No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
حمدان تیر کی تیزی سے گھر کے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔ جس دہلیز کو کبھی نہ پار کرنے کی قسم کھا رکھی تھی اُس نے۔۔۔۔ اُجالا کو دیکھ وہ سب ختم ہوچکی تھی۔۔۔۔
“تم۔۔۔ تم یہاں میرے گھر میں کیا کررہی ہو۔۔۔۔ تم زندہ۔۔۔ تم تو جل کر مر گئی تھی نا۔۔۔۔”
حمدان سب کے ساتھ اندر بڑھتی اُجالا کی کلائی دبوچ کر اُسے وہیں روکتا۔۔۔۔ اُجالا سمیت وہاں موجود تمام افراد کو ساکت کر گیا تھا۔۔۔۔
کسی کو اُمید نہیں تھی حمدان اندر آئے گا۔۔۔ مگر اندر آکر اُس نے جو الفاظ ادا کیے تھے اُس نے اُنہیں خوش ہونے کے ساتھ ساتھ مزید شاک کردیا تھا۔۔۔۔
“حمدان بھائی یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟ یہ اُجالا ہے نسرین پھوپھو کی سب سے چھوٹی بیٹی۔۔۔ آپ اِسے ایسے کیوں کہہ رہے ہیں۔۔۔۔؟؟”
سب سے پہلے فرح کو ہی ہوش آیا تھا۔۔۔۔ وہ جلدی سے آتی حمدان کے جارحانہ رویہ کی وجہ سے سہمی کھڑی اُجالا کی ڈھال بنی تھی۔۔۔۔۔
“تم چپ رہو۔۔۔ تم کچھ نہیں جانتی فرح۔۔۔ یہ لڑکی۔۔۔۔”
حمدان اُنہیں کچھ بھی بتانے کا ارادہ ترک کرتے اُجالا کا بازو تھامے اُسے باہر کے جانے لگا تھا۔۔۔۔
“یہ لڑکی میری بیٹی ہے ایس پی صاحب۔۔۔۔ اگر آپ کو ہمارا اِس گھر میں آنا اچھا نہیں لگا تو ہم ایسے ہی چلی جاتی ہیں۔۔۔ آپ کو یوں ہمیں بے عزت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔۔۔۔۔ فرح ہمارا سامان لا کردو۔۔۔ “
نسرین بیگم حمدان کے ہاتھ سے اُجالا کا بازو آزاد کرواتیں شکوہ کناں لہجے میں بولتیں فرح کو اشارہ کیا تھا۔۔۔۔
“پھوپھو یہ لڑکی آپ کی بیٹی نہیں ہوسکتی یہ۔۔۔۔۔”
حمدان کا دماغ بالکل اُلٹ چکا تھا۔۔۔۔ آنسو بہاتی سامنے کھڑی لڑکی وہی تھی جس کی اُس کے آدمیوں نے بلیک سٹارز کی گینگ لیڈر ہونے کی تصدیق کی تھی۔۔۔۔
پھر یہ لڑکی اُس کی پھوپھو کی بیٹی کیسے ہوسکتی تھی۔۔۔۔۔
حمدان نے ایک زہریلی نگاہ ڈری سہمی آنسو بہاتی اُجالا پر ڈالی تھی۔۔۔۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا یہ لڑکی اُس کے گھر تک پہنچ جائے گی۔۔۔
مگر یہ تو مر چکی تھی۔۔۔۔ پھر یہ کیسے یہاں۔۔۔۔؟؟؟ وہ بھی اُس کی پھوپھو زاد بن کر۔۔۔۔۔
حمدان کا دماغ پوری طرح اُلجھ چکا تھا۔۔۔۔۔
“اچھا۔۔۔۔ کیوں۔۔۔ کیوں نہیں ہوسکتی یہ میری بیٹی۔۔۔۔ گزرے سالوں میں کتنی بار ملنے آئے ہو تم مجھے میرے گھر۔۔۔۔۔ جو جانتے ہو میرے بچوں کے بارے میں۔۔۔۔”
نسرین بیگم کو حمدان کا انداز بہت ہتھک آمیز لگا تھا۔۔۔۔
“یہ لڑکی ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔ آپ سب کو بے وقوف بنا رہی ہے۔۔۔۔۔”
