Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 53)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

یارم کے خون سے اس لڑکی کی زندگی بچ گئی تھی

جس کی یارم کو بھی بہت خوشی تھی۔

خون دیتے ہی لڑکی کا ٹرٹمینٹ اسٹارٹ ہوگیا ۔جبکہ یارم رویام کے پاس روم میں لوٹ آیا۔

اس دوران رویام کو ہوش نہ آیا تھا

یارم دو گھنٹے تک باہر رہا ۔

اس بوڑھے چاچا نے ایک پل کے لیے بھی رویام سے نظریں نہ ہٹائیں تھیں ۔اور اس کے خون دینے کے بعد بار بار اس کا شکریہ ادا کرتا رہا جیسے اس لڑکی کا نوکر نہیں بلکہ باپ ہو۔

اسے یقین تھا کہ وہ اس لڑکی سے بہت اٹیچڈ تھا ورنہ وہ اس کے لیے یوں روتا نہیں ۔خون دینے کے بعد نرس نے کمرے میں آکر اسے بتایا تھا کہ وہ لڑکی بچ گئی ۔

تمام ڈاکٹرزنے بھی اس کا شکریہ ادا کیا ۔وہ اس مشکل وقت میں ان کے کام آیا تھا ۔

ورنہ یقیناً خون کا انتظام ہونے تک اس لرکی کی جان چلی جاتی

شاید الللہ نے یارم کو اس لڑکی کی جان کا وسیلہ بنایا تھا ۔

اسے سچ میں اس لڑکی کو خون دے کر خوشی ہوئی تھی ۔اس کی عمر انیس بیس سال کے قریب تھی۔

اور دیکھنے میں بہت معصوم سی لڑکی تھی۔شاید اس کا تعلق پاکستان سے تھا ۔

بوڑھا آدمی بھی اب پرسکون تھا اور بہت بار آ کر یارم کا شکریہ ادا کر چکا تھا.اس کے بار بار شکریہ ادا کرنے پر یارم نے بھی اس لڑکی کی عیادت کے لیے جانے کا سوچاتھا

°°°°

رویام کو آج بہت تھوڑی دیر کے لیے ہوش آیا تھا ۔ہوش میں آتے ہی اسے درد شروع ہو گیا ۔جس کی وجہ سے ڈاکٹرز نے اسے دوبارہ بےہوش کر دیا۔

جب ڈاکٹر نے اسے انجکشن دیا وہ اس کے سینے میں چھپ گیا تھا ۔اس کا ننھا سا ہاتھ نیلا پرنے لگا تھا۔لیکن ڈاکٹرز کو اس پر رحم نہیں آتا تھا ۔

جگہ جگہ سیوں کے سرخ نشان بنتے جا رہے تھے

اس کا پورا وجود آہستہ آہستہ ذرد پڑرہا تھا

ڈاکٹرنے کہا تھا اب اس کی جان کو خطرہ ہے اس کبھی بھی آپریشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔

وہ لوگ رویام کے لیے کچھ نہیں کر سکے تھے سوائے دعاوں کے۔

سب لوگ اداس تھے وہ زور رویام سے ملنے آتے لیکن اس کے کمرے میں قدم بھی نہ رکھتے شاید ان سب کے لیے رویام کو یوں دیکھنا آسان نہیں تھا۔

وہ سب بے بس تھے خاموش تھے ۔

دن پر دن گرز رہے تھے ان کے بس میں کچھ نہیں تھا

درک تو اس دن کے بعد نظر ہی نہ آیا ۔یقنناً واپس آ کر اپنی زندگی میں مصروف ہو گیا ہو گا۔

اسے کیا فرق پڑتا تھا کہ اس کے بون میرو سے کسی کو زندگی مل سکتی ہے

کوئی جی سکتا ہے ۔

کسی کا ہنستا کھیلتا گھرانہ بچ سکتا ہے ۔

کسی کی ممتا پرسکون ہو سکتی ہے

لیکن اسے تو اپنی ضد سے مطلب تھا ۔جو اس کے لیے اس کا سکون تھی اسے بے بس کر کے وہ بہت مطمئن تھا

