Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 52)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

دن پر دن گزرتے جا رہے تھے

لیلیٰ کو امریکہ گئے ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا لیکن ابھی تک بون میرو کا کوئی انتظام نہ ہو سکا ۔

وہ سب لوگ بہت پریشان تھے جہاں رویام کی زندگی پر سوال اٹھ رہا تھا وہی روح کی حالت بھی بہت خراب تھی

اس نے رو رو کر اپنا آپ بربادکر لیا تھا ۔کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا ہوگا اب رویام کو سانس کی تکلیف بھی ہونے لگی تھی

اس کے جسم میں خون نہ ہونے کے برابر ہو چکا تھا

آئے دن خون کی الٹیوں نے اس کی حالت حد درجہ خراب کردی تھی ۔وہ زیادہ دیر دوائیوں کے زہر اثر رہتا ۔ڈاکٹر زیادہ تر ایسے بے ہوش ہی رکھتے تھے

روح سے اپنے بچے کی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی

وہ تو ہنستا کھیلتا ہی سب کو اچھا لگتا تھا اس طرح سے ہروقت بیڈ پر لیٹا بے جان وجود تو وہ کبھی تصور بھی نہیں کر سکتے تھے

ہر وقت مشینوں میں جکڑا ننھا سا وجود کہاں یہ سب تکلیفیں سہہ سکتا تھا یا کہاں وہ یہ سب تکلیفیں سہنے کے قابل تھا ایک چھوٹا سا بچہ جو اپنا آپ تک نہیں سنبھال سکتا

اتنی بری بیماری میں دن رات گزار رہا تھا

تھوڑی دیر کے لئے ہوش آتا تو یارم سے لڑنے لگتا ۔کہ روح اس کی ہے ۔اور اسے ہوش میں دیکھ کر تو روح میں ہمت ہی نہ پیدا ہوتی ہے اس کے سامنے آنے کی

جب دو تین باتیں کرنے کے بعد وہ یہ کہتا کہ اسے درد ہے تو وہ دونوں تڑپ اٹھتے

وہ کیسے اس تکلیف سے آزاد کرتے

کیسے اسے زندگی کی طرف لاتے

آخر ایسا کیا کرتے کہ وہ بالکل ٹھیک ہو جائے انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا تھا

اس کے درد سے بلکتے وجود کو دیکھ کر وہ دونوں اندر ہی اندر مر رہے تھے لیکن اس کے باوجود بھی وہ کچھ نہیں کر پا رہے تھے ۔

لیلیٰ نے کوئی جگہ نہ چھوڑی تھی معصومہ روس سے سیدھا اٹلی چلی گئی ۔لیکن یہاں بھی اسے کچھ حاصل نہ ہوا

لیلیٰ نے یارم کو یہی کہا تھا کہ وہ درک سے گن پوائنٹ پر بون میرو حاصل کرلیں گے اپنی زندگی تو سب کو عزیز ہے ۔

لیکن درک کے بارے میں سب کچھ جاننے کے بعد انہیں یہ پتہ چلا تھا کہ اس کے لیے سب سے زیادہ عزیز پری نامی ایک لڑکی ہے جو اس کی بیوی ہے

وہ اس کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے لیلیٰ نے آئیڈیا دیا تھا کہ کیونکہ وہ پری کو ہی غائب کر دے جب اس کے پاس کوئی راستہ نہیں بچے گا تو وہ رویام کو بون میرو دے کر اس کی زندگی بچا لے گا

لیکن یار م نے ایسا کرنے سے بھی منع کر دیا تھا

اس نے بس اتنا ہی کہا تھا کہ اگر اس کے بیٹے کے نصیب میں زندگی ہوئی تو مل جائے گی وہ کسی قسم کا کوئی غلط راستہ نہیں اپنائیں گے

لیلیٰ کو اس کی ضد بہت بری لگ رہی تھی اسے لگ رہا تھا کہ یارم اوور ریکٹ کر رہا ہے

اگر سیدھا راستہ ہی اپنانا ہے تو جا کر درک کے سامنے جھک کر اپنے بیٹے کی زندگی مانگے اسے یوں مرنے کیوں دے رہا ہے