حمدان نے بمشکل اپنے دماغ کو ٹھنڈا رکھتے اُنہیں سمجھانا چاہا تھا۔۔۔۔
“بس ایس پی صاحب بہت ہوگیا۔۔۔۔ یہ میرا گھر ہے۔۔۔ آپ کا تھانہ نہیں کہ آپ میری بچی کو یوں مجرم بنا کر اُس پر الزامات کی بوچھاڑ کردیں گے۔۔۔۔ اُجالا میری بھانجی ہے۔۔۔۔ اور مجھے بہت عزیز ہے۔۔۔۔ دو سال پہلے جب میں نسرین کے گھر گیا تھا تو میری طبیعت خراب ہونے پر اِسی بچی نے میری بھرپور خدمت کی تھی۔۔۔۔ اور تم اِسی بچی کو نجانے کیا کیا بولے جارہے ہو۔۔۔۔۔ اگر تمہیں ہمارے ساتھ نہیں رہنا تو مت رہو۔۔۔ مگر یہاں آکر یوں تماشے مت کرو۔۔۔ اُس لڑکی کے ساتھ رہ کر اُس جیسے ہی ہوگئے ہو۔۔۔ جس کے لیے کبھی بھی کسی پر بھی الزام لگا دینا عام سی بات ہے۔۔۔۔۔”
صدیقی صاحب نے آگے آتے اُجالا کو اپنے بازو کے حصار میں لیتے حمدان کی سخت نظروں سے بچایا تھا۔۔۔۔
پہلے پھوپھو اور اب اپنے بابا کے منہ سے اِس لڑکی کی گواہی سن کر حمدان نے ہونٹ بھینچ لیئے تھے۔۔۔۔
اُس نے ایک نظر سب پر ڈالی تھی۔۔۔ جو سب ہی اُجالا کے حمایتی بنے کھڑے تھے۔۔۔۔۔ اور اگلے کی لمحے وہ گہری سانس ہوا میں خارج کرتا خود کو ریلیکس کرگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سوری پھوپھو۔۔۔۔ لگتا ہے مجھے ہی کنفیوژن ہوگئی تھی۔۔۔ مگر آپ کو ہرٹ کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔ آئم رئیلی سوری۔۔۔۔۔”
حمدان نسرین بیگم کو سینے سے لگاتا دل سے بولا تھا۔۔۔ ان کی کسی بھی معاملے میں کوئی غلطی نہیں تھی۔۔۔ وہ اُنہیں یا باقی گھر والوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
لیکن جس کی اتنی بے عزتی کی تھی۔۔۔ اُس کی جانب نگاہِ غلط ڈالنا بھی گوارہ نہیں کیا تھا اُس نے۔۔۔۔
“بھائی میں نے بریانی بنائی ہے۔۔۔ پلیز کھا کر چلے جایئے گا۔۔۔۔۔”
حمدان کو واپس مُڑتا دیکھ فرح اُس کا بازو تھامتی منت بھرے لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔ جس پر حمدان چاہتے ہوئے بھی انکار نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔
اور سب کے ساتھ اندر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
اُن سب کو اندر جاتا دیکھ اُجالا کے ہونٹوں پر ایک خوش کن مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“اندر جو میں کہوں گا تم وہی کرو گی۔۔۔۔ اگر میری بات نہیں مانی تو تم اپنے ساتھ ساتھ اپنی فیملی کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دو گی۔۔۔۔۔ “
حازم نے گاڑی شمشیر خان کے خفیہ بنگلے کی جانب بڑھاتے اپنے ساتھ بیٹھی حبہ کو وارن کیا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا۔۔۔ یہ جذباتی لڑکی کوئی جذباتی حرکت کر سکتی ہے۔۔۔۔۔۔
