Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 23)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 23)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
وہ خضر کے گھر آ چکی تھی
حضر نے اسے وہی کمرہ دیا تھا جو اپنا گھر بنوانے کے بعد اس نے روح کے لیے بنوایا تھا
ویسے تو یارم اسے کبھی بھی کہیں رہنے نہیں دیتا تھا
آج ایسا پہلی بار ہو رہا تھا کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر کسی اور کے گھر میں رہ رہی تھی
حضر کوئی غیر نہیں بلکہ اس کا سگا ماموں تھا لیکن اس کے باوجود بھی یارم کو پسند نہیں تھا کہ اس کی روح کہیں اور رہے
حضر نے کئی بار یارم کی منتیں کی تھی کہ وہ اسے ایک رات تو وہاں رہنے دے آخر وہ اس میکا ہے لیکن یارم بس اتنا کہہ کے بات ختم کر دیتاکہ میں اپنی روح کے بغیر نہیں رہ سکتا اور مجھے اپنے گھر کے علاوہ اور کہیں نیند نہیں آتی
اور پھر اس کی اس بات کے سامنے نہ چاہتے ہوئے بھی حضر کو خاموش ہونا پڑتا کیونکہ یا رم کسی کی نہیں سنتا تھا
اور یہ وہ واحد بات تھی جہاں روح کی ضد بالکل کام نہیں کرتی تھی وہ صاف الفاظ میں بتا چکا تھا کہ اس کا کسی اور جگہ رہنا اسے پسند نہیں ہے
یقینا اگر آج یارم یہاں ہوتا تو وہ اسے کسی قیمت پر یہاں نہیں رکنے دیتا
لیکن یارم یہاں نہیں تھا
اور یارم کے واپس آنے تک وہ کسی کو بھی اپنی وجہ سے تکلیف نہیں پہنچانا چاہتی تھی
وہ جانتی تھی جتنی یہاں وہ بے قرار ہے اس سے کہیں زیادہ وہاں وہ ہوگا اس سے ملنے کے لیے اسے دیکھنے کے لئے
وہ تو لیلیٰ کے حوصلے کو سوچ کر پریشان ہو چکی تھی جو روح کے بغیر یارم کو سنبھالنے کا فیصلہ کر کے گئی تھی
پتا نہیں وہ بے چاری کس حال میں ہو گی روح نے سوچتے ہوئے بیڈ کر ان سے ٹیک لگائی تو دھیان اپنے موبائل کی طرف چلا گیا اس نے فون اٹھایا تھا
اس کا پاس ورڈ روحِ یارم تھا ۔جو روح کے علاوہ خضر اورشارف بھی جانتے تھے لیکن ان میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ یارم کےموبائل کی کبھی بھی تلاشی لیتے
اسی لئے یارم نے بھی اپنے فون کا پاسورڈ چینج کرنے کی کبھی ضرورت محسوس نہ کی
روح نے پاس ورڈ لگا کر فون اوپن کیا تو سامنے اس کی تصویر لگی تھی یہ تصویر اس دن کی تھی جب خضر کی مہندی کی رسم ادا ہوئی تھی
اور یارم نے خود اسے لپس ٹیک لگانے کی اجازت دی تھی ۔وہ دن یاد کر کے بے اختیار ہیں روح کے گال تپنے لگے
شرم و حیا سے اس کا برا حال ہو رہا تھا وہ نظریں چُرا رہی تھی جیسے یارم اس کے بالکل سامنے بیٹھا ہو
کتنا خوبصورت وقت گزارا تھا اس نے یارم کے ساتھ ان کی شادی کو دو سال ہونے والے تھے
اور یار م شاید نہیں یقین دنیا کا بہترین ہسبنڈ تھا
اس سے پیار کرنے والا اسے چاہنے والا وہ خود بھی جانتی تھی چاہے یہ سب لوگ اسے کتنی بھی محبت کیوں نہ دے یا رم سے زیادہ پیاراس سے اور کوئی نہیں کر سکتا
