Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

اُس نے اُس لڑکی کے گھر والوں کو پوری پروٹیکشن دینے کے بعد نہ صرف شمشیر خان کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔۔۔۔ بلکہ یہ کیس کورٹ تک بھی پہنچا دیا تھا۔۔۔ شمشیر خان کی جانب سے مسلسل ملنے والی دھمکیوں کا اُس پر کوئی اثر نہیں ہورہا تھا۔۔۔
اِسی لیے آج موقع ملتے ہی شمشیر خان کے آدمی اُس تک آن پہنچے تھے۔۔۔۔
اُن کی گاڑیوں نے حبہ کی گاڑی کو آگے پیچھے سے گھیر لیا تھا۔۔۔ حبہ کے باہر نکلتے ہی وہ بھی باہر نکل آئے تھے۔۔۔۔۔
حبہ بنا خوف کھائے باہر نکل آئی تھی۔۔۔
وہ سب ڈنڈے اور پسٹل اُٹھائے اُس کے اردگرد گھیرا بنائے آن کھڑے ہوئے تھے۔۔۔ وہ ایس پی حبہ امتشال کو ہلکے میں نہیں لینا چاہتے تھے۔۔۔
“چچ چچ چچ۔۔۔۔ بچارا شمشیر خان خود کو بچانے کے لیے۔۔۔ کتنے ہاتھ پیر مار رہا ہے۔۔۔ مگر افسوس وہ یہ سب کرکے بھی اِس بار نہیں بچ پائے گا۔۔۔۔۔”
حبہ سینے پر بازو باندھے اُن سب کو بے خوفی سے گھورتے بولی۔۔۔۔ وہ جس حال میں گھر سے نکلی تھی نہ موبائل اُٹھایا تھا اور نہ ہی اپنی گن۔۔۔۔۔
لیکن وہ اپنے چہرے پر ایسا کوئی بھی خوف ظاہر کرکے اُنہیں مزید شے نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔۔
اِس وقت وہ سادہ سے آسمانی رنگ کے سوٹ میں بالوں کو جوڑے کی صورت میں قید کیے رونے کی وجہ سے لال ہوئی آنکھوں کے ساتھ بہت حسین لگ رہی تھی۔۔۔ وہ رف اور ٹف سی لڑکی اِس وقت بنا یونیفارم میں نازک سی گڑیا لگ رہی تھی۔۔۔۔
کوئی ایک نظر میں دیکھ کر نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ نازک سی لڑکی دشمنوں کو جوتے کی نوک پر رکھنے والی ایک بہت ہی بہادر ایس پی تھی۔۔۔۔ جس نے اِس محکمے میں اپنی قابلیت کے جھنڈے گاڑ کر اپنا ایک نام بنایا تھا۔۔۔۔
اکثر دشمن ایس پی حبہ امتشال کا نام سن کر کانپ اُٹھتے تھے۔۔۔ جیسا حال اِس وقت شمشیر خان کا تھا۔۔۔۔
خود کو فرعون سمجھنے والا حبہ امتشال کے سامنے بے بس ہوچکا تھا۔۔۔۔
“خان سائیں تو بچ جائیں گے۔۔۔ مگر تم اپنی خیر منا لو ایس پی اب ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔۔۔۔ جو عبرت ناک حالت ہم تمہاری کریں گے۔۔۔ اُسے دیکھنے کے بعد اُس لڑکی سمیت دنیا کی کوئی بھی لڑکی شمشیر خان کے آگے آواز نہیں اُٹھا پائے گی۔۔۔۔۔”
شمشیر خان کے آدمی نفرت آمیز نگاہوں سے حبہ کی جانب دیکھتے ایک ساتھ اُس کی طرف بڑھے تھے۔۔۔ حبہ نے ایک نظر اُن سب کو اور اُن کے ہتھیاروں کو دیکھا تھا۔۔۔۔ وہ اکیلی لڑکی اُن بارہ ہتھیاروں سے لیس مردوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔
وہ اِس وقت بالکل خالی ہاتھ تھی۔۔۔ ایسے میں اُن کا مقابلہ کرنا بے وقوفی سے کم نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک نظر اُس نے اُن سب کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ وہ روڈ کے قریب کچی جگہ پر کھڑی تھی۔ ایک سیکنڈ اُس نے سوچنے میں لگایا تھا اور اگلے ہی لمحے جھک کر دونوں مُٹھیاں مٹی سے بھرتے اُس نے سیدھی اُن لوگوں کی آنکھوں میں پھینک دی تھی۔۔۔۔۔
