Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 5)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 5)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
روح بےبی آج تم سو کیوں نہیں رہی ۔۔۔۔؟
مجھے نیند نہیں آرہی یارم
اور یہ نیند کیسے آئے گی اس نے دلچسپی سے پوچھا
کوئی اچھی سی فلم دیکھ سکتے ہیں اس نے آئیڈیا دیا
بہت بُرا آئیڈیا ہے جانےمن کیوں کہ اب تمہیں سو جانا چاہیئے پہلے ہی بہت وقت گزر چکا ہے ۔یارم نے اس کے آئیڈی پر نظرثانی کیےبغیر اپنا فیصلہ سنایا تو وہ منہ بنا گئی
کیسے بورنگ انسان ہیں آپ مجال ہے جو ذرا سے اپنے ہول سے باہر نکل آئیں
ہر وقت اتنی سیریل شکل بنا کے رکھتے ہیں آپ کا تو ڈمپل بیچارہ بھی سوچتا ہوگا کہ کس کے متھے لگ گیا ہوں سوری متھےنہیں گال ۔۔۔۔۔
وہ اپنی بات کی درستگی کرتے ہوئے بولی
جس پر یارم ذرا سا مسکرایا تھا
اور روح کو پھر سے اس کے ڈمپل پر چوٹ کرنے کا موقع مل گیا۔۔
لو جی شروع ہو گئی پھر سے نمائش یا اللہ مجھے ایک پیارا سا بچہ دی جس کے گال پہ ایسا ہی ڈمپل ہو اور وہ دل کھول کھول کر مسکراتا ھو
ان کی طرح کنجوس نہ ہو وہ دل سے دعا کرتے ہوئے آسمان کی جانب دیکھنے لگی
یا اللہ مجھے ایک پیارا سا بچہ دیکھتا کہ اس کتے سونو کو اولاد نہ بنانا پڑے اور ہاں پیارے اللہ میری بیوی بہت معصوم اور جھلی ہے اس کی بات ماننے کی بالکل ضرورت نہیں ہے ہمیں کوئی ڈمپل والا بچہ نہیں چاہیے
ہمارے گھر میں ایک ہی ڈمپل والا انسان کافی ہے وہ اسی کے انداز میں شرارت سے دعا مانگنے لگا
جس پر روح اسے گھور کر دیکھنے لگی
نہیں اللہ جی ان کی بات مت سنئیے گا ان کو تو کچھ پتہ ہی نہیں ہے مجھے ڈمپل والا بچہ چاہیے وہ بھی ان سے زیادہ خوبصورت تاکہ پھر یہ اس سے جل جل کرسڑ جائے ۔
اور ہاں میرا بچہ ہستو ہونا چاہیے ہر وقت مسکراتا رہے اور ہر وقت اس کا ڈمپل چمکتا رہے وہ خیالوں کی دنیا میں اپنے بچے کے نقوش میں کھوئی ہوئی تھی
۔جب کہ یارم اس کے چہرے پر پیاری سی مسکراہٹ دیکھ رہا تھا
ہاں ہاں بےبی پہنچ گئیں تمہاری دعا اللہ کے پاس اور اللہ نے تمہارا خواہش نامہ سن بھی لیا اب سو جاؤ یار
یارم نے اسے خیالوں کی دنیا سے باہر نکالتے ہوئے کہا
۔اف یارم سکون سے دعا بھی نہیں مانگنے دینا مجھے بس ہر وقت لڑتے ہی رہا کریں
وہ بیڈ پر لیٹتے ہوئے منہ بسورے بولی
اتنی دعائیں تو مانگ چکی ہومجھے بھی تو مانگ مانگ کر ہی حاصل کیا ہے اب کیا یہ ڈمپل والے بےبی کی دعا آج رات پوری بھی کروانی ہے
چلو جلدی سے سو جاؤ بہت وقت گزر چکا ہے ۔وہ اس کے اوپر کمبل تھیک کرتے ہوئے اسے زبردستی سلانے کی کوشش کر رہا تھا
