Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 55)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 55)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
رویام کی آنکھ کھلی تو روح اور یارم اس کے بے حد قریب بیٹھے تھے وہ کتنی ہی دیر ان دونوں کا چہرہ دیکھتا رہا
اسے دوسری بار ہوش آیا تھا پہلی بار ہوش آنے پر وہ آگے پیچھے دیکھتا ایک بار پھر سے گہری نیند میں اتر گیا پری کتنی دیر اس کے جاگنے کا انتظار کرتی رہی اور پھر نرس نے اسے آکر درک کے بلاوے کا بتایا تو اسے جانا پڑ گیا
لیکن اس بار جب رویام کو ہوش آیا تو وہ سب کو پہچان رہا تھا
فی الحال کسی سے مخاطب تو نہ ہوا تھا لیکن روح اور یارم کا چہرہ دیکھ کر وہ مسکرایا تھا وہ بے حد پر سکون سے اسے دیکھ رہے تھے جب اس کی میٹھی سی آواز ان کے کانوں میں گونجی
بابا آپ لےمیلی ماماتےتندےپل اتھ تیوں لتھا اے(بابا آپ نے میری ماما کے کندھے پر ہاتھ کیوں رکھا ہے) ۔۔۔۔وہ ناراضگی سے پوچھ رہا تھا یارم نے بے اختیار مسکراتٹ روک کر روح کے کندھے سے اپنا ہاتھ ہٹا چکا تھا
ہوش میں آتے ہی جلیسی شروع ہوچکی تھی
پتہ نہیں یہ جلد ککراکس پر گیا تھا ۔بلکہ جلد ککرا کہنا ککر کی توہین ہو گی یہ تو جل چوزہ ہے
جو اپنی ماں کے قریب اپنے باپ کو بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا
ہٹا دیا ہاتھ میرے باپ بس جلدی سے ٹھیک ہوجا تیرا باپ تیرے بغیر نہیں رہا جاتا وہ اس کا ننھا سا ماتھا چومتا بےحد محبّت سے بولا تھا
رویام میرے بچے آپ کو کہیں درد تو نہیں ہو رہا روح نے اس کا ننھا سا ہاتھ ملتے ہوئے محبت سے پوچھا
کیونکہ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ ابھی اس کا پورا جسم درد کرتا رہے گا کیونکہ خون کی کمی پوری ہوتی ابھی بہت وقت لگے گا بلڈ کینسر کوئی چھوٹی سی بیماری ہرگز نہیں ہے
اس میں خون پورا ہوتے ہوتے بہت وقت لگ جاتا ہے
رویام نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھا جس پر سویوں کی وجہ سے بہت سارے نیل پڑے تھے جبکہ باقی اس کا سارا جسم دوائیوں کے زہر اثر ہونے کی وجہ سے فی الحال درد سے بے خبر تھا
دہاں پہ دد اولا اے (یہاں پہ درد ہو رہا ہے )اس نے اپنا ہاتھ اس کو دکھاتے ہوئے کہا
روح نے بہت نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما تھا
بس میری جان اب آپ کو کوئی درد برداشت نہیں کرنا پڑے گا ۔
پھورباد دیا(فیور بھاگ گیا) اس نے معصومیات سے پوچھا
میرے بیٹے کا فیور بھاگ گیا ہے اب ہم تمہیں گھر لے کر جائیں گے اور پھر تم جیسے چاہے ویسا ہوگا پہلے کی طرح کھیلو گے اور اپنے شونو آپ کے ساتھ بہت سارا وقت گزارو گے
روح نے خوشی سے کہا تو رویام کے چہرے کے دونوں ڈمپل پوری طرح سے چمک اٹھے تھے