وہ سب اِس حرکت کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی۔۔۔۔ ایک لمحے کے لیے وہ سب پیچھے ہوئے تھے۔۔۔ جس کا فائدہ اُٹھاتے حبہ جنگل کی جانب بھاگ نکلی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
پریسا کو اپنے آگے کھڑا کرکے اُس کی کنپٹی پر پسٹل رکھتے وہ اللہ کا نام لیتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
باہر ڈھیروں کی تعداد میں موجود پولیس نفری، عام آدمی اور رپورٹرز کو دیکھ پریسا کی آنکھیں حیرت کے مارے پوری طرح سے کھل گئی تھیں۔۔
اِس ایک انسان نے اکیلے اتنے سارے لوگوں کو قابو کررکھا تھا۔۔۔۔
اتنے سارے لوگوں میں اُسے پولیس والوں کے بیچ کھڑے سفیان اور شہباز آفندی دیکھائے دیئے تھے۔۔۔۔
جنہیں دیکھ پریسا کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے تھے۔۔۔۔ اُس کا دل چاہا تھا فوراً اِس بے رحم شخص کی قید سے آزادی حاصل کرکے شہباز آفندی کے سینے میں سما جائے۔۔۔۔۔۔۔
“پلیز مجھے جانے دیں۔۔۔ میں نے آخر کیا بگاڑا ہے آپ کا۔۔۔۔؟؟”
پریسا نے بھیگتی آواز میں شاہ ویز سے فریاد کی تھی۔۔۔
“کوئی حرکت مت کرنا۔۔۔ انجام کی زمہ دار تم خود ہوگی۔۔۔۔”
شاہ ویز نے اپنی پہلے کی کہی بات دوہرائی تھی۔۔۔ مگر اتنے سارے لوگوں کو دیکھ پریسا کا حوصلہ کافی بڑھ چکا تھا۔۔۔
یہ شخص اُسے اغوا کرکے لے جارہا تھا۔۔۔ جہاں اُس کے ساتھ کچھ بھی ہوسکتا تھا۔۔۔۔ اتنے سارے پولیس والوں کے بیچ بھلا یہ شخص کیسے اُسے نقصان پہنچا سکتا تھا۔۔۔۔۔
اِسی سوچ کے ساتھ پریسا نے چاروں طرف نگاہیں گھماتے اپنی گردن پر جما اُس کا بازو پوری قوت سے ہٹانے کی کوشش کرتے بھاگنا چاہا تھا۔۔۔۔
“نو پری۔۔۔ ڈونٹ ڈو دس۔۔۔۔”
شہباز آفندی پریسا کو ایسی کوئی بھی بے وقوفی نہ کرنے دینے کی خاطر چلائے تھے۔۔۔ وہ جانتے تھے بلیک سٹارز کے لیے کسی کی جان لینا بہت عام سی بات تھی۔۔۔۔
وہیں شاہ ویز پریسا کو اپنی بات نہ مانتے دیکھ گن اُس کی کنپٹی پر سے ہٹاتا سفیان آفندی کے بازو پر فائر کرچکا تھا۔۔۔ اُس کا نشانہ اتنا پکا تھا کہ اتنے دور پولیس والوں کے بیچ کھڑے سفیان کے عین بازو میں گولی پیوست ہوتی شاہ ویز کے دل و دماغ کو ٹھنڈک بخش گئی تھی۔۔۔
جبکہ پریسا تو سفیان کا خون نکلتا دیکھ۔۔۔۔چلا اُٹھی تھی۔۔۔۔
“تم۔۔۔ تم نے سفیان کو کیوں مارا۔۔۔۔”
پریسا اُس کی گرفت سے نکلنے کے لیے مچلی تھی۔۔۔ مگر تب تک گاڑی کے قریب پہنچتا شاہ ویز اُسے گاڑی میں دھکیلتا۔۔۔ خود بھی گاڑی میں بیٹھتا اُن سب کے بیچ بینک کا پیسہ اور آفندی ولا کی سونے کی چڑیا پریسے آفندی کو بھی لے اُڑا تھا۔۔۔۔
