Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 51)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 51)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
یہ اس کے منہ پر پڑنے والا تیسرا پنج تھا
نازک ہاتھ کا پنچ پھر بھی اس کے منہ پر اتنی شدت سے لگ رہا تھا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اس کا درد اندر تک محسوس کر رہا تھا
کیا بولا تو نے تو میرے رویام کو بون میرو نہیں دے گا
ایسے کون سے آسمان سے اترا ہے تو جو یارم تیرے سامنے جھک کر تجھ سے اپنے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگے
لیلیٰ ایک اور پنچ اس کے منہ پر مارتی اس کے گال کو زخمی کر چکی تھی کانٹوں سے بنا ہوا یہ ہاتھ کا گلو(دستانہ )اس کے منہ پر زخم کرتا جا رہا تھا
مطلب یہ طریقہ نکالا ہے تم لوگوں نے مجھ سے بون میرو لینے کا
را ہی کم ظرف نکلا یارم کاظمی بچارے کو یہی راستہ ملا اپنے بیٹے کی جان بچانے کا کیا یہ اوقات ہے دبئی کے ڈان کی۔
وہ اپنے زخموں کی پرواہ کئے بغیر ان کا مذاق اڑاتے ہوئے بولا تو شارف نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا ڈنڈا اس کے پیٹ پر دے مارا
یارم کو تو اس کے بارے میں پتا ہی نہیں یہ تو ہم نے کیا ہے لیکن ایک بات تجھے بتا دیں
یارم کبھی بھی تجھ جیسے شخص سے رویام کی زندگی کی بھیک نہیں مانگے گا
کیوں ۔۔۔۔۔؟وہ ہنستے ہوئے وجہ پوچھ رہا تھا جیسے کچھ جانتا ہی نہ ہو
کیوں کہ تو خدا نہیں انسان ہے خضر پیچھے سے اس کے بالوں کو سختی سے اپنی مٹھی میں پکڑتے ہوئے بولا تو وہ قہقہ لگا اٹھا
ارے ماموں جان آپ ۔۔نہیں آپ ۔۔۔۔؟ ایسا بھی کون سی قیامت آ گئی میں توصرف اس شخص کا ایمان چیک کر رہا ہوں
اور ڈھٹائی سے بولا
تو کون ہوتا ہے کسی کا ایمان دیکھنے والا شارف کا غصہ آیا
اور تم لوگ کون ہوتے ہو مجھ سے زبردستی بون میرو لینے والے ۔ارے تم لوگوں میں تو اتنی ہمت نہیں کہ مجھے منا سکو
کڈنیپ کرکے زبردستی لاکر اس کرسی پر بٹھا کر تم لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ میں مان جاؤں گا تو ایسا کبھی نہیں ہوگا اور کوئی بھی قانون مجھ سے زبردستی بون میرو ٹرانسفر نہیں کروا سکتا
وہ تو تجھے ابھی یارم آ کر بتائے گا کہ وہ کیا کروا سکتا ہے اور کیا نہیں بون میرو تو تجھےدے دینا ہو گا بیٹا کیوں کہ یہاں سوال ہمارے رویام کی زندگی کا ہے ۔شارف نے غصے سے کہتے ہوئے اس کی رسی مزید کس دی اور اب وہ لوگ یارم کا انتظار کر رہے تھے
آدھا کام تو وہ لوگ اسے یہاں لا کر سر انجام دے ہی چکے تھے اب بس یارم کےآنے کی دیر تھی اور پھر یقینا اس شخص نے ان کے سامنے یارم سے اپنی زندگی کی بھیک مانگنی تھی جویارم کو جھکانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھا
°°°°°
کیا ہوگیا ہے تم لوگوں نے مجھے اتنی جلدی میں یہاں کیوں بلایا وہ روم میں داخل ہوتے ہی کرسی پر بیٹھے اس شخص کو دیکھ لیا تھا اس کے الفاظ میں ہی رہ گئے
کیوں کہ جیجا جی ان لوگوں نے مجھے کڈنیپ کیا ہے
