Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 13)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 13)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
صاف ستھراماحول اور بڑا سا کمرا کمرے میں موجود بڑی سی کھڑکی جس میں دور دور کے سارے پہاڑ نظر آ رہے تھے
اس کمرے کو اس طرح سے سجایا کیا گیا تھا کہ جیسے وہ کوئی نئے نویلے شادی شدا کپل کا کمرہ ہو
کمرے میں قدم رکھتے ہی روح کو ہنسی آگئی
ہوٹل کی سٹاف ورکر اسے یہاں تک چھوڑ کر خود واپس جا چکی تھی اور یارم ہوٹل چیکنگ کے لیے گیا ہوا تھا
پتا نہیں اس نے کتنی دیر میں واپس آنا تھا جبکہ روح تو منہ ہاتھ دھو کر فریش ہو چکی تھی
اور اب کھڑکی کھول کے سامنے اس خوبصورت دل موہ لینے والے نظارے کو آنکھ بھر کر دیکھ رہی تھی
اونچے اونچے حیسن و خوبصورت پہاڑ کچھ سبز تھے تو کچھ کی چوٹیاں برف سے ڈھکی ہوئی تھی۔آسمان کے بادل بھی پہارپڑوں سے نیچے لگ رہے تھے اتنے اونچے پہاڑ اس نے زندگی میں پہلی بار دیکھیں تھے
وہ ایک خوبصورت سی مسکان کے ساتھ اس نظارے کو دیکھ رہی تھی
جب دور ہی سے اسے ایک انتہائی حسین لڑکی اس ہوئل کی طرف آتی نظر آئی
وہ جتنی خوبصورت تھی اتنی ہی آزاد خیال تھی
شکل سے کوئی گوری میم تو ہرگز نہیں لگتی تھی لیکن اس کے برہنہ کندھے اور ٹانگیں دیکھ کر روح کو اس پر اتنا غصہ آیا کہ وہ کھڑکی بند کر کے بیڈ کے پاس چلی گئی
یا اللہ کیاانہیں ذرا شرم نہیں آتی کیسے یوں ننگی گھوم لیتی ہیں افف
کیسے اپنے شوہر کی امانت کو دنیا جہان میں نظارہ بنا کر پیش کرتی ہیں یہ مغربی عورتیں توبہ توبہ وہ اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتی بیڈ پر بیٹھے بیٹھے ہی آئینے کی جانب دیکھنے لگی
اس کا نازک سراپا سامنے آئینے میں بے حد حسین لگ رہا تھا
یارم کی محبت اسےدن بعد دن بے حد حسین بناتی جا رہی تھی
اگر عورت کی محبت کسی ایک خاص انسان تک محدود ہو جائے اس کو اپنا وجود حسین ترین لگنے لگتا ہے
اسے فاطمہ بی کی کہی ہوئی بات یاد آئی
سچ ہی تو کہتی تھیں وہ اپنے آپ کو ایک شخص کے نام کر کے وہ کتنی مطمئن تھی ۔صرف ایک شخص کی ہو کر کتنے سکون میں تھی وہ
اور یہ مغربی عورتیں کیسے اپنے آپ کو جگہ جگہ رولتی ہیں
ایک سچی محبت کی تلاش میں نہ جانے کتنی محبتیں کر بیٹھتیں ہیں
اور ہمارا مذہب ہمیں کسی غیر محرم سے بات تک کرنے کی اجازت نہیں دیتا کیوں کہ سچی محبتیں جگہ جگہ نہیں کی جاتی سچی محبت ایک ہی بار ہوتی ہے جو نکاح سے جڑتی ہے
اور نکاح وہ واحد رشتہ ہے جو محبتوں سے بنتا ہے نکاح کے بعد محبت ہو ہی جاتی ہے صرف دو لفظوں سے جڑا تعلق محبت کرنے پر مجبور کر ہی دیتا ہے
اور ہمارے مذہب میں اسی تعلق کو محبتوں سے جوڑا گیا ہے
اور یہ غیر مذہب لوگ کبھی محرم کی محبت کو نہیں سمجھ سکتے
ان کیلئے نکاح یا شادی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔
کیسے بے وقوف لوگ ہیں یہ اپنا آپ برباد کرنے کو آزاد خیالی کہتے ہیں ۔اور ایک ہی شخص کے ساتھ ساری زندگی وفاداری سے نکاح کرنے کو بیوقوفی