اگر وہ کوئی غلط راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتا کوئی غلط کام نہیں کرنا چاہتا سیدھے اور صاف ستھرے طریقے سے رویام کو بچانا چاہتا ہے تو اس سے زیادہ اور سیدھا طریقہ کونسا تھا جس سے رویام کی زندگی بچائی جا سکتی تھی ۔اگر وہ ٹھیک طریقے سے ہی سب کچھ کرنا چاہتا تھا۔تو درک خود اسے راستہ بتا رہا تھا

جھک جائے اس کے سامنے اور لے لے اپنے بیٹے کی زندگی لیکن نہیں وہ جھکنے کو تیار نہیں تھا اسے تو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ روح خاموش کیوں ہے

آخر وہ یارم کو کیوں نہیں پوچھ رہی کہ اسے اپنے بیٹے کی جان عزیز نہیں

کیسی ماں ہے وہ جو اپنی ممتا کی خاطر شوہر کے سامنے ڈٹ نہیں سکتی ۔وہ یارم سے اپنے بچے کی زندگی کے لئے ضد نہیں کر سکتی ۔

وہ کیوں یارم کو یہ بے جاضد چھوڑنے کے لئے مجبور نہیں کر رہی ۔

اگر یارم کی جگہ خضر ہوتا تو وہ کب کا اسے منا چکی ہوتی سہی غلط دیکھنے کی بجائے اس وقت درک سے زبردستی بون میرو حاصل کر لیتی

لیکن یہ اپنی اولاد کو زندگی اور موت میں جلتا نہ دیکھتی

لیکن وہ لیلیٰ تھی جو جذبات میں آکر سوچتی تھی جذبات میں آکر قدم اٹھاتی تھی

اور دوسری طرف یارم کاظمی تھا۔

جوہر کام وقت پر اور صحیح طریقے سے کرتا تھا لیکن لیلیٰ کے مطابق اپنے بیٹے کے لئے وہ کچھ نہیں کر رہا تھا سوائے ضدکے

وہ کہتا تھا کہ اسے اپنے بیٹے سے بے پناہ محبت ہے لیکن یہ کیسی محبت تھی جو اسے اپنی اولاد کے لیے کسی کے سامنے جھکنے نہیں دے رہی تھی

وہ ہر ممکن طریقے سے بون میرو کی تلاش کر رہی تھی لیکن یارم سے اندر ہی اندر بری طرح سے خفا ہو گئی تھی

اس کا ماننا تھا کہ اللہ کسی نہ کسی کو وسیلہ بنا کر بھیجتا ہے

اوردرک کو اسی نے وسیلہ بنا کر ان کے لیے بھیجا تھا ۔صر ف درک ہی اس کی جان بچا سکتا تھا ۔لیکن یارم کی اکڑکی وجہ سے آج وہ اپنا بیٹا کھونے جارہا تھا لیلیٰ سے یہی بات سمجھا نہیں پا رہی تھی

کیونکہ یارم کا کہنا تھا کہ اگر اللہ نے درک کو وسیلہ بنا کر بھیجا ہے تو وہ اسے اپنے سامنے جھکانہ کیوں چاہتاہے صرف ایک ذرا سی ضد کی خاطر وہ ایک بچے کی جان مشکل میں ڈال رہا ہے

یار م کا کہنا تھا کہ وہ کسی قسم کی کوئی ضد نہیں کر رہا

اسے بس اپنے اللہ پر یقین ہے

اور وہ جانتا ہے کہ اس کا اللہ اسے کسی اور کے سامنے جھکنے نہیں دے گا

ڈھائی سال پہلے اس نے رویام کی پیدائش پر ناشکری کی تھی جس کی معافی وہ آج بھی اللہ سے مانگتا تھا ۔

اور یارم نے قسم کھائی تھی اس غلطی کے بعد اب دوبارہ کبھی کوئی غلطی نہیں کرے گا ۔

وہ ایک بار ناشکری کرکے اپنے اللہ کو خفا کر چکا ہے اب شرک کر کے کبھی دوبارہ اپنے اللہ سے دور نہیں ہو گا

