Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 39)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 39)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
روح اور یارم اس وقت اسے سامنے بیٹھائے اسے دیکھ رہےتھے
روزہ کھولنے میں ابھی کافی وقت تھا یارم رمضان میں ٹائم پر گھر آنے کی کوشش کرتا تھا اور آج اتفاق سے وقت پر آ بھی گیا تھا
رویام دیکھ اگر تو نے بابا نہیں بولا نا تو میں تجھے کھا جاؤں گا وہ مصنوعی غصے سے بول رہا تھا
اورکب سے اس کی منتیں کر رہا تھا کہ وہ اسے ایک بار اسے بابا کہہ کر بلا لے
اتنے نخرے دکھانے کی ہمت آج تک کسی میں نہیں ہوئی تھی
اتنے نخرے دکھانے والے کی اکڑیارم ایک پل میں خاک کر دیتا تھا لیکن آج سامنے رویام تھا
لیکن اب اس نے وقت سے سمجھوتا کر لیا تھا اس کے نصیب میں ہی نکمی اولاد ہےتو اس کا کیا قصور
یارم ایسے نہیں بچوں سے پیار سے بولوایا جاتا ہے اتنے غصے سے نہیں اور آپ کا روزہ ہے آپ سے کھائیں گے کیسے ۔۔؟ وہ اسے رویام پر غصہ کرتے دیکھ برا مناتے ہوئے بولی
یارم نے گھور کر اسے دیکھا وہ اسے یاد کروا رہی تھی کہ اس کا روزہ ہے جیسے وہ سچ مچ میں اسے کھانے جا رہا ہو
رویام بیٹا بتاؤ بابا کے سامنے بولو کہ رویام کیسے بولتا ہے رویام ابھی بولے گا ماما ۔۔۔۔
ماما نہیں پہلے بابا بولے گا شاباش میرا بچہ ابھی بابا بولے گا
یارم کا بازو پکڑ کر اسے پیچھے کرتے ہوئے رویام کے مزید قریب کھسکا
کیوں بابا بولے گا پہلے یہ ماما بولے گا کیونکہ وہ ماں سے زیادہ پیار کرتا ہے پھر کچھ اور وہ بھی اسے پیچھے دھکیلتی خود رویام کے قریب آئی
جبکہ رویام شاید ان دونوں کو دیکھ کر کچھ سوچ رہا تھا جیسے فیصلہ کر رہا ہوکہ پہلے کیسے خوش کرے
شاباش میری جان اگر تو نے بابا بولا نہ تو پکا وعدہ میں اس نرس کے ساتھ تیری سیٹنگ کروا دوں گا
مجھے پتا ہے تو اسے بہت پسند کرتا ہے لیکن وہ تجھے زیادہ بھاؤ نہیں دیتی لیکن تیرا باپ ہے نہ تو فکر مت کر تیری باپ کی خوبصورتی کس دن کام آئے گی اب میں اپنے بچے کے لئے اتنا تو کرہی سکتا ہوں وہ اس کے دونوں گال چومتے ہوئے پیار سے بولا آج کل اس کی محبت کی شدت میں کمی آئی ہوئی تھی
لیکن افطاری کے بعد اگر وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا تو بچتا بھی نہیں تھا
چپ کریں یارم میرے معصوم سے بچے کو کن چیزوں میں لگا رہے ہیں اسے کسی نرس میں انٹرسٹڈ نہیں ہے سمجھے آپ میرا معصوم بچہ ۔۔۔پتا نہیں کیسے کیسے گندے الزام لگا رہے ہیں آپ اس پر دیکھئے ابھی ماما کہہ کر ثابت کر دے گا کہ تویام آپ سے زیادہ مجھ سے پیار کرتا ہے روح کے لہجے میں بہت مان تھا