پھر وہ ان لوگوں کی سوچ پر ہنستی بیڈ پر لیٹ گئی
یہ بےوقوف لوگ بلا محبت کو کیسے سمجھ سکتے ہیں
تھوڑی ہی دیر میں یارم کو آجانا تھا اور وہ اسے تنگ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی اسی لیے بستر میں گھس کر سونے کا ڈرامہ کرنے لگی ۔
کیونکہ جو بھی تھا یارم کو ستانے کا اپنا ہی مزہ تھا
°°°°
ہوٹل چیکنگ کرنے کے بعد جب وہ واپس روم کی جانب آنے لگا تو اس سے پکا یقین تھا کہ روح اسے تنگ کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی پلاننگ ضرور کر چکی ہوگی
اس سے پہلے کہ وہ سو تی وہ کمرے میں پہنچ جانا چاہتا تھا
کیونکہ فی الحال اس کا انتقام لینے کا ارادہ تھا اتنے دنوں سے وہ جو اسے دن رات ستا رہی تھی وہ مکمل انتقام کے ساتھ خود کو انصاف دلا رہا تھا
جتنا اس نے اسے ستایا تھا اسی حساب سے وہ بھی اسے تنگ کر رہا تھا
لیکن اس کی بھولی بھالی سی معصوم سی روح آج کل اسے بہت تنگ کر رہی تھی شیطانیوں میں شیطانوں کی لیڈر بنے وہ اسے تنگ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی
اسے ہوٹل ورکر کے ساتھ اندر بھیجنے سے پہلےیارم نے سختی سے کہا تھا سونا مت اور جانے سے پہلے اس نے یارم کے کان میں سرگوشی کی تھی
جب تک آپ واپس آئیں گے روح کو خوابوں کی دنیا میں پائیں گے
رات کو میرے خوابوں میں آ جائیے گا مل کے لڈو کھیلیں گے لیکن خبردار جو مجھے جگایا
جس پر یارم نے اسے سختی سے گھورا تھا اور وہ کھلکھلاتی ہوئی اندر چلی گئی
اور اب یارم جلدی روم میں جانا چاہتا تھا تاکہ اس کے پہنچنے تک وہ سوئے نہ
وہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا جب اچانک سامنے سے کوئی آتا اس سے زور سے ٹکرایا
غلطی سامنے والے کی تھی لیکن اس وقت وہ روح کے علاوہ کسی کے بھی منہ نہیں لگنا چاہتا تھا
سوری وہ ایک لفظی جواب دیتا آگے بڑھنے لگا جب نظر اس کی آنکھوں کی طرف پڑی
اس قدر جانی پہچانی آنکھیں وہ کھٹک سا گیا
جب کہ وہ صرف ہاتھ سے جواب دیتا آگے کی جانب بھر گیا تھا لیکن یارم کے قدم وہی رک گئے
اس کی آنکھیں روح سے کتنی زیادہ ملتی ہے
یارم نے سوچتے ہوئے اپنا فون نکالا
اور خضر کے موبائل پر ایک میسج کیا
جس کا جواب تھوڑی ہی دیر میں آ گیا تھا
یارم موبائل دوبارہ اپنی جیب میں ڈالتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب چلا گیا
اب اس کے قدموں میں کسی قسم کی کوئی تیزی نہیں تھی اس کے دماغ میں بہت ساری سوچیں چل رہی تھی
لیکن وہ اپنی کسی بھی سوچ کو کسی قسم کا کوئی نام نہیں دینا چاہتا تھا وہ ان آنکھوں کو اپنے ذہن سے جھٹکتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا
°°°°°°
کمرے میں قدم رکھنے سے پہلے اس نے اپنے آپ کو پرسکون کیا تھا وہ اپنی کسی بھی سوچ کا اثر روح تک نہیں جانے دینا چاہتا تھا
کمرے کا دروازہ کھول کر اندر قدم رکھا تو سامنے ہی وہ بیڈ پر کمبل میں گھسی سونے کی باکمال ایکٹنگ کررہی تھی
یارم اپنا جیکٹ اتار کر صوفے پر پھنکتا اپنی گھڑی اور موبائل ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر شرٹ اتارنے لگا۔
