Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 10)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
کمرے خون سے بھرا ہوا تھا ۔کسی کی انگلی تو کسی کا پاؤں کاٹا ہوا تھا ۔شارف اور خضر دونوں ہی یہاں نہیں آنا چاہتے تھے ۔بلکہ وہ دونوں تو اس کمرے میں قدم تک رہیں رکھنا چاہتے تھے لیکن یارم کے آرڈر کے آگے ان دونوں کی کہاں چلتی تھی
خضر اپنی فضول میں اس سے ناراضگی کی سزا کاٹ رہا تھا تو شارف صبح فون پر ہونے والی گفتگو کی سزا کاٹ رہا تھا
اور یارم اب جان بوجھ کر ان دونوں سے بدلہ لینے کے لئے بار بار اپنا خون سے بھرا ہوا ہاتھ شارف کے رومال سے صاف کر رہا تھا ۔
اور باربار خضر سے فرش پے پوچا لگواتا کیونکہ اسے گندگی بالکل پسند نہیں تھی ۔ان لوگوں نے صبح سے ابھی تک کھانے کا ایک نوالہ بھی نہیں کھایا تھا ۔کیونکہ یارم کا موڈ اس وقت کے بعد ٹھیک نہیں ہوا تھا
شارف تو اس وقت کو رو رہا تھا جب اس نے یارم کو سر کہہ کر بلایا تھا اور تب سے لے کر اب تک اس وقت کو پچھتا رہا تھا کیونکہ یارم ہر تھوڑی دیر کے بعد کہتا شارف سر یہاں کر میرا ہاتھ صاف کریں گے
وہ ار بار خون سے بھرا ہوا ہاتھ صاف کرتے اور اس عمل کو برداشت کرتے ہوئے شارف کی حالت خراب ہوچکے تھے اسے الٹیاں آ رہی تھی لیکن ڈیول کے سامنے ایسی کوئی بھی حرکت آلاوڈ ہیں تھی
جبکہ خضرجس نے فیصلہ کیا تھا کہ آج یارم ان لوگوں کے ساتھ لنچ کرے یا نہ کرے لیکن ہم اس کے ساتھ کھانا نہیں کھائے گے کیونکہ وہ غلط لوگوں سے ہاتھ ملا رہا ہے لیکن وہ کہاں جانتا تھا کہ اپنی اس غلطی کی وجہ سے اسے سارا دن بھوکا پیاسا رہنا ہوگا
اور اب بھوک سے بے حال ہوتے ہوئے خون سے بڑا فرش صاف کرکے اس کی بھوک بھی بےموت مر چکی تھی ۔
آج یارم نے پہلی بار اس سے وہ کام کروایا تھا جو شارف کرتا تھا
شارف تو صبح اس کا کام سن کر خوش ہو گیا تھا کہ آج وہ شارف کے حصے کا کام کرنے والا ہے لیکن جو کام یارم نے شارف کے لیے مقرر کیا تھا اس کے بارے میں شارف بیچارے نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا
یارم کے ایک اشارے پر وہ پیکٹ سے ایک نیا رومال نکال کر اس کے پاس آتا اور اس کے ہاتھ کو صاف کرنے کی کوشش کرتا
یارم واقع ہی بہت صفائی پسند تھا وہ کسی قصائی کی طرح آرام سے کرسی پر بیٹھا ان لوگوں کی کٹنگ کر رہا تھا لیکن مجال تھا جو اس کے کپڑوں پر خون کی ایک بوند گری ہو یا اس کے چہرے اور بدن یا کسی اور حصے پر کوئی داغ آیا ہو
ہاں اس کا ہاتھ بار بار گندا ہو جاتا تھا جسے شارف صاف کر رہا تھا
شارف اور خضر دونوں ہی بس اس وقت کے گزر جانے کا انتظار کر رہے تھے
یہ بات تو آج تاریخ میں رقم ہوچکی تھی کہ آئندہ وہ دونوں ڈیول کے اصولوں پر کبھی انگلی نہیں اٹھائیں گے
اپنا کام ختم کرکے یارم کپڑے جھراتا ہوا وہاں سے اٹھ کر باہر نکل گیا
اور پھر اس کے پیچھے ہی وہ دونوں اپنی الجھی ہوئی حالت میں باہر آئے تھے
یارم تم نے ہمیں معاف کر دیا نا ۔خضر نےاس سے پوچھا تھا
یہ ساری باتیں بعد میں بھی ہوسکتی ہیں پہلے ان لاش کے سارے پرزے اس بےوقوف انسپکٹر تک پہنچا دو
