Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 9)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 9)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
یارم کی آنکھ کھلی تو اس کے چہرے پر ایک پیاری سی مسکراہٹ آ گئی تھی کیونکہ وہ بالکل اس کے قریب کسی ننھے سے بچے کی طرح اس کے سینے میں چھپائے سو رہی تھی
صرف دو دن اور پھر یہ ساری دوریاں کہ ساری پابندیاں ختم ہو جائیں گی اور وہ اپنی روح کو اپنے اندر ہی کہیں چھپا لے گا
جس دن سے اس نے روح کو اپنے سیکنڈ ہنی مون کے بارے میں بتایا تھا وہ بنا کسی قسم کی کوئی مستی کیے آرام سے اپنی میڈیسن لے رہی تھی اور اپنا بہت خیال بھی رکھ رہی تھی
وہ یہ سب صرف اور صرف اس ماحول سے دور جانے کے لئے کر رہی ہے وہ جانتا تھا کہ وہ اس ماحول سے تنگ آ چکی ہے
یار م کا اس سے دور رہنا اس کی ہر پسندیدہ چیز پر پابندی لگانا یہ سب کچھ روح کے لئے بہت مشکل ہے ۔
وہ جانتا تھا کہ وہ صرف اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی ہے اس وقت وہ صرف اور صرف یارم کا ساتھ چاہتی ہے
اس کے قریب رہنا چاہتی ہے اور یارم اپنے کام کی وجہ سے کافی وقت سے نہ صرف اس سے دور تھا بلکہ اس کی بیماری کی وجہ سے بھی وہ اس دور ہی رہتا تھا یہ ساری پابندیاں ڈاکٹرز کی لگائی ہوئی تھی ڈاکٹر کا کہنا تھا
کہ روح کو اس طرح اسے رکھا جائے کہ اسے کسی بھی چیز میں گھٹن محسوس نہ ہو ۔اور جو میڈیسن وہ استعمال کر رہی تھی وہ کافی زیادہ سخت تھی
روح کو پرسکون رکھنے کے لیے اسے نیند کی گولی دی جاتی تھی لیکن اس کے باوجود بھی وہ اس کے خوابوں کا اثر ختم نہ کر سکی۔
ہاں لیکن اب اس اندھیری رات کااثر کم ہو چکا تھا پہلے کی طرح وہ ساری ساری رات نہیں جاگتی تھی اس کا ڈر کافی حد تک کم ہو چکا تھا وہ قبر کا ڈر کم ہو رہا تھا لیکن ختم نہیں ہوا تھا اور یارم اس کے اندر سے اس ڈر کو ختم کرنا چاہتا تھا ۔
اسی لیے یارم نے اسے کچھ وقت کے لیے یہاں سے دور لے جانے کا سوچا تھا
وہ روح کو ایک نیا ماحول دینا چاہتا تھا لیکن اس کے دشمنوں کے ہوتے ہوئے ایسا ممکن نہیں تھا
اسی لئے کل رات اس نے اس سلسلے پلاینگ کی تھی اور آج صبح وہ اسی پر عمل کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا
وہ خضر اور شارف کی زندگی پر بلکل رسک نہیں لے سکتا تھا وہ جانتا تھا کہ اس کے دشمن اس کی غیر موجودگی میں اس کے سب سے وفادار آدمی کو اپنا شکار بنا ئیں گے اور اگر ان لوگوں نے ان کا ساتھ نہ دیا تو یقیناً ان کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی ضرور کرے گے
ممکن تھا کہ اس کی غیر حاضری میں یارم کی جگہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے اسی لیے وہ اپنی ٹیم کو محفوظ کر کے ہی یہاں سے جانا چاہتا تھا جس کی پلاینگ وہ پہلے ہی کر چکا تھا
