Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 25)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

شارف بھائی آپ نے مجھے بتایا نہیں کہ ماموں اچانک سری لنکا کیوں گئے ہیں یارم ٹھیک تو ہیں نہ وہ بہت زیادہ پریشان لگ رہی تھی

روح ویسے تو خضر نے مجھے تمہیں کچھ بھی بتانے سے منع کیا ہوا ہے لیکن شاید میں تم سے یہ بات چھپا نہ پاوں یا رم کہیں غائب ہوگیا ہے

وہ ہسپتال میں نہیں ہے ۔دراصل بات کچھ یوں ہے کہ دو دن پہلے میں نے یارم کے فون سے ایروپلین موڈ ہٹا دیا تھا اور یار م سے کہا تھا کہ وہ رات کو تمہیں فون کرے لیلی کے فون پر جب لیلی سو جائے

تو پھر تم دونوں کی بات ہو جائے گی یارم تم سے بات کئے بغیر کن حالات وہ تو تم بھی شایداچھے طریقے سے جانتی ہو

اور مجھ سے یارم کی یہی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی بس اس کی مدد کرنے کے لئے میں نے یہ قدم اٹھایا

لیکن تم نے بتایا کہ تمہاری یارم سے بات نہیں ہوئی جب کہ لیلی کافون اس دن یارم کے کمرے سے ٹوٹا ہوا ملا فون یارم نےہی توڑا تھا اس بات کا سب کو یقین ہے

شاید تم اس رات سو گئی یا پھر تمیں اس کی فون کال کا پتا نہیں چلا لیکن میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس رات یارم نے تمہیں فون کرنے کی کوشش ضرور کی تھی

تم سے بات نہ کر کے تمہیں بنا دیکھےوہ کس طرح سے جی رہا تھا تم سوچ بھی نہیں سکتی

خضر اور لیلی نے پلان کیا تھا کہ وہ ایک ہفتے کے بعد بھی تمہاری بات یارم سے نہیں کروائیں گے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ایسا کرنے سے یارم اپنا علاج پورا کرنے کے بجائے تم سے ملنے کی ضد کرے گا

اور یہ بات غلط بھی نہیں ہے تم سے زیادہ اہم یارم کی زندگی میں اور کچھ نہیں ہے روح۔ یہ بات تم بھی جانتی ہو ۔

لیکن اب مسلہ یہ ہے کہ اس وقت ہسپتال سے یارم غائب ہوچکا ہے وہ کہاں گیا ہے کس جگہ پر ہے کوئی نہیں جانتا بس ہم سب اس کو ہی ڈھونڈ رہے ہیں خضر نے مجھے یہ بات تم سے شیئر کرنے کے لئے منع کیا تھا لیکن میں نہیں رہ پایا کیونکہ ہم سب سے زیادہ یارم پر تمہارا حق ہے

اور تمہیں یارم کی کنڈیشن جاننے کا پورا حق ہے ۔

بس دعا کرو کہ ہمارا یارم ہمیں واپس مل جائے بالکل صحیح سلامت دشمن اس کی تاک میں بیٹھے ہیں کبھی کوئی حملہ کر سکتا ہے

شارف اسے پوری بات بتا چکا تھا ۔

اور روح کو بےحد رونا آ رہا تھا ۔

وہ جانتیہ تھی کہماس کا یارم وہاں اس سے دور کس حال یں ہے لیکن اس ے بات نہیں کی تھی ۔صرف اس لیے کہ اس کی آواز سن کو وہ اس سے ملنے یہاں آنے سے بھی پرہیز نہیں کرےگا۔

روح کو صرف اس کی فکر تھا یہاں خطرہ تھا لیکن یارم کو یہ بات کون سمجھتا

°°°°°

یارم کو غائب ہوئے بیس دن گزر چکے تھے

آخر وہ گیا کہاں تھا کوئی نہیں جانتا تھا

روح کا تو رورو کر ہوا حال تھا

بس دن رات رونے کے علاوہ کچھ کر ہی نہیں سکتی تھی خضر اور شارف اسے بہلا بہلا کر پریشان ہو چکے تھے وہ یہی کہہ رہی تھی کہ یارم اس کی وجہ سے کہیں چلا گیا ہے وہ اس سے خفا ہو گیا ہے اور اب شاید کبھی نہیں مانے گا

