Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 48

“میں کبھی آپ سے دور جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔ مگر میں جانتی ہوں۔۔۔ آپ میری حقیقت جاننے کے بعد مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی سے بے دخل کردیں گے۔۔۔۔”
مہروسہ یہ بات صرف دل میں سوچ پائی تھی۔۔۔ حمدان کو کہنے کی جرأت نہیں تھی اُس کے پاس۔۔۔۔
مہروسہ کی وہ پوری رات جاگ کر گزری تھی۔۔۔ حمدان اُس کے لمس کا مرہم پاتے ویسے ہی اُس کی گود میں سر رکھے سویا رہا تھا۔۔۔ جبکہ مہروسہ اُس کے آرام کے خیال سے زرا سا ہل تک نہیں پائی تھی۔۔۔ اُس نے پوری رات ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے گزار دی تھی۔۔۔
اُس کی ٹانگیں درد کے مارے جیسے بے جان ہوچکی تھیں۔۔۔ مگر اُس کی حمدان صدیقی کے لیے بے پناہ محبت ہی تھی جس کی وجہ سے وہ حمدان کا سر اپنی گود سے ہٹا نہیں پائی تھی۔۔۔ اور شدید تکلیف برداشت کرتی مسکراتی آنکھوں کے ساتھ ساری رات اُسے دیوانہ وار نگاہوں سے تکتی رہی تھی۔۔۔
وہ جانتی تھی اِس شخص کے ساتھ اُس کی زندگی کا سفر بہت مختصر سا تھا۔۔۔ اِس لیے وہ اُس کے ساتھ ملا ہر لمحہ ایسے ہی کھلی آنکھوں سے جینا چاہتی تھی۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆

بلیک سٹارز جو دنیا والوں کے لیے دہشت اور بُرائی کی علامت مانے جاتے تھے۔۔۔ اُن کی اصل حقیقت کیا تھی اِس سے بہت کم لوگ ہی واقف تھے۔۔۔۔
وہ تینوں ایک ساتھ تو آئے تھے۔۔۔ مگر اُن کے اِس گینگ کو تشکیل دینے کے پیچھے ملک کی سلامتی کا کتنا بڑا ریزن تھا یہ آج تک کوئی نہیں جان پایا تھا۔۔۔ اُن تینوں کا تعلق نہ تو کسی خفیہ ایجنسی سے تھا اور نہ ہی کسی اور ادارے سے۔۔۔
وہ اپنے لیڈر آپ تھے۔۔۔۔
وہ بہت اچھے سے جانتے تھے کہ فورسز کے تمام ادارے اُنہیں ختم کرنے کے لیے ہاتھ دھو کر اُن کے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔۔۔ کیونکہ وہ اپنے ملک میں پلتے شر پسند عناصر کے سر پر لٹکتی ایک ایسی اَن دیکھی تلوار ثابت ہورہے تھے۔۔۔ جس سے نہ تو اُن کے نام نہاد سیاسی لیڈرز بچ پا رہے تھے۔۔۔ اور نہ ہی فورسز کی وردیوں میں چھپی کالی بھیڑیں۔۔۔۔
پہلے پہل شاہ ویز صرف اور صرف شہباز آفندی سے اپنے والدین کا بدلہ لینے کے لیے اپنا ایک منظم گینگ بنا کر اُتنا پاور فل ہونا چاہتا تھا۔۔۔ کہ شہباز آفندی اور اُس کے خاندان کو اپنے ماں باپ پر کیے گئے ظلم کے نتیجے میں عبرت کا نشانہ بنا سکے۔۔۔۔ کیونکہ وہ بہت بچپن میں ہی یہ بات تو بہت اچھے سے سیکھ گیا تھا کہ قانون کا دروازہ کھٹکھٹا کر وہ سیدھے طریقے سے انصاف نہیں مانگ سکتا تھا۔۔۔
