Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 46)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 46)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
ایسے کیا دیکھ رہے ہیں آپ سونا نہیں ہے کیا صبح کام پر جائیں گے
اور پھر صبح آپ کا بیٹا مجھے تنگ کرے گا سو جائیں اور سونے دیں
یارم کب سے اپنے ہاتھ کے سہارے سر رکھے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا
جب روح اس کی نظروں کی تاب نا لاتے ہوئے شرما کر بولی
ہر بار نئے سرے سے محبت ہو جاتی ہے مجھے تم سے روح سچ سچ بتاؤ پہلے دن سے کوئی طلئسم پھونکتی آئی ہو نا پہلے پھونکیں مار مار کے خود سے عشق کرنے پر مجبور کیا
اور اب تو کام اس سے بھی آگے بڑھ چکا ہے آج بتا ہی دو آخر کیا کیا ہے تم نے مجھ پہ ۔کہ جب بھی میں سوچتا ہوں ۔کہ اب تمہارے علاوہ کسی اور چیز پر بھی دھیان دوں گا ۔تو اپنے آپ کو بالکل بے بس محسوس کرتا ہوں
آج جواب دو آخر ایسا کونسا جادو کرتی ہو تم مجھ پر کہ تمہارے علاوہ کچھ سوچ ہی نہیں پاتا میں وہ اس کا چہرہ اپنے نظروں کے حصار میں لیے اک الگ انداز میں پوچھ رہا تھا جس پرر وح مسکرائی
میں تونہیں بتا رہی ۔۔۔اگر آپ اتنے بڑے ڈان ہیں تو خود پتا لگا لیں کہ میں ایسا کیا کرتی ہوں وہ دوسری طرف کروٹ لیتے مسکرائی تو یارم نے ایک جھٹکے سے کندھے سے پکڑ کر واپس اپنی طرف موڑ لیا
نظروں سے دور مت جایا کرو
یہ پاگل آنکھیں تمہارے لئے پاگل ہیں ۔
وہ اس کے چہرے پہ جھکتا اس کے ایک ایک نقش کو چومتا پھر سے مدہوش ہونے لگا
یارم بس کر دیں اب سو جائیں دیکھیں تو سہی تین بج رہے ہیں ۔سو جائیں اور مجھے بھی سونے دیں۔ورنہ آپ کے بیٹے نے سارا دن مجھے تنگ کرنا ہے روح بےبسی سے بولی تویارم مسکراتا ہوا بیڈ پر لیٹ کر اسکانازک سا وجود اپنے حصار میں لیے اس کا سر اپنے سینے پر رکھتے ہوئے آنکھیں بند کر گیا
اچھا نہیں تنگ کرتا سو جاؤ ۔۔۔۔یارم کے اس طرح سے کہنے پر روح نےایک نظر اسے سر اٹھا کر اسے دیکھا
وہ آنکھیں بند کئے ہوئے تھا پھر روح نے آہستہ سے اس کے قریب آتے ہوئے اس کے گال پر اپنے لب رکھے اور اگلے ہی لمحے بالکل انجان بنتی اس کے سینے میں چہرا چھپا گئی
بیوی میں پورا کا پورا صرف تمہارا ہوں تھوڑا سا نظر کرم میرے ہونٹوں پر بھی کر دیا کرو ۔وہ مسکراتے ہوئے بولا تو روح سمٹ کر اس میں چھپ گئی
جب کے یارم مسکراتے ہوئے آنکھیں دوبارہ بند کر چکا تھا
°°°°°°
اس کی آنکھ لگے تقریبا 10 سے 20 منٹ ہی ہوئے تھے جب اسے رویام کے رونے کی آواز سنائی آئی
اور روح اس کے سینے پر سر رکھے گہری نیند میں اتر چکی تھی ۔
وہ اسے ایک طرف تکیے پر لٹاتا ہوا فورا اٹھ کر رویا م کےکاٹ کے پاس آیا
