Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 8)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 8)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
یارم یہ کیسا ہے ۔۔۔۔؟اس نے ایک چھوچھوٹے سے بےبی ڈریس کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
روح یہ شونو کو فٹ نہیں ہو گا ۔۔یارم نے بےزاری سے کہا۔
آہووو یارم میں شونو کی بات نہیں کررہی یہ تو میں۔۔۔۔وہ کچھ کہتے کہتے مسکرائی تھی
شونو کے لیے نہیں تو پھر میرے لیے ہے کیا ۔اس کی مسکراہٹ کو وہ باج بوجھ کر اگنور کر گیا
یارم آپ بھی نا ۔ . کیا ہم ساری زندگی شونو کے ہی کپڑے خریدتے رہے گے میں تو اپنے بےبی کی بات کر رہی ہوں
اس نے شرماتے ہوئے کہا
آوووو اچھا تم یہ ہمارے ہونے والے بےبی کے لیے دیکھ رہی ہو ۔۔بہت پیارا ہے بٹ میرا نہیں خیال کہ ابھی ہمیں اس کی ضرورت ہے ۔اس کی پیاری سی مسکان کو اپنے دل میں بسائے وہ محبت سے بولا۔
ہاں پتہ نہیں ہمیہں اس کی ضرورت کب ہو گی یہ بہت خوبصورت ہے ۔۔روح نے حسرت سے کہا۔
تو پھر لے لو میری جان ۔جو چیز دل کو اچھی لگے اس کو انتظار نہیں کرواتے۔اور ان شااللہ اس کو پہننے والا بھی آ ہی جائے گا یارم نے اس کی جھکی . ظریں دیکھتے ہوئے کہا
میں فضول خرچ نہیں ہوں یارم اور یہ کتنا مہنگا بھی تو ہے اور ویسے بھی ہم بعد اس کی شاپنگ کرے گے ہی روح نے ڈریس واپس رکھتے ہوئے کہا۔
یارم کا دل چاہا کہہ دےکہ یہ جو شونو کے لیے شوپنگ کی ہے وہ بھی تو تقریباً فضول خرچی ہی ہے لیکن نہیں وہ شونو کی شان میں گستاخی برادشت نہیں کرتی تھی۔
تمہیں جو چیز پسند ہو تم اسے لے لیا کرو اس کی پمینٹ کرنا میرا کام ہے تمہارا نہیں اور ویسے بھی یہ وہ پہلی چیز ہے جو تم نے شونو کے بجائے ہمارے بچے کے لیے پسند کی ہے ۔۔میں نہیں چاہتا کہ تمہاری پسند کسی اور کے حصے میں جائےاس نے وہ ڈریس اٹھتے ہوئے اس باور کروایا تو روح مسکراتے ہوئےاس کے پیچھے چکی آئی
جبکہ شونو کی چھوٹی سی رسی اس کے ہاتھ میں تھی ۔اور وہ اس کے ساتھ آہستہ آہستہ چل رہا تھا
یارم یہ آپ پے بہت پیارا لگے گا پلیزٹرائی کریں نا۔ وہ ایک بلو شرٹ بلکل ویسی ہی جیسی یارم پہناتا تھا اسے دیکھتے ہوئے بولی
اوکے۔۔۔ یارم نے فوراً اس کی پسند پر مہر لگا دی
اوکے نہیں ابھی ٹرائی کریں ۔وہ باضد ہوئی
روح لے لو نا یار پہن لوں گا۔تمہاری پسند بُری نہیں ہو سکتی ۔خرید لو یارم نے کہا
یارم میں آپ کو ٹرائی کرنے کا بول رہی ہوں نا۔اور اسے گھورتے ہوئی بولی ۔ساتھ ہی منہ بھی بسور لیا ۔مطلب اگر اس کی بات نہ مانی تو اس سے ناراضگی پکی اور یارم اس کی ناراضگی افورڈ نہیں کر سکتا تھا
ٹھیک ہے یار جا رہا ہوں ٹرائی کرنے منہ سیدھا کرو ۔خیال رکھنا اس کا وہ شونو کو دیکھتے ہوئے بولا اور ٹرائیل روم کی طرف چلا گیا۔اور شونو نے ہلکی آواز میں اسے یقین دلایا۔کہ وہ اس کے جانے کے بعد روح کا خیال رکھے گا
جبکہ روح مسکارتے ہوئے اور چیزیں پسند کرنے لگی
°°°°°
چھوٹے بچوں کے چھوٹے چھوٹے کپڑے دیکھتے ہوئے وہ اس حد تک ان میں کھو گئی کہ اسے پتہ بھی نہ چلا کہ وہ بچوں کی شاپنگ سینٹر کے اندرآچکی تھی اور بےدھیانی میں ہی وہ ان چیزوں کو دیکھنے میں اس حد تک مصروف ہو چکی تھی کہ اسے بالکل بھی ہوش نہ رہا کہ شونو اس کے پاس ہے بھی یا نہیں
