Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 34)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 34)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
وہ گہری نیند سو رہا تھا جب اسے اپنے ہاتھ پر ننھا سا لمس محسوس ہوا
اس کی آنکھ فورا کھل گئی تھی
اس کا لمس پھول سے زیادہ نازک تھا
اس نے ذرا سا سر اٹھا کر دیکھا تو یارم کے بازو پر بار بار اس کا ہلتا ہوا پیر لگ رہا تھا
وہ بے اختیار مسکرا کر اسے دیکھنے لگا
رویام دونوں آنکھیں کھولے ہاتھ پیر ہلانے میں مصروف تھا اور اس کا ننھا سا پیر بار بار ہلنے کی وجہ سے اس کے بازو سے ٹچ ہو رہا تھا
پھر شاید رویا م نے محسوس کرلیا تھا اس کا باپ اس کی طرف متوجہ ہے وہ اسے دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ پیر اسی سپیڈ سے ملائے جا رہا تھا شاید اس کے کھیلنے کا اپنا ہی انداز تھا
یا رم اب اس کی طرف کروٹ لے کر باغورا سے دیکھنے لگا ۔اس کا یہ چھوٹا سا وجود ہلتا جلتا ہے اسے بہت ہی پیارا لگ رہا تھا کروٹ لینے کی وجہ سے اس کا بازو اس سے ذرا فاصلے پر آگیا جو یارم کو خود بھی اچھا نہیں لگا وہ مزید اس کے تھوڑا نزدیک ہوا اور اس کا پیر ایک بار پھر سے اس کے ہاتھ کو چھونے لگا
مسٹر رویام یارم کاظمی کیا آپ کو پتا ہے آپ کی ماما آپ کے جاگنے کا کتنا انتظار کرنے کے بعد سوئی ہے آج تک میں نے اپنی بیوی کو اتنا تنگ نہیں کیا جتنا تم نے بس ان چار دنوں میں کیا ہے
کتنا ترستی ہے وہ تم سے باتیں کرنے کے لئے اور تمہارے شہزاد جیسے نخرے ختم نہیں ہوتے
اور دوسری تمہاری یہ نیند جو پوری ہونے کا نام نہیں لیتی اتنا سو کر کرتے کیا ہو بس بتا دو مجھے
کہیں خوابوں میں میرے بہو تو نہیں پسند کر رکھی ایک بات کان کھول کر سن لو فی الحال تمہاری عمر نہیں ہے لڑکیوں کے خواب دیکھنے کی اسی لیے بہتر ہو گا کہ خوابوں کی دنیا سے باہر آجاؤ
اور فی الحال تمہیں میری بیوی پر دھیان دینا چاہیے جو اتنی مشکل سے تمہیں اس دنیا میں لائی ہے
نہ کہ ان دوشیزاؤں پے ویسے اس نرس کے ساتھ تمھارا کچھ چل رہا تھا یہ بات تو میں تب بھی سمجھ گیا تھا جب وہ تمہیں مسکرا مسکرا کر دیکھ رہی تھی
اور ایک اور بات کان کھول کر سن لو تمہارے باپ نے کبھی ایسے کام نہیں کیے اس نے ایک ہی لڑکی کو پسند کیا اسی سے شادی کی اور اسی سے تم جیسی ٹھرکی اولاد بھی پیدا کرلی ۔اور اب اسی کے ساتھ پوری زندگی سکون سے گزاروں گا
اور تم بھی ایک ہی لڑکی کو پسند کرو گے اسی کے ساتھ شادی کرو گے اور اسی کے ساتھ ساری زندگی گزارو گے ۔جو اصول میری زندگی کے وہی اصول تمہاری زندگی کے بھی ہونے چاہئیں آخرتم یارم کاظمی کی اولاد ہو
وہ اس کے بالکل پاس لیٹا اس کا بازو تھامے اسے مکمل طور پر اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا۔رویام کا کھیل اب رک چکا تھا
یارم نے تو صرف اس کا ایک بازو ہی پکڑا ہوا تھا لیکن اس بازو کی وجہ سے اسکا دوسرا ہاتھ اور دونوں پیر بھی رک گئے
شاید رویام کا ان سے کوئی کنکشن تھا .