ایک نظر روح کو دیکھنے کے بعد وہ اس کے قریب سے اٹھا اور فریش ہونے چلا گیا تا کہ واپس آکر روح کے لیے ناشتہ بنا سکے
°°°°
وہ گہری نیند سو رہا تھا جب کہ اس کا موبائل مسلسل بج رہا تھا
کون تھا جو اتنکصبح صبح اس کی نیند خراب کرتا اس نے غصے سے ایک نظر فون کی جانب دیکھا
دل تو چاہ رہا تھا کہ فون کرنے والے کی گردن کاٹ ڈالے۔لیکن اس کا پیارا دوست گردن کے بغیر بالکل بھی اچھا نہیں لگتا
خضر کے بچےصبح کے چھ بجے میری نیند کا بیڑہ غرق کر دیا ۔وہ بڑبڑایا ۔ایک کیا مجھ مصعوم کو بیوی کم مصیبت ملی ہے جو رات کے بارہ بجے تک برتن رکھ کر انتظار کرتی ہے کہ کب شارف آکر دھوئے گا اور اوپر سے صبح صبح یہ خضر کا بچہ نیند خراب کر دیتا ہے
معصوم کی بد دعا لگے گی تجھے خضر وہ بڑابڑتے ہوئے بنا دیکھے فون اٹھا چکا تھا
جلدی بولو زیادہ ٹائم نہیں ہے میرے پاس سونا ہے مجھے اور پھر وہ کھڑوس ہٹلر بلیٹ کٹر “دا یارم ڈیول کاظمی”مجھے بلا لے گا کوئی کام ہے نہیں اس کو فرف لوگوں کے سینوں پر بلیٹ چلانا ہے اور اگر بلیٹ نہیں چلانا تو ان کے منہ پر تیزاب پھینک کر ان کا کام تمام کرنا ہے اور بعد میں وہ لاشیں ہم ٹکانے لگا تے ہیں
اور پھر آدھی رات کو جب گھر واپس آتے ہی بیوی برتن دھولواتی ہے سوتے ہیں تو صبح ڈیول صاحب کا فون آجاتا ہے آفس میں جاو اس کی صفائی کرو مہاراج اپنے صاف ستھرے پیر گندے فرش پر نہیں رکھ نہیں سکتے وہ اپنی نیند خراب ہونے کا سارا غصہ فون پر موجود دوسرے آدمی پر نکال چکا تھا
خضر خاموش کیوں ہو میرے بھائی کیا ہوا کیا میں نے کچھ زیادہ بول دیا کافی دیر دوسری طرف سے کوئی آواز نہ سننے کے بعد شارف نے معصومیت سے تھا
شارف آج کے بعد فون اٹھانے سے پہلے تم دیکھو گے کہ فون پر کون ہے اور پھر اس حساب سے بات کرو گے آئی میری بات سمجھ میں۔اگر نہیں سمجھ میں آئی تو اگلی بار بلیٹ تمہارے سینے پر اور تیزاب تمہارے منہ پر گرے گا یار م کی سردآواز گونجی اور شارف کے ہاتھ کانپنے لگے
ڈیووووولل۔۔۔۔میییییر۔۔۔میرا۔۔مطلب ۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔یارم بھیا کیا آپ ہیں فون پر اس نے لڑکھڑاتی آواز میں بات مکمل کی
یہ جو تمہاری طوطے کی طرح پترپٹر زبان چلتی ہے نہ اسے ایک دن میں کاٹ دوں گا تمہاری وجہ سے مجھےیا میری ٹیم کو ایک پرسنٹ بھی نقصان ہوا تو تمہارا وہ حال کروں گا جو سوچتے ہوئے بھی تمہاری روح کانپ اٹھے گی ۔۔۔۔وہ ابھی بھی کافی غصے میں بول رہا تھا
نو ڈیول یہ پرائیویٹ نمبر ہے اس پر صرف ٹیم کے ممبر ہی فون کر سکتے ہیں شارف نے اسے بے فکر کرنا چاہتا تھا
مجھے ان سب چیزوں سے کوئی لینا دینا نہیں میں ایک لسٹ بھیج رہا ہوں ان میں سے چھ لوگ آج ڈنر پر جبکہ پانچ لاک لوگ آج لنچ پر مجھ سے ملنے چاہیے
یارم نے کہتے ہوئے فون کر دیا جبکہ شارف سوچ رہا تھا کہ ایسے کون سے اسپیشل لوگ ہیں جن کے لئے یارم نے اسے چھ بجے سے فون کرکے اٹھایا ہے