°°°°°°

پچھلے پانچ دن سے رویام ہسپتال میں ہی تھا ۔

بےشمار مشینوں میں جھڑا پتہ نہیں کس حال میں تھا وہ اسے دیکھ تو سکتے تھے لیکن اس کی تکلیف کو محسوس نہیں کرسکتے

اسے تھوڑی دیر کے لئے ہوش آتا تو ماما بابا شونو بس یہی کچھ نام پکارتا رہتا

وہ دونوں بھی ہسپتال میں رہتے تھے ۔روح کو زبردستی لیلیٰ کے ساتھ گھر بھیج دیتا تھا کیونکہ آج کل اس کی اپنی طبیعت بہت خراب رہنے لگی تھی

سب کچھ ہینڈل کرنا اس کے لیے بھی مشکل تھا لیکن اسے یقین تھا کہ کہیں نہ کہیں سے کوئی نہ کوئی طریقہ نکل ہی آئے گا

اب تو صارم بھی جتنا ہو سکے اتنی کوشش کر رہا تھا

لیکن یہ آسان نہیں تھا ۔رویام کے بون میرو سے کسی کا بون میرو سرے سے میچ ہی نہیں کر رہا تھا

ایک آدمی کا بون میرو اس کے ساتھ 35پرسنٹ تک میچ ہوا

لیکن اس آپریشن میں جان جانے کا زیادہ خطرہ تھا ۔اس شخص نے کہا تھا کہ اگر اس کی جان چلی بھی جائے تو افسوس نہیں بس اس کی فیملی کو اتنی رقم دے دی جائے کہ کہ وہ آسانی سے دو وقت کا کھانا کھا سکے

اس کی مجبوری کو سمجھتے ہوئے یارم سے جتنا ہو سکا اتنی مدد کر دی لیکن اس نے آپریشن کروانے سے انکار کر دیا

وہ اپنے بچے کے لیے کسی کی زندگی کا سہارا چھین نہیں سکتا تھا ۔سب نے اسے سمجھایا کہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اسے سب سے پہلے رویام کے لئے سوچنا چاہیے بعد میں کسی اور کے لئے

لیکن یارم نے کہا کہ رویام تو اللہ کا دیا ہوا تحفہ ہے اسے اللہ ہی بچائے گا لیکن جس شخص کے لئے اللہ نے مدد کے لئے یارم کو چنا ہے وہ اس کے لئے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا

شارف اور خضر کے پاس تو ابھی بھی بس یہی ایڈیا تھا درک کو پکڑو اور زبردستی کر لو وہ جب ہر طرف سے ہار کر واپس آتے تو ان کے پاس ایک ہی راستہ ہوتا جس کے لئے اب وہ یارم سے بھی لرنے لگے تھے

جیسے جیسے رویام کی حالت خراب ہو رہی تھی وہ یارم کے ڈر سے نکل کر اس پر رویام کی حالت کو ظاہر کرنے لگے تھے یہ جانے بغیر کہ اپنے بیٹے کو اس حال میں دیکھ کر وہ خود کتنی تکلیف میں ہے

خضر نے تو یہ تک کہہ دیا تھا کہ وہ پتھر دل ہے اسے رویام کی تکلیف کا احساس نہیں یارم بس مسکرا کر خاموش ہو گیا اس کے علاوہ کر ھی کیا سکتا تھا ۔

کیونکہ اپنا دل چیڑ کر تو وہ کسی کے سامنے کھول نہیں سکتا تھا اسی لئے خاموشی سے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا

°°°°

بابا دد اے۔(بابا درد ہے)۔وہ اپنے پیٹ پر ننھاسا ہاتھ رکھے مسلسل روتے ہوئے اسے بتا رہا تھا