اور رویام کےہاتھ پیر رک جانے کی وجہ سے اس کے ہونٹ پتا نہیں باہر کیوں آرہے تھے
اس کا نچلا ہونٹ مکمل طور پر باہر نکلا ہوا تھا جبکہ اوپر کے ہونٹ نے اندر کا تمام حصہ کور کیا ہوا تھا
یارم کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا کرنے والا ہے
لیکن اسے تھوڑی ہی دیر میں پتا چل گیا کہ وہ کیا کرنے والا ہے جب اچانک اس کی کراکے دار آواز نے پورے کمرے کو ہلا کر رکھ دیا
رات وہ کیسے مان لے کر رہی تھی کہ اس کا بیٹا روتا نہیں ہے
اور اس کے بیٹے نے تو دو ہی منٹ میں پورے کمرے کو آسمان پر اٹھا لیا تھا
رویام یار کیا ہوگیا ہے کیوں روئے جا رہا ہے اچھا یار برا کیوں منا رہا ہے ٹھیک ہے ایک دو گرل فرینڈ بھی بنا لینا
اچھا چل میں اسی نرس کو بہو کے طور پر قبول کر لوں گا اب وہ تیرا فرسٹ کرش ہے تو میں اس کے لئے منع نہیں کر سکتا
تو فکر مت کر میں ظالم باپ بالکل ثابت نہیں ہونے والا پیار محبت کے معاملے میں تو بہت سویٹ ہارٹ قسم کا انسان ہوں
اس کے رونے پر وہ بوکھلا کر اٹھ بیٹھا
اور ایک اچھے باپ کی طرح رویام کو اس کے پسند کی چیزوں کی آفر بھی دینے لگا لیکن رویام کسی اچھے بچے کی طرح بلکل اپنا منہ بند نہیں کر رہا تھا وہ روئے جا رہا تھا
اس نے ایک نظر روح طرف دیکھا جو شاید آج بہت دنوں کے بعد پر سکون نیند سو رہی تھی ۔وہ اسے بالکل ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا آہستہ سے اس نے رویام کے ننھے سے وجود کو اپنے سینے سے لگایا
اور اسے اٹھا کر باہر لے آیا
°°°°°°°
کیا ہوگیا ہے یار اس طرح سے کیوں رو رہا ہے وہ اس کے نازک سا وجود اپنے سامنے کرتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا
اس کے دونوں ہاتھوں میں وہ بالکل کوئی گڈا سا لگ رہا تھا ۔
یارم کے اس طرح سے اسے اپنے سامنے رکھنے اور ہاتھ میں اٹھانے پر وہ خاموش ہو گیا
یہ کی نایارم کاظمی کے بیٹے جیسی بات کیوں رو رہا تھا ایسےکون روتا ہے ہاں تجھے پتہ ہے تیری ماں تجھے اس دنیا میں لانے کے لئے کتنا کچھ سہہ چکی ہے اور اب رو رو کر تو اس کی نیند پراب کرنے والا تھا
نو مہینے ایک بھی رات ٹھیک سے سو نہیں پائی میری بیچاری روح اور تو کیسے چار دن سے سو رہا تھا اور سارا دن بھی تو سوتا ہی رہتا ہے لیکن رات کو پھر بھی تجھے میری روح کی نیند خراب کرنی ہے کیوں بھئی باپ کا راج ہے کیا
نہ بیٹا یہاں ایسا نہیں چلے گا میری روح نے تجھے دنیا میں لانے کے لیے اپنی نیند قربان کی ہے اب تجھے بھی اپنی ماں کو بالکل تنگ نہیں کرنا اور اگر تو نے اسے تنگ کیا تو مجھ سے برا اور کوئی نہیں ہوگا وہ اسے دھمکی دے رہا تھا
جبکہ رویام اس کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھ کر مسکرائے جا رہا تھا
چل اب جلدی سے کچن میں چلتے ہیں تیرے لیے دودھ وغیرہ بناتے ہیں اور پھر تجھے سلا دیتے ہیں کیا خیال ہے وہ اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے اٹھا
