Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 41)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 41)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
بس کر دو خضر۔۔۔۔۔تم کیوں مجنوں کی طرح یہاں بیٹھ گئے ہو ۔۔۔۔؟
ہم ہر ویک ان سے ملنے جایا کریں گے
آور بیٹوں پر بڑا پیار آتا ہے تمہیں
کبھی مجھ سے تو اتنا پیار نہیں دکھایا۔
جب سے یہ دونوں ہماری زندگی میں آئی ہیں تم تو مجھے بالکل ہی نظرانداز کر دیتے ہو لیلی اسے منانے کی خاطر اس کا دھیان بٹانے کی کوشش کر رہی تھی
لیلیٰ پلیز میں اس وقت یہ ساری فضولیات میں نہیں پڑنا چاہتا وہ اس کا ہاتھ اپنے کندھے سے جھٹکتے ہوئے کافی غصے سے بولا
خضر ساری زندگی کے لیے نہیں بھیج رہی میں ان دونوں کو
کیوں اتنے اداس ہو گئے ہو لیلیٰ پریشانی سے اس کے پاس ہوئی۔
وہ اتنی سی بات کو کچھ زیادہ ہی سر پر سوار کر چکا تھا۔ساری دنیا کے بچے باہر پڑھنے کے لیے جاتے ہیں تو کیا ان کے والدین اس طرح سے ری ایکٹ کرتے ہوں گے لیلی کے لیے خضر کا انداز ناقابل قبول تھا
جو تین دن سے منہ بنائے ہوئے تھا اس سے بھی سیدھے منہ بات نہیں کر رہا تھا
لیلیٰ کیا تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہمارے گھر سے ہماری بچیاں جانے والی ہیں
نہ جانے کتنے کتنے دن میں ان کا چہرہ نہیں دیکھ پاؤں گا ۔ان سے بات نہیں کر پاؤں گا انہیں محسوس نہیں کر پاؤں گا مجھے ان کی آواز نہیں سنائی دے گی جب میں گھر آؤں گا تو کوئی مجھے بابا بابا کہہ کر میرے پاس آ کر میرے سینے سے نہیں لگے گا
اور تم مجھ سے پوچھ رہی ہو کہ میں کیوں اداس ہوں
میری بچیاں ہیں میرے جگر کا ٹکڑا ہیں میں انہیں خود سے دور جاتے نہیں دیکھ سکتا
اب بھی وقت ہے اپنا فیصلہ بدل لے لیلیٰ ہم ان دونوں کو سنبھال سکتے ہیں ہم انہیں پروٹکشن دیں گے ہم ان کے والدین ہیں ان کا خیال رکھ سکتے ہیں
وہ اس کے دونوں ہاتھ تھامے اسے سمجھانے لگا
دیکھو خضر میں بھی ان سے محبت کرتی ہوں وہ میری بھی بچیاں ہیں میرے لیے بھی اہم ہیں وہ میرے لیے اتنی ہی اہمیت رکھتی ہیں جتنی تمہارے لیے اس گھر سے جانے کے بعد میری زندگی بھی ویران ہوگی صرف تمہاری ہی نہیں
ہم انہیں اپنے پاس رکھ کر بھی ان کی حفاظت کر سکتے ہیں لیکن اس سے ہم ہر وقت ڈرتے رہیں گے کہ ہماری بچیوں کو کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے
ہم اپنے فرض کو ٹھیک سے انجام نہیں دے پائیں گے میں انہیں ایک ایسی زندگی دینا چاہتی ہوں جس میں وہ آزادی سے سانس لے سکیں گیں ہم انہیں گھر سے باہر نہیں نکلنے دیتے کہیں لے کر نہیں جاتے
تم نے نوٹ کیا ہے مہرکسی سے بھی اپنے دل کی بات شیئر نہیں کرتی سوائے یارم کے
ہمیشہ خاموش رہتی ہے الگ رہتی ہے کچھ دن پہلے مجھ سے پوچھ رہی تھی ماما اگر ہم اکیلے گھر سے باہر جائیں گے تو کیا گندے لوگ ہمیں مار ڈالیں گے میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا خضر۔
وہ میری بچیاں ہیں میں ان کو ساری زندگی ڈرتےنہیں دیکھ سکتی اپنے ہی گھر میں وہ کھل کر سانس نہیں لے پاتی
میں بس یہ چاہتی ہوں کہ میں اپنی بچیوں کو ایک ایسا ماحول دوں
جس میں وہ محفوظ رہیں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی جبکہ خضر بنا کچھ کہے اٹھ کر باہر چلا گیا
