Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 36)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 36)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
وہ دونوں رویام کے لیے شاپنگ کر رہے تھے
جب اچانک شونوکسی کو دیکھ کر پیچھے کی طرف بھاگا
شونو کہاں جا رہے ہو تم ۔۔۔۔واپس اؤ روح نے اسے بھاگتے دیکھ کر کہا
یارم دیکھیں نا قسے کیا ہو گیا ہے ایسے کیوں بھاگ رہا ہے اسے بھاگتا دیکھ کر وہ بھی اس کے پیچھے آئی تھی
لیکن نیچے پہنچتے ہی اسے شونو کے ساتھ وہ آدمی دکھائی دیا
شونواس کے بوٹ پر زبان چلائے جا رہا تھا جب کہ اسے یاد تھا جب وہ ہسپتال میں پاگل پن کی حالت میں تھی تب یہ شخص کی بے حد قریب تھا اس نے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا وہ لمحہ یاد کرتے ہیں روح کے ہاتھ پیر میں جیسے بیچھو سے رینگنے لگے
اس نے بعد میں خضر سے بھی پوچھا تھا جب وہ ہوش میں نہیں تھی تب اس شخص کو اس کے اتنے قریب کیوں آنے دیا ۔۔۔۔؟
یہاں تک کہ اس نے یاروں کو بھی یہ بات بتائی تھی اسے یاد تھا وہ اس شخص کے سینے سے لگا کر بری طرح سے رو رہی تھی
یارم نے تو اس بات کو زیادہ اہمیت نہ دی۔ویسے تو وہ روح کو کسی کو چھونے نہیں دیتا تھا لیکن درک کے گلے لگنے پر بھی یارم نے کچھ نہ کہا ۔
شاید اس کی طبیت کی خرابی کی وجہ سے
بس کہہ دیا کہ تم ہوش میں نہیں تھی اور اس وقت درک نے ہماری بہت مدد کی تھی
یار م درک کا شکر گزار تھا کہ اس نے روح کا خیال رکھا تھا اسے بچانے میں مدد کی تھی لیکن نہ جانے کیوں روح کو اس بندے سے عجیب سے چڑ تھی
جب سے اس نے کہا تھا کہ ایسےکوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ بچہ زندہ ہے یا مر جاتا ہے اسے تب سے ہی یہ آدمی بالکل اچھا نہیں لگتا تھا انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں تھی اس کے اندر یہاں تک کہ وہ اس کی شکر گزار بھی نہیں تھی نہ جانے کیوں اس شخص سے اسے الجھن محسوس ہوتی تھی
وہ اس کے قریب آئی اور غصے سے شونو کی رسی تھامی
بہت بدتمیز ہو تم شونو اس طرح ہر ایرے غیرے کے پیروں کوچاٹنے لگتے ہو
کیا تمہیں سمجھ میں نہیں آتا تمہارا اپنا کون ہے اور پرایا کون وہ شونوکو ڈانتے ہوئے کہہ رہی تھی
ہو سکتا ہے میں اس کا تم سے زیادہ اپنا ہوں بہت وہ سرد لہجے میں بولا
جبکہ روح اس کی طرف دیکھے بنا شونو کو ڈانٹتی کچھ فاصلے پر کھڑے یارم کی جانب آگئی
جب کہ در ک اسے خود سے دور جاتا دور تک دیکھتا رہا
°°°°°
تمہیں اس سے اس طرح سے بات نہیں کرنی چاہیے تھی اس نے تمہاری جان بچائی ہے اس دن اگر وہ نہیں ہوتا تو ہمارے لئے بہت مشکل ہو جاتی
