سچ نہیں بتائے گی۔۔۔ اُس کی یہ فراخ دلی دیکھ حبہ مزید اُس کی اسیر ہوئی تھی۔۔۔۔
اُس کو یوں شدت سے روتا دیکھ حازم اُسے اپنے سینے میں بھینچ گیا تھا۔۔۔
“میری زندگی۔۔۔ میری متاعِ زیست پور پور میری محبت سے لبریز اِس وقت میری بانہوں میں موجود ہے۔۔۔ قسم سے یہ احساس ہی میری ہر تکلیف کا مداوا کر گیا ہے۔۔۔ مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے دنیا میں اب کوئی غم نہیں بچا۔۔۔۔۔ “
حازم اُس کی پیشانی پر لب رکھتے اُس کے آنسو میں کمی لاتے بولا تھا۔۔۔
اُسے یہ روتی بسورتی لڑکی سیدھی اپنے دل میں اُترتی محسوس ہورہی تھی۔۔۔ اُسے دیکھ کر اِس وقت کوئی یقین نہیں کر سکتا تھا کہ یہ وہ کھڑوس ایس پی تھی جس نے اپنے پولیس اسٹیشن میں سب کو اپنی دہشت سے سہما رکھا تھا۔۔۔
“ویسے ایک طریقہ ہے جس سے تم اپنے اِس فضول سے گلٹ کو ختم کرسکتی ہو۔۔”
حازم اُس کے کان کے قریب سرگوشیانہ لہجے میں بولتا اُس کی کان کی لوح پر اپنا شدت بھرا لمس چھوڑتا اُسے لال کر گیا تھا۔۔۔
حبہ نے بنا اُس کی آنکھوں میں چھپی شرارت نوٹ کیے سوالیہ نگاہوں سے اُسے دیکھا تھا۔۔۔
“بہت عرصہ درد رہا ہے یہاں۔۔۔ اپنے گداز ہونٹوں سے اِس درد کی تشفی کر دو۔۔۔۔”
حازم خمار آلود لہجے میں بولتا حبہ کو اپنی بانہوں میں جکڑتے بولتا اُس کا چہرا لال انگارہ کر گیا تھا۔۔
حازم کے ایک دم بدلتے تیور دیکھ وہ جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔
“لیکن مجھے ابھی آپ سے معافی مانگنی ہے۔۔۔”
حبہ نے اُس کی جسارتوں پر بندھ باندھنے کی کوشش کرتے کمزور سا احتجاج کیا تھا۔۔۔
“ٹھیک طریقے سے معافی مانگنے کا طریقہ کی بتانے لگا ہوں ایس پی صاحبہ۔۔۔ جو آپ کو بالکل بھی نہیں آتا۔۔ “
حازم اُس کو کھسکتا دیکھ واپس اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔
اُس کے جارحانہ انداز پر حبہ کھلکھلاتی واپس اُس کے سینے میں سما گئی تھی۔۔۔
ہجر کی لمبی مسافت طے کرتے آج آخر کار اُنہوں نے ایک دوسرے کا ساتھ پالیا تھا۔۔۔ اب اُن کے بیچ نہ کوئی نفرت کی دیوار باقی بچی تھی نہ کسی قسم کی بدگمانی یا گلٹ۔۔۔۔ آخر میں بچی تھی تو دونوں کی ایک دوسرے کے لیے لازوال محبت جسے بڑے سے بڑا طوفان بھی ختم نہیں کر پایا تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
تاریکی میں ڈوبے آفندی مینشن کو ایک بار پھر سے روشن کیا گیا تھا۔۔۔ جہاں شاہ ویز سکندر اب اپنی پری کے ساتھ ایک خوشحال زندگی گزارنا چاہتا تھا۔۔۔
پریسا گہری نیند میں تھی جب اُس کے کانوں سے فون کی آواز ٹکرائی تھی۔۔۔
پریسا نے آنکھیں موندے ہاتھ بڑھا کر فون اُٹھاتے کان سے لگا تھا۔۔
وہ بولی کچھ نہیں تھی فون کان سے لگائے ایسے ہی سوئی رہی تھی۔
جب دوسری جانب سے اُسے گل شیر بھائی کی سہمی سی آواز سنائی دیتی اُس کی آنکھوں کے پٹ وا کر گئی تھی۔
“پریسا یہ جو سیاہ کپڑوں میں ملبوس، ماتھے پر دنیا جہاں کے بل ڈالے، غصے بھری سرد آنکھیں گھاڑے ہم سب سے صبح کے چار بجے آپ کا فیورٹ کیک بنوا رہا ہے یہ شخص کہیں آپ کا ہزبینڈ تو نہیں ہے۔۔۔”
