Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 24)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 24)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
دل نشین بہت اچھا شخص تھا اور یارم کا کافی خیال بھی رکھ رہا تھا
اس کا تعلق سری لنکا سے تھا
اور وہ سری لنکا کے مافیا کا ڈان تھا اس کے کچھ عادتیں یارم سے ملتی تھی جیسے ظلم کے خلاف قدم اٹھانا اور ظالموں کو ان کے عبرت ناک انجام تک پہنچانا بس یہی وجہ تھی کہ یارم کے ساتھ اس کی دوستی اب تک چل رہی تھی
اب تک یارم جتنے بھی انڈرورلڈ کے کنگ کو جانتا تھا
دلنشین سب سے الگ تھا اس نے بھی اپنی زندگی میں بہت کچھ سہا تھا اور اب ظالموں کے خلاف لڑتے لڑتے وہ خود ایک ظالم ڈون بن چکا تھا
لیلی اور یارم کو ان کی طرف سے کافی اہمیت مل رہی تھی
دل نشین خود نہ جانے کتنی بار یارم کو دیکھنے اسپتال جا چکا تھا اور روح کے لئے اس کی دیوانگی بھی سمجھ چکا تھا اس کے دل میں ایک بار روح سے ملنے کی خواہش ضرور جاگی تھی
وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آخر اس لڑکی میں ایسا کیا ہے کہ یار م اس حد تک پاگل ہے اس کے لیے
لیلیٰ یارم کے ساتھ ہی رہتی تھی لیکن ہوش میں آنے کے بعد یارم نے کہہ دیا کہ وہ اب سے الگ جگہ پر رہے گی دن میں وہ جب چاہے اس کے کمرے میں آ سکتی ہے لیکن رات میں یارم کے ساتھ ایک ہی کمرے میں نہیں رہے گی
لیلیٰ کو یہ بات عجیب تو لگی تھی لیکن پھر وہ اس کا مطلب بھی اچھے سے سمجھ گئی ۔اگر رات ساری اس کے کمرے میں رہتی تو جاگتی رہتی اور وہ پریگنیٹ تھی یارم نہیں چاہتا تھا کہ اس کی وجہ سے لیلیٰ کو کسی بھی قسم کا نقصان اٹھانا پڑے
لیلیٰ تھوڑی دیر پہلے یارم کے ہی کمرے میں تھی وہ اس سے روح کے بارے میں باتیں کرنے لگی
یارم پہلے تو کافی دیر برداشت کرتا رہا لیکن لیلیٰ کا یہ کہنا کہ روح ٹھیک ہے اور وہ اسے مس بی نہیں کر رہی
یارم کو جلا کر رکھ گیا اس کی روح کے دل کا حال اس کے سے بہتر کیسے جان سکتی تھی یارم کی سرد اور وحشتناک گھوریوں سے گھبرا کر لیلیٰ نے اپنے کمرے میں آنا ہی بہتر سمجھا
لیکن کمرے میں آنے کے بعد اسے احساس ہوا کہ اس کا موبائل اس کے پاس نہیں ہے
کہیں وہ یارم کے پاس تو نہیں چھوڑ آئی
وہ سر پہ ہاتھ مارتے ہوئے واپسی کی راہ لینے ہی لگی تھی کہ ایک بار پھر سے یارم کا غصے سے بھرپور چہرہ اس کی نظروں کے سامنے گھوما لیلیٰ ڈارلنگ تمہیں تمہارا موبائل صبح بھی مل سکتا ہے لیکن اس وقت اس شیر کے منہ میں ہاتھ مت ڈالو ورنہ سب سے پہلے وہ تمہیں چیڑ کر رکھ دے گا
وہ خود سے برابڑ تے ہوئے خاموشی سے آکر اپنے نرم و ملائم بستر پر لیٹ گئی ۔