اور پھر رویام صاحب بولنے کے لئے تیار ہوئے ایک لمبا سانس کھینچ کر اس نے ماں باپ کو دیکھا
جو با غور اسے دیکھ رہے تھےرویا کھلکھلایا تو وہ دونوں بےاختیار مسکرائے
سارا دھیان اسی کی جانب تھاجیسے وہ کوئی علان کرنے والا ہوں کہ وہ کس سے محبت کرتا ہے
اور پھر رویام نے ان دونوں کی امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے کہا
ب۔۔۔بھا۔۔۔۔بھائو۔۔۔۔۔بھائو۔۔۔۔۔۔اور اس کی یہ بھائو بھائو سن کر یارم اور روح دونوں کا منہ کھل گیا
روح نتپے اداس سی ایک نظر یارم پر ڈالی
ابے چپ کر کتے کہیں کے روح کی اداسی دیکھ کر یارم نے سختی سے کہا
یار آپ میرے بیٹے کو کتا بلا رہے ہیں روح تڑپ اٹھی
ہاں مگر غلط بلا رہا ہوں جانتا ہوں کتا تو بڑا سا ہوتا ہے یہ چھوٹا سا پپی ہے یارم کا غصہ کم نہیں ہوا تھا روح کے اتنے اداس ہونے پر اسے پہلی بار رویام پر اتنا زیادہ غصہ آیا تھا وہ کیسے اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر کتے کی آواز نکال سکتا ہے اسے ماما یا بابا کہنا چاہئے تھا
کیوں ریکارڈ قائم کر رہا ہے ۔تو انسانوں کا بچہ ہے
یارم کیا ہوگیا ہے آپ کو وہ بچہ ہے سارا دن تو شونو کے ساتھ رہتا ہے تو ایسی آواز نکالے گا نا اور اس کو کیا پتہ ہے کہ اس نے ہمیں کیا کہہ کر بلانا ہے ماما یا بابا یا کچھ اور ہم سکھائیں گے تو پتہ چلے گا نا یار م کی ڈانٹنے پر وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی
لیکن سحری میں تو تم کہہ رہی تھی کہ اس نے تمہیں پکارا ہے یارم اسے گھورتے ہوئے بولا
او ہو تو تب اس نے مجھے ماما کہہ کر تھوڑی نہ بلایا تھا اس نے تو مجھے روح کے کر بلایا تھا
روح نے رویام کی صفائی میں بولا
حد درجہ بدتمیز اولاد ہے اس اتنا بھی نہیں پتا کہ ماما کو نام سے نہیں بلاتے
اوہو یار م اس کے سامنے تو آپ مجھے روح کہہ کر بلاتے ہیں اور بچہ جو سیکھے گا وہی تو بولے گا اس کے ڈانٹنے پر پھر سے سمجھاتے ہوئے بولی
تو اب یہ سیکھے گا کیسے مطلب ابدن اتنے برے آگئے ہیں کہ میں تمہیں مما کہہ کر بلاوں ہوگا
وہ اسے گھورتے ہوئے بولا تھا اور روح نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر مارا جو ضرورت سے زیادہ سخت لگ گیا وہ اپنا ماتھا مسلتے ہوئے یارم کو دیکھنے لگی جو اس کا ہاتھ ہٹا کر خود اس کے ماتھے پر مساج کرنے لگا
کیوں تکلیف دے رہی ہو خود کو جانتی نہیں ہے مجھے وہ غصے سے گھورتے ہوئے بولا
یارم میرا مطلب تھا ہم اسے سکھائیں گے وہ سیکھے گا نا اب میں اس کو سمجھایا کروں گی کہ یہ مجھے ماما اور آپ کو بابا بلایا کریں کیونکہ ابھی تو اس کو پتہ ہی نہیں ہے کہ اس نے ہمیں کیا کیا کہہ کر بلانا ہے
