No Download Link
Rate this Novel
Episode 56
“مگر میں حازم سالار ہوں۔۔۔ اگر خواہش کے مطابق کچھ نہیں ملتا تو چھین لیتا ہوں۔۔۔ جیسےاب تمہیں چھین لوں گا سب سے۔۔۔۔ “
حازم اُس کا چہرا اپنے مزید قریب کرتا اُسے اپنی گرم سانسوں سے جھلسا گیا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کے ایک دم بدلتے انداز پر حبہ خوف سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔
“تم بہت غلط کر رہے ہو۔۔۔۔ نقصان کے سوا کچھ نہیں پاؤ گے۔۔۔۔۔”
حبہ اُس کے شکنجے سے نکلنے کی ناکام کوشش کرتے بولی تھی۔۔۔۔
“اب تک جتنا نقصان پاچکا ہوں۔۔۔ اب ڈر نہیں لگتا۔۔۔۔ “
حازم اُس کی مزاحمت ختم کرتا اُس کے دھکتے گالوں پر لب رکھتا اُس کی سانسیں منجمند کر گیا تھا۔۔۔۔ حبہ کے جسم کا سارا خون چہرے پر سمٹ آیا تھا۔۔۔۔
حبہ کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر اُس کے ہاتھ پر گرا تھا۔۔۔
“تم مر بھی جاؤ گے نا حازم سالار تب بھی معاف نہیں کروں گی تمہیں۔۔۔۔۔”
حبہ اُس کے حصار سے خود کو آزاد کرواتی پیچھے ہٹی تھی۔۔۔۔
“اور مجھے مرنے کے بعد بھی تمہاری کسی معافی کی ضرورت نہیں ہے ایس پی حبہ امتشال۔۔۔۔۔”
حازم اُس کی تلخی بھری بات کا اُسی کے انداز میں جواب دیتا۔۔۔۔ گاڑی سٹارٹ کرچکا تھا۔۔۔۔
حبہ اِس وقت اپنے فل یونیفارم میں ملبوس تھی۔۔۔۔ جبکہ حازم اپنے خصوص سیاہ لباس میں بنا چہرے کو کسی شے سے ڈھکے سر عام گھوم رہا تھا۔۔۔۔ بلیک سٹارز جو اب تک سب کے لیے موسٹ وانٹڈ بن چکے تھے۔۔۔ وہ اپنی مرضی سے یوں سر عام گھومتے تھے۔۔۔۔
سیاہ قمیض شلوار میں اپنی چھا جانے والی شخصیت کے ساتھ کلائی میں مہنگی گھڑی اور آنکھوں پر سن گلاسز لگائے وہ بہت ہی ڈیشنگ اور ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔
گاڑی سے اُترتے حبہ نے بے اختیار دل ہی دل میں اُس کی نظر اُتاری تھی۔۔۔۔ وہ جو بظاہر اُس سے اپنی نفرت کا اظہار کررہی تھی۔۔۔ اُس کا دل ابھی بھی یقین نہیں کر پارہا تھا کہ اُس کا حازم کچھ غلط کر سکتا ہے۔۔۔۔
اِسی وجہ سے اندر ہی اندر اُس نے اپنے بابا کے قتل کیس کی انویسٹی گیشن شروع کروا دی تھی۔۔۔ جس کا علم وہ حازم کو کسی قیمت پر نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔۔۔
وہ اپنی ہی سوچوں میں غلطاں اُس کی چوڑی پشت کو گھورتے اُس کے پیچھے چلتی مال میں داخل ہوئی تھی۔۔۔
حازم اُسے اتنی فرمانبردار سے اپنے پیچھے آتا دیکھ اچانک سے پلٹا تھا۔۔۔
جب حبہ اپنے دھیان میں چلتی اُس کے سینے سے جا ٹکرائی تھی۔۔۔۔
اُس نے گھبرا کر حازم کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو بہت غور سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