اسے موبائل سے زیادہ اپنی جان عزیز تھی
°°°°°
یارم کا فون کب سے بج رہا تھا وہ کافی دیر سے سکرین کی طرف دیکھتی رہی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ فون اٹھائے یا نہ اٹھائے اس وقت کال موبائل پر نہیں بلکہ کے واٹس ایپ نمبر پر آ رہی تھی۔اس نے نیٹ آف کر دیا اور پھر موبائل پر کال آنے لگی
موبائل میں نمبر سیو نہیں تھا اس لیے فون کون کر رہا تھا روح کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا
لیکن جس شدت سے فون بج رہا تھا روح کو لگ رہا تھا کہ اسے اٹھا لینا چاہیے کیونکہ دوسری طرف موجود شخص کافی بےچین لگ رہا تھا
میں فون ماموں کو دے آتی ہوں اس نے سوچتے ہوئے ایک نظر گھڑی کی طرف دیکھا تو رات کے ڈھائی بجے جا رہی تھی
نہیں ماموں کو اس وقت جگا نا سہی نہیں لگتا بیچارے سارا سارا دن یارم کی جگہ کام سنبھالتے ہیں اور اس کے علاوہ میرا خیال رکھتے ہیں یہ سہی وقت نہیں ہے
روح کو یاد نہیں تھا کہ اس نے فون سے ایروپلین مود ہٹایا ہو یا شاید اس نے غلطی سے ہٹا دیا ہو لیکن جو بھی تھا اس کی سزا وہ اس وقت فون سکرین پر نظریں جمائے بھگت رہی تھی
اس وقت وہ موبائل سکرین اپنی اور یارم کی ان تصویروں میں کھوئی ہوئی تھی جب سے یارم اس کے قریب نہیں تھا نیند تو اسے ساری رات نہیں آتی تھی ۔
اور اب بھی یہی حال تھا نہ اسے نیند آ رہی تھی اور نہ ہی کال کرنے والا اسے سانس لینے دے رہا تھا
ایک دو بار تو دل چاہا کہ موبائل آف کر دے
لیکن موبائل آف کرنے کے بعد اسے سکون نہیں تھا کیونکہ ابھی وہ ساری تصویریں دیکھنا چاہتی تھی اور اگر موبائل آف کردیا تو ان کی یادیں بھی اندھیرے میں ڈوب جائیں گی
اخر تنگ آ کر اس نے فون اٹھا ہی لیا لیکن دوسری طرف سے سننے والی آواز نے اسے ساکت کر دیا
°°°°
روح۔۔۔۔یارم کی بے چین سی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی
سو رہی تھی کیا کب سے فون کر رہا ہوں میں ۔میرے بغیر اچھی نیند آنے لگی ہے
کہ میرا نام ہی نہیں لے رہی تھی جانتی ہو لیلی کو فون چرآیا ہے میں نے زندگی میں پہلی بار چوری کرکے تم سے بات کر رہا ہوں اور تم نیند میں مگن ہو یہ تو غلط بات ہے میری جان کیا جانتی نہیں ہو تمہارا یارم کس قدر بےقرار رہا ہے تمہارے بغیر
اس کے الفاظ میں بے حد بے چینی تھی روح کا پورا وجود کان بنا ہوا تھا وہ اسے سن رہی تھی اپنے یارم کو آج تین ہفتے کے بعد اس کی دیوانگی سے بھرپور آواز اس کے کانوں میں پر رہی تھی
وہ اس کے بنا تڑپ رہا تھا بے چین تھا