اس کے سامنے بے شمار تصویریں تھیں سوئٹزرلینڈ کے مقامات پر لی گئی بہت ساری فوٹو
وہ اپنی تصویریں نہیں بناتا تھا
جہاں بھی جاتا اس کی توجہ کا مرکز صرف اور صرف روح ہی ہوا کرتی تھی
اس کے موبائل میں بے شمار تصویریں تھی روح تو جانتی بھی نہیں تھی کہ یہ ساری تصویریں یارم نے کب بنائی
کچھ تصویروں میں وہ کچن میں کام کر رہی تھی کچھ تصویروں میں وہ سو رہی تھی
یسرم نے اس کی زندگی کے ایک ایک لمحے کو محفوظ کر رکھا تھا
وہ مسکراتے ہوئے آگے بھر رہی تھی
جب اس کے سامنے ایک تصویر آئی اسے یاد تھا پاکستان میں جب فاطمہ بی نے ان کی دوبارہ شادی کرنے کی بات کی تھی تو یارم سے اکیلے میں ملنے کے لیے گئی تھی اور یہ تصویر یارم نے ہوٹل کے اس کمرے میں بنائی تھی جس میں وہ دونوں ایک ساتھ کھڑے تھے
کتنا خوبصورت اور مکمل کپل تھا ان کا
تصویریں دیکھتے دیکھتے اس کی آنکھیں نم ہونے لگی تھی کتنے دن ہو گئے تھے اس نے اپنے یارم کو دیکھا تک نہیں تھا
وہ رونا نہیں چاہتی تھی لیکن کب تک ہمت رکھتی
میں آپ کو بہت مس کر رہی ہو یا رم پلیز جلدی واپس آ جائیں آپ کی روح آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی
پلیز واپس آجائیں اس کی آنسوروانی میں بہہ رہے تھے ۔
یارم کا موبائل اس کے آنسوؤں سے بھیگ نے لگا تھا
جب دروازے پر دستک ہوئی اس نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے تھے اور بے دردی سے آنکھیں بھی رگڑ ڈالیں کہ پتہ نہ چلے کہ وہ روئی ہے
°°°°°°
روح بیٹا میں نے چائے بنائی ہے پتا ہے تمہارے جتنی اچھی تو نہیں بنے گی لیکن گزارا کر سکتی ہو تم
وہ ٹرے اس کے سامنے رکھتے ہوئے مسکرایا
روح کی نظریں چرانے پر اپنی طرف نہ دیکھنے کی وجہ سے وہ بہت اچھے سے سمجھ چکا تھا
اسی لئے تو بنا کچھ بولے وہ ا سے چائے کا کپ تھامنے لگا
اچھی بنی ہے نہ اس کے چائے پیتے ہی خضر نے پوچھا تو روح نے فوراً ہاں میں سر ہلایا وہ واقعی بری نہیں تھی
دیکھا کتنی اچھی چائے بناتا ہوں میں لیکن تمہاری مامی نے قسم کھا رکھی ہے میرے ہر کام میں کیڑے نکالنے کی
وہ کہتی ہے کہ مجھے کوئی کام نہیں آتا ہے خاص کر چائے بنانے میں میں زیرو ہوں زیرو ہوں میں کیا اتنی اچھی چائے بنائی ہے میں نے میری روح کو بھی پسند آئی
وہ کافی جوش سے بولا تھا روح کی حوصلہ افزائی نے اسے خوش کر دیا تھا
لیکن پھر کچھ ہوا خضر کے ہاتھ رک گئے
اووووو شٹ مر گیا میں ۔۔۔وہ ماتھے پے ہاتھ مارتا خاصا پریشان لگا تھا
کیا ہوگیا ہے ماموں آپ اتنے پریشان کیوں ہو گئے ہیں سب ٹھیک تو ہے روح کو پریشانی ہونے لگی
کچھ ٹھیک نہیں ہے روح میں نے لیلی کو فون کرنا تھا اب تک تو تمہارا یارم اس کا قیمہ بنا چکا ہوگا۔۔وہ اپنا فون لیے باہر کی طرف بھاگا تھا جبکہ اس کی آخری بات پر روح کو ہنسی آگئی
وہ سہی کہہ رہا تھا روح کے علاوہ اس کے یارم کو اور کوئی سنبھال نہیں سکتا تھا۔