شہباز آفندی اور اُس کی جیب سے پیسہ کھاتے کئی لوگ اُسے اپنے حق تک پہنچنے سے پہلے ہی زندہ نگل جاتے۔۔۔۔
مگر جیسے ہی اُس کی ملاقات حازم سے ہوئی اور حازم کی زندگی کی درد ناک حقیقت پتا چلی اُسے۔۔۔ تب اُسے اندازہ ہوا تھا کہ ظلم صرف اُس کے خاندان کے ساتھ نہیں ہوا تھا۔۔۔ اور نہ ہی ایک شہباز آفندی ظالم تھا۔۔۔
بلکہ اُس جیسے کئی مظلوم اور شہباز آفندی جیسے بے ضمیر لوگ موجود تھے۔۔۔ جو اپنوں کا ہی خون چوس کر اپنے لالچ کی پیاس بھجانا چاہتے تھے۔۔۔
حازم بہت چھوٹا سا تھا جب اُس کے والدین کی ڈیتھ ہوگئی تھی۔۔۔۔ اُس سے بڑی اُس کی دو بہنیں تھیں۔۔۔ وہ لوگ حبہ کے فادر اور اپنے چاچو کے ساتھ رہتے تھے۔۔۔۔ جہاں سب کچھ بہت اچھا چل رہا تھا۔۔۔ حازم کے چاچو اور چچی اُن کا بہت خیال رکھتے تھے۔۔۔۔
حازم اپنی بہنوں سے عمر میں کافی چھوٹا تھا۔۔۔ وہ صرف اُس کی بہنیں نہیں اُس کے لیے سگے ماں باپ سے بڑھ کر تھیں۔۔۔ جو اُس کی ہر چھوٹی سے چھوٹی خواہش کا خیال رکھتی تھیں۔۔۔۔
حازم اُن دونوں کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چلتا تھا۔۔۔ وہ ہمیشہ ڈھال بن کر اُس کے ساتھ رہی تھیں۔۔۔ مگر ایک دن حازم پر ایسی قیامت ٹوٹی تھی جو اُس نرم دل رکھنے والے انسان کو ایک درندہ بننے پر مجبور کر گئی تھی۔۔۔
حازم جسے ہمیشہ صبح اُس کی بہنیں نہایت ہی محبت سے اُٹھاتی تھیں۔۔۔ ایک صبح اُس کی زندگی میں ایسی آئی تھی۔۔۔ جب اُسے اُٹھانے کوئی نہیں آیا تھا۔۔۔
حازم روز سات بجے اُٹھ کر اپنی بہنوں کے ہاتھوں تیار ہوکر سکول جاتا تھا۔۔۔ مگر اُس دن اُس کی آنکھ دس بجے کے قریب گھر میں ہوتے شور کے احساس سے کھلی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ جیسے ہی باہر نکلا۔۔۔ باہر چھاپا قیامت کا سا سماں دیکھ وہ معصوم کم سن بچہ سہم گیا تھا۔۔۔۔ اُس کی بہنیں کہیں نہیں تھیں۔۔۔ مگر اُن دونوں کے بارے میں جو باتیں کی جارہی تھیں۔۔۔ وہ سن کر حازم کی زندگی کا سکون چھین گئی تھیں اُس سے۔۔۔۔
“تیری دونوں بہنیں اپنے عاشقوں کے ساتھ منہ کالا کرکے بھاگ گئی ہیں رات کی تاریکی میں۔۔۔۔ جب ماں باپ سر پر نہ ہوں تو لڑکیاں ایسے ہی گل کھلاتی ہیں۔۔۔”
حازم کے کانوں سے اپنے رشتے کی پھوپھو کی کہی بات ٹکرائی تھی۔۔ صرف وہی نہیں وہاں موجود ہر شخص اُس کی بہنوں پر ایسے ایسے الزام لگا رہا تھا کہ حازم کی روح تک کانپ گئی تھی۔۔۔۔
