Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

وہ آج اُس کے گینگ کے سب سے پسندیدہ رنگ۔۔۔ سیاہ رنگ کے کرتے میں ملبوس مہروسہ کے پہلے سے گھائل دل پر بجلیاں گرا گیا تھا۔۔۔
اُوپر سے اُس کی یہ عنایت رہی سہی کسر بھی پوری کر گئی تھی۔۔۔۔ وہ تو اِس شخص کے ہر انداز کی اسیر تھی۔۔۔
لیکن آج حمدان صدیقی کا یہ انداز اُس کی جان لینے کے در پر تھا۔۔۔۔
“وہ۔۔۔ مم مجھے چینج کرنا ہے۔۔۔۔۔”
مہروسہ کی سانسیں اٹک رہی تھیں۔۔۔
وہ مزید اِس شخص کے سامنے بیٹھ پانے کی ہمت نہیں رکھ پارہی تھی۔۔۔
“مگر میں نے ابھی اِس بات کی اجازت نہیں دی۔۔۔ ابھی تو میں نے ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں تمہیں۔۔۔”
حمدان تو جیسے آج اُس سے ہر بدلہ لے لینا چاہتا تھا۔۔۔ آج حمدان صدیقی کے میدان میں آتے ہی مہروسہ کنول خوفزدہ ہوچکی تھی۔۔۔۔
“مجھے پانی پینا ہے۔۔۔۔”
مہروسہ نے اُس سے اپنا ہاتھ چھڑواتے وہاں سے اُٹھنا چاہا تھا۔۔۔ مگر اُس کے وہاں سے ہٹنے سے پہلے ہی حمدان اُس کی کلائی کھینچ کر اُسے اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔
مہروسہ توازن برقرار نہ رکھ پاتے سیدھی اُس کی گود میں جا گری تھی۔۔۔
حمدان اُس کے گرد بازو حمائل کرتا اُس کے فرار کی ساری راہیں مسدود کر گیا تھا۔۔۔
“کیا تم مجھ سے فرار ہونے کی کوشش کررہی ہو۔۔۔۔؟؟؟”
اُس کے ماتھے کی بندیا کو چھوتے حمدان اُس کے لال پڑتے چہرے کو تکے جارہا تھا۔۔۔
وہ پہلے دن سے ہی بہت اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ لڑکی اُس سے محبت کرتی ہے۔۔۔۔ وہ اِس محبت کو اب تک ایسے ہی استعمال کرتا آیا تھا۔۔۔۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اُس کی محبت کو کھیل سمجھ کر کھیلنے والا خود کتنے بڑے درد کا شکار ہونے والا تھا۔۔۔۔
“نہیں تو۔۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ وہ میں اِس لباس میں تھک گئی ہوں۔۔۔ اِس لیے۔۔۔۔”
حمدان کی گرم سانسیں اپنی کان کی لوح پر محسوس کرتے مہروسہ کا دل اُس کے کانوں میں دھڑکنے لگا تھا۔۔۔
وہ نگاہ تک نہیں اُٹھا پارہی تھی۔۔۔۔
“آر یو شیور۔۔۔ یہی بات ہے۔۔۔۔۔”
حمدان کا انداز گہرا طنز لیے ہوئے تھا۔۔۔۔ مہروسہ جنید کا سوچتے بہت تکلیف میں تھی۔۔۔۔ حمدان صدیقی اُسے اُس کی زندگی کے اتنے اہم دن پر بھی اتنی اذیت میں مبتلا کیے ہوئے تھا۔۔۔ مہروسہ نے ہمیشہ یہی سنا تھا کہ محبت آپ کے ہر مرہم کا مداوا کردیتی ہے۔۔۔ مگر اُس کی محبت تو اُسے دوہرے عذاب سے گزارنے کا باعث بن رہی تھی۔۔۔
“جی۔۔۔۔ “
مہروسہ بمشکل بول پارہی تھی۔۔۔۔
وہیں دوسری جانب حمدان صدیقی بہت کوشش کے باوجود بھی خود کو اِس پری پیکر کی دلکشی اور مسحور کن خوشبو میں کھونے سے نہیں بچا پارہا تھا خود کو۔۔۔۔
اُس کی بانہوں میں مقید یہ حسین لڑکی اُس کی شریک حیات تھی۔۔ جو اُس سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔۔۔ وہ اُس پر قانونی اور شرعی حق رکھتا تھا۔۔۔۔
حمدان صدیقی جیسا مضبوط اعصاب کا مالک شخص بھی خود کو اِس وقت اِس حُسن کی مورتی کی تابکاریوں سے خود کو نہ بچا پاتے اُس کے چہرے پر جھکا تھا۔۔۔
