Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 21)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

ایک سال کے اندر دو اتنے میجر نروس بریک ڈاؤن کے بعد بھی زندہ ہیں

یہ کسی مجزے سے کم نہیں لیکن زیادہ امید مت رکھیں ابھی بھی ان کی جان خطرے میں ہے

کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے میں کوئی گرنٹی نہیں دیتا

اس لڑکی کی زندگی سوکھے پتے کی طرح ہے اور ایک ہوا کا جھونکا اسے موت کی آغوش میں لے جائے گا

ایک ذرا سا جھٹکا بھی اس سے اس کی سانسیں چھین سکتا ہے

آج اسے 16 دن کے بعد ہوش آیا ہے

لیکن آپ لوگوں کی ذرا سی لاپرواہی سے ایک بار پھر سے موت کے منہ میں لے جا سکتی ہے

فی الحال میں آپ لوگوں کو یہی سیجیشن دونگا کہ اسے ہسپتال میں ہی رہنے دیں

کیونکہ ابھی کچھ بھی ہو سکتا ہے

ٹینشن ذدہ ماحول میں اس کی طبیعت بگڑبھی سکتی ہے

اور جہاں تک اس کی حالت نظر آرہی ہے میرا نہیں خیال کہ آپ لوگ اس کا بہتر طریقے سے خیال رکھ پائیں گے

آگے آپ لوگوں کی مرضی آپ جو فیصلہ کریں فی الحال وہ ہوش میں تو آج کی ہے لیکن ہوش کی دنیا سے بیگانہ ہے

اس کے آگے پیچھے کیا ہو رہا ہے فی الحال تو اسےکچھ بھی سمجھ نہیں پا رہی

دوائوں کا بھی بے حد اثر ہے اسی لئے ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے میں یہی کہوں گا کہ اگر اس کی جان عزیز ہے تو اس کے سامنے ایسی کوئی بھی بات نہ کریں جس سے وہ ٹینشن لے

ڈاکٹر اپنی بات مکمل کرتے ہیں وہاں سے چلا گیا جب کہ خضر اور شارف ایک بارھر سے اس بینچ پر بیٹھے تھے جہاں ڈاکٹر کے آنے سے پہلے بیٹھے تھے

کل رات تقریبا دو بجے روح کو ہوش آیا

ان کی سانس میں جیسے سانس آئی تھی ۔

لیکن اب ڈاکٹر کے خطرناک باتیں سن کر وہ پھر سے ٹینشن میں آ چکے تھے

خضر بے حد پریشان تھا جبکہ شارف کی آنکھیں نم تھیں وہ اسے دیکھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دلاسہ دینے لگا

کیوں خضر یارم اور روح کی زندگی کی خوشیوں کا ٹائم پیریڈ اتنا کم کیوں ہے

سب ٹھیک ہوتا ہے پھر کچھ نہ کچھ ایسا ہو جاتا ہے کہ سب برباد ہونے لگتا ہے اور اس بار تو سب برباد ہو گیا

روح کی حالت دیکھی نہیں جا رہی اور یارم ۔۔۔۔۔۔۔

شارف پھوٹ پھوٹ کر روتا خصر کے سینے سے لگ چکا تھا

اللہ پر بھروسہ رکھو شارف سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ان شاءاللہ

اور یوں ناامیدی کی باتیں نہ کرو ابھی تو ہم نے روح کا بھی سامنا کرنا ہے ذرا سوچو جب سے سب پتہ چلے گا یارم کے بارے میں وہ کیسے برداشت کرے گی

ہمیں صبر سے کام لینا ہوگا

اگر ہم ہی ہمت ہار جائیں گے تو اسے کون سنبھالے گا

یہ تو خدا کا شکر ہے کہ فی الحال وہ دوائیوں کے زیر اثر ہے جب وہ ہوش میں آئے گی تب ہزار سوال کرے گی اور ہمارے پاس کسی سوال کا کوئی جواب نہیں ہوگا

وہ شارف کو سمجھاتے ہوئے بولا جب نظر سامنے سے آتےاس لڑکے پر پڑی اس کے ساتھ ایک پیاری سی لڑکی بھی تھی