بچوں کے خوبصورت کپڑے جوتے اور استعمال کی چیزیں اسے اندرسے بہت خوش کر رہی تھی اور یہی ساری چیزیں اس کے اندر ایک بار پھر سے ایک محرومی پیدا کر رہی تھی ۔
اسے آج بھی وہ دن بہت اچھے سے یاد تھا جب یارم کو اس کی ماں بننے کی خبر ملی تھی وہ دبئی سے پاکستان صرف اس کی خاطر گیا تھا
اور اس خوشی کو ان دونوں نے مل کر سیلیبریٹ کیا تھا لیکن ان کی یہ خوشی ان سے جلد ہی چھین گئی شاید تب اللہ کو منظور نہیں تھا ۔
اور اس کے بعد زندگی ایسا امتحان بنی کہ انہیں کسی چیز کا ہوش ہی نہ رہا ۔لیکن وہ صبر کرنے والی لڑکی تھی وہ جانتی تھی کہ اللہ آپنے پسندیدہ نسانوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے یقیناً وہ اللہ کی پسندیدہ انسانوں میں سے ایک تھی
اور اس کا یقین کامل تھا کہ اس کی خوشیاں اس سے دور نہیں عنقریب اس کا رب اس پر مہربان ہونے والا ہے اپنے خیالوں میں کھوئے وہ اس سب چیزوں کو چھو رہی تھی جب اسے احساس ہوا کہ شونو تو اس کے قریب ہے ہی نہیں
وہ بے چینی سے ہر طرف شونو کو تلاش کرنے لگی لیکن نہ جانے وہ کس طرف جا چکا تھا اسے کہیں سے بھی شونو کا کوئی اتا پتا نہیں مل رہا تھا
وہ بچوں کے کپڑوں کی دوکان سے نکل کر آگے پیچھے دیکھنے لگی کہ یارم نجانے کہاں رہ گیا تھا ابھی تک نہیں آیا کہیں شونو یارم کےاس تو نہیں چلا گیا
اسی سوچ کے ساتھ وہ ایک بار پھر سے پوری مارکیٹ میں نظر دوڑآنے لگی
لیکن اب بھی شونو اسے کہیں نظر نہیں آیا تھا
اب اس کے پاس نیچے جانے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا کیوں کے یہاں اوپر وہ ہر جگہ دیکھ چکی تھی اسی لئے اب ایک بار نیچے دیکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وہ سیڑھیاں اترنے لگی جب اچانک کسی نے اس کا بازو تھام لیا
کیا ہوگیا ہے روح کیوں اس طرح سے نیچے جا رہی ہومیں تو یہاں پر ہوں یارم اس کی پسند کی ہوئی بلوشرٹ پہنے اس کے سامنے کھڑا تھا
یارم شونو کہیں چلا گیا ہے پتا نہیں کہاں غائب ہو گیا ہے کہیں نہیں مل رہا میں تو یہاں سب طرف دیکھ چکی ہوں لیکن وہ کہیں پر نہیں ہے
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا وہ بہت پریشان لگ رہی تھی
ڈونٹ وری روح یہی ہوگا کہ آجائے گا وہ کسی کے جانور کے ساتھ کھیل رہا ہوگا تم یہیں پر رکو میں نیچے دیکھ کر آتا ہوں دبئی کے اس شاپنگ سینٹر میں لوگوں کو اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ اندر آنے کی اجازت تھی
اور یہاں جانوروں کے کپڑوں کی ایک الگ سے ورائٹی موجود تھی اسی لیے روح اسے ہمیشہ یہی لانے کی ضد کرتی تھی
یہ جگہ ان کے لیے انجان نہیں تھی لیکن شونو کا گم ہو جانا اس کی پریشانی کی وجہ تھی روح وہی رک کر آگے پیچھے شونو کو دیکھنے لگی جب کہ یارم نیچے جا چکا تھا
°°°°
وہ پریشانی سے ساری جگہ چیک کرچکی تھی جب میل ریسٹ رو م کی طرف اسے شونو کی رسی نظر آئی وہ تیزی سے اس کی طرف آئی تھی لیکن سامنے ہی شونو کو کسی دوسرے شخص کے جوتے چاٹتے اور اس کی ہاتھ سے بسکٹ کھاتے دیکھ کر پریشان ہو گئی
