No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
اپنے گھر کے اُجرنے کی درد بھری داستان سناتے فرح کا پورا چہرا آنسوؤں سے بھیگ گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ مہروسہ گم صم سی بیٹھی ایس پی حمدان صدیقی کو گھور رہی تھی۔۔۔
جو شخص اب تک اُس جیسی بلیک سٹار کے ہاتھوں بے وقوف نہیں بن سکا تھا۔۔۔ وہ اِس عام سی لڑکی کے ہاتھوں بھلا کیسے بے وقوف بن سکتا تھا۔۔۔۔
مہروسہ نے فرح کا ہاتھ دبا کر اُسے تسلی دیتے حمدان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
جو مریم کی کسی بات پر مسکرا رہا تھا۔۔۔ مہروسہ کو نجانے کیوں محسوس ہوا تھا جیسے یہ مسکراہٹ بہت ہی مصنوعی سی ہے۔۔۔۔
“حمدان ایسے لگتے تو نہیں ہیں کہ وہ کسی سے ہمدردی کے تحت اپنی لائف کا اتنا بڑا فیصلہ لے لیں۔۔۔ کیا پتا جو وہ آپ سب کو دیکھا رہے ہیں ویسا نہ ہو۔۔۔۔؟؟”
مہروسہ کے انداز میں کچھ ایسا تھا کہ فرح نے چونک کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“کیا مطلب۔۔۔۔؟؟ میں سمجھی نہیں۔۔۔۔؟”
فرح نے سوالیہ نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“ابھی میں خود بھی ٹھیک سے کچھ سمجھ نہیں پارہی۔۔۔۔ مگر آپ سے اتنا وعدہ ضرور کرتی ہوں کہ آپ کے بھائی کو اِس لڑکی سے تو کسی صورت شادی نہیں کرنے دوں گی۔۔۔۔۔۔۔”
مہروسہ کا لہجہ بے لچک اور مضبوط تھا۔۔۔ جبکہ اُس کی آنکھوں میں اپنے بھائی کے لیے فکر دیکھ فرح مسکرا دی تھی۔۔۔۔
“کیا آپ کو بھی میری طرح وہ دونوں ساتھ میں بیٹھے اچھے نہیں لگ رہے۔۔۔۔؟؟”
مہروسہ نے آنکھوں میں شرارتی چمک لیے فرح کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے اُس سے پوچھا تھا۔۔۔۔
“زہر سے بھی بُری لگ رہی ہے یہ چڑیل مجھے بھائی کے ساتھ۔۔۔۔۔”
فرح نے ناگواری بھرے لہجے میں کہا تھا۔۔۔
“بس پھر میرا کمال دیکھیں۔۔۔۔”
مہروسہ آنکھ کا ایک کونا دباتی اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔۔۔۔۔۔
“یہ مجھے دے دو۔۔۔ میں سرو کردیتی ہوں سب کو۔۔۔۔”
مہروسہ نے کچن سے نکلتی ملازمہ کے ہاتھ سے چائے کی ٹرے لیے اُسے واپس بھیج دیا تھا۔۔۔۔
“ارے بیٹا آپ صبح سے لگی ہوئی ہو۔۔۔ اب تھک گئی ہوگی۔۔۔۔”
سمیعہ بیگم کے لہجے میں محبت ہی محبت تھی۔۔۔۔
“ممانی جان گھر کے کاموں میں بھلا کیسی تھکن۔۔۔ مجھے اچھا لگتا ہے کہ سب کرکے۔۔۔۔”
مہروسہ نے اُن کی محبت کا اُنہیں کے انداز میں جواب دیتے ٹرے ٹیبل پر رکھتے سب کو اُن کی چائے کے کپ پکڑانا شروع کیے تھے۔۔۔
اس دوران اُسے حمدان کی نگاہوں کا فوکس خود پر باخوبی محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
سب کو چائے دیتے آخر میں وہ مریم اور حمدان کی جانب آئی تھی۔۔۔۔ مریم کو چائے کا کپ تھماتے اُس کے ہاتھ میں ہلکی سی لرزش ہوئی تھی۔۔۔ اور گرم گرم چائے مریم کے ہاتھ اور بازو پر گرتی اُسے اچھا خاصہ جھلسا گئی تھی۔۔۔۔