وہ پچھتا رہی تھی کہ اسے صرف ایک بار ہی سہی اس سے بات کر لینی چاہیی تھی

کم ازکم وہ انہیں چھوڑ کر یوں تو نہ جاتا

جس دن سے یارم غائب ہوا تھا بہت سارے لوگ غائب ہو رہے تھے

خاص کر وہ سب لوگ تو یارم کی بیڈ لسٹ میں آتے تھے ایک ایک کرکے غائب ہو رہے تھے لیکن خضر اس حوالے سے یارم پر بالکل شک نہیں کر سکتا تھا

کیونکہ یار م کی کنڈیشن ایسی تھی ہی نہیں کہ وہ اکیلے اپنی جان سنبھال سکتا اسے یہی لگ رہا تھا کہ یہ سب کچھ دل نشین کر رہا ہے وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ وہ اپنی طرف سے یارم کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہا ہے

جس دن یارم غائب ہوا تھا اس رات ڈاکٹرنے یارم کو ایک نہیں بلکہ دو دو بے ہوشی کے انجکشن دیئے تھے جن کا اثر برا ہونا تھا کیونکہ وہ کافی ہیوئی ڈوز اور بہت خطرناک بھی تھے

یار م کے غائب ہونے پر ڈاکٹر نے خود اس بات کو قبول کرلیا کہ یارم کا واپس آنا بہت ضروری ہے کیونکہ اس کی کنڈیشن بہت زیادہ خراب ہے

لیلیٰ نے یہ سب جان کا ڈاکٹر پر ہی کیس کر دیا

ڈاکٹر کی لاپرواہی کی وجہ سے یارم کو کچھ بھی ہو سکتا تھا اور یارم کے معاملے میں وہ کسی پر بھی اعتبار نہیں کر سکتی تھی ۔

لیکن اس وقت جو چیز سب سے زیادہ ضروری تھی وہ تھی یارم کا ملنا اور یار م بیس دن سے انہیں نہیں ملا تھا نہ ہی اس کی کوئی خبر آئی تھی اور نہ ہی اس نے انہیں فون کر نے یا بات کرنے کی کوشش کی تھی

پچھلے تین دن سے رخ بھی ہسپتال میں تھی۔

پہلے یارم کے لاپتہ ہونے پر وہ پریشان تھے اب روح کی حالت نے انہیں بوکھلا کر رکھ دیا تھا اور اگر یارم اس وقت کہیں سے آجاتا اور اپنی روح کی حالت دیکھتا تو وہ انہیں جان سے مار ڈالتا

ڈاکٹر نےروح کی حالت کو ذہنی دباؤ کا شکار بتایا تھا اور وہ ذہنی دباؤ کا شکار کیوں تھی یہ تو سب ہی لوگ جانتے تھے خضرنے روح کو منع کیا تھا یا رم کی بھلائی کے لیے لیکن وہ کہاں جانتا تھا کہ وہ جس کی بھلائی سوچ رہا ہے وہ اس طرح کی کوئی بھلائی چاہتا ہی نہیں

یہ بات تو اسے اچھے سے سمجھ آگئی تھی کہ یارم جب بھی واپس آئے گا سب سے پہلے اسی کی کھال ادھیڑے گا

کیونکہ وہ روح سے اس طرح کی کسی سمجھداری کی امید نہیں رکھتا اسے پتہ تھا کہ روح کے اس رویے کے پیچھے خضر کہیں دماغ چل رہا ہے

