Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 49)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

ایک تو اور ایک تیرے دوست اب کہاں سے پیدا ہوئی تیری دوست بتا مجھے روح کچن میں کھانے کے بعد کام نپٹا رہی تھی ۔جبکہ رویام وہیں بٹھا یارم کو اپنی نئی زبردستی کی دوست کا مسلہ بتا رہا تھا۔

آد ملی بو بتی اے تہ ریام اش تا دوشت اے (آج ملی وہ بولتی ہے کہ رویام اس کا دوست ہے)وہ معصومیت سے منہ بنا کر بولا ۔

ضروری یہ وہی نرس ہو گی جس کے پاس ہم اسے چھوڑ کر گئے تھے یارم نے توکا لگایا

نی بو نی اے ۔بو پلی ہے فیلی ہے بو دادو ترتی اے (نہیں وہ نہیں ہے وہ پری ہے فیری ہے جادو کرتی ہے) وہ پھر سے بولا تو اس بار یارم کھل کر ہنسا

یارم ایک بار اس کی پوری بات سن تو لے کب سے آپ کو بتانے کی کوشش کر رہا ہےمیرا معصوم سا بچہ اس کے نظر انداز کرنے پرروح نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

روح تم نے اس کا پورا قصہ نہیں سنا اس لڑکی میرا مطلب ہے اس کی دوست پری کو کوئی ۔۔۔۔کون قید کیے ہوئے ہے رویام ۔۔۔۔ وہ بات ادھوری چھوڑ کر اس سے پوچھنے لگا ۔وہ جانتا تھا کہ قصہ کیا ہے لیکن رویام کے منہ سے کھڑوس دیو سن کراسے ہر بار مزا آتا۔اور اس لفظ کو اس نے جیتا مشکل بنا دیا تھا ۔کہ اس کے منہ کا ڈائزین دیکھ کر یارم کو اس پر بہت پیار آتاتھا

کھلوش یو۔(کھڑوس دیو)وہ ننھا شہزادہ فوراً بولا تو یارم نے ہنسی دبائی

ہاں وہ کھڑوس دیو قید کیے ہوئےہے ۔اور اب اس کی دوست پری کو اس دیو سے آزاد کروانا ہے کیا فینٹسی کہانی ہے ۔جو وہ اسے سنا گئی ہے

وہ خود تو اسے سنا کر چلی گئی ہے لیکن اس کے دماغ پر چھانے لگی ہے اور تم کہہ رہی ہوکہ میں اس کا وہ قصہ 15 بار سنوں تو یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کے سونے کا وقت ہو چکا ہے

وہ اسے زبردستی اٹھا کر بیڈ روم میں لے آیا جبکہ رویام کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی

باب مینے اش تو بولا اے تہ میلے بابا شوپل من اے(بابا میں نے اس کو بولا ہے کہ میرے پاپا سوپرمین ہیں)۔رویام نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے بتایا مطلب صاف تھا کہ وہ انکار نہیں کر سکتا اس کی مدد کے لیے

اوکے میں اس کی مدد کروں گا اب خوش ۔۔۔؟ وہ کسی قیمت پر سونے کو تیار نہیں تھا

پلومش ۔(پرومس )۔۔؟ سوال آیا۔

ہاں میرا شیطان پرومس ان سو جا وہ وعدہ کرتے ہوئے خود بھی بیڈ پر لیٹ گیا ۔جبکہ رویام اب اس کے سینے پر چڑھ چکا تھا اس کے سینے پر سر رکھے وہ تھوڑی ہی دیر میں ننھےننھے خراٹے لینے لگا

کل اس کا آپریشن تھا وہ رویام کو فریش دیکھنا چاہتا تھا ۔وہ اسے ہر طرح ستپے تیار رکھنا چاہتا تھا اس کے ہاتھ میں آج بھی ڈرپ لگی تھی۔

وہ اسے درد سے بچانے کے لیے ایسا کرتے تھے لیکن ایک معصوم بچے کے لیے یہ درد بھی کم نہیں تھا

روح بہت پریشان تھی ۔۔پتہ نہیں کون تھا وہ شخص جو رویام کو بلڈ دینے کو تیار ہوا تھا اسےتو بس اتنا ہی معلوم تھا کہ وہ اپنی مرضی سے یہ نہیں کر رہا تھا

