Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 26)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

آپ مجھ سے ناراض ہیں۔۔۔۔۔وہ اپنی تکلیف کی پرواہ کیے بغیر بولی

میری کیفیت بیان کرنے کے لئے ناراضگی لفظ بہت چھوٹا ہے ۔وہ اس کے بالوں کو ہلکا سا جھٹکا دے کر بولا

معاف نہیں کریں گے میری غلطی وہ امید سے بولی سچ تو یہ تھا کہ وہ اس کے سینے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونا چاہتی تھی تحفظ چاہتی تھی اس کی محبت اس کی توجہ چاہتی تھی

غلطی ۔۔۔؟وہ حیرت سے غرایا

کیا کہا تم نے تم سے غلطی ہوگئی ۔۔۔میری روح تک تڑپا کر رکھ دی تم نے اور تم کہتی ہو کہ یہ غلطی تھی ۔۔

تم نے میری محبت کی توہین کی ہے روح اور یہ غلطی نہیں گناہ ہے ۔

یارم کاظمی کے عشق کی آگ کو بھڑکانے کا گناہ کیا ہے تم نے اور تمہیں اس گناہ کی سزا ملے گی ۔

اسی آگ میں جل کر تڑپو گی تم ۔اسی آتش میں بھسم ہوگی

میری چاہتوں کا میرے جذباتوں کا قتل کیا ہے تم نے اتنی آسانی سے معافی تو نہیں ملے گی تمہیں

اس کے ایک ایک آنسو کو اپنے لبوں سے چنتا وہ اپنے جنون کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہا تھا اس کے آنسوؤں کی پرواہ کیے بغیر وہ اپنے پیاسے لبوں کو اس کی گردن پر رکھ چکا تھا

اس کے اندر کی تپش نے روح کی گردن کو جلا دیا تھا ۔ وہ اسے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔وہ اس کی محبت چاہتی تھی اس کا جنون نہیں

لیکن وہ تو اپنی تڑپ اپنی آگ اس میں منتقل کرنا چاہتا تھا

اس کے دونوں بازوؤں کو تکیہ سے لگاتے ہوئے اس نے صرف ایک نظر اس کا چہرا دیکھا اور اس کے ماتھے کونرمی سے لبوں سے چھوتا اس کو پرسکون کر گیا لیکن روح کا یہ سکون صرف ماتھے سے لبوں کے سفر تک تھا

لیکن اس کے بعد وہ بے قابو ہو چکا تھا

اس کے ہونٹوں کو اپنے لبوں کی دسترس میں لیے وہ جنونی ہو چکا تھا

وہ کیسے بھول گئی کہ وہ یارم کاظمی تھا اور یارم کاظمی اپنے گناہ گاروں کو اس طرح سے معاف نہیں کرتا

اس بار تو روح نےاس کے جذبات کی توہین کی تھی اس کی تڑپ کی پرواہ نہیں کی تھی تو وہ کیسے اتنی آسانی سے بخش دیتا

وہ اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن یارم کو اس کا یوں مزاحمت کرنا مزید غصہ دلا رہا تھا

آگر اب تم نے ذرا سی بھی مزاحمت کی نہ روح تو مجھ سے برا اور کوئی نہیں ہوگا ۔اس کی سرد آواز پر روح کی ساری مزاحمت دھری کی دھری رہ گئی ۔

چہرے کے بعد لبوں پر اور اب ہونٹوں کے بعد اپنی گردن پر یارم کا جارحانہ لمس محسوس کر رہی تھی ۔

جبکہ وہ ایک ہاتھ سے اس کی آنکھوں پہ ہاتھ رکھتا ہے اس کی نمی سے بھرپور آنکھیں بند کر چکا تھا

اس کاہر ایک انداز شدت سے بھرپور تھا وہ اس کے عشق میں جلتی اس کی شدتوں کو برداشت کر رہی تھی وہ بھی بنا مزاحمت کے کیونکہ آج مزاحمت کا مطلب تھا یارم کو خود سے دور کرنا وہ پہلے ہی اس سے اس حد تک خفا تھا کی روح کو لگا کے وہ اسے کبھی منع ہی نہیں پائے گا

°°°°°°

اہ یار آرام سے کرو جان لینے کا ارادہ ہے کیا ڈاکٹراس کا بازو سیدھا کر رہا تھا جب خضر نے چلاتے ہوئے کہا

تو کس نے کہا تھا روح کو اتنے نایاب مشورے دینے کے لیے وہ تو شکر ہے کہ میں پریگنیٹ ہوں اس لیے بچ گئی