°°°°°°

کیسی ہے وہ ۔۔۔۔؟وہ خضر کے سامنے کھڑا پوچھنے لگا

ان شاءاللہ ٹھیک ہو جائے گی ہم سنبھال لیں گے تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں وہ بہت روکھے سوکھے لہجے میں بولا تھا

یقینا ٹھیک ہو جائے گی ۔۔ڈاکٹر کیا کہتے ہیں وہ اس کے لہجے کو نظر انداز کرتا پھر سے پوچھنے لگا

درک میں ہزار بار تو میں سمجھا چکا ہوں ۔اب آخری بار کہہ رہا ہوں کہ اس سے تمہارا کوئی واسطہ نہیں ہے دور رہو اس سے

تم نے ہماری مدد کی ہم تمہارے شکر گزار ہیں

لیکن اب ہمیں تمہاری مزید کوئی مدد نہیں چاہیے سوپلیز روح سے دور رہو وہ سخت لہجے میں بولا

تم مجھے روکنے کا کوئی حق نہیں رکھتے خضر ۔

اور ویسے بھی میں اس سے کوئی تعلق جوڑنے یا رشتہ قائم کرنے نہیں آیا میں بس اس کا حال جاننے آیا ہوں ۔اس بار وہ بھی ذرا سختی سے بولا

وہ ٹھیک ہے اور ان شاءاللہ بلکل ٹھیک ہو جائے گی ہم سب آپ کے ساتھ ہیں ہم اس کی فیملی ہیں ہم اس کا خیال رکھ لیں گے تمہاری ضرورت نہیں ہے ہمیں وہ چبا چبا کر بولا

مجھے پتہ چلا ہے کہ اسے ہوش آیا ہے میں ایک بار اسے دیکھنا چاہتا ہوں

میں تمہیں اس سے دور رہنے کے لیے کہہ رہا ہوں اتنی سی بات تمھیں سمجھ کیوں نہیں آ رہی اس بار خضر کا لہجہ تیز ہوا تھا

میں اسے دور سے دیکھ کر چلا جاؤں گا ۔اس سے ملنے کی خواہش کا اظہار نہیں صرف دیکھنے کی بات کی ہے میں نے

اس کے انداز نے درک کو اچھا خاصہ غصہ دلادیا تھا

خضر اسے سمجھانے کے لئے آگے بڑھا تو شارف نے اسے روک دیا

ٹھیک ہے تم اسے دیکھ سکتے ہو لیکن اندر مت جانا باہر سے ہی دیکھ کر واپس چلے جاؤ

کیونکہ ہم پہلے ہی بہت پریشان ہیں روح کے سوالوں کا اور جواب نہیں دے سکتے ۔شارف نے خضرکو روکتے ہوئے اس سے کہا تو وہ ہاں میں سر ہلاتا روک کے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا ۔

اس نے دیکھا وہ ہوش میں تھی

لیکن پھر بھی اسے کسی چیز کا ہوش نہیں تھا بس آنکھیں کھولے چھت کو گھورے جا رہی تھی

ایک نروس بریک ڈاؤن سے انسان کی جان چلی جاتی ہے لیکن اس نے ایک ہی سال میں 2 میجر نروس بریک ڈاؤن اپنی ننھی سی جان پر جھیل لیے تھے

یارم کی حال دیکھتے ہی وہ دماغی طور پر بالکل بے جان ہو چکی تھی

اس کا یارم اس کے سامنے دم توڑ رہا تھا

آہستہ آہستہ یارم کی آنکھیں بند ہو گئی تھی اور اس کے ساتھ ہی روح بھی ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے ہی یارم کو مرتے دیکھا تھا

وہ منظر یاد آتے ہی جیسے وہ ہوش کی دنیا میں آئی تھی وہ ایک دم اوف کنٹرول ہوتی چیخنے چلانے لگی جس پر روک تیزی سے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا

°°°°°°°

یارم۔۔۔۔۔۔یارم ۔۔۔۔وہ لوگ مار رہے ہیں

کوئی بچاو ۔۔۔۔میرے یارم کو بچاو۔۔۔

مت مارو ۔۔۔۔مت مارو ۔۔۔میرے یارم کو بچاو

ماموں۔۔۔ ۔ ماموں میرے یارم ۔۔۔۔شارف بھائی۔۔۔میرے یارم کو بچا لیں

یارم نہیں مت ماروووو۔

یارم۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی آواز پورے ہسپتال میں گھونج رہی تھی وہ پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی چلا رہی تھی