شچی ریام اپلے در دائے گا شونو تے پاش (سچی رویام اپنے گھر جائے گا شونو کے پاس) وہ بے حد خوشی سے پوچھ رہا تھا جب اس نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اس کا ماتھا چوما۔
سچ میں گھر جانے کی بات پر بہت خوش تھا شاید ہسپتال میں رہ رہ کر وہ بھی اکتا چکا تھا
اور اب وہ روح کو گھر جانے کے بعد کی اپنی پلاننگ بتا رہا تھا کتنے کام تھے سے کرنے کے لئے ۔آج جو کام اسے رویام نے بتائے تھے اسے احساس ہوا تھا کہ اس کا بیٹا تو بہت ہی مصروف انسان ہے
جب کہ یارم خاموشی سے اس کے قصے سن رہا تھا جو کہ بہت مزے کے تھے
چڑیا کے لیے پانی رکھنا ۔
ان کے برڈز ہوم کی صفائی کرنا
ان کے کھانے کا انتظام کرنا
شونو کا خیال رکھنا شونو کے ساتھ کھیلنا اس کو نہلانا
کتنے کام تیرے رویام کو روح کو تو بس یہ پتا تھا کہ وہ پودوں کے ساتھ اس نے چند برڈز ہوم لگائے تھے کہ پرندے دھوپ سے بچ کر یہاں آرام کرسکیں
لیکن رویام تو ان کا بھی خیال رکھتا تھا اوران سب چیز میں شونو بھی شامل تھا ۔کتنے دنوں کے بعد وہ اس کی میٹھی میٹھی باتیں سن رہے تھے
شاید ماں باپ کے لئے اس سے زیادہ سکون اور کسی چیز میں نہیں ہوتا
°°°°°°
آپ تو مد شے پیال تب اوا (آپ کو مجھ سے پیار کب ہوا) وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹآتے ہوئے پوچھ رہا تھا
ارے میں تو پہلی نظر کی محبت کا شکار ہوں کیسے بتاؤں تمہیں میں نے تو تم سے دوستی بھی اسی لئے کی تھی کہ تمہیں پٹا سکوں
وہ بڑے آرام سکون سے اس کے سامنے بیٹھی اپنے دل کا حال سنا رہی تھی
یار اب تم بھی اظہار محبت کر ہی ڈالو وہ اس کا ننھا سا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لئے زمین پر بیٹھی دوسرے ہاتھ سے اسے چاکلیٹ دے رہی تھی جسے تھامنے میں وہ بہت کنجوسی سے کام لے رہا تھا
رویام بالکل بھی ہاں نہیں کرنا یہ رشتے میں تمہاری مامی لگتی ہے کیا تم امی سے شادی کرو گے یارم نے کمرے میں قدم رکھتے شرارت سے کہا
چاکلیٹ کی طرف ہاتھ لے جاتا رویام فوراً رک کر اسے گھورنے لگا
ارے ہم شادی نہیں کریں گے صرف ایک دوسرے کو ڈیٹ کریں گے اور ہر ڈیٹ میں میں تمہارے لئے بہت ساری چوکلیٹ لایا کروں گی اس سے پہلے کے رویام کچھ بولتا پری نے اسے بڑی پیاری سی آفر دے ڈالی
یقیناً رویام کو بے حد پسند آئی تھی
بابا ام شرف ڈٹ پل دائں دے(بابا ہم صرف ڈیٹ پر جائیں گے) ۔اس نے یارم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔
ہاں تو ڈیٹ پر صرف کھجور ہی ملے گی چوکلیٹ نہیں یارم نے اپنی ہنسی دبانے تے ہوئے رویام کے ساتھ جگہ بنائی جبکہ روح بھی ان کی نوک جوک انجوائے کرتی یارم کے پاس ہی آ کر بیٹھ گئی