“اوہ۔۔۔ آئم سو سوری۔۔۔۔۔ “
مہروسہ نے فوراً معذرت کی تھی۔۔۔۔
جبکہ مریم کا دل چاہا تھا سامنے کھڑی اِس لڑکی کا منہ نوچ لے۔۔۔۔۔
“دکھائی نہیں دیتا تمہیں۔۔۔۔”
مریم کے سارے کپڑے داغداد ہوچکے تھے۔۔۔ جبکہ ہاتھ اور بازو کی جلن الگ تھی۔۔۔۔
“مریم اُس نے سوری بولا نا۔۔۔۔ تم اُوپر جاؤ۔۔۔ ملازمہ تمہیں فرح کا کوئی ڈریس نکال دیتی ہے۔۔۔ چینج کر لو۔۔۔۔”
اِس سے پہلے کہ مریم مہروسہ کو مزید کچھ سناتی۔۔۔ حمدان نے بیچ میں ہی اُسے ٹوکتے وہاں سے جانے کا بول دیا تھا۔۔۔۔
جبکہ حمدان کی مہروسہ کی یوں سائیڈ لینے پر سب گھر والوں کا ری ایکشن مہروسہ جیسا ہی تھا۔۔۔۔
“آئم سوری۔۔۔۔”
مہروسہ نے اپنی جانب گہری نگاہوں سے دیکھتے حمدان کو ندامت بھرے لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔ حمدان کی نگاہوں میں کچھ ایسا تھا جو مہروسہ کو مشکوک کر گیا تھا
“اٹس اوکے۔۔۔۔”
حمدان اب بھی بس اُسے تکے جارہا تھا۔۔۔۔
یہ لڑکی اپنے ہر عمل سے اُس پر واضح کردیتی تھی کہ وہ اُجالا نہیں بلیک سٹار ہے۔۔۔ جو اُس کے قریب بیٹھنے والی لڑکی کو چائے سے جھلسا سکتی تھی۔۔۔ وہ کوئی عام لڑکی نہیں ہوسکتی تھی۔۔۔
مہروسہ خاموشی سے وہاں سے ہٹ گئی تھی۔۔۔۔ ابھی اُس نے سیڑھیوں پر پہلا قدم رکھا ہی تھا۔۔۔ جب حمدان نے پیچھے سے آتے اُس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔۔۔۔
مہروسہ جھٹکے سے پلٹی تھی۔۔۔
“مجھ سے شادی کرو گی۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان آنکھوں میں محبت کے دیپ جلائے مہروسہ کے سیدھا دل پر بہت کاری وار کر گیا تھا۔۔۔۔
وہ یک ٹک سی اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔۔ یہ شخص پھر سے کونسا نیا ستم ڈھانے والا تھا اُس کے دل پر۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“تت تو اِس کا مطلب۔۔۔ میرا دل ٹھیک کہتا تھا۔۔۔ تم زندہ ہو۔۔ تم میرے آس پاس ہوکر بھی سامنے کیوں نہیں آرہے۔۔۔۔۔”
حبہ نے بے چینی سے چاروں جانب نگاہیں دوڑائی تھیں۔۔ مگر وہاں اُسے کوئی دکھائی نہیں دیا تھا۔۔۔
وہ سب بچے بھی جہاں سے آئے تھے واپس وہیں غائب ہوچکے تھے۔۔۔۔
حبہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ آخر اُس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔ جب اُس نے شکار پور جاکر اُس کیس کو ری اوپن کرنا چاہا تھا تو اُسے کہ نیا کیس سونپ دیا گیا تھا۔۔۔
اور اب بار بار اُس کے شوہر کے زندہ ہونے کی یہ نشانیاں ملنا اُسے اچھا خاصہ اُلجھا رہی تھیں۔۔۔
“تم ہر بار مجھ سے نہیں جیت سکتے۔۔۔۔ اب میرے سامنے آنا ہی ہوگا۔۔۔ تھک گئی ہوں میں اِس آنکھ مچولی کے کھیل سے۔۔۔۔ “