بابا دد ہورااے۔(بابا درد ہو رہا ہے)۔۔۔وہ روتے ہوئے یارم کو کچھ بتا رہا تھا جب یارم نے اگلے ہی لمحے سے اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا
کیا ہوا میرا بچہ کیوں رو رہے ہو اس طرح بھوک لگی ہے میری جان کو ۔۔ابھی بابا آپ کو کچھ اچھا سا بنا کر دیتے ہیں
بوت نی لدی ۔دد اے (بھوک نہیں لگی درد ہے)وہ اس کے سینے میں سرچھپاتا روتے ہوئے بولا تو یارم جیسے تڑپا
کہاں درد ہے میرا بچا ۔۔۔۔؟کہاں درد ہو رہا ہے بتاؤ مجھے میں ابھی ڈاکٹر کے پاس لے کے چلتا ہوں ۔وہ اس کا سر چومتے ہوئے بخار چیک کرنے لگا بخار تو نہیں تھا لیکن رویام کو درد تھا
وہ بار بار اپنے سر کی طرف اشارہ کر رہا تھا
جب کہ یارم کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر وہ کہنا کیا چاہتا ہے
لیکن اس کے رونے میں شدت آرہی تھی ۔ اور اسے یوں درد سے تڑپتے یارم دیکھ نہیں سکتا تھا
روح اٹھو رویام کو درد ہو رہا ہے ڈاکٹر کے پاس لے کر چلتے ہیں
وہ روح کو جگاتے ہوئے بولا تو ابھی ابھی نیند میں اتری روح ہربڑا کر اٹھی
روح جلدی سے رویام کو لے کر باہر آو میں گاڑی نکالتا ہوں
وہ رویام کو اس کی گود میں ڈالتا باہر نکلنے ہی لگا تھا کہ روح کی چیخنے کی آواز سنائی تھی وہ جو کمرے سے ابھی ابھی باہر نکلا تھا فورا واپس آ گیا
رویام کے منہ اور ناک سے نکلتے خون کو دیکھ کر یارم بھی بکھلا گیا تھا وہ اسے جلدی سے آنے کا اشارہ کرتا رویام کو لے کرتیزی سے گاڑی کی طرف بھاگا
جبکہ روح تو اپنے بچے کی حالت دیکھ کر رونے لگی تھی
°°°°°°°
ہسپتال پہنچتے ہی اسے ایمرجنسی وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا
وہ مسلسل باہر ٹہلتے ہوئے ڈیکس پر بیٹھی روح کو حوصلہ دے رہا تھا
جب ڈاکٹر حسن باہر آیا
حسن کیا ہوا ہے رویام کو اسے اس طرح سے خون کی الٹیاں کیوں ہو رہی ہیں اس کے ناک سے خون کیوں بہہ رہا تھا
اسے درد کیوں ہو رہا تھا کیوں تڑپ رہا تھا میرا بچہ
یارم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ابھی اندر جائے اور ساری مشینری چیک کر کے پتہ کرے اخراس کے بیٹے کو ہوا کیا ہے
چپ کیوں ہے کچھ بول کیوں نہیں رہا کل لایا تھا نہ میں رویام کو یہاں تو نے اس کا چیک اپ کیا تھا تو نے کہا تھا نہ کل ریپورٹس ملے گی تو بول کیا ہے اسے کیا یہ سب کچھ بخار کی وجہ سے ہو رہا ہے کیا بخار اس کے دماغ میں چلا گیا ہے چپ کیوں بولتا کیوں نہیں ہے تو ۔۔۔؟
وہ بے حد غصے سے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر بولا حسن کوئی غیر نہیں بلکہ اسی کے ساتھ کام کرنے والا ایک ڈاکٹر تھا
دبئی آتے ہی پہلے یارم کی ٹیم کا حصہ بنا تھا اور اب انسانیت کے ناطے ہسپتال میں جاب کر رہا تھا
