Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 45)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

یارم مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اس شخص نے اپنا پالتو جانور مجھے کیوں دیا اگر شونو اس کا تھا تو مجھے دینے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے اور وہ یہ بھی جاننا چاہتا تھا کہ آپ مجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں اور اس آدمی کو کیوں بولا تھا شونو کو ہمہیں بیچنے کے لیے

آخر تعلق کیا ہے اس کا ہم سے وہ پہلے بھی وہ ہماری پرسنل لائف میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا سوئٹزرلینڈ میں بھی وہ ہمارے پیچھے پیچھے رہا اور اب پھر سے

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ وہ آدمی آخر ہم سے چاہتا ہے کیوں ہر وقت ہمارے پیچھے پیچھے پڑا رہتا ہے

یارم مجھے لگتا ہے وہ کچھ غلط کر رہا ہے آپ پلیز اپنا خیال رکھیں اور اس آدمی سے بچ کر رہیں پتہ نہیں اس آدمی کو ہم سے اتنا مسئلہ کیوں ہے کیوں ہروت ہمارے پیچھے لگا رہتا ہے

اور آپ کو پتا ہے اس نے خوشی سے نہیں بلکہ کسی اور سے شادی کر رکھی ہے وہ ادھر اپنی بیوی کے ساتھ تھا بہت پیاری سی لڑکی تھی پتہ نہیں وہ کون تھی مجھے لگا کہ خوشی کو اس بارے میں کچھ بھی پتا نہیں ہوگا لیکن یہاں ہسپتال کے باہر مجھے خوشی اور اس کا بھائی نظر آیا اور جس نے آپ کو شونو دیا تھا وہی خوشی کا بھائی ہے

وہ جب سے گاڑی میں آکر بیٹھی تھی مسلسل بولے جا رہی تھی جب کہ یارم اسے سنتا ہوا کچھ سوچ رہا تھا جبکہ رویام کی کوشش روح کی گود سے نکل کر یارم کی گود میں جانے کی تھی کیونکہ اب اسے گاڑی چلانے کا شوق چڑھ گیا تھا

اس کے بار بار اپنے پاس آنے کی کوشش پر یارم نے مسکرا کر اسے روح کی گود سے اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا

روح بے کار کی باتوں پر دھیان مت دو ادھر دیکھو میرا بیٹا کس طرح سے گاڑی چلا رہا ہے وہ اس کے دونوں ہاتھ سٹرینگ پر رکھتے ہوئے اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھوں پر رکھ کر اس انداز میں بولا کہ روح بے اختیار مسکرا ئی

جی بالکل اور میرا بیٹا ان شاءاللہ آپ سے اچھا ڈرائیور بنے گا روگ فخر سے بولی جبکہ اس کے انداز پر یارم مسکرایا

ہاں بھئی تمہارا بیٹا تو ہر کام میں مجھ سے آگے ہے میں کہاں اس کا مقابلہ کر سکتا ہوں یارم نے فورا ہارمان لی

اچھا نہیں یارم میں کچھ اور بات کر رہی ہوں آپ میرا دھیان مت بٹائیں ذرا سوچیں یہ آدمی آخر ہمارے پیچھے کیوں پڑا ہوا ہے ہم جہاں جاتے ہیں وہاں پہنچ جاتا ہے

میں نے ایک بات بہت شدت سے نوٹ کی ہے یارم کہ یہ آج یا کل سے نہیں بلکہ بہت وقت سے ہمارے پیچھے پڑا ہوا ہے یقیناً تب سے جب سے شونو ہمہیں ملا ہےاس نے اپنا پالتو جانور ہمیں کیوں بیچ دیا

روح اس نے شونو ہمیں بھیج دیا ہے اب شونو مارا ہے ممکن ہے کہ وہ اس کے ساتھ اٹیچ ہو اسی لئے ہمارا پیچھا کرتا ہوں پالتو جانوروں کے ساتھ انسان بہت پیار کرتا ہے زیادہ نہیں سوچنا چاہیے یام کا انداز ڈالنے والا تھا

لیکن یارم پھر بھی ہم اس چیز کو نظر انداز نہیں کرسکتے اس نے پھر سے اسے اس طرح لگانے کی کوشش کی تو یارم نے بات ہی بدل دی

مہر اور عنایت زندہ ہیں خضر نے انہیں چھپا کر رکھا تھا اسے کوئی دھمکیاں دے رہا تھا اس کے اچانک کہنے پر وہ اختیار اسے دیکھنے لگی اسے اگلی پچھلی ہر بات بھول چکی تھی