ورنہ تمہارا ہاتھ توڑا ہے مجھے تو پورا توڑ کے رکھ دیتا

لیلیٰ دو قدم اٹھاتی پیچھے ہوئی کیونکہ وہ ضرورت سے زیادہ ہی شور کر رہا تھا البتہ اس کا صرف ایک بازو ہی ٹوٹا تھا

یارم کا ارادہ تو اسے پورا پورا توڑنے کا تھا اور اگر وہ اپنے ارادے پر عمل کرتا تو یقینا وہ اب تک وہ بیوہ ہو چکی ہوتی

میں بھی شارف کا یہ احسان نہیں بھولوں گی ۔

آج پریگنیٹ ہونے کی وجہ سے میں بھی زندہ ہوں وہ لیلیٰ کے کان میں بولی تو لیلی میں نے ہنستے ہوئے شارف کی طرف دیکھا جس کی ناک پر بڑی سی پٹی میں لپٹی ہوئی تھی

تم دونوں کیا کھسر پھسر کر رہی ہو

شارف نے غصے سے کہا

تم لوگوں کی عقل کی تعریف کر رہے ہیں ماشاءاللہ سے اتنے نایاب مشورے دیے تھے نہ تم نے روح کو کہ اب ساری زندگی وہ تم سے بات بھی نہیں کرے گی نہ جانے اس بچاری کا کیا حال ہو رہا ہوگا

ویسے ایک بات بڑی کمال کی ہے ہمارا یارم اپنے سارے کام نپٹا کر روح کے پاس جاتا ہے

لیکن ایک چیز مجھے سمجھ نہیں آرہی یارم نے دلنشین کو قتل کیوں کیا اس نے کیا بگاڑا تھا وہ تو الٹا ہماری مدد نہیں کر رہا تھا

معصومہ نے پریشانی سے پوچھا

وہ مدد نہیں دکھاوا کر رہا تھا وہ بھی یارم کی جگہ لینا چاہتا تھا ۔

ہسپتال میں اس کا جو علاج ہورہا تھا وہ علاج تھا ہی نہیں اسے پاگل پن کے انجکشن لگائے جا رہے تھے

اور یارم پر حملہ کروانے والے وہ لوگ نہیں بلکہ دل نشین تھا اسپتال میں اس پر حملہ کروانے والے بھی دلنشین کے ہی لوگ تھے

پورے ہسپتال کی ٹیم اس کے ساتھ ملی ہوئی تھی یارم کو تو کافی دنوں سے شک تھا اس پر اسی لئے یارم وہاں سے نکل گیا اور اپنے پلان کے بارے میں ہمیں بھی بتانا ضروری نہیں سمجھا اور واپس آکر ہماری ہڈی پسلی ایک کردی خضر نے تکلیف سے کرہاتے ہوئے بتایا تو لیلیٰ کا بے ساختہ قہقہ بلند ہوا

جان من یہ آپ کے نایاب مشوروں کا ہی نتیجہ ہے

جو بھی تھا تمہیں روح کو یارم سے دور رہنے کا مشورہ نہیں دینا چاہیے تھاتم نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے اور یارم نے کہا ہے کہ جب بازو ٹھیک ہو جائے تو اس کے پاس واپس آنا وہ ایک اور دوذ دے گا

لیلیٰ نے مسکراتے ہوئے کرسی سنبھالی کیوں کہ اب مزید کھڑا رہنا اس کے لئے مشکل ہو رہا تھا

میرے خیال میں اب یارم سر کے لیے سکیورٹی گارڈ کا انتظام کرنا چاہیے وہ بہت خطرے میں ہیں معصومہ نے کہا تو شارف کے ساتھ ساتھ لیلی اور خضربھی ہنسنے لگے

معصومہ تم کتنی معصوم ہو میری جان اتنے دن سے یارم نے اپنے سارے خطرے اپنے ہاتھوں سے مٹا دیئے ہیں اب اس کے خطروں کو اسی کا خطرہ ہے

یارم اپنے لیے کبھی کسی سیکیورٹی گارڈ کا انتظام نہیں کرے گا کیونکہ وہ ساری دنیا کے سامنے ایک عام ایک نارمل زندگی گزارنا چاہتا ہے

وہ چاہتا ہی نہیں کہ لوگ اسے جانے اور کسی کو پتہ ہو کہ وہ کون ہے وہ کھل کر جینا چاہتا ہے اپنی روح کے ساتھ اور مجھے بھی نہیں لگتا کہ اسے کسی سکیوٹی گارڈ کی ضرورت ہے وہ اپنی سکیورٹی خود کر سکتا ہے