نجمہ بیگم لوگوں کے منہ بند کرنے میں ہلکان ہورہی تھیں۔۔۔ جبکہ اُس کے چچا ایک جانب جھکے کندھوں کے ساتھ چہرا جھکائے بیٹھے تھے۔۔ چھوٹی سی حبہ پنک فراک پہنے دیوار کے ساتھ لگی سہمی نگاہوں سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ اُس کی نظریں حازم پر آن ٹکی تھیں۔۔۔ جو لال چہرے کے ساتھ نفی میں سرہلاتا اُن سب لوگوں کے منہ بند کردینا چاہتا تھا۔۔۔
مگر اُس میں ابھی اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اُن لوگوں سے لڑ پاتا۔۔۔۔
لیکن اُس کا دل گواہی دے رہا تھا اُس پر جان نچھاور کرنے والی اُس کی بہنیں کچھ غلط نہیں کرسکتی تھیں۔۔۔ نہ ہی اُسے چھوڑ کر جا سکتی تھیں۔۔۔ وہ پندرہ سال کا تھا اتنا چھوٹا بالکل بھی نہیں تھا کہ لوگوں کی باتوں پر یقین کر لیتا۔۔۔۔
اُس دن کے بعد سے اُسے بالکل چپ لگ گئی تھی۔۔۔ اُس نے اپنے چچا چچی سے چھپ کر اپنی بہنوں کو ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔۔ مگر اُن کا سراغ کہیں نہیں مل پایا تھا۔۔۔ جب ایک دن اُس نے اپنے چچا ہاشم علی کو جو بات کرتے سنے وہ ایک بار پھر اُسے ہلا کر رکھ گئی تھی۔۔۔
اُنہیں یہی لگا تھا کہ حازم بھی باقی سب کے ساتھ شادی پر گیا ہوا ہے۔۔۔ مگر حازم طبیعت خرابی کی وجہ سے گھر پر ہی تھا۔۔۔
ہاشم صاحب کے دوستوں کی آمد کا سن کر حازم ویسے ہی باہر نکلا تھا۔۔۔۔ مگر ڈرائنگ روم کے دروازے پر آتے اُسے اپنے چچا کی آواز سنائی دی تھی۔۔۔
جو اُس کی بہنوں کے بارے میں ہی بات کررہے تھے اپنے قریبی دوست سے۔۔۔۔
“ویسے آج تک اتنے مہنگے داموں کوئی لڑکی نہیں بکی جتنا مول تمہاری بھتیجیوں کا لگا ہے۔۔۔ کیا دھول جھونکی ہے تم نے پورے خاندان والوں کی نگاہوں میں۔۔۔ یہاں سب کے سامنے بھی معزز بن گئے۔۔۔ اور وہاں اپنا کاروبار بھی چمکا لیا۔۔۔ میں تو بہت حیران ہوں کہ تمہیں یہ خیال پہلے کیوں نہیں آیا۔۔۔ گھر میں اتنی حسین لڑکیاں ہوتے ہوئے بھی باہر خوار ہوتے رہے۔۔۔”
وہ شخص اور بھی نجانے کے کچھ بول رہا تھا۔۔۔ مگر حازم کو لگا تھا وہ اب کبھی کچھ بھی سن نہیں پائے گا۔۔۔ اُس کی بہنوں پر اتنا بڑا ظلم کیا گیا تھا اور اُسے پتا بھی نہیں چلا تھا۔۔۔
حازم دیوار پر لٹکی ہاشم علی کی رائفل اُتارتا غصے سے اُنہیں مارنے کے لیے ڈرائنگ روم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ جب ایک کچن سے نکلتے خانساماں نے بھاگ کر آتے اُسے راستے میں ہی روک لیا تھا۔۔۔۔
“نہیں حازم بابا۔۔۔ آپ کچھ نہیں کریں گے۔۔۔۔ یہ لوگ اِس وقت بہت طاقت ور ہیں۔۔ وہ آپ کو ختم کردیں گے۔۔۔ ہم اپنی معصوم بچیوں کا بدلہ ضرور لیں گے۔۔۔ مگر ایسے نہیں۔۔۔ “