یارم کیا کہا آپ نے مہر اور عنایت زندہ ہیں یہ کیسے ممکن ہے مطلب وہ تو نہیں رہی تھی اور لیلیٰ بےچاری اس کی کیا حالت ہو گئی تھی اور ماموں ۔۔۔

ہاں تمہارے خضر ماموں نے ہی انہیں چھپا کر رکھا تھا کوئی اسے دھمکیاں دے رہا تھا یہ ساری باتیں مجھ سے شیئر کرنے کی بجائے وہ خود ہی حل کرنے نکل پڑا جس میں شارف اور صارم بھی اس کا بھرپور ساتھ دے رہے تھے

لیکن ایک بات کی گارنٹی ہے آج کے بعد وہ کبھی بھی اس کا ساتھ نہیں دیں گے بلکہ بات کرتے ہوئے بھی سوچیں گے کیونکہ لیلیٰ نے اس کا جو حال کیا ہو گا اس کے بعد شاید ہی وہ بیٹھنے کے قابل نہیں رہا ہو یارم مکمل بات اسے بتا کر درک کو اسکی شوچ سے ہٹا چکا تھا

یارم یہ تو بہت خوشی کی بات ہے کہ مہر اور عنایت زندہ ہیں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے بس اللہ کسی کی اولاد کو اس کے والدین سے جدا نہ کرے روح پہ خوش تھی اور اس کےایسے کہنے پے یار مسکرا کر رویام کی جانب متوجہ ہوا

جو پوری طرح سے گاڑی چلانے میں مصروف تھا یارم بار بار اپنی موچھ اس کی گردن میں چھوبتا تو وہ ذرا سا کسکسا کر پھر سیدھا ہوکر ڈرائیونگ کی طرف دھیان دیتا جیسے اسٹرینگ سے اس کی ذرا سی بھی نظر ہٹ گئی تو مصیبت ہو جائے گی

اس کے دماغ میں یہی بات چل رہی تھی کہ گاڑی وہ چلا رہا ہے اور اس کا سارا دھیان ڈرائیونگ کی طرف تھا یارم کو یقین تھا اس کا بیٹا بڑا ہو کر ایک زبردست قسم کا ڈرائیور بنے گا ۔روح یارم کورویام کے ساتھ شرارتیں کرتے مسلسل دیکھ رہی تھی

اس کے بار بار شرارتیں کرنے اور پیار کرنے پر وہ ذرا سا چیخ کر اسے پیچھے کرتا اور پھر سے سارا دھیان اپنی ڈرائیونگ کر دیتا ہے اور روح یارم کو گھورتی جس پر یارم مسکرا کر آنکھ دباتا وہ ان دونوں کی مستیاں دیکھ رہی تھی یارم یقینا اس معصوم بچے پر ظلم کر رہا تھا

رویام بیٹا میرے پاس آ جاؤ بابا آپ کو ایسے ہی تنگ کریں گے روح نے کہا

لیکن رویام کو اس وقت اپنی گاڑی چلانی تھی اسی لئے فورا نامیں سر ہلا گیا

مامابابا تھک دئے ہیں میں گالی تلاؤں دا اور آپ تو گھل تھوڑو دا نا(نہیں ماما بابا تھک گِئے ہیں میں گاڑی چلاوں گا اور آپ کو گھر چھوڑدوں گا نا) وہ بہانہ بنا گیا شاید اسے ڈرائیونگ سیٹ پر اسے بہت مزہ آ رہا تھا جس کے لیے وہ یارم کی مستیاں برداشت کرنے کو بھی تیار تھا

اس کی بات پر یارم نے مسکرا کر اسے دیکھا اور اگلے ہی لمحے اس کی ننھی سی گردن پر اپنے لب رکھے جس پر کچھ چلا کر اسے پیچھے کرنے لگا

°°°°°°

رویام بیٹا اچھے بچے ٹائم پہ ہوتے ہیں

چل جلدی سے سو جا ابھی تجھے فیور ہے وہ اس کے سینے پر بیٹھا اسے مسلسل سونے سے انکار کر رہا تھا

او یار م اسے سلانے کی ہر ممکن کوشش کرنے کے باوجود بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا تھا

روح وہیں پاس بیٹھی ان دونوں کے تماشہ دیکھ رہی تھی اسے لیٹنے کی اجازت نہ تھی نا تو یارم رویام کوسلانے میں کامیاب ہو رہا تھا نہ ہی اسے جگانے میں

یارم بس بہت ہوا ہے آپ لوگ اپنے مذاکرات جاری رکھیں مجھے سونے دیں روح نے لیٹتے ہوئے کہا تو یارم نے اسے گھور کر دیکھا ۔اور اس کی گھوری پر وہ منہ بسورتے اٹھ کر بیٹھ گئی

