Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 50

“پری۔۔۔۔”
شاہ ویز سیگریٹ وہیں پھینکتا بے اختیاری میں زیرِ لب بڑبڑاتا اُس جانب بھاگا تھا۔۔۔۔
“اُسے زرا سی تکلیف میں دیکھ اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دیوانوں کی طرح اُس کی جانب دوڑ پڑتا ہے۔۔۔ اور اِس وحشی کو اپنی پری سے محبت نہیں ہے ابھی۔۔۔۔”
حازم جس کو شاہ ویز کے ایک جملے نے اُس کی زندگی واپس لوٹا دی تھی۔۔۔ وہ اُس کے اِس بے خود انداز پر مسکراتا اپنی منزل کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز جلدی سے اپنے روم میں پہنچا تھا۔۔ جہاں پریسا خوف سے کانپتی باہر نکل رہی تھی۔۔۔ شاہ ویز سے ہونے والے زور دار تصادم پر اُس کے منہ سے دوبارہ چیخ نکلی تھی۔۔۔
جب شاہ ویز اُسے اپنے حصار میں لے گیا تھا۔۔۔
وہ شاید ابھی ابھی واش روم سے نکلی تھی۔۔۔ گیلے بالوں کو تولیے میں قید کر رکھا تھا۔۔۔۔ اُس کا نرم نم آلود لرزتا کانپتا دلکش وجود شاہ ویز کے دل و دماغ پر ایک قیامت برپا کر گیا تھا۔۔۔
“کیا ہوا ۔۔۔؟؟ تم ٹھیک ہو..؟؟؟”
شاہ ویز نے اُس کی آنکھوں سے نکلتے آنسو دیکھ پورے کمرے پر نگاہ دوڑائی تھی۔۔ مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔۔ اور وہ بہت اچھے سے جانتا تھا اُس کے کمرے میں آنے کی جرأت کوئی کر بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔
اِس وقت بھی سب لوگ پریسا کی چیخ پر فکرمند ہونے کے باوجود باہر ہی رک گئے تھے۔۔۔
“وہ اندر واش روم میں۔۔۔۔۔”
پریسا اُس کے سینے میں ہی چہرا چھپائے روتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔
جس پر شاہ ویز طیش کے عالم میں اُسے ساتھ لگائے واش روم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ مگر واش روم میں بھی کوئی دکھائی نہیں دیا تھا اُسے۔۔۔
“پری یہاں کوئی نہیں ہے۔۔۔۔ تم نے کس کو دیکھا۔۔۔۔ تم کیوں ڈر گئی ہو اتنا۔۔۔۔؟؟؟”
زندگی میں آج پہلی بار شاہ ویز اُس سے اتنی نرمی سے بات کرتا اُس کے گرد اپنا حصار مزید مضبوط کر گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“ہے تو سہی۔۔۔ سامنے دیکھو نا۔۔۔ اتنا بڑا کاکروچ ہے دیوار پر۔۔۔۔ “
پریسا نے بنا دیکھے دیوار کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کی بات سمجھتے شاہ ویز سکندر کا چہرا غصے سے لال ہوا تھا۔۔۔۔
پریسا کی وہ دل دہلا دینے والی مسکراہٹ سن کر وہ کیا سمجھ رہا تھا اور یہاں ماجرا کیا نکلا تھا۔۔۔
دنیا کو ڈرا کر رکھنے والے بلیک بیسٹ کی بیوی ایک کاکروچ سے ڈرتی تھی۔۔۔ جو خود اُس کی چیخوں سے ڈر کر اپنے لیے کوئی پناہ گاہ ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔
شاہ ویز نے اُس کا بازو پکڑ کر اُسے خود سے جدا کیا تھا۔۔
پریسا نے نگاہ اُٹھا کر اُس کے جارحانہ تیور دیکھے تھے۔۔۔
جو اُسے دیوار کے ساتھ دھکیلتا اُس کی دونوں کلائیاں تھام کر دیوار سے لگاتے اُس پر حاوی ہوا تھا۔۔
پریسا کو اب احساس ہوا تھا کہ وہ کس حلیے میں اُس کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔
سیاہ گیلے دراز بالوں کی آبشار کمر پر پڑی اُس کی شرٹ کو پوری طرح بھگو گئی تھی۔۔۔۔ وہ اُسے سر سے پیر تک تپیش زدہ نگاہوں سے گھورتا اُس کی ٹھوڑی کو اپنی گرفت میں لیتا چہرا اُوپر کر گیا تھا۔۔۔۔
پریسا اِس وقت فریش ریڈ کلر کا شارٹ فراک اور کھلا ٹراؤزر پہنے بہت حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔ اُس کا شاہ ویز کی دہشت سے لال ہوتا چہرا اور ہولے ہولے لرزتا وجود شاہ ویز سکندر کے دل و دماغ پر بھاری ثابت ہورہا تھا۔۔۔
پریسا کی چیخ سن کر جس طرح وہ پریشانی اور بے چینی کے عالم میں بھاگ کر آیا تھا۔۔۔۔ یہ وہی جانتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ کیا طریقہ ہے۔۔۔ اِس طرح کون چیختا ہے۔۔۔ کاکروچ بھی کوئی ڈرنے والی شے ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز غصے سے لال پڑتے چہرے کے ساتھ اُس پر چلایا تھا۔۔۔
جبکہ پریسا سہم کر دیوار سے بالکل چپک گئی تھی۔۔۔
“مجھے کاکروچ سے اتنا ڈر نہیں لگا جتنا اِس وقت تم سے لگ رہا ہے۔۔۔۔ “
پریسا اُس کی جانب لرزتی پلکیں اُٹھاتے بولی تھی۔۔۔۔
وہ زرد چہرے ہے ساتھ۔۔۔ منہ پھلائے کھڑے اتنی پیاری لگی تھی۔۔۔ کہ شاہ ویز کا خود پر سے اختیار ختم ہوا تھا۔۔۔
“کہیں تمہارا اب دوبارہ بے ہوش ہونے کا ارادہ تو نہیں بن رہا ہے۔۔۔۔ ؟؟”
شاہ ویز اُس کی کلائی تھام کر اُسے اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔ پریسا ایک دم اُس کے اتنے قریب آگئی تھی کہ دونوں کی سانسیں ایک دوسرے میں اُلجھنے لگی تھیں۔۔۔
پریسا نے جان بوجھ کر شاہ ویز کو دیکھانے کی خاطر اُس کی جانب سے چہرا پھیرتے منہ بنایا تھا۔۔۔
“تم سے سگریٹ کی سمیل آرہی ہے۔۔۔ مجھے بات نہیں کرنی تم سے۔۔۔۔”
وہ ایک ادا سے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں پٹ پٹاتے بولتی شاہ ویز سکندر کا چین و قرار چھین گئی تھی اُس سے۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اُس سے دور رہنا چاہتا تھا۔۔۔ اُس کی وحشت ناکی اِس لڑکی کی اداؤں کے مقابل نہیں ٹکنے والی تھی۔۔۔۔
وہ جھکا تھا اور اُس کا ہاتھ ہونٹوں سے ہٹاتا اُس کے ہونٹوں پر اپنے شدت بھرا لمس چھوڑ گیا تھا۔۔۔ پریسا اُس کے اِس گستاخانہ عمل پر کانپ گئی تھی۔۔۔