“تم گھٹیا شخص تمہیں چھوڑوں گی نہیں میں۔۔۔ تم نے سفیان کو کیوں۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا کے باقی الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے۔۔۔ کیونکہ سفیان اُس کے ناک پر کلوروفارم بھرا رومال رکھتا اُسے بے ہوش کرچکا تھا۔۔۔۔
اُسے معلوم تھا کہ اُس کا پیچھا کیا جارہا ہوگا۔۔۔۔ اِس لیے پریسا کے بے ہوش وجود کو بانہوں میں اُٹھائے راستے میں دو سے تین گاڑیاں تبدیل کرتا وہ اپنے بلیک ہاؤس آن پہنچا تھا۔۔۔۔
سیاہ گیٹ سے اندر کھڑے سیاہ وردیوں میں ملبوس گارڈز شاہ ویز سکندر کی بانہوں میں بے ہوش پڑی لڑکی کو دیکھ شدید دھچکے کا شکار ہوئے تھے۔۔۔ کیونکہ ایک تو اُس لڑکی نے پنک لباس پہن رکھا تھا۔۔۔ دوسرا وہ شاہ ویز سکندر کی پناہوں میں تھی۔۔۔۔ جہاں آج تک اُنہوں نے کسی لڑکی کو نہیں دیکھا تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆

وہ فل سپیڈ میں بھاگتی درختوں کے بیچ سے راستہ بناتی وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔ وہ لوگ مسلسل اُس پر گولیاں برساتے اُس کے پیچھے جارہے تھے۔۔۔۔
بھاگتے بھاگتے اُس کی سانس پھول چکی تھی۔۔۔ وہ مسلسل چالیس منٹ سے فل سپیڈ میں بھاگتے وہ بُری طرح تھک چکی تھی۔۔۔۔ اُس کے پیر شل ہوچکے تھے۔۔۔۔ وہ نہ رک سکتی تھی اور نہ ہی مزید بھاگنے کی سکت بچی تھی۔۔۔۔
وہ اِس وقت اِس قدر زہنی ٹینشن کا شکار تھی کہ اُسے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے۔۔۔۔
اُس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔۔۔۔۔ اِس وقت اُس کا سر بُری طرح چکرا رہا تھا۔۔۔ وہ کسی بھی وقت گر کر اِن لوگوں کے ہتھے چڑھ سکتی تھی۔۔۔
اِس سے پہلے کے وہ اپنے بچاؤ کے لیے کچھ سوچ پاتی۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا تھا۔۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ سامنے پڑا پتھر نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔۔ جس سے ٹکرانے کی وجہ سے وہ لڑکھڑائی تھی۔۔۔
اور سیدھی کانٹوں اور پتھروں سے بھری زمین پر جاگرتی جب دو مہربان ہاتھوں نے عین وقت پر وہاں پہنچتے اُسے اپنی قیمتی متاع کی طرح اپنی بانہوں میں تھامتے اپنے مضبوط سینے میں بھینچ لیا تھا۔۔۔
حبہ نے چکراتے سر کے ساتھ چہرا اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ وہ جو کوئی بھی نقاب پوش شخص تھا اپنی گہری بھوری آنکھوں میں آگ کے بھڑکتے شعلے لیے اُن سب آدمیوں کو گھور رہا تھا۔۔۔
“کک کون۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ نے اُس کے سینے پر ہاتھ جماتے اُس کے سہارے کھڑے ہوتے سر اُٹھا کر حازم کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جو ہمیشہ کی طرح اِس وقت بھی اُسے اپنا چہرا دیکھانے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔۔۔
“آپ کا محافظ میری جان۔۔۔۔ جو ہر وقت سایہ بن کر آپ کے ساتھ موجود رہتا ہے۔۔۔۔ “