“اوکے۔۔۔ مگر تمہیں تو وہ لوگ جانتے ہیں۔۔۔ مجھے کیسے اندر جانے دیں گے وہ لوگ۔۔۔ وہ بھی ایسی حساس جگہ پر۔۔۔۔۔”
حبہ نے آخر دماغ میں کھلبلاتا سوال پوچھ ہی لیا تھا۔۔۔۔
“اُن میں سے کسی کی بھی اتنی ہمت نہیں کہ وہ میری بیوی کو میرے ساتھ جانے دے روک پائیں۔۔۔۔”
حازم فاسٹ ڈرائیونگ کرتا روڈ پر نگاہیں گاڑھے بولا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کی بات پر پانی کی بوتل ہونٹوں سے لگائے بیٹھی حبہ کو زور کا اچھو لگا تھا۔۔۔۔۔
“کک کیا۔۔۔ کیا کہا تم نے ابھی۔۔۔ بیوی۔۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ نے بمشکل اپنی سانس بحال کرتے اُسے شاکی ہوکر دیکھا تھا۔۔۔۔
اُس کے ری ایکشن پر حازم کے ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔ جو چہرے پر ہنوز سیاہ لباس ہونے کی وجہ سے حبہ دیکھ نہیں پائی تھی۔۔۔۔
“ایس پی صاحبہ وہاں آپ کو اپنی بیوی کی حیثیت سے انٹروڈیوس کرواؤں گا۔ تبھی وہ میرے ساتھ اندر جانے دیں گے۔۔۔۔ اور میرا ٹیسٹ ابھی اتنا خراب بالکل بھی نہیں ہوا کہ ایسی سڑیل جذبات سے آری لڑکی کو بیوی بناؤں۔۔۔۔۔۔”
حازم نے اُس کے آگے بات کلیئر کرتے اُس کی حیرت ختم کردی تھی۔۔۔۔ حبہ اپنی رکی ہوئی سانس بحال کرتے دوبارہ پانی پینے لگی تھی۔۔۔ ورنہ کچھ لمحے پہلے حازم کی گھمبیر بھاری لہجے میں کی جانے والی بات اُس کے جسم سے جان نچوڑ گئی تھی۔۔۔۔۔
حبہ اِس وقت سیاہ قمیض شلوار میں ملبوس۔۔۔ آنکھوں پر سن گلاسز اور چہرے پر ماسک لگائے ہوئے تھی۔۔۔ تاکہ شمشیر اور اُس کے آدمی ایس پی حبہ کو پہچان نہ پائیں۔۔۔۔۔۔ حازم اِس وقت بلیک پینٹ شرٹ میں چہرے پر اپنے مخصوص سٹائل میں رومال باندھ کر نقاب کیے ماحول پر چھایا ہوا لگ رہا تھا۔۔۔۔
اُس کے کسرتی چوڑے کندھے اور دراز قد اُس کی شخصیت میں چار چاند لگا دیتا تھا۔۔۔۔۔
حازم کے مخصوص اشارے پر شمشیر خان کے آدمی نے گیٹ کھول کر اُنہیں اندر آنے دیا تھا۔۔۔۔۔
گاڑی سے اُتر کر ایک آدمی کی معیت میں وہ دونوں اندر کی جانب بڑھے تھے۔۔۔ حازم نے حبہ کو بالکل اپنے ساتھ ساتھ رکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔
حبہ اُس کا یہ پروٹیکٹو انداز نوٹ کیے بنا نہیں رہ پائی تھی۔۔۔۔ اُس کا دشمن بھلا اُس کی اتنی فکر کیسے کرسکتا تھا۔۔۔ کہ اُسے لیے اتنی خطرناک جگہ پر آن پہنچا تھا۔۔۔ اگر اِن لوگوں کو زرا سی بھی بھنک پر جاتی کہ وہ اُن کے ٹھکانے پر ایس پی حبہ کو لے آیا ہے تو اُنہوں نے اُسے ختم کرنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگانا تھا۔۔۔۔۔
حبہ کے زہن میں یہ گتھی ہت گزرتے لمحے کے ساتھ اُلجھتی جارہی تھی۔۔۔۔