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اسے آہستہ آہستہ رشتوں کے بارے میں سمجھانا شروع کریں روح نے سوچتے ہوئے کہا اور نظر گھڑی کی طرف دوہرائیں جہاں روزہ کھلنے میں صرف آدھا گھنٹہ باقی تھا
اوہو یارم آپ نے مجھے یہاں باتوں میں لگا دیا مجھے ابھی پکوڑے بھی تلنے ہیں وہ اٹھتے ہوئے بولی
یرام نے ایک نظر اسے دیکھ کر ہاں میں سر ہلایا تو وہ اٹھ کر اندر چلی گئی
°°°°°°°
دیکھ رویام مجھے بابا بے شک مت بولب اھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اگر کبھی بھی روح اور میرا مقابلہ ہونا تو تجھے روح کو ہی چھننا ہے کیونکہ تیرا باپ اس سے بہت پیار کرتا ہے
اور وہ تیری ماں کی آنکھ میں بالکل اداسی نہیں دیکھ سکتا اور اگر تو نے میری بیوی کو اتنی سی بھی اداسی دی نا تو میں تیرا وہ حال کروں گا جو ساری زندگی یاد رکھے گا
اور یہ جو تو نے ابھی کتے کی طرح بھائوکی ہے نہ اس کی سزا میں تجھے دونگا افطاری کے بعد چلا آ جاباہر چلتے ہیں کیا یہاں کمرے میں بیٹھا ہوا ہے باہر ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے یہ اے سی کی ہوا ہے صحت نہیں بناتی
اچھی صحت کے لئے ٹھنڈی اور تازہ ہوا لینا ضروری ہے چل جلدی سے آ جاؤہ اس کا ہاتھ تھامتا اسے زمین پر اتار چکا تھا
رویام زمین پر بیٹھنے کی کوشش کر رہا تھا کیوں کہ فی الحال وہ چل نہیں سکتا تھا لیکن اگر زمین پر اتار دیا جائے تو وہ کبھی بھی کسی بھی کونے تک جا سکتا تھا
لیکن یارم نے اس کا ہاتھ اتنی سختی سے پکڑا ہوا تھا کہ رویام نے نظریں اٹھا کر غصے سے اس کی جانب دیکھا
ابے چل اٹھ مجھے زمین پر رینگنے والے بچے بالکل پسند نہیں ہیں قدم سے قدم ملا کر چل میرے ساتھ
بڑا آیا یٹھنے والا کھڑے ہو جا
خبردار جو زمین پر بیٹھا چل قدم سے قدم ملا میرے ساتھ وہ اس کا ہاتھ تھامتا اسے زبردستی چلوانے کی کوشش کر رہا تھا
جس پر رویام کا منہ چکا تھا وہ رونے کی مکمل تیاری کر چکا تھا لیکن یارم نے اسے رونے کی اجازت نہیں دی تھی
اس کی ایک صرف گوری پر وہ خاموشی سے اس کے ہاتھ کے سہارے سے اٹھنے لگا اور پھر زبردستی چلنے کی کوشش بھی کرنے لگا
جب اسے اچانک ہی دروازے کے قریب سے نیلا آنچل نظر آیا اس نے ایک ہی لمحے میں رویام کو اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا تھا
میرا شہزادہ خود چلنا چاہتا ہے ابھی پیر تو لگنے دےبیٹا پھر چلنے کی کوشش کرنا فی الحال تو صرف زمین پر کیڑوں کی طرح رینگ اس کے دونوں گالوں کو چومتاوہ محبت سے بولآآ
روح آج کل بالکل بے فکر تھی
روزے کی حالت میں یارم اس پر بالکل تشدد نہیں کرتا تھا اس لئے وہ اسے اکیلا چھوڑ دیتی تھی اس کے ساتھ بنا کسی ڈر خوف کےلیکن یارم کو افسوس تھا کہ وہ اسے اپنی مرضی سے پیار کیوں نہیں کر پاتا