اُن کے خانساماں جو اُس کے والدین کے دور سے یہاں کام کررہے تھے۔۔۔ وہ بھی ہاشم علی کی یہ ظلم کی داستان سن چکے تھے۔۔۔۔ اُن کی آنکھوں میں بھی غصے اور دکھ کے مارے آنسو تھے۔۔۔ مگر وہ حازم کو فلحال کوئی جذباتی قدم اُٹھانے کی اجازت نہیں دیے رہے تھے۔۔۔
کیونکہ وہ جانتے تھے اندر بیٹھے افراد اِس بچے کو نہیں چھوڑتے۔۔۔
“میں اِس کمینے کو چھوڑوں گا نہیں۔۔۔ میری بہنوں پر اتنا بڑا ظلم کیا اِس نے۔۔۔ میں اِسے مار دوں گا۔۔۔ میں کیسا بھائی تھا اُن کا۔۔۔ اُن کی حفاظت نہیں کر پایا۔۔۔ نجانے وہ کس حال میں ہونگی۔۔۔۔”
حازم درد سے بلبلاتا اپنے بال نوچ رہا تھا۔۔۔ مگر اُس وقت اُسے سنبھالنے کے لیے وہاں کوئی نہیں تھا۔۔۔
اُس نے اپنے خانساماں کی بات سمجھتے پہلے خفیہ طور پر اپنے چچا کی جاسوسی کرتے اپنی بہنوں کا سراغ لگانا چاہا تھا۔۔۔
اِس دوران وہ نجمہ بیگم سے ضد کرکے اپنی بچپن کی محبت حبہ امتشال کو اپنے نام لگوا گیا تھا۔۔۔۔وہ جانتا تھا آنے والا وقت شاید اُس کے حق میں نہیں ہونے والا تھا۔۔ اِس لیے وہ اب حبہ کو کھونے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا اُس کے چچا کے کسی بھی بُرے فعل میں حبہ یا نجمہ بیگم کا کوئی قصور نہیں تھا۔۔۔۔
نہ ہی وہ اُنہیں کوئی سزا دینا چاہتا تھا۔۔۔۔ حبہ اُس کی محبت تھی جس پر وہ کسی کی بُری نظر نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا۔۔۔
حازم کو پورے دو مہینے لگ گئے تھے اپنی بہنوں کا پتا لگوانے میں۔۔۔ مگر جیسے ہی وہ اپنی منزل کے قریب پہنچا۔۔۔ اُسے لگا تھا وہ ایک بار پھر ہار گیا تھا۔۔۔
اُس کے چچا نے اُس کی بہنوں کو دوسرے ملک سمگل کردیا تھا۔۔۔ مگر وہ اپنی عزت بچا کر اُسی دن حرام موت کو گلے لگا گئی تھیں۔۔۔
اُن دونوں نے اپنی رگ کاٹ کر اپنی زندگی کی ڈور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کاٹ دی تھی۔۔۔۔
اُس دن حازم بہت بُری طرح ٹوٹا تھا۔۔۔ اُس کے اندر کی انسانیت اُس دن جیسے ختم ہوچکی تھی۔۔۔ وہ پوری دنیا کو تہس نہس کردینا چاہتا تھا۔۔۔ جس کا آغاذ اُس نے اپنے سب سے بڑے مجرم سے کیا تھا۔۔۔
وہ گھر سے اپنے چچا کے ساتھ کسی کام سے نکلا تھا۔۔ مگر آدھے راستے میں آکر اُن پر حملہ آور ہوتے اُس نے اُنہیں رسیوں سے باندھ دیا تھا۔۔۔۔۔
پہلے اُس نے اُن سے اپنی بہن کی بے گناہی کا ثبوت ریکارڈ کروایا تھا۔۔۔ جو وہ پوری دنیا کو دکھا کر۔۔۔ اُن پر لگا بدکرداری کا داغ ہٹوانا چاہتا تھا۔۔۔
اور پھر اُس نے اُن کی آہوں اور سکیوں سنتے اپنے دل کو سکون پہنچاتے گاڑی کو آگ لگاتے اُنہیں زندہ جلا دیا تھا۔۔۔۔۔۔
