Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 32)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 32)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
ہر گزرتا لمحہ ایک امتحان سے کم نہیں تھا .
اندر اس کی روح کا آپریشن چل رہا تھا ۔اور وہ باہر بیٹھا بے چینی سے آنے والے لمحات کا انتظار کر رہا تھا .
نہ جانے کیا ہونے والا تھا .
وہ بس اللہ سے اپنی روح کی زندگی کی دعائیں مانگ رہا تھا ۔
شاید ان کے نصیب میں اولاد کا سکھ لکھا ہی نہیں ۔
وہ بس یہ مشکل لمحات گزرنے کا انتظار کر رہا تھا
وہ جانتا تھا کہ وہ اپنی روح کو سمجھا سکتا ہے
وہ اسے بتائے گا کہ بچہ نہ ہونا قدرت کا فیصلہ ہے جسے ان دونوں کو قبول کرنا ہوگا
روح نہ جانے کس طرح ری ایکٹ کرے گی کیا وہ اسے معاف کر سکے گی دوسری بار اپنا بچہ کھو کر ایک اچھی زندگی گزار سکے گی ۔
اور جب اس کوپتہ چلے گا کہ وہ دوبارہ کبھی ماں نہیں بن سکتی تو کیا بیتے گی اس کے دل پر۔
کہیں وہ اپنے بچے کا گناہ گار اسے نہ سمجھے چار سال کے طویل انتظار کے بعد اسے موقع ملا تھا اپنی ممتا کو سکون پہنچانے کا
۔اپنی ممتا کسی پر نثار کرنے کا کسی کے ننھے وجود کو اپنے سینے سے لگانے کا
لیکن ان کی یہ خوشی بھی ان سے چھن چکی تھی
ڈاکٹر نے کچھ ہی دیر میں آکر بتا دینا تھا کہ اس کا بچہ اس دنیا میں نہیں رہا ۔
لیکن روح کے لئے بھی یہ آپریشن بہت خطرناک تھا
وہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ نظر لال بتی پر جمائے ہوئے تھا جہاں سے کبھی بھی کوئی بھی فیصلہ آسکتا تھا
یارم ہم اور تو کچھ نہیں کر سکتے لیکن دعا تو کر سکتے ہیں خضر اس کے کندھے پے ہاتھ رکھتے ہوئے بولا دعا کرو کہ روح ٹھیک ہوجائے
ہاں یارم بھائی آپ تو کہتے ہیں نہ کہ اللہ روح سے بے انتہا محبت کرتا ہے تو وہ ہماری روح کو اس کنڈیشن سے ضرور نکالے گا ۔
اور بچے کا کیا ہے لوگ ہزار بچے گود لیتے ہیں دن میں ۔اگر روح کی کنڈیشن زیادہ خراب ہو گئی تو ہم اس کے لیے ایک بچہ گود لی لیں گے ۔اس کی حالت سبنھال جائے گی وقت ہر درد کا مرہم ہے شارف اس کے دوسری طرف بیٹھتے ہوئے بولا
اگر اللہ روح سے اتنی محبت کرتا ہے تو وہ اسے اسی کی اولاد کیوں نہیں دیتا سارے امتحان میری روح کے لئے ہی کیوں بنائے ہیں ۔۔۔۔
وہ روح کو خوشیاں دے کر خوشیاں چھین کیوں لیتا ہے ۔۔۔۔
جب سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے تو وہ پھر خراب کیوں کرتا ہے کیوں روح پر سکون زندگی نہیں گزار سکتی۔۔۔کیوں خضر کیوں۔۔
خضر حیرانگی سے یارم کے یہ ناشکرانہ الفاظ سن رہا تھا
آج پہلی بار اسے یارم کے لب و لہجے پر یقین نہ آیا
اسےناشکری سے نفرت تھی اور آج روح کی اس حالت کو دیکھ کر وہ خود ناشکری کر رہا تھا
اس وقت اس کی آنکھوں میں آنسو بس بہنےکو بے چین تھے لیکن شایدوہ اپنے آنسو بہانا ہی نہیں چاہتا تھا