حبہ نے وہ سارے پھول گاڑی پر رکھتے اپنے گلے میں پہنے لاکٹ کو دیکھا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوسکتا ہے اِس کا پاسورڈ۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ نے اپنے ذہن پر زور ڈالتے سوچا تھا۔۔۔۔۔۔ جب اُسی لمحے کسی احساس سے اُس کی آنکھیں چمکی تھی۔۔۔۔
اُس نے جلدی سے لاکٹ کو ہاتھ میں لیتے پاسوڑ والی کی کو گھما کر وہاں ڈبل ایچ پریس کیا تھا۔۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے کلک کی آواز کے ساتھ وہ کی کھل چکی تھی۔۔۔۔
حبہ کی آنکھیں غیر یقینی کی حد تک پھیل گئی تھیں۔۔۔۔ یہ پاسورڈ تو وہ کسی اور کے ساتھ لگایا کرتی تھی۔۔۔ تو پھر یہ۔۔۔ یہ لاکٹ تو اُسے بلیک سٹار نے پہنایا تھا۔۔۔۔
حبہ کا پورا وجود اِس سوچ کے ساتھ ہی لرز اُٹھا تھا۔۔۔۔
اُس نے جلدی سے لاکٹ کو اُتار کر اُس میں موجود چھوٹی سی چپ نکالی تھی۔۔۔۔
اُس کا دل بہت زور سے دھک دھک کررہا تھا۔۔۔ وہ اب زیادہ دیر ویٹ نہیں کرسکتی تھی۔۔۔ اِس لیے اُس نے جلدی سے اُسے اپنے لیپ ٹاپ میں لگاتے آن کیا تھا۔۔۔۔
مگر آن کرنے کے ساتھ ہی۔۔۔۔ آگے پھر پاسورڈ کے لیے بنا باکس دیکھ اُس کا چہرا غصے سے لال ہوا تھا۔۔۔۔ وہاں بھی یہی لکھا تھا۔۔۔ اگر اُس نے غلط پاسورڈ انٹر کیا تو اِس چپ کا سارا ڈیٹا ڈیمج ہوجائے گا۔۔۔۔
“واٹ دا ہیل۔۔۔۔ تم ہر بار ایسا نہیں کرسکتے۔۔۔ میں بہت اچھے سے جانتی ہوں تم یہیں کہیں ہو۔۔۔ اور میری بے بسی کو دیکھ رہے ہو۔۔۔۔ لیکن اب تمہیں میرے سامنے آنا ہی ہوگا۔۔۔۔ تم جو میرے ساتھ کھیل کھیل رہے ہو۔۔۔ اُس کا اختتام اب میں کروں گی۔۔۔۔۔”
حبہ اپنے گالوں پر بکھرے آنسو صاف کرتی موبائل نکالتے کوئی نمبر ڈائل کرنے لگی تھی۔۔۔
“ایس پی حبہ امتشال اسپیکنگ!…. میں اپنی لوکیشن بھیج رہی ہوں۔۔۔۔ اگلے دس منٹ میں بیس کے قریب غنڈوں کو ہائر کرکے یہاں بھیجو۔۔۔ اُن کا بہت اچھے سے سمجھا دینا کہ مجھ پر کیا گیا حملہ کہیں سے بھی ایسا نہیں لگنا چاہیے کہ جان بوجھ کر کیا جارہا ہے۔۔۔ اگر مجھے کہیں گولی لگتی بھی ہے تو لگنے دیں۔۔۔ مگر دیکھنے والے کو یہی محسوس ہونا چاہییے کہ یہ سب کوئی پلان نہیں ہے۔۔۔۔ “
حبہ بہت اچھے سے اپنے ایک قابلے اعتماد پولیس آفیسر کو ہدایت دیتی کال کاٹ گئی تھی۔۔۔ اب اُسے بس اِس گاڑی میں بیٹھ کر دس منٹ انتظار کرنا تھا۔۔۔۔
“تم کون ہو۔۔۔؟؟ کیا ہو؟؟۔ آج میں اِس بات کی حقیقت جان کر رہوں گی۔۔۔۔ چاہے مجھے اپنے ہی ڈپارٹمنٹ کے اصولوں کے خلاف کیوں نہ جانا پڑے۔۔۔۔۔”
حبہ نے اردگرد غصے بھری نگاہوں سے دیکھتے کہا تھا۔۔۔۔
جب کچھ ہی لمحوں بعد اُس کے کہے کے مطابق دو گاڑیاں پوری رفتار سے اُس کی گاڑی کی جانب آتی دکھائی دی تھین۔۔۔۔
حبہ لیپ ٹاپ بند کرتی جلدی سے باہر نکلی تھی۔۔۔۔