اس نے ایک اور آرڈر دیا اور اپنے روم کی طرف جانے لگا
°°°°°
خضر اپنی ٹیم تک اس کے آرڈر پہنچاتا خود بھی اس کے پیچھے پیچھے شارف کو ساتھ لے آیا تھا
یارم ہم نے سارا کام نے بتا دیا اب تو بتاؤ تم ہم سے ناراض نہیں ہونا
خضر شارف میرا دماغ خراب نہ کرو فی الحال جاؤ یہاں سے بہت وقت گزر گیا ہے مجھے بھی اب چلنا چاہیے دیر ہو رہی ہے روح انتظار کر رہی ہو گی۔اور جاؤ تم لوگ بھی کپڑے بدل لو کیسے عجیب سے خلیے میں ہو تم دونوں مجھے تو دیکھ کر ہی کراہت محسوس ہو رہی ہے وہ اپنا کوٹ کرسی سے اتارتے ہوئے بولا
یارم بھائی پلیز ہمیں معاف کر دیجئے ہم سے غلطی ہوگئی آئیندہ ہم سے کوئی غلطی نہیں ہوگی شارف جو کب سے ہے ان کی باتیں سن رہا تھا یار م کو یوں نظر انداز کرتے دیکھ وہ اس کے پیروں میں جھک گیا
شارف خضر کیا بچنا ہے اٹھو زمین سے تم جانتے ہو مجھے یہ حرکتیں پسند نہیں ہیں یارم نے ذرا سخت لہجے میں کہا
پسند ہو یا نہ ہو یارم بس تم ہم سے ناراض ہو اور یہ بات ہماری برداشت سے باہر ہے پلیز ہمہیں معاف کر دو ہم سے غلطی ہوگئی خضر نھی اس کے پیرپکڑچکا تھا
یار مسئلہ کیا ہے تم دونوں بے غیرتوں سکون سے ناراض بھی نہیں ہونے دیتے یارم نے ہار کر کہا تو وہ دونوں مسراتے ہوئے نہ صرف اٹھ کھڑے ہوئے بلکہ اس سے چپک بھی چکے تھے
کمینوکیا حالت کر دی میری ایک بار اپنا خلیہ تو دیکھ لیتے ۔وہ ان دونوں کو سمجھتے ہوئے بولا توخضراور شارف دونوں کا قہقہ بلند ہوا
بس تم آئندہ ہم سے ناراض نہیں ہونا یارم۔ہم سچ میں بیوقوف ہیں۔ہم نے تم سے ایک بار نہیں پوچھا کہ آخر تمہارا پلان کیا ہے بس اپنے پاس ہی اندازہ لگاتے رہےخضر نے سرجھکا کرپنی غلطی کو قبول کیا
ہاں تم لوگ سچ میں بہت بیوقوف ہو ہمیشہ الٹے سیدھے کام کرتے رہتے ہو خیر ان سب باتوں کو چھوڑ لیکن آئندہ ایسے میرے قریب مت آنا
مجھے میرے اتنے قریب صرف میری بیوی ہی اچھی لگتی ہے ۔
تم جیسے گندے اور بدبودار لوگ نہیں یارم نے ان کی خالتوں کی طرف اشارہ کیا
ہاں بالکل ہم کوئی نفس نازک تھوڑی ہیں جو تمہیں اچھے لگے
چل شارف جا کر نہا لے میں بھی اپنا حلیہ درست کر کے گھر جانے کی تیاری کرتا ہوں اب وہ دونوں پرسکون تھے
°°°°
کل تک ان کے دماغ میں بس یہی ایک سوچ تھی کہ یارم کے جانے کے بعد یہ کنگز ان کی ٹیم کے لیے بہت مشکل پیش کریں گے ممکن تھا کہ وہ اس کی غیر موجودگی میں ان پر حملہ کرتے
وہ لوگ صرف اور صرف یارم کی ٹیم کا حصہ بننا چاہتے تھے اور یارم ایسا نہیں کرتا تو کسی نہ کسی طریقے سے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے
تو پہلے بھی بہت بار یارم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر چکے تھے لیکن یارم نے کبھی بھی ان لوگوں کو ان کے منصوبے میں کامیاب نہیں ہونے دیا
ان سب کی خواہش ایک ہی تھی یارم کی جگہ پر قبضہ کرکے دبئی کا ڈان بنا لیکن ایسے چھوٹے موٹے کیروں مکوڑوں کو یارم بہت آسانی سے جہنم تک پہنچا دیتا تھا
