Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 30)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

شام کو وہ کمرہ خود ہی انلاک کر کے آئی تھی کمرے میں اندھیرہ تھا جبکہ سگریٹ کی سمیل نے اندر آتےہی اس پر کافی بُرا اثر چھوڑا تھا

اس وقت وہ سر سے پیر تک اس کی پسند بنی تھی۔اس کے بدن پر موجود ہر چیز یارم کی پسند کی تھی ۔

جو وہ خود اس کے لیے لایا تھا۔اور اکثر اسے پہنے کے لیے بھی کہتا لیکن وہ ساڑھی میں خود کو انکفرٹیبل محسوس کرتی تھی۔

یارم کا کہنا تھا کہ روح صرف اس کے سامنے یہ لباس پہنے لیکن روح نے اس کی یہ فرامائش کبھی پوری نہیں کی تھی۔

لیکن آج اس کو منانے کے لیے وہ خود بنا اس کے بولے اس کی پسند میں ڈھل کر آئی تھی

ڈارک ریڈ ساڑھی میں وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔

اوپرسے لمبے سیاہ بال اسے کسی دوسرے جہاں کی پری بنا رہے تھی۔

اور پھر ڈارک ریڈ کلر کی لپس ٹک نے اپنا ہی جلوہ بکھیرا تھا۔

یارم نے آیک نظر اس کی تیاری دیکھی ۔ پھر سر جھک کر سگریٹ سلگانے لگا ۔شاید وہ ماننا ہی نہیں چاہتا تھا۔یا روح کو اس وقت دیکھنے کا خواہش مند ہی نہیں تھا۔

وہ اس سے نظریں پھیر کر باہر جانے لگا لیکن روح نے راستہ روک لیا

اتنے خفا ہوگٙئے کہ مجھے دیکھیں گے بھی نہیں ۔ وہ معصومیات سے کہتی بہت پیاری لگ رہی تھی ۔لیکن آج اس کا یہ روپ یارم کا دل دھڑکا نہیں رہا تھا بلکہ جلا رہا تھا

۔راستے سے ہٹو کس سے یہ سستا مشورہ لے کے آئی ہو ۔۔۔

کس کس کو سنا کر آئی ہوکہ تمہارہ شوہر تم سے خفا ہے۔اور اسے ماننے کے لیے تمہیں کوئی مشورہ چاہے ۔

وہ کب کا تپا بٹھا تھا۔

میں نے کسی سے مشورہ نہیں لیا میں خود آپ کو منانے آئی ہوں ۔وہ یقین دلا رہی تھی جو یارم کو نا آیا۔

وہ اس کی بات پر طنزیہ سی مسکراہٹ لیے باہر نکل گیا ۔جبکہ روح اس کے پیھے بھاگتی ہوئی آئی وہ اس پر اعتبار نہیں کر رہا تھا لیکن روح کو تو اسے منانا تھا۔

وہ بھی اپنے پاس سے۔۔۔۔ اس نے غلطی کی تھی اسے یہ باتیں شارف یا کسی اور کو نہیں بتانی چاہے تھی ۔اور وہ شرمندہ تھی ۔اب وہ اپنے یارم کو منا لینا چاہتی تھی جو کافی مشکل تھا

وہ اپنی ساڑھی سمبھالتی باہر میوزک سسٹم کے پاس آئی ۔

تاکہ یارم کی پسند کا کوئی رومنٹک گانا لگا کر اسے منائے لیکن یارم تو زیادہ گانے سنتا ہی نہیں تھا

کوئی بات نہیں کوئی بھی اچھا سا لگا لیتی ہوں

وہ خود سے کہتی کوئی بھی گانا پلے کر کے یارم کی طرف آئی جو صوفے پر بٹھا آنکھیں بند کیے سگریٹ پر سگریٹ سلگا رہا تھا

وہ بلکل اس کے پاس آگئی اور صوفے کے پیچھے کھڑی اس کو دیکھنے لگی۔

“چاہا تھا تمہیں”

“پایا ہے تمہیں”