“کیا ہوا ایس پی صاحبہ۔۔۔۔؟؟”
حازم اُس کا زرد پڑتا چہرا دیکھ پریشان ہوا تھا۔۔۔
“کچھ نہیں۔۔۔۔۔”
حبہ اُسے اگنور کرتی آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ حازم اُس کی کیفیت پر حیران ہوتا اُس کے پیچھے چل دیا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں برائیڈل ڈریسز کی ایک بہت بڑی شاپ میں داخل ہوئے تھے۔۔۔ جہاں آتے جاتے اکثر لوگ اُن کے انوکھے کپل کو حیرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔
جو اپنی شادی کی شاپنگ کرنے آئے تھے۔۔۔ مگر کھڑے ایسے تھے جیسے ابھی ایک دوسرے کا قتل کر دیں گے۔۔۔
“میم یہ ڈریس زیادہ اچھا لگے گا آپ پر۔۔۔۔ آپ کا کلر بہت فیئر ہے تو۔۔۔۔۔”
شاپ کیپر ایک مہرون رنگ کا نہایت ہی خوبصورت برائیڈیل ڈریس حبہ کے سامنے رکھتے بولا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کی بات پر حازم نے جن خونخوار نگاہوں سے شاپ کیپر کو دیکھا تھا وہ بے چارہ اپنی بات بھی پوری نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔۔
“میں بہت اچھے سے جانتا ہوں میری بیوی پر کیا سوٹ کرے گا اور کیا نہیں۔۔۔۔ یہ سب رکھو یہاں اور جاؤ یہاں سے۔۔۔”
حازم کے سرد و سپاٹ لہجے پر شاپ کیپر کا چہرا خوف سے زرد پڑا تھا۔۔۔ کیونکہ حازم کی آنکھوں سے خون ٹپک آیا تھا۔۔۔۔
اپنی بیوی کی خوبصورتی کی تعریف وہ بھلا کسی اور کے منہ سے کیسے سن سکتا تھا۔۔۔۔
“سوری سر۔۔۔۔”
شاپ کیپر سارے ڈریسز سامنے رکھتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔ جبکہ حبہ نے گردن گھما کر غصے سے حازم کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“تم یہاں میرا ٹائم ویسٹ کرنے لائے ہو مجھے۔۔۔ وہ چلا گیا ہے۔۔۔ اب یہ ڈریسز کون دکھائے گا مجھے ۔۔۔”
حبہ نے دانت پیسے تھے۔۔۔
“میں کس لیے ہوں سویٹ ہارٹ میں دکھاؤں گا نا۔۔۔ یہ بلیک سٹار اپنی بیوی کے لیے ایک شاپ کیپر بھی بن سکتا ہے۔۔۔۔”
حازم اُٹھا تھا اور سامنے پڑے ڈریسز میں سے ایک بلیک کلر کا بیوی ڈریس اُٹھایا تھا۔۔۔۔
“میں یہ ڈریس نہیں پہنوں گی۔۔۔۔ “
حبہ نے اُس ڈریس پر ناگواری بھری نگاہ ڈال کر اپنا چہرا پھیر لیا تھا۔۔۔۔
اِس سے پہلے کہ حازم کچھ بولتا جب دو لڑکیاں اُس کے قریب آئی تھیں۔۔۔
“ایکسکیوزمی سر کیا یہ ڈریس ہم دیکھ سکتے ہیں۔۔۔آپ کی چوائس بہت اچھی ہے۔۔۔۔ مجھے یہ ڈریس بہت پسند آیا ہے۔۔۔ اور شاپ کے منیجر کے مطابق یہ صرف ایک ہی پیس ہے۔۔۔۔۔”
وہ لڑکی چہرے پر مسکراہٹ سجائے انتہائی شائستگی بھرے لہجے میں بولتی حبہ کو زہر لگی تھی۔۔۔ کیونکہ اُس لڑکی کی پسندیدگی بھری نگاہیں ڈریس سے زیادہ حازم پر تھیں۔۔۔ جو بات حبہ کو آگ لگا گئی تھی۔۔۔