اور پھر چند ہی سیکنڈ میں ایک لسٹ کے موبائل اوپن ہو چکی تھی
یہ گیارہ لوگوں کی لسٹ تھی جس میں دبئی کے گیارہ بڑے اور پاوور فل گنگز کے کنگز کا نام تھا
اور یہ لوگ کسی نہ کسی طریقے سے یارم کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے تاکہ اس کی جگہ پر اپنا قبضہ کر سکے
وہ سب اس کی جگہ ڈان بنا چاہتے تھے اور دئبی مافیایہ پر راج کرنا چاہتے تھے اور ایسا تب ہی ممکن تھا جب ڈیول کو جان سے مارتے یا پھر ڈیول ان سے ہاتھ ملا لیتا۔
وہ لوگ کافی بار یارم کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا چکے تھے لیکن اسے حیوانوں سے ڈیول صرف دشمنی رکھنا پسند کرتا تھا
وہ لوگ تو یارم کے خلاف چاہا کر بھی کچھ نہیں کر سکتے تھے تو اس کا مطلب تھااپنی ٹیم کو محفوظ رکھنے کے لئے وہ ان لوگوں سے ہاتھ ملا رہا تھا مطلب کہ وہ اپنی طرف سے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہا تھا شارف کو یہ بات اچھی تو نہیں لگی لیکن یارم کا آرڈر تھا پورا تو کرنا ہی تھا
°°°°
مطلب کے اتنے برے دن آگئے ہیں کہ اب ہم ان حیوانوں سے ہاتھ ملائیں گے
جانتا ہو یارمتم روح سے بے انتہا محبت کرتے ہو لیکن اس کے لیے تم ان گھٹیا لوگوں کے ساتھ ہاتھ ملا لو گے جو معصوم بچیوں کے جسم کا دھندا کرتے ہیں ۔
جو معصوم بچوں کے جسم میں ڈرگز اور نشہ وار شراب اور پتہ نہیں کون کون سے زہر کو بھر رہے ہیں
روح کے لئے تمہاری محبت اپنی جگہ لیکن وہ انسانیت کہاں گئی جس کی خاطر تم نے یہ کام شروع کیا تھا
شارف سوچ سکتا تھا کہہ کچھ نہیں سکتا تھا کیونکہ یہاں سامنے کوئی اور نہیں بلکہ ڈیول تھا
جسے اس وقت صرف اور صرف اپنی بیوی کی پرواہ تھی۔
اور اپنی بیوی کو ایک پرسکون اور محبت بھرا ماحول دینے کے لیے وہ ایسے گھٹیا لوگوں کو ڈنر اور لنچ پر انوائیٹ کر کے ۔یہ دوستی کا ہاتھ یارم کی طرف سے بڑھایا جارہا تھا تو یقینا ان سب نے ہی خوش دلی سے قبول کرنا تھا
لیکن شارف مطمئن نہیں تھا یہ سب کچھ کرتے ہوئے اس کا دل بے چین تھا ۔
اور اپنا سارا غصہ صبح سے معصومہ پر بھی دو بار نکال چکا تھا ۔معصّومہ کی یہ عادت بہت اچھی تھی کہ جب شارف غصے میں ہوتا تو وہ کچھ بھی نہیں بولتی تھی بلکہ اس کی ہر بات کو ہنس کر برداشت کر جاتی
اور پھر جب اس کا غصہ ختم ہو جاتا تب معصومہ کی باری آ جاتی اور وہ اپنے بدلے گن کر پورے کرتی اور اس وقت بھی ایسا ہی ہو رہا تھا
شارف غصے سے بحال ہوتے چار سے پانچ بار خضر کو فون کر چکا تھا
خضر کو بھی یہ بات بالکل اچھی نہیں لگی تھی کہ روح کے لیے وہ ایسے گھٹیا لوگوں سے ہاتھ ملانے کو تیار تھا ۔۔ ہاں وہ روح ہی تھی جس نے یارم کے اندر سے ایک پیارے سے انسان کو جگایا تھا
لیکن اس کی وجہ سے ہی یارم کے اندر انسانیت ختم ہوتی جا رہی تھی وہ مطلبی ہوتا جا رہا تھا
°°°°°