ایک ہاتھ سے اس کے ننھے سے وجود کو تھامے ہوئے وہ اس کے لئے دودھ بنانے لگا روح کو اس نے دن میں تین چار بار دودھ بناتے ہوئے دیکھا تھا وہ یارم کاظمی تھا اسے کسی بھی چیز کو سیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی دیکھنا ہی کافی تھا
تھوڑی ہی دیر میں وہ اس کے لئے دودھ بنا کر واپس باہر صوفے پر آ گیا اور اس کو بالکل ڑوح والے انداز میں دودھ پلایا لیکن دودھ پینے کے بعد بھی رویام سویا نہیں
ارے یار اب سو جا تیرا پیٹ بھی بھرگیا ہے ۔ کیوں نہیں سو رہا یارم نے زرا سختی سے پوچھا
ویسے یار تیری بھی غلطی نہیں ہے سارا دن تو سوتا رہا ہے اب تو سوئے گا کیسے ہے نا یہی بات ہے نا
چل کوئی بات نہیں میں سمجھ سکتا ہوں تو سونہیں سکتا لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے تیرا باپ ہے نہ اس میں کوئی نہ کوئی حل نکال لوں گا
ابھی تو ابھی ابھی دنیا میں آیا ہے تو ہمارے لئے تو ایک مہمان ہے اور یارم کاظمی مہمانوں کی خوب خدمت کرتا ہے ویسے تو سوچ رہا ہو گا میں تیرے سامنے بار بار اپنا نام کیوں لے رہا ہوں تاکہ تجھے یاد ہو جائے کہ تیرے باپ کا نام کیا ہے
اور تجھے بھی پتہ چل جائے کہ تو کس کا بیٹا ہے
چل اب میں تیری انٹرٹینمنٹ کا کوئی سامان کرتا ہوں ویسے یہ کھلونا کافی انٹرسٹنگ ہے وہ ایک پلاسکٹ کی گاڑی کو اپنے ہاتھ میں لے لئے اسے دکھا رہا تھا
لیکن تو فی الحال اس کے ساتھ نہیں کھیل سکتا کیونکہ تو بہت چھوٹا ہے ویسے میرے پاس بھی ایک کھلونا ہے جو میرا موسٹ فیورٹ ہے وہ اپنی جیب سے ایک بلیٹ نکال کر اسے دکھاتے ہوئے بولا
یہ میرا فیورٹ کھلونا ہے اور اس کے ساتھ کھیلتے ہوئے مجھے بہت زیادہ مزہ آتا ہے لیکن اس کے لیے بھی تو بہت چھوٹا ہے میرا نہیں خیال کہ فی الحال تو کسی بھی کھلونے کے ساتھ کھیلنے کے قابل ہے تجھ سے تو ہاتھ میں پکڑا بھی نہیں جا رہا یہ اس کی گاڑی اس کے پیٹ سے اٹھاتے ہوئے پھینک چکا تھا
فلم دیکھے گا چل آجا دونوں باپ بیٹا مل کر ایک فلم دیکھتے ہیں دا ایول ڈیتھ فی الحال یہاں پر بس یہی ایک فلم ہے بہت فنی ہے مل کر دیکھیں بہت مزہ آئے گا وہ کہتے ہوئے فلم لگانے لگا
ویسے تیری ماں تو رومینٹک موویز دیکھتی ہے اس ٹائپ کی فلمیں پسند نہیں ۔اور سچ کہوں تو اس کے ساتھ بیٹھ کر رومینٹک فلم دیکھنے کا اپنا ہی مزہ ہے اب میں تیرے ساتھ بیٹھ کرتو رومینٹک مووی تو دیکھنے سے رہا
تو ہم دونوں اسی فلم کو انجوائے کریں گے وہ ریوٹ اپنے ساتھ لاتا پلیئر اون کر چکا تھا رویم کو اپنے ساتھ صوفے پر ذرا اونچا کرکے بٹھایا تھا کہ وہ ٹی وی کو ٹھیک سے دیکھ سکے لیکن اسے جلد ہی احساس ہوگیا کہ فی الحال وہ بیٹھنے کے قابل بھی نہیں ہے