“یس شیور۔۔۔ میری بیگم کو یہ ڈریس نہیں پسند۔۔۔ آپ لے سکتی ہیں۔۔۔۔ “
حازم حبہ کے تاثرات جانچتا انتہائی خوشدلی سے وہ ڈریس اُن لڑکیوں کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
“نہیں مجھے بہت پسند ہے یہ ڈریس۔۔۔ اور میں یہی پہنوں گی۔۔۔۔”
حبہ سے کسی قیمت پر گوارہ نہیں ہوا تھا کہ حازم کی پسند کا ڈریس کوئی اور لڑکی پہنے۔۔۔ جبکہ اُس کے ڈریس چھیننے کے انداز پر حازم اپنی جاندار مسکراہٹ روک نہیں پایا تھا۔۔۔
“اوکے میم۔۔۔۔ نو پرابلم۔۔۔۔ لیکن سر اگر آپ مائینڈ نہ کریں تو آپ ہمارے ساتھ ڈریس سلیکٹ کرنے میں ہماری ہیلپ کرسکتے ہیں۔۔۔۔”
وہ لڑکیاں حازم کی مسکراہٹ کی مزید دیوانی ہوتیں۔۔۔ وہاں سے جانے کو بالکل بھی تیار نہیں تھیں۔۔۔۔ حبہ نے کھا جانے والی نگاہوں سے اُن کو دیکھا تھا۔۔۔۔
“یس شیور “
حازم اپنی بیوی کا جلن سے لال پڑتا چہرا دیکھ اُن کی بات پر حامی بھر گیا تھا۔۔۔ اُسے حبہ کا یہ پوزیسیو انداز بہت پیارا لگ رہا تھا۔۔۔۔
“نہیں ہمیں دیر ہورہی ہے۔۔۔۔ آپ اپنے ہزبینڈ کو کال کرکے اُنہیں بلوا لیں۔۔۔۔ “
حبہ حازم کا ہاتھ تھامتی اُٹھی تھی۔۔۔ حازم نہایت ہی تابیداری کا مظاہرہ کرتا اپنے قہقے پر بمشکل قابو پاتا اُس کے ساتھ اُٹھا تھا۔۔۔۔
“یار یہ اتنے بڑے مال میں جلنے کی بو کہاں سے آرہی ہے۔۔۔۔”
حازم باہر آکر اپنے قہقے پر قابو نہیں رکھ پایا تھا۔۔۔ جبکہ حبہ تو پہلے سے ہی شدید تپی ہوئی تھی۔۔۔ بنا اردگرد موجود لوگوں کی پرواہ کیے وہ اُس پر جھپٹ پڑی تھی۔۔۔
جبکہ حازم ہنستا ہوا اُس پنجے جھاڑتی اپنی سرپھری شیرنی کی کلائیاں اپنی گرفت میں جکڑتا اُسے قابو کر گیا تھا۔۔۔
جو اُس کی گردن اپنے ناخنوں سے بُری طرح زخمی کرچکی تھی۔۔۔
“حازم سالار تم جیسے بھی ہو ایس پی حبہ کے ہو۔۔۔ اگر دوبارہ کسی لڑکی کو یوں اپنے قریب لانے کی کوشش کی تو اپنے ہاتھوں سے تمہارا ان کاؤنٹر کروں گی۔۔۔۔ “
حبہ نم آنکھوں اور لال چہرے کے ساتھ اُسے وارن کرتی حازم سالار کو جیسے پل بھر کے لیے ساکت کر گئی تھی۔۔۔
“تم نفرت کرتی ہو مجھ سے۔۔۔۔؟؟؟”
حازم نے سوال کیا تھا۔۔۔۔
“تم کبھی مجھے سمجھ نہیں پاؤ گے حازم سالار۔۔۔ کیونکہ تم نے کبھی مجھے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔۔۔ تم آج تک وہی کرتے آؤ ہو۔۔۔ جو تم نے خود چاہا۔۔۔ میں کیا چاہتی ہوں۔۔۔ میری خوشی کیا ہے۔۔۔ اِس بارے میں تم نے کبھی سوچا ہی نہیں ہے۔۔۔۔ مگر میری ایک بات یاد رکھنا۔۔۔ اب میں بھی وہی کروں گی جو میں چاہتی ہوں۔۔۔ تمہیں تو نقصان نہیں پہنچا پاؤں گی میں۔۔۔ لیکن تمہارے ساتھیوں کو نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔ “
حبہ اُسے آگ اُگلتی نگاہوں سے دیکھتی واپس پلٹی تھی۔۔۔ جب حازم اُسے کی کمر میں بازو حمائل کرتا اُسے واپس اپنے قریب کھینچ چکا تھا۔۔۔