“زہے نصیب۔۔۔۔ آج تو ہمارے آشیانہ کی رونق مزید بڑھ گئی ہے۔۔۔ “
شمشیر حازم کو دیکھتے ہی گرم جوشی سے ملا تھا۔ جبکہ حبہ مُٹھیاں بھینچ کر رہ گئی تھی۔۔۔۔ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا اِن کے ساتھ کیا کر ڈالے۔۔۔۔
“وعدہ کیا تھا تم سے۔۔۔۔ بہت جلد ملنے آؤں گا۔۔۔ اور تم سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ بلیک سٹارز اپنے وعدے کے کتنے پابند ہوتے ہیں۔۔۔۔۔”
حازم حبہ کے ساتھ صوفے پر براجمان ہوتا شمشیر کو معنی خیز سا جواب دے گیا تھا۔۔۔۔ جس کا مطلب سمجھے بغیر شمشیر خان قہقہ لگا گیا تھا۔۔۔
“آپ نے شادی کرلی اور بلایا بھی نہیں۔۔۔۔ کیسی ہیں بھابھی آپ۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ کو شمشیر خان حازم کے سامنے کافی مہذب لگا تھا۔۔۔ جو بات اُسے کافی حیران کررہی تھی۔۔۔ اُسے تو لگا تھا کہ اِن بلیک سٹارز کی دہشت صرف عوام پر چھائی ہوئی تھی۔۔۔ مگر یہ تو انڈر ورلڈ کی دنیا کے بھی باپ لگ رہے تھے اُسے۔۔۔۔۔ اُسے ایک دم حازم سے خوف بھی محسوس ہوا تھا۔۔۔ کیا اُس نے اپنے دشمن کے ساتھ ہاتھ ملا کر ٹھیک کیا تھا۔۔۔
بعد میں کہیں اِس شخص سے لیا گیا احسان اُس پر بھاری تو نہیں پڑنے والا تھا۔۔۔۔۔۔
“بلایا نہیں تھا اِسی لیے تو ملوانے لے آیا ہوں۔۔۔۔ “
حبہ کے جواب دینے سے پہلے ہی حازم بول پڑا تھا۔۔۔۔
“محفل سجنے کا وقت کتنے بجے کا ہے۔۔۔۔ “
حازم نے جان بوجھ کر خود پر تھکن کے آثار طاری کرتے پوچھا تھا۔۔۔۔
“ابھی تو دو گھنٹے باقی ہیں۔۔۔ آپ کے لیے بیڈ روم تیار کروا دیا ہے۔۔۔ آپ لوگ جاکر کچھ دیر آرام کرسکتے ہیں۔۔۔۔”
شمشیر خان نے فوراً میزبانی نبھائی تھی۔۔۔ آج پہلی بار بلیک سٹار خود چل کر اُس کے ٹھکانے پر آیا تھا۔۔ وہ نمبر بنانے کا اتنا اچھا موقع ضائع کیسے ہونے دینا چاہتا تھا۔۔۔۔
“بہت شکریہ جناب۔۔۔۔”
حازم اپنی مرضی کی بات سن کر خوش ہوا تھا۔۔۔
“ویسے آج کی محفل میں زونیا بھی آرہی ہے۔۔۔۔ سپیشلی آپ کا سن کر۔۔۔ پچھلے دو سالوں سے آپ سے ایک ملاقات کے لیے ماری ماری پھر رہی ہے۔۔۔۔”
شمشیر اچانک یاد آنے پر بولتا حازم کو بد مزا کر گیا تھا۔۔۔ جبکہ حبہ نے چونک کر مشکوک نگاہوں سے حازم کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔
اُسے حازم کی اُس دن کی لڑکیوں کے متعلق کہی بات یاد آگئی تھی۔۔۔۔۔
حازم شمشیر کی بات کا بنا کوئی جواب دیے حبہ کو لیے روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ روم میں داخل ہوتے ہی خونخوار نگاہوں سے حازم کو گھورتی حبہ نے اُس کے سینے پر ایک زور دار پنچ رسید کرتے اُسے بند دروازے کی جانب دھکیل دیا تھا۔۔۔ حازم اِس وار کے لیے بالکل تیار نہیں تھا۔۔۔۔۔