چپ چاپ بیٹھی رہو خبردار جو سونے کا نام بھی لیا جب دیکھو سوتی رہتی ہو

وہ اسے گھورتے ہوئے ایک بار پھر رویام کی جانب متوجہ ہوا

ماما تھو داؤ آپ(ماماسوجاوآپ)۔رویام نے اپنی ماں پر ترس کھاتے ہوئے کہا

اس کو جاگنے دے تو سوجا میرے شیطان اس کے سونے سے میرا کام نہیں ہوگا

وہ اسے دیکھتے ہوئے بڑبڑایا جب روح نے اپنی نیند سے بند ہوتی آنکھیں زبردستی کھولی

اگر تم سو گئی تو میں تمہارے ساتھ وہ سلوک کرو گے تم ہمیشہ یاد رکھو گی وہ عویام کو زبردستی سلاتے ہوئے روح کی جانب متوجہ ہوا

ہاں تو آپ کو کیا لگتا ہے میں تھکتی نہیں ہوں سارا دن اس کے پیچھے بھاگتی رہتی ہوں اندازہ بھی ہے آپ کو کتنا تنگ کرتا ہے اپنی بےبسی پر وہ اسے گھورتے ہوئے بولی

تو ماما تھو داؤ میں داگ را ہوں نا بابا اتلے نی ہیں میں ان تے سات ہوں تھو داؤ میلی پالی ماما۔(تو ماما سو جاو میں جاگ رہا ہوں نابابا اکیلے نہیں ہیں میں ان کے ساتھ ہوں سو جاومیری پیاری ماما )وہ روح کو دیکھ کر بہت محبت سےمسکراتے ہوئے بولا تو روح کو اپنے ننھے سے بچے پر بہت پیار آیا

ابے تو اپنے کام سے مطلب رکھ نا چل جلدی سے سو جا خواب میں تجھ سے ملنے کے لیے وہ نرس آئے گی جس پر آج دوپہر میں لائن مار رہا تھا وہ زبردستی اسے اپنے سینے پر لٹاتے ہوئے اپنا حصار تنگ کرنے لگا

دانو تھائی آےدی( جانو سائیں آئے گی )۔۔؟رویام نے ڈیل کرتے ہوئے کہا

ارے وہ تو اپنے شوہر کے ساتھ مصروف ہو گی تیرے خواب میں کیسے آئے گی بچاری یارم اکے منہ سے بے ساختہ نکلا

فر می نی تھوں گا(پھر میں نہیں سوؤں گا) وہ واپس اس کے حصار سے نکلتے ہوئے اس کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گیا جبکہ روح بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کر رہی تھی

اچھا اچھا ٹھیک ہے میں اس تیرے خواب میں بھیج دوں گا تو سو تو سہی وہ اسے ایک بار پھر اپنے حصار میں لے کر سینے پر لٹا چکا تھااور اس بار اس کا یہاں سے نکلنا کافی مشکل ہو گیا تھا

پلومش(پرومس) وہ اس کے سینے میں دبی دبی آواز میں بولا

ارے پکا پرومس تو بس سوجا کیونکہ جب تک تو سوئے گا نہیں میرا کام نہیں ہوگا تو اسے زبردستی سیآتے ہوئے بولا تو روح بیڈسے ہوئے اٹھ کر الماری کی جانب بڑھی

اور اپنی نائٹ ڈریس نکال کر چینج کرنے جانے لگی

اور تھوڑی دیر میں اسے اپنے سینے پر ننھےننھے خراٹوں کی آواز آنا شروع ہو چکی تھی وہ تھکا ہوا تھا اسی لیے جلدی سو گیا ورنہ تو آج وہ اس سے بھرپور تنگ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا

°°°°°°

آ ۔۔۔اوووو۔۔۔۔ہر تھوڑی دیر کے بعد لیلیٰ کے کانوں میں اس طرح کی آوازیں گونج رہی تھی

وہ الٹا لیٹا مسلسل اسے بددعائیں دے رہا تھا

لیلیٰ اٹھی اور الماری کی جانب گئی خضر کو لگا کے وہ اس کے لیے کچھ کرنے جارہی ہے جو اس کے کام آ سکے یا اس کے درد کو کم کر سکے

اتنی بھی بری نہیں ہے میری بیوی بس غصہ آجاتا ہے تو آؤٹ آف کنٹرول ہو جاتی ہے محبت بھری نظروں سے دیکھتامسوچ رہا تھا جبکہ لیلیٰ واپس بیڈ پر آئی اور پھر لیٹتے ہوئے کان میں روئی ٹھونس لی