شارف کو فون کرنے کے بعد وہ بے فکر ہو چکا تھا کیونکہ جانتا تھا کہ شارف اپنا کام وقت پر نپٹالے گا روح کا ناشتہ بنا کر کمرے میں لایا تو روح ابھ بھی سو رہی تھی
وہ پیار سے اس کے قریب آیا اور اس کو جگانے لگا اس وقت صبح کے ساڑھے سات بج رہے تھے ۔آج دوپہر کا لنچ اس نے ان لوگوں کے ساتھ کرنا تھا جن سے وہ بے تحاشا نفرت کرتا تھا اور پھر آج کا ڈنر ان لوگوں کے ساتھ جنہیں دیکھتے ہی وہ اس دنیا سے ختم کر دینے کا ارادہ رکھتا تھا
لیکن یہ اس کی مجبوری تھی کہ کچھ وقت کے لئے ہی سہی لیکن یارم کو ان لوگوں کو برداشت کرنا تھا
وہ اسے کافی دیر سے جگا رہا تھا لیکن روح کی نیند نہیں ٹوٹ رہی تھی جب بے ساختہ ہی یارم کی نظر اس کی آنکھوں کی پلکوں سے ہوتے ہوئے اس کے سرخ لبوں پر آ ٹھہری ۔وہ بے خود سا اس کے لبوں کو دیکھنے لگا
آج بہت عرصے کے بعد اس کا دل بغاوت کرنے لگا دل کو بہت سمجھانے کے بعد بھی وہ سمجھنے کو تیار نہ تھا آج وہ اس کے لبوں کو چھونے کی خواہش کر رہا تھا
یارم ایسا بالکل نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن آج اس کا دل باغی ہونے لگا تھا آج ہو اس کے کسی بہانے پر کان نہیں دھررہا تھا
اس کے گلے میں کانٹے چبھنے لگے تھے جیسے آج اگر وہ یہاں سے پیچھے ہٹ گیا تو شاید اس پیاس سے مر ہی جائے گا تشنگی تھی جو بڑھتی چلی جارہی تھی وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگا
اور نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام کر اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی دسترس میں لیے محسوس کرنے لگا
بے حد نرم اور پیار بھرا لمس تھا کہیں وہ اس کے چھونے سے ٹوٹ جائے ۔
وہ بہت نرمی سے اپنی سانسوں کی خوشبو کو اس کی سانسوں میں بسا رہا تھا اور پھر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اس سے دور ہوا کیوں کہ یہ تشنگی تو شاید اب کبھی بھی مٹنی ہی نہیں تھی اور نہ ہی یہ پیاس کبھی ختم ہو سکتی تھی ۔لیکن وہ اپنے باغی کی دل کی ضد کی خاطر اپنی روح کو کسی قسم کے امتحان میں نہیں ڈال سکتا تھا اس لئے بہت نرمی سے اس سے الگ ہوا
اس کے دور ہوتے ہی روح نے اپنی آنکھیں کھول دیں وہ جانتا تھا کہ وہ جاگ چکی ہے اس کی سانسیں تیز ہونے لگی چہرے پر ایک پیاری سی مسکان تھی یارم بے خود سا اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا جب کہ اسے خود کو دیکھتے پاکرروح نے فور اپنے ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لئے اور اس کی یہ حرکت یارم کے چہرے پر مسکراہٹ کو گہرا کر چکی تھی
یارم آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں ایسا کون کرتا ہے کسی بیمار انسان کے ساتھ اس کی میٹھی سی سرگوشی اس کے کانوں میں گونجی تو یارم کے دمپل پر مزید گہرے ہوئے
