Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 4)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

وہ بنا آگے پیچھے دیکھے سیدھا شادی والے گھر میں داخل ہوچکے تھے

۔حال کو سرخ گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا

جبکہ ہر طرف لائٹنگ کی گئی تھی ۔

بے شک اس جگہ کی خوبصورتی بے مثال تھی

یارم کو اس ماحول سے نفرت ہو رہی تھی ۔

ایک معصوم سی لڑکی کو تباہ و برباد کر کے کیسے یہ شخص اپنی شادی کے شامیانے سجائے بیٹھا تھا ۔

وہ جیسے ہی کمرے کے اندر داخل ہوا سامنے ہی ایک آدمی بیٹھا ہاتھ میں سگار پکڑے ہوئے مہمانوں سے محو گفتگو تھا ۔

خضرتیزی سے آگے بڑھتے ہوئے اس شخص کا گریبان پکڑ چکا تھا

بیٹا کہاں ہے تمہارا۔۔۔۔۔

تم کون ہو اس طرح سے بدتمیزی کیوں کر رہے ہو

تم اندر کیسے آئے اور میرے بیٹے سے تمہیں کیا کام ہے وہ شخص انتہائی غصے سے اس سے پوچھنے لگا

جب خضرنے اپنی جیب سے پستول نکال لیتے ہوئے اس کے پیٹ کے ساتھ دبائی

پہلے مرنا چاہو گےیااپنے بیٹے کا بتاؤ گے ۔خضر نے فالتو بات کرنے سے بہتر موضوع پر آنا سمجھا

جب اس شخص نے اوپر سیڑھیوں کی طرف اشارہ کیا وہ یارم کو ایک نظر دیکھ سکتا خود سیڑھیاں پھلانگتے اوپر چلا گیا اور اس کے ساتھ ہی یارم بھی انہی سیڑھیوں سے تیزی سے اوپر کے کمرے کی جانب بڑھا تھا

کون ہیں یہ لوگ اس طرح سے ہمارے گھر میں کیسے آگئے ہیں اور یہ اس طرح سے ہمارے بیٹے کا پتا کیوں پوچھ رہے تھے آپ نے کیوں بتایا کہ وہ اوپر ہے ان کے پاس پستول تھی وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں

۔پولیس کو فون کرو انہوں نے بیگم کی باتوں کا جواب دینے سے پہلے نوکر کو حکم دینا بہتر سمجھا

°°°°°

کون ہو تم لوگ اس طرح سے میرے کمرے میں کیسے گھسے

وہ اچانک کسی کوپستول لیے سامنے دیکھ کر بوکھلایااور تیزی سے اپنے فون کی طرف بھرا

لیکن اس سے پہلے ہی خضر نے اس کا ارادہ ہے بھانپتے ہوئے اسے کرسی پر بٹھا دیا تھا یہی تو بتانے آئے ہیں تمہیں کہ ہم کون ہیں

خضر نے کہتے ہوئے یارم کو دیکھا جو پرسکون سا سامنے والی کرسی پے بیٹھا تھا آنکھوں میں اس قدر غصہ تھا کہ خضر کوو یقین تھا یہ لڑکا آج اس کے قہر کا نشانہ ضرور بنے گا

خضر بھی زیادہ دیر اس کے شکار کے پاس نہیں رہا تھا

وہ پیچھے ہٹا تو یارم نے اس کی جانب قدم بڑھائے

جس لڑکی کو چھ دن پہلے یونیورسٹی میں تیزاب سے جلایا ہے تم نے اس کے بھائی ہم ۔کیا سمجھ کے رکھا تھا بے آسرا ہے بے سہارا ہے وہ ماں باپ سر پر نہیں ہیں ایک ہوسٹل میں رہتی ہے تو تمہارے کھیل کا سامن بن کئی ہے

آورتم جیسے امیرزادے اس کا فائدہ اٹھا سکو گے اس معصوم کی زندگی برباد کر کے کتنی آسانی سے شادی کر رہے ہو تم ایک بار بھی تمہیں خیال آیا کہ تم نے اس کی ساری زندگی برباد کر دی ہے پچھلے چھ دن سے کس اذیت میں ہے جانتے بھی ہو تم ۔ایک پل کے لئے بھی سکون حاصل نہیں ہے اس کو پل پل تڑپ رہی ہے وہ ۔اور اب تم تڑپو گے یارم ایک زوردار مکا اس کے منہ پر مارتے ہوئے دھاڑا تھا ۔