لیکن افطاری کے بعد وہ خوب بدلے نکالتا تھا
کیا ہوا یارم کیا یہ چلنے کی کوشش کر رہا تھا اس کی بات سن کرروح خوشی سے بولی یارم نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا
ہاں یہ تو کوشش کرنا چاہتا ہے لیکن مجھے لگتا ہے فی الحال اس کے پیراس کا ساتھ نہیں دیں گے ابھی چھوٹو شا ہے نا میرا شہزادہ وہ اس کے دونوں گال چومتا بہت پیار سے بولا روح کو تو باپ بیٹے کے پیار پر بے حد پیار آیا تھا
یہ بات الگ تھی کہ تھوڑی دیر پہلے والے واقعے کو وہ بالکل نہیں جانتی تھی اگر جانتی تو اس وقت یارم کی ایک اور لڑائی ہو چکی ہوتی
کوئی بات نہیں تھوڑے عرصے میں میرا بیٹا اپنے پیروں پر چلنے لگے گا وہ خوشی سے کہتی واپس جانے لگی
ان شاءاللہ تم افطاری کا سارا سامان باہر لان میں لگا دو میں اوررویام تھوڑی دیر وہاں واک کرنے جا رہے ہیں
وہ اس سے کہتا باہر چلا گیا جبکہ دھیان اب بھی اس کے گالوں پر تھا
جو صرف اور صرف رمضان کی وجہ سے سفید تھے ورنہ اس کی جارحانہ محبت سرخ ہوئے ہوتے
°°°°
روح کو جگا کر وہ خود نماز ادا کرنے گیا تھا ابھی واپس آیا تو دیکھا رویام بیڈ پر ایک دم تیار بیٹھا ہے سفید کرتا شلوار اور اوپر سے بلیک واسکٹ پیروں میں ننھی ننھی سی کھیریاں اسے شہزادہ بنا رہی تھی
یارم کا دل چاہا کیا بھی اس کے پاس جائے اور دل کھول کر اسے پیار کرے لیکن پھر وہ عید والے دن اسے روتے ہوئے بھی نہیں دیکھ سکتا تھا اسی لیے اپنے جذبات پر کنٹرول کر گیا
اس نے خود بھی بالکل اسی کے جیسے ہی کپڑے پہن رکھے تھے روح نے خود بنوائے تھے رویا م اوریارم کے کپڑے اور روح کی پسند میں وہ دونوں شہزادوں سی آن بان رکھنے والے بے حد پیارے لگ رہے تھے
اس کی ڈریسنگ کا کلر بھی ان کے جیسا ہی تھا اس نے سفید رنگ کا کرتا شلوار اور اس کے اوپر بلیک کلر کا نیٹ کا دوپٹہ لیا ہوا تھا
یہ رویام کی پہلی عید ان دونوں کے لیے بے حد اسپیشل تھی
میرا شہزادہ بچہ کتنا پیارا لگ رہا ہے ماشاء اللہ وہ اس کا ماتھا نرمی سے چومتا ہوا پیچھے ہٹا جب داھیان سپشونو کی جانب گیا
سفید رنگ کا کتا چھوٹی سی کالی شرٹ پہنے ہوئے تھا
روح نے تو آج اچھی خاصی میچنگ کروا ڈالی تھی سب کو
شونو صاحب ہیرو لگ رہے ہو اور ایک نظر شونو کو دیکھتا آنکھ دبا کر بولا
جبکہ شونو اپنی دم ہلاتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کر رہا تھا
رویام بیڈ پتبیٹھا کھکھلا رہا تھا اور جو چیز اس سے زیادہ ایکٹ کر رہی تھی وہ تھے اس کے پیروں کے جوتے
جن پر وہ پورا پورا دھیان دیتا پورا پیر اٹھا کر دیکھتا اور یارم کو بھی اشارہ کرتا
اس کے ننھے سے پیروں پر چھوٹے چھوٹے سے جوتے بے حد پیارے لگ رہے تھے
