Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 54)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 54)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
مبارک ہو آپریشن کامیاب ہو گیا ہے ۔کچھ دیر میں رویام کو روم میں شفٹ کر دیا جائے گا ہمارا رویام اب ٹھیک ہے حسن نے بہت خوشی سے ان سب کو یہ خوش خبری دی تھی ۔اور یارم کو گلے سے لگا۔
لیلیٰ تو خوشی سے خضر کے اوپر ہی چڑھ گئی تھی۔
چلوشارف پہلے صدقہ دیتے ہیں پھر رویام سے ملے گئے۔معصومہ نےاسے یاد دلایا۔
تو وہ ہاں میں سر ہلاتا یارم سے پوچھ کر چلا گیا۔
روح شکرانے کے نوافل ادا کرنے جا چکی تھی۔
اچھاحسن وہ کیسا ہے ۔یارم نے درک کا پوچھا۔
یار وہ ٹھیک نہیں ہے میرا مطلب اس کو پہلے ہی گولیاں لگی تھی اور پھر بون میرو دینا ۔یہ ایک بہت خطرناک آپریشن تھا صرف رویام کے لیے ہی نہیں بلکہ درک کے لیے بھی۔ابھی اسے ہوش نہیں آیا ۔دعا کرو اس کی کمر کی ہڈی آپریشن سے متاثہ ہوئی ہو۔ورنہ شاید وہ کبھی اپنے پیروں پر نہیں چل سکے گا۔حسن نے یارم کو درک کی ساری کنڈیشن بتائی ۔تو یارم کو افسوس ہوا تھا۔
وہ آج جس حالت میں تھا اس کے بیٹے کی وجہ تھا۔
ویسے اسے گولیاں کس نے ماری یارم نے سوال کیا۔
وہ سٹہ کھلتا ہے اور یہ اس کا پیشہ ہے ۔کالی زبان ہے اس کی لگا لی ہوگی دشمنی اسے انسان کو کچھ بھی ہوسکتا ہے چھوٹے سے چھوٹے گینگ سے لے کر بڑے سے بڑا گنیگ دشمن ہوتا ہے اس کا اسے لوگوں کے ساتھ کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
وہ سعودیہ گیا تھا پری کی بیماری کا پتہ کرنے وہاں بھی اس کے بہت سارے گینگز کے ساتھ چھتیس کا اکڑا ہے کسی کی نظر میں آ گیا ہو گا۔سب دعا کرو ٹھیک ہوجائے ۔
اس لڑکی کو کیا ہے۔یارم نے پوچھا۔
اس کا خون جم جاتا ہے چھ ماہ پہلے وہ برف کے طوفان میں پھنس گئی تھی۔اسے فوبیا ہے جب بھی اسے وہ سب یاد آتا ہے ۔ڈر سے اس کا خون جمنے لگاتا ہے۔
اور پھر وہ ڈر اس کی سانسوں پر حاوی ہوجاتا ہے۔اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے ۔اس کا ڈر اسے کی جان بھی لے سکتا ہے
جب یہ ڈر اس پے حاوی ہوتا ہے ۔تو اس کا سارا جسم کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔
اس کے علاج کے لیے اس کا یہ ڈر ختم کرنا ہوگا ۔اور درک اسی سلسلے میں سعودیہ گیا تھا ۔وہاں اسے پر حملہ ہوگیا اور وہ بےچارہ ١٢ دن تک زندگی اور موت کی جنگ لڑتا رہا۔
ہوش میں آتے ہی وہ رویام کےلیے واپس آگیا۔کیونکہ وہ رویام کے سرجن کو پہلے ہی بتا گیا تھا کہ وہ دو تین دن میں واپس آ جائے گا لیکن اس حادثے کی وجہ سے نہ آ سکا ۔
آج ہی ڈاکٹر امن نے مجھے یہ بات بتائی ۔
وہ بہت مشک سے وقت پر رویام کے لیے واپس آیا ہے ۔ہم اس کنڈیشن میں آپریشن نہ کرتی لیکن رویام کی زندگی کو خطرہ تھا ۔
شکر ہے سب ٹھیک ہے اب بس درک بھی ٹھیک ہو
امین ۔یارم نے بےساختہ کہا تھا