لیکن ہم تمہیں اس لڑکی کی تکلیف کا احساس نہیں دلاو کیونکہ اب تم بھی وہی تکلیف سہو گے وہ درد جو وہ لڑکی پیچھے چھ دن سے دن رات سہتی ہے وہی درد اب تمہارہ مقدر بنے گا

اس لڑکی کے ایک چھوٹے سے انکار کو تم لوگ انا کا مسئلہ بنا لیتے ہو نہ آج تمہاری آنا بھی اس تیزاب کی آگ میں جل کر مر جائے گی ۔یارم نے ایک چھوٹی سی شیشے کی بوتل اس کے سامنے کرتے ہوئے ڈکن کھولا تو وہ تڑپ اٹھا

نہیں مجھ سے غلطی ہوگئی مجھے معاف کر دو خدا کے لیے چھوڑ دو مجھے وہ چیخنے لگا لیکن یارم کو اس پر رحم نہیں آیا تھا

خضر دروازہ کھول دو اس کی چیخیوں کی آواز باہر تک جانی چاہی اس کے حکم پر خضر نے دروازہ کھول دیا

اور اس کے بعد ڈیول نے اپنا کام کیا اس کی چیخ و پکار میں اسے اس لڑکی کی چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی جو نجانے کتنے وقت سے اس تکلیف کو سہ رہی تھی ۔

اس نے ڈکن کھول کر اس میں موجود تیزاب اس کے چہرے پر پھینکا تو کبھی نہ ختم ہونے والی چیخیوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔تیزاب کی خالی بوتل سے چھلکا تیزاب ڈیول کے ہاتھ پر بھی گرا لیکن اس وقت اسے پروا نہیں تھی

۔اس کی چیخ و پکار اتنی بلند تھی کہ ساؤنڈ پروف روم کے کھولے دروازے سے آواز باہر تک جا رہی تھی ۔

اور یہی چیخ و پکار سن کر اس کے ماں باپ تیزی سے کمرے کی جانب بھاگے تھے

جہاں وہ اپنے بیٹے کا جلسا ہوا چہرہ دیکھ کر تڑپ اٹھے

اس کا باپ تیزی سے آگے بڑھا اور اس پر پانی پھینک نہ چاہا جب خضر نے اسے پکڑ کر دور پھینکا

اتنا بھی مت تڑییے جسٹس صاحب یہ آپ کی ہی غلطیوں کی سزا ہے

جو آپ کے بیٹے کو مل رہی ہے کیا پرورش کی ہے آپ نے اپنی اولاد کی یہ جو آج تکلیف آپ کا بیٹابرداشت کر رہا ہے وہیں تکلیف چھ دن سے ایک لڑکی بھی برداشت کر رہی ہے کیا سوچا تھا اس نے کہا کہ یہ جو چاہے گا وہ کرے گا اور اس کا باپ سے بچا لے گا ۔

لیکن معاف کیجیے گا یہ کیس آپ کی نہیں بلکہ ڈیول کی عدالت میں آیا ہے ۔اور ڈیول کی عدالت میں کسی کے باپ کی اولاد نہیں دیکھی جاتی ۔

یارم مے کہتے ہوئے ایک بار پھر سے اس کی طرف دیکھا جو درد سے بے ہوش ہو چکا تھا

جائیں ہسپتال لے جائیں اسے اگر جان بچ گئی تو خوش قسمتی مت سمجھیے گا کیونکہ اب سے آپ کا بیٹا ویسی ہی زندگی جئے گا جیسی وہ لڑکی جئے گی ۔

یارم نے کہتے ہوئے خضر کو چلنے کا اشارہ کیا توجسٹس صاحب کی بیوی وہیں بیٹھ کر بری طرح سے بلکنے لگی ۔جبکہ جسٹس صاحب آپ اپنی بے پروا یوں کے نتیجے پر بے حد شرمندہ تھے

°°°°

روح یار آرام کر لو میں نے تمہیں بتایا نا یارم کو آنے میں وقت لگے گا تم سو جاو ورنہ وہ آکر مجھ پر غصہ ہو گا

لیلی اس کے پاس بیٹھی کب سے سونے کے لئے کہہ رہی تھی لیکن روح اس کی بات مان ہی نہیں رہی تھی