پریسا نے آنکھیں کھول کر اپنی دائیں جانب پڑے خالی بیڈ کو دیکھا تھا۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے اُس کے منہ سے برآمد ہوتی ہنسی گل شیر کو مزید حیران کر گئی تھی۔۔۔ اُسے یہ دونوں میاں بیوی پاگل لگے تھے۔۔۔
“جی وہ میرے ہزبینڈ ہیں گل بھائی۔۔۔ میں اِس وقت آپ کہ مدد کے لیے کچھ نہیں کرسکتی بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ آپ کی عافیت اِسی میں ہے کہ میرے ہزبینڈ جو کہہ رہے ہیں آپ آرام سے مان لیں۔۔۔ “
پریسا اُن لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتی فون بند کرتی کھل کر مسکرا دی تھی۔۔
شاہ ویز کا کہنا تھا کہ وہ اُس سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور اُس کی خاطر کچھ بھی کرسکتا ہے، گزری رات اُس نے شاہ ویز کو تنگ کرنے کے لیے اُسے صبح صبح گل بہار بیکری کا فریش اور عین اُس کی پسند کے مطابق کیک لانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔۔۔
شاہ ویز سکندر اب تک جتنا اُسے ستا چکا تھا۔ اب اُس سے نخرے اُٹھوانے کی باری پریسا کی تھی۔
کیونکہ پہلی ملاقات میں وہ اُس کا کیک نہایت بے دردی سے توڑ چکا تھا۔۔۔ یہ اُسی کی سزا تھی۔۔۔ مگر پریسا نے یہ سب صرف مذاق میں کہا تھا۔۔ اُسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ اُس کا وحشی اُس کی مذاق میں کہی بات بھی پوری کرنے صبح صبح ہی نکل جائے گا۔
پریسا کے لب اُس کی بے پناہ محبت کا تصور کرتے دلکشی سے مسکرا دی تھی۔۔۔
شاہ ویز سے ہونے والی پہلی ملاقات کو وہ اپنی زندگی کا سب سے بُرا دن اور حادثہ تصور کرتی تھی۔۔ مگر اب اُسے وہ دن، وہ لمحے اپنی زندگی کے سب سے خوش بختی بھرے لگ رہے تھے۔
جس کے بعد شاہ ویز سکندر جیسے بظاہر چٹان جیسے سخت مگر دل کے انتہائی پیارے انسان کو اُس کی قسمت میں لکھ دیا گیا تھا۔
پریسا جو اُسی کے خیالوں میں ڈوبی ہوئی تھی دروازے پر ہوتی آہٹ پر وہ ایک دم الرٹ ہوتی آنکھیں موندے واپس سے سوتی بن گئی تھی۔
کیونکہ کیک لانے کی فرمائش کے بدلے جو فرمائش وہ اُس سے کرنے والا تھا پریسا کا وہ سوچتے ہی دل بہت زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔
وہ آنکھیں موندے سر تکیے پر رکھے کروٹ کے بل لیٹی ہوئی تھی۔۔ اُس کا ایک ہاتھ چہرے کے نیچے رکھا تھا جبکہ دوسرا تکیے کے قریب نیچے پڑا تھا۔۔
شاہ ویز اُس کی دھمکتی دودھیا شفاف رنگت اور لال پڑتی چھوٹی سی ناک پر والہانہ نگاہیں جمائے اُس کے قریب آیا تھا۔
پریسا کے قریب بیٹھ کر دونوں ہتھیلیاں اُس کے دائیں بائیں ٹکاتے وہ اُس کی جانب جھکا تھا۔ اور اپنے دہکتے لب پریسا کی ٹھنڈی پڑتی پیشانی پر رکھ دیئے تھے۔
پریسا آنکھیں موندے رہی تھی۔۔۔ مگر وہ بھول چکی تھی کہ سامنے بیٹھا شخص بلیک سٹار تھا جسے وہ کسی قیمت پر چکما نہیں دے سکتی تھی۔