بیٹا ابھی ڈاکٹر انجکشن لگائے گا نہ تو سارا درد بھاگ جائے گا

بس میری جان اب رونا نہیں

میرا بچہ تو بہت بہادر ھے ایک دم شیر جوان جیسا

اگر میرا بچہ ماما کے سامنے روئے گا تو ماما بھی روئے گی ۔تو پھررویام اپنی مما کو روتے ہوئے کیسے دیکھے گا کیونکہ رویام تو اپنی مما سے بہت پیار کرتا ہے

اور رویام کی مما جب سیڈ ہوگی ےو رویام بھی سیٹ ہو جائے گا نہ ۔۔۔؟وہ اسے بہلانے کی کوشش کر رہا تھا

اب دو ئیا ں زیادہ اثر کر رہی تھی وہ زیادہ وقت سو کر یا بے ہوش ہو کر گزارتا تھا بیچ بیچ میں ہوش آتا تو اسے اپنے تینوں فیملی ممبر سے ملنا تھا

اسے ہوش آتے دیکھ خضر فورا ہی روح اور شونو کو لینے چلا گیا جب کہ یارم اس کے پاس بیٹھا اسے آہستہ آہستہ بہلا رہا تھا ۔

ریام نی نوئے دا ۔ریام شیڈ بی نی ہو دا۔لیتن ریام تو دد اے ۔ریام تو نونا آ لا ہے ۔(رویام نہیں روئے گا ۔رویام سیڈ بھی نہیں ہوگا ۔لیکن پھر بھی رویام کو درد ہے ۔رویام کو رونا آ رہا ہے) وہ اداس سی شکل بنا کر بتانے لگا یارم نے آہستہ سے اس کا ننھا سا ہاتھ پیٹ سے اٹھا کر چوما

میرا بچہ بالکل ٹھیک ہو جائے گا

لتین ریام تو دد او را اے بت دد ہو لا اے بابا۔ریام ماماتے آنے شے پلے نولے دا (لیکن رویام ٹھیک نہیں ہو رہا بہت زیادہ درد ہے بابا۔رویا ماما کے آنے سے پہلے رولے گا ) ۔اس بار وہ اپنا صبر کھو کر رونے لگا تو یارم نے اسے اٹھا کر اپنی باہوں میں بھیج لیا

یا اللہ میرا امتحان لے ۔لیکن میرے بچے کو میرے گناہوں کی سزا نہ دے ۔اس کی ننھی سی جان سے میری جان بدل دے ۔اس کے درد کو میرے جسم میں منتقل کر دے ۔

اس کی تکلیف برداشت کرنا میرے بس سے باہر ہے ۔وہ اس کے بلکتے ہوئے وجود کو اپنے سینے سے لگائے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اللہ سے بولا

جو دنیا کا پہلا اور آخری سہارا تھا ۔

تھوڑی ہی دیر میں روح آگئی تھی ۔

رویام نے فوراً اپنے ننھے ہاتھوں سے اپنا چہرہ صاف کیا ۔نرس نے اسے جو انجکشن دیا تھا اس کا اچھا اثر ہوا ۔اس کا تکلیف سے بلکتا وجود اب نارمل حالت میں آ چکا تھا

لیکن تکلیف اب بھی بے حد تھی یہ وہ سب ہی جانتے تھے

لیکن رویام پنی ماں کے سامنے روتا نہیں تھا

شاید وہ اچھے سے سمجھتا تھا کہ اس کی ماں اسے کتنا چاہتی ہے اس کی تکلیف اس کے لیے کیا ہے

اسے اپنے سینے سے لگائے روح کو قرار آیا

جبکہ شونو وہیں دروازے پر اداس سا بیٹھ گیا ۔لیکن رویام کے اشارے پر فوراً بھاگ کر اس کے پاس آ گیا ۔

تھونومیلا بتہ میلی ماما تا کیال رتنا ۔اے ڈاٹکرانکر مدے در نی دانے لے میلی ماما تو شیڈ نی اونے دینا دب اے پھیور تر دائے دا نہ تب می ال تم بت شالاتھیلے دے ۔ال می تمی روج نہلاو دااتنے گندے اوگے او تم ۔گندا بتہ