اُس کے ہاتھ میں گن موجود تھی۔۔۔ مگر اُن لوگوں نے آتے ہی اُس پر اندھا دھند فائرنگ کرنا شروع کر دی تھی۔۔۔۔
حبہ نے اپنی گن اُوپر کرنی چاہی تھی مگر وہ اُن کی مسلسل ہوتے فائرنگ سے بچنے کے لیے گاڑی کی پیچھلی جانب بھاگی تھی۔۔۔
اُسے یوں بھاگتا دیکھ وہ لوگ۔۔۔ فائرنگ مزید تیز کر چکے تھے۔۔۔۔ اِس سے پہلے کے ایک گولی حبہ کے وجود میں پیوست ہوتی۔۔۔۔
کسی نے بھاگ کر آتے اُسے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔
حازم سالار کے سینے سے ٹکراتے حبہ کی دھڑکنیں اُس کے کانوں میں شور مچانے لگی تھی۔۔۔
وہ بھلا اتنی ساری ملاقاتوں میں اِس شخص کے لمس کو کیسے نظر انداز کرسکتی تھی۔۔۔۔
حبہ کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر اُس کے گالوں پر پھسل گئے تھے۔۔۔
“تم پاگل ہوگئی ہو۔۔۔۔۔؟ یہ کیسا گھٹیا پلان ہے تمہارا۔۔۔ اگر تمہیں گولی لگ جاتی تو۔۔۔۔ انہیں روکو۔۔۔ ورنہ میں نے اگلے پانچ منٹوں میں اِن سب کو ختم کردینا ہے۔۔۔۔”
حازم اُسے گاڑی کے پیچھے لاتا اُس پر زور دار آواز میں دھاڑا تھا۔۔۔۔
مگر حبہ تو اِس وقت اُس کا غصہ دیکھ ہی نہیں پائی تھی۔۔۔۔۔ اُس پر تو بس سامنے کھڑے شخص کی اصلیت جاننے کا بھوت سوار تھا۔۔۔۔
“اپنا چہرا دیکھاؤ۔۔۔ میں اِنہیں روک دوں گی۔۔۔ تمہارے پاس بھی صرف پانچ منٹ ہیں۔۔۔ اپنی شناخت بتاؤ مجھے ورنہ میں خود کو ختم کرلوں گی۔۔۔۔”
حبہ عجیب جنونی انداز میں بولتی اپنی کنپٹی پر گن رکھ گئی تھی۔۔۔ اُس نے حازم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے جس طرح یہ الفاظ ادا کیے تھے۔۔۔۔ صاف نظر آرہا تھا کہ ااگر حازم نے اُس کی بات نہ مانی تو اُس نے ایسا کر بھی گزرنا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
ماضی۔۔۔۔۔
شاہ ویز سکندر کے والد سکندر شاہ اپنے دور کے نہایت ہی امیر کبیر اور کامیاب بزنس مینز میں سے ایک تھے۔۔۔ اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے وہ اپنے باپ کے کڑوروں کے ورثے کے تن تنہا وارث تھے۔۔۔۔۔۔۔ اتنا بڑا آدمی ہونے کے باوجود اُن میں غرور اور تکبر نام کو نہیں تھا۔۔۔ ہمیشہ وہ اپنے دوست احباب اور اپنے سے نیچے لوگوں کی مدد کرنے کو تیار رہتے تھے۔۔۔۔
سکندر شاہ نے اپنی کلاس فیلو حمیرا سے محبت کی شادی کی تھی۔۔۔ حمیرا کا تعلق ایک مڈل کلاس گھرانے سے تھا۔۔۔ اُن کے ماں باپ کی اُن کے بچپن میں ہی ڈیتھ ہوچکی تھیں۔۔۔ اُن کی پرورش اُن کی پھپھو نے کی تھی۔۔۔۔ اُن کی پھپھو کے سسرال والے انتہائی لالچی لوگ تھے۔۔۔ اِس لیے جیسے ہی سکندر شاہ کا رشتہ اُن کے لیے گیا۔۔۔۔ اُن کے گھر والوں نے بنا ایک لمحے کی بھی دیر کیے اِس رشتے کے لیے حامی بھر دی تھی۔۔۔۔