پریسا کی لرزتی پلکیں، سختی سے ایک دوسرے میں پیوست ہونٹ اور اُس کی قربت کے احساس سے ہولے ہولے لرزتا وجود شاہ ویز سکندر کو اچھے سے باور کروا گیا تھا کہ اُس کی یہ نازک سی پری اُس سے بچنے کے لیے نیند کی آغوش میں پناہ لے رہی تھی۔۔
“صبح بخیر پریسا شاہ ویز سکندر۔۔۔ میں تمہاری دی ڈیمانڈ پوری کر چکا ہوں۔۔۔ اب تمہاری باری ہے۔۔۔”
شاہ ویز نے اُس کے ہونٹوں کو نرمی سے چھوا تھا۔
اُس کی جسارتوں پر پریسا کا رنگ بالکل لال ہوچکا تھا۔۔۔ مگر آنکھیں اُس نے اب بھی نہیں کھولیں تھیں۔
“تم مجھے ہر روپ میں بہت پیاری لگتی ہو۔۔۔ اور سوتے ہوئے تو سب سے زیادہ، تمہیں دیکھ کر دل کرتا ہے،،،”
شاہ ویز نے ابھی بات مکمل بھی نہیں کی تھی جب پریسا اُس کی باتوں سے گھبرا کر آنکھیں کھول گئی تھی۔
شاہ ویز اُسے دونوں کلائیوں سے تھامتے اُسے اپنے مقابل بیٹھا گیا تھا۔
“گل بہار بیکرز کا کیک تیار ہے۔۔۔”
شاہ ویز نے اُس کے چہرے پر گری بالوں کی لٹیں کانوں کے پیچھے اڑستے اُسے اپنی شرط یاد دلائی تھی۔
“تو میں کیا کروں،،، “
پریسا نے اُس کی جانب دیکھتے بھولپن سے پوچھا تھا۔
“تم بھول رہی ہے میں بلیک سٹار ہوں،،، جس کی دہشت سے ایک دنیا کانپتی ہے،،،”
شاہ ویز نے اُسے خوفزدہ کرنا چاہا تھا۔ جو اُس کی اپنے لیے بے پناہ محبت دیکھنے کے بعد اب اُس سے زرا سا بھی خوفزدہ نہیں ہوتی تھی۔ مگر شاہ ویز سکندر کا سنجیدگی اور غصے بھرا انداز اُس کی سانسیں تیز کر دیتا تھا۔
اور بے ہوش ہونا تو جیسے اب بھی عام سی بات تھی۔
“میں بلیک سٹار کی بیوی ہوں تم بھی بھول رہے ہو شاہ ویز سکندر۔۔۔۔ شاید تم نے اُس دن فیصل بخشی کی حالت غور سے نہیں دیکھی تھی۔”
پریسا نے سائیڈ ٹیبل کے دراز میں پڑا اُسی کا پسٹل نکالتے اُسے خوفزدہ کرنا چاہا تھا۔
جب شاہ ویز اُس کا پسٹل والا ہاتھ تھام کر جھٹکے سے اپنے جانب کھینچ گیا تھا۔ وہ سیدھی اُس کی گود میں جاگری تھی۔
“میں کچھ نہیں بھولا۔۔۔ اور نہ اتنی آسانی سے تمہیں بھولنے دوں گا کہ تم نے مجھے کیا دینا تھا۔”
شاہ ویز اُسے باتوں جو اِدھر سے اُدھر گھماتے دیکھ اُسے ٹھیک ٹریک پر لاتے بولا تھا۔
وہ اِس وقت اُس کی گود میں تھی۔ اور شاہ ویز پوری طرح اُس پر جھکا ہوا تھا۔
“وحشی انسان۔۔۔ “
شاہ ویز نے اپنی بڑھی ہوئی شیو اُس کے گال سے رگڑی تھی۔ جس پر پریسا اُس کے بال پکڑے چلائی تھی۔
“آئی لو یو مائی لو۔۔۔ بہت شکریہ میری بے رنگ و رونق زندگی میں شامل ہونے اور اِس میں خوشیوں کے رنگ بھرنے کے لیے بہت شکریہ۔۔۔ “
شاہ ویز اُسے اپنے سینے میں بھینچتے محبت سے چور لہجے میں بولا تھا۔ جبکہ اُس کی والہانہ محبت کے اظہار پر پریسا کھل کر مسکرا دی تھی۔
“میں بھی آپ کو بہت چاہتی ہوں میرے وحشی درندے۔۔۔ بس میرے سامنے دوبارہ وحشی مت بننا۔۔ ورنہ۔۔۔ “
پریسا اُس کے کان کے قریب ہونٹ لے جاتے بولی تھی۔