اب کیا منہ میں دہی جمع کر بیٹھ گئی ہو بولو کچھ میرے کان ترس گئے ہیں تمہیں سننے کے لیے جانتا ہوں تمہارا حال بھی مجھ سے مختلف نہیں ہے تم بھی تڑپ رہی ہو مجھ سے ملنے کے لیے بے چین ہویکن اپنی آواز تو سناؤ
تاکہ مجھے زیادہ سکون آئے ۔
میں آ رہا ہوں روح تمہارے پاس میں نہیں کر سکتا یہ سب کچھ مجھ سے نہیں رہا جاتا تمہارے بغیر بس ایک بار اپنی آواز سناؤ بتاؤ مجھے کہ میرے لیے تم بھی اتنی ہی بے چین ہو میرے بغیر تم بھی نہیں رہ سکتی نا
ارے بھاڑ میں گیا علاج مجھے میری روح چاہیے ایک بار اپنی آواز تو سناؤ اب کیا میری تڑپ سن کر اور تڑپانے کا ارادہ ہے کیا میری بے چینی دیکھ کر تمہیں مزہ آ رہا ہے
وہ ہر بات کے بعد انتظار کرتا کہ وہ کچھ بولے گی لیکن وہ کچھ بھی نہیں بول رہی تھی اور پھر یارم کی سماعت سے بس ایک آواز ٹکرائی
ٹون ٹون ٹوں روح فون بند کر چکی تھی وہ اپنے یارم سے بات ہی نہیں کرنا چاہتی تھی اپنی دھڑکن کی تو دور اس نے اپنی بے چین سانسوں کا روح بھی یارم کی جانب نہ کیا
اس کی روح اس سے بات نہیں کی غصے سے اس کا برا حال ہو رہا تھا وہ موبائل کی سکرین پر دیکھتا انتہائی جارحانہ انداز میں اس موبائل کو دیوار پر مار چکا تھا
اس کی بے چینی اس کی تڑپ کو سمجھنے کے باوجود وہ کچھ نہیں بولی
وہ کس طرح سے رہ رہا ہے یہاں کس درد سے گزر رہا ہے یہ جاننے کے باوجود بھی اس نے اس کی بے چینی اس کی تڑپ کو راحت نہ پہنچائی غصے سے اس کا برا حال ہو رہا تھا اس کا دل چاہ رہا تھا کہ ہر چیز کو تہس نہس کر دے اور ہسپتال کے اس کمرے کا نقشہ تو وہ اگلے دو منٹ میں ہی بگاڑ چکا تھا
°°°°
کچھ ٹوٹنے کی آواز پر ڈاکٹر سے بھاگتے ہوئے کمرے کی جانب آئے تھے اور اس سے اس طرح سے ایک بار پھر جنونی روپ میں دیکھ کر وہ گھبرائے
تین چار کمپاؤنڈر اسے قابو کرنے کے لیے آگے بڑھنے لگے لیکن اس کا غصہ سوا نیزے پر تھا جو بھی اس کے قریب بات بری طرح سے پیٹ جاتا
جب ایک ڈاکٹر نے خوشیاری دکھاتے ہوئے پیچھے سے یارم کے کندھے پر بے ہوشی کا انجکشن لگا دیا
لیکن بے ہوش ہونے سے پہلے پہلے وہ ایک لڑکے کی گردن کو پکڑ چکا تھا
اور اس کا اندازہ اتنا شدت سے بھرپور تھا کہ ہر کوئی اسے چھڑوانے کی کوشش میں مگن تھا لیکن کوئی بھی یارم کی گرفت سے اس کی گردن کو آزاد نہیں کروا رہا تھا
ایک ڈاکٹر نے ایک اور انجیکشن کا آرڈر دیا
سر یہ خطرہ ہو سکتا ہے نرس نے سمجھانا چاہا
اس وقت یہ آدمی ہمارے لئے خطرہ بنا ہوا ہے جاو انجکشن لاو ورنہ یہ ہم سب کو جان سے ماردے گا اور یہ انجکشن والی بات اس لڑکی کو پتہ نہ چلے
ایک تو پہلے ہی ڈاکٹرز بہےپت کم مقدار میں اس کے جسم سے زہر ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اس زہر کا الٹا اثر ہو رہا تھا یارم کو جس بات پر غصہ آتا ہے پھر وہ اس بات کے لئے پاگل ہونے لگتا ۔