حازم اُس کے ماتھے پر عقیدت سے بوسہ دیتے اُس کا زمین کو چھوتا دوپٹہ اُٹھاتا اُس کے گرد لپیٹ گیا تھا۔۔۔ اِس وقت وہ اُس کے پسند کے آسمانی رنگ میں ملبوس۔۔۔ آسمان سے اُتری کوئی پری معلوم ہوتی ہمیشہ کی طرح اُس کے دل و دماغ پر قیامت برپا کرگئی تھی۔۔۔۔
حازم اُسے ایک جانب گھنے بڑے سے مضبوط تنے کے ساتھ رکھے پتھر پر بیٹھاتا اُن لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل کر گیا تھا۔۔۔
جو اب درختوں میں سے راستہ بناتے اُن کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔۔۔۔
“کہاں ہے وہ لڑکی۔۔۔۔۔؟؟؟ اُسے ہمارے حوالے کر دو۔۔۔ ورنہ اپنی جان سے جاؤ گے۔۔۔۔”
وہ لوگ حازم پر گن تانے اُسے دھمکاتے ہوئے بولے۔۔۔
جبکہ حازم تو پہلے ہی اُن پر شدید غصہ تھا۔۔۔ میر حازم سالار کو غصہ کم ہی آتا تھا مگر جب آتا تھا تو سامنے والے اُس سے پناہ مانگتے تھے۔۔۔۔ جیسے کچھ لمحوں بعد یہ سب لوگ مانگنے والے تھے۔۔۔ لیکن اِن لوگوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہونے والی تھی۔۔۔۔ یہ نہ صرف حبہ کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔۔۔ بلکہ اِس وقت اُسے حازم کے سینے سے جدا کرنے کا باعث بھی بنے تھے۔۔۔ وہ کیسے معاف کردیتا اِن کی اتنی ساری غلطیاں۔۔۔۔۔
حازم نے اپنے دونوں پسٹل نکالتے اُن لوگوں کو کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیئے بغیر اُن پر فائر کھول چکا تھا۔۔۔ اُنہوں نے جوابی حملہ کیا تھا۔۔۔۔ جس سے بچاؤ کے لیے درخت کی اوٹ میں ہوتے وہ مسلسل اُن پر گولیاں چلا رہا تھا۔۔۔۔
اُسے پانچ منٹ سے زیادہ نہیں لگے تھے اُن سب کا خاتمہ کرنے میں۔۔۔۔ کیونکہ حازم سالار جیسے ٹرینڈ بنے کا مقابلہ کر پانا اُن میں سے کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔۔
وہ اپنی گنز واپس رکھتا حبہ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
جو درخت کے ساتھ ٹیک لگائے آنکھیں موندے ہوئے تھی۔۔۔۔ حازم کو لگا تھا کہ وہ بے ہوش ہے۔۔۔۔ وہ جیسے ہی اُسے اُٹھانے کے لیے آگے بڑھا۔۔۔۔ حبہ نے فوراً آنکھیں کھولتے اُسے خود سے دور دھکیلا تھا۔۔
“دور رہو مجھ سے۔۔۔۔۔”
حبہ کے اِس دھکے کے لیے حازم بالکل بھی تیار نہیں تھا۔۔۔ وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہوا تھا۔۔۔۔
“ایکسمیوزمی۔۔۔۔ “
حازم نے اپنے مقابل آکر کھڑی ہوتی حبہ امتشال کو سوالیہ نگاہوں سے گھورا تھا۔۔۔۔ جس کے جواب میں حبہ نے اپنے چکراتے سر کو تھامتے اُسے زہر خند نگاہوں سے گھورا تھا۔۔۔
“کسی کو مارنا بہت آسان ہے نا تم لوگوں کے لیے۔۔۔۔ کیوں مارا اِن سب کو۔۔۔۔۔”
حبہ نے پیچھے لگے لاشوں کے ڈھیر کو دیکھتے حازم کا گریبان پکڑتے اُس سے انتہائی نفرت بھرے انداز میں سوال کیا تھا۔۔۔
جبکہ حازم کو اُس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا تھا۔۔۔ اُسے پہلے ہی شدید غصہ آیا ہوا تھا۔۔ رہی سہی کسر حبہ نے پوری کردی تھی۔۔۔۔