اور اب یارم نے واپس آکر سب سے پہلے اس کا سرپھوڑنا تھا

°°°°°°°

ویلکسن میتھوکی لاش آج اٹلی کے جنگلوں سے ملی تھی

لاش کی شناخت کرنا بہت مشکل تھا اس کام کے لیے تین دن لگ گئے اور اسے مرے ہوئے تقریباً پندہ دن گزر چکے تھے

اب ایک کر کے اسکی ٹیم ممبر کے لوگ بھی لاشوں کی صورت میں مل گئے تھے

زیادہ تر لوگوں کو بلیڈسے ہلاک کیا گیا تھا

اور ایک ایک کافی پرسکون اور تسلی سے مارا گیا تھا جیسے یارم مارتا تھا خون کی سرخ لکیر چھوڑتا لمبی لمبی لائن کھینچ کر خضر اور شارف کو یقین تھا کہ وہ یارم ہی ہے

اتنی بے دردی سے کوئی ایسا نہیں کر سکتا تھا سواۓ یارم کے

دو تین بار ان کو لگا کے انہیں روح کو بتا دینا چاہیے کہ یارم جہاں بھی ہے بالکل ٹھیک ہے اور اپنا کام کرکے ہی واپس آ جائے گا لیکن وہ یہ نہیں بتا سکتے تھے کہ وہ لوگوں کے پرزے کرنے میں مصروف ہے

روح کی حالت تھوڑی سے سبھلی تو خضر اور شارف وہ سارے کام نمٹانے چلے گئے جو وہ یارم کے واپس آنے سے پہلے ختم کرنا چاہتے تھے

کیونکہ اس وقت انہیں اس بات کا ٹھیک سے اندازہ ہو چکا تھا کہ یارم اس وقت ڈیول موڈ میں ہے اور اس موڈ میں وہ نہیں سوچتا کہ سامنے والا اس کا دوست ہے یا دشمن اس وقت یارم کا موڈ کیسا ہوگا وہ اچھی طرح سے جانتے تھے

اسی لئے تو یارم کے واپس آنے سے پہلے پہلے ہی سارے کام نمٹانے میں لگ گئے

°°°°

روح یار پلیز رونا بند کرو یارم جہاں بھی ہے بالکل ٹھیک ہے

اور جلد ہی ہمارے پاس واپس بھی آ جائے گا

تمہارے رونے سے کون سا کسی مسئلے کا حل نکل آئے گا لیلی اسے اپنے ساتھ لگاتی بہت پیار سے سمجھا رہی تھی

لیلی میں بہت بے وقوف ہوں

میں ہمیشہ ایسے کام کرتی ہوں جو یارم کو تکلیف دیتے ہیں

ان کا دل دکھنے کا سبب بنتے ہیں اگر میں اس رات ان سے بات کر لیتی تو وہ کبھی یوں اس طرح سے مجھے چھوڑ کر نہیں جاتے

بلکہ اب تک تو وہ اپنا علاج مکمل کروا کے ہمیشہ کے لئے میرے پاس واپس آ چکے ہوتے وہ بری طرح سے روتے ہوئے کہہ رہی تھی

جب کہ لیلیٰ اسے سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی

خود کو سنبھالو روح اگر یارم نے تمہیں اس حال میں دیکھ لیا تو وہ ہمیں جان سے مار ڈالے گا تم جانتی ہو وہ تمہیں کس حد تک چاہتا ہے

پلیز روح جب تک یارم واپس آتا ہے تب تک اس طرح سے رونا بند کرو وہ جلد واپس آ جائے گا کیونکہ مجھے پتا ہے وہ تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا وہ اس کے آنسو صاف کرتے پیار سے سمجھا رہی تھی جبکہ روح کے آنسو خشک ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے

°°°°°

رات کے دو بج رہے تھے لیلیٰ کو اپنے کمرے میں گئے کافی وقت گزر چکاتھا اب تک تو وہ نیند میں اتر چکی ہو گی

لیکن نیند اسے آج بھی نہیں آئی۔رو رو کر اس نے اپنی حالت خراب کر دی تھی ۔یارم کا خیال اسے چین نہیں لینے دے رہا تھا ۔