وہ تو ڈونربننے کو تیار ہی نہیں تھا پتا نہیں حسن نے اسے کیسے بنایا ہوگا

بس اس کا بچہ ٹھیک ہو جائے اسے اور کچھ نہیں چاہیے تھا ۔اپنے بچے کے ساتھ ساتھ وہ اس شخص کے لئے بھی بے شمار دعائیں کر رہی تھی جو اس کی گود اجڑنے سے بچا رہا تھا

°°°°°

وہ وقت سے پہلے ہسپتال پہنچ ایا تھا ۔حسن اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا

تھینک یو سو مچ درک مجھے یقین نہیں آرہا کہ تم بلڈ دینے کے لیے تیار ہوگئے ہو تمہارا یہ احسان میں ساری زندگی نہیں بھولوں گا

تمہیں جتنیےھی پیسوں کی ضرورت ہو جس بھی چیز کی ضرورت ہو بھی چکا مجھے کہہ سکتے ہو میں تمہاری مدد ضرور کروں گا

بس کرو حسن یہ سب کچھ میں تمہارے لئے نہیں بلکہ اپنی پری کے لئے کر رہا ہوں وہ چاہتی ہے کہ وہ بچہ بچ جائے مجھے تم سے یا کسی اور سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی اس بچے کی جینے یامرنے سے کوئی فرق پڑتا ہے

میں یہاں تک صرف اور صرف اپنی بیوی کے لئے آیا ہوں

اور مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ آدمی کتنا امیر ہے اور مجھے کتنے پیسے دے سکتا ہے مجھے بس میری بیوی کے چہرے پر خوشی دیکھنی ہے

اور مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے میں اپنے بازو زور پر دنیا کی کوئی بھی چیز خرید سکتا ہوں اسی لیے یہ سب کچھ کرنا بند کرو اور مجھے اس بچے سے ملواؤں

وہ بچہ تو فی الحال ابھی آیا نہیں میں نے دس بجے کا وقت دیا ہےان لوگوں کو تم جلدی آ گئے حسن نے بتایا

کیا مطلب وہ یہاں اسپتال میں نہیں رہے درک نے پوچھا

نہیں دراصل وہ اسےہہاں پر نہیں رکھ کر اپنے بچے کو بیمار ماحول فراہم نہیں کرنا چاہتے وہ اسے آزاد رکھنا چاہتے ہیں اس لیے تقریباً روز ہی یہاں آ کر اسے ڈرپ لگوا دیتے ہیں جس سے اسے تکلیف کم ہو جاتی ہے

تم اندر چلو بولو بس تھوڑی دیر میں پہنچنے والے ہوں گے حسن نے بہت سہولت سے کہتے ہوئے اسے اندر بھیجا

جبکہ خود روح یارم کا انتظار کرنے لگاویسے تو اس نے دس بجے کا وقت دیا تھا لیکن درک وقت سے پہلے یہاں آکر اسے حیران کر چکا تھا اسے ابھی پتہ چلا تھا کہ آج ہی دوپہر بارہ بجے کی فلائٹ سے وہ کہیں جانے والا ہے

وہ بھی پورے ایک ہفتے کے لیے اور یہ آپریشن ہونا بہت ضروری تھا اس لیے کہ یارم اورروح وقت سے پہلے آجائے تو اچھا تھا

اس نے فون کرکے ان کوجلدی بلا لیا۔

اور وہ اسے بیس منٹ میں پہنچنے کا کہہ چکے تھے ۔

°°°°°

یار م کیا آپریشن سے رویام کو تکلیف ہوگی گاڑی میں روح نے پوچھا

ہاں تکلیف تو ہو گی روح لیکن جتنی تکلیف برداشت کر رہا ہے اس کے سامنے وہ تکلیف کچھ نہیں ہوگی اور اب جو تکلیف ہوگی اسے وہ ایک ہی بار برداشت کرے گا روز روز نہیں

یارم نے اسے سمجھاتے ہوئے رویام کی جانب دیکھا

جو ہوسپیٹل یہ سوچ کر آیا تھا کہ آج اسے کل والی دوست ملے گی

جس کے لئے اس نے اپنی آنکھوں پر کالا چشمہ چڑھا کے بال بھی بنائے تھے

باقی سب کچھ تو ٹھیک ہے رویام لیکن یہ چشمہ اور بال بار بار کیوں ٹھیک کر رہے ہو ۔یارم نے اسے دیکھتے ہوئے شرارتی انداز میں پوچھا