“مانگا تھا تمہیں”

“پایا ہے تمہیں”

“سینے سے لگا لو مجھ کو’

جذبات نہیں ہیں بس میں”

جذبات نہیں ہیں بس میں”

یہ رات نہیں ہے بس میں ۔”

اس کے بلکل قریب اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کررہی تھی۔لیکن آج تو جیسے ہر چیز اہم تھی سوائے روح کے ۔یارم وہاں سے بھی اٹھ کر باہر جانے لگا لیکن اس سے پہلے ہی روح اس کا ہاتھ تھام کر کے بے حد نزدیک آ چکی تھی

“پھر چمک اٹھی میری بندیا”

“پھر اڑنے لگی میری نیندیا’

“پھر موسم آئے سہانے “

“پھر ساون لگا ہے گانے “

“نہ جانے کب تک برسے”

“برسات نہیں ہے بس “

“جذبات نہیں ہیں بس میں”

“یہ رات نہیں ہے بس ہے “

روح اپنی تمام تر جمع کرکے اس کے لبوں کو اپنے لبوں سے چھونے ہی والی تھی کہ یارم نے اسے دھکا دیتے ہوئے خود سے بے حد دور کردیا

اس نے شدت سے یہ حرکت کی تھی کی روح صوفے پر جا گری

کیوں کر رہی ہو تم یہ سب کچھ ۔۔۔۔؟

کیا تمھیں سمجھ نہیں آرہا تھا مجھے نہیں چاہے یہ سب ۔۔۔۔

اور اس بار کس سے آئیڈیا لے آئی ہو یہ سب کچھ کرنے کا یہ سب لیلیٰ ہی کر سکتی ہے

اسی کے مشورے پر چل رہی ہو نہ تم وہ انتہائی غصے سے اس کے پاس آیا تھا

روح کبھی تو مجھے سمجھنے کی کوشش کرو

کیوں تمہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اپنی پرسنل لائف کسی تیسرے کے بغیر چاہتا ہوں

میں تمہارے اور اپنے بیچ کسی کی مدالفت نہیں برداشت کرسکتا

کیوں تمہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مجھے پسند نہیں ہے میری اور اپنی پرنسل لائف تم کسی اور کے ساتھ شئیر کرو

وہ انتہائی غصے سے بول رہا تھا جبکہ روح کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی

آپ میرے یار م ہیں ہی نہیں ۔۔۔آپ کوئی اور ہیں

میرے یارم میرے ساتھ کبھی ایسا نہیں کر سکتے ۔نجانے یارم ابھی غصے میں کیا کیا بولنے والا تھا لیکن روح کے الفاظ نےاسے خاموش کر دیا ۔

آپ نہیں ہیں میرے یارم۔جب سے یہ حادثہ پیش آیا ہے میرے یارم کہیں کھو ہی گئے ۔آپ کبھی میرے یارم کی جگہ نہیں لے سکتے

وہ کبھی اپنی روح کو یوں خود سے دور نہیں کر سکتے ۔آپ نہیں ہیں میرے یارم وہ بُری طرح سے روتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر بھاگ گئی

جب کہ یارم پہلے تو کتنی دیر اس راستے کو دیکھتا رہا جہاں سے وہ بھاگ کر گئی تھی

اس کے آنسو اس کی تکلیف کی یارم کو پرواتھی

لیکن یہ روح کا مشورہ نہیں ہو سکتا تھاوہ کبھی بھی یہ سب سوچ نہیں سکتی تھی

لیکن وہ یارم کو منانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی تھی

تو کیا یہ سب کچھ روح نےاپنی مرضی سے کیا وہ اپنا فون نکال کر لیلیٰ کو کال کرنے لگا

°°°°°

یارم کا فون آتا دیکھ لیلیٰ نے پریشانی سے فوراً ہی فون اٹھا لیا

لیلی بہتر ہوگا کہ تم اپنی زندگی پر توجہ دو میرے اور روح کے بیچ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے ہم اپنے میٹرزخود حل کر سکتے ہیں آئندہ تم مجھے روح کو مشورہ دیتی نظر نہ آؤ ورنہ میں تم دونوں کی ملاقات ہی بند کر دوں گا وہ انتہائی غصے سے بولا تھا