میری جان اللہ نے بچائی ہے اسے صرف وسیلہ بنایا تھا اور پتہ نہیں اسے ہی کیوں وسیلہ بنایا تھا مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا وہ شخص کتنا مغرور ہے وہ شخص اور شونو اس کے پیروں کو چاٹ رہا تھا تو ذرا اسے احساس نہیں ہوا کہ وہ شونو کو تھوڑا سا پیار ہی کردے
اور تم گھر چلو آج تو میں تمہیں ٹھیک کردوں گی وہ شونو کو غصے سے دیکھتی ہوئی بولی
جو درک کے قریب سے آنے کے بعد کافی اداس لگ رہا تھا
کیا ہو گیا ہے روح وہ جانور ہے مانوس ہو گیا تھا اس سے جانور جس چیز کو پسند کرتا ہے اسی کے پاس بھاگ کر جاتا ہے تم کچھ زیادہ ہی دل پر لے رہی ہو یارم سمجھا رہا تھا
یارم ہم کیا اس آدمی کے بارے میں باتیں کرنے لگے ہیں پلیز رویام کے لیے شاپنگ کرنی ہے وقت بہت کم ہے
مشارف کی سالگرہ کے لئے میں اس کے اچھے اچھے ڈریسز لینا چاہتی ہوں
تاکہ میرا بچہ شہزادہ لگے
وہ تو ہے ہی شہزادہ یارم نے بےاخیتار کہا۔
روح مسکرائی
شونو کے لئے میں ییلو کلر کی شرٹ لوں حی ییلو کلر کی شرٹ میں بالکل پھول جیسا لگتا ہے وہ اب اچانک ہی اسے شونو پر پیارآ گیا تھا
سورج مکھی کا یا سرسوں کا روح کے انداز پر یارم نے ایکسائیڈ میں دکھائی
جبکہ روح سمجھ چکی تھی کہ وہ اس کا مذاق اڑا رہا ہے
آپ میرے اور میرے بچوں کے بیچ میں مت بولا کریں
بچہ اور کتایار م نے یاد کروایا ۔
ہاں تو اور بچے بھی ہو جائیں گے روح فوراً بولی تھی
ہاں کیوں نہیں بچوں کی فوج پیدا کر لیتا ہوں تاکہ تم پوری زندگی انہیں میں الجھ کر رہ جاؤ ایک دیا ہے نا اسی کو سنبھالو
کیا مطلب آگے جا کر ہمارے اور بچے نہیں ہوں گے پہلے روح ان باتوں پر شرما جاتی تھی لیکن جب سے رویام دنیا میں آیا تھا اسے رویام کے بھائی بہنوں کی فکر ہونے لگی تھی اس لئے وہ کھل کر یارم سے بات کرتی تھی
دیکھو روح مجھے بچے بہت پسند نہیں ہیں ایک آدھ بچہ ٹھیک ہے
ہم اس کو سنبھال سکتے ہیں اسے ایک اچھی ب زندگی دے سکتے ہیں اس کا خیال رکھ سکتے ہیں اور پوری طرح اس دھیان دے سکتے ہیں ۔
مجھے اور بچوں کی خواہش نہیں ہے روح ہمارا ایک ہی بچہ بہت ہے جس کا ہم خیال رکھ سکتے ہیں سنبھال سکتے ہیں یارم کا انداز سمجھانے والا ہرگز نہیں تھا
وہ جیسے حکم دے رہا تھا کہ اسے ایک ہی بچہ رکھنا ہے اور کوئی بچہ ہوگا ہی نہیں روح خاموش سی ہوگئی
جب کہ اس کی خاموشی کو نوٹ کرکے یارم نے اسے شاپنگ کی طرف لگانے کی کوشش کی اور تھوڑی ہی دیر میں وہ کامیاب بھی ہو گیا وہ اسے بتا نہیں پایا تھا کہ وہ دوبارہ ماں نہیں بن سکتی
رویام کی صورت میں اللہ نے ان کے نصیب میں اولاد لکھ دی یہی کافی تھا
یارم کے اندر نہ تو اور بچوں کی خواہش تھی اور نہ ہی وہ روح کی جان دوبارہ مشکل میں ڈال سکتا تھا وہ ایک بچے کے ساتھ بہت خوش تھا لیکن وہ روح کو یہ بات بتانا نہیں چاہتا تھا کہ وہ دوبارہ ماں نہیں بن سکتی