تو روح نے اسے گھورا جو وہاں جانے سے پہلے ہی بتا چکی تھی کہ وہ اپنی دوست کو انپریس کرنا چاہتا ہے

اور وہ اپنی اس پری دوست کو یہ بھی کہے گا کہ وہ جادو کر کے اسے بڑا کردے

لیکن پھر بھی یارم اس کے منہ سے سننا چاہتا تھا اور سب سے مزہ تو اسے تب آتا تھا جو کھڑوس دیو کو کھلوش یو کہہ کر اپنے انداز میں پیش کرتا تھا

می اپلی دوشت شے منے دا را اوں اش لیے (میں اپنے دوست سے ملنے جا رہا ہوں اس لئے) رویام نے جلدی سے جواب دیا

تمہیں پکا پتا ہے کہ تمہاری دوست وہاں ہوگی یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ آج تمہاری دوست ہسپتال میں آئی ہی نہ ہو یارم کہا تو وہ سوچ میں پڑ گیا

توئی بت نی می اش کو پھون تر تے بلوں دا

(کوئی بات نہیں میں اس کو فون کرکے بلا لوں گا) رویام نے فوراً جواب دیا

اچھا تو تمہارے پاس اس کا فون نمبر بھی ہے یارم کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی تھی

پھون ممر کشے کاتے ہے میلے پاش تو پھون ہے آپ تا(فون نمبر کیسے کہتے میرے پاس دو فون ہے آپ کا )رویام نے اس کا فون سامنے کرتے ہوئے کہا

اے میرے بے وقوف ٹھرکی بچے بچی کو پٹانے کے لیے نمبر چاہیے ہوتا ہے ۔یا رم نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا تو روح نے گھور کر اسے دیکھا اور لگے ہاتھ اس کے کندھے پر چیت لگائی

آپ ہر بات کو اپنے انداز میں نہ لیا کریں آپ کی طرح نہیں ہے میرا بچہ

رویام اگر وہ نہیں بھی ہوئی نہ تو بھی کوئی بات نہیں ہم پھر کبھی ملیں گے آپ کی دوست سے روح نے سے پیار سے دیکھتے ہوئے کہا

جو کہ وہ منہ بسور کر بیٹھ گیا تھا اس کے ہسپتال جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا تھا وہ تو اپنے دوست کو ملنے والا نہیں تھا

اور نہ ہی وہ اس کو بتانے والا تھا کہ اس کے بابا نے اس سے وعدہ کر لیا ہے کہ وہ اسے اس (کھلوش دیو)کھڑوس دیو سے بچا لیں گے

کر دیانا میرے بچے کو اداس روح نے پچھلی سیٹ پر یارم کے فون میں مصروف اپنے بچے کو دیکھا جو سیٹ بیلٹ پہنے اداس سا موبائل میں گیم کھیل رہا تھا

ارے مجھے تھوڑی نہ پتا تھا بچی میرا مطلب ہے یہ اپنی دوست کی وجہ سے اتنا اداس ہو جائے گا ۔

یارم جو ابھی تک اس بات کو اپنے انداز میں لے رہا تھا روح کی گھوری پر فورا بعد بدل گیا پھر مسکرا کر ڈرائیونگ کی طرف فوکس کیا

°°°°°°

فی الحال تو سب کچھ نارمل تھا لیکن آنے والے وقت کو لے کر وہ بہت زیادہ پریشان تھا پتا نہیں کیا ہونے والا تھا وہ روح کے سامنے اپنے آپ کو بہت نارمل ظاہر کر رہا تھا لیکن یہ بہت خطرناک آپریشن تھا جس کا نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا تھا

سب سے اچھی بات تو یہ تھی کہ رویام کی کنڈیشن بہت اچھی تھی

لیکن اس کا خون سوکھتا جا رہا تھا ۔اگر یہ کہا جائے کہ رویام تکلیف برداشت نہیں کر رہا تھا تو یہ غلط تھا دوائیاں اتنا ہی اثر دکھا رہی تھی جتنا دکھا سکتی تھی اس کے بعد رویام کون سی تکلیف جھیل رہا تھا یہ کوئی نہیں جانتا تھا

دو دن پہلے اس نے اسی ہسپتال میں بلڈ کینسر کے مریض دیکھے تھے جن کی عمر تقریبا 40 برس سے زیادہ تھی