پہلے تو اسے شونو کی اس حرکت پر اچھا خاصا غصہ آیا ایک تو وہ خود نہ جانے کہاں چلا گیا تھا اور اب وہ یہاں کسی انجان شخص کو پیار کر رہا تھا جب کہ وہ شخص آرام سے اس کے قریب بیٹھا اس کے بال سہلا رہا تھا
نہ جانے یہ شخص کون ہے
کوئی عربی ہی ہو گا میں اسے اپنی بات کیسے سمجھاؤں گی میں یارم کو بلا کے لاتی ہوں روح نے سوچا
لیکن میرے واپس آنے سے پہلے اگر یہ شخص میرے شونو کو کہیں لے گیا تو روح نے اپنے چلتے قدم پر بریک لگائی اور مڑ کر دیکھا
وہ میرا ہے شونو مجھے پہچانتا ہے مجھے دیکھتے ہی میرے پاس آ جائے گا اس نے سوچتے ہوئے اس شخص کے سامنے جانا بہتر سمجھا
اور اس کے قریب آتے ہوئے اس کی رسی کو تھام کر بنا اس شخص کو دیکھےاسے لے کر جانے لگی ۔
لیکن شونوتو جیسے آنے کو تیار ہی نہیں تھا وہ تو بہت آرام سے اس نئے شخص کی محبت کو وصول کر رہا تھا
یہ میرا ڈوگی ہے ۔روح نے اردو میں کہا کیوں کہ سے ابھی تک عربی نہیں آتی تھی اور نہ ہی یارم نے سکھانا ضروری سمجھی ۔
اب روح کو سمجھ نہیں آیا تھا کہ اس کی بات یہ سامنے والاشخص سمجھ پایا ہے یا نہیں لیکن روح اپنا فرض نبھا چکی تھی
میرا نام درک ہے ۔۔اسے پیچھے سے آواز سنائی دی روح نے مڑ کر دیکھا اس کا شونو بڑا اداس لگ رہا تھا لیکن یہ بات اسے سمجھ آچکی تھی کہ وہ شخص اردو جانتا ہے اور اس کی بات کو بہت اچھے طریقے سے سمجھ چکا ہے
ماشاءاللہ اچھا نام ہے آپ کا ۔وہ سرد انداز میں کہتی شونو کو گھسیٹ رہی تھی اور وہ اسے وہاں سے لے گئی تھی اپنا نام بتانے کی زحمت اس نے بالکل گوارا نہیں کی تھی
جب کہ اسے اس طرح اسے دور جاتے دیکھ کر وہ شخص ذرا سا مسکرایا تھا
اس نے ایک نظر مڑ کر دیکھا وہ شخص اب وہاں پر موجود نہیں تھا جبکہ یارم کو نیچے وہ سکیورٹی گارڈ سے بات کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی اس نے ہاتھ کے اشارے سے یارم کو اپنی طرف متوجہ کیا
اور ساتھ میں اس سے رسی بھی دکھائی کہ شونواسے مل چکا ہے
یار م سکون کا سانس لیتے ہوئے دوبارہ اس کے قریب آیا تھا
°°°°
شاپنگ مکمل ہو چکی ہے اور اب وہ گھر جانے کا فیصلہ کر چکے تھے یارم یہ بہت بگڑ گیا ہے ایک انجان شخص سے پیار لے رہا تھا اس کو تو وہ گھر چل کر ٹھیک کرتی ہو ں
کیسے اس شخص سے بسکٹ لے کر کھا رہا تھا یہ ۔روح غصے سے شونو کو گھورتے ہوئے ساتھ لے جانے لگی ۔
جب کہ یارم جانتا تھا کہ سارا غصہ کسی دوسرے شخص سے بسکٹ لے کر کھانے یا اس سے پیار لینے کا نہیں بلکہ یہ اس کے اندر کی جلن تھی وہ چاہتی ہی نہیں تھی شونو کو اس کے علاوہ کسی اور سے اتنی اٹیچمنٹ ہو اسی لئے تو وہ اسے معصومہ کے پاس بھی زیادہ نہیں رہنے دیتی تھی ۔
کون تھا وہ شخص تم نے اسے بتایا نہ کہ یہ کتا تمہارا ہے۔اور اس کا بنا تمہاری اجازت کے تمہارے کتے کو اس طرح سے چھونا یا اسے اپنی طرف متوجہ کرنا غیر قانونی ہے یا رم نے پوچھا
میں نے بس اتنا ہی کہا کہ یہ ڈوگی میرا ہے ۔اور پھر اسے لے کر آگئی ۔لیکن یہ اس کے پاس بہت آرام سے بیٹھا تھا ۔کیسے آرام سے اس کے ہاتھ سے کھا رہا تھا مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگا یا رم۔وہ اپنے دل کی کیفیت بیان کرتے ہوئے بولی تو یارم مسکرا دیا