یار میری بات سنو تم اندر چلو کیبن میں ۔میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں ۔وہ اسے سمجھاتے ہوئے کہنے لگا روح کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا
اور ان کے ساتھ ہی وہ بھی کیبن میں چلی آئی
آپ دونوں بیٹھیں۔ وہ کرسی آگے کرتے ہوئے کہنے لگا اس کا انداز اتنا پرسرار تھا کہ یارم اور روح دونوں ہی گھبرانے لگے
حسن صاف صاف بات کر یارسب ٹھیک ہے نہ ۔۔۔۔؟اس کے انداز پر وہ چڑکر بولا
دیکھو یار میں اس طرح سے تمہیں نہیں بتاؤں گا بیٹھو ہم سکون سے بات کرتے ہیں جو بات میں تم لوگوں کو بتانے جارہا ہوں اس کے لئے تم دونوں کا دماغ پر سکون ہونا بہت ضروری ہے
وہ سمجھاتے ہوئے بولا یارم نے ایک نظر روح کو دیکھا جو پہلے ہی بری طرح سے رو رہی تھی وہ اس کے گرد بازو پھیلاتا اسے آہستہ سے کرسی پر بٹھا تا خود بھی بیٹھ گیا
یار میری بات کو بہت غور سے سننا اور سمجھنے کی کوشش کرنا ۔جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے دنیا میں ہر چیز کا علاج ممکن ہے
آج کل یہ بیماری عام بیماریوں میں شامل ہوچکی ہے جو بڑوں جوان اور بچوں میں بھی آنے لگی ہے
بکواس بند کر اور سیدھے بتا رویام کو کیا ہے اسے کوئی بیماری نہیں ہے وہ صرف بخار کی وجہ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے لکیمیا ہے حسن اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا
لکیمیا ۔۔۔۔۔۔۔۔!دماغ تو نہیں خراب ہوگیا تمہارا ڈھائی سال کا بچہ ہے اسے بھلا ایسی سنگین بیماری کیسے ہوسکتی ہے جاکے اپنی ڈاکٹر کی ڈگری چیک کروا
بالکل ٹھیک ہے میرا بچہ ہے اسے کچھ نہیں ہوا بس بیمار ہے ٹھیک ہو جائے گا مجھےخودہی اسے یہاں لانا ہی نہیں چاہیے تھا کسی اچھے ہسپتال میں لے کر جانا چاہیے تھا
روح خاموشی سے حسن اور یارم کو سن رہی تھی جبکہ اس کی بات پر یارم تو اپنے آپے سے باہر ہوگیا
یار میں جھوٹ نہیں بول رہا اسی لئے کل میں نے وہ رپورٹس تم لوگوں کو نہیں دی میں خود ان رپورٹس کو چیک کرنا چاہتا تھا اور یہ سچ ہے رویام کو لکیمییاہے
اور اگر اس کا علاج وقت پر نہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔
خبردار حسن جو ایک بھی لفظ اپنے منہ سے نکالا میں جان نکال دوں گا تیری یارم انتہائی غصے سے اس کی بات کاٹ گیا
ایسا کچھ بھی نہیں بول رہا یار میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اسے علاج کی ضرورت ہے
ہاں تو بتانا کہ اس کا علاج ہوسکتا ہے میں دنیا کے سب سے اچھے ہسپتال میں اپنے بچے کا علاج کر آؤں گا یارم نے کہتے ہوئے روح کی طرف دیکھا جو خاموشی سے کب سے ان دونوں کو سن رہی تھی
روح گھبراو مت کچھ نہیں ہو گا رویام کو تمہارا یارم اسے کچھ نہیں ہونے دے گا آنسو مت بہانہ بالکل نہیں رونا ہم اپنے رویام کو کچھ نہیں ہونے دیں گے میں ہوں نہ بس مجھ پر یقین کرو میں اپنے رویام کو کچھ نہیں ہونے دوں گا
