Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 20)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 20)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
یارم تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا خضر نے پریشانی سے کہا
ان آج ہی یارم کے ایکسیڈنٹ کا پتہ چلا تھا ۔
خضرنے اسے لیلیٰ کے بارے میں بتایا تو یارم نے کہا کہ اسے ایکسیڈنٹ بارے میں ہمیں بتایا جائے پوری بات بتانے کے لئے یار م منع کر چکا تھا
میں بالکل ٹھیک ہوں خضر بس زرا سی چوٹ آئی تھی جو اب ٹھیک ہے کوئی اتنی بڑی بات تھی ہی نہیں جو میں تم لوگوں کو پریشان کرتا
یارم نے سمجھاتے ہوئے کہا
چوٹ چھوٹی تھی یا بڑی خضر کو نہیں پتا تھا کیونکہ وہ اپنی بڑی سے بٹی چوٹ کو بھی چھوٹی چوٹ کا نام دے کر نظر انداز کر دیتا تھا
اور شاید اسے اس سب کے بارے میں پتہ بھی نہیں چلتا اگر آج وہ روح کو فون کرکے اس کا حال احوال نہ پوچھتا
روح نے اسے بتا دیا تھا کہ وہ بائیک ریسنگ میں اس کی وجہ سے حصہ لے کر زخمی ہو چکا ہے اور وہ تو ساری غلطی اپنی ہی بتا رہی تھی لیکن یارم نے جب اس سے پوری بات بتائی تو خضر کو کافی کچھ سمجھا گیا
لیکن فی الحال یارم نے اسے کسی بھی قسم کا ایکشن لینے سے منع کر دیا تھا وہ اس سب میں پڑنا ہی نہیں چاہتا تھا
دور کے بارے میں اے ٹو زی انفارمیشن نکال چکا تھا
یہی وہ لڑکا تھا جس نے اس دن اسے فون کر کے بتایا تھا کہ روح کہاہے ۔
یہ تو وہ اس کی آواز پہچان کر بھی معلوم کر چکا تھا
اس کی آواز سنتے ہی یارم کو پتہ چل چکا تھا کہ یہ وہی ہے اور اس نے اس کی مدد کیوں کی تھی یہ بات بھی وہ اچھی طرح سے جانتا تھا
پھر دوبئی میں روح کا اس سے ملنا اور پھر اس کا یہ یہاں آنے ایک ہی ہوٹل میں رہنا ایک اتفاق بھی ہو سکتا تھا اسی لئے یار م نے فی الحال کے لیے بہت سا ٹال دیا لیکن زیادہ دیر کے لئے نہیں کیوں کہ یہ معاملہ روح کا تھا
اور روح کے معاملے میں وہ کسی بھی قسم کا کمپرومائز نہیں کر سکتا تھا
اس نے سوچا تھا کہ وہ روح کو منا کر دے گا خوشی سے بات کرنے یا اس سے ملنے پر لیکن کل رات روح نے خود ہی اس کے زخموں پر مرہم لگاتے ہوئے کہا
کہ اسے ایسی لڑکی سے دوستی رکھنی ہی نہیں ہے جو اس کے شوہر کے زخموں کی وجہ بنے
اگر وہ اس کا دل رکھنے کے لیے وہاں نہیں جاتی تو یقینا یارم کو چوٹ بھی نہیں لگتی اس لیے اب روح نے خود ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ جتنا ہو سکے خوشی سے دور ہی رہے گی مانا کے خوشی ایک اچھی لڑکی تھی اور اس کی اچھی دوست بھی ثابت ہوسکتی تھی لیکن یارم سے زیادہ اہم کے لئے اور کچھ نہیں تھا
°°°°°
بےبی اب ڈیسائیڈ کر ہی لو کہاں جانا ہے گھومنے کے لیے کب سے اس بک کو ہاتھ میں لیے سوچی جارہی ہو ۔
مجھے اس سے جلن ہو رہی ہے ۔۔مجھ سے زیادہ خوش قسمت ہے یہ جیسے اتنی توجہ مل رہی ہے
اف یارم حد ہوتی ہے یہ ساری جگہیں اتنی پیاری ہے کہ مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ ہم کہاں جائیں اور اوپر سے آپ تنگ کر رہے ہیں
