Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 50)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 50)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
وہ رویام کو لے کر واپس گھر آیا گیا تھا اس وقت وہ شونو کے ساتھ اپنے کھیل میں مصروف تھا
روح کمرے میں بیٹھی رو رہی تھی
یارم نے سمجھانے کی بہت کوشش کر چکا تھا لیکن بیٹے کی جدائی کے ڈرنے اسے کچھ بھی سمجھنے نہ دیا
اسے پتہ تھا تو صرف اتنا کہ اگر رویام کا آپریشن نہ ہوا تو نہیں بچے گا
اور جتنا حسن نے انہیں بتایا تھا اس کے مطابق رویام کا آپریشن دن بدن لیٹ ہوتا جا رہا تھا اور خطرات بڑھتے جا رہے تھے
درکشم نے آج جب انکشاف کیا کہ وہ اس کا بھائی ہے اس کے دل میں اس کے لیے کسی قسم کی کوئی فیلنگ نہیں جاگی تھی
اس کے دل نے یا دماغ نے اس سے نفرت نہیں کی تھی ہاں وہ اس کے باپ کا قاتل تھا
ہاں اس شخص کی وجہ سے آج وہ یتیم تھی
لیکن وہ حقیقت سے بے خبر تو نہ تھی وہ جانتی تھی کہ اس کا باپ کس قسم کا انسان تھا
نہ جانے کتنی ہی لڑکیوں کی زندگی برباد کی تھی اس شخص نے لیکن آج وہ جس طرح سے درکشم سے نفرت نہیں کر پائی تھی اسی طرح اتنے سالوں سے اس نے کبھی اپنے باپ سے نفرت بھی نہیں کی تھی
اس کی حقیقت جاننے کے باوجود بھی نہیں وہ اس سے نفرت نہیں کرتی تھی
شاید کہیں نہ کہیں یہ احساس زندہ تھا کہ وہ شخص اس کا باپ ہے جس سے نفرت کرنے کی اجازت اسے قدرت نہیں دیتی ۔
لیکن اس کا بچہ اپنے بچے کا کیا کرتی جس کی صحت دن بدن سے گرتی جا رہی تھی
اگر درککشم نے خون نہ دیا تو اس کا بیٹا زندہ نہیں بچے گا
اور اتنی منتوں مرادوں کے بعد پائی ہوئی اولاد کو کھول نہیں سکتی تھی ۔اور نہ ہی رویام کو کھونے کی ہمت اس میں تھی
°°°°
تو کب سے رویام کو دیکھ رہا تھا جو باہر لان میں چھوٹےسے بالٹی کے ڈکن میں پانی بھر کے شونوپر ڈال کر اسے نہلانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا ۔
جبکہ ڈائیلاگز وہی سارے تھے جو روح اسے نہلاتے ہوئے دہراتی تھی
میلا بتہ گندااو گا اے(میرا بچہ گندا ہوگیا ہے )
می ابی اپلے بتے تو نلاوں دا(میں ابھی اپنے بچے کو نہلاوں گا)
ال فر اشے پالےپالے تپرے پیروںدا(اور پھر اسے پیارے پیارے کپڑے پہناوں گا )
فر میلا بتہ اتا پالا لدے دا (پھر میرا بچہ اتنا پیارا لگے گا )
وہ مسلسل بولتے ہوئے اپنے کام میں مصروف تھا۔وہ مسلسل اسے بولتے ہوئے سن رہا تھا جبکہ شونو بالکل سیریز اس کے ساتھ اس کے کام میں مدد کرتے ہوئے نہا رہا تھا