جہاں اس کی دونوں بیٹیاں کھیل رہی تھی کل یہ لان بالکل خالی ہو جانا تھا
اس کی پریاں جانے والی تھی اور پھر ایک ہفتے کے بعد صرف دو گھنٹے کے لیے ملاقات خضر کے لیے یہ لمحات ہی مشکل تھے
°°°°°°
یہ اللہ پتا نہیں لیلیٰ کے پاس اتنا بڑا جگرا کہاں سے آیا مجھ میں تو اتنی ہمت نہیں ہے کہ مشارف کو ایک دن بھی خود سے دور کر سکوں
اور وہ کیسے اپنی بچیوں کو تو یہاں سے دور بھیج رہی ہے
وہ دودھ گرم کرتے ہوئے مسلسل شارف سے باتیں کر رہی تھی
ہاں بات تو سچ ہے یار لیلی نے واقعی ہمت دکھائی ہے
خضر تو ابھی تک مان نہیں رہا ویسے یارم نے اسے سمجھایا ہے کہ لیلیٰ ایک طرح سے ٹھیک کر رہی ہے لیکن بچوں کو خود سے دور کر دینا کہاں کی عقلمندی ہے
لیکن لیلیٰ کا کام بھی بہت زیادہ ہے دیکھو تم تین بجے گھر واپس آ جاتی ہومشارف کے ساتھ وقت گزارتی ہولیکن لیلی کے پاس بالکل وقت نہیں ہوتا
وہ دونوں تو اپنی بچیوں پر ٹھیک سے غور نہیں کر پاتے ان کی پڑھائی بھی متاثر ہو رہی ہے ۔
اور آج کل دشمنوں کی نظر بھی ہے خضر اور لیلی پہ پچھلے دنوں ان کے گھر پر حملہ ہوا تھا بچیوں کو بھی نقصان ہو سکتا تھا
اس حساب سے لیلی کا فیصلہ بالکل ٹھیک ہے
شارف نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ۔
معصومہ دودھ گرم کر کے باہر آ گئی اور اب مشارف کو دیکھتے ہوئے یہی سوچ رہی تھی کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ تو اپنے بچے سے ایک پل کے لئے بھی دور نہیں ہو سکتی
پتہ نہیں لیلیٰ یہ وقت کیسے گزارے گی فی الحال تو وہ خود کو بہت مضبوط ظاہر کر رہی تھی لیکن تھی تو ایک ماں
اور اپنی اولاد سے دور رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے یہ ایک ماں سے بہتر اور کون جان سکتا تھا
اس نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر یہ فیصلہ کیا تھا
جو خضر کو ابھی تک قبول نہیں تھا
خضر باپ ہوکر اپنے بچوں سے دور جانے کے فیصلے کے خلاف تھا
تو لیلیٰ نے تو انہیں جنم دیا تھا وہ کس طرح سے یہ سب کچھ فیس کر رہی تھی وہی جانتی تھی
لیکن فی الحال تو خضر اسی کے ہی خلاف ہوا بیٹھا تھا جو اسے اس کی بچیوں سے دور کر رہی تھی
°°°°°
یارم کی آنکھ کھلی تو وہ اس کے ساتھ بنا شرٹ الٹا سو رہا تھا
وہ جب سے بڑا ہو رہا تھا اس نے یارم کی ساری عادتیں اپنائی ہوئی تھی
شرٹ پہن کر سونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
اور اب تو صبح ہوتے ہی وہ ان کے پیچھے پیچھے جیم روم میں بھی پہنچ جاتا تھا
اور ایکسرسائز کرنے کی پوری کوشش کرتا
اور اس کا یہ شوق دیکھتے ہوئے ہی یارم اس کے لئے منی مشینری منگوا رہا تھا
فی الحال تو وہ گہری نیند میں تھا یارم سیدھا ہو کر بیٹھا اور بیڈ کران سے ٹیک لگائی روح نے صبح چار بجے کے قریب اسے بیڈ پر رکھا تھا
اور اس کے بیڈ پر آتے ہی اُس نے شرارتیں شروع کرکے یارم کو جگایا تھا اور پھر خود دودھ پی کر آرام سے سو گیا
اس نے ایک نظر دوسری جانب سوئی روح کو دیکھا جس کا ہاتھ رویام کی پیٹھ پر تھا
اس نے نرمی سے رویام کے ماتھے پر پیار دیا اور آہستہ سے روح کا ہاتھ بٹاتا اسے اٹھا کر اپنے ہی روم میں موجود بےبی کاٹ میں لٹا دیا
جو کہ اب پہلے سے تھوڑا بڑا اور بیڈ کی شیپ میں آ چکا تھا لیکن تھا ابھی تک انہیں کے کمرے میں موجود
