Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

مہروسہ سے مریم اور حمدان کی یہ آدھی رات کی ملاقات ہضم نہیں ہوپائی تھی۔۔۔ اُوپر سے اُس کے دیئے گئے آرڈر پر الگ جلتی بھنتی وہ اندر کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔
آخر کو ایس پی صاحب کو اُن کی فیورٹ بلیک کافی بنا کر بھی دینی تھی نا۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ ٹرے میں کافی کا مگ رکھے حمدان کے اُس لگژری سے جم خانے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ جہاں ایکسرسائز کی تمام جدید مشینریز موجود تھیں۔۔۔
مگر سامنے کا منظر دیکھ اُس کا دل دھک سے رہ گیا تھا۔۔۔
حمدان صدیقی بھاری بھاری ڈمبل اُٹھائے۔۔ ۔ اپنے کسرتی مسلز کے ساتھ ایکسر سائز کرتا مہروسہ کی دھڑکنیں منتشر کر گیا تھا۔۔۔۔
اُس کا نمایاں ہوتا کسرتی وجود بہت ہی متاثر کن تھا۔۔۔ مہروسہ کی آنکھیں خیرا ہوئی تھیں۔۔۔
یہ شخص اُس کی اولین چاہت اور اُس کا ہونے والا شوہر تھا۔۔۔ جس سے وہ بے پناہ محبت کرتی تھی۔۔۔
اُس نے بے اختیار حمدان کی جانب سے نگاہیں پھیر لی تھیں۔۔۔ اُسے خوف محسوس ہوا تھا کہ کہیں اُس کی اپنی نظر ہی نہ لگ جائے اُسے۔۔۔۔
وہ جلدی سے کافی ٹیبل پر رکھ کر واپس پلٹنے ہی والی تھی۔۔۔ جب حمدان کی پکار نے اُس کے قدم وہیں جکڑ لیے تھے۔۔۔
“میں ٹاول پکڑا دو اُجالا۔۔۔۔۔”
حمدان کا انداز عجیب سا تھا۔۔۔ جیسے وہ جان بوجھ کر اُسے وہاں روک رہا ہو۔۔۔۔
مہروسہ اپنی بے قابو ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتی واپس پلٹی تھی۔۔۔ اِس وقت حمدان صدیقی کی جانب نہ دیکھنے سے گھبراتی وہ کہیں سے بھی بلیک سٹار نہیں لگی تھی۔۔۔۔
جس کے کارنامے سن کر بڑے بڑے لوگ لرز اُٹھتے تھے۔۔۔ وہ لڑکی اپنی محبت کے آگے بالکل چھوئی موئی سی بن گئی تھی۔۔۔۔ حمدان صدیقی کے مقابل آتے وہ ایک الگ ہی مہروسہ بن جاتی تھی۔۔۔۔
اُس نے جیسے ہی ٹاول حمدان کو دینے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔ حمدان ٹاول کی جگہ مہروسہ کی کلائی اپنی گرفت میں لیتا اُسے اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔
مہروسہ اُس کی ایسی کسی حرکت کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی۔۔۔
سیدھی اُس کے فولادی سینے سے جا ٹکرائی تھی۔۔۔۔
اُس نے گھبرا کر لال ہوتے چہرے کے ساتھ حمدان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
جو پوری طرح اُسی کی جانب متوجہ تھا۔۔۔
“ییہ یہ آپ کیا۔۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ نے گھبرا کر اُس کی گرفت سے نکلنا چاہا تھا۔۔۔
“تم مجھ سے اتنا گھبرا کیوں رہی ہو۔۔۔؟؟؟
میں نے تمہیں یہاں صرف شکریہ ادا کرنے کے لیے بلایا تھا۔۔۔۔۔”
حمدان کا لہجہ اُس کے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔۔۔ اور مہروسہ کی کلائی پر بھی اُس کی گرفت اِس قدر سخت تھی کہ مہروسہ کو اپنی کلائی ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