وہ شونو کو اس کا خیال رکھنے کا اشارہ کرتا خود کمرے میں آیا تو روح کو بیڈ پر لیٹے ہوئے پایا وہ اس سے ناراض تو نہیں تھی لیکن ابھی اس سے بات بھی نہیں کررہی تھی وہ خاموشی سے سڑھیاں طے کرتا اوپر چلا آیا
°°°°°°
اسے یاد تھا وہ سب کو راستے سے ہٹا کر خود ڈان بن چکا تھا کوئی بھی نہیں بچا تھا سب نے اسے ڈان کے طور پو قبول کرلیا تھا
اور جس نے نہیں کیا اسے راستے سے ہٹتے ڈیول نے وقت نہ لگایا ۔
اور پھر سب کو قبول کرنا پڑا ۔
وہ جلد ہی انڈزولڈ پر چھا گیا ہر کوئی اسے ہی کنگ ماننے لگا اس نے اپنا ایک الگ بھروسے مند گنگ تیار کیا
جب اسے خبر ملی تھی کہ ایران سے کچھ لڑکیوں کو زبردستی ایک قلب میں لایا گیا ہے
اسے وہاں پہنچے ہوئے تھوڑا ہی وقت ہوا تھا جب شارف کی عمر کا ایک لڑکا اس کے پاس آیا اور ایک پیپر اس کو دیا۔اور کہا کہ مسڑپٹر ڈان میرا احسان یاد رکھنا اس نے اشارہ اسٹیج پر ناچتی لڑکی طرف کر کےچلاگیا۔
اس پیپر پر لکھا تھا
میں ایک کمپیوٹر ورکر ہوں مہرا نام ام لیلیٰ ہےمجھے یہاں زبردستی لایا گیا ہے آپ کو جانتی تو نہیں لیکن سناہے آپ سب کی مدد کرتے ہیں ۔ڈیول نے ایک نظر اسے دیکھا ۔
اور اگلے ہی لمحے صدیق خضر اور شارف نے ان سب پر حملہ لر کے سب لڑکیاں بازیاب کروا لی ۔اس لڑکے نے ان کی بہت مدد کی تھی وہاں سے لڑکیاں نکل کر سیوجگہ لے جانے میں
لیلیٰ کا آگے پیچھے کوئی نہ تھا ۔تو یارم نے اسے اپنپے ساتھ رکھ لیا تب وجہ اس کا کام کرنے کا اندازتھا ۔
لیکن بعد میں وجہ خضر بن گیا لیکن لیلیٰ ان کی ٹیم کا سب سے اہم حصہ تھا صدیق کے مرنے کے بعد لیلیٰ نے صدیق کا سارا کام اپنے سر لے لیا۔
اس وقت کسی نے غور نہ کیا۔لیکن وہ لڑکا ان پر احسان کر چکا تھا
°°°°°
دوستی بار اس سے ملاقات سعودیہ میں ہوئی تھی ڈیول اسے پہلی ہی نظر میں پہچان گیا
اس نے سٹہ کھلا تھا وہاں خیکن اسے جیتے ہی سزا ملی اس پر بےایمانی کا الزام لگا دیا گیا۔ڈیول نے اسے وہاں سے بچایا تھا اور کہا تھآ
آج میں نے تمہارا احسان چکا دیا۔کہانی یہیں ختم ہوجانی چاہے تھی لیکن ہوئی نہیں
°°°°°°
ان کی اگلی ملاقات دبئی کی ایک اور کلب میں ہوئی تھی ۔
یہاں کچھ لوگوں نے یارم کی ڈرنک میں زہر ملا دیا تھا لیکن وقت رہتے ہیں اس نے اسے بتا دیا کہ ڈرنک میں زہر ہے ۔
اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ مبارک ہو ایک اور احسان کر دیا تم پر اسے کب اتارو گے ۔۔۔؟
یارم کو اس کا یہ مغرور انداز بہت برا لگا تھا لیکن اس کا یہ احسان اس نے اسی کلب میں اتار دیا جب اسی گینگ کے لوگوں نے اس پر حملہ کر دیا
لیکن یہ کہانی یہاں پر بھی ختم نہ ہوئی تھی
°°°°°
یارم کو پتہ چلا تھا کہ یہ لڑکا وکرم بھا کے لیے کام کرتا ہے