وہ اسے کبھی بھی احساس کمتری کا شکار نہیں ہونے دے سکتا تھااسی لیے اس پر اپنی مرضی ظاہر کی کہ وہ اور بچے نہیں چاہتا جبکہ روح اس چیز کو بعد پر رکھ کر ریلکس ہو گئی
°°°°°°°
وہ دونوں شاپنگ میں مصروف تھے
جب روح کا دیہان سامنے پارایک چھوٹے سے بچے پر گیا جو شاید اپنی ماں کے ساتھ آیا تھا اور یہاں پر آگے پیچھے کھیل رہا تھا شاید اس کی ماں شاپنگ میں مصروف تھی
وہ بہت کیوٹ سا تھاکبھی ادھر تو کبھی ادھر کھیلتا اور پھر شونو کو بھی اشارہ کرتا ہے
شاید اسے شونو پسند آ گیا تھا لیکن فی الحال شونو کو کسی بھی طرف جانے کی اجازت ہرگز نہیں تھی اور نہ ہی شونو خلدی کسی کے ساتھ گھلتا ملتا تھا
روح کو و وہ بچہ بہت پیارا لگ رہا تھا
اس کی عمر تقریبا تین ساڑھے تین سال تو ہوگی اس نے یارم کا دھیان بھی اس طرح دلوایا
وہ پیارا سا بچہ پسند تویارم کو بھی بہت آیا تھا
لیکن وہ کافی شرارتی لگ رہا تھا وہاں سب ہی لوگوں سے اس کی شرارتیں جاری تھی
جبکہ اس کے ماں ہر تھوڑی دیر میں اسے کہیں نہ کہیں سے ڈھونڈ کر واپس اپنے پاس لے کے آتی شاید اسے اس مال میں آنے کی عادت تھی اس لیے وہ یہاں کی ہر جگہ کو اچھے طریقے سے جانتا تھا
°°°°°
ان لوگوں کی شاپنگ کمپلیٹ ہوئی تو وہ واپسی کی راہ لینے لگے لیکن تھبی اوپر والی منزل سے آوازیں آنے لگیں وہ چھوٹا سا بچہ مارکیٹ کے دیوار سے لٹکا بس گرنے ہی والا تھا روح کی تو بے اختیار چیخ نکل گئی
یارم اس بچے کو دیکھیں وہ گر جائے گا سب لوگ چلا رہے تھے مارکیٹ کی وہ جگہ بالکل سنسان تھی اس طرف کوئی بھی نہیں تھا
شاید وہ بچہ اپنی شرارتوں میں وہاں پہنچ گیا تھا اور اب سب کو اپنی طرف متوجہ کر چکا تھا اس وقت وہ چیخ رہا تھا رو رہا تھا وہ خود اپنی مدد نہیں کر پا رہا تھا
جب کہ اس کی ماں نیچے سے مسلسل بس اتنا ہی کہہ رہی تھی کہ ہاتھ مت چھوڑنا میں آ رہی ہوں
لیکن اس سے پہلے کہ وہاں پر پہنچتی بچے کا ہاتھ چھوٹ کر نیچے لگے لوہے کے پائپ پر آ گیا
یہ جگہ دیوار سے بہت زیادہ دور تھی آسانی سے شاید ہی کوئی وہاں پہنچ پاتا اور نیچے کا فاصلہ حد سے زیادہ تھا
وہی اوپری منزل پر پاس کھڑا درک اسے بس دیکھے جا رہا تھا بالکل بچانے کی کوشش نہیں کر رہا تھا
یہ وہ لمحہ تھا جب روح نے پہلی بار کسی سے بے انتہا نفرت کی تھی کوئی اتنا بے حس بے درد کیسے ہو سکتا تھا
کیا اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ بچہ مر جائے گا وہ اس کے بالکل قریب کھڑا اس کی مدد کرنے کی بالکل کوشش نہیں کر رہا تھا لوگ چلا رہے تھے اس کی ماں پاگلوں کی طرح روتے ہوئے اسے بچانے کے لیے مدد مانگ رہی تھی