اس سے نظریں ہٹا کر وہ روح کو تلاش کرنے لگا جو شاید کچن میں کچھ بنانے میں مصروف تھی
اس نے جیب سے ایک کڑک نوٹ نکال کر اس کی ہتھیلی میں تھمایا جو کہ اس کی طرف سے اس کی عیدی تھی
اور پھر شونوکو اس کے پاس رہنے کا اشارہ کرتا ہے خود کیچن میں چلا گیا آخر اس کو بھی تو اپعیدی دینی تھی اور لینی بھی تھی
°°°°°°°
اس نے کچن میں قدم رکھا تو وہ شیر خورمہ بنانے میں مصروف تھی سب نے تھوڑی ہی دیر میں آ جانا تھا اسی لیے وہ پہلے ہی ساری تیاری کر لینا چاہتی تھی
بریانی دم پر رکھی ہوئی تھی جب کہ اس کا سارا دھیان کرائی میں کبابوں کی طرف تھا
جب اچانک یا رم نے اسے پیچھے سے پکڑ لیتے ہوئے اس کا چہرہ اپنی طرف کیا اور اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی دسترس میں لیا
اور اپنے انداز میں اسے عید وش کرنے لگا
عید مبارک بےبی اور تھینک یو سو مچ میری عید اتنی سپیشل بنانے کے لیے رویام کی پہلی عید بے حد اسپشل ہے اور ہمیشہ رہے گی وہ اس کا گال لبوں سے چھوتے ہوئے پیچھے ہٹا جبکہ یارم کی اس حرکت نے اسے سرخ کر دیا تھا
آج بھی اس شخص کی قربت اسے کہیں کا نہیں چھوڑتی
اگر لیلیٰ اور معصومہ یہاں ہوتی تو ایک منٹ میں ان کو پتہ چل جاتا کہ روح کی سرخ رنگت صرف اور صرف یارم کی جسارت کی وجہ سے ہے
حد ہوتی ہے یار م کبھی تو ہوش کر لیا کریں ابھی کوئی آ جاتا تو ۔۔۔!وہ اپنے حواس پر قابو پاتی اسے ڈانٹتے ہوئے بولی تو وہ مسکرا دیا
ہاں رو میں نے ایسا بھی کیا کر دیا صرف عید ہی تو دی ہے تمہیں اور اب عیدی لونگا اور اب دو میری عیدی وہ پیار سے ہاتھ اس کے سامنے پھیلاتے ہوئے بولا
آپ اپنی عیدی لے چکے ہیں اس نے اس کی تھوڑی دیر پہلے والی جسارت کی طرف اشارہ کیا
اب آپ مجھے میری عیدی دیں وہ اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیلاتے ہوئے بولی
اس حساب سے تو میں نے بھی تمہیں چھ مہینے پہلے ہی عیدی دی ہےایک شہزادے کے روپ میں اس سے زیادہ پیاری تو کوئی عیدی میں تمہیں دے بھی نہیں سکتا وہ اپنا ووٹ نکال کے اس کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے بہت پیار سے بولا
روح نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا اور اس کا الٹ بھی اپنے پاس ہی رکھ لیا
بات تو اس کی بالکل سچ بھی رویام سے زیادہ پیاری تو عیدی ویسے بھی اس کے لئے اور کوئی ہو بھی نہیں سکتی تھی
°°°°°
وقت گزر رہا تھا رویام کی پہلی سالگرہ آنے والی تھی
جس کے لئے خوب تیاریاں کی جارہی تھی ہر کوئی اپنی طرف سے رویام کی سالگرہ کی تیاریوں میں اپنا حصہ ڈال رہا تھا
حضر اپنی بچیوں سے بھی بے حد محبت کرتا تھا لیکن رویام کے ساتھ اس کی اٹچیمنٹ الگ ہی لیول کی تھی