°°°°°
حضرباہر آیا تو اس نے ایک بات بہت شدت سے نوٹ کی تھی اس نے یارم کا نام بھی نہیں لیا
وہ جانتی تھی کہ لیلی سے بات کرنے والا ہے ممکن تھا کہ اس کی بات یارم سے ہو جاتی
لیکن اس نے ایک بار بھی نہیں کہا کہ وہ یارم سے بات کرنا چاہتی ہے
وہ اتنی پرسکون کیسے ہو سکتی ہے یہ ایک بات خضرکو پریشان کر رہی تھی
یارم نے کہا تھا اس کی روح بہت بہادر ھے اسے بہادر بنانے کی ضرورت نہیں ۔اگر یارم اس کے ساتھ نہیں ہوگا تو وہ ہر چیز کا مقابلہ خود کر لے گی ۔اور جب تک اس کے ساتھ یا رم ہے وہ ایسی کسی چیز کو سہننے کے لیے اکیلا نہیں چھوڑے گا ۔
ہاں اگر یارم نہیں رہا تو بھی نہیں رہے گی
یارم کی وہ بات وہ آج سمجھا تھا
وہ سچ میں بہادر تھی تو یارم کی غیر موجودگی میں اتنی بہادری سے حالات کا مقابلہ کر رہی تھی
سب کہتے تھے کہ یارم کی محبت نے اسےبہت زیادہ ضدی اور شرارتی بنا دیا ہے لیکن آج خضر کو سمجھ ایا تھا
کہ وہ ضدی تھی شرارتی تھی اپنی من مانی کرنے والی بھی تھی لیکن صرف اور صرف یارم کے سامنے ۔وہ جو بھی تھی اپنے یارم کے لیے تھی
یارم کے بغیر تو ایک پرسکون سلجھی ہوئی لڑکی تھی جوزندگی کے ہر حالات کا مقابلہ ڈٹ کر کرتی ہے
°°°°°
اس نے لیلیٰ کو فون کیا تو پہلی گھنٹی پر ہی اس نے فون اٹھا لیا تھا
کہاں مرے پڑے تھے یہاں مجھے شیر کے پنجرے میں چھوڑ کر وہ انتہائی غصے سے بولی
آئی ایم سوری یار میں روح کے لیے چائے بنا رہا تھا اب واپس آیا ہوں تو تمہیں فون کیا بتاؤں یارم نح تمہاری بات مان لی
حضرنے اپنے مطلب کی بات پوچھی
ہاں مان لی ہے لیکن ایک مہینے کے لئے نہیں بلکہ صرف ایک ہفتے کے لیے
بیوقوف لڑکی اسے ایک مہینے اور ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے اس کے مکمل بات سننے کے بعد خضر نے کہا تھا
وا واہ واہ ماشاءاللہ ماشاءاللہ مہرے پیارے پتی دیو آپ مجھے وہاں بلائیں اور آپ خود یہاں تشریف لے آئیں جب سر پر ہر وقت موت کی تلوار لٹکی ہوئی ہوگی نہ تب تمہیں میری قدر ہوگی
یہاں وہ کسی جنگلی چیتے کی طرح ہر وقت میرا شکار کرنے کے لئے تیار رہتا ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ میں اسے ایک مہینے کے لئے بلیک میل کروں
میں اسے یہ کہوں کہ میں تمہیں تمہاری روح سے نہیں ملنے دوں گی جب تک تم ایک مہینے تک اپنا ٹریٹمنٹ نہیں کرواتے
اور پھر پتہ ہے کیا ہوگا یارم کاظمی کا بلیٹڈ میری جان پر چلے گا
خود تو جا کر وہاں آرام سے چائے پی رہے ہو نا
میں یہاں ہر وقت اس کی نیلی آنکھوں کی گھوریاں برداشت کر رہی ہوں
ایک نظر دیکھتا ہے میری تو جان ٹکنے لگتی ہے
لیکن خضر مجھے میری پرواہ نہیں ہے مجھے بچے کی پرواہ ہے یہ نہ ہو کہ میرا معصوم بچہ اندر ہی کہیں ڈر جائے۔پلیز مجھے واپس بلا لو اور خود یہاں آجاؤ مجھے اس خونخوار شیر سے بہت ڈر لگتا ہے وہ دہائیاں دے رہی تھی