وہ جانتی تھی وہ اُسے صرف خوفزدہ کرنا چاہتا ہے خود سے۔۔۔۔ مگر وہ بھی پریسا آفندی تھی۔۔۔ شاہ ویز سکندر کے سارے کس بل نکلنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔
“مجھ دنیا میں سب سے زیادہ پیارے سگریٹ ہیں مجھے۔۔۔ پوری دنیا کے بغیر جی سکتا ہوں۔۔۔ اِن کے بغیر نہیں۔۔۔۔”
شاہ ویز اُسے اُس کی غلطی باور کرواتا پیچھے ہٹا تھا۔۔۔ جب پریسا اُس کے کالر اپنی دونوں مُٹھیوں میں دبوچتے اُسے واپس اپنی جانب کھینچ چکی تھی۔۔۔
“تمہاری زندگی میں اِسی مقام پر آنا چاہتی ہوں۔۔۔ جس پر تم میرے بنا نہ جی سکو۔۔۔ بولو کیا کرنا ہوگا مجھے یہاں تک پہنچنے کے لیے۔۔۔۔”
پریسا اُس کے پیروں پر اپنے پیر جماتی اُس کے نہایت قریب آن کھڑی ہوتی اپنے گداز ہونٹ اُس کی ٹھوڑی پر رکھتی ہلکا سا مسکرائی تھی۔۔۔۔
جبکہ شاہ ویز سکندر اُسے کیا بتاتا وہ بہت پہلے پریسا آفندی کی اِن اداؤں سے گھائل ہوچکا تھا۔۔۔
“سیگریٹ میرا نشہ ہے۔۔۔ میرے درندگی بھرے قہر برساتے غصے میں مجھے سنبھالتے ہیں۔۔۔ میری پل پل کی اذیت کے ساتھی ہیں۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے گیلے بالوں کی لٹوں کو اُنگلیوں پر لپیٹتا اُس کا چہرا اپنے چہرے کے قریب کر گیا تھا۔۔۔
جب اُسی لمحے پریسا کی آنکھوں سے آنسو پھسلے تھے۔۔۔
“میں جانتی ہوں شاہ ویز سکندر۔۔۔ تمہاری زندگی میں مجھے یہ مقام کبھی نہیں مل پائے گا۔۔۔۔”
پریسا اُس سے اپنے بال آزاد کرواتی دور ہوئی تھی۔۔ جب شاہ ویز اُس کے بالوں کو گرفت میں لیتا واپس اُسے اپنے قریب کھینچ گیا تھا۔۔۔
پریسا کے آنسو اُس کا دل چیر جاتے تھے۔۔۔
“کیا چاہتی ہو تم۔۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز اُس کے بالوں کو جکڑے اُس کی آنکھوں سے گرتے آنسوؤں کو سُرخ نگاہوں سے دیکھتے خفگی بھرے انداز میں بولا تھا۔۔۔
“شاہ ویز سکندر کا نشہ بننا چاہتی ہوں۔۔۔ ایسا خطرناک اور جان لیوا نشہ کہ مجھے خود سے دور کرنے پر تمہیں اپنی زندگی دور ہوتے محسوس ہو۔۔۔ میرے بغیر تم جی بھی نہ سکو۔۔۔ جیو تو صرف میرے لیے۔۔۔ مرو تو صرف میرے نام پر۔۔۔ “
پریسا شدت پسندی سے بولتی شاہ ویز سکندر کے دل و دماغ کو جیسے اپنے لفظوں میں جکڑ گئی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز اپنی دیوانی کی یہ دیوانگی دیکھ کتنے ہی لمحے کچھ بول ہی نہیں پایا تھا۔۔۔۔
مگر جیسے ہی اُسے آنے والے حالات کا خیال آیا وہ اُسے دونوں بازوؤں سے تھامتا اپنے مقابل لے آیا تھا۔۔۔
“تم جو کررہی ہو یہ تمہیں بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔۔۔ میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا۔۔۔ میری محبت سہہ نہیں پاؤ گی۔۔۔۔ کیوں مجھے اپنے قریب آنے پر اُکسا رہی ہو۔۔۔ تم بہت نازک ہو۔۔۔ شاہ ویز سکندر کی قربت برداشت نہیں کر پاؤ گی۔۔۔ جیسا چل رہا ہے۔۔۔۔ چلنے دو۔۔۔ “