بےبی اپنا دل مضبوط کر لو کیوں کہ اب میں بالکل بھی اچھا ثابت نہیں ہونے والا بہت ستا لیا ہے تم نے مجھے سویزلینڈ جاتے ہی تم سے گن گن کے بدلے نہ لئے تو میرا نام بھی یارم کاظمی نہیں یاد رکھنا
اور اب مزید خود کو بیمار کہنے کی بھی ضرورت نہیں ہے بالکل ٹھیک ہو تم اور اب میں تمہیں جہاں لے کر جاؤں گا وہاں تم بالکل ٹھیک ہو جاؤ گی اس نے نرمی سے اس کا ماتھا چومتے ہوئے اس کا بازو پکڑ کر بٹھا دیا
چلو جلدی سے فریش ہو کر آؤ پھر ہم دونوں مل کر ناشتہ کرتے ہیں ۔
اور پھر مجھے ایک بہت ہی اہم کام کے لئے نکلنا ہے آج کا سارا دن مصروف رہے گا اور ہوسکتا ہے رات کو بھی آنے میں دیر ہو جائے ۔تیار ہو جاؤ تمہیں جاتے ہوئے لیلیٰ کے گھر چھوڑ دوں گا ۔آج بہت دنوں کے بعد اس نے اسے لیلیٰ کی طرف لے جانے کی بات کی تھی روح تو خوشی سے پھولے نہ سمائی
سچی یارم آپ سچ میں مجھے لیلی کے پاس چھوڑ کر جائیں گے آپ کتنے اچھے ہیں اور آپ کا یہ ڈمپل آپ سے بھی زیادہ اچھا ہے میں ابھی تیار ہو کے آتی ہوں وہ اس کے گال کھینچتے ہوئے اور فریش ہو نے بھاگ گئی تھی
جب کہ یارم اس کی سپیڈ دیکھ کر صرف مسکرا دیا
°°°°°
ڈیول سر آپ کی مہمان آگئے ہیں شارف آف موڈ کے ساتھ پیغام لے آیا تو یار م نے اس کا انجان سا لہجہ شدت سے محسوس کیا
صبح سے خضر بھی ایک بار بھی اس کے آفس میں نہیں آیا تھا اور شارف بھی صبح سے اس سے نام کے بجائے سر کہہ کر پکار رہا تھا
اور جو آرڈر دیا تھا میں نے وہ آیا یا نہیں اس کے اس انداز پر یارم نے کافی روڈلی پوچھا تھا
ہاں وہ بھی آگیا ہے لیکن صرف پانچ لوگوں کا ہی کھانا ہے ۔میرا نہیں خیال کہ ہم لوگ بھی وہیں پر کھانا کھا رہے ہیں خیر ہماری ایسی کوئی خواہش بھی نہیں ہے آپ اپنے مہمانوں کو خود ہی ہینڈل کریں
وہ تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ناراضگی ظاہر کر رہا تھا جس کا یارم نوٹس لیے بغیر اس کمرے کی طرف آ گیا جہاں لنچ پر پانچ لوگوں کو انوائٹ کیا گیا تھا
اس نے ایک نظر خضر کی طرف دیکھا تھا جو اسے دیکھتے ہی منہ پھیر گیا مطلب کے اس کے اس قدم پر وہ بھی اس سے سخت خفا تھا
°°°°°
ہم تمہارے شکرگزار ہیں ڈیول جو تم نے ہمیں اس قابل سمجھا کہ تم نے ہماری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے
تمہارے اس قدم سے ہمیں سچ میں بہت خوشی ہوئی ہے ہم ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہیں تم جو کہو گے ہم وہ کریں گے
بس تم ہمیں اپنے گینگ کا حصہ بنا لو تمہارا نام ہی کافی ہے سب کی چھٹی کر دے گا وہ لوگ کافی پر جوش تھے جب ڈیول نے انہیں کھانے کی طرف متوجہ کیا
بہت شکریہ ڈیول کھانا بہت لذیذ ہے مگر تم کیوں نہیں کھا رہے ان میں سے ایک نے پوچھا
میں دوپہر کا کھانا اپنی ٹیم کے ممبرز کے ساتھ کھاتا ہوں آج وہ لوگ مجھ سے ذرا خفا ہیں تو نہ تو خود کچھ کھائیں گے اور نہ ہی مجھے کچھ کھلائیں گے اس نے عام سے لہجے میں جواب دیا