بس یہی حال ہوتا ہے میرا جب تم مجھے چھوڑ کر ہر چیز پر دھیان دیتی ہوں یارم بڑبڑاتے ہوئے اس کے ساتھ چل رہا تھا شکر ہے کہ روح نے اس کی بات پر غور نہیں کیا تھا کیونکہ اس وقت وہ شونو پر غصہ تھی
یقینا اس کی بات سن کر شونو کے ساتھ ساتھ اس سے بھی خفا ہو جاتی
اور اسے گاڑی میں بیٹھاتے ہی اس کی نصیحتیں شروع ہوچکی تھی ۔شونو خاموشی سے اس کی ڈانٹ سن رہا تھا
بس کر دو بے بی اب کیا جان لو گی اس بیچارے کی ہوگی غلطی اس سے اسے تھوڑی نہ پتا تھا کہ کسی اور سے پیار لینے پر تم اتنا غصہ ہو جاؤ گی لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہا اس نسل کے کتے تو زیادہ لوگوں کے ساتھ اٹیچ نہیں ہوتے
اور نہ ہی انجان لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو پھر شونو اس آدمی کے پاس گیا کیسے
یارم کہیں وہ کوئی کڈنپر تو نہیں تھا ہو سکتا ہے وہ شونو کو ہم سے چُرا کر لے جانا چاہتا ہوروح کوایک اور خیال گزرا
اور یہ بات سچ بھی ہو سکتی تھی ۔کیوں کہ کوئی پاگل ہی تھا جو اتنی مہنگی نسل کے کتے کو اس طرح سے چھوڑ دیتا
ممکن ہے تمہاری بات بھی ۔ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی چورہی ہو لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں شونو کی نسل کے کتے بہت ہوشیار ہوتے ہیں وہ اتنی آسانی سے کسی کے ہاتھ نہیں آتے یارم نے اسے بے فکر کرنا چاہتا تھا
اور یہ بات سچ بھی تھی کتے کی جس نسل سے شونو کا تعلق تھا وہ ایک بہت ہوشیار اور بہادر نسل تھی چھوٹے قد کے یہ کتے آسٹریلین آرمی میں بھی استعمال ہو رہے تھے ۔اس لیے ان کو لے کر اس طرح کا ڈر رکھنا ایک قسم کی بے وقوفی تھی ۔
لیکن روح کے لیے وہ کوئی سمجھدار ہوشیار کتا نہیں تھا بلکہ اس کے لیے تو وہ اس کا چھوٹا سا شونو تھا جو کسی بات کو نہیں سمجھتا اور اسے اپنی مالکن کی ضرورت ہے
°°°°
یہ تو بہت اچھا ہے یارم لیکن شاید تم اس بات کو سمجھ نہیں پا رہے کہ فی الحال کام بہت زیادہ ہے
اور تم روح کو اس طرح سے لے کر چلے جاؤ گے تو کام میں بہت مسائل پیش آئیں گے اور تم جانتے ہو کہ یہ سب کچھ ہم اکیلے ہی نہیں کرسکتے
14تاریخ تو یہ آرہی ہے اور تم مجھے ابھی یہ سب کچھ اتنا اچانک بتا رہے ہو ۔
کام ہوتے رہیں گے خضر ایک عرصے سے ہم کام کر رہے ہیں میں تھوڑا وقت اپنی بیوی کو دینا چاہتا ہوں تو اس میں غلط کیا ہے
روح کی طبیعت ابھی تھوڑی بہتر ہوئی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں اس کے ساتھ ایک نئی اور پیاری زندگی کی شروعات کرو ں ۔
اسی لیے میں نے یہ سب کچھ کروایا تھا ۔اور کام تم اور شارف سنبھال لو گے سب مجھے اس کی ٹینشن نہیں ہے یارم نے کافی بے فکری سے کہا لیکن خضر بے فکر نہیں تھا
یارم تم ہو تو ہم ہیں تمہارے نہ ہونے سے یہاں کچھ نہیں ہو سکتا تم جانتے ہو اور فلحال بہت سارے کیسز میں ہمارا نام شامل ہے
اس وقت تمہارا منظر سے غائب ہونا ہمیں بہت بری طرح پھنسا دے گا اس لئے میری مانو تو تم یہ پلان کینسل کر دو