روح کافی کنفیوزن لگ رہی تھی
کیونکہ یارم نے اس کے سامنے ایک بک رکھی تھی جہاں پر سویزرلینڈ کی بہت ساری خوبصورت خوبصورت جگہ تھی اور وہ ڈیسائیڈ نہیں کر پا رہی تھی کہ آج کا دن کو کہاں جا کر گزاریں
آج کا سارا دن اس نے روح کے نام کردیا تھا اس لیے وہ یہ چاہتا تھا کہ آج کی جگہ بھی وہی ڈیسائیڈ کرے لیکن روح تو سوچوں میں ہی چلی گئی
یارم یہاں چلتے ہیں دیکھیں سمندر دریا پانی بہت مزا آئے گا اس نے ایک بیچ کی طرف اشارہ کیا تو یارم قہقہ کر ہنس دیا
ڈارلنگ اس جگہ کو تم ہینڈل نہیں کر پاؤ گی یہ ایک بیچ ہے اور یہاں پر لوگ کپڑے تک پہننے کا تکلف نہیں کرتے یارم نےہنستے ہوئے کہا تو وہ اسے گھور کر رہ گئی
توبہ ہے یارم آپ آسان لفظوں میں بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ جگہ جانے کے قابل نہیں روح سے گھورتے ہوئے بولی
جب کہ یارم کی مسکراہٹ اب بھی قائم تھی اب ایسی بھی بات نہیں ہے اگر تم چاہو تو ہم یہاں چل سکتے ہیں اور کچھ نہ سہی نظارے ہی ہو جائیں گے خوبصورت مقامات کے یارم نے ادھوریبات کی تو روح کو غصہ آ گیا
میں دیکھ رہی ہوں یارم یہاں آنے کے بعد آپ بہت بگڑگئے ہیں کچھ زیادہ ہی شوق نہیں چرا آپ کو ایسی برہنہ دوشیزاؤں کو دیکھنے کا وہ غصے سے بولی
مجھے تو میری شہزادی کو دیکھنے سے فرصت نہیں میں تو تمہارے لئے کہہ رہا تھا کہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے کہ دنیا میں کیسی کیسی انسانک مخلوق پائی جاتی ہے یارم بات ہی بدل گیا اور اس کے بعد میں سچائی تھی
وہ کردار کا کھڑا اور صاف کبھی کسی عورت کے لئے غلط سوچ ہی نہیں سکتا تھا
اگر وہ عیاش پسند ہوتا تو کون روک سکتا تھا اس سے وہ دبئی کا ڈان تھا پورا انڈرولڈ اس کے اشارے پے چلتا تھا
کس کی اوقات تھی اس کے سامنے انکار کرنے کی یہ تو اس کی روح تھی جس کے سامنے وہ اپنا دل ہار بیٹھا
اسے ایک نظر دیکھنے کے بعد دوبارہ کسی عورت کو دیکھنے کی خواہش ہی نہ جاگی
اس کے لیے تو دنیا کی سب سے خوبصورت عورت اس کی روح تھی جس کے سامنے دنیا کا حسن کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا تھا
روح کی چاہت روح کی قربت روح کی محبت حاصل کرنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا تھا
اس کی ساری محبت ساری چاہت ساری وفائیں صرف اور صرف روح ہی تک محدود تھی
اسی لئے تو روح نے سر اٹھا کر کہتی تھی کہ یہ شخص صرف اور صرف اسی کا ہے وہ کسی اور کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے ایسا ممکن ہی نہیں تھا
°°°°°
بہت مچک سے اخر وہ ایک جگہ جانے کا ارادہ کر چکے تھے
یہ ایک امریلا ریسٹورنٹ تھا
جہاں پرہریز چھتریوں جیسی تھی اور روح اسے دیکھنے کے لئے بہت ایکسائٹڈ تھی تصویروں میں تو اسے یہ جگہ بہت الگ اور کچھ عجیب سی لگی لیکن اب وہ اسے لائیو دیکھنے جا رہے تھے