°°°°°

کیا میں اندر آ سکتا ہوں اس نے دروازہ کھٹکھایا ۔

آو بیٹا ۔وہاں کیوں روکے ہو اندر آو نہ چاچا نے خوشی سے کہا۔

پری بیٹا یہ یارم ہے جس کا میں نے آپ کو بتایا تھا اسی نے وقت پر آپ کیمجان بچا لی ورنہ میں بوڑھا جانے کیا کرتا۔

یہ ہی ہے وہ فرشتہ جسے اللہ نے تمہاری مدد کے لیے بھیج دیا۔چاچا نے خوشی سے تعارف کروایا۔

میں کوئی فرشتہ نہیں بلکہ ایک عام سا انسان ہوں ۔مجھے انسان ہی رہنے دیں چاچا ۔اور میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو ایسا ہی کرتا ۔

چاچا کے الفاظ پر یارم نے کہا تو پری مسکرائی ۔

آج کے زمانے میں کون کرتا ہے کسی انجان مدد آج کل تو کوئی اپنوں کی مدد بھی نہیں کرتا

ہم نے خون کا انتظام کر رکھا تھا لیکن وہ آدمی میرے شوہر کا جاننے والا تھا اور ابھی میرے ٹرٹمیٹ میں ایک ہفتہ باقی تھا اس لیے میرے شوہر کام ستپے دوسرے ملک چلے گئے میرے شوہرتو خود مجھے خون دینے والے تھے ۔لیکن ان کا خون مجھ سے میچ ہی نہیں ہوتا ۔ورنہ شاید وہ اپنا سارا خون میری رگوں مِیں اتارنے میں ایک سکیڈ نہ لگاتے ۔

میں آپ کی شکرگزر ہوں کہ آپ نے میری زندگی بچا لی۔ورنہ پرسوں رات تو میں سچ میں مر جاتی اور آج کل میرے شوہر گھرپر پر بھی نہیں ہیں ۔

وہ میری اس بیماری کا علاج ڈھونڈنے سعودیہ گئے ہیں کسی نے بتایا ہے کہ وہاں اس بیماری کا علاج ہے لیکن ڈاکٹر نے مجھے سفر کرنے سرپے منا کر دیاسو میں یہی چاچا کی زماداری پر پڑی تھی ۔

وہ مسکرا کر یارم سے بولی۔

تو یارم بھی نرمی سے مسکرایا ۔؟

آپ کو بیماری کیا ہے ۔۔۔میرا مطلب ہے اس کا علاج ۔۔۔۔؟

میری بیماری کا تو مجھے خود بھی نہیں پتا ۔پتا نہیں کون سی بیماری ہے بس خون جمنا شروع ہوجاتا ہے اور میں موت کو قریب سے ٹچ کرکے واپس آ جاتی ہوں

پھر یہ ڈاکٹر شاکٹر میرا علاج کرتے ہیں اور آپ جیسے نیک لوگ میری زندگی بچا لیتے ہیں اس کا انداز بہت بچکانہ تھا یارم کو ہنسی آ گئی۔

چلو شکر ہے کہ تم ٹھیک ہو اب مجھے چلنا چاہیے ہو سکتا ہے میرے بیٹے کو ہوش آ گیا ہوں یارم مسکرا کر کہتے ہوئے اس کے قریب سے اٹھا ۔

ارے میں نے تو آپ سے پوچھا ہی نہیں آپ یہاں کیوں ہیں آپ کا بیٹا بیمار ہے کیا ۔وہ فکرمند سے پوچھنے لگی ۔

ہاں میرے بیٹے کو بلڈ کینسر ہے ۔اسی کا علاج کروا رہے ہیں ہم ۔لیکن ڈاکٹر کی طرف سے جواب مل گیا ہے ۔بس تم دعا کرنا کہ میرا بیٹا بچ جائے ۔وہ ذرا سا مسکرا کر اسے رویام کی حالت بتانے لگا