“نہیں وہ میں تو۔۔۔۔”
اُس کے نہایت قریب کھڑے مہروسہ کا دل اِس بُری طرح دھڑک رہا تھا کہ اُس سے بول پانا محال ہوا تھا۔۔۔
“میری بات کا مان رکھنے کے لیے شکریہ۔۔۔۔۔ تمہارا یہ فیصلہ آگے چل کر تمہارے لیے کتنا بہترین ہونے والا ہے تم سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔۔ “
حمدان کا انداز گہرا طنز لیے ہوئے تھا۔۔۔
مہروسہ کو حمدان کی باتوں سے گھبراہٹ محسوس ہورہی تھی۔۔۔ اُسے لگ رہا تھا جیسے وہ کچھ بہت بڑا کرنے والا ہے۔۔۔۔
اِس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دے پاتی حمدان کا موبائل بج اُٹھا تھا۔۔۔
بنا اُسے آزاد کیے حمدان نے کال آن کرتے کان سے لگایا تھا۔۔۔ دوسری جانب سے نجانے کیا کہا گیا تھا کہ حمدان کے چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔۔
“ویری گڈ حماد۔۔۔ مجھے تم سے اِسی بہترین کام کی امید تھی۔۔۔۔ اب بلیک سٹارز کو وہ رائٹ ہینڈ جنید کسی قیمت پر بچنا نہیں چاہیے۔۔۔۔
کل تک مجھے وہ ہر حال میں اپنی قید میں چاہیے۔۔۔ زندہ یا پھر مردہ۔۔۔۔ “
حمدان کی بات سن کر مہروسہ کا دل کانپ اُٹھا تھا۔۔۔ شاہ ویز نے اُن تینوں کے سوا کبھی کسی کا نام سامنے نہیں آنے دیا تھا۔۔۔ پھر بھلا حمدان جنید تک کیسے پہنچ گیا تھا۔۔۔
اور کیا وہ جنید کے اتنے قریب پہنچ گیا تھا کہ اُسے پکڑنے کی بات کررہا تھا۔۔۔
مہروسہ کے لیے جنید بالکل بھائیوں جیسا تھا۔۔۔ اُس کے بارے میں یہ سب سنتے اُس کا دل لرز اُٹھا تھا۔۔۔
مگر اِس وقت وہ بنا کوئی ردعمل دیئے ایسے ہی کھڑی رہی تھی۔۔۔۔
مگر اُس کی آنکھوں میں اُبھرتی خوف کی لکیریں حمدان سے چھپی نہیں رہ پائی تھیں۔۔۔
“آئم سوری ایک بہت اہم کال آ گئی تھی۔۔۔۔
میں نے تمہیں یہاں ایک بہت اہم بات بتانے کے لیے بلایا تھا۔۔۔۔”
حمدان کی بات پر مہروسہ نے مُٹھیاں بھینچ کر اپنے ہاتھوں کی کپکپاہٹ پر قابو پاتے بمشکل اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“ایک ہفتے بعد کے بجائے۔۔۔ میں نے ہمارا نکاح کل رکھوایا ہے۔۔۔ اور ساتھ رخصتی بھی۔۔۔۔ “
حمدان نے بہت ہی آرام سے اُس کے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔۔
“کیا۔۔۔”
مہروسہ جو کل جنید کے پاس جاکر اُسے اِس خطرے سے بچانے کا دل ہی دل میں پلان بنا چکی تھی۔۔۔ حمدان کے اِس نئے انکشاف پر اُس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے حمدان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔۔
جو اُسے نکاح میں اُلجھا کر بہت بڑا کھیل کھیلنے والا تھا۔۔۔۔۔
“مگر اتنی جلدی کیسے۔۔۔۔۔؟؟”
مہروسہ کے بے چینی سے پہلو بدلنے پر حمدان نے مسکرا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
اور اگلے ہی لمحے اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتا اُسے اپنے قریب کھینچ چکا تھا۔۔۔