“ورنہ تم نے پھر سے بے ہوش ہوجانا۔۔۔ آئی نو، تمہارا یہ وحشی درندہ بہت پہلے سے تمہاری رگ رگ سے واقف ہے۔۔۔ جسے خوفناک کتوں سے نہیں بلکہ مجھ سے زیادہ ڈر لگتا ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کی وہ حرکت اب بھی نہیں بھول پایا تھا۔۔ جب وہ کتوں کے بجائے اُسے دیکھ کر بے ہوش ہوئی تھی۔
شاہ ویز اپنی بات مکمل کرتے جھکا تھا اور اُس کے مسکراتے گداز لبوں کی ہنسی چنتے اُس کے دلفریب چہرے پر اپنی محبت کے پھول کھلاتا پریسا آفندی کو اپنی جنونی محبت کی وادیوں میں اپنے سنگ لے گیا تھا۔
باہر کھلتے پھولوں کی طرح اُن کی زندگی میں بھی خوشیوں کی بہاریں اُتر آئی تھیں۔
وہ سب ایک دوسرے کی سنگت میں بے پناہ خوش تھے۔ بلیک سٹارز کی دوستی اور ساتھ اب بھی ویسے ہی قائم و دائم تھا اور آگے بھی رہنے والا تھا۔ بلکہ اب وہ مزید مضبوط ہوچکے تھے۔ کیونکہ اب اُن کے ساتھ اُن کے دو پاور فل ایس پی بھی شامل ہوچکے تھے۔۔۔۔
مریم نے کال کوٹھڑی میں ہی خودکشی کرکے اپنی جان لے لی تھی۔
اُس نے ہمیشہ سے حمدان کو چاہا تھا۔ مگر اُس نے حمدان کو حاصل کرنے کے لیے سیدھا راستہ نہیں اپنایا تھا۔ اُس کے ناجائز کاموں اور غلط لوگوں کی سنگت نے اُسے حرام موت مرنے کی نوبت تک پہنچا دیا تھا۔
ہمیشہ برائی کا انجام برا ہی ہوا تھا۔ مریم کے ساتھ بھی وہی ہوا تھا۔
شہباز آفندی ، شوکت آفندی اور سفیان آفندی کو تاعمر سزا با مشقت سنا دی گئی تھی۔ جس کی کوئی معافی اور ضمانت نہیں تھی۔ شہباز آفندی کا پورا خاندان سڑک پر آ گیا تھا۔
مگر پریسا جیسی نرم خو انسان یہ نہیں دیکھ پائی تھی۔ اس لیے اُس کی خاطر شاہ ویز نے اُن پر احسان کرتے کچی آبادی میں ایک چند کمروں والا چھوٹا سا گھر اُنہیں سر چھپانے کے لیے دلوا دیا تھا۔۔۔ کیونکہ شاہ ویز نے اُن سے جیسے ہی اپنی ساری دولت جائیداد چھینی اُس کے بعد اُن کے پاس ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی۔
جو بچی کچھ سیونگز تھی۔ وہ اُن لوگوں کی رہاعی کے لیے کیے گئے وکیل کو دے چکے تھے۔۔
وہ سب پریسا کو استعمال کرنے میں شامل تھے۔۔ اآج اُن سب کو اُن کے انجام تک پہنچاتے شاہ ویز بہت زیادہ خوش تھا۔۔۔ اُس نے اپنی ماں کے آنسو اور باپ کی بے بسی کا بدلہ لے لیا تھا۔۔ کیونکہ اصلیت سامنے آنے کے بعد اب پوری دنیا اب شہباز آفندی اور اُس کے گھر والوں پر تھوک رہی تھی۔
بلیک سٹارز نے اقبال کیانی جیسے شر پسند اور ملک فروش لوگوں کے خاتمے کی قسم کھائی تھی۔ جس پر وہ پوری طرح کاربند تھے۔ اقبال کیانی کو اُس کے انجام تک پہنچا کر اُنہوں نے اپنے تمام دشمنوں پر واضح کردیا تھا کہ بلیک سٹارز سے ٹکرانے والوں کا انجام کیا ہوتا تھا۔
آج صبا اور جنید کی منگنی تھی۔ جس کا اہتمام اعلی پیمانے پر کیا گیا تھا۔
لڑائی سے شروع ہونے والی اُن دونوں کی کہانی محبت میں کب بدلی تھی وہ خود بھی نہیں جان پائے تھے۔
خوشیوں کی محفل عروج پر تھی۔ جہاں ہر دوسرا چہرا اپنے ہم سفر کے سنگ کھڑا مسکرا رہا تھا۔
کالی رات میں چمکتا چاند اُن سب کی مسکراہٹ کو ایسے ہی تا عمر قائم رہنے کی دعا دیتا سیاہ بادلیوں میں جا چھپا تھا۔
ختم شد۔