وہ تو سب ان سب کو موقع دے رہا تھا کہ شاید وہ سدھر جائیں لیکن سدھرنے کے بجائے وہ سب لوگ اپنا اپنا ایک گینگ تیار کر چکے تھے اور دبئی کے بہت سارے علاقوں میں وہ اپنی دہشت پھیلا چکے تھے ۔اور ان میں سے بہت سارے بے غیرت ایسے بھی تھے جو اور عورتور بچیوں کی عزت کے لیے خطرہ بن چکے تھے یارم کی نظر بہت وقت سے ان لوگوں پر تھی بس فلحال وہ قانون کی نظروں میں نہیں آنا چاہتا تھا
لیکن اپنے لوگو کی سیفٹی کے لیے اسے یہ قدم اٹھانا پڑا
وہ سب ایک سے بڑھ کر ایک تھے
یارم اپنی ٹیم کے خلاف کچھ برداشت کر سکتا تھا اور نہ ہی روح سے کئے ہوئے وعدے کو توڑ سکتا تھا آج نہیں تو کل ان سب نے یارم کے قہر کا نشانہ بنایا تھا
کیوں کہ اپنے کاموں کی وجہ سے وہ یارم کی بیٹ لسٹ میں شامل ہو چکے تھے اسی لئے یارم نے یہاں سے جانے سے پہلے ان سب کو ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کیا تھا کہ اس کے جانے کے بعد اس کی ٹیم کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہ اٹھانا پڑے
وہ جانتا تھا کہ اب سب پیچھے خضر سنبھال لے گا ۔
اور اس کی مدد کرنے کے لیے شارف ہر وقت اس کے ساتھ موجود ہوگا اب وہ روح کے ساتھ بے فکر ہو کر کہیں بھی جا سکتا تھا اب اسے کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں تھی
°°°°°
وہ پرسکون سا ہو کر گھر کی جانب آیا تھا
لیلی اسے شام کو ہی فون کرکے بتا چکی تھی کہ وہ روح کے ساتھ بازار گئی تھی دونوں نے خوب ساری شاپنگ کی ہے اور اس کے بعد وہ اسے گھر چھوڑ کر اپنے گھر جا چکی ہے
اسی لئے یارم ڈائریکٹ اپنے گھر میں آیا تھا لیکن گھر کے دروازے پر قدم رکھتے ہی اس کا فون بج اٹھا
سامنے بیوقوف پولیس والے کانام جگمگا رہا تھا
جلدی بولو صارم میں بہت تھکا ہوا ہوں فلحال کسی سے بات کرنے کا موڈ نہیں ہو رہا اس نے بےزاری سے کہا
ہاں بالکل ان حیوانوں کے جسم کے ٹکڑے کرتے ہوئے ہاتھوں میں درد ہو گیا ہوگا کہو تو میں آکر دبا دوں اس نے بھرپور طنز کیا۔
کیوں پولیس والے کی نوکری سے ریٹائرمنٹ لے رہے ہو کیا جو کسی نئی نوکری کی ضرورت پیش آگئی ہے
خیر فی الحال اس کی ضرورت نہیں ہے اگر موڈ بن گیا تو تمہیں اس نوکری کے لیے رکھ لوں گا اس کا انداز صاف مذاق اڑانے والا تھا
کیا بگاڑا تھا ان لوگوں نے تمہارا۔۔۔۔۔!
تمہیں اندازہ بھی ہے ہم کتنے وقت سے ان لوگوں کو تلاش کر رہے تھے ۔۔؟صارم کو غصہ آنے لگا
اگر تم لوگوں کی تلاش ناکارہ ہے تو اس نے میرا کیا قصور ۔۔۔؟
میرے ہاتھ آئے مارے گئے ۔۔
اور ویسے بھی میں نے سنا ہے کہ قانون کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں تم اپنے لمبے ہاتھوں کی مدد سے بچالیتے نا ان کو
یارم تمیں احساس بھی ہے تم نے ایک دن میں گیارہ لوگوں کا قتل کیا ہے اور وہ بھی کوئی عام انسان نہیں بلکہ جانے پہچانے مجرم اور قانون کی نظر میں درندے تھے وہ لوگ یارم اب تو سنبھل جاؤ
اب تو چھوڑ دو یہ ساری چیزیں کیوں خود کو اس دندل میں پھنسارہے ہو کیوں نہیں چھوڑ دیتے یہ سارے کام ۔۔چھوڑ دو سب کچھ یار م اپنی زندگی میں آکر بھرو خود کو دیکھو روح کو دیکھو ایک نئی زندگی شروع کرو