“کیا ہوا۔۔۔؟؟
دروازے سے چت کمر ٹکائے وہ سوالیہ نگاہوں سے اپنی خونخوار ہوتی جنگلی بلی کو گھورنے لگا تھا۔۔۔
جو ایک بار پھر بنجے جھاڑے اُس کی جانب بڑھتی اُسے کالر سے دبوچ گئی تھی۔۔۔۔
“تم نے مجھ سے جھوٹ بولا نا۔۔۔ یہ۔لوگ کس محفل کی بات کررہے ہیں۔۔۔ یہاں کونسی محفل سجنے والی ہے۔۔۔ اور یہ زونیا کون ہے۔۔۔۔ کتنی لڑکیوں کے ساتھ افیئرز ہیں تمہارے۔۔۔۔”
حبہ کے انداز سے ظاہر ہورہا تھا کہ وہ بھڑکتی آگ میں جھلس رہی ہے۔۔۔۔ یہ آگ کس چیز کی تھی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔۔
جبکہ حازم آنکھوں میں شوخی بھری چمک سجائے اُس کی کمر کے گرد دونوں بازو باندھے اُسے اپنے قریب کھینچ گیا تھا۔۔۔۔
“تم جیلس ہورہی ہو کیا۔۔۔۔؟؟؟”
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“میں زرا رائتہ لے آؤں اندر سے۔۔۔۔ وہ فریج میں پڑا تھا لانا ہی بھول گئی۔۔۔۔۔”
فرح ڈائینگ ٹیبل پوری طرح سے ریڈی کرچکی تھی۔۔۔ رائتہ نہ دیکھ وہ جلدی سے اٹھی تھی۔۔۔ ٹیبل پر سب ہی آچکے تھے۔۔۔ سوائے حمدان کے۔۔۔۔ جو جب سے آیا تھا نسرین بیگم کے پاس ہی پانچ منٹ بیٹھا تھا۔۔۔ کسی اور سے اُس نے کوئی بات کرنا گوارہ نہیں کی تھی۔۔۔ اور اُس کے بعد فون پر ایسا بزی ہوا تھا کہ ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔۔۔۔
“آپی آپ رُکیں میں لے آتی ہوں۔۔۔”
اُجالا اُسے اشارے سے منع کرتی خود کچن کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔
ابھی اُس نے کچن میں قدم رکھا ہی تھا۔۔۔۔ جب کسی نے اُسے بازو سے تھام کر اندر کھینچتے دروازے کو زور دار انداز میں بند کرتے اُس کی کمر بہت زور سے دروازے کے ساتھ ٹکاتے اُس پر پوری طرح حاوی ہوا تھا۔۔۔۔
اُجالا کے منہ سے چیخ نکلنے سے پہلے ہی وہ اُس پر اپنی بھاری ہتھیلی دبا چکا تھا۔۔۔۔۔
“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی۔۔۔ میرے گھر میں گھس کر میرے گھر والوں کے ساتھ یہ کھیل کھیلنے کی۔۔۔۔ اگر تمہیں لگتا ہے۔۔۔ مجھے بھی پوری دنیا کی طرح بے وقوف بنا لوگی۔۔۔۔ تو تمہاری سب سے بری بھول ہے۔۔۔ تمہارا اتنا بُرا حال کروں گا کہ خود کو پہچان بھی نہیں پاؤ گی۔۔۔”
حمدان اُس کی دونوں کلائیاں مڑور کر کمر پر باندھے۔۔۔ دوسرے ہاتھ سے اُس کا جبڑہ دبوچے اُسے شعلے برساتی نگاہوں سے دیکھتے بولا تھا۔۔۔۔
اُس کی اتنی سختی کے جواب میں اُجالا کی آنکھوں سے آنسو رفتار سے بہہ نکلے تھے۔۔۔۔۔
وہ اُس سے بازو آزاد کروانے کی کوشش میں ہلکان ہوتی اُس کی اتنی قربت سے بری طرح لرز رہی تھی۔۔۔۔۔