اور اب وہ مسکراتے ہوئے روح کے ساتھ کمبل میں گھس کر اس پر اپنا شکنجا مضبوط کر چکا تھا
جو اس کے آنے کا اندازہ لگا کر مزید آنکھیں میچے سونے کی ایکٹنگ کر رہی تھی یو ں اسے آپنے بے حد نزدیک محسوس کرکے دونوں آنکھیں کھولے اسے گھورنے لگی
جب کہ وہ اس کی گھوری کو کسی بھی قسم کی اہمیت دیے بغیر اسے پوری طرح سے قید کر چکا تھا
روح کے مسلسل گھورنے پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ وہ تو اس کی گھورتی ہوئی آنکھوں کو لبوں سے چھوتے ہوئے اس کی گردن پر جھکا تھا
یارم مجھے بہت سخت نیند آئی ہے سونے دیں مجھے ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔
ورنہ کی ایسی کی تیسی آرام سے پڑی رہو ورنہ میری ورنہ تمہاری ورنہ سے زیادہ خطرناک ہوگئی وہ اس کی دھمکی کی پرواہ کیے بغیر بولا
یارم میں آپ سے ناراض ہو جاوں گی بہت سخت والی اس کی شدت سے بھرپور لمس اپنے گال کے بعد گردن پر محسوس کرتے ہوئے وہ اسے دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی
ہو جاؤ ناراض مجھے منانا آتا ہے اور ناک سے مکھی اور آتے ہوئے اس کے لبوں پر ایک ننھی سی گستاخی کرتا ایک بار پھر سے اس کے دونوں گولوں کو شدت سے چوم کر اس کا دوپٹہ اتار کر پھینک چکا تھا
شرم سے دوہری ہوتی روح نے ہلکی سی مزاحمت کرتے ہوئے اس کی پیٹھ پر چٹکی کاٹی
یارم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا
یہ کیا بدتمیزی تھی وہ سختی سے کر کہنے لگا
یہ بدتمیزی نہیں آپ کو بدتمیزی سے روکنے کی ایک ننی سی کوشش کی تھی روح نے فورا کہا
بھاڑ میں گئی تمہاری کوشش اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر تکیے سے لگاتا سختی سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا
اور اس بار وہ اس کے لبوں پر جھکا اپنے شدت سے بھرپور لمس کے ساتھ اس کی سانسیں تنگ کر گیا
اس کے نازک لبوں کو چومتے وہ اسے مشکل میں ڈال گیا
وہ اپنی مزاخمت پر پچھتائی تھی
اگر تم نہیں چاہتی کہ میں تم سے سانس لینے کی اجازت بھی چھین لوں تو آرام سے پڑی رہو بنا کسی کوشش کے ورنہ تمہاری ہر کوشش کا میں وہ حال کروں گا کہ ساری زندگی یاد رکھو گی
اس کے لبوں کو آزادی بخشتے ہوئے وہ اسے وارن کرتے ہوئے بولا
اور اس کی دھمکی کافی کارآمد ثابت ہوئی تھی کیونکہ اس کے بعد روح پوری طرح مذاحمت چھوڑ چکی تھی
جب کہ یارم اپنی کبھی نہ ختم ہونے والی تشنگی کو مٹا رہا تھا
°°°°
بہت بہت مبارک ہو شارف روپورٹس پوزیٹو ہیں معصومہ ماں بننے والی ہے ۔اور تم پاپا ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے اسے خوشخبری سنائی تھی کل سے ہی وہ اس کی بے چینی پر بے حد پریشان تھی
کیونکہ کل سے ہی اس نے اسے فون کرکے اتنا تنگ کر رکھا تھا کہ حد نہیں
اور اب اس خوشخبری کے بعد جہاں معصومہ نے مسکرا کر شارف کو دیکھا تھا وہی شارف ڈاکٹر کی پرواہ کئے بغیر اسے کھینچ کر سینے سے لگا چکا تھا
معصومہ اسے گھور کر رہ گئی جبکہ ڈاکٹر مسکرا دی