صارم یار تم تو اچھے خاصے بورنگ انسان ہو اتنے فریش موڈ کے ساتھ گھر آیا تھا بیڑہ غرق کردیا موڈکا چلو مجھے نسیت ہوگی آج کے بعد گھر آتے ہوئے کبھی تمہارا فون نہیں اٹھا ونگا
خیر میں نے ایک فائل تیار کی ہے اس کے مطابق ان سب لوگوں کو ڈھونڈنے میں تم کامیاب رہے ہو لیکن افسوس کہ تم انہیں بچا نہیں سکے تمہاری بہادری کے قصے ضرور چلیں گے جانتا ہوں کہ تم نے یہاں کچھ نہیں کیا لیکن میں نے سوچا کہ یہ کیس میں تمہاری آفیسر کے نام کر دوں
ہو سکتا ہے تمہیں اس بار پرموشن مل جائے ۔چلو اب میرا دماغ مت کھاؤ گڈنائٹ فون رکھتے ہوئے دوستانہ انداز میں بولا
لیکن صارم آگے سے بنا کچھ بولے فون کے اندر سے آتی ٹوں ٹوں کی آواز سن رہا تھا یہ آج یا کل کی بات نہیں تھی یارم کو کچھ بھی سمجھانا اس کے بس سے باہر تھا لیکن وہ پھر بھی کوشش نہیں چھوڑتا تھا کہ شاید وہ اس کی بات کو سمجھ کر یہ گناہوں کا رستہ چھوڑ دے
جن لوگوں کو یارم نے جان سے مارا تھا وہ یار! کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تھے تو پھر بھلا کیا دشمنی تھی یار م کی ان لوگوں کے ساتھ صارم کو زیادہ افسوس اس بات کا تھا کہ وہ پچھلے کچھ عرصے سے اسی کیس پر کام کر رہا تھا اور جلد ہی وہ ان لوگوں کو گرفتار بھی کرنے والا تھا لیکن اس سے پہلے ہی یارم نے انہیں جان سے مار کر راستے سے ہٹا دیا اور صارم کی ساری کی ساری محنت بری طرح سے برباد ہو گئی
°°°°
گھر میں داخل ہوتے ہی اسے اپنی جان کا چہرہ دیکھنا تھا
وہ آہستہ آہستہ اندر آیا لیکن سامنے ایک بار پھر سے اپنے حکم کے خلاف اسے کیچن میں کام کرتے دیکھ اس کی پیشانی پر بل پڑ گئے ۔ایسا تو ممکن ہی نہیں تھا کہ روح اس کی کوئی بات مان لیتی ۔
اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو یارم اسے سبق ضرور سیکھتا لیکن یہاں تو وہ تھی جیسے پتا تھا کہ اس کی ہر غلطی کی سزا معافی ہے
یارم کاظمی کی عدالت میں وہ گناہگار ہو کے بھی بے گناہ تھی۔پہلے تو یارم اس کی ہر غلطی کی سزا اپنے انداز میں دیتا لیکن اب ایسا نہیں تھا اسی لیے تو وہ بگڑ گئی تھی بلکہ بہت بگڑ گئی تھی
لیکن وہ اپنی روح کو ہینڈل کرنا جانتا تھا ۔
اور اب وقت آگیا تھا کہ وہ اسے سدھارے اور اب جلد ہی وہ اسے سدھارنے والا تھا
وہ غصے سے لب بھیتا اس کے سر پر سوار ہوا
یہ سب کیا ہے روح۔۔۔۔؟ جب میں نے تمہیں کام کرنے سے منا کیا ہے تو تم کیوں باز نہیں آ جاتی وہ سخت لہجے میں بولا
لیکن یارم آپ نے ہی تو صبح بولا تھا کہ اب میں ٹھیک ہوں ۔اور اگر میں ٹھیک ہوں تو میں کچھ بھی کرسکتی ہوں نا ۔وہ معصومیات سے کہتی اس کے الفاظ اسے واپس کر رہی تھی
ہاں کہا تھا میں نے کہ تم ٹھیک ہولیکن یہ نہیں کہا تھا کہ کیچن میں پہنچ جاو ۔ابھی اتنی بھی ٹھیک نہیں ہو تم وہ سمجھانے لگا
آففففف یارم ٹھیک تو ٹھیک ہوتا ہے اِتنا اُتنا نہیں اور میں ٹھیک ہوں تو ہوں نا اسی لیے تو میں نے آپ کے لیے یہ بنایا ہے وہ بھی بہت پیار سے وہ مسکرا کر کہتی اسے لاڈ سے کرسی کی طرف کھنچنے لگی
یارم اسے گھورٙتے ہوئے کرسی پر بیٹھ کر بریانی اپنی پلیٹ میں نکالنے لگا چہرے پر سختی تھی مطلب اس کا موڈ ٹھیک نہیں تھا