شاہ ویز اُس کے چہرے پر گرتے قطروں کو دیکھتا اُس کے چہرے پر جھکا تھا۔۔۔ اور ایک ایک قطرے کو اپنے ہونٹوں سے چننے لگا تھا۔۔۔
پریسا اُس کا شدت بھرا لمس اپنے چہرے پر محسوس کرتے جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔ شاہ ویز کی شیو کی چبھن محسوس کرتے وہ کسمسائی تھی۔۔۔۔
اور شاہ ویز کے سینے پر دونوں ہتھیلیوں کا دباؤ ڈالتے اُسے دور کرنا چاہا تھا۔۔۔۔
“تمہیں تو نفرت ہے نا مجھ سے شاہ ویز سکندر۔۔۔ پھر کونسی محبت۔۔۔۔ کیوں لائے ہو مجھے یہاں پر۔۔۔ دھتکار دو نا اب بھی پہلے کی طرح۔۔۔۔ “
پریسا اُس کی گرفت سے خود آزاد کرواتے لال چہرے کے ساتھ بولی تھی ۔۔۔ جب شاہ ویز اُس کی کلائی کمر کے پیچھے موڑتا اُس کے لال چہرے کو دیکھنے لگا تھا۔۔۔۔
“اپنی بات پر میں اب بھی قائم ہوں۔۔۔۔ نفرت تو اب بھی ہے مجھے تم سے۔۔۔۔ مگر اب دھتکار نہیں سکتا۔۔۔ کیونکہ اب تم شاہ ویز سکندر کی بیوی ہو۔۔۔۔ “
شاہ ویز کی نگاہیں بار بار اُس کی گیلی زلفوں سے اُلجھ رہی تھیں۔۔۔
“کاش تمہیں مجھ سے شدید محبت ہوجائے۔۔۔ تو میں بھی تمہیں ایسے ہی تڑپاؤں شاہ ویز سکندر۔۔۔۔ “
پریسا اُس سے اپنا آپ چھڑواتی دور ہوئی تھی۔۔۔
جبکہ اُس کی بات پر شاہ ویز دھیرے سے مسکراتا واپس پلٹ گیا تھا۔۔۔۔
“تم مسکرائے ہو۔۔۔۔”
پریسا پیچھے سے چلائی تھی۔۔۔
“جس کی تم جیسی ڈرپوک بیوی ہوگی وہ اور کیا کرے گا۔۔۔۔”
شاہ ویز بنا پلٹے سگریٹ سلگھاتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

حازم بلیک ہاؤس کے اُوپر کے پورشن میں موجود اپنے روم میں داخل ہوا تھا۔۔۔ جب اچانک کوئی شے اُڑتی ہوئی اُس کی جانب آئی تھی۔۔۔ وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں ایک طرف ہوتا اپنا بچاؤ کر گیا تھا۔۔۔
وہ حبہ کا پھینکا گیا گلدلان تھا جو اُس نے بنا دیکھے اندر آتے شخص پر پھینکا تھا۔۔
لیکن سامنے کھڑے حازم کو دیکھ وہ پل بھر کے لیے ساکت ہوئی تھی۔۔۔
“حبہ۔۔۔۔”
حبہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے صحیح سلامت کھڑا دیکھ حازم کے ہونٹوں سے بے اختیار نکلا تھا۔۔۔۔
جو روم کے وسط میں کھڑی خونخوار نگاہوں سے اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“دیکھ لیا تم نے اپنے لوگوں کی حرکت۔۔۔ تمہاری بیوی کو اغوا کرکے یہاں لے آئے ہیں۔۔۔۔ “
حبہ اُس کے قریب آتی غصے سے بپھری اور بھی نجانے کیا کہہ رہی تھی۔۔ جب حازم نے اُسے تھام کر اپنے سینے سے بھینچتے اُس کے نازک وجود کو خود میں سمو لیا تھا۔۔۔
