Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 28)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

صارم چائے پی کر کب کا جا چکا تھا ۔

روح ناشتے کے برتن دھو رہی تھی ۔

اور یارم اس کے قریب کھڑا اس کے فارغ ہونے کا انتظار کر رہا تھا

کیونکہ روح کے مطابق کاکروچ اور اس کی فیملی سے اس کی حفاظت کرنا یارم کا فرض تھا

روح جلدی فارغ ہو مجھے نیند آرہی ہے ۔یارم نے اس کے ہاتھ اتنی سلو سپیڈ میں چلتے دیکھ کر کہا

یارم برتن آرام سے دھوئے جاتے ہیں ۔ تاکہ ٹھیک سے صاف ہوں۔ وہ اطمنان سے بولی اور پھر سے اپنے کام میں مگن ہوگئی

ٹھیک ہے تو پھر تم یہاں سکون سے اپنے برتن دھو تی رہومیں جا رہا ہوں سونےمیرا یہاں تمہارے لیے کھڑے رہنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے یارم اب بھی ناراضگی شو کر رہا تھا

یارم آپ اگر مجھے یہاں کاکروچ اور اسکی فیملی کے پاس چھوڑ کر گئے تو میں آپ سے سچی والی ناراض ہو جاؤں گی روح دھمکی دیتے ہوئے بولی

جبکہ اس کے انداز پر یارم کو جھٹکا لگا تھا

ایکسکیوزمی میں آلریڈی تم سے ناراض ہوں یارم نے جتاتے ہوئے کہا

اوپس سوری میں بھول گئی تھی ۔وہ اپنے سر پہ ہاتھ مارتے ہوئے بولی

اب دوبارہ بھولنے کی کوشش مت کرنا ورنہ بہت برے طریقے سے پیش آؤں گا وہ سخت لہجے میں بولا

کل سے آپ کون سا اچھے طریقے سے پیش آرہے ہیں وہ برابڑ آتے ہوئے بولی

نہیں بےبی ابھی تم نے یارم کاظمی کی بیڈ سائٹ دیکھی ہی نہیں ہے اور جس دن تم نے یارم کاظمی کی بیڈسائیڈ دیکھ لینا تو پچھتاؤ گی بہت پچھتاؤ گی۔

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا سرد انداز میں بولا

اور آپ چاہتے ہیں کہ میں پچھتاؤں وہ اسے دیکھتے اسی کے انداز میں بولی

فضول بحث مت کرو میرے ساتھ اگر مجھے منانہیں سکتی تو دماغ خراب مت کرو ۔وہ بات ہی بدل گیا

میں دماغ خراب نہیں کرتی بلکہ میرے پیارےسے شوہر تو کہتے ہیں کہ میں اتنی پیاری ہو ں ۔کہ مجھے کہیں باہر نکلنا ہی نہیں چاہیے یہ نہ ہو کہ مجھے کسی کی گندی نظر لگ جائے وہ کبھی پیار میں کی گئی یارم کی بات کو یاد کرتے ہوئے بولی

فضول بکواس کرتا ہے تمہارا پیارا سا شوہر اس کا دماغ ٹھکانے لگاؤ ۔اس کے انداز پر یارم چڑ کر بولا

مجھے کچھ بھی کہیں لیکن خبردار جو آپ نے میرے شوہر کے خلاف ایک لفظ بھی کہا ۔

زیادہ بننے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں تمہارے شوہر سے کتنی محبت ہے یہ تو اسے سری لنکا کے ہسپتال میں ہی پتہ چل گیا تھایارم طنز کرنے سے باز نہ آیا

آپ ایک بار معاف نہیں کر سکتے کیا ۔۔۔! وہ اسے دیکھتے ہوئے مایوسی سے بولی

میں معافی مانگنے سے نہیں بلکہ منانے سے مانوں گا روح تم ایک انتہائی نکمی بیوی ہو جو اپنے شوہر کی ناراضگی ختم نہیں کر سکتی ۔اس کے برتن ختم ہونے پر یارم کہتا ہوا کمرے کی جانب چلا گیا

اور آپ ایک بہت گندے ہزبنڈ ہو جو اپنی بیوی کو سستا کر خوش ہوتے ہیں آپ کو پتہ ہے مجھے منانا نہیں آتا تو آپ کو خود ہی مان جانا چاہیے نہ وہ اس کے پیچھے آتے ہوئے بول رہی تھی

جب کہ یار م تو اسے سرے سے نظر انداز کیے ہوئے تھا

°°°°°

وہ کمرے میں آئی تو یارم سو رہا تھا تھا۔

وہ بھی خاموشی سے اس کے پاس ہی لیٹ گئی

جب اچانک ہی یارم نےاسے کمر سے کھینچ کر اپنے قریب کر لیا۔

اس کی اچانک حرکت پر اس نے گھور کر یارم کو دیکھا جو اپنے آپ کو نیند میں شو کر رہا تھا۔ وہ کافی دیر اس کا چہرہ دیکھتی رہی لیکن کوئی ریپونس نہ ملنے پر مسکرکر آنگھیں بند کر گئی۔کیونکہ یارم سچ مچ میں سو چکا تھا ۔