اور اس وقت بھی ایسا ہی ہو رہا تھا دوسرے انجکشن نے اثر دکھایا تھا تھوڑی ہی دیر میں وہ ہوش و حواس سے مکمل بیگانہ ہو چکا تھا
ڈاکٹر نے اس وقت لیلی کو کچھ بھی بتانے سے منع کردیا ۔یہ ان کے لیے خطرے کی بات تھی کیونکہ وہ ایک ٹائم پر دو انجکشن دے چکے تھے
آج پورے ایک ہفتے کے بعد دوبارہ اس کی حالت ہوئی تھی جیسے پہلے دن تھی وہ کچھ دنوں سے بہت اچھے سے ریکور کر رہا تھا لیکن اب ایک بار پھر سے اس کی طبیعت خراب ہونے لگی تھی جو اس کے لئے بہت خطرہ ہو سکتی تھی
کیوں کہ جس چیز کا زہر اس کو دیا گیا تھا اس کے لیے اس کے پورے جسم کو کاپریٹ کرنا تھا ۔
اور خاص کر اس کے دل اور ذہن کو اگر اس کا دل اور دماغ اس کی باڈی کا ساتھ نہ دے تو اس کے جسم سے اس زہر کی مقدار کو ختم کرنا بے حد مشکل تھا
پچھلے ایک ہفتے میں یارم نے ففٹی پرسنٹ ریکور کر لیا تھا لیکن آج کی اس حالت دیکھنے کے بعد ڈاکٹرز پھر سے پریشان ہوگئے تھے
انہیں اپنی ساری محنت بےکار ہوتی نظر آ رہی تھی
کیونکہ وہ ففٹی سے دوبارہ زیرو پر جا چکا تھا
°°°°°°
خضر کمرے میں آیا تو روح کو بیڈ پرر بیٹھے بیٹھے سوتے دیکھا شاید وہ رات بیٹھے بیٹھے ہی سو گئی تھی اس کے ہاتھ میں اب بھی موبائل موجود تھا
جبکہ چہرے پر آنسو کے نشان تھے اس نے جھک کر اسکی پیشانی کو چوما اور موبائل اس کے ہاتھ سے لے کر باہر آگیا
لیکن اوپر سکرین پر لیلیٰ کے موبائل سے اسے بے حد کال ظاہر ہوئی تھی
یہ نمبر لیلیٰ کا وہاں پر لیا گیا تھا اسی لئے یارم کے فون میں یہ نمبر سیو نہیں تھا
لیکن لیلی اس سے بار بار فون کیوں کر رہی تھی پھر اس نے چیک کیا ایک کال اٹینڈ کی گئی تھی جس میں بارہ منٹ تک بات کی گئی
اس نے یار م کے ہی فون سے لیلی کو فون کرنے کی کوشش کی لیکن فون نہ لگا بار بار کوشش کے باوجود بھی فون نہ لگا تو وہ اپنے موبائل سے کوشش کرنے لگا لیکن اس بار بھی فون نالگ سکا
اس وقت تو لیلیٰ یارم کے ساتھ ہوتی ہے تو اس نے فون کیوں بند کیا ہوا ہے خضرکو پریشانی ہونے لگی
اس لیے اب اس نے سیدھا دل نشین کو کال کی تھی
خضر یار میں تو صبح سے ہسپتال گیا نہیں کچھ ضروری کام سرانجام دے رہا تھا لیکن اب تھوڑی دیر میں جانے والا ہوں وہاں پہنچ کر تم سے تفصیلی بات کروں گا دلنشین نے مختصر سی بات کرکے فون بند کر دیا
دو گھنٹے مزید گزر گئے اور پھر اسے سری لنکا کے نمبر سے فون آیا
لیکن لیلیٰ کا فون بھی ہو سکتا تھا
یہ بھی ہوسکتا تھا کہ اس کا فون گم ہو گیا ہو یا خراب ہو گیا ہوں اس نے جلدی سے فون اٹھا لیا
خضر بہت گربڑ ہو گئی ہے یارم کہیں غائب ہوگیا ہے