اگر وہ اس سے اتنی محبت کرتا ہے تو کیوں نہیں دے دیتا اسے اس کے حصے کی خوشیاں وہ خضر کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا جب اچانک ڈاکٹر باہر آیا
بہت بہت مبارک ہو مسٹر یارم بیٹا ہوا ہے آپ کی مسز کی کنڈیشن اتنی خراب تھی کہ ہمیں لگا کہ شاید ہم کسی ایک کو ہی بچا پائیں گے
لیکن وقت رہتے سب کچھ کوراپ ہوگیا
نرس تھوڑی ہی دیر میں آپ کا بیٹا باہر لے آئے گی ڈاکٹر اس سے ہاتھ ملاتا اسے حیرانگی میں گھیرے دیکھ کر مسکرا دیا
جبکہ اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھتا یارم اسے روک لیا تھا
میری روح کیسی ہے۔۔۔؟
اس کے لہجے کی بے چینی نے ڈاکٹر کو بھی ایک لمحے کے لیے پریشان کردیا تھا
ابھی تو میں نے بتایا کہ ان کی کنڈیشن بھی کافی بہتر ہے
پہلی پریگٹسی کی وجہ سے کنڈیشن کافی کرٹیکل ہو گئی تھی لیکن ہم نے وقت رہتے ان کی کنڈیشن پر قابو پا لیا
فی الحال وہ بےہوش ہیں ا نہیں دو تین گھنٹوں میں ہو جائے گا جب تک آپ اپنے بیٹے سے باتیں کریں اس کی حالت ایسی تھی کہ ڈاکٹر بہلانے والے انداز میں کہنے لگا
نہیں مجھے میری روح کو دیکھنا ہے ۔یارم نے ایک نظر نرس کی طرف دیکھا جو بچے کو سفید کپڑےمیں چھپائے اس کے پاس لا رہی تھی
اس وائے ٹاٹ آپ اپنی مسز کے پاس رہ سکتے ہیں جب تک ان کو ہوش اتا ہے انہیں تھوڑی ہی دیر میں روم میں شفٹ کر دیا جائے گا ڈاکٹر اس کا کندھا تھپتھپاتا آگے بڑھ چکا تھا
خضر نرس کے ہاتھ سے اس پیارے سے بےبی کو لے کر اس کی طرف قدم بڑھائے تھے لیکن یارم نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں
یارم روح اور تمہارا بےبی دونوں بالکل ٹھیک ہیں اس طرف دیکھو تو صحیح کتنا پیارا ہے یہ وہ بچےکو اپنے ہاتھوں میں لیے یارم کو اس کی طرف متوجہ کر رہا تھا
خضر میں نے بہت ناشکرا نا الفاظ استعمال کے ہیں نا دیکھا اس پاک ذات نے ایک پل میں دکھا دیا کہ وہ جسے چاہے جتنا چاہے نوازتا ہے
اس نے میرے لیے امتحان کی گھڑی رکھی اور میں اس میں صبر کرنے کے بجائے شکایت کرنے لگا
کتنا کم عقل انسان ہوں نا میں اس کی ذات کے تقاضوں کو سمجھ ہی نہ سکا ۔میں سمجھ ہی نہ سکا کہ وہ پاک زات ہر جگہ موجود ہے ہمیں سنتی ہے ہمیں دیکھتی ہے ۔
کتنی جلدی اس نے اپنا آپ مجھ پر ظاہر کر دیا
میں سب سے پہلے اس کے پاس جاؤں گا اوراس چھوٹے کارٹون کو اپنی روح کے ساتھ ہی دیکھوں گا لیکن پہلے اس کا تو شکریہ ادا کر لوں جس نے اوقات سے بڑھ کر نوازا ہے
اپنی آنکھوں میں آئے آنسو کو ہاتھوں سے صاف کرتا ہے وہ مسکرایا جبکہ حضر بھی مسکراتے ہوئے بے بی کو شارف کی گود میں ڈال چکا تھا ۔
جو کب سے بے چین تھا اسے دیکھنے کے لئے
یارم شکرانے کے نفل ادا کرنے جا چکا تھا
اور شارف کو یہ ننھا سا فرشتہ یارم اور روح کی نہیں بلکہ اپنی کاپی لگ رہا تھا