کیوں کے روح کا کہنا تھا کہ جب تک رویام پانچ برس کا نہیں ہو جاتا تب تک وہ اسے الگ کمرے میں نہیں لائے گی
اور یارم نے اس کے فیصلے کو اب قبول کرلیا تھا اسے بےبی کاٹ میں سلا کر وہ واپس روح کے پاس آیا
وہ گہری نیند میں سوئی بے حد معصوم لگ رہی تھی پہلے دن کی طرح پاکیزہ بے شمار محبتیں سمیٹی ہوئی اس کی معصوم سی روح
آج کل روح کے ساتھ اس کا صبح ہی وقت گزرتا تھا جب رویام صبح کے وقت گہری نیند میں ہوتا ورنہ تو وہ رات بھی اس وقت سوتا تھا جب روح سوچکی ہوتی اگر اسے یارم کا دشمن کہا جاتا تھا تو یہ غلط نہیں تھا وہ روح اور یارم کے رومینس کا بھی دشمن تھا
لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ اس میں یارم کی جان بستی تھی اسے دیکھے بنا تو اسے سکون نہیں آتا تھا صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے ان دونوں کا چہرہ دیکھتا تھا تب ہی اس کا دن اچھا گزر تا ۔
اس نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر دوسری جانب سوئی روح کو روح کا معصوم چہرہ دیکھ کر اس کی نیت خراب ہونے لگی تھی
وہ آہستہ سے بیڈ پر واپس آیا اور وہ اس کو ایک ہی لمحے میں کھینچ کر اپنے قریب کر لیا
وہ بوکھلا کر آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی جو مسکراتا ہوا ابھی اس کی گردن پر جھک کر اپنی محبت کا اظہار کر رہا تھا
یارم کیا کرتے ہیں آپ ڈرا دیا مجھے اس کے لبوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کر کے وہ منمنائی تھی
یہی تو مسئلہ ہے تم ڈرتی بہت ہو اب تو تمہیں عادت ہو جانی چاہیے یارم کہتے ہوئے اس کے چہرے پر جھکا اور اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی دسترس میں لے کر اپنی جارحانہ محبت کا اظہار کرنے لگا روح کی سانسس روکنے لگی تھی
لیکن یارم کو اس وقت صرف اور صرف اپنے بڑھتی ہوئی تشنگی کی فکر تھی جو روح کے قریب جائے بغیر تو ختم ہو نہیں سکتی تھی
آئی لو یو یار کیسے ہو سکتی ہے مجھے تم سے اتنی محبت میں پاگل ہو جاؤں گا تمہارے پیار میں
اپنی والہانہ محبت اس پر نثار کرتے ہوئے وہ کھلے لفظوں میں اعتراف عشق کر رہا تھا
روح آج بھی اس کے انداز پر بوکھلا کر رہ جاتی تھی
شادی کے سات سال بعد بھی یارم کی محبت میں کمی نہیں آئی تھی بلکہ اس کی محبت کو اس نے ہر لمحے کے ساتھ بڑھتے ہوئے محسوس کیا تھا
اور اس کی محبت صرف اسی کے لئے تھی اپنی آتی جاتی ہر سانس کے ساتھ یارم نے الگ انداز میں اسے بتایا تھا کہ وہ اس کی زندگی میں کتنی اہم ہے
پچھلے سات سال سے محبتوں کا یہ سلسلہ رکا نہیں تھا
یارم کی بے پناہ محبتوں نے اسے نکھار دیا تھا وہ اپنے آپ کو انمول سمجھتی تھی
اس کی محبت کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔
اور یارم آہستہ آہستہ اس کی ہر سانس پہ اپنی حکومت چلا رہا تھا
°°°°°
رویام یارم کے آفس روم سے چاکلیٹ کا ڈبہ اٹھائے کبھی بیڈ کے نیچے جا کر چاکلیٹ کھاتا تو کبھی کسی صوفے کے پیچھے چھپ کر کھاتا
یارم ہر طرف سے ڈھونڈ رہا تھا جب کہ وہ جانتا تھا کہ رویام کہاں ہے اور صوفےکے پیچھے اور بیڈ کے نیچے کیا کر رہا ہے
لیکن پھر بھی اسے خوش کرنے کی خاطر وہ اسے ڈھونڈ رہا تھا