میں ہر جگہ دیکھ چکی ہوں لیکن یارم کہیں پر نہیں ہے اللہ اس کی حفاظت کرے نہ جانے کہاں نکل گیا ہے اس نے میرا فون بھی رات کو توڑ دیا ڈاکٹرز بتا رہے ہیں کہ اس کی حالت بہت خراب ہوگئی تھی
اور وہ رات کو بے حد غصے میں تھا خضر کچھ کرو لیلی بہت بے چین تھی
لیلی تم ٹینشن مت لو میں کچھ کرتا ہوں تم پریشان مت ہولوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا وہ اسے سمجھانے لگا
وہ لیلی کو بھی کوئی ٹینشن نہیں دے سکتا تھا کیونکہ اس کی حالت پہلے ہیں ڈاکٹر کیرٹکل بتا رہا تھا
فون رکھنے کے بعد اس نے اعتبار میں موجود ہر بندے کو فون کر ڈالا
°°°°°
ہمیں روح کو بتا دینا چاہیے
تین دن ہو چکے ہیں یارم کو غائب ہوئے نہ جانے وہ کس حال میں ہوگا کہاں ہوگا
ہمیں رخوحسے نہیں چھپانا چاہیے شارفبے حد پریشان تھا جبکہ خضر سری لنکا جا چکا تھا
اس نے روح کو نتانے کی بات کی تو اس نے منا کر دیا
اس کے یہاں آنے کے بعد دلنشین نے لاعلمی کا اظہار کردیا وہ نہیں جانتا تھا کہ یارم کہاں چلا گیا ہے
اور اس کے غائب ہونے کی خبر اس نے روح کو نہیں دی تھی
خضر نے روح ہی بتایا تھا کہ یارم ایک ہفتہ علاج کے لیے مان چکا ہے۔اور ان لوگوں نے اس کے سامنے شرط رکھی ہے کہ وہ سے اس کی بات کروا دیں گے
لیکن اب وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ روح کی آواز سنتے ہی یارم اس سے ملنے کے لیے بے چین ہو جائے گا اور جب تک یارم بالکل ٹھیک نہ ہو جائے وہ اسے واپس لانے کی غلطی نہیں کر سکتے تھے
یار م سخت سے سخت چوٹ پر بھی بالکل نارمل رہتا تا کے روح پریشان نہ ہو۔کیونکہ اس کے ہسپتال جانے پر روح بے چین ہوجاتی تھی اور یارم اسے اپنے لئے تڑپتے نہیں دیکھ سکتا تھا
لیکن اب معاملہ کچھ اور تھا روح نے خود اسے تڑپنے پر مجبور کر دیا تھا اور اب اس تڑپ کی تپش کس کس کو نقصان پہنچائے گی یہ کوئی نہیں جانتا تھا
°°°°°
وہ جنگل میں ایک بہت بری لکڑی سے الٹا بندھا ہوا تھا
دونوں طرف درخت موجود تھے اور اس لکڑی کو انہیں دوختوں کے سہارے کھڑا کیا گیا تھا جب کہ نیچے آگ جل رہی تھی
اور آگ کے اوپر بڑے سائز کے چاقو رکھے ہوئے تھے
وہ پچھلے تین دن سے بھوکا پیاسا اس ڈنڈے پر لٹکا اپنے جسم کو جلتا ہوا محسوس کر رہا تھا
اور وہ اس آگ کو بجھنے نہیں دیتا تھا
ایک ایک سیکنڈ کی اذیت کسی جہنم سے کم نہیں تھی
اب تو چلا چلا کر کے منتیں کر کر کے گلے سے آواز نکلنا بھی بند ہو چکی تھی
اور آگ کے تھوڑے سے فاصلے سے بیٹھا وہ شخص شان نیازی سے چکن کیوبز کا مزا لے رہا تھا
تم چپ کیوں ہو گئے کیا تمہیں سمجھ نہیں آیا میں نے کیا کہا چلاو اونچی آواز میں چلاو مجھے تمہاری چیخیں سکون دیتی ہے