کوئی بات نہیں رویام چوکلیٹ اور کھجور ایک ہی کلر کی ہوتی ہے ۔اور دونوں کا ٹیسٹ بھی بالکل ایک ہوتا ہے میں اپنی ڈیٹ پر چاکلیٹ کے ساتھ ساتھ کھجور بھی رکھ لوں گی تم بس ایک بار ہا تو کرو وہ اس کا ہاتھ بے حدنرمی سے چومتے ہوئے بولی تو رویام کسی چھوی موی ہیروئن کی طرح اپنا ہاتھ چھڑا کر شرما گیا
رویام جانو سائیں کے ساتھ بے وفائی اور کہاں گئی وہ نرس جس پر تم فدا تھے یارم بےحد شرارت سے بولا جس پر پری نے بے یقینی سے رویام کی جانب دیکھا
مطلب مجھ سے پہلے ہی تمہاری گرل فرینڈ ہے تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو ابھی تو اظہار محبت بھی نہیں ہوا اور تم پہلے ہی افئیر چلا کر بیٹھے ہو پری کو دکھ ہوا تھا
وہ شرف میلی دوشت اے(وہ صرف میری دوست ہے )وہ صفائی دیتے ہوئے بولا تو یارم کا بے اختیارقہقہ بلند ہوا اسے پتہ تھا اس کا بیٹا ٹھرکی ہے لیکن اس قدر تیسری گرل فرینڈ کے لیے پہلی دونوں گرل فرینڈ کا پتہ کاٹ گیا
رویام یہ رشتے میں تیری مامی لگتی ہے یارم نے پھر سے یاد دلایا
ارے آپ اپنے منہ بولے رشتوں کے لیے میرا اور رویام کا رشتہ کیوں خراب کر رہے ہیں وہ بیچ میں یارم کو ٹوکتے ہوئے بولی
یہ کوئی منہ بولا رشتہ نہیں بلکہ ایک اصل اور سچا رشتہ ہے آپ کے شوہر میرے بھائی لگتے ہیں روح نے ان کی باتوں میں حصہ لیا تو وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی
دکش نے تو کبھی ذکر نہیں کیا ۔اب وہ مستی چھوڑ کر بالکل سیریس انداز میں بولی تھی
وہ مجھ سے خفا رہتے ہیں ۔ہم ہمیشہ سے ایک دوسرے سے الگ اور دور رہے ہیں لیکن وقت ہمیں ایک دوسرے کے پاس لے آیا ہے ان شاءاللہ اب ہم دور نہیں ہوں گے روح نے یقین سے کہا تو پر بے ساختہ آمین کہہ اٹھی تھی
آمین ثم آمین اس کا مطلب ہے کہ میرا بوائے فرینڈ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا اس کے انداز میں ایک بار پھر سے شرارتوں ابرآئی وہ سچ میں ایک زندہ دل اور بہت شرارتی لڑکی تھی
یہ بیماری اگر اسے نہ ہوتی تو وہ ایک بے حد خوبصورت زندگی گزار رہی ہوتی
اپنے بھائی کیلئے یہ پیاری سی لڑکی اسے بے حد پسند آئی تھی
ہاں بالکل تم میرے بیٹے کے ساتھ رہ سکتی ہوں لیکن میرے بھائی کو بالکل دھکہ نہیں دے سکتی ۔اس کے اندازسے لگتا ہے کہ وہ تم سے کتنا پیار کرتا ہے ۔
اس نے مسکرا کر اس کے گال کو چھوا تو وہ بے اختیار نظر جھکائی گئی
ان کا تو مجھے نہیں پتا کہ وہ مجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں کتنا نہیں لیکن میں رومی کو بہت پیار کرتی ہوں اور میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں
آپ دونوں مل کر میرا یہ کام کروا دیں مجھے کسی بابا کے پاس لے چلیں جو تعویذ وغیرہ دیتے ہو میں اپنے شوہر کی یاداشت بلاکر رویام کو بڑا کر دوں گی اور پھر اس کے ساتھ بھاگ جاوں گی وہاں ہم دونوں شادی کر لیں گے اور