ڈاکٹر تیزی سے کمرے کی طرف آیا

اور اس کے پیچھے ہی نرس انجیکشن لیے آ رہی تھی

کنٹرول کرو ان کو ابھی انجیکشن دینا ہوگا وہ عربی میں کہتا تیز تیز روح کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا

جب درک نے غصے سے اسے دھکا دیا

خبردار جو تم نے اسے انجکشن دیا ابھی اسے ہوش میں آئے ہوئے وقت ہی کتنا ہوا ہے

کہ تم اس سے ایک بار پھر سے اس اندھیرے میں بھیجنا چاہتے ہو

ڈاکٹر کو دھکا دے کر وہ انتہائی غصے سے بولا تھا جبکہ ڈاکٹر پریشانی سے اسے دیکھنے لگا

یہ بہت ضروری ہے سرورنہ ان کی حالت بگڑ جائے گی

اس طرح سے یہ ٹھیک نہیں ہو سکتی

ہمیں انجیکشن دے لینے دیجئے اگر یہ ہوش میں رہیں تو وہ ساری چیزیں یاد کرکے ایک پل پھر سے اپنی جان کو خطرے میں ڈال لیں گی

ڈاکٹر نے اسے سمجھانا چاہا

خبردار جو تم اس کے پاس بھی لے کر آئے

کوئی انجیکشن نہیں لگے کا روح کو وہ اسے دور کرتے ہوئے کہنے لگا

تو کیا آپ کے پاس ان کے سوالوں کا جواب ہے کیا آپ انہیں کنٹرول کر سکتے ہیں بنا انجیکشن کے ڈاکٹر جیسے اسے چیلنج کر رہا تھا

ڈاکٹر اس آدمی کا دماغ خراب ہے پلیز آپ اپنا کام کریں کمرے کے اندر آتے تھے خضر نے روح کے دونوں ہاتھ تھامے تھے

اور ساتھ ہی درک کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر کو مخاطب کیا

میرا دماغ خراب ہے ۔تو خراب نہیں رہنے دو لیکن خبردار جو کسی نے روحی کی طرف قدم بھی بڑھایا

وہ خضر کو دیکھتے ہوئے غصے سے بولا

کیا تم اسے مارنا چاہتے ہو ۔ہاں تمہارے لیے یہ مشکل تھوڑی ہو گا آخر اپنے باپ کو بھی تم نے مارا تھا ۔جان لینا تو تمہارے لئے بہت آسان ہے نا خضر ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا لیکن درک نے اس کی بات کا کوئی اثر نہیں لیا تھا

اس کے ذہن پر اس وقت اس کا شوہر سوار ہے خضر صاحب

اور اس کا شوہر مر چکا ہے یہ سوچ ہی اس کی جان لے لے گی ۔

اس کے حواس پر اس کے ہوش پر صرف اور صرف اس کے شوہر کا قبضہ ہے وہ اپنے شوہر کے علاوہ اور کچھ نہیں سوچتی

اور آپ کو جو یہ غلط فہمی ہے کہ یہ بے ہوش ہو جائے گی تو زندہ بچی رہے گی دور کر لے

کیونکہ یار م کاظمی روح کی روح میں بستا ہے ۔یارم کی سانس بند ہوچکی ہے یہ سوچ ہی اس کی دھڑکن روک دے گی

اگر یقین نہ آئے تو آزما کر دیکھ لو وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال تا اسے روح کی زندگی پر بازی کھیلنے کی دعوت دے رہا تھا

جبکہ ڈاکٹر ان دونوں کی بحث کو دیکھ رہا تھا ۔

انجیکشن لگانا ہے یا نہیں ڈاکٹر نے پھر پوچھا کیونکہ روح مسلسل چلا رہی تھی

نہیں ۔۔۔۔وہ ان حالات کا مقابلہ کرے گی ۔ڈر کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند نہیں کرے گی وہ ڈاکٹر کو کہتا ایک نظر خضر کی طرف دیکھ کر جتلا گیا تھا