یارم کیا ہوگیا ہے تمہیں میں نے کب روح کو کوئی مشورہ دیا

میری روح سے بات ہی نہیں ہوئی

جھوٹ بولنا بند کرو لیلیٰ اگر تمہاری روح سے بات نہیں ہوئی تو یہ سب کچھ کیوں کر رہی ہے ۔۔۔۔ وہ اس کی بات کاٹ کر بولا

یارم مجھے کیا پتا وہ کیا کر رہی ہے اور کیا نہیں میری اس سے بات کیسے ہو سکتی ہے جب کہ اس کا فون ہی گم ہوچکا ہے

پہلے وہ یہاں پر بھی تو تو ہم آمنے سامنے بات کر لیتے تھے لیکن جب سے وہ تمہارے ساتھ گئی ہے میرا اس کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے

بس شارف نے صبح بتایا تھا کہ اس نے روح سے تمہارے فون پر بات کی ہے اس کے علاوہ میں اور کچھ نہیں جانتی یارم۔میں نے روح کو کوئی مشورہ نہیں دیا اور نہ ہی میری اس سے بات ہوئی ہے

اور میری تو کیا شارف کے علاوہ اس کی کسی اور سے بات بھی نہیں ہوئی ابھی لیلیٰ نہ جانےاپنی صفائی میں کیا کیا کہنے والی تھی کہ یارم فون ہی بند کر دیا

ہو گیا بیڑا غرق مطلب یہ سب کچھ میری شہزادی خود سے کر رہی تھی مجھے منانے کے لیے اور میں نے کیا کیا ۔وہ اپنے سر پہ ہاتھ مارتا بند دروازے کی جانب دیکھنے لگا

°°°°

روح میری جان میرا بچہ پلیز دروازہ کھولو وہ دروازے کے باہر کھڑا کب ہے اسے آواز دے رہا تھا جب کہ وہ کمرے میں بیٹھی روئے جارہی تھی کتنی محنت سے تیار ہوئی تھی اس کے لئے اس نے کیا کیا

کوئی کیسے کر سکتا ہے اپنی معصوم سی بیوی کے ساتھ ایسا سلوک

نہیں ہوں میں آپ کا بچہ اور نہ ہی میں آپ کی جان ہوں اور اب کبھی آپ سے بات نہیں کروں گی آپ میرے یارم ہو ہی نہیں اندر سے روتی ہوئی نم سی آواز آئی جس پر یارم بے چین ہو گیا

روح تم نہیں آؤ گی تو میں اندر آ جاؤں گا یارم نے ہارتے ہوئے کہا

خبردار جو آپ نے ایکسٹرا کی سےدروازہ کھولا میں ساری زندگی بات نہیں کروں گی آپ سے وہ فوراً اسے دھمکی دیتے ہوئے بولی

اتنے برے لگ رہے ہیں نہ آپ مجھے اس وقت کہ آپ کا چہرہ دیکھنے کا بھی دل نہیں کر رہا

اور نہ ہی مجھے آپ کا چہرا دیکھنا ہے چلے جائیں یہاں سے اپنے آفس روم میں بیٹھ کر سگریٹ پیے ۔اس سوتن کو منہ لگائے میرے منہ نے کی ضرورت نہیں ہے

وہ روٹھی روٹھی ایسی باتیں کر رہی تھی کہ نہ چاہتے ہوئے بھی یارم کو ہنسی آ جاتی

لیکن وہ بالکل بھی ہنسا نہیں تھا کیوں کے اس وقت اسے روح کو منانا تھا

کیا ہو رہا تھا یہ سب کچھ جب یارم مانتا تھا تب روح روٹھ جاتی ہے اور جب روح مانتی یارم روٹھ جاتا