لیلی یار اوور ایکٹنگ بند کرو میں تمہیں جو کہہ رہا ہوں اس پر غور کرو ۔
اسے کسی بھی طرح ایک مہینے کے لئے منا لو
اور اسے کہو کہ روح کے لیے وہ بالکل فکر نہ کرے میں ہوں نہ اس کے پاس میں اس کا بہت خیال رکھوں گا اس کی ہر بات مانوں گا
خضر اسے یقین دلارہا تھا
میں جانتی ہوں خضر لیکن یار م کا کہنا ہے کہ ہر وہ اس کے علاوہ اور کسی کے سامنے اپنے دل کی بات نہیں کہے گی یہ نہ ہو کہ وہ اپنے ذہن میں چلنے والی ٹینشن کو اپنے تک کررکھ کر ذہنی دباؤ کا شکار ہو جائے
میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک ہفتے تک یار م اپنا علاج سہی طریقے سے کروائے گا تو ہم اس کی روح سے بات کروا دیں گے ۔اور اگر یار م نے ذرا سی بھی ضد کی تو انجیکشن ہر وقت میرے پاس تیار رہتا ہے
بس اسے لگانے کی ہمت آ جائے میرے پاس ۔
چلو ٹھیک ہے تمہیں ٹھیک لگے یارم کا بہت سارا خیال رکھنا اور اسے کہنا کہ روح یہاں بالکل ٹھیک ہے اور اپنا بھی خیال رکھنا خضر نے بات ختم کرتے ہوئے کہا
بہت شکریہ خضر صاحب آپ کو میرا خیال بھی آگیا
یار ایسا تو مت کہو ہر وقت تمہارا خیال رہتا ہے آئی ریلی مس یو یار وہ دل سے بولا تھا
پتا ہے ۔۔۔مجھے نہیں اپنے ہونے والے بچے کو مس کر رہے ہو اب وہ نخرےدکھانے پر اتر آئی تھی
اتنی دور بیٹھی ہو تمہاری تعریف میں زمین آسمان ایک نہیں کرسکتا واپس آ جاؤ ایک بار سب ٹھیک ہو جائے پھر اتنی تعریفیں کروں گا کہ چاند خود زمین پر آکر کہے گا ۔بس کر دےبھئی زمین پر تعریفوں کی کتابیں ختم ہوگئی ہیں وہ لب دباکر شرارت سے کہتا لیلی کو قہقہ لگانے پر مجبور کر گیا
اور یارم کے کمرے کی طرف قدم برھاتی لیلیٰ اپنے آؤٹ آف کنٹرول ہوتے قہقے کو نہ پر ہاتھ رکھ کر بند کرنے لگی کیونکہ یارم اسے سخت نظروں سے گھور رہا تھا
°°°°°
اس وقت اسے کوئی بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا
مجھے میری روح سے دور کرکے تم سکون سے اپنے میاں کے ساتھ قہقے لگا رہی ہو پہلے تو میں تمہیں قتل کروں گا
وہ بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہنے لگا لیکن لیلیٰ پر سکون سے ہو کر صوفے پر بیٹھی تھی کیونکہ یارم نہیں اٹھ سکتا تھا کیونکہ اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگی تھی اور یہ کام اس کی بے ہوشی میں لیلیٰ نے ہی کیا تھا
آئی ایم سوری یارم میں جانتی ہوں میں نے بہت غیر اخلاقی حرکت کی ہے لیکن میں مجبور تھی مجھے تم پر بالکل یقین نہیں ہے تم کبھی بھی میرا قیمہ بنا سکتے ہو اسی لئے مجھے یہ حرکت کرنی پڑی
وہ غصے سے اسے گھورتا رہا
کیسی ہے میری روح وہ اپنا غصہ دباتے ہوئے پوچھنے لگا
خضر ابھی اسے چائے دے کر آیا تھا وہ ٹھیک تھی اسنے تمہارا فون اپنے پاس رکھ لیا ہے اب کیوں رکھا ہے میں نہیں جانتی لیکن مجھے شارف نے بس یہی بتایا تھا کہ تمہارا فون اب اس کے پاس ہے