لیکن درک کا احسان ماننا پڑے گا کتنی ہوشیاری سے اس نے پتہ لگا لیا کہ ہسپتال کی ٹیم دلنشین سے ملی ہوئی ہے

شارف نے کہا تو خضر کا موڈ خراب ہو گیا

تم ہر بات میں اسے کیوں گھسیٹ لاتے ہو اس نے صرف یارم کو یہ بتایا تھا کہ دلنشین اتنا اچھا نہیں ہے اور وہ بھی شاید وہاں پر سٹہ نہ کھیل رہا ہوتا تو کبھی پتہ ہی نہیں چلتا کہ دل نیشین یارم کے خلاف کیا پلاننگ کیے ہوئے ہے ۔

اور وہ بہت براہے ا سے اچھا ثابت کرنا بند کرو وہ ایک اچھا انسان نہیں ہے اس نے اپنے باپ کا قتل کیا ہے اور روح اسے کبھی معاف نہیں کرے گی اسے ہماری زندگیوں سے نکل جانا چاہیے

خضر نے غصے سے کہا تھا

جبکہ اس کے تلخ لہجے پر شارف نے ہمیشہ کی طرح بات ہی بدل دی

اچھا چھوڑو ان سب باتوں کو یہ بتاؤ کہ یارم مجھے کہہ رہا تھا کہ وہ تمہارے اس نایاب مشورے کے انعام میں تمہاری زبان کاٹ دے گا تو کاٹی کیوں نہیں شارف کا انداز انتہائی شرارتی تھا

یارم نے کہا ہے کہ وہ ایسا ضرور کرتا بہت خوشی سے کرتا لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا ہونے والا بچہ یہ بات محسوس کرے کہ اس کا باپ بول نہیں سکتا

ویسے ہمارے ہونے والے بچے کی وجہ سے ہماری کافی بچت ہوگئی ہے لیلیٰ نے جواب دیتے ہوئے خضر سے پوچھا

ہاں بچت تو ہو گئی ہے لیکن مجھے ایک بات سمجھ نہیں آرہی کہ یارم نے اس کی صرف ناک کیوں توڑی یہ بھی تو میرے برابر کا گناہ گار تھا اسے بھی میرے برابر کی سزا ملنی چاہئے تھی وہ اپنے بازو پر بندھا پلاسک دیکھ کر بولا

ہاں میں بھی برابر کا گناہ گار تھا لیکن روح کو وہ نایاب مشورہ میں نے نہیں دیا تھا شارف نے ہنستے ہوئے کہا تو بے اختیار اس کے منہ سے چیخ نکل گئی کیونکہ اس کے ہنسنے کی وجہ سے اس کے ناک میں درد ہونا شروع ہو گیا تھا

آئندہ قہقہ لگانے سے پہلے یاد رکھنا کہ فی الحال تمہارے ناک کی عمارت کمزور ہے جو کبھی بھی گر سکتی ہے خضر نے اسے دیکھتے ہوئے پہلے تو شکر ادا کیا کہ اس کی ناک سلامت تھی پھر مشورہ دیتے ہوئے اٹھا انہیں گھر جانا تھا

ویسے تو یارم نے کہا تھا کہ وہ ایک ہفتے تک ان کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا لیکن خضر کو اپنی بھانجی بہت عزیز تھی

°°°°°

وہ سختی سے روح کو اپنے بازوؤں میں دبوچے آنکھیں بند کئے ہوئے تھا کافی دیر اسے یوں ہی پڑے دیکھ کر روح کو لگا کہ شاید وہ سو چکا ہے

اس کی سانسیں تیز تھی اور اس کی سانس تب ہی تیز ہوتی تھی جب وہ نیند میں اتر چکا ہوتا

روح کافی دیر اس کے چہرے کو دیکھتی رہی

بھری ہوئی داڑی کے ساتھ بالوں کی شیب بھی خراب ہوچکی تھی

اس نے کافی ٹائم سے ہیئر کٹ نہیں کیا تھا

آنکھوں کے نیچے سرخ لکیر تھی مطلب کے کافی وقت سے وہ بے آرامی میں تھا شاید ٹھیک سے سویا بھی نہ ہو روح نے آہستہ سے اپنی ایک انگلی یارم کی پلکوں پے رکھتے ہوئے اسے چھوا ۔

وہ سو رہا تھا اسی لیے ایسے ہی پڑا رہا روح نے مسکراتے ہوئے اس کے ماتھے کو لبوں سے چھوا وہ اس حالت میں بھی بے پناہ پیارا لگ رہا تھا