°°°°°°
یارم نے رو رو کر اللہ سے معافی مانگی تھی اپنی ناشکری پر وہ بے حد شرمندہ تھا ۔اس کا اللہ اسے بہت چاہتا تھا
اور اپنی محبت میں ان دونوں کو ایک بہت پیارا سا تحفہ بھی دے ڈالا تھا
اللہ رحیم و کریم ہے
روح سے ملنے سے پہلے اس نے اپنی غلطی کی معافی مانگی تھی ۔
اتنا ناشکرا وہ کبھی بھی نہیں تھا ۔
وہ تو خود سب کو گمراہی سے دور کرتا تھا اور آج خود گمراہی کے راستے پر چل پڑا
وہ پچھتا رہا تھا بہت پچھتا رہا تھا
رو رو کر اپنے سجدوں میں اللہ سے معافی مانگی تھی وہ اس کا بہت شکر گزار بھی تھا
جس نے روح جیسی پاک سیرت لڑکی اس کے نصیب میں لکھی تھی ۔
پر اپنی رحمتوں کا تحفہ ایک ننھے فرشتے کے روپ میں بھیجا تھا
اللہ کے حضور گڑگڑا کر معافی مانگ کر وہ روح کے پاس آیا
اسے ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا وہ خاموشی سے اس کے قریب کرسی رکھتا اس کا ہاتھ تھام کر بیٹھ گیا
وہ اپنے بیٹے کا چہرہ اپنی بیوی کے ساتھ دیکھنا چاہتا تھا روح کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا لیکن وہاں لیلیٰ اور معصومہ اس ننھے بچے کو اپنے تینوں شیطانوں سے بچا رہی تھی
جو اس کے ہاتھ پر پر بلون باندھ کر اسے اڑانے کی کوشش کر رہے تھے
جہاں بچے اسے پا کر بے حد خوش تھے وہی معصومہ اور لیلی کو ڈر تھا کہ کہیں یہ سب اسے غبارے سے باندھ کر آسمان میں ہیں نہ اڑا دیں۔
کیونکہ وہ بہت کمزور تھا
شارف اور خضر بے حد خوش تھے جب کے صارم بھی تھوڑی ہی دیر میں اپنی فیملی کے ساتھ آچکا تھا
ہسپتال میں اتنا رش نےڈاکٹر کو پریشان کر دیا تھا لیکن صارم نے کمرے کا دروازہ بند کرکے کہہ دیا کہ شور کی آواز باہر نہیں جائے گی
اور اب صارم کے دونوں بچے بھی یارم کے معصوم سے بیٹے کو اڑانے کی کوشش کر رہے تھے
یہ الگ بات ہے کہ شونو کو یہ سب کچھ بالکل پسند نہیں آیا
جیسے ہی لیلیٰ نے چھوٹے میاں کو کاٹ میں لٹایا شونو اس کی رکھوالی کے لیے اس کے سر پر بیٹھ گیا
اور اب شونو کے ڈر سے کوئی بھی چھوٹے میاں کے پاس ہی آ رہا تھا
سوائے ماہرہ کے سب سے بڑی ہونے کی وجہ سے اسے تھوڑا بہت سمجھدار ہونے کا خطاب حاصل تھا
ماما اس کا نام کیا ہوگا ماہرہ بے بی کی گال چومتے ہوئے عروہ سے پوچھنے لگی
وہ تو اس کی ماں ہوش میں آنے کے بعد بتائے گی
عروہ نے مسکراتے ہوتے ہوئے کہا
جبکہ یارم کی نگاہیں ابھی ابھی صرف اور صرف روح پر ہی ٹکی ہوئی تھی
جو اس شور شرابے کی وجہ سے اب آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھول رہی تھی اس کی آنکھیں کھولتے ہوئے ایک نظر پورے کمرے میں موجود ہر شخص پر ڈالی
یارم اس کے بے حد قریب تھا وہ اسے دیکھتے ہوئے اس کے پاس بیٹھا تھا
روح نے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی لیکن اس سے اٹھانا گیا