(شونو میرا بچہ میری ماما کا خیال رکھنا یہ ڈاکٹر انکل مجھے گھر نہیں آنے دے رہے میرا میری ماما کو سیڈ نہیں ہونے دینا ۔جب یہ فیور اتر جائے گا نہ جب میں اور تم بہت سارا کھیل لیں گے ۔اور میں تمہیں روزنلاؤنگا کتنے گندے ہو گئےہو گندا بچہ )وہ بہت معصومیت سے بول رہا تھا ۔جبکہ شونوبے حد اداس تھا اس کے پاس پڑا تھا جیسے اس کی تکلیف کا اندازہ اس سے بھی ہو

روح نے یارم سے بہت ضد کی رات رکھنے کی لیکن یارم نے انکار کرکے گھر بھیج دیا اس کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں تھی وہ نہیں چاہتا تھا کہ رویام کی حالت دیکھ کر وہ اپنی طبیعت اور خراب کرے پہلے ہی وہ ذہنی طور پر بیمار ہو چکی تھی یارم کے ذرا سی سختی کرنے پر وہ گھر چلی گئی

لیکن دل و دماغ یہیں پر تھا

°°°°°°

رات کے دو بج رہے تھے رویام ایک بار پھر سے گہری نیند اتر چکا تھا ۔

تین چار دن سے مسلسل نائٹ ڈیوٹی کرنے کی وجہ سے حسن بھی آج گھر گیا تھا

ہسپتال تقریبا خالی پڑا تھا بہت کم لوگ تھے یہاں بہت کم مریض تھے ۔کیونکہ یہ بلڈ پیشنٹ کا ہسپتال تھا اس لیے مریضوں کی آمدورفت بہت کم تھی

یہاں صرف تین ہی سپیشلسٹ ڈاکٹر ہر وقت موجود ہوتے تھے ۔جو اس ہسپتال میں آنے والے پیشنٹز کا علاج کرتے تھے

باقی نرسز ووڈ بوائز اور چند مریض ۔

وہ ہر چیز کو بھولئے اپنے بچے کے معصوم نقوش میں کھویا اسے دیکھ رہا تھا

اسے خضر کی بات یاد آئی آج دوپہر میں اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کیسے اس کے دل پر وار کر کے اس نے کہا تھا کہ شاید اب زیادہ دن تک وہ یہ چہرہ دیکھ نہیں پائے گا

اس بے اختیار ہی رویام کی جانب نظریں اٹھائی تھیں وہ رونا نہیں چاہتا تھا نہ ہی وہ کمزور تھا ۔

لیکن شاید ہی اس دنیا میں اولاد کو کھونے سے بڑی اور کوئی تکلیف ہو سکتی تھی اس کی آنکھوں سے آنسو کب گرا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا

بس بتا تھا تو اتنا کہ وہ اپنی اولاد کو کھونا نہیں چاہتا ۔

نہ جانے کس کی بددعا لگی تھی اس کے معصوم بچے کو ۔

وہ خاموشی سے رویام کے قریب سے اٹھ کر جا نماز بچھاتا تہجد کے نوافل ادا کرنے لگا

وہ دن رات سوچتا تھا کہ ایسی کون سی غلطی ہوگئی تھی اس سے جس کی سزا اسے رویام کی اس بیماری کے روپ میں مل رہی تھی وہ تو ہمیشہ سے اچھے کام کرتا آیا تھا اس نے تو کبھی ایسا کام نہیں کیا تھا جس کی سزا سے اتنے بیانک روپ میں ملیں

تو پھر اس کے بچے کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا تھا کیا اللہ اسے امتحان لے رہا تھا

اگر ہاں تو یہ امتحان اتنا تکلیف دہ کیوں تھا

وہ کیوں اتنا بے بس تھا

دنیا کے آٹھ بڑے ممالک میں اسے اپنے بیٹے کے لیے ایک بون میرو ٹرانسفرمیشن نہ ملا ۔اتنی بڑی دنیا میں کیا کوئی نہیں تھا اس کی مدد کر سکے اس کے بیٹے کو بچا سکے ۔