یا اللہ رحم ۔۔۔۔ان شاء اللہ آپ کے بیٹے کو کچھ نہیں ہوگا ۔۔جو دوسروں کی مدد کرتے ہیں اللہ ان کا محافظ ہوتا ہے ۔آپ نے بنا کسی نفع کے میری اتنی مدد کی ان شاءاللہ اللہ آپ کی مدد ضرور کرے گا ۔اور میرے بھتیجے کو ان شاءاللہ کچھ نہیں ہوگا ایک دم ٹھیک ہو جائے گا

اس نے مسکرا کر کہا تویارم نے آہستہ سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ۔

تم دعا کرنا ۔۔۔زندہ دل لوگوں کی بہت دعائیں لگتی ہیں ۔وہ اداسی سے بولا

میری ساری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں ۔اللہ آپ کو ہمت اور حوصلہ دے ۔اور میرے بھتیجے کو زندگی ۔واہ سے پری کے سر پہ ہاتھ پھیرتا باہر نکل آیا

°°°°°°

آروح اپنا خیال رکھو دوائیاں وقت پر لو اس طرح سے کام نہیں چلے گا

میں یہاں رویام کے ساتھ ہوں اس کا خیال رکھ رہا ہوں تم اپنا خیال رکھو ہمارے بیٹے کو کچھ نہیں ہوگا

روح جب سے آئی تھی روئے جا رہی تھی لیلیٰ نے اسے بتایا تھا کہ وہ اپنی دوائی نہیں لے رہی

سب اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئے تھے لیکن جیسے جیسے رویام کی حالت بگڑ رہی تھی رو بھی پل پل مر رہی تھی

یارم مجھ سے رویام کو اس حال میں نہیں دیکھا جاتا پلیزآپ کچھ کریں نہ

کچھ تو ایسا کریں کہ ہمارا بیٹا ٹھیک ہو جائے آپ تو وان ہیں نہ کچھ بھی کر سکتے ہیں

تو کیا آپ نے بیٹے کو بچا نہیں سکتے وہ آنکھوں میں آنسو لیے اس سے سوال کر رہی تھی

میں گینگسٹر ہوں ( نعوذ باللہ ) کوئی خدا نہیں

زندگی اور موت کا اختیار اوپر والی ذات کے پاس ہے میرے پاس نہیں اگر اللہ نے چاہا تو رویام کو کچھ نہیں ہوگا

میں رویام کے ساتھ ہوں روح اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کروں گا لیکن تمہاری حالت مجھے دن بہ دن مار رہی ہے

روح رویام کے لئے میں ہر ممکن کوشش کر تو رہا ہوں لیکن تم اس طرح سے رہ کر اپنا خیال نہ رکھ کر میری ہمت توڑ رہی ہو مجھے بے بس کر رہی ہو

میں ہارنا چاہتا ہوں لیکن وقت سے پہلے نہیں کم ازکم اس سفر میں ہار تک تو میرا ساتھ دو شاید اس سفر میں جیت ہمارے مقدر میں لکھی ہی نہیں ہے

یارم آپ ناامید نہیں ہو سکتے ۔اس کے الفاظ نے روح کو تڑپا کر رکھ دیا

میں نا امید نہیں ہوں روح مجھے پتا ہے میرا اللہ میرے بچے کو بچائے گا ۔لیکن تم نے اپنی حالت دیکھی ہے ۔روح میں اس ذات کے سامنے کس کس کے لئے ہاتھ پھیلاؤں ۔اگر میں اپنے بیٹے کی زندگی مانگ رہا ہوں تو مجھے ابھی صرف اسی کو مانگنے دو ۔

تم اپنی زندگی ختم مت کرو بس اس پر یقین رکھو بے شک وہ اوقات سے بڑھ کر نوازتا ہے

وہ قادر ہے ۔سب سے اعلی ہے بے نیاز ہے ۔

تمہیں تو مان تھا نا کہ اللہ تمہیں بہت زیادہ چاہتا ہے تم سے بے شمار محبت کرتا ہے۔تو پھر اس سے ناامید ہو کر کیوں یہ آنسو بہآ رہی ہو اگر آنسو بہانے ہی ہیں تو جا کر سجدے میں بہاؤ