حمیرا بیگم اور سکندر شاہ بہت زیادہ خوش تھے۔۔۔۔ اُنہیں ایک دوسرے کا ساتھ مل گیا تھا اِس سے زیادہ اُنہیں کچھ نہیں چاہیے تھا۔۔۔ مگر حمیرا بیگم کے گھر والے اپنی لالچی حرکتوں سے باز نہیں آئے تھے۔۔۔ وہ بچپن سے اپنے پھپھا اور اُن کے خاندان والوں کے احسانوں تلے دبی ہوئی تھیں۔۔۔۔ اِس لیے سکندر شاہ سے چھپ کر اُن کی کہی ہر ڈیمانڈ پوری کرتی رہی تھیں۔۔۔
اُن کی پھپھو کے بڑے بیٹے ظفر آفندی کی نظر ہمیشہ سے حمیرا بیگم پر تھی۔۔۔ وہ ہی اُن سے شادی کرنا چاہتے تھے۔۔۔۔ مگر سکندر شاہ کے آئے رشتے کو دیکھتے اُن کی بات کو وہیں دبا کر حمیرا کی شادی تو یہاں کرا دی گئی تھی۔۔۔ مگر ظفر آفندی کے دل سے یہ خیال نہیں نکال پائے تھے۔۔۔ اُن کی بُری نظریں حمیرا بیگم کی شادی کے بعد بھی ہٹ نہیں پائی تھیں۔۔۔۔ حمیرا بیگم یہ سب جانتے بوجھتے بھی سکندر شاہ سے چھپاتی رہی تھیں۔۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ سکندر شاہ کس قدر غصے والے اور اُن کے معاملے میں بہت زیادہ پوزیسیو تھے۔۔۔
اگر اُنہیں زرا سی بھی بھنک پڑ جاتی تو اُنہوں نے ظفر آفندی کا نام و نشان ہی اِس دنیا سے مٹا دینا تھا۔۔۔
اِس لیے صرف اپنی پھپھو کی خاطر وہ یہ سب سہتی رہی تھیں۔۔۔۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھیں کہ اُن کا مصلحت کے لیے یوں خاموش رہنا اُن کی زندگی کو کس طرح برباد کرکے رکھ دے گا۔۔۔۔
شادی کے دو سال بعد اُن کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی تھی۔۔۔۔ شاہ ویز اور بیا نے آتے ہی اُن کی زندگی میں خوشیاں اور بہاریں کئی گنا بڑھا دی تھیں۔۔۔ وہ دونوں اپنے بچوں کے ساتھ بے پناہ خوش تھے۔۔۔
وہیں دوسری جانب اُن کی پھپھو کی ڈیتھ کے بعد اُن کے کزنز کی ڈیمانڈز مزید بڑھتی جارہی تھیں۔۔۔۔
وہ چاہتے تھے کہ حمیرا بیگم سکندر شاہ سے بات کرکے اُنہیں الگ کاروبار کے لیے سرمایہ مہیا کریں۔۔۔۔ مگر حمیرا بیگم ایسا کچھ بھی کرنے سے انکاری تھیں۔۔۔۔
ظفر آفندی اور اُن سے چھوٹے شہباز آفندی کی دھمکیاں دن بدن زور پکڑتی جارہی تھیں۔۔۔۔
ظفر آفندی نگہت بیگم جیسی پیاری جیون ساتھی کے مل جانے کے بعد بھی اپنی بُری نیت حمیرا بیگم کی جانب سے ٹھیک نہیں کر پائے تھے۔۔۔۔
سکندر آفندی اِن سب باتوں سے انجان اُن دونوں بھائیوں کے کہنے پر حمیرا بیگم کے کزن ہونے کی خاطر اُنہیں اپنے آفس میں بہت اچھی جابز دے چکے تھے۔۔۔۔
جو حمیرا بیگم کو کسی صورت گوارہ نہیں ہوا تھا۔۔۔ مگر وہ سکندر شاہ کو اِس بارے میں آگاہ کرکے کوئی بدمزگی نہیں چاہتی تھیں۔۔۔۔
اِس لیے بس خاموش ہوگئی تھیں۔۔۔ مگر وہ یہ نہیں جانتی تھیں کہ اُن کے پھپھو زاد دولت کے نشے میں اپنی انسانیت تک بیچ دیں گے۔۔۔۔
سکندر شاہ کے بزنس میں اچھی طرح قدم جمانے کے بعد اُنہوں نے اُن کا پورا اعتماد جیت لیا تھا۔۔ سکندر شاہ اُن دونوں کو اپنی فیملی ہی سمجھتے تھے اِس لیے اُنہوں نے کبھی اتنی نظر رکھی ہی نہیں تھی۔۔۔