لیکن یار م کواسے منانے کے بہت سارے طریقے آتے تھے اسے روح کے لیے کسی سے مشورہ لینے کی ضرورت ہرگز نہیں تھی ۔

°°°°°

اس کو منانے کی ہر کوشش میں ناکام ہونے کے بعد یا رم نے مجبور ہو کر ڈپلیکیٹ کی سے دروازہ کھولا تھا

اس کو دیکھتے ہی وہ منہ پھیر کر بیٹھ گئی ۔

افف بے بی ایم سوری یار غلطی ہو گئی مجھ سے معاف کر دو وہ بیڈپر یٹھی تھی اور یارم زمین پر بیٹھ کر اس سے معافی مانگنے لگا

میں نہیں کروں گی آپ کو معاف آپ بہت گندے ہیں میں بات ہی نہیں کرنا چاہتی آپ سے جائیں یہاں سے جا کر وہ سوتن سگریٹ پیئں وہ غصے سے بار بارسگریٹ کو ہی بیچ میں لا رہی تھی

اچھا نہ یار نہیں پیتا تمہاری سوتن کو وہ شرارتی انداز میں کہتا ہے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر چومنے لگا

بس یہی غلطی معاف کر دو اس کے بعد کبھی کوئی غلطی نہیں ہوگی وعدہ کرتا ہوں وہ اپنےکانوں کو ہاتھ لگاتے بولا تو روح ذرا نرم پڑگئی

خبردار جو آئندہ مجھ سے اس طرح سے بات کی یا مجھے خود سے دور کیا

اور اب اگر کبھی مجھ سے ناراض ہوئے تو میں پکی والی ناراض ہو جاؤں گی ۔

مجھ سے نہیں ہوتےیہ منانے والے کام میں روٹھوں گی اور آپ منائیں گے ہمیشہ مجھ سے نہیں اٹھائے جاتے آپ کے یہ نخرے

وہ غصے سے اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی جس پر یار م نے فوراً ہاں میں سر ہلایا

میری مجال جو میں تمہارے سامنے نخرے دکھاؤ ں وہ اس کا چہرہ تھا میں اس کے دونوں گال کو چومتے ہوئے پیار سے بولا

ویسے کون سا گانا تھا وہ کافی ہوٹ لگ رہی تھی لیکن تم نے ساڑھی اتار کیوں دی یار آج پہلی بار تو میری خواہش کو پورا کیا تھا

ہاں برے آئے آپ دیکھ ہی کہاں رہے تھے مجھے میں ہی پاگل ہوئے جا رہی تھی آپ کو منانے کے لئے وہ بے ہودہ لباس پہن لیا ۔اور بال بھی کھول دیے

پتا نہیں یہ فلم میں ہیروئن بال کھول کر ناچ کیسے لیتی ہے میرے تو سارے بالوں منہ میں آ رہے تھے ۔

وہ اپنے بندھے ہوئے بالوں کو ایک بار پھر سے پیچھے کرتے ہوئے بولی

یہ پریکٹس ہے میری جان تم بھی پریکٹس کیا کرو تمہارا ہیرو تو ہر وقت حاضر رہتا ہے تمہیں سراہنے کے لیے لیکن تم ہیروئن بننے کی کوشش ہی نہیں کرتی وہ ایک ہی جھٹکے میں اسے بیڈ پر گراتا ہوا اس کے اوپر آ چکا تھا

مجھ سے نہیں ہوتے یہ فلمی ڈرامے اگر آپ کو مجھ سے پیار کرنا ہے تو ایسے ہی کریں اور ویسے بھی یہ سب کچھ کرنا اچھا نہیں ہوتا وہ منہ بنا کر بولی

بےبی شوہر کے سامنے کچھ بھی کرنا بُرا نہیں ہوتا ۔ایک لڑکی اپنے شوہر کے سامنے جیسے چاہے ویسے رہ سکتی ہے ۔اور تمہارے تو کسی بھی انداز پر مجھے اعتراض نہیں وہ اس کے دونوں بازو اپنے ہاتھوں میں قید کرتا اس کی گردن پر اپنے لب رکھ چکا تھا اور اب پھر وہ خاموش ہو گئی