۔آپ سے اچھا تو میرا شونو ہے کم از کم مجھے زبردستی سونے پر مجبور تو نہیں کرتا بس ایک بار ٹھیک ہو جاؤں میں پھر دیکھئے گا آپ منتیں کریں گے میری
روح جاگتی رہی ہو تب میں بھی سوتے رہوں گی وہ دھمکی دینے والے انداز میں بولی ۔ڈارلنگ تم بس ایک بار ٹھیک تو ہو جاؤ پھر جو میں کروں گا تمہارے ساتھ وہ تم ساری زندگی یاد رکھو گی ۔اس بیماری میں جتنا تنگ تم نے مجھے کیا ہے نہ اس سب کا حساب تمہیں دینا ہوگا
۔لیکن فی الحال تم سو جاؤ باقی باتیں کل صبح کریں گے کل کا سارا دن تمہارے نام کہیں نہیں جاؤں گا میں اس کا ماتھا چومتے ہوئے محبت سے بولا تو روح نے ایک بار پھر سے اسے گھورا ۔
کوئی احسان نہیں کر رہے آپ مجھ پر جانتی ہوں میں کل آپ نہیں جائیں گے آفس کیوں کہ کل سنڈے ہے ۔کہہ تو ایسے رہے ہیں جیسے میرے روکنے پر رک رہے وہ کمبل ٹھیک کرتی اس سے مزید لڑنے کا ارادہ ترک کر چکی تھی
جبکہ اس کے انداز پر یار م بھی مسکراتے ہوئے اس کا سر زبردستی اپنے سینے پر رکھ کر سونے کی کوشش کرنے لگا
°°°°°°°
یارم کی آنکھ کھلی تو وہ اس کے بالکل پاس اس کے سینے پر سر رکھے گہری نیند سو رہی تھی
اس کے چہرے پر انتہا کی معصومیت تھی
جس پر یارم کو بے پناہ پیار آ رہا تھا
۔اور اسے اپنے اس حد تک قریب دیکھ کر اس کے دل میں خواہشات اور جذبات کا سمندر اٹھ رہا تھا
۔وہ اپنے جذبات پر لگام کھینچتا ہے اس کے قریب سے اٹھنے ہی لگا تھا کہ روح نے اپنا سر مزید اس کے سینے میں چھپاتے ہوئے اسے اپنے قریب سے اٹھنے نہ دیا
ایسی حرکت وہ کبھی بھی ہوش میں نہیں کر سکتی تھی یقینا وہ سو رہی ہوگی
یارم نے ایک نظر اس کے چہرے پر دیکھا ۔وہ گہری نیند میں تھی یارم نے اس کا ہاتھ اپنے سینے سے ہٹایا تو اسے اپنے قریب سے اٹھتے پاکر روح نے اپنا ہاتھ اس کے گرد پھیلا لیا
وہ یارم کے لیے ایک امتحان بن رہی تھی اب یارم کے لئے جانا مزید مشکل ہو گیا تھا وہ جینا اس سے دور رہنے کی کوشش کرتا تھا وہ اسے اتنا ہی اپنی جانب کھینچتی تھی
اس نے مشکل سے روح کا پھیلایا ہوا بازو اٹھاتے ہوئے اس کا سر تکیہ پر رکھنا چاہا لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنا کام ختم کر کے اس کے قریب سے اٹھتا روح کی آنکھ کھل گئی
اسے خود پر جھکے پا کر جہاں اس کی نگاہیں جھکنے لگی تھی وہی اس کی شرم و حیا پہلے دن کی طرح برقرار اسے روح سے دور ہونے نہیں دے رہی تھی ۔اس کا اپنا دل بے ایمان ہونے لگا تھا
اس نے نرمی سے روح کی آنکھوں کو اپنے لبوں سے چھوا تو اس کے چہرے پر ایک شرمیلی سی مسکراہٹ پھولوں کی طرح کھلی تھی