اور اسے سوتا دیکھ روح کے اندر کا شرارتی کیڑا جاگ گیا۔اور وہ اب اس کے ساتھ مستیاں کرنے لگی۔

کبھی وہ یارم کے ناک کو چھڑتی۔تو کبھی اس کے ڈمپل میں انگلی ڈالتی ۔تو کبھی پورے چہرے پر انگلی سے لکیریں کھنچتی ۔

جبکہ یارم سکون سے پڑا کسی چیز کا اثر نہیں لے رہا تھا۔پتہ نہیں کتنے سالوں کی نیند آج ہی پوری کر رہا تھا

اس کو جاگا کر وہ اپنا سکون برباد نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن وہ اس وقت یارم سے بات کرنا چاہتی تھی۔

اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھی۔لیکن وہ تو سکون سے خود کو سکون پہنچا کر سو گیا تھا۔

کافی دیر مستیاں کرنے کے بعد وہ چھت کو گھورنے لگی ۔

جب اچانک یارم نے اس ہاتھ تھام کر اپنے چہرے پر رکھ دیا۔

کرتی رہو اچھا لگ رہا ہے ۔وہ بند آنکھوں سے بولا

آپ جاگ رہے ہیں۔میں بور ہو رہی ہوں ۔پہلے اٹھیں باتیں کریں مجھ سے وہ حکم دے رہی تھی ۔

تمہارے منہ لگنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں وہ بند آنکھوں سے بولا۔

وا یہ کیا بات ہوئی ۔جب اپنا مطلب تھا تب لگ گئے اور اب جب میں کہہ رہی ہوں تو آپ کا ارادہ نہیں۔

تم اس طرح سے منہ لگنے کا کہہ رہی ہو۔۔۔! وہ آنکھیں کھل کر اس کی بات کو اپنے انداز میں لیتے ہوئے ہوا۔

اگر پہلے بتا دیتی کہ تم اس طرح سے منہ لگنے کی بات کر رہی پو تو میں کب کا منہ لگ چکا ہوتا

وہ اس لا چہرہ ہاتھوں میں تھامتے ہوئے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں کے پاس لے گیا

میرایہ مطلب نہیں تھا میں باتیں کرنا چاہتی ہوں آپ سے وہ جلدی سے بولی

لیکن میرا اب یہی مطلب پے اور بات میں تم سے نہیں کر سکتا کیونکہ میں تم سے ناراض ہوں۔

یہ سب کرتے ہوئے ناراضگی یاد نہیں رہتی۔۔! وہ منہ بنا کر پوچھنے لگی

نہیں مجھے بس اپنے مطلب کی چیزیں یاد رہتی ہیں۔باقی میں تم سے ناراض ہوں تو پہلے مناو مجھے اور پھر جو چاہے کہہ لو۔وہ سکون سے کہتا اس کے لبوں ہر جھک کر اسے بے سکون کرگیا۔

کیسے مناوں آپ کو یہ بھی بتائیں نا ۔۔۔۔؟ کیسے ختم ہوگی آپ کی یہ ناراضگی ۔اپنے لبوں کو آزادی ملتی روح نے پوچھا اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ اس کے ہونٹوں پر جھکتا روح اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ چکی تھی۔

جو یارم نے آرام سے اپنے ہاتھوں میں قید کر لیے۔

ائندہ یہ حرکت مت کرنا۔اس کا ہاٹھ تھام کر وہ دوبارہ اس کے ہونٹوں پر جھک گیا ۔اس بار انداز میں شدت تھی ۔شاید اس کی کس نہ کرنے دینے کی کوشش یارم کو پسند نہ آئی تھی۔تبھی تو وہ بدلے پر اتر آیا تھا۔

افففف ۔آپ کی یہ ناراضگی میری سمجھ سے باہر ہے وہ ہار کر بولی۔

اب اس ناراضگی کے چکر میں تم سے محروم نہیں ہو سکتا ۔ہونٹوں کے بعد اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چومتا وہ آہستہ سے بولا۔

کیسے مناوں یہ بھی تو بتائیں نا۔۔۔۔!