چلو گھر چلتے ہیں اب سے میں خود تمہارا خیال رکھوں گا تمہارے کھانے پینے کا چلنے پھرنے کا ہر چیز کا خیال میں خود رکھوں گا تمہیں تو ویسے بھی کسی چیز کا ہوش نہیں ہوتا یہ نہ ہو کہ تمہاری بے دھیانی سے میری ہونے والی بیٹی دنیا میں آنے سے پہلے ہی مجھ سے ناراض ہو جائے
میں تو ابھی سے اس کا خیال رکھوں گا شارف کمرے سے نکلتے ہوئے میں کہنے لگا تو معصومہ کو جیسے جھٹکا لگا
کیا مطلب ہے ہونے والی بیٹی وہ بیٹا بھی ہو سکتا ہے
اور ان شاء اللہ تعالی بیٹا ہی ہوگا مجھے پہلے بیٹا چاہیے تمھاری بیٹی کے لیے ہم تین چار سال بعد بھی سوچ سکتے ہیں
معصومہ آئستہ آئستہ چلتی اس کے ساتھ کہہ رہی تھی جس پر پہلے تو شارف نے منہ بنایا پھر مسکرا دیا
ہاں بابا چلو بیٹا ہی سہی ہے جو بھی ہو بس جلدی سے آ جائے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے شارف نے مسکرا کر کہا
جلدی کیسے آئے گا شار ف ا بھی تو پورے ساڈھےآٹھ مہینے رہ گئے ہیں معصومہ اس کے ساتھ چلتی مایوسی سے بولی
کوئی بات نہیں ہم ساڈھے آٹھ مہینے اس کا انتظار کریں گے اور تمہیں بھی اپنی کیر کرنی ہوگی تاکہ ہم اسے بتا پائیں کہ ہم اس کے آنے سے پہلے ہی ان کا کتنا خیال رکھتے رہے ہیں
افکورس میں اپنا خیال رکھوں گی صرف تمہیں ہی پیار نہیں ہے اپنے ہونے والے بچے سے معصومہ نے فوراً جواب دیا
ویری گڈ وہ اس کے لئے گاڑی کا دروازہ کھولتا جیب سے فون نکال کر تیزی سے میسج ٹائپ کرنے لگا
اب تم کیا کرنے لگ گئے ہو اسے فون پر مصروف دیکھ کر معصومہ نے پوچھا
ارے کچھ نہیں بس خضر اور لیلی کو رات اپنے گھر پر ڈنر کے لیے انوائٹ کر رہا ہوں اب اپنی خوشی اپنوں کے ساتھ ہی مناؤں گانا یارم کو بھی فون کرتا ہوں
خضرکو میسج کرنے کے بعد وہ یارم کو فون کرنے لگا جبکہ معصومہ مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر سر رکھ چکی تھی
یہ ان کی زندگی میں آنے والی پہلی خوشی تھی جسے لے کر وہ دونوں بے حد خوش تھے
دنیا میں اولاد کا احساس ہی دنیا کا سب سے خوبصورت احساس ہوتا ہے
°°°°°
یارم اٹھ جائیں نا کتنا سوئیں گے وہ اس کا کندھا ہلتی بے زاری سے بولی
سونے دو روح یار تھک گیا ہوں میں وہ آنکھ دباتا شرارت سے بولا توروح نے شرمندہ ہوتے پہلا سر جھکایا اور پھر اس کے کندھے پر چیٹ لگائی
بہت بد تمیز ہیں آپ مجھ بات ہی نہیں کرنی آپ سے
وہ اس کے قریب سے اٹھ کر جانے لگی تو یارم نے اس کا بازو پکڑ کر اسے خود پر گراتے ہوئے اسے اپنے بازوؤں میں قید کر لیا
اب کون سی بدتمیزی کر دی میں نے زیادہ پیار بھی نہیں کرنے دیا تم نے اور اب بھی نہیں کرنے دے رہی وہ اس کی تھوڑی کو پکڑتے ہوئے اس کے لبوں پر میٹھی سی جسارت کرنے ہی والا تھا کہ روح نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا
بس بہت ہوا یارم ۔۔۔۔۔
اٹھیں اور چلیں مجھے باہر لے کر یہاں پر قید ہونے کے لیے نہیں آئی ہوں میں
مجھے آئس لینڈ کی بہن کو ہر طرف سے دیکھنا ہے پلیز چلیں نا
وہ منت کرتے انداز میں بولی
