Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 29)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

یارم پلیز مت جائیں نا کام پر آج تو آپ کو بہت سارا آرام کرنا چاہیے ابھی آپ کو آرام کی ضرورت ہے

اور اس کے پیچھے پیچھے آتی اسے منا رہی تھی

میں گھر پر بور ہو رہا ہوں میری بیوی ایک بہت ہی بورنگ انسان ہے

یارم یہ کہتے ھوئے آگے بڑھ گیا

نہیں ہوں میں بورنگ پلیز مت جائیں وہ منتیں کر رہی تھی اگر وہ آفس چلا جاتا تو یارم نے شارف کا وہ حال کرنا تھا کہ ساری زندگی یاد رکھتا

ایک تو پہلے ہی وہ اس کی نازک سی ناک بیڑا غرق کر چکا تھا

اور اس کے معصوم سے ماموں کا بازو بھی توڑ آیا تھا

اور نہ جانے اب کیا کیا توڑنے والا تھاوہ اپنے ماموں اور بھائی کی زندگی مزید مشکل میں نہیں ڈال سکتی تھی

یارم کیا اپنی اتنی پیاری بیوی کی بات بھی نہیں مانیں گے وہ اس کے گلے میں باہیں ڈالتی اس کے بے حد قریب آ چکی تھی

میری بیوی بہت ہی نکمی ہے اپنے شوہر کو منانا بھی نہیں آتا اس کو اس لئے میں اس کی بات ماننے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہوں وہ اس کا نازک سا بازو اپنے گلے سے نکال کر بولا

ارے آپ موقع دو دیں روح کی زبان پر اختیار پھسلی ۔ اور تیزی سے س کے گلے میں واپس باہیں ڈالتے ہوئے یارم کی شرٹ کا بٹن لٹکنے لگا ۔

جس سے جہاں روح کے چہرے کی ہوائیاں اڑ رہی تھی وہی یارم کے چہرے پر جان لیوا مسکراہٹ آرُکی

وہ اپنی شرٹ سے لٹکتے ہوئے بٹن کو توڑ کر اس کی نازک سی کمر میں اپنا ہاتھ ڈال گیا ۔تو میری پیاری سی بیوی چاہتی ہے کہ میں اسے موقع دے کر اپنا ریپ کروالؤں۔پر کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رہوں وہ اپنے کھلے گریبان کو دیکھ کر شرارت سے بولا جبکہ روح کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے ہی رہے گی

اوکے کیا یاد کرو گی دیا تمہیں موقع وہ احسان کرنے والے انداز میں بولا جب کہ اس کی مسکراہٹ نے روح کو گھبرانے پر مجبور کر دیا

نہیں چاہیے موقع وہ جلدی سے بولی

لیکن میں تم اب موقع دوں گا ۔چلو اس بار منا لو مجھے وہ ایک آنکھ دباتا اس کا نازک سا وجود باہوں میں لیے صوفے پر آ بیٹھا

عجیب زبردستی ہے مجھے موقع نہیں چاہیے ۔وہ جلدی سے کہتی اس سے جان چھڑانا چاہتی تھی کیونکہ اس کا موڈ بدل گیا تھا ۔جب سے یارم واپس آیا تھا اس کی جان مشکل میں ڈالی ہوئی تھی ۔

اسے ایک پل کو سکون نہیں لینے دیا تھا ۔اور اب وہ اس کے ہونٹوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرکے پریشان ہو چکی تھی

جب کہ یارم تو ہمیشہ کی طرح اب مکمل مدہوش ہو چکا تھا

وہ اسے نہ تو کچھ کہنے دے رہا تھا اور نہ ہی اٹھنے دے رہا تھا

جب کہ روح یہ سوچ کر آدھی ہوئی جا رہی تھی کہ یارم اس کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا ۔

کیا اسے لگ رہا ہو حا کی شرٹ کے بٹن توڑنے والی حرکت اس نے جان بوجھ کر کی ۔

لیکن وہ تو احساس نہیں چاہتی تھی وہ تو صرف اپنے بھائی کو بچانا چاہتی تھی یارم کے قہر سے لیکن خود پھنس گئی

جبکہ یارم جب باہر آیا تو اس کو اپنی میری سوچوں میں مصروف دیکھا

یقیناً وہ سوچ رہی تھی کہ وہ اسے کیسے منائے یارم اسے مزید تنگ کرنے کے لیے آفس جانے کا بہانہ کرنے لگا ۔

