Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 43)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

تم سارا سامان دے آئے نہ شارف وہ سرخ آنکھیں لئے اس کی طرف دیکھنے لگی

تو شارف نے فوراً ہاں میں سر ہلایا

تم کب کام واپس جوائن کرو گی وہ اس کا دھیان بٹانے کے لیے پوچھنے لگا

میں کل سے واپس کام پہ آ جاؤں گی شارف لیکن کیا تمہیں پتہ ہے کہ یہ بلاسٹ کس نے کروایا ہے کوئی شک کوئی اندازہ وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی

شارف نے ایک نظر پیچھے صوفے پر بیٹھے خضر کو دیکھا جو اس کی بات پر بوکھلا کر پہلو بدل گیا

تم اس کے ساتھ کیا کرو گی لیلیٰ وہ آہستہ سے خضر کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا

وہی جو مجھے کرنا چاہیے شارف تمہیں نہیں لگتا کہ تمہیں اس طرح بےوقوفی بھرا سوال مجھ سے نہیں کرنا چاہیے

لیلیٰ تم ان کو چھوڑو انفارمیشن کے مطابق پتہ چلا ہے کہ گاڑی کو پہاڑی کی طرف لے کر جایا گیا تھا اور وہی پر اسے آگ لگا دی گئی تھی وہ بلاسٹ نہیں تھا

مجھے لگ رہا ہے کہ گاڑی کے پرزے کسی بہت ماہر انسان نے الگ کیے ہیں مجھے یہ بم بلاسٹ نہیں لگ رہا مجھے لگ رہا ہے کہ یہ کسی کی پلیننگ ہے گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے ایک فائل ٹیبل پر پھینک کر یارم لیلیٰ کو دیکھتے ہوئے بولا

کس کی پلاننگ ہے یہ ڈیول بتاؤ مجھے میں اسے چیڑکر رکھ دوں گی کس نے کیا ہے میری بیٹیوں کے ساتھ ایسا فائل کو اٹھائے وہ پاگلوں کی طرح دیکھنے لگی

خضر کی تو جان پر بنائی تھی

مجھے شام تک کا وقت دو لیلیٰ میں تمہیں سب بتاؤں گا اور یقین کرو مجرم تمہارے قدموں میں بیٹھ کر تم سے معافی مانگیں گے وہ صوفے پر ان دونوں کو گھورتے ہوئے بولا شارف نے بمشکل تھوک نگلا

نہیں وہ مجھے میرے قدموں میں نہیں بلکہ ان کی لاشوں کے ٹکڑے میں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتی ہوں یارم مجھے ان کی لاشیں دیکھنی ہیں جنہوں نے میری بچیوں کو جان سے مار ڈالا میں انہیں اپنی آنکھوں کے سامنے سانس لیتا ہوا نہیں دیکھ سکتی ڈیول انہیں مار کر میرے پاس لانا

لیلیٰ کے شدید انداز پر خضر صوفے سے اٹھ بیٹھا

لیلیٰ اس کی کوئی مجبوری بھی تو ہو سکتی ہے اس کے بے ساختہ کہنے پر شارف نے رکھ کر اس کے پیروں پر اپنا جوتا مارا

لیلہٰ نے حیرانگی سے اس شخص کو دیکھا تھا جو اپنی بیٹیوں سے بے پناہ محبت کا دعویٰ تو کرتا تھا لیکن بیٹیوں کی موت پر اس کی آنکھ سے ایک آنسو نہ گرا تھا

بیٹا ان کی مجبوریاں تو میں دور کروں گا اپنے سارے بہانے اور مجبوریاں لے کر شام 6 بجے آفس میں پہنچ جانا وہ ان دونوں کا کندھا تھپتھپاتے آہستہ آواز میں بولا مطلب یارم سب کچھ جان چکا تھا