وہ سجدے میں بہائے آنسووں کو پسند کرتا ہے ۔

اس سے مانگو اور وہ بے شمار دے گا ۔

وہ اسے سمجھا کر ایک بار پھر رویام کے قریب آیا تھا ۔

جو آج بھی ان سے انجان بہت ہوش و ہواس سے دور تھا

°°°°°

رات کے دو بج رہے تھے وہ رویام کے قریب سے اٹھ کر صوفے پر آیا ابھی اس سے لیٹے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ کس نے دروازہ کھٹکھٹایا وہ رات کے وقت دروازہ لاک کر دیتا تھا

اس نے جلدی سے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے چاچا زخمی حالت میں تھے

بیٹا پری کو بچا لو وہ غنڈے اسے اٹھا کر لے جا رہے ہیں

اسے بچا لو وہ لوگ اس سے مار ڈالیں گے ۔رحم کرو بیٹا

میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ میں اس کی جان بچا سکوں ۔لیکن کل کو میں اپنے مالک کو کیا جواب دوں گا کہ میں اس کی بیوی کو چار دن نہ سنبھال سکا

میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں اسے بچا لو وہ لوگ اسے جان سے مار ڈالیں گے چاچا روتے ہوئے اس کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگے جب یارم نے ان کا ہاتھ تھام لیا

آپ رویام کے پاس روکیں پری کو کچھ نہیں ہوگا وہ انہیں دلاسا دیتا اسی جانب چلا گیا جس طرف چاچا اشارہ کر رہے تھے

°°°°°°

کچھ لوگ پری کو زبردستی گاڑی میں ڈال رہے تھے وہ بالکل بے ہوش تھی ۔اس سے پہلے کہ وہ اپنا کام کرتے یارم ان تک پہنچ چکا تھا

ان کو کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیئے بغیر ہی اس نے زمین پڑا لوہے کا پائپ اٹھا کر ان کو بری طرح سے مارنا شروع کر دیا وہ چار لوگ تھے

شاید ان کا تعلق کسی بھی گنگ سے تھا ۔

ان میں سے ایک نے یارم کے بازو پر کوئی انجیکشن لگانے کی کوشش کی جو یارم نے اس کا ہاتھ تھام کر اس کی کوشش ناکام بنا دی

اس نے انجیکشن میں موجود نہ جانے کون سی دوائی کو انجیکشن پوش کر کے ضائع کر دیا ۔

تم مجھے یہ بے ہوشی کی دوائی دینے والے تھے لیکن تمہیں پتا ہے میں تمہیں کون سی دوائی دوں گا وہ انجکشن میں ہوا بھرتے ہوئے کہنے لگا جبکہ وہ آدمی حیرانگی سے دیکھ رہا تھا

موت کی دوا۔یہ فضا ایک سیکنڈ میں تمہیں کے موت کے گھاٹ اتار دے گی وہ اسے کنٹرول کرتے ہوئے اس کی گردن کے بالکل قریب انجیکشن لے گیا

اور یہ بات کو نہیں جانتا تھا کہ انجیکشن میں ہوا بھرنے سے انسان کی موت کو ایک پل بھی نہیں لگتا

نہیں پلیز ایسا مت کرو مجھے چھوڑ دو مجھے جانے دو وہ تڑپنے لگا

چھوڑ دوں گا پہلے یہ بتاؤ کہ کون ہو تم لوگ اس لڑکی کو اغوا کیوں کر رہے تھے ۔وہ اسے گھورتے ہوئے پوچھنے لگا اور اپنی جان بچانے کے لئے وہ سب ان اسے مکمل بات بتانے لگے

ہمارا تعلق زوب گینگ سے ہے ۔

اس لڑکی کا شوہر ہمارے لئے کام کرنے والا تھا لیکن اسے پتہ چل گیا کہ ہم جو کام کر رہے ہیں وہ غلط ہے ۔اور اس نے انکار کر دیا ۔ہم اسے منانے کی بہت کوشش کر چکے ہیں لیکن وہ سیدھے طریقے سے نہیں مان رہا ہمارے لیڈر کو اس کی وجہ سے 35 کروڑ کا نقصان ہو رہا ہے