اور باری باری اُس کے دونوں گالوں کو اپنے ہونٹوں سے چھو لیا تھا۔۔۔۔
مہروسہ اُس سے اِس عمل کی توقع نہیں کر پارہی تھی۔۔۔ وہ لرزتے وجود کے ساتھ اُس کا گریبان سختی سے دبوچ گئی تھی۔۔۔ نجانے کس احساس کے زیرِ اثر اُس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر پھسلے تھے۔۔۔۔
نمی کا احساس ہوتے ہی حمدان دور ہوتا جیسے ہوش کہ دنیا میں لوٹا تھا۔۔۔۔
وہ اُس لڑکی کے سحر میں گرفتار ہوکر وہ حرکت سرزد کرگیا تھا۔۔ جو وہ کبھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
حمدان کو خود پر شدید غصہ آیا تھا۔۔۔ وہ بھلا اِس لڑکی کو اپنا لمس کیسے بخش سکتا تھا۔۔۔ جو اُس کی دشمن تھی۔۔۔۔۔
اُسی لمحے حمدان کا فون بجا تھا۔۔۔۔
“تم چینج کر لو جاکر۔۔۔۔”
حمدان اپنی مُٹھیاں سختی سے بھینچتا اُسے سرد تاثرات کے ساتھ وہاں سے جانے کا بول گیا تھا۔۔۔
مہروسہ حمدان صدیقی کو واپس اپنے اصل روپ میں آتے دیکھ پھیکا سا مسکراتے اُس کے پاس سے اُٹھ گئی تھی۔۔۔
وہ بنا ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے واش روم میں گھس گئی تھی۔۔۔۔
اُسے اپنے ساتھیوں کی خیریت دریافت کرنی تھی۔۔۔
مگر حازم سے بات کرتے جو خبر اُسے ملی تھی۔۔۔ تکلیف کے مارے اُس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔۔۔ حمدان صدیقی کی سفاکی کی وجہ سے اُس کا بھائیوں جیسا ساتھی دوست۔۔۔ بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے کوما میں جا چکا تھا۔۔۔۔۔ اُس کے ہوش میں آنے کے چانسز بہت کم تھے۔۔۔۔
مہروسہ کی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی صورت بہہ نکلے تھے۔۔۔ ایک بار پھر اُن کے بلیک سٹارز کو بہت گہری چوٹ پہنچی تھی۔۔۔۔ اُن کے نہایت ہی قریبی آدمی کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔۔۔ مہروسہ کو اِس وقت حمدان صدیقی پر بے پناہ غصہ آرہا تھا۔۔۔ اُس کا دل چاہا تھا ایک پل کے لیے تو اِس سفاک اور بے رحم شخص سے اپنے بے قصور ساتھی کا بدلہ ضرور لے۔۔۔
مگر وہ دل کے معاملے میں اتنی بے بس تھی کہ ایسا کچھ نہیں کرسکتی تھی۔۔۔ اُسے شاہ ویز اور حازم کے غصے سے بھی خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ جو جنید کی حالت دیکھ غصے میں حمدان کو نقصان پہنچا سکتے تھے۔۔۔۔
اور وہ کبھی نہیں چاہتی تھی کہ یہ تینوں کبھی بھی آمنے سامنے آتے۔۔۔۔
شاہ ویز کو گولی لگی تھی۔۔ اُس کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔۔۔ مگر حازم اور مہروسہ دونوں ہی جانتے تھے کہ اگر حمدان صدیقی کی پوری فورس بھی ایک ساتھ لگ جاتی تب بھی شاہ ویز سکندر تک پہنچ پانا اور اُسے گرفتار کر پانا ناممکن تھا۔۔۔۔
اِس لیے وہ شاہ ویز کی جانب سے مطمئین تھے۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“یہاں آؤ اور میرے زخم کی بینڈیج کرو۔۔۔۔”
ہر شے سے بے خوف رہنے والا بلیک بیسٹ شاہ ویز سکندر اِس وقت پریسا آفندی کی قربت سے شدید خوفزدہ ہوچکا تھا۔۔۔