۔گڈ مارننگ میری جان یار م اس کے ماتھے پر مہر ثبت کرتا اپنے جذبات پر وہی لگام کھینچ کر اس کے قریب سے اٹھ کھڑا ہوا
۔جب کہ روح اسے اس طرح سے خود سے دور جاتا دیکھ کر اداس ہو گئی ۔وہ جانتی تھی کہ وہ اس کے قریب نہیں آ سکتا لیکن وہ یوں دور چلا جائے گا یہ روح کو اندازہ نہیں تھا
°°°°°°°
وہ نہا کر باہر نکلا تو روح اب بھی بیڈ پر بے یقینی سے بیٹھی اس کو دیکھ رہی تھی
کیا ہوا روح تم ٹھیک تو ہو وہ بے چین ہوا تھا
نہیں یارم میں ٹھیک نہیں ہوں آپ مجھے یوں چھوڑ کر چلے گئے آپ مجھ سے دور جا رہے ہیں اس کی آنکھیں نم ہونے لگی
نہیں میرا بچہ میں کہاں تم سے دور ہوں یہی توہوں تمہارے پاس وہ اس کے پاس بالکل قریب آ کر بیٹھا روح اس کے گرد بازو پھیلائے اس کے سینے پر سر رکھ گئی
نہیں یارم کچھ غلط ہو رہا ہے کچھ تو ہو رہا ہے آپ مجھ سے دور جا رہے ہیں آپ میرے پاس نہیں آتے پہلے کی طرح مجھے پیار نہیں کرتے اور اگر کبھی آ بھی جائیں مجھ سے دور چلے جاتے ہیں
یارم یہ سب کچھ کب تک چلے گا میں آپ سے دور نہیں رہنا چاہتی
دور تو تم سے میں بھی نہیں رہنا چاہتا روح لیکن یہ مجبوری ہے جب تک تم مکمل ٹھیک نہیں ہو جاتی تب تک ۔۔
میں ٹھیک ہوں یار م ۔میں بالکل ٹھیک ہو چکی ہوں لیکن آپ سے دور رہ کر میں پھر بیمار ہو جاؤں گی مجھ سے دور مت جایا کریں وہ اس کے سینے پر سر رکھے اپنے دل کی کیفیت بیان کر رہی تھی ۔
میں تم سے دور نہیں جا رہا ہوں بس کچھ دن کی بات ہے پھر سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا حیر یہ سب باتیں چھوڑو جلدی سے فریش ہو جاو تب تک میں اپنی جان کے لئے ناشتہ بناتا ہوں
اور پھر تو آج کا سارا دن تمہارے نام ہے شام کو باربی کیو پارٹی کریں گے تمہارے ماموں اور ممانی کو بھی بلا لیں گے اورتم اپنے بھائی اوربھابھی کو فون کر کے تم خود بلا لو باقی اپنا انسپکٹر تو بن بلایا مہمان ہے وہ اپنی فیملی کو لے کر خود ہی آجائے گی بس اس کے کان تک خبر پہنچنے کی دیر ہے وہ مسکراتے ہوئے اس کے ماتھے لب رکھتا اس کے قریب سے اٹھا ۔
جبکہ روح بھی اس کی مجبوری کو سمجھتے ہوئے فریش ہونے جا چکی تھی
فریش ہو کر باہر آئی تو یارم ناشتہ بنا کر ٹیبل پر بھی لگا چکا تھا ۔
یہ رہا میری جان کا ہلکا پھلکا سا ناشتہ لنچ بھی ہلکا پھلکا ہی کریں گے کیوں کہ آج کاڈنر میری پیاری سی فائف کے لئے اسپشل ہوگا ۔جو کہ اس کا ہسبینڈ خود اپنے ہاتھوں سے بنائے گا
تو آج ہم سارا دن ہلکا ہلکا کھائیں گے تاکہ رات کو پیٹ بھر کر کھائے اور رات کو پیٹ بھر کر کھانے کے لئے ٹمی جگہ بھی تو ہونی چاہیے یارم نے پیار سے کہتے ہوئے اس کے لیے کرسی کھینچی تو بھی زور زور سے ہاں میں سر ہلا دی کرسی پر بیٹھ گئی .