اور وہ درد سے تڑپ رہے تھے ہر وقت مشنری میں موجود ہونے کے باوجود بھی درد ان پر پوری طرح سے حاوی تھا

تو نہ جانے اس کا معصوم سا بچہ جو ابھی صرف ڈھائی سال کا تھا یہ تکلیف کیسے برداشت کر رہا تھا

وہ بس کیسے بھی اس تکلیف سے نکالنا چاہتا تھا

اب آہستہ آہستہ رویام کا پورا جسم درد کرنے لگتا تھا درد سر سے شروع ہوکر سینے میں اور سینے سے پیٹ کے اندر اور پھر آہستہ آہستہ اس کا جسم بالکل ہی لاغر ہو جاتا

اور اس کا یہی درد یارم برداشت نہیں کر پا رہا تھا اور وہ تو رو کر اپنا درد ہلکا کر لیتی تھی لیکن وہ تو رو بھی نہیں سکتا تھا اس نے اپنی روح کو بھی سنبھالا تھا

کل رات روح کے سونے کے بعد رویام کو پھر تکلیف شروع ہوگئی وہ سسے اٹھا کر کھلی فضا میں لے آیا لیکن اس کا درد سے بلکتا وجود اب تک یارم کی نگاہوں کے سامنے تھا

کتنی منتوں کے بعد یہ ننھا فرشتہ ان کی زندگی کا حصہ بنا تھا اور اب اسے اتنی بڑی بیماری وہ اسے اپنی زندگی سے دور نہیں جانے دینا چاہتے تھے

یارم اس کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھا

اس کی غیر موجودگی میں سارا کام ہی کر کے خضر پے آ چکا تھا جسے خضر بہت ہمت سے سنبھال رہا تھا اور شارف بھی اس کی پوری مدد کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیلیٰ کا سارا دن ان کے ساتھ ہی ان کے گھر پر ہی گزرتا

جبکہ معصومہ دن رات ڈاکٹر حسن کے ساتھ اس کے لئے ایک ڈنور کا انتظام کر رہی تھی جو اس سے نہیں ملا پچھلے دو دن سے وہ روس میں تھی کل رات ہی اس نے فون کرکے اسے بتایا تھا کہ ڈونرکا انتظام ہو گیا ہے

اسی لئے معصومہ کل ہی واپس آنے والی تھی

ڈونر کے انتظام ہو جانے کی خبر ملتے ہی وہ سب لوگ پرسکون ہو چکے تھے اب ان کا رویام ٹھیک ہو جائے گا

یہی ان کے لیے سب سے زیادہ خوشی کی بات تھی

°°°°°

وہ دونوں حسن کے آفس میں داخل ہوئے تو کرسی پر ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا

او یارم اس سے ملو یہ ہے درکشم قیوم خلیل ہمارے رویام کا ڈونر ۔ان کے اندر داخل ہوتے ہی حسن نے متعارف کروایا

لیکن اس کو دیکھتے ہی یارم اور روح پریشان ہو چکے تھے جب کہ درک بنا کچھ بولے واپس کرسی پر بیٹھ گیا

درک ان کا ہی بیٹا ہے جس کو تم نے اپنا بون میرو ٹرانسفرکرنا ہے

صرف تم ہی اس کی جان بچا سکتے ہو مجھے نہیں پتا تمہارا بلیڈ گروپ بان میرو اور ٹیس رویام سے اتنا زیادہ میچ کیسے کر سکتا ہے لیکن تمہارے بون میرو سے وہ بالکل ٹھیک ہو جائے گا زندگی کی طرف واپس آ جائے گا

اس کے لاغر وجود میں ایک بار پھر سے جان آجائے گی وہ اپنے بچپن کو کھل کر جی سکے گا

حسن اسے بتا رہا تھا جبکہ درک کے چہرے پر ایک طنزیہ سے مسکراہٹ تھی جس سے وہ یارم کو دیکھ رہا تھا

رکو حسن رکو تم تو پاگل ہی ہو جاتے ہو کوئی بات بتاتے ہوئے ذرا اپنے یارم صاحب سے پوچھو تو سہی کیا وہ میرا بون میرو اپنے بیٹے کے لیے لینا پسند کریں گے اس کا انداز طنز سے بھرپور تھا

کیا مطلب ہے تمہارا حسن جو پرسکون اسے اپنی بات بتا رہا تھا اس کے لفظوں پر حیران ہوا