بس کر دو لڑکی ۔۔حقیقت کی دنیا میں لوٹ آؤ میرا بھائی بھی کسی شہزادے سے کم نہیں ہیں روح نے فورا کی سائیڈ لی تھی ۔
انہیں شہزادہ نہیں کچھ اور کہا جاتا ہے رومی بتاؤ ذرا اپنی ماما کو کہ ہم نے دکش کا کیا نام رکھا ہے وہ بہت پیار سے رویام کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
کھلوش یو۔(کھڑوس دو) وہ منہ بناتے ہوئے بتانے لگا تو بے اختیار یارم قہقہ بلند ہوا مطلب کے یہ نام درک کا تھا بالکل اس کی پرسنالٹی پر سوٹ کرنے والا نام تھا ۔
بابا اپ میلی دوشت تو بتا لودے نا اش کھلوش یو شے می لے اپلی دوشت شے پلومش تیا اے اپ اش تو بتاو گے (بابا آپ میری دوست کو بچا لو گے نا اس کھڑس دیوسے میں نے اپنے دوست سے پرامس کیا ہے کہ آپ اس کو بچاؤ گے) اب وہ ساری باتیں بھلائے یارم سے مخاطب ہوا ۔
میں نے تمہاری دوست کو بچا تو لیا لیکن اس کھڑوس دیو سے نہیں بلکہ اس کے کھڑوس دیو کے دشمنوں سے تمہاری بے چاری دوست کے نصیب میں وہی شخص لکھا ہے یارم نے ہنستے ہوئے کہا تو رویام منہ بسور گیا
شاید اسے اپنی دوست کی بدقسمتی کا خیال تھا
جب کہ پری کو تو اس کا یہ انداز بھی بے حد پیارا لگا وہ بے اختیار جھک کر اس کے دونوں گالوں کو چوم گئی اور ہمیشہ کی طرح اس کی یہ حرکت رویام کو آگ لگا گئی تھی
رویام منہ نہیں بناتے میں نے لاسٹ ٹائم کیا سمجھایا تھا دوستی میں یہ آلاؤٹ ہے وہ اس کے منہ بسور نے پر سمجھانے لگی ۔
جبکہ روح اور یارم رویام کے انداز پر ہنسے تھے ۔اس کا بالکل صحیح لڑکی کے ساتھ پالا پڑا تھا
اب وہ کیسے اسے سمجھاتا کہ اسے کس صرف اپنی ماں کا ہی پسند ہے
°°°°°°
وہ لوگ اسے واپس گھر لے آئے تھے فی الحال اسے آرام کی ضرورت تھی وہ بہت کمزور ہوچکا تھا اس کی ہڈیاں پوری طرح سے اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی
اسے اپنے ماں باپ کی بے حد ضرورت تھی یارم کام پر جاتا تھا لیکن بہت کم اس کا زیادہ وقت اپنے بیٹے کے ساتھ ہی گزرتا تھا وہ مشکل میں تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ اب یہ مشکل زیادہ دیر تک نہیں ہے
دوسری طرف جب سے جانو سائیں کو یہ پتا چلا تھا کہ رویام کسی اور کے ساتھ پیار محبت کے عہدوپیمان باندھ چکا ہے اس کا دل بری طرح سے ٹوٹ گیا تھا وہ اسے بے وفائی کا لقب بھی دے چکی تھی
روز وہ دو تین گھنٹے اس سے بات کرتی تھی بس وہ روٹھی بیٹھی رہتی اور رویام اسے مناتا رہتا
دائم سائیں نے تو رویام کے سامنے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اب رویام کے اس طرف کوئی چانس نہیں ہے اب وہ اپنی جانوسائیں کو خود پٹا لے گا
لیکن دائم بیچارے کو کون سمجھائے کہ جانو سائیں کے دل میں تو رویام بستا تھا
جس سے وہ بے حد محبت کرتی تھی