جبکہ حضر خاموش ہو چکا تھا

چیختی چلاتی روح کی جانب بڑھا

ماموں۔۔۔میرے یار م۔۔۔۔۔۔کو بچاو۔۔۔۔۔شارف بھائی ۔۔۔۔۔۔۔میرے یارم۔۔۔۔۔۔۔ماموں میرے یارم

وہ ۔ لائے جا رہی تھی

کوئی بھی اسے کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا

چپ۔۔۔۔۔در اس کے پاس آ کر سخت لہجے میں بولا۔

میرے یارم۔۔۔۔۔۔وہ سسکتی ہوئی بولی

ماموں۔۔۔۔میرے یارم۔۔۔۔۔۔

میں نے کہا اک دم چپ

۔اب تم ایک لفظ بھی نہیں بولو گی سجمھی۔۔۔وہ سخت لہجہ اپنائے ہوئے تھا

خوشی بھی پریشان تھی۔

میرے یارم کو بچاو ۔۔۔۔۔۔ وہ مار رہے ہیں میرے یارم کو۔۔۔۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی اس سے التجا کر رہی تھی۔

جب درک نے آگے بھر کر اسے اپنے سینے میں چھپایا ۔

اس کی حالت پر شارف کے ساتھ ایک پہلی بار خضر کی آنکھیں بھی نم ہو گئی

روح میری بات کو غور سے سنو اور سمجھو بھی وہ اسے خاموش کرواتا اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے کہنے لگا

جو بھی ہوا بہت برا ہوا یارم پر اس کے دشمنوں نے حملہ کیا تھا

لیکن تمہیں مضبوط بنانا ہوگا تمہیں ان حالات کا مقابلہ کرنا ہو گا یارم کے بغیر تمہیں ہمت سے کام لینا ہوگا ۔

وہ آہستہ آہستہ اسے سمجھا رہا تھا جبکہ روح خالی خالی نظروں سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی اور اب اس کے الفاظ پر جیسے الجھ کر رہ گئی

یارم کے بغیر ۔۔۔۔۔۔

مطلب وہ سچ میں اسے چھوڑ کر جا چکا تھا

نہیں ۔۔۔۔میرے یارم کہاں ہیں۔۔۔۔۔

مجھے میرے یارم کے پاس جانا ہے۔۔۔

مجھے نہیں رہنا اپنے یارم کے بنا۔۔۔

ماموں۔۔۔۔شارف بھائی میرے یارم

یہ آدمی مجھے میرے یارم لے بغیر رہنے کا کیوں بول رہا ہے ۔

اور درک سے الگ ہوتے اسے دھکے دینے لگی

شارف میں ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ روح کے قریب جاتا ہاں لیکن خضر ہمت کر کے اس کے پاس آیا اور اسے تھام کر اپنے سینے سے لگا لیا

سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا

میں وعدہ کرتا ہوں تم سے روح میں سب ٹھیک کردوں گا

تمہارا ماموں ہے نہ بس تھوڑا سا صبر کر جاؤ وہ اسے دلاسا دیتے ہوئے بول رہا تھا لیکن روح کے دل و دماغ پر بس ایک ہی سوچ سوار تھی کہ اس کا یارم اسے چھوڑ کر چلا گیا

کیا سب کچھ ختم ہوگیا کیا ۔۔۔۔میرے یارم نہیں رہے ۔۔۔۔۔

اللہ نہ کرے کیا بکو اس کر رہی ہوں میں جانتی ہوں مجھے تنگ کر رہے ہوں گے میں انہیں بہت ستاتی ہوں نا میں وعدہ کرتی ہوں ماموں آج کے بعد میں انہیں بالکل تنگ نہیں کروں گی

وہ جو کہیں گے میں وہ کروں گی ان کی ساری باتیں مانوں گی پلیز ان سے کہیں کہ میرے ساتھ اس طرح سے نہ کریں