اور رویام سمارٹ بنے اسی کے سامنے سے نکل کر کہیں اور چھپ جاتا اور یارم بچارے کو پتہ بھی نہیں چلتا تھا
روح میں مہر کے لیے چاکلیٹ لایا تھا پتا نہیں کہاں رکھ دی
مجھے تو کہیں نہیں مل رہی کہیں رویام نے تو نہیں اٹھا لی وہ روح کو کچن سے نکلتے دیکھ کر بولا
روح نے ایک نظر صوفے کے پیچھے بیٹھے اپنے ننھے سے شیطان کو دیکھا تھا
جو اس سے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے ایک چاکلیٹ بھی اپنے ننھے سے ہاتھ میں پکڑے لالچ دینے میں مصروف تھا
اور روح اس کی لالچ میں آ بھی چکی تھی
مجھے کیا پتا آپ نے کہاں رکھی ہے اور رویام تو باہر شونو کے ساتھ کھیل رہا ہے آپ جا کر اپنےآفس روم میں ڈھونڈے وہی ہو گی وہ اسے ٹلنے والے انداز میں کہتی اسے آفس روم بھیج چکی تھی جبکہ خود رویام کے پاس آکر صوفے کے پیچھے بیٹھ گئی
اور رویام سے چاکلیٹ مانگنے لگی لیکن رویام صاحب کا کہنا تھا
اتھے بتے توکلت نی کھاتے دنت کرب ہو جاتے ہے(اچھے بچے چاکلیٹ نہیں کھاتے دانت خراب ہو جاتے ہیں ۔)
اس کے اس جواب پر روح کا منہ کھل گیا جبکہ صوفے سے اوپر لٹکے ہوئے یا رم ان دونوں کو دیکھتا رویام کی بات پر قہقہ لگا چکا تھا
سیکھو میرے بیٹے سے کچھ اسے پتہ ہے کہ چاکلیٹ نہیں کھاتے اس سے دانت خراب ہو جاتے ہیں وہ ہنستے ہوئے روح کو دیکھ کر کہنے لگا تو روح منہ بنا گئی
کیونکہ اس کا بیٹا ضرورت سے زیادہ سیانا تھا اسے پتہ تھا کہ چاکلیٹ کھانے سے دانت خراب ہوتے ہیں لیکن آپنے نہیں صرف دوسروں کے
°°°°°
خضر اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرو یار کیا ہوگیا ہے تمہیں تمہارے گھر پر آئے دن حملے ہو رہے ہیں بچیوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔
اور وہ کوئی ساری زندگی کی بات تو نہیں کر رہی جب سب کچھ ہمارے انڈر کنٹرول ہوگا تو تم بچیوں کو واپس لے آنا یارم اسے سمجھا رہا تھا لیکن وہ کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہیں تھا
لیکن لیلیٰ نے کہاں اس کی سنی تھی وہ مہر اور عنایت کا سارا سامان پیک کرچکی تھی اور کل انہیں یہاں سے بھیجنے والی بھی تھی
خضر کی ناراضگی اور اس کے فیصلے کو وہ سرے سے کوئی اہمیت نہیں دے رہی تھی۔اسے اپنے بچیوں کی زندگی عزیز تھی خضر کی فضول ضد کے سامنے وہ اپنی بچیوں کی زندگیاں داؤ پر نہیں لگا سکتی تھی
کل تم سب لوگ آنا مہر اور عنایت کو جانا ہے ان سے ملنے کے لیے میں چاہتی ہوں کے جانے سے پہلے ایک زبردست لنچ ہم سب لوگ مل کر کرے اور مہر اور عنایت خوشی سے جائیں اسے کہہ دو کہ ان کے سامنے اپنا منہ رکھے
ورنہ میری بچیاں جاتے ہوئے اداس ہوں گی تو مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا
لیلیٰ خود تو کافی دنوں سے اسے منانے کی کوشش کر رہی تھی اور جب خضر نے نہ ماننے کی ٹھان لی تھی تو اس نے بھی کوشش کرنا چھوڑ دی
لیلیٰ فیصلہ تو کر ہی چکی تھی کہ بچیاں جائیں گی اور ضرور جائیں گی اسی لئے اب وہ خضر کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہی تھی لیکن خضر کی اداسی سب لوگوں نے نوٹ کر لی تھی
ڈیر کرش آئی لو یو میں آپ کو بہت مس کروں گی مہریارم کے گال پر پیار کرتے ہوئے اداسی سے بولی تو یارم مسکرا دیا اور ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ رویام نے کوئی ری ایکشن نہ دیا بلکہ یارم کی گود میں آرام سے بیٹھا رہا