ابھی وہ لوگ اپنے ہوٹل سے باہر نکلے ہی تھے کہ سامنے سے خوشی آتی نظر آئی اس کا موڈ خراب ہونے لگا جبکہ اس کے ہاتھ میں بکے دیکھ کر روح نے یارم کی جانب دیکھا تھا یقینا وہ اس کی تیمایداری کے لیے اس طرف آ رہی تھی
ہیلو کیسے ہو آپ لوگ ایم ریلی سوری کل بہت زیادہ لیٹ ہو گیا تھا اسی لیے میں تمہارے ہسبنڈ کی حیریت پوچھنے نہیں آ سکی
یہ آپ کے لئے اس نے پھولوں کا بکے یارم کی جانب بڑھتے ہوئے کہا تو مرووتاً اسے تھامنا ہی پڑا
کل آپ کو کافی چوٹ لگی تھی مجھے بہت برا لگا لیکن تھینک یو سو مچ ثانیہ کے بیٹے کی جان بچانے کے لیے
اگر اسے کچھ ہوجاتا تو اس کی ساری زندگی سپویل ہوجاتی ثانیہ میری بہت پیاری دوست ہے اس کے ساتھ کچھ برا ہوتا تو مجھے بھی بہت برا لگتا اور دوک سے تو کچھ بھی اچھے کی امید کی نہیں جا سکتی ہے وہ بچے کی بھی پرواہ نہیں کرتا
لیکن میں آپ کی بہت شکر گزار ہوں اور ثانیہ بھی آپ کے شکر گزار ہے وہ آپ سے ملنا چاہتی ہے
اس نے اپنے گھر پے آپ لوگوں کے لیے ڈنر پلان کیا ہے اگر آپ آئیں گے تو مجھے اور ثانیہ کو بہت اچھا لگے گا
نہیں ہمارا کچھ اور پلان ہے خوشی ہمارا اگلا پورا ہفتہ بہت مصروف ہے ہم نہیں آ سکیں گے روح نے فورا ہی معذرت کرنی چاہی
اور اسے روح کی بات بہت اچھی لگی تھی چلو اسے تھوڑی عقل تو آئی یار م نے شکر کیا تھا
آف کورس آپ لوگ بیزی ہیں آپ یہاں اپنے ہنی مون کے لیے آئے ہیں ایسے میں میرا انوائٹ کر نہ کچھ عجیب لگتا ہے لیکن اگر آپ آتے تو ہمیں خوشی ہوتی خوشی نے پھر سے کہنا چاہا
میں نے کہا نا خوشی ہمارا اگلا ہفتہ پورا مصروف ہے ہم اگلے ہفتے واپس جانے والے ہیں اور جانے سے پہلے ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں شاید ہم یہاں بھی زیادہ وقت نہ گزارے میرا مطلب ہے ہم ہوٹل کے باہر ہی رہیں گے
اگر ہمارا ہوٹل کے آس پاس کہیں جانے کا پلان ہوتا تو تمہارا انویٹیشن ضرور قبول کرتے لیکن ہم آس پاس نہیں رہیں گے بلکہ ہمارا ارادہ دوسرے شہر جا کر گھومنے کا ہے روح نے لمبی چوڑی تہمید باندھی تھی
ٹھیک ہے روح اگر تم لوگ نہیں آسکتے تو اٹس اوکے لیکن پھر بھی میرے اور ثانیہ کی طرف سے تھینکیو ضرور اکسیپٹ کر لینا اس کی معذرت کو قبول کرتے ہوئے کہا
اور اس سے ملنے کے لیے آگے بڑھی لیکن یارم کے غصے کو سوچتے ہوئے اس نے فورا اپنا ہاتھ مضبوطی سے خوشی کے ہاتھ میں دے دیا
جبکہ خوشی جو اس کے گلے لگنا چاہتی تھی شرمندہ سی ہو کر پیچھے ہٹ گئی
چلیں یارم دیر ہو رہی ہے وہ یارم کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی تو یارم سر ہلاتا اس کے ساتھ آگے بھرگیا جب کہ خوشی وہیں کھڑی حیرانی سے دیکھ رہی تھی
پھر اپنا موبائل نکال کر کسی کا نمبر مل لگی
روحی بہت عجیب بیہو کررہی تھی شاید وہ مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتی اور میرا نہیں خیال کہ وہ اس دوستی کو بھی آگے تک رکھنا چاہے گی فون پر کسی سے کہتی بہت مایوس لگ رہی تھی
جب دوسری طرف سے کسی نے کچھ کہا اور پھر سے خوشی بولی