روح نے اپنے قریبی یارم کو ڈھونڈنا چاہا لیکن وہوہاں اسے کہیں نظر نہیں آیا اور پھر اس نے ایک بار پھر سے دھیان اس بچے کی طرف دیا تو اسے یارم وہی اوپری منزل پر اس بچے کو بچاتا ہوا نظر آیا
یارم کے ساتھ دو تین اور لوگ بھی تھے جو اس بچے کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے یارم اس دیوار سے کھود کر آگے پائپ کی طرف آیا اور اس بچے کو پکڑ کر اوپر کی جانب کھینچ لیا خو وہ دو بار گرتے گرتے بچا
سب نےسکون کا سانس لیا جب کہ بچے کی ماں رورو کر یارمکا شکریہ ادا کر رہی تھی یارم بے بس ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اپنے قدم روح کی جانب جانے بڑھا دیے
جب پیچھے سے آواز ایک یار م نے مڑکر دیکھا
بن گئے ہیرو ثابت کردیا کہ تمہارا دل بہت بڑا ہے لیکن تمہیں ملا کیا کچھ بھی نہیں لیکن اگر تم تھوڑا سا لیٹ ہو جاتے تو اس مارکیٹ کی تھوڑی بہت پبلسٹی ہو جاتی میڈیا والے پہنچنے ہی والے تھے لیکن تمہیں بہت جلدی تھی نہ اس کو بچانے کی مارکیٹ کے مالک کا تھوڑا بلاہی کروا دیتے
مالک اکیلے نہیں کھاتا تمہیں بھی کچھ نہ کچھ ضرور دیتا
اتنا گرا پڑا نہیں ہوں میں اس شخص کے پاس بیٹھا رہوں گا اور اگر میں اسے نہیں بچاتاتو وہ بچہ نیچے گر جاتا یارم اسے کہتا ہواپھر آگے بڑھا
مرتا نہیں بس زیادہ سے زیادہ تھوڑی بہت چھوٹ آجاتی تمہیں ہیرو بننے کی ضرورت ہرگز نہیں تھی وہ خاصا برا منائے ہوئے بولا اسے یارم کی یہ حرکت کو پسند نہیں آئی تھی لیکن نہ جانے اس کی باتیں سن کر روح کو اتنا غصہ کیوں آنے لگا
آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ یہاں موجود ہر شخص آپ کے جیسا ہے آپ کے جیسا بے درد بے حس احساس نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں آپ کے اندر وہ عورت کب سے چلائے جا رہی تھی اگر آپ اس کے بچے کو بچا لیتے تو وہ اتنی بری کنڈیشن میں جاتا ہی نہیں ۔آپ کو احساس ہے کہ وہ بچہ کتنا ڈرا ہوا ہے دیکھیں اسے کتنا سہما ہوا ہے وہ اس ڈر سے نکلتے ہوئے اسے سالوں لگ جائیں گے لیکن آپ کو تو شاید صرف پیسہ ہی نظر آتا ہے اور وہ اس کی ساری باتیں سن کرا سے احساس دلاتے ہوئے بولی
بالکل زندہ اور صحیح سلامت ہے بچہ کچھ نہیں ہوا اسے اور اس کا احساس مجھے نہیں اس کی ماں کو ہونا چاہیے جیسے شاپنگ کرتے ہوئے اپنے ہی بچے کا ہوش ہی نہیں لیکں تم اتنا اوور ریکیٹ کیوں کر رہی ہو تم تو ایسے تڑپ رہی ہو جیسے اس کا نہیں تمہارا بچہ لٹکا ہوا تھا جسے میں نے بچایا نہیں اور گر کر مر۔۔۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔۔۔اس کی بات ابھی ادھوری تھی کہ روح کا ہاتھ اُٹھا اور اس شدت سے اس کے چہرے پر آ کر لگا کہ وہ بے ساختہ اسے دیکھ کر رہ گیا