انہیں خون کے رشتوں پر بھروسہ نہیں ہے تم جاننا چاہتے ہو نا رویام کے ساتھ بلڈ گروپ بون میرو اور ٹیس اتنا زیادہ میچ کیوں کر رہے ہیں

یارتم تو بالکل بے وقوف ہو تو میں ڈاکٹر کس نے بنا دیا ۔تمہیں تو اتنا تو بتا ہی ہوگا کہ کسی بھی ان نون بندے کے ساتھ ہمارے سسٹم سیل زیادہ سے زیادہ چالیس پرسنٹ میچ کر سکتے ہیں لیکن رویام کے ساتھ میرے سسٹم سیل %96 تک میچ کر رہے ہیں تو یقینا ہم دونوں میں کوئی خون کا رشتہ ہو گا

لیکن خون کے رشتوں پر تو یارم صاحب بھروسہ نہیں کرتے وہ اپنی بیوی کو کبھی بتانا ہی نہیں چاہتے ہیں کہ روح کا ایک بھائی بھی ہے ٹھیک کہہ رہا ہوں نہ میں یارم تم اپنی بیوی کو یہ بات بتانا ہی نہیں چاہتے ہو اس کی روح کے ساتھ میرا کیا رشتہ ہے لیکن دیکھو نا خود ہی حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ہاں روح میں وہ انسان ہوں جو تمہارے ساتھ خون کا رشتہ رکھتا ہوں لیکن تم نہ تو کبھی مجھ سے ملی ہو نہ ہی شاید کبھی مجھ سے ملنا چاہو گی

ہاں میں درکشم قیوم خلیل تمہارا بڑا بھائی ہوں ۔

اس شخص کا خون میری رگوں میں دوڑتا ہے جس کا خون تمہاری رگوں میں دوڑتا ہے

ہاں میں وہیں درکشم قیوم خلیل ہوں جس نے تمہارے باپ کا قتل کیا

اور جس کی شکل تم زندگی میں کبھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔

وہی ہوں میں جس نے تمہیں یتیم کیا

تمہیں دنیا کی ٹھوکروں میں پھینک دیا

تمہیں پل پل مرنے پر مجبور کر دیا

اب اگر میں یہ کہوں کہ تمہارا باپ جینے کے لائق نہیں پھر تم یقین نہیں کرو گی

اس لیے میں تب بھی کچھ نہیں بولا تھا میں اب بھی کچھ نہیں بولوں گا

حسن میری 12:00 کی فلائٹ ہے مجھے جانا ہوگا ۔

وہ حسن کو دیکھ کر بولا تو روح نے تڑپ کر اسے دیکھا وہ بھول گئی تھی کہ وہ کون ہے اس کے باپ کا قاتل ہے یا کیا ہے لیکن وہ اس کے بچے کی جان بچانے کا آخری راستہ تھا

ہاں سے کوئی مطلب نہیں تھا کہ یہ شخص اس کے ساتھ کیا رشتہ رکھتا ہے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ اس شخص نے اس کے باپ کا قتل کیا ہے

اسے پتہ تھا تو بس اتنا کے اگر یہ یہاں سے چلا گیا تھا اس کا بیٹا تڑپ تڑپ کر مر جائے گا

وہ ایک بیٹی بن کر نہیں سوچ سکتی تھی اسے اپنے اند سانس لیتی ماں کے لیے جھکنا تھا

تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا۔

رویام کو تمہاری ضرورت ہے اگر تم چلے جاؤ گے تو ۔

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کس کو میری کتنی ضرورت ہے ۔جس شخص نے اپنے ہی باپ کو جان سے مار ڈالا اس کی بہن کا بچہ مر جائے تو کیا فرق پڑتا ہے

اس کے الفاظ نے یارم کے اندر تک کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اگلے ہی لمحے وہ اس کے گر بان کو پکڑ کر جھنجوڑچکا تھا

خبردار جو تم نے یہاں سے جانے کی بات کی تم صرف اور صرف ہماری زندگی میں تکلیف بن کے آئے ہو اور اب تم یہاں سے تب تک نہیں جا سکتے جب تک ۔۔۔۔۔۔

چہ چہ یہ کون سا طریقہ ہے بھیک مانگنے کا یارم کاظمی ۔

تمہیں تو مانگنا بھی نہیں آتا ۔ہاتھ جوڑ کر سر جھکا کر بھیک مانگی جاتی ہے

میں نے کہا تھا نا ایک دن تمہیں جھک کر میرے پاس آنا ہوگا تو بھی آؤ ہاتھ جوڑ کر سر جھکا کر عاجزی سے میں بھی دیکھوں کہ دبئی کا ڈان اپنے بیٹے کے لیے کیا کر سکتا ہے