تم لوگ اسے یہاں کیوں لے کر آئے ہو ۔۔۔۔
اس کو یوں باندھ کرکیوں رکھا یہ اس کے منہ پر زخم کے نشان کیوں ہیں
وہ ان تینوں کو گھورتے ہوئے بولا
ہم اسے یہاں کڈنیپ کرکے لائے ہیں رویام کی جان بچانے کے لئے بکواس کر رہا تھا اسی لیے ہم سے مارکھائی ہے اس نے لیلیٰ غصے سے بولی
ہاں تمہارے یہ چمچے مجھے کڈنیپ کر کے یہاں لائے ہیں انہیں لگتا ہے کہ یہ زبردستی مجھ سے رویام کیلئے بون میرو لے لیں گے ۔
بس اب یہی اوقات رہ گئی ہے تمہاری کے تم زبردستی مجھ سے یہ سب کرواؤ کوئی سیدھا راستہ نہیں ملا تو گن پوائنٹ پر اپنا کام نکلوا لوں تم ڈانز کا تو یہ روز کا معمول ہوگا نا
انہیں لگتا ہے کہ میں اپنی زندگی کی بھیک مانگوں گا وہ بھی تم سے ہاہاہاہا
مسٹر یارم ڈیول کاظمی اگر تمہارا خدا ایک ہے تو میرا خدا بھی وہی ہے اگر تم نہیں جھک سکتے تو جھک تودرکشم قیوم خلیل بھی نہیں سکتا
ویسے بہت کم ہمت نکلے تم مجھے تو لگ رہا تھا کہ ابھی تم مقابلہ کرو گے ۔لیکن تم تو بہت جلدی ہار مان کے اپنے ہتھکنڈوں پر آگئے
کھولو اس نے ادھر کی باتیں نظر انداز کرتے ہوئے صوبے بھر سے بولا
لیکن یار مہاجر نے کچھ کہنا چاہا
میں نے کہا کو لو اسے ۔اور یہ سب کچھ کرنا بند کر دوں اگر ریحام کے نصیب میں زندگی لکھی ہوئی تو اسے مل جائے گی مجھے اپنی بیٹے کی زندگی کے لئے ایسے راستہ اپنانے کی ضرورت نہیں
اگر تم ہی میرے بیٹے کو بہت میرے دینا ہوا تو اپنی مرضی سے دینا اس کا حکم نہ ماننے پر ہیں یا پھر خود ہی اس کی رسی کھولنے لگا
تم جاسکتے ہو یہاں سے جو تکلیف ہوئی اس کے لئے معذرت یار اسے کھول کر ایک سائیڈ ہو گیا
اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد میں پھر بھی تمہیں دس منٹ کا وقت دیتا ہوں جھک جاؤ یارم کاظمی بیٹا بچ جائے گا تمہارا وہ ایک بار پھر سے ہنستے ہوئے بولا تو یارم نے دروازے کی طرف اشارہ کیا
یار بہت اکڑہے تم میں ۔لیکن تمہیں جھکانا میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے جو میں کسی بھی حال میں پورا کر کے رہوں گا
آہستہ آہستہ تمہارا بیٹا موت کے قریب جائے گا نہ تب اکڑبھول کر تم مجھ سے بھیک مانگنے آؤ گے یہ یاد رکھنا
درک کہتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا جب اس کا فون بچنے لگا اس نےفون نکال کر دیکھا تو پری کا فون آرہا تھا اس نے مسکرا کر فون اٹینڈ کیا اور سپیکر پر لگا دیا
دکش رومی کا آپریشن ہو گیا ۔بے حد معصوم سی آواز فون سی آئی تھی
نہیں ڈرالنگ آپریشن نہیں ہو سکا وہ کیا ہے نہ تمہارے رومی بےبی کے باپ میں بہت زیادہ اکڑ ہے اپنے بیٹے سے زیادہ اسے اپنی اکڑ پیاری ہے ۔وہ ہنستے ہوئے یارم کو دیکھ کر بولا
یا اللہ کیسا بے حس باپ ہے اپنے بیٹے سے زیادہ اپنا غرور عزیز ہے اس کو ۔۔نفرت ہے مجھے ایسے لوگوں سے ۔پلیز اس کی باتوں پر دھیان نہ دیں آپ رومی کو بچائیں ۔وہ پتا نہیں کیا کیا بول رہی تھی جب درک نے فون بند کر دیا
یہاں سروس کا تھوڑا مسئلہ ہے میں تمہیں بعد میں فون کروں گا