“میرے لوگوں کو اب تم لوگ کچھ نہیں کرسکتے۔۔۔ اور اگر تم نے میرے کسی ساتھی کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی تو پھر تم میرا بلیک سٹار والا رُوپ دیکھو گی۔۔ حازم سالار کو بھول جانا پھر۔۔۔۔”
حازم اُس کی آنکھوں کا ہر رنگ سمجھتا تھا وہ دیکھ چکا تھا کہ واقعی کچھ کرنے والی تھی۔۔۔۔ جو حازم کسی قیمت پر نہیں ہونے دے سکتا تھا۔۔۔۔
وہ وہاں سے جا چکا تھا۔۔۔۔۔ حبہ وہیں کھڑی اُسے نگاہوں سے اوجھل ہوتے دیکھ رہی تھی۔۔۔ جسے اپنے ساتھی اتنے عزیز تھے کہ وہ اُن کی خاطر اُسے دھمکی دے کر گیا تھا۔۔۔ حبہ آنکھوں میں آئے آنسو اندر دھکیلتی نیچے گرا شاپر اُٹھائے وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“جنید تم کچھ دن مزید آرام کر لیتے۔۔۔۔ “
مہروسہ سیاہ کپڑوں میں ملبوس تاریکی کا حصہ بنے کھڑے جنید کو اپنے سامنے صحیح سلامت دیکھ بہت خوش ہوئی تھی۔۔۔ جو اِس وقت اُس سے ثبوت لینے آیا تھا۔۔۔۔
“میم بستر پر پڑے دن کتنے مشکل سے گزارے ہیں میں نے۔۔۔ یہ مجھ سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔۔۔ اِس وقت میرے لیڈرز کو میری سب سے زیادہ ضرورت ہے۔۔۔ اِس موقع پر میں آپ لوگوں کے ساتھ کھڑا رہنا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
جنید کے لہجے میں اُن تینوں کے لیے بے پناہ محبت اور عقیدت تھی۔۔۔۔
جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر اُس کی جان بچائی تھی۔۔۔
مہروسہ اُس کی بات پر مسکراتی ہاتھ میں پکڑا بیگ اُسے تھما گئی تھی۔۔۔
“دھیان سے جانا۔۔۔۔ یہ ثبوت ہم لوگوں کے لیے بہت زیادہ اہم ہیں۔۔۔۔”
مہروسہ اُسے ہدایت دیتی واپس اندر کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔ جہاں چاروں جانب اندھیرا چھایا ہوا تھا۔۔۔
کوریڈور پار کرکے اپنے روم کی جانب بڑھتے اچانک کسی نے اُس کا بازو تھام کر اُسے اپنی جانب کسی روم کے اندر کھینچ لیا تھا۔۔۔۔
وہ بنا کوئی مزاحمت کیے سیدھی حمدان صدیقی کے چوڑے سینے سے جا ٹکرائی تھی۔۔۔۔
وہ بنا دیکھے ہی اُس کے لمس سے پہچان گئی تھی کہ وہ اُس کا ستمگر ہی تھا۔۔۔ اور شاید اُسے جنید کے ساتھ دیکھ بھی چکا تھا۔۔۔۔
مہروسہ نے آنکھیں موندتے اپنی موت کو اپنے بے حد قریب محسوس کیا تھا۔۔۔۔
“ہیپی برتھ ڈے مائی لو۔۔۔۔”
اُس کے کان میں سرگوشی کرتے حمدان نے اُس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دیئے تھے۔۔۔ جبکہ مہروسہ حیرت زدہ سی تاریکی میں آنکھیں پھاڑے اُسے تکے گئی تھی۔۔۔
حمدان نے ہاتھ بڑھا کر لائٹ آن کی تھی۔۔۔۔ جس کے ساتھ ہی مہروسہ کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ منہ بھی کھل گیا تھا۔۔۔