وہ مجھے مس کر رہی ہے ۔وہ بیڈ پر دوبارہ بیٹھتے ہوئے مایوسی سے بولا
تم ٹھیک ہو جاؤ گے تو اس کے پاس واپس چلے جاؤ گے
وہ اسے سمجھانے والے انداز میں کہتی آہستہ آہستہ چلتی اس کے پاس آئی تھی جب یارم نے اپنا ہاتھ آگے کیا لیلیٰ نہ سمجھی تو اپنا ہاتھ اس کی ہتھیلی پر رکھ چکی تھی
جب یارم نے ہتھکڑی اپنے ہاتھوں سے اتار کر اس کے ہاتھ پر رکھ دی
یارم یہ کیسے کیا تم نے وہ صدمے کی کیفیت میں پوچھنے لگی
دنیا مجھے ڈیول یوں ہی نہیں کہتی لیلیٰ یہ لوہے کی زنجیر مجھے میری روح کے پاس جانے سے روک نہیں سکتی
لیکن میں پھر بھی تمہاری شرط پوری کر رہا ہوں تو اس بدتمیزی کا مطلب کیا تھا وہ انتہائی غصے سے پوچھنے لگا جبکے لیلی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اب وہ کیا کہے بس اپنا ہاتھ یارم کے ہاتھ سے اٹھاتے ھتکھری لیے باہر بھاگ گئی تھی
اور کمرے کو بھی باہر سے بند کر دیا تھا جبکے یارم تو بیڈ سے اٹھابھی نہ تھا
یا اللہ یہ بندہ میری جان لے لے گا تو میں کیا کروں ہم مصیبت میں ہوتے تھے تو کہتے تھے کہ ڈیول ہمیں بچا لے گا اب تو ڈیول ہی مصیبت ہے اب کون بچائے گا ہمیں وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی ایک تو اس بندے کی نظریں اس سے ہینڈل نہیں ہو رہی تھی اور اوپر سے وہ ضرورت سے زیادہ چالاک تھا
°°°°°°
ایک ہفتے سے بیڈ پر پڑا اس کا برا حال ہو رہا تھا لیکن پھر بھی وہ صبر سے اپنا ٹریٹمنٹ کروا رہا تھا
ڈاکٹر اس کے پاس آنے سے گھبراتے تھے کیونکہ پہلے کچھ دنوں میں وہ جس طرح سے اس کی تنگ کر چکا تھا ڈاکٹر کو بھی اپنی جان پیاری تھی
لیکن اب جب ڈاکٹر اس کے پاس آتے وہ خود ہی اپنا ہاتھ آگے کر لیتا اور کہتا لگاؤں انجیکشن اور جان چھوڑو میری تمہاری شکل مجھے پسند نہیں ۔کیونکہ وہ اردو میں کہتا تھا اس لئے ڈاکٹرز اسکی بات کو بالکل بھی نہیں سمجھتا بس مسکرا کر اپنا کام کرتا اور چلا جاتا
آج ہفتے کا آخری دن تھا اور اپنے وعدے کے مطابق لیلی کو روح سے ملوانا تھا
لیکن وہ ابھی تک ٹھیک نہیں تھا وہ روح کو اگر وہاں سے غائب کرتے تو لوگوں کو شک ہو سکتا تھا اور پھر کے روح کے زریعے یارم کہاں ہے یہ بات وہ پتابھی لگا سکتے تھے
°°°°
السلام علیکم صارم بھائی کیسے ہیں آپ آئہیں بیٹھیے اس کی اجری حالت دیکھ کر روح کو بہت افسوس ہوا تھا جب کہ وہ خاموشی سے اس کے پاس آکر بیٹھ گیا اور اس کے پیچھے خضر اندر داخل ہوا تھا شارف یہاں پہلے سے ہی موجود تھا
آج معصومہ بھی شونو کو لے کر ان کے پاس آ چکی تھی
وعلیکم السلام میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو ۔وہ صوفے پر بیٹھا تھا اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا اسے کہیں سے بھی اد اس نہیں لگ رہی تھی
صارم کو جھٹکا لگا تھا اس کے شوہر کو مرے ابھی وقت ہی کتنا ہوا تھا کہ وہ اس کے سامنے ڈارک بلیو سوٹ میں بیٹھی بےحد پرسکون بات کر رہی تھی