اس کا شہزادہ اسے شہزادیوں کی طرح ٹریٹ کر رہا تھا تو وہ کیوں نا اس کا بھر پور فائدہ اٹھاتی
°°°°°
بہت تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی اوپر کی جانب آئی تھی لیکن ہاتھ میں زیادہ سامان ہونے کی وجہ سے وہ دروازے پر ہی رک گئی
کھانے پینے کی اشیاء ہونے کی وجہ سے وہ انہیں زمین پر نہیں رکھ سکتی تھی جس کی وجہ سے اسے فلیٹ کا دروازہ کھولنے میں کافی مشکل پیش آرہی تھی
اس سے پہلے کہ معصومہ شارف کے لیے پھر سے نیچے جاتی اسے سامنے سیڑھیوں سے درک آتا نظر آیا
اللہ کا شکر ہے کہ تم آ گئے یقین مانو مجھے اس وقت کسی نہ کسی کی ضرورت تھی کیا تم میرے لیے اسے ہولڈ کرو گے وہ اپنا سامان اس کی طرح بڑھاتے ہوئے مسکرا کر کہنی لگی
درک جو اسے نظرانداز کیے آگے بھرنے ہی لگا تھا اس کے اس طرح سے سامان زبردستی پکڑآنے پر اسے روکنا پڑا
کہاں غائب رہتے ہوتم ویسے میں تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی تم نے شونو کو سنبھالنے میں میری بہت مدد کی تھی
لیکن میں دوبارہ فلیٹ پر آ نہیں سکی وہ کیا ہے نا شارف روز آفس کے لیے لیٹ ہو جاتا ہے اور ہمارا گھر بھی کافی دور ہے اسی لئے میں نے سوچا کہ میں اپنا فلیٹ کھلوا لیتی ہوں اور اب تم جانتے ہو کہ گر می بھی ہو رہی ہے تو اس سائیٹ پر گرمی بھی بہت ہوگئی یہاں سمندر کے قریب اتنی زیادہ گرمی نہیں لگے گی
کیا خیال ہے تمہارا ٹھیک کہہ رہی ہوں نہ میں وہ اسے زبردستی کا دوست بناتے ہوئے کہہ رہی تھی
جبکہ درک نے صرف ہاں میں سر ہلایا جیسے اپنی جان چھڑوانا چاہتا ہوں
بڑے بے مروت ہو تم ایک بار پھر شونو کا حال ہی پوچھ لو تو تمہارا دوست تھا ۔معصومہ جو کب سے اپنی باتوں میں مگن اس کے پاس ہی کھڑی بولے جا رہی تھی پھر رک کر کہنے لگی
تمہاری دوست بیمار تھی نا اب وہ کیسی ہے وہ کھڑوس انداز میں بولا تو معصومہ کامنہ بن گیا
ماشاءاللہ سے اب ٹھیک ہے شکر ہے تمہیں یاد تو ہے کہ میری دوست بیمار تھی ۔تمہارا دوست بھی ٹھیک ہے وہ میری دوست کا بےبی ہے بےبی کا مطلب سمجھتے ہو نا بچہ اس کا شوہر اس سے بہت چرتا ہے لیکن روح کے لیے شونو بہت اہم ہے ۔
اس لیے وہ ہمیشہ اسے اپنے پاس رکھتی ہے جب وہ بیمار تھی تب وہ میرے پاس رہا درک میرے لئے وہ وقت بہت مشکل تھا لیکن تم نے میرا ساتھ دیا اس کے لئے شکریہ ویسے تم ایک بہت اکڑو مغرور پلس کھڑوس ٹائپ انسان ہو لیکن اس کے باوجود بھی شونو تمہارے قریب چلا گیا ایک بات بتاؤں وہ کتا آسانی سے کسی کے پاس نہیں جاتا
تم نے اس کا بہت خیال رکھا اس کے لیے میں سچ میں تمہارے شکرگزار ہوں میرے لئے اکیلے وہ سب حالات بہت مشکل تھے تم نے سچ میں میری بہت مدد کی ہے اس کے لئے بہت بہت شکریہ