خضر اور شارف ایک دوسرے کو دیکھنے لگے مطلب آج ان کی زندگی کا آخری دن تھا

لیلیٰ فائل چیک کر رہی تھی جس میں صاف لکھا تھا کہ اس جگہ کوئی بلاسٹ نہیں ہوا لیکن اگر بلاسٹ نہیں ہوا تھا تو مطلب اسکی بیٹیاں زندہ تھی ایک امید سی اس کے دل میں پیدا ہوئی

یارم اگر بلاسٹ نہیں ہوا تو اس کا یہ مطلب ہوا نہ کہ عنایت اور مہر ۔۔۔۔۔

آف کورس اس کا یہ مطلب ہوا کہ وہ دونوں زندہ ہیں اور ایک دن کے اندر وہ تمہارے پاس آئیں گی

کچھ نہیں ہوا تمہاری بیٹیوں کو اور نہ ہی اب میں کچھ ہونے دے گا تم لوگوں آفس میں ملو مجھے وہ ان دونوں کو گھورتا ہوا باہر نکل گیا

°°°°

تم نے تو کہا تھا کہ تم نے بہت اچھی پلاننگ کر رکھی ہے تو یارم کو پتہ کیسے چلا کیا پلاننگ کی تھی تم نے پہاڑوں پہ جاکے گاڑی کو جلا دیں گے اور اس سے کیا ہوگا سب کو لگے گا بم بلاسٹ ہوا ہے .واہ بھئی واہ۔یہ پلان تھا تمہارا یہ ۔۔۔۔۔؟

بے غیرت آدمی پلاننگ تو وہ کرتا جو یارم کی نظروں سے بچ جاتی۔ جس میں ہمارے زندہ بچنے کے چانسز ہوتے اگر نہیں تو سب کچھ یار م کو بتا دیتے وہ خود سنبھال لیتا وہ غصے سے بھرا ہوا اسے سنا رہا تھا

یہی تو مسئلہ ہے شارف اگر یارم کو بتاتا تو وہ اپنے طریقے سے سنبھال سکتا اگر لیلیٰ کو بتاتا وہ شیرنی اپنی بچیوں کی زندگی پر منڈاتا یہ خطرہ دیکھ کر پتہ نہیں کیا سے کیا کر دیتی

یہ لوگ مجھے دھمکی دے رہے تھے کہ اگر میں نے یارم کو جان سے نہیں مارا تو وہ میری بیٹیوں کو مار ڈالیں گے یارم کو میں مار نہیں سکتا اور اپنی بیٹیوں کو مرتےدیکھ نہیں سکتا۔وہ بھی تب جب میں ان لوگوں کو جانتا ہی نہیں

بہت سوچ سمجھ کر میں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ میں اپنی بیٹیوں کو سامنے سے ہٹا دوں گا صارم بھی ان لوگوں کے خلاف ثبوت ڈھونڈ رہا ہے ۔

اس کے بارے میں صارم کو پتہ چل گیا کیونکہ اس نے میرے موبائل فون پر ٹریسرلگایا تھا ۔

ان لوگوں نے گھر پر حملہ کیا ۔اس دن میں گھر پر نہیں تھا اگر لیلیٰ نہیں ہوتی تو آج شاید میں اپنی بچیوں کی موت پر آج سچ میں آنسو بہا رہا ہوتا

یار وہ لوگ صرف فون پر بات کرتے تھے مجھ سے وہ مجھے دھمکیاں دینے لگے کہ اگر میں نے یارم کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا تو وہ میری بیٹیوں کو جان سے مار ڈالیں گے اور اتنا ہی نہیں اسکول سے کڈنیپ کرنے کی کوشش کی گئی

دوسری طرف یارم کے سامنے مجھے خاموش رہنے کی دھمکیاں دی جارہی تھی صارم نے یہ ساری فون کال اپنے کانوں سے سن لی اور اس نے مجھے کہا کہ مجھے فلحال اپنی بچیوں کو منظر سے ہٹا دینا چاہیے