وہ دو تین گھنٹے ایک دوسرے سے کونسی باتیں کرتے تھے کسی کو سمجھ نہیں آتی تھی بس سارا دن یارم کی موبائل کی شامت آئی رہتی
یہاں وہ جانو سائیں سے کھلم کھلا اپنی محبت کا اظہار کرتا تھا اور وہاں پری یارم کا نمبر لے چکی تھی رویام سے باتیں کرنے کے لئے
پہلی بار پری کو دیکھتے ہی رویام کو جانو سائیں کی یاد آئی تھی اور اس نے اسے اسی نام سے بلایا تھا لیکن اب جب اس کی جانو سائیں پری کی وجہ سے اس سے روٹھنے لگی تھی تو اسے پری بالکل اچھی نہیں لگتی تھی
اور کل فون پر اس نے پری کو کہہ دیا تھا کہ تم اپنے (کھلوش یو)کھڑوس دیو کے ساتھ رہو مجھے میری جانوسائیں بہت پیاری ہے جو اس کی محبت ہی نہیں بلکہ کا فرسٹ لو کرش بھی ہے
اس کو پتا تو نہیں تھا فرسٹ لو کرش کیاہوتا ہے لیکن یارم کے کہنے پر وہ بول گیا تھا
ان کی باتوں پر پری کا معصوم سادل ٹوٹ گیا
اور اس کے جھوٹ موٹ کے رونے پر رویام نے اس پر ترس کھاتے ہوئے اسے چھوٹا سا آئی لو یو بول ہی ڈالا
روح اور یارم تو اپنے بیٹے کی یہ فین فولونگ دیکھ کر پریشان تھے روح کس کس کو بہو بناتی اچھی خاصی کنفیوز تھی ۔
جب کہ یارم تو اپنے بیٹے کی ٹھرکیاں دیکھ کر یہ سارے کام تو یارم نے خود کبھی زندگی میں نہیں کیے تھے جو اس کا بیٹا صرف ڈھائی سال کی عمر میں کر رہا تھا
°°°°°°
اگلے ہفتے روح کی سالگرہ تھی جسے یارم ہر سال کی طرح اس سال بھی بہت دھوم دھام سے منانے والا تھا اسی سلسلے میں اس نے سب لوگوں کو کام پر لگایا ہوا تھا
سب لوگ ہی اس کی سالگرہ کی تیاری میں بے حد مصروف تھے
جبکہ روح ہر چیز سے بے خبر اپنے بیٹے کی خواہشات پوری کرنے میں مصروف تھی اس وقت وہ اس کے لیے چوکلیٹ کیک بنا رہی تھی چوکلیٹ کا تو وہ دیوانہ تھا
اسی چوکلیٹ سے بنی ہر چیز پسند تھی اور روح کو اپنے بیٹے کی ہر خواہش پوری کرنی تھی
آخر اس کا بیٹا موت کے منہ سے واپس آیا تھا اب تو وہ اس کی کسی بھی خواہش کو ٹال ہی نہیں سکتی تھی اس کا بس چلتا تھا پوری دنیا اٹھا کر اس کے پیروں میں رکھ دے
ماں تھی اللہ نے جتنا بس میں دیا تھا وہ کر رہی تھی
وہ کاؤنٹر پر بڑے مزے سے کھڑا چاکلیٹ کا پیس اپنے منہ میں ڈالے شونو سے باتیں کرنے میں مگن تھا ۔
جبکہ روح بڑے مزے سے اس کے لئے کیک بنارہی تھی دھیان اسی کی جانب تھا اس کی باتوں پر مسکراتے ہوئے وہ اپنے کام میں مصروف تھی جب آہستہ سے یارم نے پیچھے سے آ کر اس کے لبوں پر ہاتھ رکھا اور ساتھ ہی اس کے گالوں کو اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے اس کی گردن پر جھکا تھا
یارم کیا کر رہے ہیں آپ اس کا لمس آپنی گردن پر محسوس کرتے ہوئے وہ اپنے ہونٹوں سے اس کا ہاتھ ہٹا کر پوچھنے لگی