جانتی ہو کافی لیٹ تمہیں تھینک یو کر رہی ہوں لیکن وہ کیا ہے کہ تم نہ جانے کہاں غائب ہو جاتے ہو مہینوں نظر ہی نہیں آتے اب دیکھو نا جس دوران تم غائب تھے اس دوران میری شادی بھی ہوگئی ورنہ میں تمہیں اپنی شادی پر ضرور انوائیٹ کرتی
بہت باتیں کرتی ہوں معصومہ شادی مبارک ہو اور میں نے زوبی کو سنبھال کر میرا مطلب ہے تمہاری دوست کے شونو کو سنبھال کر تم پر کوئی احسان نہیں کیا تھا
مجھے جانوروں سے بہت لگاؤ ہے خاض کر چھوٹے جانوروں کے ساتھ ۔اپنی دوست کا خیال رکھنا اور زوبی میرا مطلب ہے شونو کا بھی وہ اس کا سامان اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے اپنے فلیٹ کی طرف بڑھ چکا تھا
جبکہ معصومہ کو آج بھی پہلے دن کی طرح ہی انتہا کا کھڑوس اور اکڑو لگا تھا ۔لیکن پھر بھی اس نے شونو کو سنبھالنے میں اس کی بہت مدد کی تھی جب روح یارم سے ناراض ہوکر پاکستان جا چکی تھی
ایسے میں شونو کی ذمہ داری معصومہ پر آ گئی تھی اور پھر اس حادثے کے بعد شونو اس کی بالکل کوئی بات نہیں مانتا تھا وہ روح کو مس کرتا تھا ہر وقت اداس رہتا تھا ایسے میں درک نے بہت ساتھ دیا تھا وہ شونو کو اپنے ساتھ لے کر چلا جاتا
اور پھر جب وہ اسے کو لے کر آتا تو شولو فریش ہوتا ۔اور یہ بات سوائے شارف کے اور کسی کو پتا نہیں تھی کہ شونو کو سنبھالنے میں درک نے اس کی مدد کی ہے کیونکہ یہ لڑکا ان کے لیے انجان تھا
وہ کون تھا کیا کرتا تھا معصومہ نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی تھی
اور شاید وہ کبھی درک کے ساتھ بات بھی نہیں کرتی لیکن اس کی کالی آنکھیں اسے بالکل روح جیسی لگتی تھی ۔بس اس لئے وہ اس سے بات کر لیتی تھی اس نے ایک دو بار درک کو بتایا بھی تھا کہ اس کی آنکھیں اس کی دوست سے ملتی ہیں ۔
لیکن وہ ہمیشہ کی طرح کھڑوس سی شکل بنا دیتا تو معصومہ بھی نظر انداز کر دیتی
کیا کہہ رہا تھا تمہارا یہ کھڑوس دوست کیوں روکا ہوا تھا اسے دروازے پر شارف نے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا
ارے میں نے نہیں روکا ہوا تھا سامان ہولڈ کرنے کے لیے کوئی نہیں ملا تو سوچا اسی سے تھوڑی سی مدد لے لوں
اور وہ میرا دوست نہیں ہے سمجھے میں صرف اس کو تھینک یو بول رہی تھی اس نے شونو کا بہت خیال رکھا تھا اس کے بعد وہ کہیں غائب ہوگیا آج نظر آیا تو تھینک یو بول دیا بس اور کچھ نہیں
وہ سامان کو ٹیبل پر رکھ رہی تھی جو کہ شارف دروازہ بند کرتے ہوئے اندر داخل ہوا
تم یہاں آرام سے بیٹھ گئے ہو اٹھوصفائی کروانے میں میری مدد کرو اب سے ہمیں یہی رہیں گے تو یہ جگہ ٹھیک سے صاف ہونی چاہیے تمہاری طرح گندگی میں نہیں رہ سکتی میں وہ اسے گھورتی ہوئی کہتی اٹھنے کا اشارہ کر رہی تھی
جبکہ شارف محبت پاش نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا
شارف قسم سے اگر تمہاری نیت خراب ہوئی نہ تو اتنے جوتے ماروں گی کہ ساری زندگی یاد رکھوگے بدتمیز آدمی خبردار جو مجھے ایسی نظروں سے دیکھا