حبہ کی گردن میں منہ چھپائے اُس کا لمس محسوس کرتا وہ اُس کے ہونے کا یقین کرنے لگا تھا۔۔۔۔
جبکہ حبہ اُس کا یہ یہ شدت بھرا انداز دیکھ حیرت سے اُسے دیکھے جارہی تھی۔۔۔
“تم زندہ ہو۔۔ تم بالکل ٹھیک ہو۔۔۔ “
حازم اُسے اتنی مضبوطی سے اپنے سینے میں بھینچے ہوئے تھا کہ حبہ کو سانس لینے میں دشواری پیش آنے لگی تھی۔۔۔۔
“حازم سالار دور رہو مجھ سے۔۔۔۔ تم یہ۔۔۔۔”
حبہ بمشکل بولتی اُسے خود سے دور دھکیلنے لگی تھی۔۔۔
“نہیں اب دور نہیں رہ سکتا تم سے۔۔۔ بہت تڑپایا ہے تم نے مجھے۔۔۔ میری جان نکال دی تھی تم نے۔۔۔۔ تمہاری اِس حرکت کے لیے کبھی معاف نہیں کروں گا تمہیں۔۔۔”
حازم اُس کا چہرا دونوں ہاتھوں میں تھامتے اُس کی حیران آنکھوں میں اپنی ضبط سے لال ہوتی آنکھیں گاڑھے بولتا اُسے ششدر کر گیا تھا۔۔۔
“تم کیا بول رہے ہو۔۔۔۔؟؟؟ “
حبہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔ جب حازم نے موبائل نکالتے وہ ساری نیوز دکھائی تھی اُسے۔۔۔۔
جو دیکھ حبہ جا چہرا زرد ہوا تھا۔۔۔ وہ اِس جہاز میں اپنی ماما اور صبا کو بھی لے جانا چاہتا تھا۔۔۔ مگر اُس کے رب نے اُنہیں بچا لیا تھا۔۔۔۔
“تو تمہیں لگا میں مر گئی۔۔۔۔ جبکہ تمہارے اپنے لوگ مجھے اغوا کرکے یہاں لے آئے۔۔۔۔ اور تمہیں تڑپنے کے لیے چھوڑ دیا۔۔۔۔ یہیں ہیں تمہارے بلیک سٹارز۔۔۔ جن کی خاطر تم نے میرے بابا کی جان لی۔۔۔ حازم سالار تم سے نفرت محسوس ہورہی ہے مجھے۔۔۔ میرا دن رات اِس اذیت میں گزر رہے ہیں کہ اتنے سال میں نے اپنے بابا کے قاتل سے محبت کی۔۔۔ جو نفرت کے قابل بھی نہیں ہے۔۔۔ اُسے اپنا شوہر مانا۔۔۔۔ تمہیں کیا لگ رہا ہے یہ سب کرکے میرا دل پگھلا دو گے۔۔۔ بہت بڑی بھول ہے تمہاری۔۔۔۔ تمہیں تمہارے ظلم کی سزا دے کر رہوں گی میں۔۔۔۔ “
حبہ اُس کے ساتھ لگی کھڑی نفرت بھری نگاہوں سے اُسے دیکھتی اُس کی جیب سے گن کھینچتی ایکدم دور ہوئی تھی۔۔۔۔
حازم خاموش نگاہوں سے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“تم لوگ کیا سمجھ رہے ہو کہ مجھے یہاں قید رکھ کر تم لوگ مجھے چپ کروا لو گے۔۔۔ نہیں بلیک سٹار اب تمہیں میں کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گی۔۔۔ تمہارے بخت لی سیاہی میں اب خود بنوں گی۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے ماروں گی تمہیں۔۔۔ جیسے تم نے میرے بابا کو مارا تھا۔۔۔۔”
حبہ اِس وقت شدید غصے میں تھی۔۔۔
جبکہ حازم اِس وقت اُسے سامنے دیکھ اتنا خوش تھا کہ اُس کے لیے حبہ کے منہ سے نکلتے یہ کانٹے دار الفاظ بِھی پھول محسوس ہورہے تھے۔۔۔
وہ اُس کے سر پر گن تانے کھڑی اُسے جان سے مارنے کی دھمکی دے رہی تھی۔۔۔