خاموش رہو ابھی تمہارا بوڈی گارڈ سن لے گااور پھر اس کا سوال ہوگا بابا آپ میری ماما کے پیچھے کھڑے کیا کر رہے ہیں وہ رویام کی نقل اتارتے ہوئے اس کی گردن پر لب رکھ چکا تھا
ہاں تو میرا سوال بھی یہی ہے آپ میرے پیچھے کھڑے کیا کر رہے ہیں جائے کمرے میں فریش ہو کر آئے اس کے انداز پر مسکراتے ہوئے روح بھی بے حد مدہم آواز میں بولی تھی
یار پیار تو کرنے دو تمہارے باڈی گارڈ کا بس چلے تو مجھے تمہارے قریب بھی نہ بھٹکنے دےاس کے لبوں کو چومتا وہ بہت محبت سے بولا تھا
یارم آپ کیا کر رہے ہیں رویام دیکھ لے گا وہ اسے پیچھے ہٹآتی ہوئی سمجھانے لگی
لیکن اس بار رویام کی نظر اس پر پڑہی گئی جو پتا نہیں کس بات کو لے کر روح سے سوال کرنے لگا تھا
اپ میلی ماما تے پاش تیا تر رے او(آپ میری ماما کے پاس کیا کر رہے ہو) اس کا سوال بالکل یارم کی سوچ کے مطابق تھا
بس تیری ماں نہیں ہے میری بیوی بھی ہے یارم فوراً جواب دیتا روح کی طرف متوجہ ہوا
ماما اپ صرش ریام تی او نہ (ماما آپ صرف رویام کہ ہونا) وہ بے حد معصوم سی شکل بنا کر ،پوچھنے لگا تو روح نے فوراً اس پر پیار آیا
ہاں میری جان ماماصرف رویام کی ہے وہ اس کا گال چومتے ہوئے بولی تو رویام نے شرارتی سی ایک نظر یارم پر ڈالی جیسے کہہ رہا ہوں اب خوش ہو گئی تسلی یارم نے گھور کران ماں بیٹے کی جوڑی کو دیکھا
یہاں کھڑے رہنا ہی بیکار ہے جا رہا ہوں میں فریش ہونے وہ منہ بنا کر کہتا فریش ہونے چلا گیا کے پیچھے سے اسے رویام کی جیت سے بھرپور کھلکھلاہٹ کی آواز آئی تھی وہ اختیار مسکرایا
اس کا ننھا شہزادہ اسے ہرا کر خوش ہوتا تھا جب اس کی ماں اپنی بھرپور محبت کا اظہار صرف اس کے لئے کرتی تھی
°°°°°°
شام کے وقت ساری بچہ پارٹی یارم کے گھر پر موجود کی روح ان سب کے لیے سینیٹ بنا رہی تھی جب کہ وہ پانچوں سرجوڑے پتہ نہیں کون سی باتوں میں مصروف تھے
بس اتنا پتا تھا کہ اندر ہی اندر کوئی پلاننگ چل رہی ہے جس میں روح کو شامل نہیں کیا جا رہا
لیکن روح کو ان سب چیزوں سے فرق پڑتا تھا وہ تو بچوں کی پسند کی چیزیں بنا کر باہر لان میں لے آئی
جہاں وہ سارے کھیل میں مصروف تھے
لیلیٰ عنایت اور مہر کو واپس لے آئی تھی اور اب وہ انہی کے ساتھ رہتی تھی
لیلیٰ بہت خوش تھی جبکہ معصومہ کے دوسری بار پریگنیٹ ہونے پر ان کی خوشیوں میں مزید اضافہ ہو گیا تھا
مشارف نے کہا تھا کہ اس بار اسے بہن چاہیے اور ایسا ہی کچھ معصومہ اور شارف کی بھی خواہش بھی ہے باقی اب جیسا اللہ کو منظور
جبکہ رویام کو جب سے پتہ چلا تھا کہ بہن بھائی گال پر کس کرتے ہیں اسے بہن بھائی بالکل اچھے نہیں لگتے تھے وہ تو پہلے بھی عنایت مہر اور مشارف سے اچھا خاصہ تنگ تھا اسے کس صرف اپنی ماں کا ہی پسند تھا اسے تو اپنے باپ کی چبتی ہوئی داڑھی مونچھ پسند نہیں تھی بہن بھائی کی کہاں سے پسند آتی