یار ایک تو کیا چیز ہے تجھے سےبیٹھا نہیں جاتا کیا چل آ جا میری گود میں ہی آجا وہ اپنی گود میں رکھتے ہوئے احسان کر کے بولا
فلم شروع ہوئی ہے یارم نے خوب انجوائے کیا اور شاید رویا م نے بھی
رویام فلم کی طرف کم اور یارم کے چہرے کی طرف سے زیادہ دیکھ رہا تھا یار م کے ہنستے چہرے کو دیکھ کر وہ بھی بار بار کھلکھلا اٹھتا۔
فلم کے اینڈ پر یارم کو اچھی حاصی نیند آنے لگی تھی کیونکہ پچھلے چار دن سے ہسپتال میں ہونے کی وجہ سے اسے صوفے پر ایک دن بھی اچھی نیند نہیں آئی
اور دوسری طرف یہ فکر لگی رہتی تھی یہ نہ ہو کہ روح کو کسی چیز کی ضرورت پڑ جائے
اسی لیے وہ نیند میں بھی الرٹ ہی رہتا تھا ۔اس وقت ایسے بہت نیند آ رہی تھی لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کے ننھے سے شہزادے کو اس کی ضرورت ہے ۔
وہ روح کو بالکل ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا ۔فلم ختم ہونے کے بعد وہ رویام کے لئے پھر سے دودھ بنانے لگا ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اسے ہر دو ڈھائی گھنٹے کے بعد دودھ دینا تھا
اور اب تقریبا دو گھنٹے تو ہو ہی چکے تھے اسے پیٹ پوجا کئے ہوئے اپنے لئے چائے کا کپ بنا کر اس نے رویام کے لیے بھی تیار کیا
آپ نے چائے کاکپ رویام کی بوتل کے ساتھ ٹچ کرکے اس نے ڈرنک شیئر کرنے والے انداز میں چئرز کیا ۔وریام کے دودھ کی بوتل آدھی ہونے کے بعد اس نے گندا سا منہ بنایا یارم نے سمجھ کر بوتل اس سے دور رکھ دی
ابھی ہے کتنا سا اور نخرے دکھا رہا ہے بیٹا چھ سات مہینے تک تو تجھے یہی بے سواد بے ذائقہ دودھ پینا ہے میں نے بھی یہی پیاہے اگر تیری دادی زندہ ہوتی تو تجھے بتاتی ۔چل اب آجا ذرا باہر لان میں چلتے ہیں اذان ہونے میں ابھی کافی وقت ہے گرمی بھی کافی ہے چل ٹھنڈی ہوا لیتے ہیں وہ دوستانہ انداز میں اسے اٹھا کر باہر کی جانب آ گیا
°°°°°
اور اس کی آہٹ پا کر شونو بھی آہستہ آہستہ اس کے پیچھے باہر نکل آیا
۔کیا بات ہے مسٹر شونوتم اتنی صبح صبح جاگ رہے ہو اسے اپنے پیچھے آتے دیکھ کر یارم نے خوشگوار انداز میں کہا
اس کے انداز پر شاید نہیں یقینا شونو بھی حیران ہوا ہوگا کیونکہ آج تک یارم نے اس سے اس لہجے میں بات نہیں کی تھی ۔اور یارم نے بھی شاید زندگی میں پہلی بار اتنی باتیں کی تھی وہ بہت کم بولتا تھا صرف ضرورت میں استعمال ہونے والے الفاظ یا پھر روح کے سامنے وہ اپنے دل کی ہر بات کرتا تھا
لیکن اس نے خود نوٹ کیا تھا کہ جو باتیں وہ رویام سے کر رہا تھا ساری بے فضول اور بے مقصد تھی ۔ایسی باتیں جن کا کوئی سرا ہی نہیں تھا
لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کا بیٹا اس کی ساری باتیں بہت ہی انجوائے کر رہا ہے اسی لئے تو وہ خاموش نہیں ہوا بلکہ اب بھی وہ اپنی ہی دن میں رویام سے باتیں کئے جارہا تھا جن کو ان کے ساتھ چلتا شونو بھی بڑی غور سے سن رہا تھا