۔نہیں لیلی میرا دل بے چین ہو رہا ہے تم یارم کو فون کرو نہ ان سے پوچھو وہ ٹھیک تو ہیں

روح تم جانتی ہو نا وہ اس وقت فون نہیں اٹھاتا وہ اس وقت اپنے کام میں مصروف ہے ۔میں نے خضرکو بھی دو تین بار فون کرنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ بھی فون نہیں اٹھا رہا اسی لئے تو کہہ رہی ہوں کہ تم آرام کرو وہ جیسے ہی آئیں گے میں تمہیں اٹھا دوں گی پھر تم یارم کے ساتھ گھر چلی جانا

نیند کی دوائی کھانے کے بعد بھی روح کو نیند نہیں آ رہی تھی کیونکہ اس کا دل بے چین تھا یارم روز وقت پر آ جاتا تھا اور اسے اپنے ساتھ لے جاتا تھا اگر کسی دن لیٹ ہو جائے تو لیلیٰ اسے دوائی وغیرہ کھلا دیتی تھی

لیکن آج تو وہ بہت لیٹ ہو گیا تھا گیارہ بج رہے تھے اور یارم کی واپسی کہ کہیں کوئی آثار نہیں تھے

لیلی کب سے اس کی منتیں کر کر کے تھک چکی تھی لیکن وہ بیڈ پر لیٹنے کو تیار ہی نہیں تھی

اس کا کہنا تھا کہ بیڈپر بیٹھتے ہی اسے نیند آ جائے گی

اور یارم کو اس کا یوں انتظار کرنا پسند ہے ۔جبکہ اس کی بےچینی نوٹ کرتے ہوئے شونو بھی بار بار مین گیٹ تک جاتا اور پھر مایوسی سے واپس لوٹ آتا ۔

°°°°°°

یارم تمہارا ہاتھ تو اچھا اس ہاتھ جل گیا ہے تمہیں احتیاط سے کام لینا چاہیے تھا

وہ اس کا بازو دیکھتے ہوئے کہنے لگا

میں بالکل ٹھیک ہوں خضر بس غصے میں دھیان نہیں رہا خیر تم اس پر کوئی پٹی وغیرہ باندھ دو کہ روح کو نظر نہ آئے

وہ خضر کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو خضر نے فورانہ میں سر ہلایا

تمہیں ہسپتال چلنا چاہیے تیزاب سے اندر کی ہڈی تک جل جاتی ہے وہ تو شکر ہے کہ تمہیں صرف ٹچ ہوا ہے گرانہیں ورنہ شاید ہمارے لئے مشکل بن جاتی ۔

ویسے تمہیں یقین ہے کہ جسٹس صاحب پولیس میں ہمارا نام نہیں لے گے میرا مطلب ہے انہوں نے ہمارا چہرہ دیکھا ہے گاڑی اسپتال کے رستے ڈالتے ہوئے خضر نے پوچھا

مجھے نہیں لگتا کہ وہ ایک بہت اچھا اور ایماندار انسان ہے اس کی زندگی میں کبھی بے ایمانی نہیں کی ہاں شاید اپنے فرض کی خاطر اپنے بچوں پر دھیان دینا بھول گیا ہے ۔تبھی تو اس کے بیٹے نے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے

باپ کی بے دھیانی اور ماں کی طرف سے ملنے والی آزادی سے بچے بگھر جاتے ہیں اور پھر ایسے بچوں کا یہی انجام ہوتا ہے

ان لوگوں کو لگتا ہے کہ ہم دنیا میں کچھ بھی کر لے کوئی ہمیں کچھ کہنے کا حق نہیں رکھتا ۔لیکن ایسے لوگوں کو صحیح راستے پر لانے کے لیے ہی اللہ نے ہم جیسے لوگوں کو بنایا ہے ۔خضر نے گاڑی ہسپتال کے باہر رکی تو یارم نے ایک نظراس کو دیکھا جیسے یقین تھا کہ وہ اب اس کی بات نہیں مانے گا

یارم پلیز بنا کچھ کہے اندر چلو تمہارے ہاتھ میں کافی گہری چوٹ لگی ہے میں نہیں چاہتا کہ تمہیں کسی بھی قسم کا کوئی بھی نقصان ہو

اور ویسے بھی ہم کافی لیٹ ہو چکے ہیں لیلیٰ بھی کتنی بار فون کر چکی ہے لیکن میں نے فون نہیں اٹھایا اور روح بھی پریشان ہو رہی ہو گی