شوہر کو کیسے !نایا جاتا ہے۔

مجھے نہیں پتا میرے شوہر مجھ سے ناراض نہیں ہوتے ۔وہ فخر سے بولی تھی شاید یہی بات سن کر وہ مان جائے۔

ہمہمہم۔۔۔۔۔میں تو ہوں۔وہ کہ کر اس کا دوپٹہ اتار کر دور پھینک چکا تھا۔اور اب آہستہ آہستہ وہ اس کے نازک وجود پر حاوی ہونے لگا۔

روح خاموشی سے اس کی باہوں میں سما گئی اب اسے مزید خود سے ناراض کرنے کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا ۔

اس کے بنا مزاحمت مان جانے پر یارم کا ڈمپل نمایاں ہوا جو وہ ناراضگی کی وجہ سے فوراً چھپا بھی گیا۔لیکن روح نے دیکھ لیا تھا۔تبھی وہ مسکراتی ہوئی اس کی من مانیاں اپنے نازک سے وجود پر سہہ رہی تھی

°°°°°

وہ کب سے بیٹھی یارم کو منانے کا پلان سوچ رہی تھی ۔جو صاف کہہ چکا تھا تھا کہ اب وہ اپنے آپ نہیں مانے گا بلکہ روح کو پاپڑ بیلنے ہوں گے

وہ کیا کرے اس کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا

لیلیٰ اور معصومہ تو اسے مشورے دیتی تھی کہ کانوں سے دھواں نکلنے لگاتا۔ان سے تو وہ مشورہ لینے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی

۔جب دماغ میں شارف سے مشورہ لینے کا خیال آیا لیکن ان سے ہی لیے پہلے مشوریوں کی سزا وہ بھگت رہی تھی یاد آتے ہی پلان چینج کر لیا۔

یارم آپ ایک بار مان جائیں وعدہ کبھی آپ کو نارض نہیں کروں گی وہ دل سے بولی اور پھر ذہن میں شارف ہی آیا

مجھے شارف بھائی سے ہی بات کرنی ہوگی ۔وہ اٹھ کر روم میں آئی وہاں سے یارم کافون لیا اپنا فون تو اس کا اس دن ہی گم ہو گیا تھا جب یہ حادثہ پیش آیا

اور اس کے بعد نئا فون لینے کا خیال بھی نہ آیا

ان کچھ لوگوں لے نمبر اسے زبانی بھی یاد تھے اور فون میں سیو بھی تھے اسے لیے اسے کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پرا شارف کا نمبر سامنے ہی تھا اس نے فواپراً کال کی تھی

°°°°°

یارم کا نمبر دیکھ کر پہلے تو وہ اچھا خاصہ پریشان ہوا

لیکن روح کی آواز سن کر اسے زرا سکون ملا

روح تم ذندہ ہو۔۔۔۔؟ اس کی آواز سن کر شارف نے پہلا سوال یہی کیا تھا

جی زندہ یوں لیکن یارم کی ناراضگی میری جان لے لے گی مدد کریں میری وہ پریشان سی بولی

میں کیا مدد کروں روح یارم نے تم سےملنے پر بھی پابندی لگا دی ہے ۔شارف نے اپنا دکھرا سنیا

کوئی بات نہیں فون پر ہی مدد کر دیں ۔وہ معصومیت سے بولی۔

روح تم نا اس کی ناراضگی کو مزاق میں لو مطلب اپنی مستیاں نہ چھوڑو اور اسے بہت سا تنگ کرو۔۔یارم کو تمہارا ہر انداز پسند ہےوہ مان جائے گا ۔اس کا مشورہ روح کو کچھ خاص سمجھ نہیں آیا تھا۔

لیکن روح نے حامی بھر لی۔

اچھا روح اگر یارم کا آفس آنے کا کوئی ارادہ ہے تو پلیز ایسا مت ہونے دینا۔

ورنہ وہ میرا قتل کر دے گا۔

آفس کافی گندہ ہو رہا ہے ۔یارم نے اگر آفس کا یہ حال دیکھا تومیرجان لے لے گا پلیز اس کو گھر پر ہی رکھنا ۔

میں کل تک آفس کی صفائی کروا لوں گا پلیز۔وہ مینتں کررہا تھا

آفف آپ مرد لوگ کتنے گندے ہوتے ہو۔مردوں کو میرے یارم کی طرح صفائی پسند ہونا چاہےوہ فخر سے بولی تھی۔

یارم کو سچ میں گندگی سے انتہا کی نفرت تھی ۔اگر اس کا آفس زرا سا گندہ ہوتا تو شارف کی شامت آ جاتی

اور روح کو تو خود صفائی کا شوق تھا اس کی یارم کی نیچر کے حساب سے اس نے سب کچھ اچھے سے سمبھال لیا تھا۔

شارف کو یقین دلا کہ وہ یارم کو آفس نہیں آنے دے گی ۔وہ یارم کو منانے کے لیے اس کی پسند کی ڈش بنانے لگی بس اب اسے اپنے پیارے سے شوہر کو منانا تھا جو پہلی بار بہت مشکل کام لگ رہا تھا۔

روح میرا فون کہاں ہے ۔۔۔! وہ ایک دم تیار باہر نکلا۔تو اپنا فون روح کے ہاتھ میں دیکھا۔

آپ کہیں جا رہے ہیں۔۔۔۔!

یہاں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں تم مجھے نہیں منا رہی ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے اپنا فون لے چکا تھا جب اسے اپنے معصوم بھائی کی یاد آئی۔

اگر یارم آفس جاتا تو شارف بے موت مارا جاتا۔

یارم میں مناوں گی نا ۔آپ پلیز مت جائے۔ وہ منیتں کرنے لگی

°°°°