°°°°°°
روح نے نیند میں اپنا ہاتھ بیڈ پر اپنے دائیں طرف رکھا تو وہاں کسی کا وجود محسوس نہ کرکے اس کی آنکھ کھل گئی
نا تو یہاں یارم تھا اور نہ ہی رویام وہ تیزی سے اٹھی
وہ دونوں غائب تھے مطلب وہ جہاں بھی تھے ایک ساتھ تھے
ظاہری سی بات ہے رویام خود سے اٹھ کر کہیں جا نہیں سکتا ۔
اس کی نیند اڑ چکی تھی وہ باہر کی جانب آنے لگی جب کھڑکی سے لان میں ٹہلتے یارم کو اس کے گود میں رویام کو دیکھا جبکہ شونو اس کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ چل رہا تھا
اس نے سکون کی سانس لی
رویام یارم کے ساتھ تھا وہ بالکل بھی رو نہیں رہا تھا بلکہ یارم کی باتیں اسے اچھی لگ رہی تھی ۔روح چہرے پر ایک پیاری سی مسکراہٹ آئی
اس نے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے جمائی لی تھکاوٹ سے بھرپور انگڑائی لے کر وہ دوبارہ بیڈ پر آگئی آپنے اوپر کنمل پھیلاتے ہوئے وہ بیڈ پر لیٹی اور ایک بار پھر سے آنکھیں بند کر لیں
ہاں اسے اب فکر نہیں تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کا یارم اس کے رویام کو سنبھال لے گا تھوڑی دیر پہلے جو نیند اسے بائےبائےکہہ کر بھاگ گئی تھی ایک بار پھر سے اس پر حاوی ہونے لگی
تھوڑی دیر میں وہ گہری نیند میں اتر چکی تھی ۔
°°°°°°
نہ جانے کب ٹھہرتے ٹھہرتے رویام کی آنکھیں بند ہوگئی یارم کو بالکل احساس نہیں ہوا تھا کہ وہ سو چکا ہے ۔
وہ کب سے اس ننھے سے وجود کو اپنے ساتھ لگائے بس ٹہلتا جا رہا تھا
یہ بے مقصد بے منزل سا سفر اسے بہت اچھا لگ رہا تھا ۔شونو نے بھونکتے ہوئے اسے بتانا چاہا کہ رویا م سو چکا ہے
پتا نہیں کیسے وہ جان گیا تھا ۔یارم نے ایک نظر شونو کو دیکھا اور پھر رویام کی جانب سوتے ہوئے بالکل کوئی معصوم سا فرشتہ دکھ رہا تھا
ارے یہ تو سو گیا یارم اسے دیکھتے ہوئے مسکرایا تو شونو بھونکتے ہوئے اچھلا
جب یارم نے ایک ہاتھ کی انگلی اپنے ہوںٹھوں پر رکھ کر اسے چپ کروایا ۔
شور نہیں کرنا ہو سو گیا ہے
چلو اسے بیڈ روم میں رکھتے ہیں ۔
وہ شونو کو کہتا ہوا آگے چل دیا اور وہ اسی کے انداز میں اس کے پیچھے پیچھے آ رہا تھا
°°°°°
کمرے میں قدم رکھا تو روح گہری نیند سو رہی تھی فرق بس اتنا تھا کہ رات کو وہ غلطی سے یارم کی جگہ پر سو گئی تھی اس وقت وہ اپنی جگہ پر تھی
یارم آہستہ سے رویام کو بیڈ پر لٹایا
اور خود بھی بیڈ پر لیٹ گیا
جبکہ شونو کمرے میں ہی بنے چھوٹے سے گدھے پر لیٹ چکا تھا
مسٹر شونو مجھے تو بہت نیند آ رہی ہے میں سونے جا رہا ہوں ۔تم بھی سو جاؤ کیونکہ تھوڑی ہی دیر میں وہ سارے نمونیہ آ جائیں گے
اس نے سب کو یاد کرتے ہوئے سوچا جو کل رات یہاں سے جانے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے
شارف تو بار بار دروازے تک جا کر واپس آ جاتا