پورا کمرہ لال گلابوں سے سجا ہوا تھا۔۔۔ جس کے عین وسط میں کیک رکھا گیا تھا۔۔۔۔ مہروسہ کو یقین نہیں آیا تھا کہ یہ سب اُس کے لیے کیا گیا ہے۔۔۔۔
“یہ سب آپ نے۔۔۔”
مہروسہ سے بولنا محال ہوا تھا۔۔۔ وہ تو حمدان کی نفرت کی منتظر تھی۔۔۔ مگر حمدان تو ہر مزید محبت کا مظاہرہ کرکے اُسے پہلے سے بھی زیادہ حیران کر دیتا تھا۔۔ جیسا اِس وقت ہوا تھا اُس کے ساتھ۔۔۔
حمدان اُسے اپنے ساتھ لگائے کیک کے قریب آیا تھا۔۔۔
“میں آج کی یہ خوبصورت رات ہم دونوں کے لیے بہت اسپیشل بنانا چاہتا ہوں۔۔۔ “
حمدان اُس کے گرد اپنی بانہوں کا حصار قائم کرتے اُس کے دونوں ہاتھ تھام چکا تھا۔۔۔ حمدان کے جھکے ہونے کی وجہ سے اُس کی گرم سانسیں مہروسہ کی گردن پر پڑتیں اُس کی دھڑکنیں منتشر کر رہی تھیں۔۔۔
مہروسہ اِس وقت جس کیفیت کے زیرِ اثر تھی۔۔۔ اُس سے بول پانا مشکل ہورہا تھا۔۔۔۔
“مجھے یہی لگا تھا کہ مجھ جیسے جذبات سے عاری انسان کو کبھی محبت نہیں ہوسکتی۔۔۔۔ اور تم سے تو بالکل بھی نہیں۔۔۔ مگر آج محسوس ہورہا ہے کہ کتنی محبت کرنے لگا ہوں تم سے۔۔۔۔ تمہارے پاس نہ ہوتے ہوئے بھی تمہارا احساس ساتھ رہتا ہے۔۔۔ تم آہستہ آہستہ بہت عزیز ہوتی جارہی ہو۔۔۔ اور جانتی ہو یہی بات ایس پی حمدان صدیقی کو بہت زیادہ خوفزدہ کررہی ہے۔۔۔۔ “
حمدان اُس کا ہاتھ تھام کر چھڑی پکڑتا اُس کے کانوں میں اپنی محبت کا اظہار کرتا مہروسہ کو مسمرائز سا کر گیا تھا۔۔۔
“میں تم سے محبت نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ تم سے دور رہنا چاہتا ہوں۔۔۔ مگر میں ایسا بھی نہیں کر پارہا…”
حمدان اُس کا ہاتھ تھام کر کیک کاٹتے اُس کا رُخ اپنی جانب موڑ چکا تھا۔۔۔ اُس کی قربت پر مہروسہ کو دل بُری طرح لرز رہا تھا۔۔۔ اُسے محسوس ہورہا تھا کہ اگر یہ شخص اُسے ایسے ہی والہانہ چاہت سے دیکھتا رہا تو وہ یہیں اپنے حواس کھو دے گی۔۔۔۔
حمدان نے کیک کا پیس اُٹھا کر اُسے کھلایا تھا۔۔۔ مہروسہ کی آنکھوں سے آنسو ٹپک کر بے مول ہوا تھا۔۔۔۔
“آپ مجھ سے دور کیوں رہنا چاہتے ہیں۔۔۔۔؟؟ آپ تو محبت کرتے ہیں نا،مجھ سے۔۔۔۔”
مہروسہ کے ہونٹوں سے بے اختیار شکوہ نکلا تھا۔۔۔ وہ حمدان کے اِس نرم رویے پر زچ ہوچکی تھی۔۔۔ وہ اُس کی اصلیت جانتا تھا۔۔۔ پھر بھی اُسے کچھ کیوں نہیں کہہ رہا تھا۔۔۔ جو شخص ملک سے غداری کرنے پر اپنے سگے بھائی کو قربان کر گیا تھا۔۔۔ وہ بھلا اُس کے بارے میں سب جانتے بوجھتے اُسے کیوں نہیں کچھ کہہ رہا تھا۔۔۔
“یہی محبت ہی تو نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔”