وکرم بھاکے ساتھ اس کے ہمیشہ سے اچھے تعلقات تھے لیکن یہ لڑکا اسے پہلے دن سے ہی پسند نہ تھا
اس نے وکرم بھا کو بھی یہ بات بتا لیکن انہوں نے یہ کہہ کے ٹال دیا کہ کالی زبان کا لڑکا ہے سٹا کھیلتا ہے اور انہیں امیر کر رہا ہے
یارم کو جوئے سے ہمیشہ سے نفرت تھی
اور اب اسے ایسی ہی نفرت اس لڑکے سے بھی ہوتی جا رہی تھی ۔جو ہر بار اس کے رستے میں آ جاتا آخر وہ اسے چاہتا کیا تھا
وہ نوٹ کرتا تھا وہ ہمیشہ اس کے آس پاس رہتا تھا یارم پر جب بھی کوئی مصیبت آئی وہ اسے بچانے کے لیے ہر وقت تیار رہتا
امریکہ کے ایک علاقے میں جنگلوں کے بیچ کام کے دوران یارم بہت بری طرح سے پھنس گیا تھا یہاں تک کہ وہی جنگل کے دوران اسے بے ہوش کرکے ایک کرسی پر بیٹھا کر اس جگہ کو آگ لگا کردشمن بھاگ گئےتھے
یارم کو ہوش آیا تو اسے ہر طرف سوائے اس آدمی کے اور کچھ نظر نہیں آ رہا تھا
اور تب یہ شخص اسے بچانے آیا تھا لیکن شرط یہ تھی
کہ اگر وہ اپنی جان کے سلامتی چاہتا ہے تو اس سے اپنی زندگی کی بھیک مانگے ۔لیکن یارم نے ایسا نہ کیا تو وہ اس کے سامنے چیختا رہا چلاتا رہا کہ وہ ایک بار اسے جھکے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے
صرف ایک بار دیکھنا چاہتا ہے کہ یہ شخص آنکھوں میں آنسو لیے سر جھکا کر بھیک مانگتا کیسا لگتا ہے
ہزار کوششوں کے باوجود بھی یارم نا مانا تو وہ اسے چھوڑ کر جانے لگا لیکن اتفاق ایسا تھا کہ آگ سے جلا ہوا پلیر اسی کے اوپر آ گیا
یارم نے اس دن بہت مشکل سے اپنی اور اس کی جان بچائی تھی اسے ہسپتال کے بیڈ پر پھینکنے کے بعد یارم اسے بتانا نہیں بولا تھا کہ یہ احسان ہے تم پر اور چکا ناضرور تم مجھ سے میری جان کی بھیک منگوانا چاہتے تھے خود بیڈ پر پڑھے ہو احسان کیا ہے میں نے تم پر تمہاری جان بچا کر
ایک دن آئے گا یارم ڈیول کاظمی میں تمہیں اپنے قدموں پر جھکاؤں گا تم بھیک مانگو گے مجھ سے وہ چلا گیا تھا
یارم کاظمی مر جائے گا لیکن کسی کے سامنے سر نہیں جھکا ئے گا ۔اور میں ایک بادشاہ ہوں بادشاہ بھییگ دیتا ہے لیتا نہیں جیسےتمہاری زندگی تمہیں بھیک میں دے دی وہ مغرور نہیں تھا لیکن اس شخص کے الفاظ نے اسے ایسا کہنے پر مجبور کیا تھا یارم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ الفاظ اس کی ضد بن جائیں گے
پھر یہ لڑکا کہیں غائب ہوگیا کہا گیا وہ کبھی اس سے دوبارہ نہیں ملا کتنے سال گزر گئے وہ تو اس کی ذات کو بھی بھلا چکا تھا
°°°°°
پھر روح اس کی زندگی میں آئی اور اس کی آنکھوں نے اسے ایک بار پھر سے اس لڑکے کو یاد کرنے پر مجبور کر دیا