اگر تم روح سے بات نہیں کر سکتے تو میں اسے سمجھاؤں گا وہ میری مجبوری کو سمجھ جائے گی لیکن تمہارا اس طرح یوں اچانک جانا ہمارے لئے کل بہت سارے مسائل پیدا کر دے گا
خضر نے سمجھانے والے انداز میں کہا تھا
اس کی بات ٹھیک تھی یارم کا اس طرح سے منظر سے غائب ہونا ان کے لیے نقصان دہ ہوسکتا تھا
کیونکہ الحال یارم بہت سارے کیسز میں ہاتھ ڈال چکا تھا وہ بہت سارے بڑےکنگ سے پنگا لے چکا تھا اور ایسے میں اس کا جانا اس کہی ٹیم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا
لیکن وہ روح سے وعدہ کر چکا تھا ۔جسے وہ کبھی بھی توڑ نہیں سکتا تھا
آج 9 تاریخ تھی ان کو جانے میں سے پانچ دن باقی تھے ۔
اور کچھ دن سے روح بھی بنا کسی قسم کی کوئی بھی مستی کی میڈیسن لے رہی تھی پچھلے کچھ دنوں سے وہ جس طرح سے خوش تھی وہ اسے ہرٹ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا
°°°°
وہ آج بھی دوائیوں کے زہر اثر گہری نیند میں اتر چکی تھی اور سونے سے پہلے آج بھی اس نے سویزیلینڈ جانے کی بہت ساری باتیں کی تھی
کتنے وقت کے بعد وہ دونوں اکیلے ہی جانے والے تھے ہر پریشانی پر ٹینشن سے دور 24 گھنٹے ایک ساتھ۔وہاں صرف روح ہوتی اور اس کا یارم بس یہی سوچ روح کو بہت خوش کیے ہوئے تھی
جس نے اس کی صحت پر بھی بہت اچھا اثر ڈالا تھا ۔لیکن اب وہ اسے بتا نہیں پا رہا تھا کہ وہ 14 تاریخ اس کے ساتھ نہیں جا سکتا اس وقت یارم بہت سارے کیڑے موڑے نما ڈانز کی نظر میں تھا
جو اس کو تو نہیں لیکن اس کے جانے کے بعد اس کی ٹیم کو نقصان پہنچا سکتے تھے
نہ تو وہ اپنی ٹیم پر کسی قسم کا کوئی رسک لے سکتا تھا اور نہ ہی روح کیا ہوا وعدہ توڑ سکتا تھا
وہ اپنی ہی سوچوں میں گم کب سے روح کا معصوم چہرہ نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا جب اسے لگا کی وہ نیند میں بے چین ہو رہی ہے اس نے اس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اسے اپنے ہونے کا احساس دلایا تھا لیکن روح کی بے چینی کم نہیں ہوئی بلکہ مزید بھر رہی تھی
اس کی سانس رکنے لگی تھی یارم نے اس کو گاجنا بہتر سمجھا جانتا تھا کہ روح نیند کی دوائی کے زہر اثر ہے وہ آسانی سے نہیں جاگے گی لیکن یارم نے ایک جھٹکے میں اسے بیڈ پر بٹھا دیا تھا جس سے اس کی نیند ٹوٹی تھی ۔
یارم نے فورن پانی کا گلاس اٹھا کر اس کے لبوں سے لگایا تھا وہ بہت بری طرح سے گھبرائی ہوئی تھی اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا یارم نے اسے اپنے نزدیک کرتے ہوئے اپنے سینے سے لگایا جانتا تھا کہ فی الحال تو کچھ بھی سمجھنے کی کنڈیشن میں نہیں ہے
یا رم ہم کب جائیں گے یہ دن گزر کیوں نہیں رہے
مجھے نہیں رہنا یہاں پلیز مجھے لے چل اپنے ساتھ
جہاں صرف ہم دونوں ہوں کوئی ڈر کوئی خوف نہیں یارم یہاں میرا دم گھٹتا ہے مجھے لے چلیں کھلی فضا میں کھل کے سانس لینا چاہتی ہوں
۔یارم مجھے کھل کر جینا ہے مجھے بہت ڈر لگتا ہے
یہ دن گزر کیوں نہیں رہے وہ اس کے سینے سے لگی آہستہ آہستہ بولتی دوبارہ نیند کی وادیوں میں اتر رہی تھی
جب کہ اس کے الفاظ نہ چاہتے ہوئے بھی یارم کو ایک اہم فیصلہ کرنے پر مجبور کر رہے تھے
°°°°°