لیکن اس کے چہرے پر کسی قسم کی خوشی نہیں بلکہ ایک ڈر ایک خوف تھا جو یارم بہت اچھے سے محسوس کر چکا تھا
°°°°°
وہ آہستہ سے کرسی سے اٹھ کر اس کے پاس بیٹھا اور اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اٹھایا
یارم میرا بچہ کہاں ہیں سب ٹھیک تو ہے نہ
یارم پلیز کچھ بولیں آپ خاموش کیوں ہیں
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
سب کچھ ٹھیک ہے روح پلیز ریلکس یارم اس کا ماتھا چومتے ہوئے کے بال سہلا رہا تھا لیکن روح کو سکون یا آیا
تومیرا بچہ کہاں ہے پلیز بتائیں مجھے وہ یارم کا کالر جھنجھوڑتے ہوئے بولی
روح کیا ہو گیا ہے تمہیں ریلکس ہو جاؤ بےبی یہیں پر ہے ابھی سویا ہے بچے اسے سونے نہیں دے رہے تھے وہ تو شکر ہے کہ شونو کاروعب تھوڑا چل گیا ورنہ ہماری تو کوئی سنتا ہی نہیں ہیں یہاں
عروہ نےاٹھ کر کاٹ سے بےبی اٹھایا اور اس کے پاس لے آئی
روح تمہارا بیٹا مسٹر چھوٹے میاں فل حال ہم نے یہی نام رکھا ہے باقی اس پرسنیلٹی پر سوٹ کرنے والا نام تم خود رکھ لینا وہ شرارت سے مسکراتے ہوئے بےبی اس کی گود میں رکھ چکی تھی
اس کے سفید کپڑے سے اس کا چہرہ ڈھکا ہوا تھا
ارے چھوٹے میاں اب اپنے بابا کو بھی اپنا چہرہ بھی دیکھا دیں عروہ نے شرارت سے کہتے ہوئے اس کے چہرے سے سفید کپڑا ہٹایا
پر نور معصوم سے چہرے کو دیکھتے ہی روح کے ساتھ ساتھ یار م کے دل کی دھڑکنیں بھی تیز کر گئی
روح میڈم آپ کےشوہر صاحب کا کہنا تھا کہ جب تک میری روح اپنے بیٹے کو نہیں دیکھتی تب تک وہ بھی نہیں دیکھے گے ہم دونوں اسے مل کر دنیا میں ویلکم کریں گے اب آپ دونوں اسے ویلکم کر لو عروہ نے مسکراتے ہوئے کہا
تو روح نے بھیگی آنکھوں سے مسکرا کر یا رم کو دیکھا
یارم نے آہستہ سے اس کی دونوں آنکھیں چومتے ہوئے اپنے بیٹے کے گال کو چھوا تھا جس پرروح تو سب کے سامنے یارم کی اس جسارت پر چہرہ جھکاتے ہوئے اپنے بیٹے کے چہرے پر جھک گئی
وہ خود پریشان تھی کہ یہ سب کچھ ہوا کیسے ڈاکٹر نے کہا تھا کہ کوئی ایک ہی زندہ بچ سکتا ہے اور اب اس کا بیٹا اس کے ہاتھ میں کیسے تھا اس کے چہرے پر لکھی الجھن کی تحریریں یارم چکا تھا
اللہ تم سے بہت محبت کرتا ہے روح اس نے ہمارے لیے تحفہ بھیجا ہے بس شکر ادا کرووہ نرمی سے اس کا ماتھا چومتا اس کے آنسو صاف کرنے لگا
روح نظریں اپنے بیٹے کے چہرے پر جمائےیارم کے سینے پر سر رکھ کر خاموشی سے آنسو بہانے لگی
وہ پاک ذات ہر چیز پر قادر ہے ۔اس کے کرم کی کوئی حد نہیں ۔آج اس نے ان مو بے حد نوازا تھا ۔بے شک کون ہے اس پاک ذات کے علاوہ
°°°°°
ہسپتال میں پچھلے تین دن سے اچھی حاصی رونق لگی ہوئی تھی لیکن ڈاکٹر کے مطابق یہ ان کے اصولوں کے خلاف تھا
لیکن یہاں ڈاکٹرز کی سنتا کون تھا صارم کا قانونی لائسنس اور کسی چیز کے کام آئے یا نہیں لیکن یہاں آ رہا تھا