“مجھے کوئی افسوس نہیں ہے اُس شخص کو مارنے کا۔۔۔ اتنی نفرت ہے مجھے تمہارے بابا سے۔۔۔ کہ اگر وہ دوبارہ زندہ ہوکر میرے سامنے آجائے۔۔۔ تو میں دوبارہ اُسے اُتنی ہی بے دردی سے مارنے کو تیار ہوں۔۔۔۔”
حازم اُس کی نفرت پر زخمی مسکراہٹ کے ساتھ بولتا اُس کے قریب آیا تھا۔۔۔۔
“دور رہو ورنہ گولی چلا دوں گی۔۔۔۔”
حبہ اُس کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتی چہرا موڑ گئی تھی۔۔۔
جب حازم اُس کی اس حرکت پر طیش میں آتا اُسے اپنے قریب کرتا اُس کی گردن پر جھکا تھا۔۔۔ اور اپنا شدت بھرا لمس چھوڑتا حبہ کے حواس معطل کر گیا تھا۔۔۔
گن اُس کے ہاتھ میں تھی مگر شدید نفرت کے باوجود وہ گن کا رُخ اس کی جانب نہیں موڑ سکی تھی۔۔۔
“تم مجھ سے نفرت کرتی ہو۔۔۔ بدلہ لینا چاہتی ہو۔۔ جاؤ لو۔۔۔ جو کرنا ہے کرو۔۔۔ تم آزاد ہو میری طرف سے۔۔۔ مگر میری ایک بات یاد رکھنا۔۔ ایک دن واپس اِنہیں بانہوں میں لوٹنا پڑے گا تمہیں۔۔۔ اُس دن حساب لونگا اپنی ایک ایک تڑپ اور اذیت کا۔۔۔ “
حازم اُس کے حسین سراپے کو اپنی نگاہوں میں قید کرتا روم سے نکل آیا تھا۔۔۔۔۔
جبکہ حبہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔۔
اُس نے اپنی پوری زندگی میں صرف اِس ایک شخص کا ساتھ ہی تو چاہا تھا۔۔۔ مگر اِسے بھی اُس کی قسمت سے چھین لیا گیا تھا۔۔۔
وہ جب بھی سمجھتی تھی اب اُس کی زندگی میں سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔ ایک نئی آزمائش اُس کے راستے میں آن کھڑی ہوتی تھی۔۔۔
وہ ایک کامیاب پولیس آفیسر تھی۔۔۔جس نے اب تک نجانے کتنے مجرموں کو پکڑ کر سزا دلوائی تھی۔۔ اور نجانے کتنے بے گناہوں کو آزادی بھی دلوائی تھی۔۔۔
مگر اِس بار جو شخص مجرم کے روپ میں اُس کے سامنے آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
اُسے نقصان پہنچانے سے پہلے وہ خود کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔
وہ بُری طرح پھنس چکی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“اسلام و علیکم شاہ سر۔۔۔۔۔”
حمدان آفس گیا ہوا تھا۔۔ جبکہ باقی سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔۔۔ جب مہروسہ نے شاہ ویز کو کال ملائی تھی۔۔۔۔
“سر مجھے حمدان کے خفیہ لاکر سے رضوان صدیقی کے کمرے اور لاکرز کی کیز مل چکی ہیں۔۔۔ اب میں بہت جلد رضوان صدیقی کے کمرے تک پہنچ جاؤں گی۔۔ اور وہ ثبوت ہاتھ لگ جائیں گے۔۔۔ جن کا ہمیں سالوں سے انتظار تھا۔۔۔۔”
مہروسہ شاہ ویز سے بات کرتے کرتے جیسے ہی پلٹی اپنے عین پیچھے کھڑی ہستی کو دیکھ وہ سناٹے میں آگئی تھی۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