حمدان نے اُس کا جبڑ اتنی زور سے دبوچ رکھا تھا کہ اُسے بولنا مشکل ہوا تھا۔۔۔۔۔
حمدان بہت غور سے اُس کی ایک ایک حرکت نوٹ کررہا تھا۔۔۔۔ اگر اُس نے مہروسہ کا چہرا نہ دیکھا ہوتا تو اُجالا میں صورت کے سوا کوئی مشابہت نہیں لگی تھی اُسے۔۔۔۔۔۔۔
مہروسہ جیسی ٹرینڈ لڑکی کے لیے اِس گرفت سے آزاد ہونا مشکل نہیں تھا۔۔۔۔ مگر سامنے بے بسی اور تکلیف سے آنسو بہاتی لڑکی کوئی اور ہی لگی تھی اُسے۔۔۔ بلیک سٹارز کی گینگ لیڈر نہیں۔۔۔۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔ یہ نازک پنے کا ڈھونگ کرکے تم مجھے گمراہ کر لو گی۔۔۔”
حمدان نے دبی آواز میں غراتے اُس کا جبڑا آزاد کردیا تھا۔۔۔۔۔۔
اُجالا کا پورا چہرا بھیگ چکا تھا۔۔۔۔ کچھ دیر تک تو وہ کچھ بولنے کے قابل نہیں ہو پائی تھی۔۔۔۔
“آآآپپ۔۔۔۔ آپ کک کیا۔۔۔۔بب بول۔۔۔ ررر رہے ہی۔۔ ہیں۔۔۔ ؟؟؟ میں کیوں کروں گی ایسا کچھ۔۔۔ میں تو آپ کو جج۔۔۔ جانتی بھی ن نہیں ہوں۔۔۔ آج پہلی بار دیکھا آپ کو۔۔۔ میں تو یہاں آنا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔ ایگزیمز ختم ہونے کے بعد کچھ کورسز کرنے تھے۔۔۔ مگر مما نے وہ بھی نہیں کرنے دیئے۔۔۔۔ وہ یہاں لانا چاہتی تھیں۔۔۔ لیکن مجھے اب یہاں نہیں رہنا۔۔۔ میں مما کو کہوں گی۔۔۔۔”
سسکیوں کے بیچ کمزور سی آواز میں بولتی وہ حمدان کو اُس کی کلائیاں آزاد کرنے پر مجبور کر گئی تھی۔۔۔۔ بڑی بڑی جھیل سی دلکش آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔۔۔۔ لمبی خمدار گیلی پلکیں شبنم کے قطروں سے سجیں اِس وقت بہت دلکش منظر پیش کررہی تھیں۔۔۔۔ حمدان بے اختیار اِس حسین بلا سے دور ہوا تھا۔۔۔
جو بہت بری طرح چپک گئی تھی اُس سے۔۔۔۔ ہر بار ایک نئے روپ میں اُس کے سامنے آکر اُسے مزید اُلجھا دیتی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
شاہ ویز رات ہونے سے پہلے ہی واپس لوٹ آیا تھا۔۔۔۔۔ وہ اپنی کیفیت سمجھ نہیں پایا تھا۔۔۔ نجانے کیا چیز اُسے واپس بلیک ہاؤس کھینچ لائی تھی۔۔۔۔ ورنہ آج تک کبھی بھی وہ اِس طرح بنا اپنا کام پورا کیے واپس نہیں لوٹا تھا۔۔۔۔
اپنے روم میں آکر چینج کرکے فریش ہوتے وہ باہر نکل آیا تھا۔۔۔۔ مہروسہ اور حازم دونوں اِس وقت اپنے مشنز پر تھے۔۔۔ جن کی غیرموجودگی کی وجہ سے اُسے بلیک ہاؤس پر سناٹا سا چھایا معلوم ہوا تھا۔۔۔۔
“شاہ سر۔۔۔۔۔”
شاہ ویز سیگریٹ سلگھا کر ہونٹوں میں دباتا اپنی پسندیدہ جگہ پر آن بیٹھا تھا۔۔۔ جہاں وہ مہروسہ اور حازم کے ساتھ بیٹھتا تھا۔۔۔ ایک دم تاریک جگہ۔۔۔۔ اُسے اندھیرا بہت پسند تھا۔۔۔۔
سیاہ بادلوں سے ڈھکے آسمان کو گھورتے وہ سیگریٹ کا داھواں اپنے حلق میں اُتار رہا تھا جب اقراء نے آکر اُسے کی محویت توڑی تھی۔۔۔۔