کمرے کا دروازہ بند ہونے کے بعد آواز باہر نہیں جاتی تھی اور صارم کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی دروازہ بند کر دیتا اور اگر شور ہی نہیں ہوتا تھا تو باقی مریض ڈسٹرب کیسے ہوتے صارم کا کہنا تھا کہ وہ کسی کو ڈسٹرب نہیں کریں گے بس اپنے کام سے کام رکھیں گے
اور وہ ایسا ہی کرتے تھے
روح کو ایک ہفتے کے بعد یہاں سے چھٹی ملنی تھی
تب تک اس کا سارا وقت ہسپتال میں اپنے بیٹے اور یارم کے ساتھ ہی گزرتا تھا یارم اس کے پاس ہی رہتا
اور کمرے میں ہی موجود صوفے پر رات کو سوتا چھوٹے موٹے سارے کام نرس ا کر ‘کرجاتی تھی
لیکن روح نے ایک چیز بہت شدت سے نوٹ کی تھی کہ اس نے ابھی تک اپنے بیٹے کو اپنی باہوں میں اٹھایا نہیں تھا
روح نے بہت سوچ وچار کے بعد اپنے بیٹے کا نام رویام رکھا تھا
یارم اور روح کا نام جوڑ کر اسے ایک ہی نام سمجھ میں آیا یہ ان کی محبت کی نشانی تھی جس کا نام بھی بے حد محبت سے ہی رکھا تھا
یارم کو بھی اپنے بیٹے کا نام بے حد پسند آیا
یارم آپ اسے اپنی باہوں میں کیوں نہیں اٹھاتے وہ بے بی کاٹ کے قریب کرسی رکھے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا یہ روح کی آواز سنی
روح یاروہ اسے تھوڑا سا بڑا ہو جانے دو یہ چھوٹا سا ہے یہ نہ ہو کے میری باہوں میں پھسل جائے
یارم نے ایک بے تکی سی لاجک دی تو روح نے حیرت سے منہ بنا کر اسے دیکھا
کیا یار منہ کھولے کیوں دیکھ رہی ہو مجھے ڈر لگتا ہے یہ نہ ہو کہ یہ میرے ہاتھ سے گر جائے ابھی بہت چھوٹا ہے یہ تھوڑا سا بڑا ہوگا تب میں اسے اٹھایا کروں گا
فی الحال اسے تم ہی اٹھاؤ
مجھے تو ایک بات سمجھ میں نہیں آتی تکلیف اتنی زیادہ دے رہا تھا ہے
آور یہ ہے کتنا سا ۔۔۔۔؟
آتے ہی ناک میں دم کر رکھا تھا اور اب کیسے مزے نیند پوری کر رہا ہے
ہیلو مسٹر اٹھو یہ تمہارے باپ کا ہسپتال نہیں ہے جہاں آرام سے نیند پوری کر رہے ہو اور نرس کو گھور کر کیوں دیکھ رہے تھے
اپنے گھر میں ماں بہن نہیں ہے کیا مجھے اس طرح دوسرے کی ماں بہنوں پر نظر رکھنے والے لوگوں سے سخت چڑ ہے
تمہیں بھی ٹھیک کر دوں گا یہ مت سوچنا کہ میرے بیٹے ہو جو تمہیں سب آلاؤٹ ہے
وہ گھورتے ہوئے بولا تو نہ چاہتے ہوئے بھی روح کی ہنسی نکل گئی
یارم ہوسکتا ہے وہ اس نرس میں مجھے ڈھونڈ رہا ہوں آپ تو میرے معصوم بچے کو ٹھرکی بنا رہے ہیں روح نے ہنستے ہوئے کہا تو یارم بھی مسکرایا
جب سے رویام دنیا میں آیا تھا روح ابھی تک کھل کر ہنسی نہیں تھی اور نہ ہی کھل کر یارم سے بات نہیں کی تھی
اسے لگ رہا تھا کہ یارم اس سے خفا ہو گا کیونکہ اس نے اپنی کریٹیکل کنڈیشن کے بارے میں اس کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا
لیکن یارم اس سے ناراض نہیں تھا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ یہ سب قسمت کا کھیل ہے زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ چاہے کتنی بھی کوشش کیوں نہ کر لے اپنی یا کسی اور کی آنے والی موت کو روک نہیں سکتا