اِس لیے وہ اِس بات سے انجان ہی رہے تھے کہ کیسے وہ لوگ اُن کا ہی نمک کھا کر اُنہیں کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔۔۔۔
اُن دونوں بھائیوں نے سکندر شاہ کے دفتر میں موجود کچھ اور بھی ضمیر فروشوں کو اپنے ساتھ ملا کر گھپلے کرنا شروع کردیا تھا۔۔۔ اِس سب کا انداز جیسے ہی سکندر شاہ کے خاص آدمی کو ہوا اُس نے فوراً اپنے باس کو اُنفارم کرنا چاہا تھا۔۔۔۔ مگر اِس سے پہلے ہی اُن دونوں نے اُس آدمی کو مروا کر۔۔۔ اُس کی لاش کھائی میں پھینکوا کر اُس فراڈ کا سارا الزام سکندر شاہ کے سامنے اُسی آدمی پر لگا دیا تھا۔۔۔ کہ وہ پیسے لوٹ کر فرار ہوگیا ہے۔۔۔
مگر یہاں ہو سکندر شاہ کو بے وقوف نہیں بنا پائے تھے۔۔۔۔ سکندر شاہ بہت اچھے سے جانتے تھے کہ کون اُن کا وفادار ہے۔۔۔ اور کون نہیںں۔۔۔
اُنہیں بزنس میں بہت بڑا گھاٹا ہوا تھا۔۔۔ جس نے اُن کی ساکھ تباہ و برباد کرکے رکھ دی تھی۔۔۔ اور وہ دونوں بھائی اپنے اکاؤنٹس بھرتے رہے تھے۔۔۔۔
سکندر شاہ کے بزنس کا بالکل دیوالیہ نکل چکا تھا۔۔۔۔ وہ بہت زیادہ پریشان رہنے لگے تھے۔۔۔۔
اپنے طورپر پتا کروانے پر اُن پر ظفر آفندی اور شہباز آفندی کی ساری اصلیت کھل چکی تھی۔۔۔۔ حمیرا بیگم اپنے شوہر کو اپنی وجہ سے یوں برباد ہوتا دیکھ ڈپریشن کا شکار ہوچکی تھیں۔۔۔۔ پانچ سالہ شاہ ویز اور بیا اپنے ماں باپ کی اُجڑی حالت دیکھنے کے باوجود کچھ نہیں سمجھ پاتے تھے۔۔۔
سکندر شاہ اُن دونوں نمک حراموں کو بخشنے کا بالکل بھی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔۔۔ مگر اُنہیں سب سے زیادہ غصہ حمیرا بیگم پر تھا۔۔ جنہوں نے اُن سے باتیں چھپا کر اُنہیں تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔۔۔۔
حمیرا بیگم اپنے محبوب شوہر کی ناراضگی نہیں دیکھ پارہی تھیں۔۔۔ سکندر شاہ اُن دونوں بھائیوں کو اُن کے دھوکے کی سزا دینے کا پورا ارادہ کرچکے تھے۔۔۔۔
مگر قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔۔
ظفر آفندی کے چھوٹے بھائی شوکت آفندی جو کے کہنے کو حمیرا بیگم سے سگے بھائیوں سے بڑھ کر محبت کرتے تھے۔۔۔۔ اُنہوں نے بھی دولت کے لالچ میں اندھے ہوکر شہباز آفندی کے کہنے پر حمیرا بیگم اور سکندر شاہ کو یہ کہہ کر اپنے آبائی گھر میں دعوت پر بلایا تھا۔۔۔۔ کہ وہ اُنہیں ظفر آفندی اور شہباز آفندی کے خلاف ثبوت دینا چاہتا ہے۔۔۔۔
حمیرا بیگم یہاں بھی اُن پر اعتبار کرتی سکندر شاہ کو بنا بتائے بیا اور شاہ ویز کو لیے وہاں جا پہنچی تھیں۔۔۔۔
مگر آگے سے اپنے منہ بولے بھائی کے ہاتھوں ایک اور دھوکا اُن کا منتظر تھا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