“تم سے مزید دوری اِس دل کو برداشت نہیں اب۔۔۔ میں جلد از جلد اِن فاصلوں کو ختم کرکے۔۔۔ اپنے بے قرار دل کو قرار بخشنا چاہتا ہوں۔۔۔ تم سوچ بھی نہیں سکتی میرے دل میں تمہارے لیے کتنے شدت بھرے جذبات ہیں۔۔۔۔ جن کا انداز کل میری دسترس میں آنے بعد ضرور ہوجائے گا تمہیں۔۔۔۔ اور میری شدتوں کا بھی۔۔۔۔”
حمدان اُس کے کان کی لوح کو چھو کر اُسے سر سے پیر تک منجمند کرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
جبکہ مہروسہ کتنے ہی لمحے اپنی جگہ سے ہل نہیں پایا تھا۔۔۔ پورا وجود اِس سنگدل شخص کی قربت پر لرز رہا تھا۔۔۔۔ اور دل آنے والے وقت کا سوچ جیسے رکتا ہوا محسوس ہوا تھا اُسے۔۔۔
کچھ غلط ہونے کے احساس سے اُس کے تن بدن میں بے چینی بھر گئی تھی۔۔۔۔
حمدان کے انداز بتا رہے تھے کہ وہ کسی قیمت پر جنید کو چھوڑنے والا نہیں تھا۔۔۔ اور اگر جنید کو کچھ ہوتا تو شاہ ویز اور حازم حمدان کو نہیں چھوڑنے والے تھے۔۔۔ اور یہی حمدان کرنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ اُن دونوں کو اپنے سامنے لانا چاہتا تھا۔۔۔
اگر ایسا ہوجاتا تو بہت بڑی انہونی ہوجاتی۔۔۔
مہروسہ اپنا سر پکڑتی وہیں بیٹھ گئی تھی۔۔۔ ہر طرف سے نقصان اُسی کا ہونے والا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
شاہ ویز پریسا کو لاکر گاڑی میں ڈالتا اُس ایریا سے نکلتا سیدھے بلیک ہاؤس کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔
اُس کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ اِس وقت کس قدر غصے کے زیرِ اثر ہے۔۔۔۔ اُس کے ہونٹ سختی سے بھینچے ہوئے اور کنپٹی کی رگیں باہر کو اُبھری ہوئی تھیں۔۔۔
بلیک ہاؤس پہنچتے ہی وہ پریسا کو بانہوں میں اُٹھاتا اندر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
اُس کے اشارے پر فوراً ڈاکٹر کو بلوایا گیا تھا۔۔۔
“یہ اب بالکل ٹھیک ہیں۔۔۔ دھواں اندر چلے جانے اور خوف کی وجہ سے بے ہوش ہوگئی تھیں۔۔۔ کچھ دیر میں ہی ہوش آجائے گا۔۔۔۔”
ڈاکٹر پریسا کا چیک اپ کرنے کے بعد شاہ ویز کو بتاتی وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
“اِس کا خیال رکھنا۔۔۔ اور ہوش میں آتے ہی واپس اِس کے آفندی منشن پہنچا دینا۔۔۔ میں اپنے کمرے میں ہوں۔۔ مجھے کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔۔۔”
شاہ ویز سختی سے ہدایت دیتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
جبکہ اقراء نے گھبرا کر اُس کے جلے بازو کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
دوسروں کا درد بانٹنے اور زخموں پر مرہم رکھنے والا اُن کا یہ لیڈر اپنے معاملے میں اتنا ہی لاوپرواہ اور ظالم تھا۔۔۔ جو تکلیف برداشت کرتا رہتا تھا۔۔۔ مگر اپنے زخموں پر کسی کو مرہم نہیں رکھنے دیتا تھا۔۔۔
اُس کے ہاتھ پر ہوتی جلن کے احساس سے اقراء کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔۔ مگر وہ اُسے کچھ کہنے یا ٹوکنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔۔۔۔