اُس کے ہاتھ ثبوت تھا وہ واپس نجمہ بیگم اور حبہ کے پاس جاکر اُنہیں سب بتا سکتا تھا۔۔۔ مگر وہ جانتا تھا اُس کے ایسا کرنے سے اپنے باپ کو اپنا آئیڈیل ماننے والی اُس کی نازک حبہ ٹوٹ جائے گی۔۔۔ اور نہ کبھی زندگی میں کسی پر اعتبار کر پائے گی۔۔۔
اُس کے باپ کی حقیقت جان کر دنیا والوں کے طعنے اُسے زندہ درگور کردیں گے۔۔۔ خود پر اتنا بڑا ظلم ہونے کے باوجود حازم سالار یہاں بھی اپنی محبت کے بڑے پن کا ثبوت دیتا وہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فرار ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔
تب اُس کی ملاقات شاہ ویز سے ہی ہوئی تھی۔۔۔ جو اُسی کی طرح پوری دنیا سے خفا ہر ایک سے انتقام لینے کا جذبہ رکھتا تھا۔۔۔۔
الگ الگ وہ دونوں ٹوٹے بکھرے تھے۔۔۔ مگر ایک ساتھ آتے وہ اتنے مضبوط ہوگئے تھے کہ پوری دنیا کو ہلا دینے کی طاقت رکھتے تھے۔۔۔۔ اُن دو کے مل جانے سے سب کچھ مکمل ہونے کے باوجود ایک کمی سی رہ گئی تھی۔۔۔ جس کمی کو مہروسہ کنول نے آکر پورا کردیا تھا۔۔۔۔ وہ کہنے کو صرف ایک گینگ تھا مگر وہ کئی مظلوموں کا سہارا تھا۔۔۔ اُن کا یہ گینگ ہمیشہ ظالموں پر ہی قہر برساتا آیا تھا۔۔۔۔ جو لوگ عدالتوں تک پہنچ کر انصاف نہیں مانگ پاتے تھے۔۔۔۔ اُنہیں بلیک سٹارز اپنے انداز میں انصاف دلاتے تھے۔۔۔۔۔
وہ ہمیشہ سے اچھے کام کرتے آئے تھے۔۔۔ جس بارے میں پوری طرح آگاہ ہوتے ہوئے بھی اُن کی فورسز کے ادارے،، سیاستدان اور یہاں تک کہ میڈیا والے ہمیشہ اُن کے حوالے سے ہر جگہ دہشت اور غلط خبریں پھیلا کر لوگوں کے دلوں میں اُن کے لیے نفرت اور خوف و حراس پھیلانے کی کوشش کرتے آئے تھے۔۔۔۔
مگر کبھی بلیک سٹارز نے اِن جھوٹے الزاموں کا جواب نہیں دیا تھا۔۔۔ وہ ہمیشہ اپنے عمل سے اپنا آپ اپنی عوام کے بیچ منواتے آئے تھے۔۔۔
اُن کے نام سے عوام سے زیادہ بڑی بڑی کرسیوں پر براجمان اعلٰی افسران اور بے ضمیر سیاستدان ڈرتے تھے۔۔۔۔ کیونکہ وہ لوگ کئیوں کو ایسے ہی موت کے گھاٹ اتار چکے تھے۔۔۔۔۔۔
مگر آج تک اتنی پلاننگز کے باوجود کوئی اُن کا بال بھی بیکار نہیں کر پایا تھا۔۔۔
جب ایک بار اُن کو ختم کرنے کے لیے تمام اداروں نے مل کر اپنی ایک ٹیم تیار کی تھی۔۔۔ جس کا لیڈر اُنہوں نے اپنا ہی ایک پولیس آفیسر بنایا تھا۔۔۔ جو کہنے کو تو پولیس آفیسر تھا۔۔۔ درحقیقت وہ بھی کالے دھندوں میں ملوث تھا۔۔۔ جس کے کام میں ہمیشہ بلیک سٹارز آکر اُسے پورا نہیں ہونے دیتے تھے۔۔۔۔
اور وہ شخص تھا حمدان صدیقی کا بڑا بھائی رضوان صدیقی۔۔۔۔ جس کی تربیت صدیقی صاحب نے حمدان کی طرح بہت اچھی کی تھی۔۔۔ مگر بُری سنگت میں پڑ کر وہ اپنا ایمان بیچ بیٹھا تھا۔۔۔۔