اور اس کی سوچ کے عین مطابق وہ اسے آفس نہیں جانے دے رہی تھی ۔

اس کی شرٹ کا بٹن شرٹ پہنتے ہوئے ہی ٹوٹ چکا تھا اور اب وہ اسے روح کے پاس لے کر جانے والا تھا تاکہ روح اسے جوڑتے ہوئے اس کے بے حد قریب آجائے

اسے روح کو تنگ کرنے میں بہت مزہ آ رہا تھا وہ اس سے روٹھا ہوا تھا اور وہ اسے منانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی اور اس دوران اس کی من مستیاں من مانیاں اس کی گستاخیاں سب خاموشی سے برداشت کر رہی تھی ۔

یہاں تک کہ اس کی ناراضگی دور کرنے کے لئے اس کے ایک اشارے پر اس کے قریب دوڑی چلی آتی

یارم کو اب اس پر ترس بھی آرہا تھا

لیکن اس کے قریب آتے ہی یارم خود پر قابو رکھو دیتا ۔

اور پر اپنی شدت لٹانے لگتا

ابھی تو اس کی جدائی کی بیقراریاں بھی ختم نہیں ہوئی تھی

وہ دن یاد کرتے ہی اسے روح کی طلب پوری شدت سے محسوس ہونے لگتی

وہ اتنی وقت کر کے بغیر رہا کیسے ۔۔۔۔؟

یہ سوچ اسے خود بھی پریشان کر رہی تھی اور اب تو وہ اس سے ایک لمحے کی دوری برداشت نہیں کر پا رہا تھا ۔

اور نہ ہی وہ اسے خود سے دور جانے دے رہا تھا

°°°°

وہ سب لوگ مل کر آفس کا ایک ایک کونہ چمکا چکے تھے

اور اب شارف اور حضر پرسکون ہو کر آفس میں آکر بیٹھے

روح نے نہ جانے یارم کو کیسے روکا ہوگا ۔لیکن اس کا نا آنا فائدہ مند ثابت ہوا تھا

اس کے نہ آنے کی وجہ سے شارف کے ساتھ ساتھ آفس کے باقی لوگوں کی جان بھی بچ گئی تھی

ابھی انہیں سکون سے بیٹھ گئے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ صارم ان کے سر پر سوار ہوا

ہاتھ میں آریسٹ وارنٹ تھا جو یقین شارف کے نام کا تھا ۔

کیونکہ کل رات ایک دوست سے شرط جیتنے کے چکر میں اس نے ٹریفک پولیس والے کا والٹ چورایا اور بھاگ گیا

تھوڑا آگے جا کر اس نے والٹ کو ہی زمین پر پھینک دیا اور وہ شرٹ جیت گیا

لیکن اس کی یہ حرکت صارم کے ایک دوست ساتھی پولیس والے سے چھپی نہیں رہ سکی اور وہ شارف کو بھی پہچان گیا

چشم دید گواہ ہونے کی وجہ سے شارف اچھا خاصہ پھنس چکا تھا اور اب صارم اس کے سر پر سوار تھا

یارم کی موت کی خبر جھوٹی نکلنے کے بعد صارم تو اب بس ایک موقع کی تلاش میں تھا

اسے بس ایک بہانہ چاہیے تھا

اتنی آسانی سے تو وہ ان لوگوں کو بھی معاف کرنے والا نہیں تھا

وہ بے چارے تو صارم نامی اس مصیبت کو بھول ہی گئے تھے

لیکن اپنا دیدار کروا کر صارم نے انہیں واپس حقیقت کی دنیا میں آیا تھا

اور اب وہ شارف کا کیا حال کرنے والا تھا یہ تو وہ جانتا تھا یا پھر شارف

دیکھو انسپکٹر نمٹ میں رہ کر ورنہ میں سیدھے ہائی کورٹ جاؤں گا میں بتا رہا ہوں شارف اسے دھمکی دیتے ہوئے بولا جب کہ وہ تو اسے گھسیٹ کر لے جا رہا تھا

اور پھر جاتے جاتے خضر کے کان سے بھی نکال دیا کہ تم اپنی خیر مناؤ اس بار میں تمہیں بھی چھوڑنے والا نہیں بچپن کی دوستی بھاڑ میں ۔

اور اس کے ارادے خضر کو بھی کافی خطر ناک لگے تھے

°°°

وہ کب سے اس کے حسین چہرے کو دیکھ رہا تھا ساتھ ہی ساتھ اس کا ہاتھ روح کے بال سہلا رہا تھا

اسے پتہ تھا کہ وہ جاگ رہی ہے لیکن پھر بھی آنکھیں بند تھی یارم کی ساری ناراضگی ہوا ہو چکی تھی

اس کی روح نے اسے منا لیا تھا

یار بھوک لگی ہے وہ آہستہ سے منمنائی اور کے قریب سے اٹھنے کی کوشش کی اس کا ارادہ کچن میں جاکر کچھ بنانے کا تھا