میں نے یہ سب صرف اس لئے کیا تھا کہ میں یہ جان سکوں کہ آخر وہ لوگ ہیں کون اور یارم کی جان کے پیچھے کیوں پڑے ہیں عنایت اور مہر کو سب کی نظروں میں مار کر مجھے لگا کہ میں ان لوگوں تک پہنچ جاؤں گا لیکن میں یارم کی نظروں میں آ گیا میں دنیا کے ہر انسان کو دھوکا دے سکتا ہوں لیکن یارم کی نظر سے نہیں بچ سکتا اور اب یارم مجھے زندہ نہیں چھوڑے گا

اور پتہ نہیں لیلیٰ ہمارا کیا حال کرے گی اس کی ادھوری بات کو شارف نے مکمل کیا

۔میں تو بس ان دونوں کے زندہ ہونے کی خوشی میں پاگل ہو گیا تھا مجھے کیا پتا تھا تم نے یہ ساری پلاننگ کی ہوئی ہے

اور ویسے بھی مجھے تو بس اتنا ہی پتا تھا نہ کہ وہ دونوں زندہ ہیں اس کے علاوہ تو تم نے مجھے کچھ کہا ہی نہیں

کچھ بتایا نہیں مطلب کہ میرے زندہ بچنے کے چانس ہیں

شارف معصومیت سے کہتا اسے دیکھ رہا تھا

خضر کا دل چاہا اس دو چہرے والے انسان کا منہ توڑ دے شارف تو اس بات پر یقین کرنے کے لیے پہلے تیار ہی نہیں تھا کہ اس کی بیٹیاں زندہ ہیں

اور شارف کو بتانے کا تو اس کو ارادہ نہیں تھا اس نے اسے اس لئے بتایا تھا کیونکہ لیلیٰ کو اکیلا چھوڑ کر وہ خود اپنی بیٹیوں سے ملنے نہیں جا سکتا تھا

تمہاری کتنی غلطی ہے یہ تو تمہیں یارم بتائیے گابیٹا اگر میں پھسا تو زندہ تو تم بھی نہیں بچو گے

میرا نام بھی خضر ہےبیٹا میں یارم اور لیلیٰ کو بتاؤں گا کہ اس پوری پلاننگ میں تو شامل تھا

تیرے جیسے دوست سے دشمن اچھے ہیں وہ دہائی دیتے ہوئے بولا

دوست کون دوست میرا شارف نام کا کوئی دوست نہیں یہاں کچھ دیر پہلے ایک دشمن بنا ہے اور ڈیول کی ٹیم دشمنوں کے ساتھ کیا کرتی ہے وہ تجھے یارم کےسامنے پتہ چلے گا وہ دھمکی لگاتا اٹھ کر باہر چلا گیا جہاں لیلیٰ غصے سے دائیں بائیں ٹہل رہی تھی بہت دنوں کے بعد اس کا پرانا روپ سامنے آ رہا تھا

شیرنی اپنے شکار کے لیے تیار بیٹھی تھی اس وقت شاید وہ آفس جانے کی تیاری کر رہی تھی

تم اس وقت کہاں جا رہی ہو ۔۔؟وہ اس سے کوئی سوال نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن وہ اس کے غصے کا گرا ف چیک کرنا چاہتا تھا کہ پتہ تو چلے کہ زندہ بچنے کے چانس ہیں یا نہیں شاید اسے اپنی بیٹیوں کا باپ سمجھ کر زندہ چھوڑہی دے

خضریارم نے کہا ہے کہ وہ مجھے سب کچھ بتائے گا لیکن فی الحال اس نے مجھے کچھ بتایا نہیں تو سوچا خود ہی آفس جا کے چیک کر آتی ہوں کیونکہ اس فائل میں تو صرف گاڑی کی تصویریں ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ کسی بہت ماہر مکینک نے اس کے پرزے الگ کئے ہیں ۔لیکن اب میں اس کے پرزے الگ الگ کروں گی

کیونکہ ایک بلاسٹ کے بعد جو حالت گاڑی کی ہونی چاہیے وہ تو اس کی ہرگز نہیں ہے چلو تم بھی یارم تمہیں بھی بلا رہا تھا اور شارف کو بھی چلنے کا کہو ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے

یار م نے تم سے کیا کہا کہ کیا وہ جانتا ہے کہ وہ لوگ کون ہیں اپنے سر پر لٹکتی تلوار کا سوچ کر کمرے سے نکلتے شارف نے پوچھا

نہیں یہ تو نہیں پتا لیکن یارم نے صارم کو آفس میں بلایا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ ہماری کچھ مدد کرے لیلیٰ کہتے ہوئے اپنے جوتے پہن چکی تھی

بیچارہ صارم لیلیٰ یہ سوچ رہی تھی کہ یار م نے صارم کو مدد کے لئے بلایا ہے وہ تو جانتی ہی نہیں تھی کہ آج کی تاریخ میں دو نہیں تین جنازے اٹھنے والے ہیں

اے اللہ ان ظالموں کے دل میں ہمارے لیے رحم ڈال د ے آج بچالے آئندہ کبھی ایسی حرکت نہیں کریں گے لیلیٰ کو باہر نکلتے دیکھ کر شارف نے پوری شدت سے دعا کی جس پر اس شدت سے آمین خضر کی جانب سے آیا تھا

°°°°°

یارم آفس جانے سے پہلے گھر آیا تھا دو دن سے رویام کو بخار تھا پہلے ہلکا پھر تیز پھر ہلکا اور روح بتا رہی تھی کہ اب پھر تیز ہو گیا ہے

وہ صبح ہی اسے ہوسپٹل لے کرجانے ولا تھا لیکن اسے شارف اور خضر کے کارنامے کا پتہ چل گیا

وہ کچھ دن سے کافی ڈل ڈل لگ رہا تھا یارم نے گھر آتے ہی سب سے پہلے اس کو دیکھا تھا وہ جاگ رہا تھا لیکن پھر بھی بنا شرارتوں کے آرام سے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا

جس کا مطلب تھا کہ وہ زیادہ بیمار ہے

میرا شیطان اتنا خاموش کیوں ہے وہ اسے اپنی باہوں میں اٹھاتا پیار سے اس کا ماتھا چوم کر پوچھنے لگا

مدھے پھیور ہے (مجھے فیور ہے )وہ ننھا سا ہاتھ اپنے ماتھے پر مارتا اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے بتانے لگا

فیور کی کیا مجال جو میرے بیٹے کو ہو جائے چلو جلدی سے بولو اپنے فیور کو کہ اپنے گھر جائے ہمیں نہیں چاہیے اس کے انداز پر مسکراتے ہوئے یارم نے اسے اپنے سینے سے لگا کر کہا

نہیں جا رہا ۔۔وہ معصومیت سے منہ بسور کر بولا جبکہ روح کے کمرے میں آنے پر فورا یارم کے سینے میں چھپ گیاجو اس کےلیے دوائی لے کر آئی تھی

رویام بیٹا دیکھو میں ساتھ میں چاکلیٹ بھی لائی ہوں یہ گندی کڑوی سے دوائی پی کر آپ ساتھ میں میٹھی چاکلیٹ کھاؤ تو آپ جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ گے وہ اسے پیار سے بہلاتے ہوئے بولی

میں صرف چاکلیٹ کھاؤں گا وہ منہ بنا کر بولا

لیکن چاکلیٹ کوئی دوائی نہیں ہے ٹھیک ہونے کے لیے تمہیں میڈیسن لینی ہوگی ورنہ ڈاکٹر انکل آپ کو انجکشن لگائیں گے وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی جب اگلے ہی لمحے وہ بیڈ پر کھڑے ہو کر انکارکرنے لگا

میں تو ایک دم ٹھیک ہوں۔۔۔ دوائی کی ضرورت نہیں

لیکن اس کا ننھا سا وجود اگلے ہی لمحے بیڈ پر گر گیا تھا اگر یارم اسے بروقت نہ تھامتا وہ تو یقینا چکر کھا کر زمین پر گر جاتا

رویام میری جان آپ ٹھیک نہیں ہیں اور یہ میڈیسن آپ کو لینی ہوگی اور مجھے ضروری کام ہے میں وہ نپٹا کے آؤں گا پھر ہم اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر چلیں گے