خضر تقریبا اسے گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے کر گیا تھا اس کا بس چلتا تو وہ رویام کو خود سے دور ہی نہ کرتا ۔
اور کل اس میں جلدی آنے کا وعدہ بھی کر دیا تھا اب اس کی جلدی کتنے بجے ہونی تھی یارم کو بالکل اندازہ نہیں تھا ان کے آنے سے پہلے پہلے وہ اپنی نیند پوری کر لینا چاہتا تھاکیونکہ وہ جانتا تھا کہ بچوں کے شورشرابے اور شارف کی مستیوں میں نیند تو اسے ہرگز نہیں آئے گی
°°°°°°
یارم کی آنکھ دس بجے کے قریب کھلی تھی
دروازہ بند تھا لیکن باہر سے ہلکی ہلکی آواز آ رہی تھی
اس وقت کمرے میں اس کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا وہ کافی دیر تک چھت کو گھورتا رہا
اپنے بازو پر اسے ابھی تک رویام کالمس محسوس ہو رہا تھا جسے محسوس کرکے وہ مسکرایا
پھرفریش ہو کر باہر نکل آیا
جہاں تقریبا سب لوگ ہی تھے سوائے صارم کے اسے اپنی ڈیوٹی پر جانا تھا
کیوں کہ ڈان کے ہاں بیٹا پیدا ہونے کی خوشی میں اسے چھٹی تو ہرگز نہیں ملنی تھی
رویام اس وقت معصومہ کی گود میں تھا ۔روح کچن میں اس کا دودھ تیار کررہی تھی
اس نے آہستہ سے معصومہ کو اشارہ کیا تو وہ مسکرا کے رویام کو اس کی گود میں رکھ گئی
جب بچے ہوتے ہیں تو آپ کو ساری رات جاگنا پڑتا ہے خضر اسے دیکھتے ہوئے اس انداز میں بولا کہ یارم مسکرایا
ہاں بس اللہ نے تحفہ دیا ہے تو سنبھالنا تو پڑے گا وہ رویام کے چہرے کو نرمی سے چھوتے ہوئے بولا
روح بتا رہی تھی کہ تم ساری رات جاگتے رہے ۔اسی لیے صبح اس نے تمہیں جگانے نہیں دیا اور ہم نے بھی پوری کوشش کی کہ ہم بالکل شورشرابہ نہ کرے اور کچھ شونو صاحب نے ہم پر اپنی حکومت چلائی ہوئی تھی
ذرا سی آواز نیچی ہوتی تو وہ گلے پڑ جاتا ہے شارف نے کہتے ہوئے لگے ہاتھوں شونو کی شکایت کی آج پہلی بار یار م کووہ اتنا اچھا لگا تھا
ویسے تو خضر نے اپنی بچیاں پیدا ہونے کے بعد لیلی کو سوا مہینہ کہیں بھی آنے جانے نہیں دیا تھا اور نہ ہی زیادہ لوگوں سے ملاقات کرنے دی تھی
لیکن روح کا معاملہ الگ تھا وہ بہت کم لوگوں کو جانتی تھی اور بہت کم لوگوں سے تعلق رکھتی تھی اور یارم نے اس پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں لگائی تھی
تبھی تو وہ بالکل ریلیکس تھی اور مزے سے اپنے ان دنوں کو انجوائے کر رہی تھی رویام کو خضر کے حوالے کر کے کچن میں آیا جہاں وہ اس کے لئے دودھ بنا رہی تھی
اس کے کچن میں آنے پر اس نے مسکرا کے یارم کو دیکھا اور پھر خود اس کے قریب آ کر اس کے گرد بازو لپیٹے اس کے سینے پر سر رکھ کر بولی
یارم اینگو مینگو سو مچ ۔۔۔۔اس کا انداز بہت میٹھا تھا یارم مسکرایا
آئی لو یو ٹو میرا بے بی اس کے دونوں گال کو انتہائی شدت سے چومتے ہوئے بولا اس سے پہلے کہ روح سے دور ہوتی اسے باہر سے رونے کی آواز سنائی دی اور رویا م کے رونے پر وہ دونوں باہر کی طرف بھاگ گئے تھے