تو کیا تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا وہ سچ میں حیران تھی بے حد حیران
تم ایک انتہائی پتھر دل انسان ہو انتہائی بے حس انسان ہو میں پچھتا رہی ہو تم سے محبت کر کے وہ غصے سے کہتے فون رکھ کر ایک بار پھر سے دور جاتے روح اور یارم کو دیکھ رہی تھی
میں جانتی ہوں تم اس سے محبت کرتے ہو بے حد محبت کرتے ہو لیکن کبھی اسے نہیں بتاؤں گے بڑبڑاتے ہوئے مایوسی سے پلٹ گئی
°°°°°°
روح تمہارا انداز بہت عجیب تھا تم نے اس سے دوستی کی ہے اس سے اس طرح سے بات کرنا بہت عجیب لگتا ہے
کیا تم نے کبھی خضر یا شارف سے اس طرح سے بات کرتے ہوئے دیکھا مجھے
میں جانتی ہوں یارم میرا انداز اسے برا بھی لگا ہوگا لیکن میں اس پر ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ میں سے دوستی نہیں رکھنا چاہتی نہیں کوئی زبردستی کا دوست بن سکتا ہے اس کی وجہ سے اس کی ضدجس کی وجہ سے آپ کو چوٹ لگی
اور میرے لئے آپ سے زیادہ اہم کچھ بھی نہیں یارم مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اسے کتنا برا لگتا ہے وہ آنکھوں میں نمی لئے بولی کہ یارم بے اختیار مسکرا دیا
میرا بچہ اگر تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تو رو کیوں رہی ہو وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھنے لگا
یہ سچ تھا کہ خوشی کا دل دکھا کر اس کا اپنا دل بھی دکھا تھا
خوشی جیسے پیاری سی لڑکی سے اس طرح سے بات کرکے تو خود بھی ہرٹ ہوئی تھی
یارم میں نے کہا نہ ہو میری زندگی میں سب سے اہم آپ ہیں آپ سے زیادہ اور کچھ بھی نہیں میری اس کے ساتھ دوستی نہیں ہے
اور کل جو کچھ ہوا اس کے بعد تو مجھے اس سے بالکل دوستی نہیں رکھنی کیسے غیر انسانی کھیل کھیلتے ہیں یہ سب لوگ ذرا سوچئے اگر وہاں آپ نہیں ہوتے تو اس بچے کو ضرور کچھ ہو جاتا اور پھر اس لڑکی ثانیہ کی زندگی برباد ہوجاتی
آپ کو پتہ ہے اس کے شوہر کی پہلی بیوی اس بچے کو چھوڑ کر چلی گئی ہے یہ بچہ اس کا تھا ثانیہ تو بس اس بچے کا خیال رکھتی ہے اس کی ماں بن کر سوتلی ہی سہی لیکن اس بچے کو ماں تو مل گئی ہے
شاید پیسے اور دولت کی خاطر لیکن ثانیہ اس کا خیال رکھ رہی ہے
ثانیہ کی زندگی بھی بدل گئی ہےوہ اپنی مرضی کی زندگی گزار رہی ہے اور اگر اس بچے کو کچھ ہوجاتا تو ثانیہ کی زندگی بھی برباد ہو جاتی اور شاید وہ بچہ بھی زندہ نہ ہوتا
نفرت تو مجھے اس آدمی سے ہو رہی ہے جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا کیا وہ انسان تھا کیا اس دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں یارم
مجھے تو یقین نہیں آرہا کیا کوئی اتنا پتھر دل بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کسی کی جان لیتے ہوئے ایک بار نہ سوچے
اس سے نفرت مت کرو روح وہ نفرتوں کے قابل نہیں ہے
میں بھی یہ کام کرتا ہوں نہ لوگوں کی جان لیتا ہوں