اور اپنے لیڈر کو اس نقصان سے بچانے کے لیے ہم اس لڑکی کو اغوا کر رہے ہیں کیونکہ وہ اس لڑکی سے بہت محبت کرتا ہے

اور اس کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے اس لیے ہم اس لڑکی کو اغوا کرکے اس سے اپنا کام نکلوائیں گے

وہ عربی زبان میں پوری تفصیل اسے بتا چکا تھا

یارم زیادہ کام کی گہرائی تک نہ گیا صرف اتنا ہی کافی تھا کہ وہ زوب گینگ کے ممبر تھے جو یقینا اچھے کام نہیں کرتے تھے ان لوگوں کا حساب بعد پر رکھ کر وہ پری کو صحیح سلامت واپس لے آیا تھا ۔

چاچا کی جان میں جان آئی پری کو نہ جانے کون سی دوائی دی گئی تھی کہ اسے ابھی تک ہوش نہ آیا ۔لیکن وہ بالکل ٹھیک تھی یہی ان کے لئے سب سے اچھی بات تھی ۔

لیکن اندر آتے ہی ڈاکٹر نے اسے یہ خبر دی تھی کہ رویام نہیں رہا وہ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے

°°°°°°

رویام کا آپریشن ابھی بھی ہوسکتا ہے اور ہمارے پاس کے آپریشن کے لیے بون میرو موجود ہی نہیں ہے

مجھے سمجھ نہیں آرہا کیا کروں رویام کی سانسیں رکنے لگی ہیں وہ سب لوگ ہسپتال میں موجود تھے یارم رویام کے پاس تھا وہ بالکل بے ہوش بے سود تھا

لیکن ڈاکٹر کہہ رہا تھا کہ اس کی سانسیں رکنے لگی ہے

ان کا بیٹا مرنے والا تھا۔وہ سب لوگ خاموشی سے اس کی آخری ٹوٹتی ہوئی سانسیں دیکھ رہے تھے نجانے کون سی سانس آخری ہوگی

اچانک رویام لمبی لمبی سانسیں لینے لگا اس کے قریب بیٹھی روح بری طرح سے مچلتی تھی

جب یارم نے کھینچ کر اسے اپنے سینے میں بھیج دیا شاید وہ بھی اس چیز کو قبول کر چکا تھا

خضر۔ شارف ۔معصومہ۔لیلیٰ سب رو رہے تھے ۔وہ اس چھوٹی سی جان کو کھونے جا رہے تھے ۔ہمیشہ کے لئے

پتہ نہی اس کی کتنی سانسیں بچی تھی آنکھوں سے آنسو خشک ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے

روح اونچی اونچی آواز میں تڑپ تڑپ کر رونے لگی ۔سب کا ضبط جواب دے چکا تھا

وہ کچھ بھی نہ کر سکا

اس کا بیٹا اس کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ رہا تھا ۔

وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا جب ڈاکٹر تیزی سے اندر آئے اور اسے اٹھا کر باہر لے جانے لگے

کہاں لے کے جا رہے ہو میرے بچے کو روح نے تڑپ کر ان سے رویام کو لینا چاہا

آپریشن تھیٹر میں بس اتنا جواب دے کر حسن رویام کو لے کر وہاں سے بھاگ گیا ۔اس کے پیچھے ہی وہ سب بھی کمرے سے باہر نکلے تھے ۔

جب زخمی حالت میں درکشم کو شرٹ اتارتے اندر جاتے دیکھا ۔

ان سب نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا لیکن کوئی کچھ بھی نہیں بولا

ان سب کے پاس بولنے کے لئے کچھ تھا ہی نہیں ۔سب خاموشی سے آپریشن تھیٹر کے باہر بیٹھے ڈاکٹر کے آنے کا انتظار کرنے لگے