دیکھیے مجھے سانس نہیں آ رہی ۔

ماموں روح اپنے یارم کے بغیر مر جائے گی ۔

ہاں روح مر جائے گی روح نہییں جی پائے گی اپنے یارم کے بغیر

شارف کو مر جانا چاہیے اگر یارم نہیں تو روح بھی نہیں

یہ کیسی محبت ہے میرے یارم مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور میں اب تک زندہ ہوں

یا اللہ مجھے موت دے۔۔۔۔۔۔۔

روح۔۔۔۔۔۔ اس کی بات پر خضر کے ساتھ ساتھ درک بھی اس کے سخت الفاظ پر دھارا

کیا بکو اس کر رہی ہو روب ایسا کیسے کہہ سکتی ہو تم ۔۔۔۔اتنی ناشکری اتنی گمراہی یہ کون سے رستوں کی مسافر بن رہی ہو تم اللہ کو ایسے انسان پسند نہیں خضر نے اسے سختی سے ٹوکتے ہوئے کہا تو وہ ایک بار پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

لیکن خضر سے یہ سب کچھ برداشت نہیں ہو رہا تھا روح کے آنسو اس کی تکلیف اس کی تڑپ اس کی برداشت سے باہر تھی

خود پر اتنا کنٹرول کرنے کے باوجود بھی وہ خاموش نہ رہ سکا

°°°°°

انڈر ورلڈ کے اندر بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو یارم کی جگہ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اس کی جگہ ڈون بن کر دبئی پر اپنی حکومت چلانا چاہتے ہیں

یارم کا قبضہ صرف دبئی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بہت سارے ملکوں کا انڈر ورلڈ مافیا اس کے انڈرکام کر رہا ہے

یارم کی زندگی کا ایک ایک پل خطرے سے خالی نہیں

کچھ عرصے سے روس کے ڈان ویلکس میتھو کی نظریارم پر تھی

وہ یارم سے دبئی کا مافیا ولڈ خریدنا چاہتا تھا جس کے لیے وہ کافی وقت سے کوشش بھی کر رہا تھا

لیکن یارم کی طرف سے انکار ہی ملا

اپنی ہر کوشش میں ناکام ہونے کے بعد اس نے اپنے قدم پیچھے ہٹالیے ہمیں یہی لگ رہا تھا کہ اب وہ دوبارہ کبھی یارم کے راستے میں نہیں آئے گا

لیکن یہ ہماری غلط فہمی تھی

پچھلے چھ مہینے سے پل پل یارم پر نظر رکھے ہوئے تھا

یارم کو اس حوالے سے شک تو تھا لیکن ہم پریشان ہوں گے یہ سوچ کر اس نے ہم سے یہ سب کچھ شیئر نہیں کیا

وہ یارم کے بارے میں ساری انفرمیشن نکال چکے تھے وہ یارم کے ایک ایک پل پر حبر رکھے ہوئے تھے ایک ایک سیکنڈ کا حساب جانتے تھے وہ تمہارے بارے میں بھی سب کچھ جان چکے تھے کہ تم یارم کے لیے کیا ہو

وہ لوگ تمہیں یارم کے خلاف استعمال کرنا چاہتے تھے

انہیں پتا تھا کہ تم یارم کی کمزوری ہو اور وہ تمہارے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اسی لئے ان لوگوں نے تم لوگوں کا پیچھا کیا اور سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ان کا ارادہ تمہیں پھسا کر یا رم سے اپنا مطلب پورا کروانے کا تھا

اور وہ لوگ اپنا یہ کام امبریلا ریسٹورنٹ کرنے والے تھے

لیکن اس سب کی خبر ہمیں وقت سے پہلے ہی لگ گئی میں نے اس دن یارم کو فون کرکے سب کچھ بتایا لیکن اس سے پہلے ہی وہ تمہیں ہوٹل کی پچھلی سائیڈ بھلا چکے تھے

تم سے پہلے یارم وہاں پہنچ گیا اور ان لوگوں نے یارم پر جان لیوا حملہ کر دیا ۔

ان لوگوں کا مقصد یارم کو جان سے مارنا تھا ۔

اور یارم کا مقصد ان لوگوں کے ہاتھوں مر جانا تھا

میرا مطلب ہے ہماری پلاننگ کا حصہ ۔۔۔۔۔۔خضر نے ٹھہر کر کہا تو وہ اسے بے یقینی سے دیکھنے لگی ۔