لیکن اس سے پہلے ہی یارم نے اسے روک لیا

میرے بچے کو بھوک لگی ہے میں خود اپنی جان کے لیے کچھ اچھا سا بنا کے لاتا ہوں تو پیار سے اس کے ماتھے پر بوسہ لیتا ہوا بولا تو روح مسکرائی

اس کا پیارا ساانداز روح نے اسے منا لیا تھا اس نے پرسکون سے سانس لی اور اپنا سر تکیہ رکھا ۔

اب روح خوش تھی وہ اسے منانے میں کامیاب ہو چکی تھی اس کا یارم مان تھا اور اب اسے اور کچھ نہیں چاہیے تھا

°°°°°

یارم بہت پیار سے اس کے لئے کچھ بنا رہا تھا پھر یوٹیوب سے ٹپ لینے کا سوچتے ہوئے فون اٹھایا

لیکن فون ان لاک کرتے ہی شارف کی کال ریکارڈ دیکھی اور سوچا کے اس نے آج کل یہ پھر واپس آنے کے بعد شارف کو فون تو نہیں کیا تو پھر یہ آج کی کال ریکارڈ کی شوہور ہی ہے

شاید روح نے کال کی ہوگی وہ ریکارڈر آن کرتے ہوئے سوچ رہا تھا

وہ جانتا تھا کہ شارف اس کی ناراضگی وجہ سے کافی پریشان ہے کل یارم نے اسکا کافی برا حال کیا تھا ۔

لیکن اسے یقین تھا کہ ان شارف اس کی روح کوکبھی کوئی مشورہ نہیں دیکھا

فون سے شارف اور روح کی گفتگو سنتے ہوئے ساتھ ساتھ اپنا کھانا بھی بنا رہا تھا ۔

اور جیسے جیسے سن رہا تھا اس کا چہرہ لہوچھکنے خگا

روح اس کی اور اپنی اتنی پرنسل باتیں شارف کو بتا چکی تھی اور اس سے مشورہ مانگ رہی تھی کہ وہ یارم کو کیسے منائے۔

روح اتنی بے وقوف کیسے ہو سکتی ہے غصے سے اس کا پارہ ہائی ہوگیا اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا باول پوری شدت سے زمین پر دے مارا جس کی آواز سن کر فوراً کمرے سے باہر آ گئی تھی

کیا ہوا یارم کچھ گر گیا ہے کیا آپ کو چھوٹ تو نہیں لگی فکرمندی سے بولتی اس کے پاس آئی

اسے سامنے دیکھتے ہی یارم اس کے شانے تھام کر اسے دیوار کے ساتھ لگا چکا تھا اس کا انداز انتہائی جارحانہ تھا

تم میرے جذبات کبھی نہیں سمجھ سکتی تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری اور اپنی پرسنل لائف کسی تیسرے سے شیئر کرنے کی

اب کوئی تیسرا تمہیں بتائے گا کہ تمہیں اپنی شوہر کو کیسے منانا چاہیے تم ایک انتہائی بے وقوف اور کم عقل لڑکی ہو

تم بس میرے جذبات کے ساتھ کھیل سکتی ہو کبھی میری محبت کی قدر نہیں کر سکتی وہ اسےپیچھے دکھا دیتا ہے وہاں سے نکل گیا

آج روح کی اس حرکت میں یارم کو سچ میں بہت ہرٹ کیا تھا ۔

وہ تیزی سے یارم کے پیچھے بھاگتے ہوئے کمرے تک آئی تھی اور کافی دیر کمرے کا دروازہ کھٹکھٹاتی رہی

لیکن یارم نےدروازہ نہیں کھولا

اسے بلکل اندازہ نہیں تھا کہ یارم اس حد تک خفا ہو جائے گا ۔اور اب اسے بھی یہی لگ رہا تھا کہ یہ ان دونوں کا بے حد پرسنل میٹر تھا

جس میں کسی تیسرے کو نہیں لانا چاہیے تھا اسے شارف سے مشورہ لینا ہی نہیں چاہیے تھا یہ بات وہ کیچن کاؤنٹر پر رکھے فون کی ریکارڈنگ سے پتہ لگا چکی تھی

کہ یارم کو یہ بات کہاں سے پتہ چلی

لیکن اب وہ کیا کرے گی ابھی سے منائے ہوئے وقت ہی کتنا ہوا تھا کہ وہ پھر سے ناراض ہو گیا اور اس بار تو وہ سچ میں سیریس والا ناراض ہو گیا تھا

°°°°°°°