تھوڑی ہی دیر میں ایک ڈاکٹر آکر یارم کے قریب روکا

دیکھو یارم یہ آپریشن بہت خطرناک ہے ۔کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔اس لیے تمہیں ان کاغذات پر سائن کرنا ہوگا اگر آپریشن کے دوران رویام کو کچھ ہوتا ہے تو ہسپتال اس کی ذمہ داری نہیں لے گا ۔

وہ پہلے ہی ہوش و حواس بھلائے بیٹھے تھے ڈاکٹر نے انہیں مزید پریشان کر دیا

آپ آپریشن کریں ہمیں یقین ہے ہمارے رویام کو کچھ نہیں ہوگا ۔ہم تو ویسے بھی اپنی امید ہار کے بیٹھے تھے ۔

خضر جو اتنے دنوں سے یارم سے بالکل بات نہیں کر رہا تھا اس کی طرف دیکھ نہیں رہا تھا آج اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا اسے ہمت دیتے ہوئے بولا

ہاں ڈاکٹر آپریشن کریں دیکھیے گا ہمارا رویام بالکل ٹھیک ہو جائے گا شارف نے پن نکال کر یارم کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہاتو یار مننے اداسی سے مسکرا کر ان کاغذات پر سائن کر دیے

اب سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں تھا ۔

روح جائے نماز کربیٹھی مسلسل اپنے بیٹے کی زندگی کی دعائیں مانگ رہی تھی ۔اسے یقین تھا اس کے بیٹے کو کچھ نہیں ہوگا وہ اپنی تمام تر ہمت ہار بیٹھے تھے کہ اللہ نے نہ جانے کہاں سے امید کی کرن کے روپ میں درک کو یہاں بھیج دیا

پتا نہیں کیا سوچ کر اللہ نے اس کے دل میں رحم ڈال دیا وہ پتھر دل شخص تو شاید اپنے لیے بھی کچھ نہ کرے

یارم کی زندگی بچانے کے لئے اسے بون میرو ٹرانسفر کر رہا تھا ۔

وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ساتھ اس شخص کے لیے بھی دعائیں مانگ رہی تھی جو اس کے بیٹے کی زندگی بچانے کے لئے راضی ہو گیا تھا ڈاکٹر نے بتایا تھا یہ آپریشن اس کے لئے بھی بے حد خطرناک ہے

کیوں کہ کچھ دن پہلے ہی اسے دو گولیاں سینے میں ایک گولی کمر پر لگی ہے ۔اور اس کا بون میرو اس کی کمر سے ٹرانسفر کیا جائے گا ۔جو بے شک بے حد تکلیف دہ ہوگا

لیکن وہ یہ تکلیف برداشت کرنے کے لیے تیار تھا ان کے بیٹے کے لیے وہ خود اس اذیت سے لڑنے کو تیار ہو گیا تھا ۔

تو روح کیسے نا اس کے لیے دعائیں مانگتی ۔

وہ سب باہر بیٹھے آپریشن تھیٹر کے باہر جلدی بتی کو دیکھ رہے تھے ۔تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹر باہر آتے یا نرسس اندر جاتی عجیب افراتفری مچی ہوئی تھی ۔

لیکن ان سب کے لبوں پر تو بس ایک ہی نام تھا رویام

آپریشن ختم ہوا ڈاکٹر باہر آیا تو اس کے چہرے پر عجیب سی تھکن تھی ۔

یارم اٹھ کر حسن کے سامنے آکر رکا وہ کچھ بول نہیں رہا تھا بس خاموشی سے یارم کو دیکھ رہا تھا یارم کی سانسیں رکنے لگی تھی ۔

کسی بری خبر کے خوف سے یارم کی آنکھ سے آنسو گرا ۔وہ سچ میں اس کے یہ الفاظ نہیں سننا چاہتا تھا لیکن حسن کچھ بھی نہیں بولا

بس مسکرا کر ذرا سا سر کو خم دیا یارم کی جان میں جان آئی تھی

°°°°°