وہ اس سے بے حد چاہتا تھا اور جانتا تھا کہ رویام بھی اس سے بہت پیار کرتا ہے وہ بھی اس کے ساتھ بے حد خوش رہتا تھا
جب کہ شارف تو صاف کہتا تھا کہ رویام میں الگ ہی لیول کی کشش ہے کہ اسے اپنی طرف کھینچتی ہے
صارم ہفتے میں ایک دن ضرور اس کے پاس چکر لگاتا
لیلیٰ نے کئی بار یارم سے کہا تھا کہ وہ اسے اپنے آفس میں لایا کرے لیکن یارم نے صاف انکار کر دیا وہ اپنی فیملی کو اپنے کام سے بہت دور رکھنا چاہتا تھا
وہ تو شاید روح کو بھی یہ سب کچھ کبھی بھی نہ بتاتا کہ وہ کیا کام کرتا ہے لیکن روح ایک دن ہو رہی سب کچھ جان گئی تھی
اور وہ اس کے ساتھ بھی تھی وہ جانتی تھی کہ یارم بُروں لوگوں کے خلاف کام کرتا ہے اور اسے یارم کے کام پر کوئی اعتراض بھی نہیں تھا
لیکن یارم کو اعتراض تھا وہ اپنی فیملی کو اس خون خرابے سے دور رکھنا چاہتا تھا
اس نے لیلی اور معصومہ کو بھی منع کر دیا تھا کہ اب وہ یہ کام نہ کرے شارف اور خضر پر ساری ذمہ داری ڈال دیں
لیکن معصومہ اور لیلی کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانا چاہتی ہیں یہ ان کا کام ہے جو وہ تاحیات کرنا چاہتی ہیں ان کی ضد کے سامنے یارم نے مزید کوئی بحث نہیں کی لیکن اپنی فیملی کو اس نےاس سب سے دور ہی رکھا ہوا تھا
روح کی سب کچھ جاننے کے باوجود بھی وہ کبھی اس کے سامنے ان سب چیزوں کا ذکر نہیں کرتا
اس کی روٹین آج بھی ویسی ہی تھی صبح ایک عام انسان کی طرح گھر سے نکلنا سارا دن وہ کتنے لوگوں کو مارتا ہے کن لوگوں کو کاٹ کر ان کی زندگیاں ختم کر دیتا ہے اس سب سے کوئی بھی واقف نہیں تھا
اس کے پاس انپورٹ ایکسپورٹ کی کمپنی کے لیگل کاغذات موجود تھے جو کہ ایک عام سی کمپنی تھی اور سپورٹ کا سامان پاکستان سے دبئی اور دبئی سے پاکستان اور دوسرے ممالک میں شیفٹ کرتی تھیں
یہاں پر بہت سارے لوگوں کی ملازمت چل رہی تھی
یارم نے یہ کمپنی تقریبا دس سال پہلے اپنے حلال پیسوں سے بنائی تھی اور اسی سے آنے والے پیسوں کو وہ روح اور رویام پر خرچ کرتا تھا
ڈان بننے کے بعد دولت کی کمی اسے کبھی بھی نہیں ہوئی تھی لیکن وہ سارا پیسہ وہ یتیموں غریبوں ور ٹرسٹ میں دیتا تھا
اسے اس پیسے سے کوئی مطلب ہی نہیں تھا وہ روح اور اپنے بچے کو کبھی بھی حرام نہیں کھلانا چاہتا تھا اور نہ ہی اس نے کبھی انہیں حرام کھلایا تھا
اور یہ روح بھی بہت اچھے طریقے سے جانتی تھی
اسے اپنے شوہر پر فخر تھا جو ہر لحاظ سے ایک پرفیکٹ انسان تھا دنیا اسے ایک عام انسان کی طرح جانتی تھی کوئی اس بات سے واقف نہ تھا کہ وہ ڈیول کے روپ میں نہ جانے کتنے حیوانوں کو اس دنیا سے ہٹا چکا تھا اور کتنوں کا صفایہ ابھی بھی کرنا تھا
°°°°°°