وہ صر اس کے بیٹے کے لیے واپس آیا تھا اس کا جانا اس کی مجبوری تھی۔ورنہ شاید وہ یارم کو جھکنے کا بھی نا کہتا۔شاید وہ اچھا بننا ہی نہیں چاہتا تھا ۔
اسے خود سے جڑے رشتوں سے محبت تھی لیکن وہ ظاہر نہیں ہونے دیتا
بہت الگ تھا وہ لیکن یارم کو آج پہلی بار وہ بہت اچھا لگا تھا ۔اس کے لئے بھی یہ رشتے بہت اہمیت رکھتے تھے آج اپنے انداز اس نے یہ بات ثابت کر دی تھی
°°°°°°
روح دوکشم یہاں دوسرے میں بہت بری حالت میں ہے ہمہیں ایک بار اس سے ملنا چاہیے یارم نے اس سے آکر کہا
مجھے نہیں لگتا یار م کہ ہمیں وہاں جانا چاہیے شارف بھائی اور خضر ماموں کہہ رہے تھے کہ اس نے یہ سب کچھ اس لئے کیا ہے کیونکہ آپ نے اس کی بیوی کی زندگی بچائی ہے مطلب اس نے آپ کا احسان اتارا ہے
اور مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے وہاں جانے سے ان کو ذرا بھی خوشی ہوگی ۔انہیں نےہمارے لئے جو کیا ہے وہ ہم بھلا نہیں سکتے لیکن میرا نہیں خیال کہ ہمیں بار بار ان کے سامنے جانا چاہیے روح نے انکار کرتے ہوئے کہا تویارم کو آج پہلی بار کی یہ بات اچھی نہیں لگی تھی
کوئی انسان دوسرے انسان پر کوئی احسان نہیں کر سکتا روح نہ تو میں نے کوئی احسان کیا ہے اور نہ ہی اس نے کوئی احسان کا بدلہ چکا ہے
فی الحال تو وہ جانتا بھی نہیں ہے کہ میں نے اس کی بیوی کی زندگی بچائی ہے وہ یہاں ہمارے رویام کے لئے واپس آیا ہے اسے بچانے کے لیے آیا ہے
وہ رویام کے سرجن کو پہلے ہی بتا چکا تھا کہ وہ دو دن میں واپس آ جائے گا لیکن وہاں اس پر حملہ ہوگیا جس کی وجہ سے بارہ دن تک وہ بے ہوش رہا ہ صرف رویام کے لئے واپس آیا اتنی بری کنڈیشن میں اسے بون میرو ٹرانسپلانٹ کیا
تم اندازہ بھی لگا سکتی ہو کہ اگر اس آپریشن میں اس کی ریڈھ کی ہڈی پر ذرا بھی افیکٹ ہوا تو وہ ساری زندگی اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکے گا لیکن اس کے باوجود بھی اس نےرویام کی زندگی بچانے کے لئے اپنی زندگی کی پروا نہیں کی
وہ برا بننے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس کا دل اسے برا بننے نہیں دے رہا ۔میرے خیال میں ہم دونوں کو چلنا چاہیے اس سے ملنے کے لیے
اور اگر انہوں نے ہم سے ملنے سے منع کر دیا یارم تو کیا ہوگا ۔
کچھ رشتوں کی شروعات خود کرنی پڑتی ہے روح ۔ہمیں رشتوں کا احساس دلانا پڑتا ہے وہ تمہارے بابا کی ناجائز اولاد ہو سکتا ہے لیکن تمہارا ناجائز بھائی نہیں ہو سکتا ۔
اس نے رویام کو بون میرو اس لیے نہیں دیا
کیونکہ وہ میرا کوئی احسان اتارنا چاہتا تھا بلکہ اس نے رویام کو بون میرو اس لئے دیا ہے کیونکہ وہ تمہارا بیٹا ہے تم اہم ہواس کے لیےروح
یارم نے اسے سمجھایا تو روح نے ہاں میں سر ہلایا کچھ کہنے کو الفاظ تھے ہی نہیں
پتہ نہیں وہ کس طرح سے ریکٹ کرے گا ان دونوں کے وہاں جانے پر لیکن یارم کی بات غلط نہیں تھی وہ اس کا بھائی تھا اور وہ اسے اس بات کا احساس دلانے کے لیے تیار تھی وہ اس کے باپ کا نام جائز بیٹا تو ہو سکتا تھا لیکن اس کا ناجائز بھائی نہیں