اس لیے اسے بہن بھائی کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں کی ۔
اور روح اور یارم کے لیے بھی اب رویام ہی کافی تھا وہ اسی کے ننھے وجود پر اپنی ساری خوشیاں خواہشات لوٹاتے تھے
°°°°°°
ایک ہفتہ بے حد تیزی سے گزرا تھا
وہ گہری نیند میں سو رہی تھی جبکہ رویام اس کی باہوں میں گہری نیند میں تھا یارم کا وجود اسے بیڈ پر بالکل برداشت نہ ہوا اسی لئے یارم صوفے پر سو رہا تھا
بارہ بجتے ہی یارم نے آہستہ سے اپنی چادر خود سے ہٹاتے ہوئے بیڈ جانب قدم بڑھائے
بے حد نرمی سے اس نے روح کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے گال پر جھک کر پیار کیا
سالگرہ مبارک ہو میرا بچہ وہ اسے ہاتھ کے اشارے سے اٹھنے کا کہتا دوسرے کمرے میں بلا رہا تھا اس نے مسکرا کر اسے دیکھا
اسے تو بالکل یاد بھی نہیں تھا کہ اس کی سالگرہ ہے یقیناً وہ سب اتنے دنوں سے اسی چیز کی پلاننگ کر رہے تھے
اس نے بے حد نرمی سے رویام کو بیڈ پر سیدھا کیا اور باہر کی جانب ائی جہاں شانو اس کا انتظار کر رہا تھا اس کے گلے میں ایک کارڈ لکھا ہوا تھا جس پر ہپی برتھ ڈے روح لکھا تھا
میرا پیارا بےبی تھینک یو سو مچ وہ اس کے بال سہلاتی بہت محبت سے بولی تھی جب کہ شونو رویام کے پاس جا چکا تھا کہ وہ روح کی غیر موجودگی میں اس کا خیال رکھ سکے
یارم اسے گھر کے دوسرے بیڈروم میں بلا رہا تھا
°°°°°
اس نے کمرے میں قدم رکھا تو کمرے کو بے حد خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ہر طرف پھول ہی پھول تھے
کمرے کے بیچوں بیچ ایک چھوٹی سی ٹیبل تھی اور اس ٹیبل پر رکھا ہوا ایک کیک
جس پر بہت خوبصورتی سے روح یارم لکھا تھا
ہیپی برتھ ڈے میرا بچہ اللہ تمہیں زندگی کی ہر خوشی دے وہ اس کا ماتھا چومتا اسے اپنی باہوں میں لے لئے بہت محبت سے بولا تھا روح نے آہستہ سے اس کے سینے پر اپنا سر رکھا
تھینک یو سو مچ یارم اس نے مسکرا کر کہا تو یارم نے اس کے دونوں بازو تھامتے اسے خود سے الگ کیا
یہ تھینک یو سو مچ کا کیا میں اچار ڈالو کا مجھے نہیں چاہیے مجھے تو کچھ اور چاہیے اور اس کے لبوں کو اپنی انگلی سے سہلاتا اسے نظر جھکانے پر مجبور کر گیا
کب سدھریں گے آپ یارم وہ اسے خود سے ذرا دور کرتے ہوئے کہنے لگی تو یارم نے ایک ہی جھٹکے میں اس سے آپنے بے حد قریب کر لیا
جب تک تم یوہی پاگل کرتی رہوگی تب تک تو میرے سدھرنے کے کوئی چانس نہیں ہیں وہ نرمی سے اس کا چہرہ تھا میں اس کے لبوں پر جھکا تھا
اس کے لبوں پر اپنے لبوں لگاتا وہ اس کی اور اپنی سانسیں ایک کرنے لگا
روح خاموشی سے اس کا لمس اپنے لبوں پر محسوس کر رہی تھی
وہ بہت نرمی سے اس کے لبوں کو چوم رہا تھا جب روح نے ذرا سا فاصلہ بنایا