لیلی اور خضر کے جانے کے بعد بھی رویا م نے کسی قسم کا کوئی ولولہ نہیں مچایا تھا خضر کی اداسی نے روح اور یارم دونوں کو پریشان کردیا تھا لیکن پھر بھی لیلی کا فیصلہ انہیں ٹھیک لگ رہا تھا
°°°°
بابا ہم جانتے ہیں کہ ہمارے جانے کے بعد آپ ہمیں بہت مس کرو گے لیکن آپ فکر نہ کریں ہم روز رات کو آپ کے ڈیم میں آیا کریں گی اور آپ سے خوب کھلیں گے باتیں بھی کریں گے اور بہت سارا پیار بھی کریں گے وہ دونوں اس کے دائیں بائیں بیٹھی اس سے باتیں کر رہی تھی
جب کہ لیلی ابھی تک ان دونوں کا ضروری سامان پیک کرنے میں مصروف تھی
بابا ہم آپ کو بہت مس کریں گے مہر اس کے ساتھ لگی ہوئی تھی جبکہ عنایت اس کے بالوں پر نہ جانے کون سا ڈیزائن بنانے میں مصروف تھی
ماما بابا کے بالوں میں روز چمپی کرنا اگر میرے بابا کے بال خراب ہوئے تو میں چھوڑ دوں گی نہیں آپ کو
ہاں اور بابا جب کام سے واپس آئیں گے تو انہیں ہگ بھی کرنا ورنہ ہم دونوں جب واپس آئیں گے تو آپ کو ڈس بن میں پھینک دیں گے ویسے بھی آپ ہمارے کسی کام کی نہیں ہو مہر خضر کی گود میں بیٹھتے ہوئے بولی تو لیلیٰ اس کی باتوں پر اسے گھورتے ہوئے اس کے پاس آئی تھی
بس باپ سے پیار ہے تم لوگوں کو میں تو تم لوگوں کی کچھ لگتی ہی نہیں ہوں
لیلی آنکھوں میں نمی لیے ناراضگی سے بیڈ پر بیٹھی
تو ان دنوں میں خضر پہلی بار مسکرایا
اور ان دونوں کو لیلیٰ کے پاس جانے کا اشارہ کیا اور نہایت اور مہر اس کے دائیں بائیں بیٹھی اسے منانے کی کوشش کرنے لگیں خضر ابھی آہستہ سے اٹھ کر اس کے سامنے آگیا
لیلی اس کے سینے سے لگ کر نمی چھپا کر اپنے آپ کو بہادر ظاہر کرنے لگی لیکن خضر جانتا تھا کہ یہ وقت اس کے لئے بھی اتنا ہی مشکل ہے
میں بھی تم لوگوں کو بہت مس کروں گی اور فکر مت کرو میں اور بابا تم لوگوں کو جلدی واپس لے آئیں گے ۔
وہ ان دونوں کو یقین دلاتی اپنے سینے سے لگا چکی تھی اندر ایک خوف تھا ایک وحشت پھیلی ہوئی تھی جیسے کچھ برا ہونے جارہا ہو بہت برا
°°°°°
صبح سب لوگ آئے تھے انہیں گڈ بائے کہنے کے لئے عنایت نے زبردستی رویا م کوکس کیا ۔کیونکہ وہ روح کے علاوہ کسی کا کس لینا پسند نہیں کرتا تھا ۔
مہر نے یارم کے ہاتھ سے چاکلیٹ لیا جو وہ ہمیشہ اس کے لئے لاتا تھا
شارف صارم ۔معصومہ عروہ ۔مائرہ عدن مشارف سب آئے تھے
اور پھر ان پیاری سی پریوں کا سفر شروع ہوگیا لیکن کون جانتا تھا کہ ان کا یہ سفر آگے چل کر کیا ثابت ہوگا
ان کی گاڑی گھر سے نکلے ہوئے آدھا گھنٹہ ہی ہوا تھا ۔
جب یارم کے موبائل پر ایک کال آئی
جس گاڑی میں مہر اور عنایت کو ہوسٹل بھیجا گیا تھا راستے میں ہی وہ گاڑی بلاسٹ ہوگی ۔
مہر اور عنایت کی لاشوں کے اتنے ٹکڑے ہوچکے تھے کہ اب شاید ان کی لاشوں کو سمٹ پانا بھی ناممکن تھا ۔وہ پریاں خاموشی سے دینا چھوڑ چکی تھی ۔اپنی ماں اور باپ کی پر پریشان ختم کرکے ان کا گھر ہی نہیں زندگی بھی ویران کر کے
وہ سب لوگ اندر بیٹھے ہوئے تھے کہ خضر ابھی بھی پریشان تھا لیلی کے چہرے پر بھی پریشانی تھی
اور یارم میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ انہیں ان کی بیٹیوں کی موت کی خبر سننا پاتا
°°°°°