ابھی اُسے گئے کچھ لمحے ہی گزرے تھے جب پریسا نے کسمساتے آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔۔ مگر خود کو اُس بھڑکتی آگ میں جھلسنے کے بجائے یہاں بالکل صحیح سلامت دیکھ اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔
“پری تم ٹھیک ہو۔۔۔؟؟”
اُسے یوں روتا دیکھ اقراء فوراً اُس کے قریب آتی اُس کا ہاتھ تھام گئی تھی۔۔۔
“شاہ۔۔۔ شاہ ویز کہاں ہے۔۔۔ وہ ٹھیک ہے نا؟؟؟ مجھے اُس سے ملنا ہے۔۔۔۔؟؟”
پریسا اقراء کو سامنے دیکھ سمجھ چکی تھی کہ وہ اِس وقت بلیک ہاؤس میں موجود ہے۔۔۔۔
“وہ بالکل ٹھیک ہیں اور اپنے روم میں ہیں۔۔۔ تم ابھی نہیں مل سکتی اُن سے۔۔۔ اُنہوں نے سختی سے منع کیا ہے۔۔۔”
اقراء پریسا کا شاہ ویز کے لیے ایسا دیوانوں بھرا رُوپ دیکھ حیرت میں ڈوب چکی تھی۔۔۔
“مگر مجھے ابھی اُس سے ملنا ہے۔۔۔۔”
پریسا اُس سے اپنا ہاتھ چھڑواتی اُٹھی تھی۔۔۔ جب اُس کا سر بہت بُری طرح چکرایا تھا۔۔۔۔
گزرے لمحوں جو کچھ بھی اُس کے ساتھ ہوا تھا اُسے بہت اچھی طرح واضح ہوچکا تھا کہ وہ کس کے لیے کتنی اہم تھی۔۔۔ اور اُس کا دل اب کس کو اپنے پاس دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز سکندر کے لیے اپنے جن جذبات کو وہ اتنے ٹائم سے دباتی آرہی تھی۔۔۔ وہ اب دل سے انہیں تسلیم کرچکی تھی۔۔۔ سفیان آفندی تو بہت پیچھے رہ گیا تھا۔۔۔
اُس کے لیے اب شاہ ویز سکندر سے اہم کوئی نہیں رہا تھا۔۔۔۔ اُس نے شاہ ویز کی آنکھوں میں اپنے لیے جو تڑپ دیکھی تھی اُس نے اُس کے دل و دماغ کو پوری طرح اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا۔۔۔۔
اقراء نے اُسے روکنے کی بہت کوشش کی تھی۔۔۔ مگر وہ اُس کی گرفت سے اپنی کلائی آزاد کرواتی باہر کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
“پری ابھی شاہ سر بہت غصے میں لگ رہے تھے۔۔۔ پلیز ابھی مت جاؤ۔۔۔۔ “
اقراء شاہ ویز کی لال آنکھیں دیکھ اُس کے غصے کا اندازہ لگا چکی تھی۔۔۔۔ اِس لیے اُسے روکتے ہوئے بولی۔۔۔۔
جس پر پریسا کو ناچار اُس کی بات ماننی پڑی تھی۔۔۔
مرر کے سامنے سے گزرتے اُس نے اپنے حلیے پر نظر دوڑائی تھی۔۔۔۔
اُس کا چہرا دھویں کی وجہ سے سیاہی مائل ہورہا تھا۔۔۔۔ کپڑوں اور بالوں کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔۔۔
اقراء نے اُسے اپنا ڈریس نکال کر دیتے فریش ہونے کا کہا تھا۔۔۔
“شاہ سر کا غصہ بہت غضبناک ہوتا ہے۔۔۔۔ سوچ لو۔۔۔ ابھی بات کر لو گئی اُن سے۔۔۔۔”
اقراء نے اپنے سامنے بیٹھی پریسا کو دیکھا تھا۔۔۔ جو سیاہ قمیض شلوار میں گیلے لمبے بالوں کی آبشار کو کمر پر کھلا چھوڑے سامنے رکھے کافی کے مگ پر نگاہیں گاڑھے بیٹھی تھی۔۔۔۔
اُس کا انداز بہت گم صم سا تھا۔۔۔ وہ نہیں جانتی تھی اپنے دل کی مان کر وہ جو کرنے والی ہے۔۔۔ وہ ٹھیک بھی ہوگا یا نہیں۔۔۔
شاہ ویز سکندر کوئی عام انسان نہیں تھا۔۔۔ ایک بہت بڑا گینگسٹر تھا۔۔۔ اور اُس کی ستم ظریفی ہی یہی تھی۔۔۔ کہ وہ ایک ایسے ہی انسان کے ساتھ دل لگا بیٹھی تھی۔۔۔۔
“مجھے ملنا ہے اُس سے۔۔۔۔”