تمہارے وہاں آجانے کی وجہ سے ہمارا پلان فیل ہوگیا

کیوں کہ یارم کا سارا دھیان تمہاری طرف جا چکا تھا اسے لگا تھا کہ وہ لوگ تمہیں نقصان پہنچائیں گے اس سے پہلے کہ وہ تمہیں بچاتا ان لوگوں نے یارم کو موت کے منہ تک پہنچا دیا

زہریلے چاقواور بازو پر دو گولیاں لگنے کے باوجود بھی اس نے اکیلے ان سب کا مقابلہ کیا لیکن تمہیں بے ہوش دیکھ کر وہ بے جان ہونے لگا تھا ۔

تب درک نے اس کی بہت مدد کی ۔

ان سب کے سامنے مرنے کا ڈرامہ کرنے کے بجائے وہ ان سب کا قتل کرکے تمہیں ہسپتال لے آیا

ڈاکٹر نے چوبیس گھنٹے دیے تو میں ہوش میں لانے کے لیے یارم کی وہ حال دیکھ کر تمھارا نروس بریک ڈاؤن ہوگیا ۔

24 گھنٹے بنا کسی سہارے کے وہ یہاں کھڑا رہا ڈاکٹر کے ہزار بار کہنے کے باوجود نہ تو اس نے اپنا علاج کروایا اور نہ ہی آپریشن تھیٹر سے باہر نکلا

لیکن 24 گھنٹے کے اندر اندر زہریلی شاقوکا زہر اس کے پورے جسم میں پھیل گیا ۔

لیکن پھر بھی وہ اپنا علاج کروانے کو تیار نہ تھا اسے بس اپنی روح سے مطلب تھا

24 گھنٹے کے بعد ڈاکٹر نے تھوڑی سی امید دلوائیں

لیکن زہر پھیلنے کی وجہ سے اسے انفیکشن ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوگیا دبئی میں اس کا کوئی علاج نہیں ۔

پچھلے سولہ دن سے اسے صرف ایک گھنٹے کے لئے ہوش میں لایا جاتا ہے ۔باقی سارا وقت اسے بے ہوش رکھا جاتا ہے جب تک اس کے جسم سے زہر کا اثرختم نہیں ہو جاتا

لیکن اس ایک گھنٹے میں وہ تم سے ملنے کی اتنی ضد کرتا ہے کہ ڈاکٹر مجبور اسے دوبارہ بے ہوش کر دیتے ہیں

انڈر ورلڈ مافیا کو بچانے کے لئے یارم کا زندہ رہنا ضروری ہے ۔اور وہ زندہ تب ہی رہ سکتا ہے جب وہ یہاں سے دور رہے گا کیونکہ روسی مافیا کو بس یہی پتا ہے کہ ڈیول مر چکا ہے

اور اب اگر وہ یہاں واپس تمہارے پاس آیا تو وہ لوگ اسے جان سے مار ڈالیں گے

تم میری بات کو سمجھ رہی ہو نہ اسے تم سے دور رہنا ہوگا

ہم یہی ظاہر کریں گے کہ وہ نہیں رہا

خضر اسے سمجھاتے ہوئے کہہ رہا تھا اور اب اس کے جواب کا انتظار کر رہا تھا ۔

شارف بھائی مجھے نماز پڑھنی ہے ۔ وہ کافی دیر کے بعد بولی

روح اب تو صبح کے نو بج رہے ہیں نماز کا وقت نہیں ہے اسح پرسکون دیکھ کر خضر نے کہا۔

مجٙھے اللہ کو شکریہ بولنا ہے ماموں اور اللہ سے محبت کا اظہار کرنے کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں ہوتی ۔

آج مجھے یقین ہو گیا کہ میرے اللہ جی مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں ۔اور وہ میرے یارم کو کچھ نہیں ہونے دیں گے ۔

وہ بہت صبر سے بولی تھی خضر اور شارف کو لگا تھا کہ وہ یارم سے بات کرنے کیا ملنے کی ضد کرے گی لیکن آپ تو بہت پرسکون لگ رہی تھی

لیکن اس کے لیے یارم کا زندہ ہونا زیادہ اہم تھا

°°°°°