روح کا دل دھڑکنے کے لئے تو یارم کا اس کے پاس ہونا ہی کافی تھا

اس کی دونوں آنکھوں کو لبوں سے چھوتے ہوئے وہ مسکرائی

وہ کوئی خواب نہیں حقیقت تھا اس بات کا احساس یارم اسے تھوڑی دیر پہلے اچھے سے کروا کر سویا تھا

اس کے بازو پر ابھی تک یارم کی انگلیوں کے نشان تھے

جودیکھتے ہوئے وہ بے اختیار شرما کر اپنا ہی بازو چوم بیٹھی

آئی لو یو ۔۔اس کے کان میں میٹھی سرگوشی کرتے ہوئے وہ اس کے گالوں کو چوم کر اس کا ہاتھ اپنے اوپر سے اٹھانے ہی والی تھی ۔

کہ یارم کی آنکھ کھل گئی ایک ہی جھٹکے میں وہ اسے دوبارہ بیڈ پر پھینک چکا تھا

کیا مسئلہ ہے تمہیں سوتی کیوں نہیں ہو سکون سے وہ سرخ نگاہیں اس کی آنکھوں میں گھِاڑے بے حد سرداور غصے سے بھری آواز میں بولا

یارم وہ شاید باہر کوئی آیا ہے آواز آ رہی ہے وہ ایک لمحے کے لیے اس سے خوفزدہ ہوتے گھبرا کر بولی

تمہارا ماموں اور مامی ہوں گے ہسپتال سے واپس آ گئے ہیں شاید لیکن تم کہاں جا رہی ہو ایک مہینے سے انہیں کے ساتھ تھی نا اب کیا ان کے ساتھ ساری زندگی چپک کررہنے کا ارادہ ہے آرام سے پڑی رو یہیں پر اگر یہاں سے ہلنے کی بھی کوشش کی تو جان نکال دوں گا

وہ ایک بار پھراسے کسی تکیہ کی طرح دبوچ کر اپنے سینے سے لگا چکا تھا ۔اور اس کے ایسا کرنے سے پھر کسی ننھے پرندے کی طرح اس میں قید ہو چکی تھی

میرے بغیر اتنے دن نیند نہیں آئی نہ آپ کو ۔۔وہ۔بہت پیار اور معصومیت سے پوچھ رہی تھی یارم نے سرخ آنکھیں کھول کر اس کی جانب دیکھا

اگر اس دن فون اٹھا لیتی تو اپنی ساری بے قراریوں سنا دیتا لیکن اب میں تمہیں اپنی بے قراریاں سناؤں گا نہیں سہنے پر مجبور کروں گا

اب تم مجھ سے ایک انچ بھی دور ہوئی نہ تو اس طرح سے جان نکلوں گا کہ ساری زندگی ممنہ چھپاتے پھرو گی مجھ سے

وہ آنکھیں بند کر کے اسے دھمکی دیتے ہوئے بولا

یارم آپ نے مجھے معاف نہیں کیا ابھی تک وہ مایوسی سے بولی تھی

تمہیں لگتا ہے کہ تم معافی کے لائق ہو اگر تمہیں لگتا ہے تو مجھے نہیں لگتا اس کا سر زبردستی اپنے سینے پر رکھتے ہوئے وہ اسے حیران اور پریشان چھوڑ کر آنکھیں بند کر چکا تھا ۔

اور پھر اس کا ہاتھ تھام کر اپنے چہرے پر رکھ دیا

ایسے ہی چھوتی رہو مجھے۔۔۔ تمہارا ہاتھ تھامنانہیں چاہیے ۔وہ سرد آواز میں کہتا اسےشرمانے پر مجبور کر گیا یعنی کہ وہ جاگ رہا تھا اور اس کی ساری حرکتوں کو محسوس کر رہا تھا ۔

اور اب بھی چاہتا تھا کہ وہ اسے ایسے ہی چھوتی رہے

یارم نے ابھی تک اسے معاف نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ اسے معاف کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن روح کو یقین تھا کہ وہ اسے منا لے گی ۔

ہاں لیکن ذہن میں ایک سوال تھا کہ خضر ماموں کو ہوا کیا ہے کہ وہ ہسپتال گئے ہیں ۔پتہ نہیں یارم اس سے ملنے بھی دے گا یا نہیں سوچتے ہوئے یارم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے آنکھیں بند کر چکی تھی آج اسے بھی پرسکون نیند آنی تھی اپنے یارم کی باہوں میں

°°°°°°