اچھا نا اب نہیں کروں گی کچھ بھی وعدہ بس آپ اتنے دن سے کھانا برائےنام کھا رپے تھے تو میں نے آپ کے لیے یہ بنانے کا سوچا اب سے وعدہ جو آپ کہیں گے وہی کروں گی
وہ یارم کی پلیٹ سے خود بھی کھاتے ہوئے پیار سے بولی
کھانے کے بعد یارم نے خاموشی سے پلیٹ پیچھے کر لے اسے دیکھا
چائے بناو۔۔۔یارم نے کہا تو وہ اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی
جی۔۔۔! اسے لگا شاید اس نے غلط سنا ہے
جی کیا جاو چائے بناو اگر بریانی کھاکر منہ کا ذائقہ بدل ہی دیا ہے تو ایک کپ چائے بھی ہو ہی جائے آخر اب تم ٹھیک ہو چکی ہووہ اسے دیکھتے ہوئے بولا
ہاں کیوں نہیں مِیں ابھی بناتی ہوں۔اس کا انداز روح کو پرسکون کر گیا وہ اس سے خفا نہیں تھا
روح نےفوراً اس کے لیے چائے بنائی تھی جو یارم نے پرسکون ہو کر پی ۔
برتن دھو کر کمرے میں آجانا میں زرا آفس روم میں ہوں وہ نرمی سے اس کا گال تھپتھپا کر چلا گیا ۔
روح کو یقین نہیں آرہا تھا یارم اسے اتنا نارملی ٹریٹ کر رہا تھا اس کا مطلب تھا کہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے سب کچھ نارمل ہو رہا ہے پہلے جیسا وہ بہت خوش تھی
°°°°°
وہ کافی دیر بعد کمرے میں آئی تو یارم اپنا کام ختم لر کے روم میں آ چکا تھا اس نے مسکرا کر اسے دیکھا وہ بن کے قریب کھڑا تھا
روح نے غور کیا تو اسے پتا چلا کہ وہ اس کی میڈیسن بن میں پھینک رہا ہے۔آج کی رات آخری تھی ان میڈیسن کی اس کے بعد وہ آزاد تھی لیکن یارم اسے پہلے کیوں پھینک رہا تھا
سوچا کہ تم اب ٹھیک ہو گئی ہو تو ان میڈیسن کی بھی تمہیں کوئی ضرورت نہیں کیا خیال ہے وہ نرمی سے کہتا اس کے پاس آیا تو روح نے ہاں یں سر ہلایا ۔
جب یارم نے جھک کر اسے اپنی باہوں میں اٹھایا۔وہ گھبرائی تھی
یارم ۔۔۔۔ اس کے لبوں نے بے آواز سرگوشی کی
سشش ۔۔۔ تم ٹھیک ہو نا تو اپنا بیوی ہونے کا فرض ادا کرو ۔اپنے وجود سے اپنے شوہر کو سکون دو ۔تاکہ اسے پتا چل سکے کہ تم کتنی ٹھیک ہو ۔وہ اسےبیڈ پر لیٹا کر اس کے نازک وجود کو اپنی باہوں میں لے چکا تھا
اپنے یارم کو سکون دو روح۔ وہ بے سکون ہے۔ اد کا سکون کھو گیا تھا ۔اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چومتے وہ اس کے کان کے پاس سرگوشی کرنے لگا۔
تم نے مجھے بہت ستایا ہے روح ۔اب مجھ سے نرمی کی امید مت رکھنا۔محبت کے اس دریا ہو انتظار کی سولی پر لٹکا کر سمندر تم نے کیا ہے تو اب اس سمندر میں تمہیں میرے ساتھ ڈوبنا بھی ہو گا۔
اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتے وہ اس کے لبوں کو پوری شدت سے قید کر گیا۔وہ بنا مذاحمت کیے اس کی باہوں میں آ سمٹی اس کی دیوانگی کو اپنی رگ رگ میں اتراتا محسوس کر رہی تھا۔
اس کی شدتوں میں پھگلتی وہ پوری طرح اس کی محبت میں رنگنے لگی تھی۔اس کے سینے میں منہ چھپائے وہ اس کے جنون میں سانس لینے لگی ۔اور یارم اسے خود میں سیمٹتا اپنا عشق اس پر لٹتا چلا گیا۔
وہ عشقِ یارم تھی۔یارم کا عشق اس کا جنون اس کی دیوانگی اس کی محبت ۔اس کی روح ۔وہ روحِ یارم تھی۔اور یارم سراپاِ عشق
°°°°°