وہ اُسکی کمر میں بازو حمائل کرتا اُسے اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔
“اگر میں وقت پر نہ پہنچتا تو یہ جن لوگوں کے لیے تمہارے دل میں اتنی ہمدردی جاگ رہی ہے نا۔۔۔ یہ اب تک تمہارا کام تمام کرچکے ہوتے۔۔۔۔۔ مگر تمہیں تو مجھ پر الزام لگانے اور مجھ سے لڑنے کے بہانے چاہیئے نا صرف۔۔۔ اگر اتنا کی شوق ہے نا تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ آج کا پورا دن دیتا ہوں میں تمہیں۔۔۔ جتنا مرضی لڑنا ہے مجھ سے لڑو۔۔۔ الزام لگاؤ۔۔۔۔ کیونکہ آج کی رات ہم دونوں اِس جنگل میں ہی گزارنے والے ہیں۔۔۔۔ ایک پولیس والی اور ایک گینگسٹر۔۔۔۔۔”
حازم اُس کی گردن میں پہنی چین کو چھوتا اپنی حرکت اور الفاظ سے اُسے لال کرگیا تھا۔۔۔۔ اِس شخص کی دھمکی خالی خولی دھمکی نہیں ہوسکتی تھی۔۔۔۔
حبہ نے اُس کے سینے پر دباؤ ڈالتے دور ہونا چاہا تھا۔۔۔ مگر حازم اُس کی کوشش ناکام بناتا اُسے اپنے مزید قریب کر گیا تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆

حمدان ہاسپٹل جانے کے بجائے مہروسہ کو پولیس اسٹیشن لے آیا تھا۔۔۔ اور وہیں ڈاکٹر کو بلا کر اُس نے اپنی نگرانی میں مہروسہ کی بینڈیج کروائی تھی۔۔۔
اِس لڑکی نے اُس معصوم بچے کی جان بچا کر بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے خلافِ معمول حمدان کا رویہ اُس کے ساتھ بہت اچھا تھا۔۔۔۔
“یہ آپ انجکشن کیوں نکال رہے ہیں۔۔ مجھے معمولی سی چوٹ آئی ہے میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔ “
مہروسہ بینڈیج کے بعد ڈاکٹر کو انجکشن بھرتے دیکھ کمزور سی آواز میں بولی تھی۔۔۔۔
بندوقوں اور گولیوں سے کھیلنے والی وہ لڑکی انجکشن سے کس قدر ڈرتی تھی یہ شاہ ویز اور حازم سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
وہ لڑکی گولی آرام سے کھا سکتی تھی۔۔۔ مگر انجکشن لگواتے اُس کی جان جاتی تھی۔۔۔
“لیکن آپ کو چوٹ لگی ہے۔۔۔۔ انفیکشن نہ ہوجائے اِس لیے انجکشن لگوانا ضروری ہے۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہوگا۔۔۔ آپ بازو آگے کریں۔۔۔”
ڈاکٹر صاحب اُس کے قریب انجکشن لاتے اُس کا خوف کم کرتے بولے۔۔۔۔
“نہیں پلیز۔۔۔۔۔”
مہروسہ اِس وقت حمدان کے آفس میں موجود تھی۔۔۔ جہاں ڈاکٹر اور ایک لیڈی پولیس اہلکار موجود تھے۔۔۔ اُس کی پکار پر کھڑکی کے قریب کھڑے ہوکر فون سنتے حمدان نے بھی پلٹ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
بلیک سکارف کے ہالے میں اُس کی دودھیا رنگت دھمک رہی تھی۔۔۔۔ اُس کی گھنیری پلکوں کا رقص دل موہ لینے والا منظر پیش کررہا تھا۔۔۔۔
فون پر بولے جانے والے الفاظ حمدان صدیقی کے منہ ہی اٹک چکے تھے۔۔۔۔ وہ یک ٹک آنسوؤں سے بھرے اُن سیاہ کٹوروں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ وہ نفی میں سر ہلاتی انجکشن لگوانے سے انکاری تھی۔۔۔۔ وہ اِس وقت اُسے کوئی چھوٹی سی معصوم بچی لگی تھی۔۔۔