جب کہ یارم اب انہیں کھانے کی طرف متوجہ دیکھ کر اپنے بیگ سے کچھ سامان نکال رہا تھا
اس کے ہاتھ میں بلیڈ کے پیکٹ دیکھ ایک آدمی کو کھانا کھاتے کھاتے اچانک کھانسی شروع ہوگئی
تم یہ بلیڈز کیوں نکال رہے ہو ڈیول ہمیں اس سے بہت ڈر لگتا ہے تمہارے کام کرنے کا طریقہ بہت خطرناک ہے
اور بہت تکلیف دا بھی ۔ایک آدمی نے جہاں بعد چھوڑی اس کی بات کو دوسرے آدمی نے مکمل کیا
مجھے ان کی ضرورت پڑے گی وہ ایک بلییڈ کو ان پیک کرتے ہوئے سامنے رکھ کر دوسرے کو کرنے لگا
ضرورت کیسی ضرورت ہم تو تمہارے دوست ہیں اپنی موت کو دور سے آتا دیکھ کر ہی ایک آدمی گھبرا کر ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے بولا
تم جیسے درندے کبھی میرے دوست نہیں ہو سکتے میرے صرف دو ہی دوست ہیں ۔
خضر شارف ایماندار اور جان نثار کرنے والے ان دونوں کے ہوتے ہوئے مجھے تم جیسے ہی حیوانوں کو دوست بنانے کی ضرورت کبھی پیش نہیں آئے گی
تم لوگ رک کیوں گئے کھانا کھاتے رہو اگر تم لوگوں کے ہاتھ کھانے سے رکے تو میرے ہاتھ سے چلیں گے اور یقین مانو یہ موت بہت تکلیف دا ہے
فی الحال تم پانچ اور رات کے ڈنرپر میں نے باقی چھ کو بھی انوائٹ کر رکھا ہے میں نے بہت سوچا میں تم لوگوں سے زیادہ نفرت کرتا ہوں یا ان چھے لوگوں سے اور پھر ان لوگوں کا پرلا ذرا بھاری تھا اس لئے سوچا انہیں ذرا فرصت سے ماروں گا
اس نے کھانے کی طرف اشارہ کیا تو وہ پانچوں گھبراکر کھانا کھانے لگے جب ڈیول کی آواز ایک بار پھر سے گونجی
کھانے میں زہر ہے میری عادت ہے میں اپنے شکار کو تڑپا تڑپا کر مارتا ہوں مجھے سکون ملتا ہے ۔
اس کے کہتے ہی ان لوگوں نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیے اور ویسے ہی ڈیول کا ہاتھ چلا تھا سامنے بیٹھے آدمی کی انگلی اس کے دھڑ سے الگ ہو چکی تھی وہ چیخنے لگا چلانے لگا
میں نے کہا نہ اگر تم لوگوں کے ہاتھ کھانے سے رکے تو تم لوگوں کی موت زیادہ تکلیف دہ ہو گی
اس نے اس آدمی کی پروا کیے بغیر باقی چاروں کی طرف اشارہ کیا تو وہ کٹی انگلی کے ساتھ ہی کرسی پر بیٹھ کر کھانا کھانے لگا
موت تو ہر طرف سے آنے تھی اس طرف سے نہ سہی تو اس طرف سے
اور ڈیول کے بلیڈسے تڑپ تڑپ کےمرنے سے بہتر تھا کہ وہ یہ زہر والا کھانا کھا کے مر جاتے
یارم پر سکون سا کرسی پر بیٹھا ان چاروں کو کھانا کھاتے دیکھ رہا تھا ایک تو وہیں زمین پر بے ہوش ہو چکا تھا شاید زہر نے اس پر زیادہ اثر دکھا دیا تھا
بے فکر رہو اس زہر سے تم لوگ بہت پرسکون نیند سو جاو گے اور شکر کرنا کے میرے ہاتھوں نہیں مارے گئے
وہ اپنے بلیٹڈزکو واپس بیگ میں رکھتا ہوا وہاں سے اٹھ کر باہر نکل گیا
دو گھنٹے کے بعد لاش ٹھکانے لگا دینا وہ شارف سے کہتا ہوا آگے بڑھ گیا
اکرم کھانا آرڈرکردو بہت بھوک لگی ہے ۔خضر مسکرا کر کہتا ہوا شارف کو آنے کا اشارہ کرتا یارم کے پیچھے ہی اس کے کیبن کی طرف بھاگا تھا
°°°°°