اُسے بھی پیسے کمانے کا شوق چڑھا تھا۔۔۔ جس میں وہ حلال اور حرام کا فرق بھلائے بس اونچے سے اونچے عہدے پر جانا چاہتا تھا۔۔۔۔ حمدان اُن دنوں تعلیم کے سلسلے میں انگلینڈ گیا ہوا تھا۔۔۔
رضوان کی بیوی مریم جس نے صرف حمدان کی خاطر اُس سے شادی کی تھی۔۔۔۔ وہ بہت پہلے ہی اِس سب سے آگاہ ہوچکی تھی۔۔۔ دوسری جانب صدیقی صاحب بھی آگاہ تھے۔۔۔ اور رضوان کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے تھے۔۔۔
مگر رضوان آئے روز پستی سے پستی میں ڈوبتا جارہا تھا۔۔۔۔ اُس نے بہت غلط کام کرنا شروع کردیئے تھے۔۔۔ جس کی وجہ سے اکثر اُس کا مریم سے جھگڑا ہوتا تھا۔۔ فرح جو مریم کی نیت سے واقف تھی۔۔۔ وہ یہی سمجھتی رہی تھی۔۔ کہ مریم جان بوجھ کر اُس کے بھائی کو مینٹلی ٹارچر کر رہی ہے۔۔۔ مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اِس ٹینشن کا ریزن تو اُس کا بھائی خود تھا۔۔۔۔
حمدان نے پاکستان واپس لوٹتے ہی پولیس فورس جوائن کر لی تھی۔۔۔جب آہستہ آہستہ اُس کے علم میں اپنے بھائی کی حقیقت آنا شروع ہوئی تب تک بہت سارا پانی سر سے گزر چکا تھا۔۔۔۔
وہ چاہنے کے باوجود کچھ نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔
اُس نے اپنے بھائی کو روکنے اور سیدھے راستے پر لانے کی بہت کوشش کی تھی۔۔۔ وہ اپنے بابا سے اور باقی سب گھر والوں سے بھی شدید غصہ تھا جنہوں نے اتنے ٹائم اُسے اندھیرے میں رکھ کر بہت بڑا نقصان کردیا تھا۔۔۔
اُس کا بھائی ملک کی ایک بہت بڑی سیاسی جماعت کے ہاتھوں کٹ پتلی بنا ہوا تھا ۔۔ جو وہ اُسے کرنے کو کہتے تھے وہ کر گزرتا تھا۔۔۔ چاہے وہ کام کتنا ہی بڑا گناہ کیوں نہ ہو۔۔۔۔
رضوان صدیقی کے بُرے فعل دن بدن بڑھتے کی جارہے تھے۔۔۔ جب ایک دن حمدان کو اپنے دل پر پتھر رکھ کر وہ کام کرنا پڑا تھا جو وہ کبھی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔
حمدان نے رات کی تاریکی میں رضوان کے روم میں جاکر اُسے جان سے مار دیا تھا۔۔۔ اُس کا اپنا بھائی اُس کے ملک کے لوگوں کے لیے ناسور بن چکا تھا۔۔۔ نجانے کتنے گھروں کے اُجڑنے اور عزتیں لُٹنے کا سبب بن رہا تھا۔۔۔۔
جو ملک کا محافظ ہونے کی وجہ سے حمدان صدیقی نہیں برداشت کر پایا تھا۔۔۔ رضوان کی موت کو پورسٹ مارٹم میں خودکشی کا نام دلوایا گیا تھا۔۔۔
حمدان اپنے فادر سے سخت ناراضگی کے باعث قطع تعلق کرچکا تھا۔۔۔ مگر کہیں نہ کہیں اِس قطع تعلق کا بڑا ریزن یہی تھا کہ وہ اپنے ماں باپ سے نگاہیں ملانے کے قابل نہیں سمجھتا تھا خود کو۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