پریسا ابھی بھی بضد تھی۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں ٹھہرے آنسو دیکھ اب کی بار اقراء اُسے روک نہیں پائی تھی۔۔۔
پریسا لرزتی ٹانگوں کے ساتھ شاہ ویز کے کمرے کے باہر آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
اُس کا دل بُری طرح کانپ رہا تھا۔۔۔۔
مگر وہ اب یہاں تک آکر پیچھے نہیں ہٹنا چاہتی تھی۔۔۔
اُس نے دروازہ دھکیلتے اندر قدم رکھا تھا۔۔۔
جہاں چھائے اندھیرے کو دیکھ وہ مزید خوفزدہ ہوئی تھی۔۔۔۔
اُس نے چاروں جانب نظریں دوڑائی تھیں مگر اندھیرے کے سوا اُسے کچھ دکھائی نہیں دیا تھا۔۔۔
“کیوں آئی ہو یہاں۔۔۔۔”
شاہ ویز کا سرد گھمبیر سپاٹ لہجہ اُس کے کانوں سے ٹکراتا اُسے رُخ موڑنے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔۔
اُس نے پلٹ کر پیچھے دیکھا تھا۔۔۔
اُسی لمحے شاہ ویز نے سیگریٹ سلگانے کے لیے ماچس جلائی تھی۔۔۔۔
“مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔۔”
پریسا کو جلتے سگریٹ کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔ اُس نے کمرے میں اِس قدر اندھیرا کر رکھا تھا۔۔۔ پریسا کو خوف کے مارے اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
اُس کا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا۔۔۔
وہ نہیں جانتی تھی اِس شخص کو سیاہ رنگ اور اندھیرا اِس قدر پسند کیوں ہیں۔۔۔ جن دونوں چیزوں سے اُسے سخت نفرت تھی۔۔۔
“بولو۔۔۔۔۔”
ایک بار پھر وہی بے تاثر لہجہ۔۔۔۔
پریسا کو اِس وقت کہیں سے بھی محسوس نہیں ہورہا تھا کہ یہ وہی انسان ہے۔۔ جو اُس کی خاطر آگ میں گودا تھا۔۔۔۔۔
جس کی آنکھوں میں اُس نے اپنے لیے خوف دیکھا تھا۔۔۔
“مجھے اندھیرے سے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ پلیز لائٹ آن کر دو۔۔۔”
پریسا نے اُس سے التجا کی تھی۔۔۔
“میری دنیا میں اندھیروں کے سوا کچھ نہیں ملے گا تمہیں۔۔۔ اِس لیے جو کہنے آئی ہو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھول جاؤ۔۔۔ “
شاہ ویز اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُس کی جانب بڑھتا بے لچک اور بے حسی بھرے انداز میں گویا ہوا تھا۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“اگر مجھے اپنانے میں اتنا مسئلہ ہے آپ کو۔۔۔ تو مجھے میرا کام کیوں نہیں کرنے دیا۔۔۔۔ “
حبہ کو اُس پر کتنا غصہ تھا وہ بیان نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
حبہ اُس سے ملنے۔۔۔ اُسے واپس دیکھنے کے لیے دو دن سے کتنی تڑپی تھی۔۔۔ مگر یہ شخص ایک بار بھی اُس کے سامنے تک نہیں آیا تھا۔۔۔ اُسے سنبھالنا اور چپ کروانا تو بہت دور کی بات تھی۔۔۔۔
“تم میرے آدمیوں کو مارنے جاؤ گی۔۔۔ اور تمہیں لگتا ہے۔۔۔ میں اتنے آرام سے دیکھتا رہوں گا۔۔۔۔”
حازم نے سیگریٹ کا گہرا کش لگاتے اُس کے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔۔۔۔
“کیا مطلب۔۔۔۔؟؟؟ “
حبہ مزید کچھ بول ہی نہیں پائی تھی۔۔۔
“وہی جو تم سمجھ رہی ہو۔۔۔۔”