اتنی سی بات پر بھلا کون روتا ہے۔۔۔۔ بے اختیاری میں حمدان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔۔ جس پر خود بھی حیران ہوتا وہ اگلے ہی لمحے سنجیدہ ہوتے اُن لوگوں کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟؟؟ آپ انجکشن کیوں نہیں لگوا رہیں۔۔۔؟؟”
حمدان اپنے ازلی اُکھڑ لہجے میں بولتا مہروسہ سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔۔۔
“یہ انجکشن لگوانے سے ڈر رہی ہیں۔۔۔۔ “
مہروسہ کا بازو تھامنے کی کوشش کرتی وہ پولیس اہلکار اُس کا مذاق بناتے بولی۔۔۔
“نن نہیں میں ڈر نہیں رہی۔۔۔۔۔ جب میں بالکل ٹھیک ہوں تو میں انجکشن کیوں لگواؤں۔۔۔”
مہروسہ کو گوارہ نہیں تھا کہ کوئی اُسے ڈرپوک کہے۔۔۔ پچھلی اتنی دیر سے وہ ڈاکٹر اور پولیس اہلکار عاصمہ سے منتیں کروا رہی تھی۔۔۔ اب وہ دونوں ہی تقریباً زچ ہوچکے تھے۔۔۔۔
“سر میں بہت کوشش کرچکا ہوں۔۔۔ مگر یہ تو بالکل مان ہی نہیں رہیں۔۔۔ مجھے ابھی بہت ارجنٹ جانا ہے۔۔۔۔ “
ڈاکٹر صاحب اب کافی مجبور نظر آرہے تھے۔۔۔۔
جس پر حمدان اُن کے ہاتھ سے انجکشن تھامتا عاصمہ کو اُنہیں باہر لے جانے کا اشارہ کرگیا تھا۔۔۔
“مجھے نہیں لگوانا۔۔۔۔۔”
مہروسہ اُس کے ہاتھ میں انجکشن دیکھ کمزور سی آواز میں بولی تھی۔۔۔۔
سیلوز کہنیوں تک فولڈ کیے۔۔۔ کشادہ پیشانی پر سلوٹوں کا جال بنے وہ اُس کی جانب گہری نگاہوں سے دیکھتا قریب آیا تھا۔۔۔۔
اُس کی نگاہوں اپنی نگاہوں میں گاڑھنے پر مہروسہ مبہوت سی اُس کی سحر انگیز شخصیت کو تکے گئی تھی۔۔۔ وہ بھول چکی تھی کہ وہ اِس وقت اپنے اصلی حلیے میں ہے۔۔۔۔ اُسے شدید چوٹ لگی ہے۔۔۔۔ اور سامنے کھڑے شخص کے ہاتھ میں انجکشن ہے۔۔۔۔
اُسے یاد تھی تو اپنے دل و دماغ پر سوار ہوتی ایس پی حمدان کی مسحور کن خوشبو۔۔۔۔ وہ اُس کے قریب آتا انجکشن لگانے کے لیے جھکا تھا۔۔۔
وہ گم صم سی بیٹھی۔۔۔۔ اپنی گھنیری پلکوں کی جھالر اُٹھائے حمدان صدیقی کے دل کے تار بُری طرح چھیڑ گئی تھی۔۔۔۔
مہروسہ اُس کی قربت کے سحر میں اِس قدر جکڑی ہوئی تھی کہ اُسے اِس بات کی خبر بھی نہیں ہوسکی تھی کہ کب حمدان نے اُسے انجکشن لگایا ہے۔۔۔ اُسے درد کا احساس تک نہیں ہوا تھا۔۔۔ حمدان اُس کے لال ہوتے دودھیا بازو سے نگاہیں چراتے فوراً پیچھے ہٹا تھا۔۔۔
جب اُسی لمحے حمدان کے بجتے موبائل نے مہروسہ کا سحر توڑا تھا۔۔۔ اُس نے جلدی سے اپنا بازو ڈھکا تھا۔۔۔۔
“ہاں بولو۔۔۔۔ “
حمدان نے اپنے ٹیبل کے قریب جاتے پلٹ کر مہروسہ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ نگاہوں کے تصادم پر مہروسہ نے گڑبڑاتے فوراً نظریں پھیر لی تھیں۔۔۔۔
“سر آپ کا شک ٹھیک نکلا یہ لڑکی وہی ہے۔۔۔۔”
دوسری جانب سے بولے جانے والے الفاظ پر مہروسہ پر ٹکی حمدان کی آنکھوں میں وحشت اُتر آئی تھی۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