بے دردی سے ان کا قتل کرتا ہوں یارم اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے سمجھانے لگا
نہیں یارم ایسے گھٹیا انسان کے ساتھ اپنا مقابلہ نہ کرے آپ کے اندر انسانیت ہے آپ انسانیت کی خاطر یہ سب کچھ کرتے ہیں اور وہ حیوان انسان کی شکل میں حیوان ہے اس کا انسانیت سے کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے جس کی جھلک ہم کل بھی دیکھ چکے ہیں ایسا انسان صرف نفرتوں کے لائق ہو سکتا ہے اور پلیز اس کے بارے میں بات کرکے ہمارا ہنی مون خراب تو نہ کریں
گاڑی اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی تھی اور روح نے اسے درک کے بارے میں بات کرنے تک سے منع کردیا یارم کو بھی یہ ساری باتیں فضول ہی لگی تھی وہ ایک شخص پر اپنا کتنا قیمتی وقت برباد کررہے تھے
اچھا چھوڑو ہم کیا فضول باتوں میں پڑ رہے ہیں ہم ایک دوسرے کے بارے میں بات کرنی چاہیے وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس کی انگلیوں کو لبوں سے لگاتا محبت سے بولا
ویسے ایک بات تو بتاؤ تمہارا ماموں باپ بننے والا ہے اور بھائی بھی تمہارے شوہر کی باری کب تک آئے گی
ویسے میں اس کام میں محنت تو بہت کر رہا ہوں لیکن ابھی تک کوئی چانس نظر نہیں آ رہے ذرا اپنے فیوچر بےبی سے پوچھ کر بتانا کہ کب تک آنے کا ارادہ ہے اسے بھی بتا دو کہ انڈر ولڈ کے ڈان کو بابا بننے کا شوق چڑاہے
یارم لمحے میں ساری بات بدل گیا پھر اس کا چہرہ شرم سے سرخ ہونے لگا تھا وہ کبھی بھی کوئی بھی بات کر سکتا تھا اس سے کسی بھی قسم کی توقع کی جاسکتی تھی
یارم میں کہہ رہی ہوں خاموشی سے گاڑی چلائیں ورنہ مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی شرم و حیا سے سرخ ہوتے اسے ڈانٹتے ہوئے بولی تو یارم مسکرایا
مطلب اب میں یہ بات بھی نہیں کر سکتا
کوئی رومینٹک بعد میں نہیں کر سکتا
تمہاری دوست ی بات نہیں کر سکتا
اور اب میرے بچوں کی باتوں پر بھی تم نے پابندی لگا دی یہ تو زیادتی ہے نہ وہ ہنستے ہوئے بولا
کوئی زیادتی نہیں ہے آپ خاموشی سے گاڑی چلائیں یہ ساری باتیں بعد میں بھی ہو سکتی ہیں ابھی بہت وقت پڑا ہے ہے وہ ٹالتے ہوئے شیشے سے باہر دیکھنے لگی
اس کی کل جھکی نظریں شرمیلی سی آواز تو یارم کا دل دھڑک آتی تھی
°°°°°°
وہ امریلا ریسٹورنٹ میں بیٹھے اس خوبصورت جگہ کا نظارہ کر رہے تھے یہ واقعی ایک بہت ہی حسین جگہ تھی جہاں ہر چیر چھتریوں سے مشابہت رکھنے والی بنائی گئی تھی
بتایا جاتا ہے کہ اس ہوٹل کے مالک کو چھتری رکھنے کا بہت شوق تھا
وہ سردی میں دھوپ میں بارش میں ہرموسم میں چھتری کا استعمال کرتا تھا اور جب اس نے اپنے اس شوق کو ایک شکل دی تو یہ امبریلا ریسٹورنٹ وجود میں آیا
یارم کو تو اس ریسٹورنٹ کی ہسٹری بہت فنی لگ رہی تھی جبکہ روح بہت خوشی سے سن رہی تھی جب یارم فون بجنے لگا
وہ وئٹر کو آرڈر دیتا ہوااپنا فون لئے باہر چلا گیا کیونکہ ہوٹل کے اندر سروسز بہت زیادہ مسئلہ کر رہی تھی
°°°°°