میرے لیے نہ سہی لیکن اپنی روح کے لیے تو تم اتنا کر ہی سکتے ہو خضر نے مسکراتے ہوئے کہا جیسے اسے یقین ہو کہ اب یارم انکار نہیں کرے گا اور اس نے انکار نہیں کیا تھا بس ایک ہاتھ سے اسے آنے کا اشارہ کیا اور خود ہسپتال کے اندر چلا گیا

°°°°°°

گاڑی گھر کے باہر رکی تو شونوکے بھونکنے کی آواز شروع ہوتے ہی روح بھی تیزی سےاس کے پاس آتے ہوئے اس کے سینے سے آ لگی

وہ حیران ہوا تھاکہ وہ ابھی تک جاگ کیوں رہی تھی یہ اس کی صحت کے لیے ٹھیک نہیں تھا لیکن پھر بھی غصہ اسے روح پر نہیں بلکہ لیلیٰ پر آیا تھا

جو اس کے آتے ہی اپنی صفائی دینے لگی ۔

ڈیول میں نے اس کی منتیں کیں کہ پلیز سو جاؤ تم نے میڈیسن لی ہے لیکن اس نے میری ایک بھی بات نہیں مانی اور تمہارا انتظار کرتی رہی ہے ۔

ہاں یارم میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی تھی آپ کہاں رہ گئے تھے ۔

یہ مجھے زبردستی سونے کا بول رہی تھی میں نے اس بتایا بھی کہ آپ کو اچھا لگتا ہے میرا جاگ کر آپ کا انتظار کرنا لیکن یہ میری بات مان ہی نہیں رہی تھی

۔لیلیٰ جو اپنی جان بچانے کے لئے اس کی شکایت لگا رہی تھی اس کی شکایت پر اس کا منہ کھل گیا

کوئی بات نہیں میرا بچہ ہم ابھی گھر چل رہے ہیں اس نے شونو کو اشارہ کیا تو وہ اس کے اشارے کو سمجھتے ہی فورا گاڑی میں بیٹھنے کے لئے اچھلنے لگا تو دروازہ خضر نے اس کی مدد کرتے ہوئے کھول دیا ۔

ایک الودعی نظر خضر کی طرف دیکھا اور روح کو چلنے کے لیے کہا جب روح کی نظر اس کے ہاتھ پر پڑی

یار م آپ کو چوٹ لگی ہے یہ کیا ہوا آپ کو وہ بے چین ہو گئی تھی یارم نے بس نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس کے لئے دروازہ کھولا

اور تھوڑی ہی دیر میں ان کی گاڑی خضر کے گھر سے نکل چکی تھی

کیا بات ہے خضر تم اتنے پریشان کیوں ہو میں نوٹ کر رہی ہوں جب سے تم آئے ہو تب سے مجھے کچھ الجھے الجھے لگتے رہے ہو سب کچھ ٹھیک تو ہے ۔لیلی نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا

ہاں سب ٹھیک ہے لیلی بس میں ایک بات کو سوچ کر تھوڑا پریشان تھا وہ لیلی کے گرد بازو پھیلائے اسے اندر لے جانے لگا تو لیلی بھی اس کے ساتھ اندر داخل ہوئی

کون سی بات تمہیں بے چین کر رہی ہے مجھے تو بتاؤ ہو سکتا ہے میں تمہاری کچھ مدد کر سکوں لیلی نے ہمدردی سے پوچھا

تم نے نوٹ کیا ہے لیلیٰ روح اب پہلے کی طرح نہیں رہی

اب وہ یارم کے بغیر نہیں رہ سکتی

اب وہ یارم کو بےحد چاہتی ہے ۔بس میں سے سوچ رہا تھا کہ آج کام کے دوران یارم کو چوٹ لگ گئی کل کچھ بھی ہو سکتا ہے اور اگر یارم کو کچھ ہوگیا تو۔۔۔۔؟

تو روح کا کیا ہوگا ۔۔۔۔کیا روح اس کے بغیر جی پائے گی ۔وہ اپنی بے چینی اسے بتاتے ہوئے بہت پریشان لگ رہا تھا ۔