روح کی حالت پر وہ حسن کو چھوڑ کر اس کی جانب متوجہ ہوا
رویام اس کی سہکی ہوئی اولاد تھی ۔جس کو اس نے سسک سسک کا دعاؤں میں مانگا تھا ۔وہ جانتا تھا اگر رویام پر آنچ بھی آئی تو روح جی نہیں پائے گی
حسن تو چپ کیوں ہے بول نا رویام کا علاج کہاں ہوگا ۔روح کی حالت جہاں اسے پریشان کر رہی تھی وہی رویام کا سوچ کر اس کا اندر کانپنے لگا تھا
وہ بے شک اپنی محبت کا اظہار نہیں کرتا تھا لیکن رویام میں اس کی جان بستی تھی
لکیمیاکا مطلب کیا ہے یارم وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی جس طرح سے یارم مچل اٹھا تھا بیماری کا سن کر یقیناً یہ کوئی بہت بڑی بیماری تھی
دوسرے نام میں اسے کینسر بھی کہا جاتا ہے بھابھی ۔لیکن اس کا علاج ممکن ہے ۔ہمیں صرف رویام کی طاقت کا اندازہ لگانا ہوگا کہ وہ کتنا برداشت کر سکتا ہے حسن نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
کیا برداشت کرے گا میرا بیٹا کس چیز کی طاقت کا اندازہ لگائیں گے آپ ان کی باتیں روح کی تو بالکل سمجھ میں نہیں آرہی تھی
ہم اس کی طاقت کا اندازہ لگائیں گے بھابھی کہ وہ کتنی تکلیف برداشت کر سکتا ہے ۔اس کے بوڈی سیل سے پتہ چلے گا کہ وہ کتنا درد سہ سکتا ہے
درد۔۔۔تکلیف وہ توہوا تک کو اپنے بچے کے قریب سے نہ گزرنے دے اور کتنی آسانی سے یہ ڈاکٹر اس کےدرد اور تکلیف سہلے کی بات کر رہا ہے
اس کا علاج مشکل نہیں ہے یارم ہمیں صرف اور صرف بون میرو چینج کرنا ہوگا ۔بس جس کے ساتھ اس کا بون میرو میچ کرتا ہے وہ اس کے ساتھ ٹرانسفر کر لے ۔
ہڈیوں کے بیچ میں جو ۔۔۔۔
وہ سب میں جانتا ہوں حسن کتنا وقت ہے یہ بتاؤ ۔میرے بچے کو بالکل تکلیف نہیں ہونی چاہیے ۔
بے شک یہ سب کچھ تم آج ہی کروا دو بلکہ اٹھو ابھی کرو میرے بچے کو کوئی درد نہیں ہونا چاہیے ۔
یارم تو ابھی گھر میں بولا اس کا وہ جملہ نہیں بھول پایا تھا ۔
بابادد ہورا اے۔(بابا درد ہو رہا ہے)۔۔وہ یہ لفظ سن کر ہی تڑپ اُٹھا تھا وہ کیسے اپنے بچے کو اس تڑپ میں رہنے دیتا
یارم ریلکس ہو جاؤ ۔پہلے مجھے چیک کرنا ہوگا کہ تمہارا بون میرو اس سے میچ بھی کرتا ہے یا نہیں ۔کیونکہ مجھے نہیں لگتا
مجھ سے کیوں میچ نہیں کرے گا میں باپ ہوں اسکا ۔اٹھو چیک کرو ۔
یارم یہ کوئی خون کا ٹرانسفارمیشن نہیں ہے کہ باپ کا خون یا ماں کا میچ کر جائے گا بون میرو دنیا میں بہت کم میچ کرتے ہیں سب سے زیادہ نیو بون بےبی کا میچ کرتا ہے
تمہیں تھوڑا عجیب لگے گا لیکن یہ سچ ہے اگر رویام کے پاس اتنا وقت ہوتا تو میں تمہیں یہی سجیسڈ کرتا کہ تم اپنی فیملی بڑھانے کے بارے میں سوچو لیکن رویام کے پاس کھینچ تان کر صرف ایک مہینہ بچا ہے