مگر دل کی فریاد پر ہمیشہ کی طرح آج وہ اُسے خود سے دھتکار نہیں پایا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کے پورے استحقاق سے دیئے جانے والے حکم پر پریسا کپکپا کررہ گئی تھی۔۔۔۔
پریسا ہمیشہ خون سے بہت زیادہ خوفزدہ رہتی تھی۔۔۔ اپنے ماں باپ کی ڈیڈ باڈیز خون میں لت پت دیکھی تھی اُس نے۔۔۔۔۔ جس کے بعد سے وہ خون دیکھ اپنے حواس قائم نہیں رکھ پاتی تھی۔۔۔
شاہ ویز سکندر سے ہوئی اُس کی پہلی ملاقات بھی کچھ ایسی ہی تھی۔۔۔۔
مگر اِس وقت وہ شاہ ویز سکندر کا خون دیکھ ڈری نہیں تھی۔۔۔ لیکن اُس کی فکر سے دل کانپ گیا تھا۔۔۔ جس طرح اُس کا خون بہہ رہا تھا اگر اُسے کچھ ہوجاتا تو۔۔۔
پریسا ہر لحاظ بالائے طاق رکھتی اُس کے قریب گئی تھی۔۔۔ جو اب دوبارہ آنکھیں موند چکا تھا۔۔۔۔
اُسے یوں آنکھیں بجد کرتے دیکھ پریسا کو تشویش ہوئی تھی۔۔۔
شاہ ویز کے قریب آنے پر اُس کا دل بُری طرح دھڑکنے لگا تھا۔۔۔ اُس نے اپنی شال کا ایک بڑا سا حصہ لے کر اُسے پھاڑ کر شاہ ویز کے بازو کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
وہ اندازہ نہیں لگا پائی تھی کہ زخم کہا ہے۔۔۔۔
“تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا نے اُسے پکارا تھا۔۔۔۔
لیکن وہ بنا اُسے کوئی جواب دیئے ایسے ہی آنکھیں بند کیے رہا تھا۔۔۔۔ جو بات پریسا کی پریشانی میں مزید اضافہ کر گئی تھی۔۔۔۔
وہ گھٹنوں کے بل شاہ ویز کے قریب بیٹھتی اُس کا بازو اپنے گداز ہاتھوں میں تھام گئی تھی۔۔۔۔ اُس کی شرٹ کو زخم والی جگہ سے اُوپر کرتے وہ لمحے بھر کا کانپ گئی تھی۔۔۔۔
پوری جگہ لال ہوچکی تھی۔۔۔۔ بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔۔۔ پریسا نے اُس کی تکلیف پر بھیگتی آنکھوں کے ساتھ جھک کر اپنی شال اُس کے زخم پر کس کے باندھ دی تھی۔۔۔۔۔۔
اچھی طرح سے باندھتے خون رک گیا تھا۔۔۔۔ پریسا نے نگاہیں موڑ کر شاہ ویز کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جس کی گردن ایک جانب ڈھلکی ہوئی تھی۔۔۔ اور اُس کا بازو بھی بے جان سا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
یہ دیکھ کسی انہونی کے خوف سے پریسا کو اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
“شاہ ویز سکندر۔۔۔۔ تم ٹھیک ہو۔۔۔ ؟؟؟ پلیز آنکھیں کھولو۔۔۔۔۔”
پریسا اُس کا کندھا ہلاتی اُسے جھنجھوڑنے لگی تھی۔۔۔۔
“کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔۔۔ آنکھیں کیوں نہیں کھول رہے تم۔۔۔۔ میں جانتی ہوں بہت بُری لگتی ہوں تمہیں۔۔۔۔ میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے تم۔۔۔ مگر اُس کے لیے مجھے خود سے دور رکھو نا۔۔۔۔ خود کیوں آنکھیں موندے ہوئے ہو۔۔۔ تم تو سب کچھ کرسکتے ہو نا۔۔۔ ہر شے پر اختیار ہے نا تمہارا۔۔۔ تو اب کیا ہوا۔۔ خود پر ہی اختیار کھو بیٹھے۔۔۔۔۔ شاہ ویز سکندر مجھ سے چاہے جتنی مرضی نفرت کرو۔۔۔ مگر خود کو تو اذیت میں مت رکھو۔۔۔ نہیں دیکھ سکتی میں تمہیں ایسے۔۔۔۔ “