یا اللہ میری مدد کر ۔مجھ میں نہیں حوصلہ اپنے بچے کو مرتے دیکھنے کا ۔اگر اسے کچھ ہوگیا تو روح بھی مر جائے گی ۔اور ان دونوں کے بغیر میں کیسے جیوں گا ۔

وہ کب سے جا نماز پر بیٹھا مسلسل دعائیں کر رہا تھا

کیوں کہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کر پا رہا تھا ۔

نوافل ادا کرکے وہ اٹھ کر ایک بار پھر سے رویام کے قریب جانے لگا جب باہر سے شور کی آواز آئی

اتنے شور کو سن کر وہ کمرے سے باہر نکلتے ہوئے رویام کے کمرے کو بند کر چکا تھا

تقریبا پچاس سال کا آدمی تھا جو بہت شور مچا رہا تھا

°°°°°°

بی بی کو بچا لو اگر انہیں کچھ ہوگیا تو صاحب مجھے جان سے مار ڈالیں گے وہ ان کے لیے مجھے چھوڑ کر گئے تھے اگران کو کچھ ہوگیا تو میں بھی زندہ نہی بچاوں گا

کوئی بی بی کو بچا لو وہ اونچی آواز میں چلا رہا تھا

ہم کوشش کر رہے ہیں۔لیکن ہم سٹور ہوا بلڈ نہیں دے سکتے ان کے جسم کا سارا خون جم چکا ہے اگر ہم نے سٹور ہوا ہونا ان کے جسم میں ٹرانسفر کیا ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت لگے گا ان کی موت ہونے میں

ہمیں خون کا انتظام کرنا ہو گا آپ تھوڑا صبر کریں اس کے چلانے پر نرس نے سمجھاتے ہوئے کہا

ہر کوئی کسی نہ کسی کو فون کر رہا تھا ڈاکٹر نرس ہر کوئی مصروف تھا یقینا یہ کیس بہت برا تھا

وہ لوگ ہسپتال میں موجود سٹور ہوا خون استعمال نہیں کر سکتے تھے ۔نہ جانے اس لڑکی کو کیا بیماری تھی ۔کہ اس کے جسم کا سارا خون جم چکا تھا ۔اس سے اسی وقت خون کی ضرورت تھی

اگر اس کے رگوں میں اگر خون نہ اترتا تو وہ مر سکتی تھی ۔

اس نے ایک نرس سے پتا نہیں کیا سوچ کر لڑکی کی کنڈیشن پوچھی تو اس نے یہی ساری بات یارم کو بتا دیں

آپ کو کون سے بلڈ کی ضرورت ہے یارم نے پوچھا

بی پوزیٹو ۔نرس نے کہا

یہ تو بہت نارمل بلڈ ہے جو کہیں سے بھی مل سکتا ہے آپ لوگ اتنا پریشان کیوں ہو رہے ہیں یارم حیران ہوا تھا

جی سر یہ نارمل بلڈ ہے لیکن ہسپتال میں موجود دو نرس دونوں کا بلڈ گروپ اے پوزیٹیو ہے جب کہ وارڈ بوائے کا اے بی پوزیٹو

اور لڑکی کی کنڈیشن اتنی خراب ہے کہ ہم اسے آے بی نہیں لگا سکتے ہمیں ابھی اس سے میچنگ بلڈ ہی چاہیے وہ بھی بالکل فریش ۔اس لڑکی کا خون جم چکا ہے ہم سٹور ہوا خون استعمال نہیں کر سکتے

میرا بلڈ بی پوزیٹو ہے اگر میرا خون لگتا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔اب اپنے بیٹے کے صدقے کے لیے وہ اتنا تو کرہی سکتا تھا

سر پلیز آپ جلدی سے روم میں چلے ۔پلیز اس لڑکی کی جان خطرے میں ہے ۔نرس ایک تا شکر نظر اس پر ڈالتی ڈاکٹر کو بتانے بھاگ چکی تھی

جب کہ یارم اس پچاس سالہ آدمی کو اپنے بیٹے کا خیال رکھنے کا کہتا خون دینے کے لیے اندر جا چکا تھا

°°°°°°