حازم نے نظریں اُس کے دلنشین سراپے پر ڈالی تھیں۔۔۔ جو نائٹ سوٹ پر شال لپیٹے ہمیشہ کی طرح اِس وقت بھی حازم سالار کے دل کے تاڑ چھیڑ گئی تھی۔۔۔
مگر اپنے منہ زور جذبات پر بمشکل بندھ باندھتے وہ ایک کے بعد دوسرا سیگریٹ سلگھانے لگا تھا۔۔۔۔
“نہیں تم اتنے بُرے انسان نہیں ہوسکتے۔۔۔۔”
اُس کی بات سن کر حبہ کی آنکھیں چھلک پڑی تھیں۔۔۔ وہ نفی میں سر ہلاتی اُس کے قریب اُس کے قدموں میں آن بیٹھی تھی۔۔۔
اُس کا یہ عمل حازم سالار کے دل پر بہت بھاری ثابت ہوا تھا۔۔۔
مگر اُس کے سامنے برا بنے رہنے کے لیے وہ ایسے ہی بیٹھا رہا تھا۔۔۔۔
“تو آج تک کونسا گینگسٹر دیکھا ہے تم نے۔۔۔ جو اچھا انسان ہے۔۔۔ اچھے انسان بھلا گینگسٹر کیسے بن سکتے ہیں۔۔۔۔۔ “
حازم اُس کی آنکھوں میں جھانکتا اُسے یقین دلاتے بولا تھا۔۔۔۔
“تم لڑکیوں کی اسمگلنگ کرتے ہو۔۔۔ ؟؟”
یہ سوال پوچھتے حبہ کی آواز کانپ گئی تھی۔۔۔ جس انسان سے وہ اِس قدر محبت کرتی تھی۔۔۔ جسے اتنے سالوں سے وہ اپنے دل میں بسائے۔۔۔ بے پناہ بےلوث چاہتی آئی تھی۔۔۔ اُس کا ایسا رُوپ دیکھ پانا اُس کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور جان لیوا تھا۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔ اور اِس سے بھی کہیں زیادہ بُرے کام جو تم سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔۔”
حازم نے مٹھیاں بھینچتے بہت مشکل سے اُس کی آنکھ سے ٹوٹتے آنسو کو دیکھا تھا۔۔۔
“اگر کبھی ایسے ہی میری اور صبا کو بھی بیچنا پڑ جائے تب ہمارا بھی سودا کر لو گے۔۔۔۔”
ایس پی حبہ نے اُس کا ہاتھ تھامتے بھیگتے چہرے کے ساتھ جو سوال کیا تھا۔۔۔ وہ حازم سالار کی روح فنا کر دینے کے لیے کافی تھا۔۔۔
حازم کے سارے ضبط ٹوٹ گئے تھے۔۔۔۔ وہ حبہ کا جبڑا اپنی مضبوط ہتھیلی کے شکنجے میں لیتا اُس کی جانب جھکا تھا۔۔۔
“آج تو یہ بکواس کی ہے۔۔۔ آئندہ اگر ایسا کچھ بولا تو گدی سے زبان کھینچ لوں گا۔۔۔۔”
حازم کو غصہ بہت کم آتا تھا۔۔۔ مگر جب آتا تھا تو اتنا ہی شدید ہوتا تھا۔۔۔۔ حبہ نے جو کہا تھا وہ تصور بھی نہیں کرنا چاہتا تھا وہ۔۔۔ حبہ بہت اچھے سے جانتی تھی کہ وہ صبا کو اپنی سگی بہن سے بڑھ کر چاہتا ہے۔۔۔ اور وہ۔۔۔ اُس کے لیے تو حازم سالار کی محبت کا اندازہ لگا پانا ناممکن سی بات تھی۔۔۔۔
حازم کی دیوانگی نے ہی تو سالوں پہلے اُسے اپنا دیوانہ بنایا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کا بپھرا انداز دیکھ حبہ اُس کے بے رحم لمس کے باوجود مسکرائی تھی۔۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے حازم سالار یہ ڈرامہ کرکے ایس پی حبہ کو بے وقوف بنا لو گے۔۔۔۔ “
اُس کی گردن میں بازو حمائل کرتے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے وہ اُسے باور کروا گئی تھی کہ اُسے بے وقوف بنانا اتنا آسان نہیں تھا۔۔۔
جبکہ اُس کی یہ دلربانہ ادا حازم سالار کے دل پر بجلیاں گرا گئی تھی۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