زبان سنبھال کر مسٹر خبردار جو میں بچے کے خلاف ایک لفظ بھی کہا
ہم اپنے بچے کی حفاظت خود کر سکتے ہیں ہمیں کم از کم آپ جیسے بے حس بے دل انسان کی مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی
جس نے مدد آپ ہمارے کر چکے ہیں اتنا ہی شکریہ اللہ کرے مجھے دوبارہ آپ کی شکل دیکھنا نصیب نہ ہو
وہ نہ تو اتنے بہادر تھی اور نہ ہی اتنی بے حس کے کسی کو اس طرح سے تھپڑ مار کر باتیں سناتی لیکن رویام اس کی زندگی میں کیا تھا وہ خود بھی نہیں جانتی تھی اپنے بچے کے لئے ایسے الفاظ وہ تو کیا کوئی بھی ماں برداشت نہیں کر سکتی
کتنی دیر اسے گھورتا رہا اور اپنے گال پہ ہاتھ رکھے اس تپش کو برداشت کرتا رہا
جبکہ اس کے بات پر یارم کو بھی اچھا خاصہ غصہ آ گیا تھا وہ روح کے اس قدم پر بالکل بھی حیران نہیں ہوا تھا وہ جانتا تھا کہ رویام کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کر سکتی
اس کے بچے کے خلاف اس کا باپ کوئی بات نہیں کر سکتا وہ تو پھر کوئی تھا
اتنے بڑے الفاظ مت بولو مسز روح یارم کاظمی زندگی میں کب کیا ہو جائے کسی کو پتہ نہیں چلتا
یہ دنیا بہت بری ہو سکتا ہے ہو سکتا ہے کہ ایک دن تم میرے پاس آؤ
ہو سکتا ہے ایک دن ایسا آیا کہ تم مجھ سے مدد مانگنے کے لیے بے بس ہو جاؤ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس دن میں تم سے اس تھپڑ کا حساب مانگوں
آپنی غلط فہمی کو دور کر لو مسٹر یارم اس کے سینے پہ ہاتھ رکھے سے پیچھے دھکیلتے ہوئے بولا
روح کے لیے ابھی یارم زندہ ہے اور یارم کے ہوتے ہوئے روح کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی
اور آئندہ ایک ماں کے سامنے اس کے بچے کے لیے ایسے الفاظ مت کہنا ورنہ یہ تو روح تھی جس نے ایک تھپڑ مار کے چھوڑ دیا ایسی باتوں پر مائیں نسلیں اکھاڑکے رکھ دیتیں ہیں
تم شاید عورت کو سمجھ سکتی ہو لیکن ایک ماں کو کوئی نہیں سمجھ سکتا
میری خواہش ہے آگے زندگی میں تمہیں کبھی نہ دیکھوں میں تمہارا شکرگزار ہوں تم نے میری روح کی جان بچائی ہے یہ احسان بھی تمہیں سری لنکا کی جیل سے نکال کر میں نے چکا دیا ہے
اب نہ تو کوئی احسان ہے اور نہ ہی تمہاری شکل دوبارہ دیکھنے کا خواہش مند ہوں دوبارہ ہمارے راستے میں مت آنا
کیونکہ ہم خون سے جڑے رشتوں سے زیادہ احساس سے جوڑےرشتوں کو نبھاتے ہیں
ایسے خون کے رشتوں کا کیا کرنا جن میں احساس نام کی کوئی چیز نہ ہو
جہاں احساس ہو وہاں خون کے رشتوں کی ضرورت نہیں پڑھتی
اور ہمارے پاس احساد کے رشتے ہیں خون کے رشتوں کی ضرورت نہیں ہے ہمیں میں اور میری بیوی کبھی بھی تمہیں دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتے
چلے جاؤ اپنا بے حس اور مردہ دل لے کر ہماری زندگی سے یارم کا انداز اتنا بے درد تھا کہ نہ جانے کتنی دیر درک اسے زخمی نگاہوں سے دیکھتا رہا
ایک دن آئے گا یارم کاظمی خون کے رشتوں کی بھیک مانگنے آ وگے میرے در پر تب تمہیں کچھ نصیب نہیں ہوگا وہ اتنی کم آواز میں بولا کہ روح اس کی بات کو سن نہیں پائی تھی
گیٹ آؤٹ یارم چھبا چھبا کر بولا
اس نے ایک نظر روح کو دیکھا اور پھر شونوکو
جا رہا ہوں دوست اگر نصیب میں ہوا تو تم سے دوبارہ ملاقات ضرور کروں گا ۔لیکن جو ذمہ داری میں نے تمہیں دی ہے اسے ضرور نبھانا یاد رکھنا تم نے مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ شونو کو دیکھتے ہوئے اس انداز میں بولا جیسے وہ کوئی کتے سے نہیں بلکہ اپنے دوست سے بات کر رہا ہو
اور پھر وہ چلا گیا شونو دور تک اسے دیکھتا رہا اس نے اسے گھسیٹنے کی کوشش کی تو وہ چلنے کو تیار ہی نہیں تھا جب تک درک اس کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہو گیا تب تک اس نے وہاں سے اپنا قدم آگے نہیں ہٹایا تھا
نہ جانے کیا تھا اس شخص میں کہ شونواس کا اس قدر دیوانہ تھا
اور شونو سے اس طرح سے کیسے بات کر رہا تھا کون سی ذمہ داری دی تھی اس نے شونو کو اور کونسا وعدہ کیا تھا شونو نے اس کے ساتھ روح کو بالکل سمجھ نہیں آیا تھا
°°°°°
اس بات کو ایک ہفتہ گزر چکا تھا مشارف کی سالگرہ بہت دھوم دھام سے کی گئی تھی
لیکن پتہ نہیں کیا ہوگیا تھا شونو کو وہ نہ تو ٹھیک سے کھانا کھا رہا تھا اور نہ ہی اس کی کھیل کود پہلے جیسی تھی وہ ایک ہی جگہ اداس بیٹھا رہتا
یا پھر سارا سارا دن رویام کے قریب بیٹھا رہتا
روح سے تو وہ بالکل دور دور رہتا تھا وہ بلکل اس کے قریب نہ آتا جب بھی اس کے پاس آتی اس کے بال سہلاتی وہ کسی روٹھے ہوئے دوست اس کی طرح اٹھ کر باہر چلا جاتا روح کو یہ سب چیزیں بہت عجیب لگ رہی تھی وہ بہت پریشان تھی شونو کو لے کر
جب ایک دن معصومہ اس کا ماحول چینج کرنے اسے اپنے فلیٹ میں لے کر گئی ۔واپس آئی تو شونو بالکل نارمل تھا جیسے وہ پہلے ہوا کرتا تھا
وہ پہلے سے زیادہ روح کے قریب ہو چکا تھا وہ پہلے سے زیادہ اس کا خیال رکھتا تھا
تھا لیکن اس دن کے بعد وہ شخص انہیں کہیں نظر نہ آیا اور نہ ہی روح اس کے بارے میں سوچنا چاہتی تھی اور نہ ہی اسے دوبارہ کبھی دیکھنا چاہتی تھی
پھر وہ اپنی زندگی میں مصروف ہو چکی تھی
کبھی یارم تو کبھی رویام اسے اور کسی چیز کا ہوش ہی نہیں تھا
اس کی زندگی بہت مصروف ہو چکی تھی اور بے حد حسین بھی ۔یارم اسکو شہزادیوں کی طرح رکھتا تھا اور وہ خود ایک شہزادے کی ماں تھی ۔
بے حد پیاراساڈمپل والا شہزادہ جس سے اس کاڈمپل والا شوہر بہت جلتا تھا اور وہ اسے اور جلاتی تھی
°°°°°