اب کرتے رہو آااا۔آووو۔ نیند کا بیڑہ غرق کردیا وہ کروٹ لے کر بولی تو سے اپنی سوچوں پر لعنت بھیجتا دوبارہ سے اپنے درد کو ایک نئے سے محسوس کرنے لگا

°°°°°°

درد سہہ سہہ کر شارف کو بس ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی نیند آئی تھی

جب مشارف نے کسی ڈبلیو ڈبلیو ای ریسلنرکی طرح اس پر جمپ لگایا اور تب سے اس کی چیخ و پکار سنتی معصومہ اس پر لعنت بھیجتی اٹھ کر مشارف کے کمرے میں چلی گئی

کیوں کہ آج کی رات اس کی چیخ و پکار بند نہیں ہونے پر معصومہ اپنی نیند بالکل برباد نہیں کر سکتی تھی

لیکن ایک بات اسے اچھے سے سمجھ میں آ گئی تھی کہ لیلی سے پنگا لینے کا کیا انجام ہو سکتا ہے اسی لئے تو معصومہ لیلیٰ کے خلاف سوچ بھی نہیں سکتی تھی

جب کہ شارف دوسرے کمرے میں لیلیٰ جس کو وہ اپنی بیسٹ فرینڈ کہتا تھا اسے کوس رہا تھا ۔

°°°°°°°

صارم کچھ بتائیں تو سہی اس طرح سے میں آپ کی بلا کیسے مدد کروں وہ پانی کی گرم بوتل اس کو تھامے ہوئے بولی

تم کچھ نہیں کر سکتی عر وہ جان تم بچوں کے کمرے میں جا کر سو جاؤ۔

میں خود کو سنبھالوں گا تم فکر مت کرو صارم اپنی پیاری بیوی کو دیکھتے ہوئے محبت سے بولا جبکہ حالت تو ایسی تھی بیٹھا تک نہیں جا رہا تھا وہ بھی خضر اور شارف کی طرح بیڈ پر الٹا ہی لیٹا تھا

اللہ آپ کو شفا دے کیا دشمنوں کو مارنے کے لیے یہی جگہ ملی تھی ذرا ترس نہیں آیا کون ہو سکتا ہے اتنا ظالم عروہ کو اپنے شوہر کی حالت پر ترس آ رہا تھا

یہی تو مسئلہ ہے اگر کوئی غیر ہوتا تو مجھے بھی افسوس نہ ہوتا یہ حالت تو میرے اپنوں نے کی ہے تم سو جاؤ میں اپنا خیال رکھ سکتا ہوں وہ اسے دیکھتے ہوئے بہت پیار سے بولا

اسے اپنی وجہ سے پریشان نہ کرنے کے خیال سے دوسرے کمرے میں چلی گئی کے دوسرے کمرے میں بھی اس کی آہ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں

°°°°°

وہ چینج کرکے شیشے کے سامنے کھڑی ہوئی تو بے بی کاٹ میں رویام کو لیٹا یارم اس کے پاس آ کر اسے اپنے باہوں کے حصار میں لے چکا تھا

اپنی ناک اس کی کی شہہ رگ پر مسلتا وہ اسے سمٹنے پر مجبور کر گیا

یارم یہ کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔۔۔؟اس کی اس حرکت پر روح نے اس کے حصار سے نکلنا چاہا لیکن یہ ناممکن تھا

روح اتنی کاکی مت بنا کرو ڈھائی سال کا بچہ بھی ہے تمہارا میں جب بھی تمہارے پاس آتا ہوں تمہارا یہی سوال ہوتا ہے یارم یہ کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔۔؟

کتنی بار تفصیل سے بتاؤں۔

اس کے بال گردن سے ہٹاتے ہوئے وہ اس کے نائٹ ڈریس کی ڈوری کھول چکا تھا

رویام جاگ جائے گا یارم اس کی حرکت پر وہ فورا آئینے کے سامنے سے ہٹ کر بیڈ پر آ بیٹھی

نہیں جاگے گا ڈونٹ ورری اس کے ہاتھ میں تھاما لوشن ابھی ہاتھ میں تھا جب یارم نے اسے ہاتھ سے نکال کر ٹیبل پر پھینک دیا ۔اور اس کے اوپر آ کر اس لے دونوں ہاتھ قید کیے اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کر گیا۔

اس کی کوئی مذاحمت کبھی چلی ہی نہیں تھی تو کرنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا ۔لبوں کے بعد کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرتی وہ مسکرا کر اس کے گرد اپنا حصار بنا گئی ۔

°°°°°°