اور یارم مزید مدہوش ہونے لگا تھوڑی دیر بعد اسے روح کی آواز سنائی دی تھی

بس ذرا سا مان کیا جاؤں بندہ بلکل فری ہو جاتا ہے ۔وہ نفی میں سر ہلاتی اس انداز میں بولی کی یارم قہقہ لگا اٹھا

یہ بندہ تو پہلے دن سے ہی تم پر فدا ہے اور فری ہونے کا تو حق حاصل ہے مجھے وہ کہتا ہوا اس بار اس کے لبوں کو اپنا نشانہ بنا چکا تھا

جب کہ وہ آہستہ سے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں سے نکال کر اس کے گرد لپٹ گئی

°°°°°

چھ ماہ گزر چکے تھے معصومہ نے ایک پیارے سے بیٹے کو جنم دیا جب کہ دو مہینے پہلے لیلی کے ہاں دو جڑواں بیٹی پیدا ہوئی تھی

جو لیلی کو تگنی کا ناچ نچا رہی تھی لیکن خضر اپنی بیٹیوں کو پا کر بے حد خوش تھا

اور آج معصومہ کے ہاں بھی ایک روشن ستارہ چمکا تھا

وہ ان کو مبارک باد دینے کے بعد ابھی ابھی گھر آئے تھے روح کا تو آنے کا ارادہ ہی نہیں تھا لیکن یارم کی گھوریوں نے اسے آنے پر مجبور کر دیا

یارم اب مجھے بےبی چاہیے سب کے پاس بےبی ہو چکا ہے بس ہمارا ہی نہیں ہے ہمارا کب آئے گا

وہ اس کے پیچھے پیچھے چلتی ہوئی معصومیت سے کہہ رہی تھی جبکہ شونو بھی قدم قدم ان کے ساتھ ہی آ رہا تھا

اور اس کے ہمارے بےبی کہنے پر اس نے بھونکتے ہوئے احساس دلایا کہ میں یہیں پر ہوں تمہارے ساتھ

لیکن اس بار روح کو اپنا بچہ چاہیے تھا کتے کا نہیں

میرا نہیں خیال کہ فی الحال تم ایک بچے کو ہینڈل کر سکتی ہو ایک بار لیلیٰ اور معصومہ کا ایکسپیرنس چیک کرو پھر ہم اپنے بچے کے بارے میں سوچیں گے ۔

وہ ہمیشہ والا جواب دیتا اپنے آفس روم میں بند ہو گیا مطلب اس وقت وہ کام کرنے والا تھا ۔اس سے اب رات کو ہی بات ہو گی

روح منہ بناتے کچن میں آگئی آج اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ ہر قیمت پر یا رم سے بات کرکے رہے گی

اسے اب اپنا بچہ چاہئے تھا کہ کسی بھی حال میں

°°°°°°

رات یارم کمرے میں آیا تو اس کا موڈ کافی خوشگوار تھا جس پروجیکٹ پر وہ کچھ عرصے سے کام کر رہا تھا آج وہ مکمل ہو گیا

اور اب وہ پھر سے روح کو کہیں گھومانے پھرانے لے کر جانے والا تھا

لیکن کمرے میں آتے ہی اسے ایک بار پھر سے بچے کی باتوں میں مصروف پایا وہ بھی ہنستے ہوئے اس کے پاس ہی بیٹھ گیا

آپ نے دیکھا شارف بھائی کا بچہ کتنامعصوم ہے اس کے ہاتھ کتنے چھوٹے چھوٹے ہیں ہمارے بچے کے بھی ایسے ہی ہوں گے نہ

آپ نے اسے ٹچ نہیں کیا یارم

اگر آپ نے اسے ٹچ کیا ہوتا نا تو اس لمس کو محسوس کرکے آپ کے اندر بھی اپنےبچے کی خواہش ضرور جاگتی

وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی آخر کب تک وہ بچوں کے بغیر رہنے کا ارادہ رکھتا تھا