حمدان اُس کے گلابی ہونٹوں پر لگے کیک کو دیکھ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پایا تھا۔۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے اُس کے ہونٹوں پر جھکتا کیک وہاں لگا کیک اپنے ہونٹوں سے صاف کر گیا تھا۔۔۔ مہروسہ اُس کے اِس جارحانہ لمس پر اُس کی شرٹ سختی سے دبوچ گئی تھی۔۔۔
اِس سے پہلے کہ حمدان صدیقی اپنے مقابل کھڑی ساحرہ کے سحر میں پوری طرح جکڑا جاتا۔۔۔ موبائل پر آتی کال اُسے اِن حسین لمحوں کی قید سے باہر کھینچ گئی تھی۔۔۔
وہ مہروسہ کے بکھرے دلفریب حلیے پر ایک گہری نگاہ ڈالتا فون پر جگمگاتے نمبر کو دیکھتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
مہروسہ نے بے یقینی کے عالم میں اُسے یوں جاتے دیکھا تھا۔۔۔ یہ شخص آخر کر کیا رہا تھا اُس کے ساتھ۔۔۔ حمدان صدیقی کا یہ پل پل بدلتا رُوپ مہروسہ کو اذیت میں مبتلا کر گیا تھا۔۔۔
وہ جاننا چاہتی تھی کہ آخر یہ کس کا فون تھا جس پر حمدان یوں سب کچھ ادھورا چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔
وہ اُس کے پیچھے جانا چاہتی تھی۔۔۔ مگر اچانک اُس کا سر بہت زور سے چکرایا تھا۔۔۔۔
مہروسہنے بمشکل اپنے حواس بحال رکھتے مشکوک نگاہوں سے کیک کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ اُسے آہستہ آہستہ اپنے حواس ساتھ چھوڑتے محسوس ہورہے تھے۔۔۔ تو اِس کا مطلب باقی سب چیزوں کی طرح حمدان صدیقی یہاں بھی اُس کے ساتھ گیم کھیل گیا تھا۔۔۔
کیک میں کچھ ملایا گیا تھا۔۔۔۔ اِس سوچ کے ساتھ ہی مہروسہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے وہ اپنے حواس کھوتی زمین بوس ہوچکی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“آفندی مینشن میں کام کرتا ہر فرد شاہ ویز سکندر کا وفادار ہے۔۔۔ وہ زہر نہیں تھی جو تم نے میری کافی میں مکس کی ہے۔۔۔ نیند کی گولیاں تھیں۔۔۔ جو میں اتنی زیادہ مقدار میں استعمال کرچکا ہوں کہ اب اُن کا بھی مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔۔۔۔”
شاہ ویز کی بات پر پریسا اُس شاک کی کیفیت میں اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ اُس کی آخری بات پریسا کے دل میں کھب سی گئی تھی۔۔۔۔
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔ تم اتنے ٹائم سے میرے ساتھ کھیل کھیل رہے تھے شاہ ویز سکندر ۔۔ تم نے میری زندگی کو کھیل بنا کر رکھ دیا ہے۔۔۔۔ “
پریسا اُس کی گرفت سے اپنے بال آزاد کروانے کی کوشش میں ہلکان ہوتی چلائی تھی۔۔۔
“شاہ ویز سکندر کسی کو خود پر یوں چلانے کی اجازت نہیں دیتا۔۔۔ “
شاہ ویز اُس کی سانسوں کی مہک محسوس کرتا اُسے اپنے مزید قریب کر گیا تھا۔۔۔
“پریسا آفندی بھی کسی کو یوں خود پر حق جمانے کی اجازت نہیں دیتی۔۔۔ “
جاری ہے۔۔۔۔۔