پتا نہیں یارم کس حال میں ہوگا کچھ کھاتا بھی ہوگا یا نہیں کہیں وہ ان لوگوں کے ہاتھ تو نہیں لگ گیا۔

بس ایک بار وہ آجاجائے روح نے سوچ لیا تھا کہ وہ اس کے پیر پکڑ کر معافی مانگے گی اوردوبارہ بپکبھی خود سے دور نہیں جانے دے گی

آخر یارم گیا کہاں تھا

یہ لوگ اسے ڈھونڈنے کی کوشش کیوں نہیں کر رہے تھے۔کیا وہ لوگ جانتے تھے کہ یارم کہاں ہے اگر ہاں تو اسے لے کیوں نہیں آتے تھے

وہ کیسے ان کو بتاتی کہ وہ اپنے یارم کے بغیر پل پل مر رہی ہے ۔

دن رات یارم کے ملنے کی دعا کرتی کافی پریشان تھی۔۔لیکن خضر اور شارف اتنے پریسپشان نہیں تھے اب جتنے کہ پہلے۔

کچھ بدل گیا تھا لیکن کیا اسے سمجھ نا آیا

وہ بیڈ پر لیٹی یوں ہی چھت کو گھور رہی تھی جب کمرے کی لائٹ آف ہوگئی۔اسے انھیرے میں خوف آتا تھا ۔اور نہ ہی وہ زیادہ دیر اس اندھیرے میں بیٹھ سکتی تھی

اس نے اٹھ کرماچش ڈھونڈنےکی کوشش کی لیکن ماچش نہ ملی ایک تو اندھیرے میں اسے ڈر لگتا تھادوسرا یہاں خضر کے گھر میں اسے پتا بھی نہیں تھا کہ کون سی چیز کہاں رکھی ہے۔

اب وہ زرا زرا سی بات کے لیے ان کو تنگ نہیں کر سکتی تھی۔ایک بار ڈھونڈنے کی کوشش کر کے وہ دوبارہ بیڈ پر آ کر لیٹ گئی۔

باہر لگ رہا تھا کہ لائٹ چل رپی ہے تو کیا صرف اس کے کمرے کی لائٹ آف ہوئی تھی اس نے سوچا لیکن اس وقت و لیلی اور خضرکو تنگ نہیں کرنا چاہتی تھی

نیند تو آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔

ہاں لیکن یارم کی یادیں اس کی رات اسان کر دیتی۔وہ اب بھی اپنے یارم کو سوچ رہی تھی لیکن یادیوں میں بھی سکون نہ تھا

وہ خاموشی سے اپنی آنکھیں بند کر کے کچھ دیراپنے مائنڈ کو ریلکس کرنا چاہتی تھی۔جب اسے محسوس ہوا کہ کمرے میں کوئی اور بھی ہے ۔اس نے ایک جھٹکے میں اٹھ کر سارا کمرا دیکھا لیکن کوئی نہیں تھی۔

اس کی دل کی دنیاکی کمرا بھی اندھیرے میں ڈوبا تھ۔وہ اپنا وہم سمجھ کرو سونے کی کوشش کرنے لگی۔

لیکن اسی احساس کے تہت وہ زیادہ دیر وہ آنکھیں بند نہ رکھ سکی۔وہ اٹھ کر کھڑکی بند کرنا کا سوچ رہی تھی کہ شاید یہ احساس کھڑکی کے باہر چلنے والی ہوا کی وجہ سے ہے۔

وہ آئستہ آئستہ قدم اٹھاتی کھڑکی کے پاس آئی اور کھڑکی بند کر دی۔

واپس اپنے بیڈ پر لیٹتے ہوئے وہی احساس دوبارہ ہوا۔

اسے باربار یہی محسوس ہو رہا تھا کہ کوٙئی ہے ۔اب اس کے دل میں خوف سا پیدا ہونے لگا تھا۔اس نے کمرے سے باہر جانا بہتر سمجھا کیونکہ اب اس کو ڈر لگانے لگا تھا۔اور اس ڈر کے ساتھ اسے ساری رات کمرے میں سکون نہیں آنا تھا۔