میں نے سنا ہے کہ آج تک تم نے کبھی کسی کے سامنے سر نہیں جھکایا لیکن میں ہوں نہ تمہارا سر میرے سامنے جو کہے گا ۔وہ آنکھوں میں جیت لئے بولا

یارم کاظمی آج تک اپنے اللہ کے علاوہ اور کسی کے سامنے نہیں جھکا اور جہاں تک میرے بیٹے کی زندگی کا سوال ہے کہ جس کے سامنے میں جھکتا ہوں وہ اسے بچا لے گا وہ ایک جھٹکے سے چھوڑتے ہوئے پیچھے ہٹا اور روح کا ہاتھ تھامے اسے باہر لے آیا

°°°°°

یارم ہمارا بچہ مر جائے گا

کیا ہوگیا ہے آپ کو اس طرح سے ضد نہ کریں

یہ ہمارے بچے کی زندگی کا سوال ہے یا رم وہ اس کے ساتھ کھنچتی چلی آ رہی تھی

اگر آپ اس کے سامنے ہاتھ نہیں جوڑسکتے تو میں جوڑلوں گی

یارم وہ جانے والا ہے اگر وہ چلا گیا تو ہمارا بچہ بھی چلا جائے گا

کچھ نہیں ہوگا رویام کو کچھ بھی نہیں جس ذات نے ہمیں رویام دیا ہے وہی ذات سے بچا لے گی

لیکن میں یوں کسی کے اور کے سامنے جھک کر اپنا قبلہ نہیں بدلوں گا تم نے دیکھا نہیں وہ میرے سامنے خدا بننا چاہتا ہے ۔

روح انسان نہیں ہے ایک حیوان ہے اس کے سینے میں دل نہیں پتھردھڑکتا ہے

وہ شخص کسی کا نہیں بن سکتا

تمہاری ماں نے اس کی جان بچانے کے لیے کیا کیا تکلیف نہیں سہی لیکن یہ اس کا بھی نہ بن سکا

وہ انتہائی غصے سے کہتا کمرے کا دروازہ کھول کر رویام کے پاس آیا جو شاید انجیکشن کے زہر اثر بے ہوش پڑا تھا اس کے ہاتھ پر ڈرپ لگی تھی اس نے بہت نرمی اور آہستگی سے اس کے ہاتھ سے ڈرپ اتار کر اسے اپنی باہوں میں اٹھایا

سر بچے کا آپریشن ہونے والا ہے آپ کیا کر رہے ہیں

ہمارے بچے کا کوئی آپریشن نہیں ہونے والا ۔روح معصومہ کو فون کرو اسے کہو کہ واپس آنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

لیلیٰ کو فون کرکے کہوکہ وہ اٹلی چلی جائے ۔

وہ رویام کو اٹھا کر روح سے کہنے لگا کمرے سے باہر نکلا تو درک سامنے سے ہی نظر آیا

کر لو کوشش جتنی کرنی ہے لیکن تمہارا بچہ محفوظ تب ہی ہوگا جب اس کی رگوں میں ایک قاتل کا خون دوڑے گا

اور ایسا تب ہی ہوگا جب یارم کاظمی میرے پیروں پر جھک کر اپنے بیٹے کے لیے بھیک مانگے گا

جھک جاو یارم ہو سکتا ہے اس بار اللہ بھی یہی چاہتا ہو کوئی بھی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا تمہیں اپنا غرور توڑ دینا چاہیے

وہ کہتے ہوئے اس کے قریب سے گزر چکا تھا ۔روح نے اس کے پیچھے جانا چاہا لیکن یارم اس کا ہاتھ تھام چکا تھا وہ جانتا تھا کہ وہ اس کے سامنے بھیک مانگے گی اپنے بچے کی زندگی کے لئے ہر حد پار کر جائے گی

لیکن یار م نا تو خود جھکنے کو تیار تھا اور نہ ہی وہ اپنی بیوی کو ایسے بے حس اور پتھر دل انسان کے سامنے جھکنے دے سکتا تھا جسے اپنی ہی بہن کے بچے سے اس لئے ضد تھی کیونکہ وہ یارم کو جھکانا جاتا تھا

°°°°°