یارم کہہ کر اسے زبردستی دوائی کھلانے لگا رویام رونے لگا تو اسے چوم کر روح کی گود میں ڈال کر وہ اسے سمجھاتے ہوئے کہنے لگا

جبکہ روح اس کا روتا ہوا وجود اپنے سینے سے لگا کر اسے چپ کروانے کی کوشش کرنے لگی جانتی تھی کہ وہ اسے دوائی نہیں کھلا پائے گی کیونکہ وہ رویام کو اس طرح روتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی لیکن یارم اس کے رونے کی فکر کرتے ہوئے اس کی صحت پر کبھی رسک نہیں لیتا تھا اور اس وقت بھی اس نے ایسا ہی کیا تھا

رویام کو دوائی کھلا کر وہ خضر اور شارف کا حساب کرنے جارہا تھا

اپنے جارحانہ انداز سے رویام کو دوائی کھلانا اسے بھی اچھا نہیں لگا تھا لیکن یہ اس کے لیے ضروری تھا روح کو اس کا خیال رکھنے کا کہتا وہ اپنے آفس چلا گیا اب نہ جانے اسے چپ کروانے میں روح کو کتنا وقت لگا تھا

°°°°

°خضر صاحب لیلیٰ کی بچیاں کہاں ہیں۔۔۔۔؟ وہ انتہائی غصے سے پوچھنے لگا ۔

یارم یار کیا ہوگیا ہے تمہیں مہر اور عنایت میری بھی بچیاں ہیں میں باپ ہوں ان کا ان کے ساتھ کچھ برا نہیں ہونے دوں گا خضر نے سمجھاتے ہوئے کہا

میں نے پوچھا لیلیٰ کی بچیاں کہاں ہیں خضر ۔۔۔؟وہ ایک زوردار مکا اس کے منہ پر مارتے ہوئے پھر اسی انداز میں بولا

میرے پاس ہیں اور بالکل ٹھیک ہے خضر نے اپنا منہ صاف کرتے ہوئے بتایا جہاں سے اس کے حملے کی وجہ سے خون بہنے لگا تھا

میں نے کہا ۔کہاں ہیں ۔۔۔۔۔! وہ ایک بار پھر سے اس کا کلر پکڑ کر اپنے سامنے کرنے لگا جب وہ بول اٹھا

تمہارے فارم ہاؤس پر میری اور شفا کے پاس وہ فورا بولا

مطلب کے اس سب میں وہ دونوں بھی شامل ہیں ۔۔۔۔؟ یارم نے بےیقینی سے کہا وہ اس کی وفادار ساتھی تھیں ۔ان سے یارم کو ایسی امید نہیں تھی

نہیں وہ تو ہمارا ساتھ دینے کے لیے تیار ہی نہیں تھیں لیکن میں نے ان کی مینتں کی اور کہا کہ یارم کو سب کچھ پتہ ہے تب جا کر انہوں نے ہماری مدد کی صارم نے کسی طوطے کی طرح یاد کیا ہوا سبق سنایا۔آج وہ بھی اس لیسٹ میں تھا ۔

جس میں خضر اور شارف تھے۔

اور آج اس کی وردی بھی کسی کام کی نہیں تھی ۔

مطلب کے تم لوگوں نے مجھے علم میں لائے بغیر میرے ہی لوگوں کو استعمال کیا ۔۔۔؟اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا ڈنڈا پوری شدت سے صارم کی پشت پر مارتے ہوئے اسے چلانے پر مجبور کر کے یا رم نے پوچھا

غلطی ہوگئی معاف کردو وہ لوگ ہمیں دھمکیاں دے رہے تھے کہ اگر ہم نے تمہیں کچھ بھی بتایا تو وہ لوگ عنایت اور مہر کو جان سے مار ڈالیں گے وہ لوگ سکول بھی گئے تھے عنایت مہر کو کڈنیپ کرنے کے لئے لیکن وہاں اسکول کے گارڈ نے ان کو بچا لیا