تمہارے پاس رویام کی جان بچانے کے لیے صرف ایک مہینہ ہے
حسن تم چیک تو کرو ہو سکتا ہے میرا بون میرو اس سے میچ کر جائے حسن کی بات نے انہیں سچ میں ڈرا دیا تھا
یارم میں تم مجھ سے انجان ہوں کیا میں تمہیں جانتا نہیں ہوں لیکن تمہاری تسلی کے لیےکرلوں گا
تمہارے سارے رپورٹس میرے سامنے ہیں تمہارا بون میرو رویام سے ٹین پرسنٹ بھی میچ نہیں کرتا
ہمارے پاس ایک مہینے کا وقت ہے یارم کسی نہ کسی ڈونر کو ڈھونڈ لیں گے کوئی نہ کوئی مل جائے گا تم پریشان مت ہو اللہ کوئی نہ کوئی راستہ ضرور دکھائے گا
اور تب تک میرا بچا درد میں تڑپتا رہے گا ۔روح کی آواز میں درد تھا جسے یارم کے ساتھ ساتھ حسن بھی محسوس کر چکا تھا
اسی لیے تو میں نے کہا کہ یہ بیماری رویام کی طاقت پر بیسڈ ہے
کہ وہ کتنی تکلیف برداشت کرسکتا ہے
مطلب میرا بچہ درد میں تڑپتا رہے گا اور ہم یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ وہ کتنا درد برداشت کرتا ہے ۔روح کی آنکھوں سے آنسو خشک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے
جب نرس بھاگتے ہوئے اندر آئی
میم آپ کے بچے کو ہوش آ چکا ہے اور اب آپ دونوں کو وہاں نہ پا کر رو رہا ہے پلیز آپ جلدی آجائیں نرس کے کہنے پر وہ دونوں ہی باہر کی طرف بھاگے
جب کہ حسن اپنی پاور کا استعمال کرتے ہوئے جہاں تک ہو سکے وہ ڈونر کا انتظام کرنے کی کوشش کرنے لگا
°°°°°°
میلے بابا تو بلاؤ ونہ می نووں دا۔۔(میرے بابا کو بلاؤ ورنہ میں روں گا)۔رویام نے نرس کو دھمکی دی لیکن اُس کو اس کی بات بالکل سمجھ نہیں آئی تھی لیکن دروازے پر کھڑے روح اور یارم اس کی بات کو اچھے سے سمجھ چکے تھے
نہیں میرا بچہ بالکل نہیں روئے گا بابا آ گئے ہیں ۔اس کے پاس جاتے ہوئے بولا جبکہ نرس نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا جہاں ڈرپ لگی ہوئی تھی ۔
اس کا چہرہ سرخ ہوا تھا ۔نہ جانے وہ کتنی تکلیف سے گزرا تھا یارم کو تو بس اس کی وہی پکار یاد تھی جو اس نے آدھی نیند میں سنی تھی
وہ اس کا ماتھا چومتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا چکا تھا جبکہ روح خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ گئی اس نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کے رویام کو اتنی بڑی بیماری نکل آئے گی
اور یہ ایک جان لیوا بیماری تھی یہ سوچتے ہوئے ہی روح کی روح کاپنے لگی تھی
اش تو اتالو۔(اس کو اتارو)رویام۔اپنے ہاتھ میں لگی ڈرپ کی طرف سے اشارہ کر رہا تھا جبکہ بھرپور کوشش نرس کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی تھی روح نے آہستہ سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا ۔
میرے بیٹے کو فیور ہے نا اس لئے ڈاکٹر نے یہ لگایا ہے بس تھوڑی دیر میں رویام بالکل ٹھیک ہو جائے گا ۔روح نے پیار سے اسے سمجھانے کی کوشش کی