روح میرا بچہ رات کے دس بج رہے ہیں اور یہاں کے کچھ اصول ہیں ہم رات کو باہر نہیں جا سکتے
اور اگر جائیں گے بھی تو کہاں یہ علاقہ شہر سے تھوڑے فاصلے پر ہے اور دور دور تک سوائے جنگل کے اور کچھ نہیں ہیں سوائے یہاں سے تھوڑے فاصلے پر ایک بڑی پہاڑی ہے
لیکن وہاں پر بھی ایک کلب ہے جہاں کا ماحول تمہیں ہرگز پسند نہیں آئے گا
غیر مذہبی ماحول ہے تمہیں پسند آنے کے کوئی چانسز ہی نہیں ہیں وہاں پر شراب سگریٹ جوا سب کچھ چلتا ہے
میرا نہیں خیال کہ تم وہاں جانا پسند کرو گی
یارم نے تفصیل سے بتایا تو روح نے منہ بنالیا
یہاں قریب قریب سے ہی گھوم کر واپس آجائیں گے پلیز چلے نہ روح معصوم سی شکل بنا کر بولی تو یار م کومنانا ہی پڑا
ٹھیک ہے چلو مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن ایک بات کان کھول کر سن لو یہاں جوتوں کی آواز پیدا کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے یہ نہ ہو کہ ابھی ہوٹل سے نکلے اور صبح جیل سے ملے
یارم میں کبھی جیل نہیں گئی۔لگے ہاتھ وہ بھی دیکھ لیں گے وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتی ہوئی بولی
یارم کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ کھلی تھی
جب کہ روح جلدی سے اس کے ڈمپل پر بوسہ دیتی پھرتی سے اس کے قریب سے اٹھناہی چاہتی تھی کہ یارم نے اسے پکڑ لیا
اور پھر جارحانہ انداز میں اس کے لبوں پر جھکتے ہوئے شدت سے بھرپور بوسہ لیا
ایسے کیا جاتا ہے پیار وہ شرارت سے آنکھ دباتا بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ بولا
مجھے نہیں سیکھنا آپ کا جارحانہ پیار وہ منہ بناتی باہر کی طرف قدم بڑھانے لگی
لیکن مجھے سیکھانا ہے یارم اس کے پیچھے جاتا شرارت سے بولا
ارے کہا نہ نہیں سیکھنا وہ اسے گھور کر بولی
پر میں نے بھی تو کہا کہ مجھے سکھانا ہے اپنی نکمی بیوی کو وہ اس کے پیچھے پیچھے چلتا اپنا کمرہ لاک کرتے ہوئے بولا
تو روح تیز قدم اٹھاتی سیڑھیوں کی جانب جا چکی تھی ۔
اف کتنی جلدی ہے اس لڑکی کو باہر جانے کی وہ نفی میں سر ہلا سیڑھیاں اترنے لگا جب روح کو آخری سیڑھی پر کچھ حیران ساتھ کھڑے دیکھا
کیا ہوگیا جانےمن یہاں کیوں رک گئی
یارم میں نے ابھی اس کڈنپر کو یہاں دیکھا جو دبئی میں شونو کو اغوا کرنے والا تھا اس نے جلدی سے بتایا
روح میں نے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی کڈنپر ہو ضروری تو نہیں کہ وہ شونو کو اغوا ہی کرنے والا ہواور یہ بھی ہو سکتا ہے کوئی اور ہو خیر چھوڑ چلو باہر چلتے ہیں
چلو ریسیپشن سے گاڑی کی چابی بھی لینی ہے
وہ اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتا ہے اسے اپنے ساتھ لے گیا روح نے پھر ایک نظر دوبارہ پیچھے دیکھا تھا
لیکن یارم نہیں چاہتا تھا کہ وہ کہیں بھی اور دیکھیں اس کا دھیان تو صرف اپنے یارم پر ہونا چاہیے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے مزید قریب کرتے ہوئے یارم نے اسے اس بات کا احساس بھی دلایا تھا
جب کہ روح اسے گھورتے ہوئے بے ساختہ مسکرائی اور اس کے ساتھ چل دی
°°°°