آپ یہاں مجھے میری برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے کے لئے لائے ہیں یا اپنی تیشنگی پوری کرنے وہ اسے گھورتے ہوئے پوچھنے لگی تو یارم اس کی کمر میں ہاتھ ڈالنے سے بےحد قریب کرتا ایک میٹھی سی جسارت اس کے لبوں پر پھر سے کر گیا
لایا تو تمہیں تمہاری برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے کے لئے ہی ہوں
لیکن تھوڑا بہت پیار کر لینے میں بھی کوئی حرج نہیں اور ویسے بھی برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے کے بعد کا بھی انتظام میں نے پورا کر رکھا ہے وہ بیڈ کی طرف اشارہ کرنے لگا جہاں بےحد پھولوں کی پتیوں کے بیچ ان دونوں کا نام لکھا تھا
روح نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسے دیکھا جب کہ یارم اس کے ہاتھ میں چھری پکڑاتا اسے آہستہ سے ٹیبل کے قریب لے آیا
یقین کرو یہ تمہارے ہونٹوں سے زیادہ میٹھا تو نہیں ہوگا لیکن برتھ ڈے تو منانا ہے تبھی تو کچھ اور نصیب ہوگا
وہ بے حد شرارتی انداز میں کہتا ہے اس کے پیچھے کھڑا ہو کر کیک کاٹنے لگاروح نے ہنستے ہوئے کیک پر چھری چلائی اور کیک کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اسے کھلانے لگی جسے یارم نے صرف اپنے لبوں سے چھوا تھا
سچ تھا اسے میٹھے میں صرف روح کے لب ہی پسند تھے
وہ کیک کا ٹکڑاروح کو کھلا کر ایک بار پھر سے اس کے لبوں پر جھکا تھا
وہ خاموشی سے اس کا لمس محسوس کرتی اس کی گردن میں باہیں ڈالے اپنا آپ اس کے حوالے کر چکی تھی
اس کا نازک سا وجود اپنی باہوں میں اٹھائے وہاسے بیڈ پر لے آیا
اگر تمہارا بیٹا یہاں پر ہوتا نا تو پوچھتا میری ماں آپ کی باہوں میں کیا کر رہی ہے ۔اس نے تو بالکل تمہیں اپنا ہی بنا لیا ہے ۔پتہ نہیں کب ہو گا وہ پانچ سال کا کہ میں اسے اس کے روم میں رخصت کروں گا اس کے ہونٹوں کے بعد اس کی گردن کو چومتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھوں کو قید کئے وہ اتنی بے بسی سے بولا روح کی ہنسی چھوٹ گئی
بس کریں یارم کتنا جلیں گے میرے بیٹے سے اس نے ہنستے ہوئے کہا تو یارم نے اسے گھور کر دیکھا
ہاں صرف تمہارا ہی بیٹا ہے نہ میرا تو کچھ لگتا ہی نہیں اس کی شہ رگ کو چومتے ہوئے وہ بہت پیار سے بولا روح نے اس کے انداز میں رویام کے لئے بے حد محبت محسوس کی تھی
اور اب وہ اور کیا کہتی اس کی باہوں میں بھی پل پل پگھلتی وہ اس کی محبت کی شدت کو محسوس کر رہی تھی لمحہ لمحہ اسی کی ہو رہی تھی
وہ ہر گزرتے پل کے ساتھ اسے اپنی محبت کا احساس دلاتا اس کی ایک ایک دھڑکن پر اپنا نام لکھ رہا تھا وہ اسے خود میں قید کر چکا تھا
اور روح اس کی محبت کی قیدی کی اس کی پناہوں میں سمٹتی اس کی محبت کو محسوس کر رہی تھی ۔
جو اس کی ایک ایک سانس کا مالک تھا
°°°°°°