مدرریام تو دد ہورا اے(مگررویام کو درد ہو رہا ہے)وہ بے حد معصومیت سے بولا
روح نے بڑی مشکل سے اپنی سسکیاں روکی تھی
جب کہ یارم نے آہستہ سے کاننھاساوجود اپنے سینے سے لگائے ڈرپ ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا
°°°°°°
لکیمیا کیا ہوتا ہے یہ کون سی بیماری ہے میں نے تو اس کے بارے میں کبھی بھی نہیں سنا مجھے تو لگتا ہے کہ ہمیں یہاں کسی ڈاکٹر کو دکھانا ہی نہیں چاہیے ہم رویام کو امریکا لے جاتے ہیں
شارف جب سے آیا تھا دائیں بائیں ٹہلتے ہوئے کچھ نہ کچھ بول رہا تھا
لکیمیا کیا تھا اس کا کیا مطلب تھا کوئی نہیں جانتا تھا سوائے اس کے کہ یہ ایک جان لیوا بیماری تھی اور رویام کی جان جاسکتی تھی اس کے پاس صرف اور صرف ایک مہینے کا وقت تھا
لکیمیاکو اسان الفاظ میں کینسر بھی کہہ سکتے ہیں۔جو بہت جلدی جسم میں پھیلتا ہے یہ زیادہ تر بچوں میں ہی پایا جاتا ہے یا برے لوگوں میں جو ایک حد سے زیادہ اپنی ہڈیوں کا استعمال نہیں کر پاتے
خضر نے اسے بتایا وہ آج ہی ہسپتال حسن سےمل کر آیا تھا اور حسن نے اسے وہ ساری باتیں بتائی تھی جو وہ یار م اورروح کے سامنے نہیں بول پایا
اس نے روح اور یارم کو بہت ساری باتیں نہیں بتائی تھی لیکن خضر کو اس نے دھوکے میں نہیں رکھا وجہ کہیں نہ کہیں یارم کا پاگل پن اور روح کا جذباتی پن تھا .وہ سمجھ سکتا تھا اس بیماری سے صرف رویام کو نہیں بلکہ روح اور یا رم کو بھی لڑنا ہے اس لیے وہ ان دونوں پر کوئی پریشر نہیں ڈالنا چاہتا تھا
اگر وہ انہیں ساری بات بتاتا تو یقیناً یہ دونوں ٹینشن میں آجاتے جس کی وجہ سے وہ بچے کی زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا
لیکن خضرکو یہ ساری باتیں کسی بھی طرح یارم کو بتانی تھی جو اس امید پر بیٹھا تھا کہ حسن کہیں نہ کہیں سے بون میرو کا انتظام کرلے گا
لیکن حقیقت یہ تھی کہ رویام کا بلڈ گروپ او نیگیٹو تھا جو بہت کم لوگوں میں پایا جاتا ہے اور اگر خون مل بھی جائے تو بھی بون میرو ٹیس کا میچ ہونا ایک ناممکن سی بات ہے ممکن تھا کہ بون میرو اور بلیڈ گروپ میچ ہوتا اور شاید ڈونر بھی انہیں آسانی سے مل جائے
ہوسکتا ہے لاکھوں ڈونرز مل جائے لیکن ان لاکھوں میں بھی شاید کوئی ایک ہی رویام کے تمام سسٹم سیل سے مل سکے گا
خضر خود بھی اپنا مکمل چیک اپ کروا کے آیا تھا خضر کے ساتھ رویام کے بلیڈ سیل 18 پرسنٹ تک میچ ہوئے تھے ۔لیکن یہ بھی رویام کی جان بچانے کے لیے بے حد کم تھا
حضرنے حسن کو بس اتنا ہی کہا تھا کہ رویام کی جان بچانے کے لیے وہ اپنا سب کچھ لٹانے پر تیار ہے بس وہ کہیں سےڈونر ڈھونڈ لائے ۔
جو اپنے آپ میں ایک بے حد مشکل کام تھا
°°°° ![]()