°°°°°°°
وہ دونوں درک کے کمرے کے باہر کھڑے تھے اسے ہوش آ چکا تھا ۔لیکن فی الحال وہ کسی سے بھی ملنے کے موڈ میں نہیں تھا
اندر کمرے میں اس کے ساتھ اس کی بیوی اور شاید چاچا تھے
اس نے آہستہ سے دروازے کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھ کر دروازہ کھولا تو بیڈ پر پری کو اس کے سینے سے لگے آنسو بہاتے دیکھا ان دونوں کے اچانک آنے پر بہت اچھی خاصی شرمندہ ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی
پھر اپنی شرمندگی ایک طرف رکھ کر بتانے لگی دکش میں انہیں کے بارے میں بات کر رہی تھی انہوں نے ہی مجھے بچایا ہے ۔
اوراب سے یہ میرے بھائی ہیں۔۔۔یہاں ہسپتال میں ان کا بیٹا ایڈمنٹ ہے ۔اللہ اس کو شفا دے۔۔۔اور آپ تو میرے رومی کی مما ہیں نا میں اور رومی مل چکے ہیں یہی ہسپتال کے روم میں اس کو ڈرپ لگی تھی اس نے آپ کو نہیں بتایا میرے بارے میں بے وفا صنم اپنی دوست پری کا نام بھی نہیں دیا ہوگا اس نے
اور روح کو دیکھ کر بولی تو یارم نے مسکرا کر اسے دیکھا
ہمارے بیٹے کا آپریشن ہو گیا ہے اور ماشاء اللہ سے کامیاب بھی رہا ہے ۔اور بے فکر رہو اس نے مجھے تمہارے بارے میں سب کچھ کھروس بیان قید کر رکھا ہے نہ فکر نہ کرو میں تمہیں بچا لوں گا یارم نے بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ ڈمپل کی نمائش کی ۔
پری کو یاد تھا درک نے کہا تھا کہ رومی کا باپ بہت مغرور انسان ہے وہ اس سے بون میرو لینا ہی نہیں چاہتا لیکن پری کو تو یارم ایسا بالکل نہیں لگا تھا خیر وہ پرانی باتیں تھی ان سب کو دہرانے کا کوئی فائدہ نہ تھا اب حقیقت تو یہ تھی کہ وہ اس کا مسیحا تھا
فی الحال تو ہم تمہارے شوہر کا شکریہ ادا کرنے آئے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا بیٹا زندہ ہے ۔اگر یہ وقت پر رویام کو بون میرو نہ دیتا تو شاید ہم اسے کھو دیتے یارم نے نرمی سے دیکھتے ہوئے کہا تو پری نے خوشگوار حیرت سے درک کی جانب دیکھا
کیا سچ میں آپ نے رومی کو بچایا ۔۔۔۔
میرا رومی اب بالکل ٹھیک ہے
ہائے میں کب ملوں گی اپنے رومی بے بی سے
وہ یہ اسپتال میں ہی ہے تو میں دوڑکر مل اؤں وہ درک کو دیکھتے ہوئے اجازت مانگ رہی تھی
ہاں وہ ہسپتال میں ہے تم جا کر اس سے ملو وہ در کو دیکھتے ہوئے جواب بولا تو دور تک نے گھور کر یار خود دیکھا تھا یہ ٹھیک ہے نا اس کی نظریں کہہ رہی تھی کہ تم کون ہوتے ہو میری بیوی کو اجازت دینے والے
ارے درک اتنا بھی کیا پریشان ہونا وہ میری بہن ہے رشتے میں اتنا حق تو بنتا ہے میرا یارم کے انداز میں ایک مان تھا جیسے محسوس کرکے پری مسکرا ئی
اچھا ٹھیک ہے آپ لوگ باتیں کریں میں جا رہی ہوں اپنے رومی کے پاس وہ ان دونوں کی باتوں کو نہ سمجھتے ہوئے باہر بھاگ گئی تھی ایک تو ویسے بھی اسے بورنگ قسم کی باتیں پسند بھی نہیں تھی ۔