لیکن روح یہ سوچ کر پریشان تھی کہ شاہد یا رم دل ہی دل میں اس سے خفا ہو گا ابھی نہیں بتا رہا لیکن آج اسے لگ رہا تھا کہ یارم اس سے خفا ہےوہ بہت پیار سے بات کرتا ہے اس کا خیال رکھ رہا تھا
اور آج بہت دنوں کے بعد وہ پرسکون ہو کر کھل کر اس سے باتیں کر رہی تھی کھل کر مسکرا رہی تھی
یارم نے ایک بار پھر رویام کے چہرے کی طرف دیکھا شاید رویام بھی مسکرایا رہا تھا یارم نے ایک نظر روح کو دیکھا
جو انہیں کی جانب دیکھتے ہوئے مسکرا رہی تھی لیکن یارم دوبارہ بیٹے کی جانب متوجہ ہو گیا
اس کا دھیان مسکراتے ہوئے رویام کے گال پر پڑھتے گہرے ڈمپل پر تھا
یہ وہ واحد چیز تھی جو اپنی اولاد میں روح کی محبت بٹ جانے کے خیال سے نہیں چاہتا تھا ۔
تمہاری دعا قبول ہوگی روح اس نے بتایا تو روح پھر سے کھل کر ہنسی
میں جانتی ہوں ۔۔آپ اس کے ڈمپل کی بات کر رہے ہیں نا کتنا پیارا ڈمپل ہے میرے بیٹے کااپنی ماں صدقے میرے بچے پر
یارم پلیزاٹھا کر دیجیے مجھے اس کے ڈمپل پر کس کرنا ہے وہ ایکسائٹڈ سی ہو کر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اس سے رویام مانگ رہی تھی کیوں کہ فی الحال ڈاکٹر نے اسے بیڈ سے اٹھنے سے منع کیا تھا
میں یہ نہیں کر سکتا یار میرے ہاتھ سے گر گیا تو
کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ چھوٹا سا تو ہے آپ اٹھا کر دے دیں مجھے
روح نےاس کی ہمت برائی تھی اور یارم میں تھوڑی ہمت آ بھی گئی تھی
اس نے بہت نرمی سے رویام کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور اپنے سینے سے لگایا اب وہ بہت چھوٹے چھوٹے قدم لیتا اسے روح کی جانب لے کر جا رہا تھا
یہ ننھا سا احساس بالکل نیا تھا اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ پھول سا نازک وجود اس کی اولاد ہے
لیکن تھوڑی ہی دیر میں اس کی اولاد نے اسے احساس دلادیا کہ وہ یارم کاظمی کی اولاد ہے
بدتمیز تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔۔۔۔؟
تمہیں شرم نہیں آئی میں تمہارا باپ ہوں وہ اس گھورتے ہوئے بولا جب کے روح کی ہنسی کنٹرول نہیں ہورہی تھی
یار م اس بچارے کو تھوڑی نہ پتہ تھا کہ یہاں سوسو نہیں کرنا کیونکہ یہ اس کے بابا کی گود ہے اور اس کے بابا دبئی کے ڈون ہیں ۔روح نے مصنوعی مسکین سی شکل بناتے ہوئے اس کے ہاتھ سے رویام کو لے لیا
نرک کی بچی کہاں گئی کیا اسے پتہ نہیں ہے کہ اسپتال میں بچے کو پیمپر پہنا کر رکھتے ہیں ۔اپنی بھیگی شرٹ کو دیکھ کر اب اسے نرس پر بھی غصہ آ رہا تھا لیکن روح سے اپنی ہنسی کو کنٹرول نہیں ہورہی تھی
وا میرے شہزادے تو نے وہ کام کیا ہے جو آج تک کوئی نہیں کر سکا روح رویام کے گال چومتے ہوئے بولی..