سوئٹزر لینڈ میں تو وہ خود اس سے بچے کے بارے میں بات کر رہا تھا لیکن اب اچانک اسے ہوا کیا تھا

اسے اب بچہ کیوں نہیں چاہیے تھا وہ کیوں روح کو ان میچور کہتا تھا وہ کیوں کہتا تھا کہ وہ ایک بچہ سنبھال نہیں سکتی

میری بات غور سے سننا روح جب مجھے لگے گا کہ اب ہمارا بچا ہو جانا چاہیے تب ہو جائے گا لیکن فی الحال مجھے نہیں لگتا کہ تم ایک بچے کو سنبھال سکتی ہو سوتم ہماری زندگی پر غور کرو ہمارے بارے میں سوچو جب اللہ نے بچا دینا ہوا دے دے گا وہ اس کا چہرہ تھامیں بہت پیار سے بول رہا تھا

جبکہ اس کے جواب پروہ ناراض ہو کر کروٹ بدل گئی لیکن یارم نے اسے منانے کی کوشش بلکل نہیں کی تھی

ایک سال میں 2 میجر نروس بریک ڈاؤن جھیلنے کے بعد اس کی صحت اتنی اچھی نہیں تھی کہ وہ اس کی صحت پر بچے کا رسک لیتا

پہلی پریکنسی اور پھر مس کیریج کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے روح کی جان بھی جا سکتی تھی

بچے کی خواہش اپنی جگہ لیکن اسے روح سے زیادہ عزیز اور کچھ نہیں تھا اب اس کے لیے روح اسے غلط سمجھے یا صحیح اسے فرق نہیں پڑتا تھا اسے بس اپنی روح کی فکر تھی

جبکہ روح سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی کہ آخر یارم بچوں سے اس حد تک خار کیوں کھانے لگا ہے

°°°°°°

معصومہ اور لیلی کے بچے اہستہ آہستہ بڑے ہو رہے تھے

ان کی شرارتیں بھی بھرنے لگی تھی

ان کا زیادہ تر وقت روح کے ساتھ ہی گزرتا تھا

اس نے خود معصومہ اور لیلی سے کہا تھا کہ جب تک وہ کام پر ہوتی ہیں وہ اپنے بچے اس کے پاس چھوڑ سکتے ہیں

اور ایسا کرنے سے روح کا وقت بہت اچھا گزر رہا تھا

لیکن یارم کو لگ رہا تھا کہ اس طرح سے وہ احساس کمتری کا شکار ہو رہی ہے

اور آج تو لیلیٰ نے ایسی آگ لگائی تھی کہ اس نے بھی اسے خونخوار نگاہوں سے دیکھا تھا

لیلیٰ نے اس سے کہا تھا کہ اب تمہیں اور یارم کو بھی ایک بےبی پلان کر لینا چاہیے ۔

اور اس کے بعد یارم اور روح کی اچھی خاصی لڑائی ہوگئی تھی

وقت کو جیسا پر لگ گئے تھے دو دن کے بعد لیلیٰ کی بیٹیوں کی تیسری سالگرہ تھی ۔لیکن یارم کو اب تک یہ خیال نہیں آیا تھا کہ اب اسے اپنے بچے کے بارے میں سوچنا چاہیے

وہ اسے یہ بھی کہہ چکی تھی کہ وہ کوئی معصوم چھوٹی سی بچی نہیں ہے جو بچہ نہیں سنبھال سکتی

۔لیکن یارم کے تو اپنے ہی اصول تھے

اب تو وہ یارم کی اس فضول ضد سے بھی تنگ آ گئی تھی آخر وہ کیوں نہیں سمجھ رہا تھا کہ اس کے اندر ممتا کے احساس جاگ رہے تھے

ہر لڑکی کی طرح اس کے اندر بھی یہ خواہش پیدا ہو چکی تھی کہ اب اس کا بھی ایک بچہ ہونا چاہیے ۔لیکن یارم تو جیسے اس کے جذبات سمجھنے سے ہی قاصر تھا

°°°°°°