اس نے فون بند کر کے ایک بار پھر سے پیچھے کھڑے ان چاروں کو دیکھا
واقعی سروس کا بہت زیادہ مسئلہ ہے باہر جا کے بات کرتا ہوں میں وہ بے حد ڈھٹائین سے یارم کو آنکھ مارتا وہاں سے نکل گیا
کیسا بے غیرت انسان ہے یہ یارم آج اس کی عقل ٹھکانے لگا دیتے ہم ساری اکڑ دھری کی دھری رہ جائے گہ وہ تینوں غصے سے آپس میں باتیں کرنے لگے ۔
جب کہ یارم کے دماغ میں اس وقت صرف اور صرف اپنے بیٹے کی زندگی کا خیال تھا
لیلیٰ میں نے تمہیں امریکا جانے کے لیے کہا تھا انہیں ایک دوسرے سے بحث کرتے دیکھ کر یارم غصے سے بولا
آج رات کی فلائٹ ہے میں چلی جاؤں گی اسے اتنے غصے میں دیکھ کر لیلیٰ منمائی جبکہ خضر اور شارف بھی خاموش ہو چکے تھے
°°°°°
رو میلی اے(روح میری ہے) ۔وہ ضدی انداز میں بولا
چپ کر روح میری ہے۔وہ فروٹس کاٹتے غصے سے بولا
نی میلی اے میلی اے میلی اے ۔(نہیں میری ہے میری ہے میری ہے)وہ بھی مقابلے پر اترتا پیر پٹخ کر بولا۔
کیا ہو رہا ہے یہاں کیوں شور مچا رہے ہیں آپ دونوں روح بیڈروم میں کب سے رویام کی بیماری کو لے کر پریشان تھی اجب ن کی تیز آواز سنتی کچن میں داخل ہوئی
روح بتا دو اپنے لاڈلے کو کہ تم صرف میری ہو صرف میرا حق ہے تم پر مجھ سے زیادہ تمہیں اور کوئی پیار نہیں کر سکتا ۔وہ ضدی انداز میں کہتا اسے بالکل اپنے قریب لے آیا
رو بے بی بتا دو گندے بابا تو آپ تھرف میلی او (روح بےبی بتا دو گندے بابا کو آپ صرف میری ہو رویام بھی اسی کے انداز میں کہتا ہے روح کا دوسرا ہاتھ تھامے اپنی طرف کھینچنے لگا ۔
ابے اوچوزے تو نے میری بیوی کو بےبی کیوں بولا ۔۔۔؟یارم اسے گھورتے ہوئے کہنے لگا
ماما ماما چوشے تے بابا تو تاا بوتے اے(ماما ماما چوزے کے بابا کو کیا بولتے ہیں ) ۔۔۔!اس نے روح سے سوال کیا
مرغا ۔۔۔۔روح نے ناسمجھی سے جواب دیا
ابے او مردے میلی ماما میلی بےبی اے (ابے او مرغے میری ماما میری بےبی ہے )رویام نے اتنے اسٹائل سے جواب دیا تھا کی روح اپنا ہاتھ منہ پر رکھ کر ایسی ہنسی کہ یارم سوائے گھورنے کے اور کچھ نہ کر سکا
پہلے مرغا لفظ بولنا سیکھ اچھے خاصے انسان کو مردہ کر دیا ۔اور میری بیوی تیری بےبی نہیں ہو سکتی ۔وہ صرف تیرے بابا کی بےبی ہے
چل اب اچھے بچوں کی طرح جلدی سے بول کے روح صرف اور صرف یارم کی ہےروح کی ہنسی کو نظر انداز کرتا ہے ایک بار پھر سے اس سے مخاطب ہوا
رو شرف ال شرف ریام تی اے (روح صرف اور صرف رویام کی ہے )وہ فورا جواب لے کر حاضر ہوا
روح نے بہت پیار سے اپنے معصوم بیٹے کو دیکھا تھا جس پر اسے آج حد سے زیادہ پیار آ رہا تھا وہ فوراً ہی جھک کر اس کے دونوں گالوں کو چوم چکی تھی
رویام اپنی ماما سے اتنا پیار کرتا ہے مام بھی اپنےرویام سے بہت پیار کرتی ہے وہ رویام کو گود میں اٹھا کربہت پیار سے بولی
رویام کا باپ بھی تم سے بہت پیار کرتا ہے کبھی اسے تو اس طرح سے پیار کا جواب پیار سے نہیں دیا یارم ان دونوں کی محبت پر جل کر بولا