وہ کب روح سے محبت کرنے لگا کب وہ کی زندگی بن گئی وہ خود بھی نہیں جانتا تھا
ہاں لیکن حقیقت یہی تھی کہ وہ پہلی نظر کی محبت کا شکار تھا ۔
روح کے ساتھ شادی کر کے ایک خوشحال زندگی گزارنے لگا تھا وہ اپنی زندگی میں بہت آگے بڑھ چکا تھا
اب تو اس کی زندگی میں درکشم قیوم خلیل نامی کسی شخص کی کوئی جگہ نہ تھی لیکن اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ شخص آج بھی اپنے الفاظ اور ضد پر قائم ہے
وہ آج بھی اسے جھکانا چاہتا ہے اسے بھیگ مانگتے دیکھنےکی ضد آج بھی اس کے دل و دماغ میں بسی ہوئی ہے
روح جا کے اس سے ناراض ہو کر پاکستان چلی گئی اور راشد نے اسے اغوا کر لیا تو اسے بالکل بھی یاد نہ تھا کہ اسے فون کرنے والا درک ہو سکتا ہے
لیکن وہ در ک ہی تھا
وہ روح کو بچا کر واپس لے آیا ۔اور ایک بار پھر سے اس کے ساتھ اپنی نئی زندگی کی شروعات کر چکا تھا ۔
جب وہ دونوں ہنی مون پر گئے تو ایک بار پھر سے وہ شخص اس کے سامنے آگیا اس سے پتہ چل چکا تھا کہ اس دن اسے فون کرنے والا یہی تھا صرف اس کی آواز سن کر وہ پہچان چکا تھا اس کی آواز بھی پہلے سے بدل چکی تھی لیکن پھر بھی یارم اس کی آواز کو اچھے سے پہچان گیا تھا
ریس کے دوران ہی اس نے اسے بتادیا تھا کہ اس کی ذات پر کیا گیا حسان وہ سود سمیت واپس کر چکا ہے ۔کیونکہ اگر وہ اس رات یارم کو فون نہ کرتا تو وہ مر جاتی ۔اور اگرروح کچھ ہوجاتا تو یقینا یارم بھی زندہ رہتا ۔
تو اس کی جان بچانے کا احسان وہ یارم کی جان بچا کر سود سمیت لوٹانے چکا تھا
°°°°°
اس کے بعد کی یارم نے اس کے بارے میں جاننا شروع کیا تھا وہ اس کی ذات کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا یہ اس کی زندگی کا ایک حصہ بنتا جا رہا تھا
ایک عام سا لڑکا جس کی اس کی زندگی میں کوئی جگہ نہ تھی وہ بار بار اس کے سامنے آ رہا تھا
لیکن کیوں یہ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا اس نے اس کے بارے میں ساری انفارمیشن نکلوائی
تب اس سے پتہ چلا کہ روح کے ساتھ اس کا کوئی نہ کوئی کنکشن ہے
لیکن یہ جان کر اسے حیرانگی ہوئی تھی کہ وہ روح کاسوتیلا بھائی ہے
سوتیلا بھی نہیں کہا جا سکتا تھا کیونکہ اس کا تعلق کوٹھے والی سے تھا ۔جس کو کوٹھے پر لانے والا بھی قیوم خلیل خود ہی تھا
ذدرک اسی کوٹھے والے کی اولاد تھا ۔یہ جان کر اسے بہت افسوس ہوا تھا۔وہ قیوم خلیل کا ناجائز بیٹا تھا ۔روح کے ساتھ اس کے کوئی دلی جذبات نہ تھے
بس اتنا پتا تھا کہ جب وہ کوٹھے والی اپنی زندگی سے ہار ہارنے والی تھی تب وہ اپنے بیٹے کو قیوم کی دوسری بیوی یعنی روح کی ماں کے پاس لے آئی تھی