اللہ روح سے بہت پیار کرتا ہے خضر وہ کبھی روح کو یوں تنہا نہیں کرے گا روح اور یارم تو ایک دوسرے کے لئے تحفہ ہیں اور تحفے کبھی چھینے نہیں جاتے ۔لیلی ٰ نے مسکرا کر کہا تو اس کی بات پر خضر بھی ہلکا سا مسکرا دیا تھا لیکن اس کی بے چینی ختم نہیں ہوئی تھی

°°°°°

یارم بتائیں نا مجھے آپ کے ہاتھ پر کیا ہوا

یہ اتنی بڑی چوٹ کیسے لگی آپ کو

اس کے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے وہ بس رونے کو تیار تھی

کچھ نہیں ہوا میری جان بس تھوڑی سی چوٹ لگی ہے ۔لیکن تم فکر مت کرو مجھے بلکل درد نہیں ہو رہا اس کی بے چینی دیکھتے ہوئے یارم نے محبت سے اس کے ماتھے کو چوما تھا

اتنی بڑی چوٹ لگی ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ درد نہیں ہو رہا یقینا درد ہو رہا ہوگا آپ جھوٹ بول رہے ہیں یارم اللہ جھوٹ بولنے والوں کو پسند نہیں کرتا پلیز بتائیں نا مجھے کیا ہوا ہے آپ کو کیسے لگی ہے آپ کو یہ چوٹ وہ پھر سے پوچھنے لگی

اچھا چھوڑو اس کو یہ بتاؤ آئس کریم کونسی کھاؤ گی ۔سامنے آئس یم پالر کی ایک شاپ دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا

کچھ نہیں کھاؤں گی جب تک آپ مجھے نہیں بتاتے کہ آپ کے ہاتھ پر یہ چوٹ کیسے لگی ۔وہ ضدی انداذ میں بولی

مطلب کے اسٹرابری فلیور یارم نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا جواب مانگا ۔

کبھی کبھار چاکلیٹ بھی کھا لیا کرو یار وہ بھی بری نہیں ہوتی ۔ویسے بھی میری جان دوائیاں کھا کھا کے اپنا منہ کڑوا کر چکی ہے اب آئسکریم تو بنتی ہے ۔یہیں بیٹھو میں ابھی لے کر آیا ۔

یارم پہلے بتائیں یہ چھوٹ۔۔۔۔۔۔

بس روح جس چیز سے تمہارا کوئی مطلب نہیں ہے اس سے ریلیٹڈ کوئی سوال نہیں وہ زرا سختی سے کہتا گاڑی سے نکلا

شونو کے لیے بھی لائیے گا ۔۔اسے گاڑی سے نکلتے دیکھ روح نے یاد کروایا ۔اب یہ تو کلیئر تھا کہ وہاں سے کچھ نہیں بتانے والا پھر سختی بھی لر رہا تھا اور آئس کریم بھی زبردستی کھلائے گا تو بہتر تھا کہ وہ فائدہ اٹھا لیتی ۔

روح کیا تم اس آسٹریلین کتے کو آئسکریم بھی کھلاؤ گی یارم کہاں کہاں اپنی حیرانی کی کو چھپانے کی کوشش کرتا ۔روح زندگی کے ہر موڑ پر اسے اس کتے کو لے کر جھٹکے دیتی تھی

ہاں تو اب کیا ہم کھائیں گے اور یہ ہمارا منہ دیکھے گا ۔اس کے لیے ضرور لائیے گا ورنہ میں بھی نہیں کھاؤں گی ۔وہ منہ بنائے فل نخرے دکھانے کے موڈ میں تھی یارم سر ہلاتا وہاں سے چلا گیا

تھوڑی دیر میں واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں شونو کے لئے ایک الگ کپ تھا جو کہ روح نے ایک اچھی ماما کی طرح پہلے شونو کو ہی دیا ۔

اور یارم کی خیرت انتہا کی حد یہاں ختم ہوئی تھی جب اس نے اپنی بیوی کے اس بیٹے کو آئس کریم کے ساتھ مکمل انصاف کرتے دیکھا ۔

اور اب اس نے سیریز ہو کر سوچا تھا کہ اس سے پہلے کہ وہ اسی کتے کو اس کا بچہ بنا دے اسے اپنی اولاد کے لیے کوئی قدم اٹھانا ہوگا

کیعنکہ روح اب اس کی ماما بن چکی تھی لیکن وہ اس کا باپ نہیں بن سکتا تھا

°°°°°°