تمہاری تڑپ مجھے مزہ دیتی ہے
تمہاری وجہ سے میں اپنی روح سے دور ہو ترپ رہا ہوں اور جس طرح اس سے میں تڑپ رہا ہوں میں ایسے ہی تمہیں تڑپا تڑپا کے ماروں گا
مجھے معاف کر دو ڈیول مجھ سے غلطی ہوگئی مجھے چھوڑ دو میں یہ سب کچھ چھوڑ دوں گا میں چلا جاؤں گا بہت دور چلا جاوں گا کبھی دوبارہ تمہارے راستے میں نہیں آؤں گا بس ایک بار مجھے بخش دو
اس رگڑگڑاکر روتا اس سے مینتیں کر رہا تھا
جب ڈیول نے چاقو کو نکال کر اس کے ننگے پیٹ پر رکھ دیا
میں تمہیں چلانے کے لئے کہہ رہا ہوں اور تم مجھے اپنی روداد سنا رہے ہو
اس کے تڑپنے پر وہ بے حد غصے سے بولا
میں دنیا کے کسی بھی شخص کو معاف کر سکتا ہوں لیکن دو انسانوں کو نہیں ایک تمہیں اور ایک اپنی روح کو
جو اپنے یارم کی بےچینی اقر تڑپ سمجھنے کے باوجود بھی کچھ نہیں بولی اس نے میرا فون کاٹنے کی جرت کی ۔وہ جانتی بھی ہے کہ میں اس کے بغیر پل پل مر رہا ہوں پھر بھی اس نے میرا فون کاٹ دیا غلط کیا نہ اس نے اسے مجھ سے بات کرنی چاہیے تھی
لیکن اس نے کیا کیا اس نے میرا فون کاٹ دیا
صرف ایک بار پھر ایک بار اس نے نہیں کہا یارم آپ ٹھیک تو ہیں
یار میں آپ کو مس کر رہی ہوں
پلیز یارم جلدی واپس جائیں میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی
اس نے نہیں کہا
اس نے میرے بے چین دل کو راحت پہنچانے کے لیے ایک لفظ بھی نہیں کہا
اس نے میرا نام تک نہیں لیا
غلط کیا بہت غلط کیا نہ اس نے۔۔۔؟
وہ جنونی انداز میں پوچھ رہا تھا سامنے الٹا لٹکا شخص اس کے بات کو بنا سمجھے ہاں میں سر ہلا گیا
دیکھا تم سمجھ گئے میری بات کو لیکن وہ نہیں سمجھی
تمہیں اندازہ بھی ہے میں کس حال سے گزر رہا ہوں اور مجھے اس حال میں پہنچانے والے تم ہو تو تمہیں سزا تو بنتی ہے نہ
اور تمہیں پتا ہے میں تمہیں کب ماروں گا جب تم خود کہو گے ڈیول مجھے مار دو میں نے تم سے تمہاری روح کو الگ کر دیا ہے میں نے تم سے تمہاری روح کو دور کیا ہے مجھے جینے کا کوئی حق نہیں میری جان لے لو میری سانسیں ختم کردو
اور پھر میں تمہیں سکون سے موت کی نیند سلا دوں گا
تب تک بنا کوئی چالاکی بناکوئی فضول بات کےایسے ہی لٹکے رہو تم تڑپ ہو سکتے ہو چلا سکتے ہو رو سکتے ہو
لیکن معافی مت مانگو کیوں کہ میں تمہیں معاف نہیں کر سکتا ۔جو یارم سے اس کی روح کو دور کرتا ہے یارم اسے کبھی معاف نہیں کرتا
وہ اپنی بات مکمل کر کے ایک بار پھر سے بیٹھ کر چکن کیوبز کے مزے لینے لگا ۔جب کہ اس کے حکم کے مطابق وہ تڑپ رہا تھا چیخ رہا تھا چلا رہا تھا لیکن معافی نہیں مانگ رہا تھا
°°°°°