یار م شرم کریں اتنے بڑے ہو چکے ہیں اور چھوٹے سے بچے سے جلتے ہیں معصوم سے بچے کے ساتھ ضد نہیں لگائی جاتی میرا معصوم سا پیارا بچہ وہ بے حد پیار سے اس کے بال سوارتی اس کے گال چومتی اسے اٹھا کر اندر لے گئی
یارم منہ بسور ان دونوں کے پیار کو دیکھ رہا تھا اور رویام اس کے جلنے پر خوش ہوتے ہوئے مزید روح سے چپک چپک کر پیار لے رہا تھا ۔
ان دونوں کے منظر سے ہٹتے ہی ہارم نے اپنا منہ سیدھا کیا اور کب سے کنٹرول کی اپنی ہنسی کو فضا میں منتقل کرتا ایک بار پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگیا
اور اب وہ دونوں کمرے میں ایک دوسرے سے باتیں کرنے میں مصروف ہو چکے تھے جیسے یارم نام کے کسی انسان کو جانتے ہی نہ ہوں
تھوڑی ہی دیر میں یارم کمرے میں حاضر تھا
رویام صاحب اگر آپ کو یاد ہو تو ہم کچن میں تمہاری ماں کے لئے اسپیشل چاکلیٹ فروٹ سیلڈ بنا رہے تھے وہ اسے گھورتے ہوئے بولا تو رویام نے اپنا ننھا سا ہاتھ اپنے ننھے سے ماتھے پر دے مارا
او می تو بل ای گا می اپلی رو بےبی تےلیے سیشل توکلٹ پھروٹ شلیڈ بلا لا تا میلی رو بےبی شیڈ تی نا اش تو ہیپی ترنے تے لیے (او میں تو بھول ہی گیا میں اپنی روح بےبی کے لیے اسپیشل چاکلیٹ فروٹ سیلڈ بنا رہا تھا میری روح بے بی سیڈ تھی نا اس کو ہیپی کرنے کے لئے) وہ پیار سے روح کے گالوں پے ہاتھ رکھتا بیڈ سے نیچے جمپ کرنے لگا
اس کی اداسی اس کا معصوم بچہ بھی نوٹ کر چکا تھا
یارم نے اسے کتنا سمجھایا تھا ہمیں رویام کی ہمت بنا ہے اسے طاقت دینا ہے یوں خود ہمت ہار کر نہیں بیٹھنا
لیکن وہ ہمت ہارنے لگی تھی ۔
یہ احساس ہی اس کے لیے جان لیوا تھا اس کا بچہ اس سے جدا ہونے والا ہے
وہ شخص جو اس کا رشتے میں بھائی لگتا تھا صرف اور صرف اپنی بے جا فصول سی ضد کی خاطر ان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی چھین لینا چاہتا تھا
لیکن روح یارم کی ہمت کی وہ اپنے شوہر کو جھکنے نہیں دے سکتی تھی وہ بھی تب جب زندگی دینے والی ذات اوپر والی تھی ۔
وہ کیوں درکشم جیسے بےحس انسان سے اپنے بیٹے کی زندگی مانگتے
اگر اس کے نصیب میں اولاد لکھی ہوئی ہوئی تو رویام کو کچھ نہیں ہوگا
کوئی بھی درک آ کر یہ کہہ کر انہیں بے بس نہیں کرسکتا کہ تم میرے سامنے جھکو میں تمہارے بیٹے کو زندگی دے دوں گا
گھر آکر اسے یارم کی بات بالکل ٹھیک لگی تھی رویام کو دینے والی ذات اللہ کی تھی تو اس کی جان بچانے والی ذات بھی اللہ کی تھی اس اللہ سے زیادہ اور کسی پر بھروسہ نہیں تھا اور کسی اور سے زندگی کی بھیک مانگنا شرک تھا
وہ اللہ پر یقین رکھنے والے شرک نہیں کرسکتے تھے۔اور درک اگر بون میرو دے بھی دے تو بھی رویام کی زندگی کا فیصلہ اوپر والی ذات نے کرنا تھا کسے درکشم قیوم خلیل نے نہیں
اگر رویام کے نصیب میں زندگی ہوئی تو بنا کسی کے سامنے جھکے بھی اسے مل جائے گی
وہ اپنی ہی سوچوں میں مصروف بھی جب باہر سے پھر شور کی آوازیں آنے لگی
رو میلی اے (روح میری ہے)ننھی سہ معصوم سی آواز
روح میری ہے ۔۔بھاری دلفریب آواز
روح اپناسر پکڑ کر بیٹھ گئی
یہ جنگ تو شاید اب قیامت تک ختم نہیں ہونی تھی
°°°°