اسے تو بس رو یام کی باتیں پسند ہیں جنہیں سمجھنے اور سننے میں اسے بے حد مزہ آتا تھا
°°°°°
میرے خیال میں آپ تم لوگوں کو بھی یہاں سے چلے جانا چاہیے اس کا انداز بہت لیا دیا تھا
ہم آپ کا شکریہ ادا کرنے آئے ہیں روح نے دو قدم آگے بڑھاتے ہوئے کہا تو آج پہلی بار اس نے اسے اتنے غور سے دیکھا تھا
میں نے یہ صرف اس لئے کیا ہے کیونکہ تمہارے شوہر نے میری بیوی کی جان بچائی ہے اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں تھی وہ بہت سرد انداز میں بولا
جبکہ روح اور یارم دونوں جاتے تھے کہ بات اسے ابھی پتا چلی ہے
تو میں نے کب کہا کہ میں اس بات کا شکریہ ادا کرنے آئی ہوں میں تو اور کسی بات کا شکریہ ادا کرنے والی تھی روح نے مسکرا کر کہا تو اس نے ایک نظر اس سے دیکھا نہ جانے کیوں وہ اس سے نظریں چرا رہا تھا
بچپن میں جب میں چار سال کی تھی ہمارے گھر میں آگ لگ گئی تھی اور میں جانتی ہوں اس حادثے مجھے بچانے والے آپ نے ہی بچایا تھا میں اس دن کا شکریہ ادا کرنے آئی ہوں
بچپن سے لے کر جوانی تک ہمیشہ ایک مضبوط کا حصار میری گرد دکھنچنے کے لئے میں آپ کا شکریہ ادا کرنے آئی ہوں
اس دن کے یارم کے دشمن راشد نے مجھے قبر میں دفنا دیا آپ نے یارم کو فون کر کے بتایا کہ میں کہاں ہوں میں اس دن کا شکریہ ادا کرنے آئی ہوں
آپ نے مجھے شونو جیسا دوست دیا میں اس کے لئے آپ کا شکریہ ادا کرنے آئی ہوں
آپ نے سوئزرلینڈ میں میری جان بچائی میں اس کے لئے بھی آپ کا شکریہ ادا کرنے آئی ہوں
ہمارا رشتہ قبول نہ کرتے ہوئے بھی ہمیشہ بھائیوں کی طرح میری حفاظت کرنے کے لئے میں آپ کا شکریہ ادا کرنے آئی ہوں ۔
اور رویام کو بچا کر آپ نے کوئی احسان نہیں کیا ہم پر ماموں کا فرض ہوتا ہے
اللہ آپ کو صحت یاب کرے ۔وہ اس کے بالکل قریب کھڑی آنسو بہا رہی تھی لیکن وہ خاموشی سے بنا کوئی تاثر دیے اسے یوں نظر انداز کر رہا تھا جیسے وہ اس سے بات ہی نہ کر رہی ہو
پھر اس نے آہستہ سے جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور خاموشی سے باہر نکلنے لگی
میں نے تمہارے لئے کبھی بھی کچھ بھی نہیں کیا سمجھیں تم اور تم سے میرا کوئی رشتہ نہیں ہے میری حقیقت یہ ہے کہ میں گندی نالی کا ایک کیڑا ہوں تمہارے باپ کی ناجائز اولاد ہوں میرا کوئی وجود نہیں ۔
اور کسی بھی عزت دار شخص کو مجھ سے رشتہ رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں اس کے الفاظ نے روح کے قدم دروازے پر ہی روک دیے تھے وہ مڑ کر اسے دیکھنے لگی ۔وہ اس سے کوئی بحث نہیں کرنا چاہتی تھی
آپ میرے بھائی ہیں اور یہ بات مجھے آپ سے پوچھنے کی یا آپ کو یاد دلانے کی ضرورت نہیں چلیں یارم رویام اپنی مامی کو تنگ کر رہا ہوگا ۔روح نے مسکرا کر کہا تو یارم بھی اس کے ساتھ بآہر آ گیا۔
وہ خاموشی سے دروازے کودیکھ رہا تھا اس کی آنکھیں مسکرا رہی تھی لیکن چہرہ بے تاثر تھا
°°°°°