اور اسے بتایا تھا کہ وہ بھی قیوم کی اولاد ہے لیکن ناجائز
قیوم نے اسے اپنا بیٹا ماننے سے انکار کر دیا لیکن نور نے ہارنہ مانی وہ اس سات سالہ بچے کے لئے اپنے شوہر کے سامنے ڈٹ گئی
اس میں لڑنے جھگڑنے کی ہمت نہ تھی لیکن صرف اور صرف اس کے لئے وہ اپنے شوہر کے خلاف گئی اور اسے اپنے ہی گھر پر رکھ لیا ۔
قیوم خضر کو کچھ نہیں کہتا تھا کیونکہ خضر اپنا کام کرتا تھا اپنا کھاتا تھا وہ دیاڑی لگائے یا مزدوری کرے لیکن اپنی بہن کے شوہر سے اس نے کبھی کچھ نہیں مانگا تھا
ادی لیے خضر کے وجود سے اسے کوئی لینا دینا نہ تھا
لیکن درکشم اسی کا کھاتا تھا اور یہی چیز اسے پسند نہیں تھی پہلے تو درک کو اپنی اولاد تسلیم ہی نہیں کرتا تھا تو پھر وہ اس کا خرچہ کیوں اٹھتا ۔
ایک دن وہ نور سے لڑ جھگڑ کر درک کو اپنے ساتھ لے گیا اور وہاں سات سو روپے میں اسے بیچ آیا نور کو جب یہ پتہ چلا تو اسے بہت افسوس ہوا
لیکن شوہر کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتی تھی وہ بھی تب جب اس کے اپنے پیٹ میں روح کا وجود سے رہا تھا
°°°°°°
ایک رات اس کی کھڑکی پر دستک ہوئی تو وہ بارش میں بھیگتی باہر نکلی سامنے ہی درک خون میں لت پت بری حالت میں مار کھائے ہوئے تھے وہ اسے لے کر فوراً ہی کمرے میں آگئی قیوم ان دنوں اپنی پہلی بیوی سے ملنے گیا ہوا تھا ۔
نور نے اس کی دیکھ بھال کی اس کا بہت خیال رکھا
جب میں بڑا ہو جاؤں گا نہ میں بھی تمہارا بہت خیال رکھوں گا اس نے وعدہ کیا تھا
نہیں تم میرا خیال مت رکھنا تم اپنی بہن کا خیال رکھنا ۔نور نے کہا تھا اس نے فورا نفی میں سر ہلایا
نہیں میں گندے نالے کا کیڑاہوں میرا کوئی نام و نشان نہیں ہے کوئی وجود نہیں ہے ۔
اور نہ ہی میری کوئی بہن ہو سکتی ہے لیکن تم میرے لئے بہت لڑی ہو بہت کچھ سہا ہے تم نےمیں تمہارے لئے جو بھی کر پایا ضرور کروں گا
بتاؤ میں تمہارے لیے کیا کر سکتا ہوں سات آٹھ سال کا وہ بچہ جو وقت سے بہت پہلے برا ہو گیا تھا
بس میری روح کا خیال رکھنا اس کی بات پر افسوس کرتے ہوئے نور یہ الفاظ کہے تھے
°°°°°
وقت گزر گیا قیوم اسے مار پیٹ کر دوبارہ وہی چھوڑ آیا
نور کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی جیسے جنم دیتے ہوئے وہ دنیا چھوڑ گئی
قیوم بیٹی کو لے کر اپنی پہلی بیوی کے پاس چلا آیا تنظیم نے اسے قبول کرنے سے منع کردیا ۔
لیکن قیوم کو کہاں پر واقع تھی وہ تو اسے اپنی بیوی کے پاس چھوڑ کر ایک بار پھر سے عیاشیوں میں مصروف ہوگیا
درک پاس نہیں جاتا تھا لیکن ہمیشہ روح کو دور دور سے دیکھتا رہتا ۔وہ چاہ کر بھی اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتا تھا لیکن اس کا باپ کبھی ایک اچھا انسان نہیں بن سکتا تھا