اور فورا ہی مجھے فون کر کے بتایا کہ وہاں میری بچیوں کو کڈنیپ کرنے کی کوشش کی گئی ہے میں وہاں سے ان کو لے کر تو آیا لیکن دل میں ایک ڈر بیٹھ گیا تھا کہ کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے

وہ لوگ صرف مجھ سے فون پر بات کر رہے تھے یارم وہ کون تھے میں نہیں جانتا لیکن صارم کو شک تھا کہ چھ مہینے پہلے جیل سے چھوتےہوئےلوگ جو پاکستان سے یہاں لڑکیاں لائے تھے جن میں تمہارے گھر آئی وہ مہمان حورم مقدم شاہ شامل تھی وہ لوگ ہیں

وہ بہت خطرناک لوگ تھے یارم اور ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے جو ٹھیک لگا وہ میں نے کردیا

میں اپنی بیٹیوں کے لیے تمہیں دھوکا نہیں دے سکتا تھا اور نہ روح کی زندگی کی خوشیاں چھین سکتا تھا

وہ مجھے دھمکی دے رہے تھے کہ مجھے تمہیں اپنے ہاتھوں سے مارنا ہوگا میں نہیں جانتا تھا کہ میں اپنی بیٹیوں کی جان بچا سکوں گا یا نہیں لیکن تمہارے ساتھ غداری نہیں کر سکتا میں

ان لوگوں کے بارے میں جاننے کے لیے میں نے اپنی بیٹیوں کو منظر سے ہٹا دیا

خضر نے اسے پوری بات بتائی

صارم کا شک بالکل ٹھیک تھا یہ وہی لوگ تھے جو چھ مہینے پہلے پاکستان سے دبئی لڑکیاں لائے تھے اور یارم نے ان کے کام کو ناکام بنا دیا تھا اور اب وہ لوگ یارم کو جان سے مار کر اپنا بدلہ لینا چاہتے تھے جس کے لیے وہ خضر کو استعمال کر رہے تھے ۔

ان کے بوس کے یارم نے اتنے ٹکڑے کیے تھے کہ شاید ہی اس کی لاش مکمل کسی کو مل پاتی لیکن اس کے سارے پارٹ جمع کرکے ایک شاپر میں ڈال کے وہ صارم کے گھر کے باہر رکھا گیا تھا

اور وہاں پر موجود باقی سارے لڑکےاپنی جان بچانے کے لئے وہاں سے بھاگ گئے تھے اس گینگ کے اوپر بھی ایک گینگ تھا جو کسی اور کا نہیں بلکہ اس کے بھائی کا تھا وہ لوگ گرین گینگ کے نام سے جانے جاتے تھے ۔اور اب وہ گرین گینگ یارم کو مارنے کی پلاننگ کر رہا تھا یہ ساری باتیں وہ ان تینوں کو بتائے بغیر دو دن میں جان کر آج ان کی کلاس لے رہا تھا

جب لیلیٰ نے کمرے میں قدم رکھا۔

آو لیلیٰ یہ رہے تمہارے مجرم اپنی بیٹیاں تم ان تینوں سے مانگو وہ کہہ کمرے باہر نکل گیا اب لیلیٰ جانے اور وہ تینوں۔۔

وہ تینوں لیلیٰ کو خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہے تھے

°°°°°°

باہر نکلتے ہی اسے روح کا فون آیا

روح اسے بہت کم فون کرتی تھی ۔اس نے فورا فون اٹھایا

رویام کی طیبیت زیادہ خراب ہو گئی تھی۔اسے بخار میں جھٹکے لگ رہے تھے ۔جس کی وجہ سے روح بہت پریشان تھی

روح فون پے جذباتی ہو رہی تھی۔

یارم اسے ابھی گھر پہنچنے کا کہتا اپنی گاڑی کی طرف آیا

جبکہ پورے آفس میں خضر شارف اور صارم کی چیخیوں کی آوازیں گھوج رہی تھی۔

ان کا تو آج اللہ ہی خافظ تھا

°°°°°