°°°°°°

ابھی اس نے بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کی ہی تھی کہ کسی نے اسے پکڑ کر اپنی جانب کھنچ لیا۔

اس سے پہلے کہ وہ چیختی کسی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔وہ پوری طرح ان باہوں میں قید ہو چکی تھی

اب وہ بیڈ پر پڑی بےبسی سے اندھیرے میں اس شخض کو ڈھونڈ رہی تھی۔لیکن یہ ایک مشکل کام تھا۔

کیا ہوا بےبی ڈر گئی اتنی سی ہمت تھی بس ۔۔۔ابھی تو تم نے اپنی ایک ایک غلطی کا حساب چکانا ہے ۔ابھی تو تمہیں پتا چلے گا کہ تم نے میری کال کاٹ کر خود کو کتنے برے امتحان میں ڈالا ہے

تمہاری ہر غلطی معاف لیکن تم اس شخص کے کہنے پر اپنے یارم کی بےچینیاں اس کی تڑپ اس کی بےقراریاں نظر انداز کر دو اس غلطی کی کوئی معافی نہیں ۔تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہے تھی روح تم نے غلط کیا بہت غلط ۔وہ اس کے کان میں غرایا

کیوں کیا تم نے ایسا روح کیا تم نہیں جانتی کہ تمہارے بغیر سانسس بھی گن گن کے لیتا ہے تمہارا یارم ۔اس کا ہاتھ اس کے منہ سے سیدھا گردن کی طرف آیا تھا

یارم۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی آواز میں تڑپ تھی جیسے وہ ویسے ہی نظر انداز کر چکا تھا جیسے اس کی تڑپ کو کیا گیا تھا۔

اس کے ہاتھ کا دباو اس کی گردن پر مزید بھر گیا ۔

نہیں ہوں میں تمہارا یارم۔۔خبراد کو اس زبان سے میرا نام بھی لیا تم نے۔اس کی نازک گردن اس کے سخت ہاتھ کی گرفت میں تھی۔

لیکن روح کو پروہ کہاں تھی وہ تو اس کی آواز سن رہی تھی ۔وہ آ گیا تھا ۔واپس اس کے پاس لیکن دوریاں ختم نہیں ہو رہی تھی۔

وہ اس کے بے حد قریب تھا لیکن نہ تو اسے خود کو چھونے کی اجازت دے رہا تھا نہ ہی کچھ بولنے دیتا۔بس اپنی وحشت اس پر لٹا رہا تھا ۔اس کے دونوں ہاتھ ایک ہاتھ میں قید لیے دوسرے ہاتھ سے کیسی مجرم کی طرح اس کی گردن پکڑے وہ جواب مانگ رہا تھا

یارم می۔۔۔میں۔۔

چپ کہا نہ میں نہیں تمہارا یارم۔میں اپنی روح کا یارم ہوں جو مجھے سمجھتی ہے ۔مجھ سے محبت کرتی ہے تم تو کوئی اور ہو میری روح اتنی پتھر دل نہیں کہ اس کا یارم اس کے سامنے تڑپتا رہے اور وہ اس کے سکون کے لیے ایک لفظ نہ بولے۔

بتاو کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا ۔کیوں لیا تم نے میری محبت کا امتحان بولو۔۔اس کی گردن پر زور دے کر پوچھا تو اس بار روح تکلیف سے کراگئی۔

دود ہوا ۔۔۔مجھے بھی ہو رہا ہے اتنے دن سے ایک ایک پل کی موت مر رہا ہوں ۔لیکن تمہیں ترس نہیں آیا ۔اور اب اس تکلیف سے رہائی کے لیے تمہیں میرے سوال کا جواب دینا ہو گا۔

وہ اس کی گردن سے ہاتھ نکال کر اس کی بالوں کو اپنی مٹھءپی میں پکڑچکا تھا

°°°°°°