ابھی اسے گئے ہوئے تقریبا دو منٹ ہی ہوئے تھے جب ہوٹل کی یونی فارم میں ایک ویٹر اس کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ یارم اسے باہر بلا رہا ہے ۔
یہ آدمی اردو کیسے بول رہا تھا شاید جانتا تھا کہ وہ پاکستانی ہے
سووز زبان کو سمجھنا ایک بہت مشکل ترین کام تھا وہ اس کی بات کو سمجھ کر مسکراتے ہوئے اٹھ کر اسی راستے پر چلی گئی جہاں سے یارم باہر نکلا تھا
ویٹرنے دور سے اشارہ کیا کہ اسے کس طرف جانا ہے اور اس طرف جاتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ یہاں دور دور تک کوئی نہیں ہے وہ کسی غلط جگہ پر آگئی ہے عجیب سنسان جگہ تھی شاید یہ ریسٹورنٹ کا پیچلا حصہ تھا
اسے لگا کے کچھ گر بڑ ہے وہ مزید قدم آگے بڑھانے لگی اس کا دل بری طرح سے دھڑک رہا تھا کچھ تو برا ہونے جارہا تھا لیکن کیا ۔۔۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے مزید آگے کی جانب جا رہی تھی جب کسی چیز کی آواز سنائی دی اور ساتھ یارم کی بھی
وہ درد سے کرایا تھا
روح تڑپتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی اس کے یارم کو کچھ ہوا تھا وہ درد میں تھا اسے تکلیف تھی اس کی آواز اس نے سنی تھی
اور پھر خاموشی چھا گئی وہ تیزی سے آگے بھر رہی تھی اور پھر کچھ ہی لمحوں میں دیوار کی ساتھ اس کے سامنے ایک ایسا منظر تھا جسے دیکھ کر اس کی روح بھی تڑپ اٹھی کسی نے یارم کے منہ لچھ باندھا ہوا تھا
اسے سات لوکوں نے قابو کیا پوا تھا
سامنے والے آفمی نے پورا کا پورا چاقو کو اس کے پیٹ میں گھونپ دیا ایک بار نہیں دو بار نہیں نہ جانے کتنی بار ۔۔۔۔۔
جبکہ زخمی یا رم کے منہ پر لوہے کی کوئی عجیب سی چیز رکھی تھی جس کا نام تک وہ نہیں جانتی تھی
لیکن اسے دھکا دیتے ہوئے وہ اس آدمی کے ہاتھ میں آ گئی یارم کا چہرا زخموں سے چور تھا
لہو سے سرخ ہوتی آنکھیں سے یارم نے بس ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور وہاں سے جانے کا اشارہ کیا لیکن کے قدم جیسے زمین سے جوڑ چکے تھے
وہ بس پندرہ سے بیس لوگوں تھی ۔
ان لوگوں نے یارم کو زمین پر پھینکا وہ چلایا
جاوووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی چیخ میں انتہا کی تکلیف تھی روح بس بےجان نظروں سے یارم کو زمین پر تڑپتے ہوئے دیکھ رہی تھی
پکڑو اس لڑکی کو جانے مت دینا اسے آخر یہ ہمارءپے ڈان ڈیول کے دل کی دھڑکن ہے وہ شخص قہقہ لگاتے ہوئے بولا
اور وہ سب ہی لوگ روح کی جانب بھاگنے لگے
اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ زمین سے قدم اٹھاتہ وہ جانتی تھی کہ اتنی چوٹوں کے بعد اتنی تکلیف کے بعد وہ یارم کودوبارہ نہیں دیکھ پائے گی اس کی آنکھیں یارم کے بے جان ھوتے وجود پر ٹھہری ہوئی تھی
جبکہ وہ لوگ تیزی سے اس کی طرف بھاگ رہے تھے آہستہ آہستہ زمین پر بیٹھ کے اس کی آنکھیں بند ہونے لگی اور جو آخری منظر اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا وہ یارم کا بے جان وجود تھا
°°°°°°