“ہممم۔۔۔ کیا ہوا..؟؟؟”
شاہ ویز نے سوالیہ نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“سر وہ۔۔۔ آپ کے کہنے پر پریسا کو کال کوٹھڑی میں بند کردیا تھا۔۔۔۔ اُس نے کل سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔۔ اور وہ اندھیرے سے بہت زیادہ ڈرتی ہے۔۔۔۔ پتا نہیں اب تک اُس کا کیا حال ہوچکا ہوگا۔۔۔۔۔”
اقراء کو معصوم سی پریسا بہت پیاری لگتی تھی۔۔۔ اُسے اُس کی بہت زیادہ فکر ستائے جارہی تھی۔۔۔۔۔ اِس لیے شاہ ویز کے غصے سے شدید خوفزدہ ہونے کے باوجود وہ اُس کے پاس پریسا کی سفارش لیے آن پہنچی تھی۔۔۔۔
“اوہ۔۔۔ اُسے تو میں بھول ہی گیا تھا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز لاپرواہی سے کہتا اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔۔۔ اُس کا یہ بھولپن اقراء ہضم نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔ شاہ ویز سکندر کوئی بات بھول جائے ممکن نہیں تھا۔۔۔۔
“میں دیکھتا ہوں اُسے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز سیگریٹ کو ایش ٹرے میں مسلتا اُس جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔
“کوئی تو گڑبڑ چل رہی ہے شاہ سر کے دماغ میں۔۔۔ یہ پریسا کے معاملے میں اتنا عجیب بی ہیو کیوں کررہے ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟”
اقراء شاہ ویز کی چوڑی پشت کو گھورتے پرسوچ انداز میں بولی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز لائٹ آن کرتا اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔ اِس کمرے میں کوئی کھڑکی اور روشن دان نہیں تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔۔۔۔
مگر سامنے کا منظر دیکھ ایک لمحے کے لیے شاہ ویز سکندر کے چہرے پر بھی پریشانی نمایاں ہوئی تھی۔۔۔۔
پریسا کرسی پر رسیوں میں بندھی بے ہوش پڑی تھی۔۔۔۔ لمحے کے ہزارویں حصے میں شاہ ویز کو اپنی سنگدلی پر افسوس ہوا تھا۔۔۔ مگر اگلے ہی لمحے یہ احساس زائل بھی ہوچکا تھا۔۔۔۔
کیونکہ غلطی اِس لڑکی کی ہی تھی۔۔۔۔ جو بلیک بیسٹ سے ٹکرانے کی بے وقوفی کررہی تھی۔۔۔۔۔ وہ معاف نہیں کرتا تھا سزا دیتا تھا۔۔۔۔ جس کے زیرِ اثر اِس وقت پریسا آفندی تھی۔۔۔۔
جلدی سے رسیاں کھولتے شاہ ویز اُس کے برف کی طرح ٹھنڈے پڑتے وجود کو بانہوں میں اُٹھائے باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
اُسے اُس کے روم میں لاکر بیڈ پر لٹاتے شاہ ویز نے کمفرٹر سے اُس کے ٹھنڈ سے سرد پڑتے وجود کو ڈھانپا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