ایسی کسی نظر جانےمن میری نیت تو بہت صاف ہے وہ اس کے قریب آتے ہوئے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال چکا تھا ۔
شارف مجھے بہت کام ہے پلیز مجھے تنگ مت کرو وہ اس سے فاصلہ قائم کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اب شارف کی نیت مکمل خراب ہو چکی تھی
ہم کام تھوڑی دیر بعد بھی تو کرسکتے ہیں ڈارلنگ ائی پرامس میں تمہاری پوری پوری ہیلپ کروں گا وہ اسے باہوں میں اٹھائے بہکے ہوئے انداز میں بولا تو معصومہ نظریں چڑا گئی بولڈ سی بے باک لڑکی یہاں آکر بالکل چھوئی موئی بن جاتی تھی
°°°°°
میری آنٹی بیڈ کے نیچے سے مت صفائی کریں وہ صاف ہے میں نے کل ہی اسے صاف کیا تھا اور وہ کچھ گھبرائی گھبرائی سے بولی تو میری آنٹی نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا
نو میم یارم سر غصہ ہوں گے ۔میں دوبارہ کر دوں گی وہ مسکرا کر کہتی بیڈ کے نیچے سے صفائی کرنے لگی لیکن اس بار ان کے جھاڑو کے ساتھ میڈیسن بھی باہر آئی تھی جنہیں دیکھ کر روح کی سانسیں رکنے لگی
میڈم آپ نے دوائی کیوں نہیں کھائی اگر یارم سر کو پتہ چل گیا تو وہ بہت غصہ ہوں گے جانتی ہیں نا آپ ۔میری کو اردو نہیں آتی تھی لیکن روح کے ساتھ رہ کر وہ کافی اردو سیکھ چکی تھی
آنٹی پلیز ان کو مت بتائے گا ۔پلیز مجھے یہ بالکل بھی پسند نہیں ہے لیکن یارم زبردستی کھلاتے ہیں تو مجھ سے نہیں کھائی جاتی اسی لیے میں نے پھینک دی لیکن میں بتا رہی ہوں میں نے صرف صبع والی پھینکی تھی ۔اس سے پہلے کی ساری کھائی ہیں
اس نے منت کرتے انداز میں کہا جب یارم کمرے میں داخل ہوا ۔میری خاموشی سے یارم کو دیکھتی کمرے سے نکل گئی
روح میری جان یہ جوس پیو تمہارے لیے تمہارے ہینڈسم سے ڈمپل والے شوہر نے خود اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے یارم پیار سے گلاس اس کی طرف لے جاتا اس کے منہ سے لگا چکا تھا جبکہ روح پریشان تھی کہ میری کے ہاتھ میں میڈیسن دیکھنے کے باوجود بھی وہ بالکل بھی غصہ نہیں ہوا ۔
وہ جو اس کے غصے سے خوفزدہ تھی بے فکر ہوکر پیجوس نے لگی لیکن جوس پینے کے دوران اسے اپنے گلے میں کچھ اترتا ہوا محسوس ہوا اس نے یارم کو دیکھا وہ زبردستی گلاس اس کے لبوں سے لگائے ہوئے تھا
روح بہت کوشش کے باوجود بھی گلاس کو ہٹا نہیں سکی اور جوس ختم ہوتے ہی یار م نے گلاس ایک سائیڈ پر رکھا
بہت ضدی ہو گئی ہو میری جان لیکن کیا ہے نہ تمہارے یارم کو تمہاری رگ رگ کی خبر ہے تم نے وہ میڈیسن بیڈ کے نیچے پھینک میتو نں ے جوس میں ڈال کر تمہیں پیلا دی آئندہ ایسی حرکت مت کرنا ورنہ سخت سزا دوں گا ۔
پیار سے اس کے گال کھینچنااپنا لیپ ٹاپ اٹھائے کمرے سے باہر نکل گئی اور جب کہ روح پیر پٹکتی رہ گئی
°°°°°