پریسا اُس کا چہرا دونوں ہاتھوں میں تھامے اُس کے کندھے پر سر ٹکائے اُس کے قریب بیٹھی۔۔۔ زار و قطار روتی۔۔۔۔ بس کسی بھی طرح اُس کے ہوش میں آنے کی دعا کرنے لگی تھی۔۔۔
یہاں شاہ ویز کی مدد کرنے کے لیے وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔ لیکن وہ اِس شخص کو ایسے بھی نہیں چھوڑ سکتی تھی۔۔۔۔
ہوش سے بیگانہ وہ اُس کے سامنے اپنے دل کی ہر بات اشکار کرتی۔۔۔ اُسے ہوش میں نہ آتے دیکھ۔۔۔ کسی سے مدد مانگنے کے لیے اُس نے اُٹھنا چاہا تھا۔۔۔۔ جب اُسی لمحے اُسے اپنی کمر پر شاہ ویز کے بازو کی گرفت محسوس ہوئی تھی۔۔۔
اُس نے جھٹکے سے نگاہیں اُٹھا کر شاہ ویز کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جو اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
“تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔؟؟؟”
اُسے کھلی آنکھوں کے ساتھ۔۔ اپنی جانب دیکھتا پاکر پریسا بے خود کے عالم میں اُس کے چہرے کو چھوتے بولی تھی۔۔۔۔
جس کی وحشت ناک آنکھیں اُس کے صبیحہ چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔۔ اُس کے چہرے کے پتھریلے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ اُس کی ساری باتیں سن چکا ہے۔۔۔۔
“تمہیں کیا لگا۔۔۔۔ شاہ ویز سکندر اتنی آسانی سے یہ دنیا چھوڑ دے گا۔۔۔۔ ابھی تو تمہیں اور تمہارے خاندان کو برباد کرنا ہے۔۔۔۔ اتنی آسانی سے بخشنے والا نہیں ہوں میں تم لوگوں کو۔۔۔۔ اور خاص کر تمہیں تو بالکل بھی نہیں۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کی ٹھوڑی کو گرفت میں لے کر چہرا اپنی جانب موڑتے بے لچک انداز میں بولا تھا۔۔۔۔
“میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا۔۔۔۔ کیا قصور ہے میرا۔۔۔؟؟؟ کیوں تم مجھے اتنی اذیت دے رہے ہو۔۔۔؟؟؟ میری محبت کو میری سزا بنا دیا ہے تم نے۔۔۔۔”
پریسا کے آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔۔
“میری سب سے بڑی قصور تم ہی ہو پریسا آفندی۔۔۔ ابھی تو تم نے میری ایک ایک اذیت کا حساب سود سمیت ادا کرنا ہے مجھے۔۔۔۔۔۔ تمہاری یہ تڑپ کتنا سکون دیتی ہے مجھے۔۔۔ میں بیان نہیں کرسکتا۔۔۔ تمہارے یہ گرتے آنسو میرے اندر لگی آگ میں کمی لانے کا باعث بن رہے ہیں۔۔۔ “
شاہ ویز شہادت کی اُنگلی سے اُس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چھوتے آگ اُگلتے لہجے میں بولتا پریسا کو خود سے مزید خوفزدہ کر گیا تھا۔۔۔۔
پریسا نے گھبرا کر اُس سے دور ہونا چاہا تھا۔۔۔۔ مگر اُس سے پہلے ہی شاہ ویز اُس کی فرار کی ساری راہیں مسدود کرتا اُسے اپنے قریب کھینچ گیا تھا۔۔۔
“کیا ہوا ڈر لگ رہا ہے مجھ سے۔۔۔۔۔؟؟ تم تو محبت کرتی ہو نا مجھ سے۔۔۔۔ پھر یہ ڈر کیسا پریسا آفندی۔۔۔ تم جانتی تھی نا کہ میں انسان نہیں ایک وحشی درندہ ہوں۔۔۔۔ تو کیوں کی مجھ سے محبت۔۔۔ تمہاری قصور وار تم خود ہو میں نہیں۔۔۔۔ میں شروع سے ایسا ہی ہوں۔۔۔۔ اور ہمیشہ سے ایسا ہی رہوں گا۔۔۔۔ جذبات اور احساس سے عاری بلیک سٹارز کا لیڈر بلیک بیسٹ۔۔۔۔ جو انسان نہیں ایک درندہ ہے۔۔۔۔ جس سے محبت کرکے تم نے اپنی زندگی اپنے ہاتھوں سے برباد کردی ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے چہرے سے آنسو صاف کرتا اُس کا چہرا اپنے چہرے سے قریب تر کر گیا تھا۔۔۔ اتنا کہ پریسا کو اپنا چہرا اُس کی گرم سانسوں سے جھلستا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔
“تم ایک دن بہت پچھتاؤ گے شاہ ویز سکندر۔۔۔۔ جب تمہیں محبت کی ضرورت ہوگی۔۔۔ اور تمہارے پاس کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔ میں نہیں جانتی مجھے کب اور کیسے تم سے محبت ہوگئی ہے۔۔۔ مگر مجھے اُس دن کا انتظار ہے جب تمہیں بھی ایسے ہی کسی سے محبت ہوگی۔۔۔۔ تب تمہیں محبت کے درد کا اندازہ ہوگا۔۔۔۔ اور تمہیں احساس ہوگا۔۔۔ میرا دل توڑ کر تم نے مجھے کتنی تکلیف دی ہے۔۔۔ مگر تب تمہارے پاس میں نہیں ہونگی۔۔۔۔”
پریسا اُس سے اپنا آپ آزاد کروانے کی کوشش کرتی شاہ ویز سکندر کو لمحے بھر کے لیے ساکت کر گئی تھی۔۔۔
“بدعا دے رہی ہو۔۔۔۔؟؟”
شاہ ویز سکندر کی نگاہیں بس اُس کے آنسوؤں اور لرزتے کانپتے ہونٹوں پر تھیں۔۔۔۔
“نہیں آگاہ کررہی ہوں۔۔۔ کہ تمہارا یہ تکبر اور غرور محبت کے آگے نہیں ٹھہر پائے گا۔۔۔۔”
پریسا اُس کے وجیہہ نقوش کی جانب دیکھتے اذیت سے بولی تھی۔۔۔۔ اِس شخص کو اُس نے دل و جاں سے چاہا تھا۔۔۔ مگر یہ شخص اُس کی قسمت میں ہی نہیں تھا۔۔۔۔
یہ اُس کے ساتھ پہلی بار نہیں ہورہا تھا۔۔۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا تھا جس انسان کو وہ شدت سے چاہتی تھی۔۔۔ اپنے قریب دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ وہی اُس سے چھین لیا جاتا تھا۔۔۔۔
“شاہ ویز سکندر کبھی اپنی زندگی میں ایسی نوبت نہیں آنے دے گا۔۔۔۔ وہ اپنی عزیز ازجان چیزوں اور انسانوں کو اپنے قریب رکھنا جانتا ہے۔۔۔۔ “
شاہ ویز کی نگاہیں اُس کے چہرے کے ایک ایک نقش کا طواف کرتیں پریسا کو لمحے بھر کے لیے نروس کر گئی تھیں۔۔۔ اُسے اُس کا انداز بہت عجیب سا لگا تھا۔۔۔۔
اُسے محسوس ہوا تھا جیسے بات کے اختتام پر شاہ ویز سکندر کی آنکھیں مسکرائی ہوں۔۔۔
مگر یہ سب لمحے کے ہزارویں حصے میں ہوا تھا۔۔۔ کہ پریسا سمجھ نہیں پائی تھی کہ یہ سچ ہے یا۔۔۔۔ اُس کا کوئی وہم۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی ڈھیلی پڑتی گرفت پر اُس کے سینے پر دونوں ہتھیلیوں کا دباؤ ڈال کر اُس کا حصار توڑتی اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ شاہ ویز سکندر کی عزیزازجان ہستیوں میں شامل نہیں تھی۔۔۔ اِس سوچ کے ساتھ ہی اُس کے دل میں درد سا اُٹھا تھا۔۔۔
اُس کے پیچھے ہی شاہ ویز بھی اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔۔۔۔
اور بنا مزید کچھ بولے اُس کا ہاتھ تھامتا وہ اُس ایریے سے نکل آیا تھا۔۔۔ جنگل کراس کرکے پچھلے روڈ پر آتے ہی وہاں اُس کے آدمی گاڑی لیے اُس کے منتظر تھے۔۔۔۔
وہ دونوں ہی اِس وقت ایک دوسرے کی جانب دیکھنے سے اجتناب برتے ہوئے تھے۔۔۔۔
پریسا شاہ ویز کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں سے آنسو خشک ہی نہیں ہوپارہے تھے۔۔۔ جبکہ شاہ ویز سکندر اُن آنسوؤں کو دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔۔
پریسا غصے میں سفیان سے نکاح کرنے کا فیصلہ تو کر چکی تھی۔۔۔۔ مگر کل متوقع نکاح کا سوچتے اُسے اپنا وجود بے جان ہوتا محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔۔
گاڑی آفندی مینشن سے کچھ فاصلے پر قدرے تاریک حصے میں روکی گئی تھی۔۔۔ پریسا گاڑی کے رکتے ہی ہوش میں آتے بنا شاہ ویز کی جانب ایک نظر بھی ڈالے باہر نکل گئی تھی۔۔۔
شاہ ویز سکندر مُٹھیاں بھینچے بہت غور سے اِس لڑکی کا یہ اگنور کیا جانا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
جیسے ہی پریسا گیٹ کے سامنے پہنچی اندر سے اُسے سفیان باہر آتا دیکھائی دیا تھا۔۔۔۔ شاہ ویز کی نگاہیں اُسی منظر پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔۔
جب سفیان نے پریسا سے کوئی بات پوچھتے اُس کے قریب ہوتے اُس کا بازو تھاما تھا۔۔۔۔ پریسا نے گھبرا کر اُس جانب دیکھا تھا۔۔۔ جہاں شاہ ویز سکندر آگ اُگلتی نگاہوں سے اُسے ہی گھور رہا تھا۔۔۔۔
پریسا نجانے کس غصے کے تحت صرف شاہ ویز کو طیش دلانے اور دکھانے کے لیے سفیان کا ہاتھ تھامتی زرا سا اُس کے قریب ہوئی تھی۔۔۔
اور بس یہاں شاہ ویز سکندر کا ضبط ٹوٹا تھا۔۔۔
اُس نے آگے بیٹھے گارڈ سے بندوق کھینچتے وہیں بیٹھے سفیان کے اُسی بازو پر فائر کیا تھا۔۔۔۔ جس سے اُس نے پریسا کو تھام رکھا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز کی اِس حرکت کا تصور پریسا وہم وگمان میں بھی نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔ سفیان کے بازو سے بہتے خون کو دیکھ اُس نے گھبرا کر شاہ ویز کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
جو آگ اُگلتی نگاہوں سے اُسے دیکھتا گاڑی وہاں سے نکال کر لے گیا تھا۔۔۔۔
پریسا نے اُلجھن بھرے انداز میں یہ دیکھا تھا۔۔۔۔۔ اُس کا دماغ پوری طرح سے گھوم چکا تھا۔۔۔ شاہ ویز سکندر آخر چاہتا کیا تھا وہ سمجھ نہیں پائی تھی۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“میم آپ کا شک بالکل ٹھیک نکلا۔۔۔۔ آپ کے فادر کے ساتھ جو واقعی پیش آیا وہ حادثہ نہیں بلکہ سازش کے تحت اُن کی گاڑی کو جلایا گیا تھا۔۔۔۔۔ اور اُس ٹائم اُن کے موبائل کا جو ریکارڈ نکالا گیا تھا۔۔۔ اُس کے تحت آخری بار اُن کے موبائل سے اُن کے بھتیجے حازم سالار سے کے نمبر پر کال کی گئی تھی۔۔ اب تک اِس کیس میں یہی کہا گیا ہے کہ حازم سالار بھی اُن کے ساتھ تھا۔۔۔ مگر مجھے نہیں لگتا ایسا کچھ ہے۔۔۔ کیونکہ گاڑی سے صرف ایک شخص کی ہی جلی ہوئی لاش ملی ہے۔۔۔ اور پورسٹ مارٹم ميں وہ انسان آپ کے فادر تھے۔۔۔۔۔”
انسپکٹر غفور نے اُس کے کہے پر اے ٹو ذی اپنے کی گئی ساری انویسٹی گیشن سے آگاہ کردیا تھا۔۔۔۔
جو سنتے حبہ کو اپنی آخری اُمید بھی ٹوٹتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔ اُسے حازم کا کہا سچ ثابت ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
جو وہ کبھی نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