مجھے کیا ہونا ہے بھلا میں بالکل ٹھیک ہوں روح نے سادگی سے جواب دیا
شارف نے اسے گھورتے ہوئے اسے کچھ سمجھانا چاہا جس کو سمجھ کر روح نے سر پہ ہاتھ دے مارا
مجھے یارم کا بہت افسوس ہے روح وہ اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتا بولا تو نہ چاہتے ہوئے بھی شارف کو ہنسی آگئی
خضر نے ناگوا سی نظر ڈالی تھی
وہ میرا بچپن کا دوست تھا مجھے یقین نہیں آرہا روح میرا ساتھ چھوڑ کر چلا گیا صارم کی آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر روح کو اس پر ترس آنے لگا وہ چاہتی تھی کہ بتا دے یارم بالکل ٹھیک ہے اور اپنا علاج کروا رہا ہے لیکن خض اور شارف نے اسے منع کر رکھا تھا اور اب تو اسے یار! کی قسم بھی دے ڈالی تھی
ہاں لیکن اس کے باوجود بھی روح سے ڈرامہ نہ ہوسکا وہ اپنی زبان سے یہ لفظ نہ کہہ سکیں کہ اس کا یارم نہیں رہا
حوصلہ رکھے بھائی ان شاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا اسے صبر دلانے کے لیے روح کے پاس الفاظ ہی نہیں تھے صارم کا اس طرح سے رونا اسے بے حد پریشان کر گیا تھا
تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد وہ چلا گیا اور اس کے جاتے ہیں شارف کے وہ قہقے پھوٹے جو دو گھنٹے تک کنٹرول میں نہ آئے
بے چارہ بے وقوف انسپکٹر حال دیکھو بیچارے کا یار مجھے تو اتنی ہنسی آ رہی ہے
اسے ہنسی نہیں ترس کہتے ہیں خضر نے اس کی بات کاٹی
نہیں ہمیرے دوست اسے ہنسی ہی کہتے ہیں کیونکہ مجھے ہنسی ہی آ رہی ہے وہ انسپیکٹر میرا جینا حرام کر کے رکھتا تھا اور اب خود رو رہا ہے
کتنے افسوس کی بات ہے شارف بھائی وہ اتنے پریشان ہیں اور آپ اس طرح سے کہہ رہے ہیں ۔آنسو وہاں کلتے ہیؓ جہاں محبت ہو وہ محبت کرتے ہیں یارم ست اسی لئے تو اتنے اداس ہیں
تو پھر تم اداس کیوں نہیں ہو میری جان کیا تمیارم سے محبت نہیں کرتی وہ اسکے سامنے الٹی کرسی رکھ کر بیٹھ گیا اور پھر وہ سوال پوچھ ڈالا جو کتنے دنوں سے اس کے دل میں تھا اس کا یارم موت کے اتنے قریب تھا اور وہ اتنی پرسکون کیسے
شارف بھائی ضرور ی نہیں کہ محبت کا اظہار آنسو بہا کر ہی کیا جائے
محبت کا اظہار انتظار کرکے بھی کیا جا سکتا ہے میں چاہتی ہوں کہ جب میرے یارم واپس آئیں تب ان کی روح ان کو ٹوٹی پھوٹی نہ ملے بلکہ ان کی روح ویسی ہی ہوجیسی وہ چھوڑ کر گئے ہیں زندہ دل ضد شرارتی خود سر لیکن صرف اپنے یارم کے لیے
وہ بے حد سکون سے کہتی مسکراتی اس کے پاس سے اٹھ کر اندر جا چکی تھی
اور کوئی سوال شارف صاحب خضر سینے پہ ہاتھ رکھے مسکراتے ہوئے بولا
اب سوال نہیں جواب ۔۔۔ جواب یارم تک پہنچانا ہے وہ اپنا موبائل سامنے کرتا مسکراتے ہوئے باہر نکل گیا تھا جبکہ اس کے پیچھے خضر مسکراتا ہوا روح کے کمرے کی جانب چلا گیا
°°°°°°°