محلے میں رہنے والے اسکول ٹیچر کے گھر زبردستی گھس کر اس نے اس کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی
جس کے نتیجے میں غصے میں آ درک نے اپنے ہی باپ کا قتل کر دیا ۔جس کے بعد اسے دوبارہ سال تک جیل میں رہنا پڑا ۔
وہ کون تھا کیا تھا روح تو بالکل ہی اس کی ذات سے انجان تھی لیکن وہ اسے جانتا تھا ہمیشہ اس کے آس پاس رہتا تھا
اس کی ہر مصیبت میں اس کے ساتھ ساتھ رہتا تھا لیکن وجہ اس سے محبت نہیں بلکہ وہ احسان تھا جو نوت نے اس پر کیا تھا وہ ایک کمزور سی لڑکی تھی اس کے لئے زیادہ کچھ نہیں کر پائی تھی لیکن وہ کسی بھی شخص کا اس کی ذات پر کیا گیا پہلا احسان تھا جسے وہ آخری سانس تک چھکانا چاہتا تھا
°°°°°
یارم کو کبھی نہیں لگا تھا کہ وہ اس کی زندگی میں دوبارہ آجائے گا سوزی لینڈ میں اس نے اس پر ایک اور احسان کیا تھا اس کی جان بچا کر جس کے بدلے میں یارم نے اسے جیل سے چھڑا کر اس کا احسان اتار دیا تھا
لیکن اب بات احسان پر نہیں بلکہ ضد پر اتر آئی تھی
وہ ضد جو وہ اس سے دس سال پہلے ہی لگا چکا تھا ۔
وہ اسے جھکا ہوا دیکھنا چاہتا تھا بھیک مانگتے دیکھنا چاہتا تھا ۔
یارم اپنی زندگی کے لیے ایسا ہرگز نہیں کرے گا وہ جانتا تھا اس لئے اپنی ضد پوری کرنے کے لیے اس نے اس کے بیٹے کا سہارا لے لیا تھا
اسے روح سے کوئی مطلب نہیں تھا وہ کبھی بھی اس کے لیے کسی قسم کی کوئی فیلنگز نہیں رکھتا تھا اور نہ ہی خود سے جڑے اس کے تعلق کو قبول کرتا تھا
وہ اپنے آپ کو ناجائز اولاد کہتا ہی نہیں مانتا بھی تھا
اور ناجائز کا کوئی نہیں ہوتا
اور اس کا بھی کوئی نہیں تھا اس نے اپنے اردگرد ایک ہول کھینچ رکھا تھا دنیا اسے ہارٹ لیس کہتی تھی
°°°°°°°
پونے بارہ بجے وہ ایئرپورٹ کے اندر داخل ہونے ہی لگا تھا جب اچانک کسی نے اس کے سر پر حملہ کردیا
وہ اس شخص کو دیکھ نہیں پایا تھا لیکن حملہ اتنا خطرناک تھا کہ اس سے دوبارہ آنکھیں بھی نہ کھولی گئی
وہ وہیں زمین پر بے ہوش ہوگیا اور کوئی اسے گاڑی میں ڈال کر نہ جانے کہاں لے کر آیا اسے جب ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو ایک بند کمرے میں کرسی پر بندھا ہوا پایا تھا
اور اب وہ کب سے چلائے جا رہا تھا اسے یہاں کون لایا
اسے یہاں کیوں باندھ کر رکھا گیا ہے لیکن کوئی جواب نہ ملا
تھوڑی ہی دیر بعد ہی سے احساس ہو گیا کہ اس کے چاہنے چلانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ یہاں پر کوئی بھی موجود ہی نہیں
°°°°°°°
