Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 14)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

یارم کیا یوں ہی چلے گے اتنے آہستہ آہستہ وہ بہت سلو گاڑی چلا رہا تھا تاکہ کسی قسم کی کوئی آواز پیدا نہ ہو اور ان کے ہاتھوں کسی قسم کا کوئی قانون نہ ٹوٹے ۔

لیکن روح تو اس کی سلو سپیڈ پر حیران تھی

ہاں ہم ایسے ہی جائیں گے کیونکہ یہاں کے قانون بہت سخت ہیں یارم نے دہرایا

تو روح نے منہ بنا لیا

یارم یہ سفر میری زندگی کا سب سے بورنگ سفر بنا رہے ہیں آپ

اس طرح سے چپ چاپ بالکل خاموش اور اتنے آہستہ اسے کم ازکم یارم سے اس سے یہ امید نہیں تھی

تمہیں پتا ہے جانے من جب دو محبت کرنے والے سفر پر نکلتے ہیں نا وہ رستے یا گاڑی کی سپیڈ کو نہیں دیکھتے

بلکہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں

ایک دوسرے میں کھو جاتے ہیں

وہ ایک دوسرے کے علاوہ کسی اور سے بات کرنا پسند ہی نہیں کرتے

کسی اور کے بارے میں سوچنا پسند نہیں کرتے

تم کیا بے کار میں کبھی رستوں پر تو کبھی گاڑی کی سپیڈ پر گھور کر رہی ہو وہ اس کا ہاتھ تھام کر چومتے ہوئے بولا

تمہیں تو چاہیے کہ تم اپنا سارا دھیان مجھ پر لگاؤ

صرف مجھے دیکھو مجھے سوچو تم آگے پیچھے کی چیزوں پے دھیان نہیں دو

اگر تم ان سب میں بزی ہو جاو گی تو کیا فائدہ ہے اس لونگ ڈرائیو کا جب میرا پارٹنرہی میرے ساتھ خوش نہیں ہے

یارم نے اسے دیکھتے ہوئے اس انداز میں کہا کہ روح شرمندہ ہوگئی

نہیں یارم میں بہت خوش ہوں آپ کے ساتھ آ کر میں تو یہ کہہ رہی تھی کیا آپ نے کبھی اتنی آہستہ گاڑی ڈرائیور نہیں کی

اور نہ ہی ہم نے کبھی ایسا سفر کیا ہے جس میں اتنی کم باتیں کی ہوں

ہاں ڈارلنگ یہ تو تم ٹھیک کہہ رہی ہو لیکن ہم آہستہ اور کم باتیں اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ تم نے دونوں شیشہ کھول دیے ہیں اس سے ممکن ہے کہ آواز باہر جائے اور کوئی اصول ٹوٹے تو مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا

یارم آپ ڈان ہیں دا ڈیول آپ کے سامنے یہ سب کیا اہمیت رکھتا ہے وہ اسے دیکھتے ہوپے یاد دلانے لگی یارم مسکرایا

میں خود اصولوں پر چلنے والا بندہ ہوں روح مجھے رول توڑنے والوں لوگوں سے الجھن ہوتی ہے لوگ ہمارے بنائے ہوئے اصولوں پر عمل کرتے ہیں

تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ان کے بنائے ہوئے اصولوں کو مدنظر رکھیں

ان کے اصولوں کا احترام کرے یار م نے مسکرا کر اسے اپنی بات کا مطلب سمجھایا تھا

روح اس کی بات سن کرمسکرا دی

آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں یارم جس طرح سے ہم خود اصول بناتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سب اس کی پیروی کریں

ہمیں دوسروں کے اصولوں کی بھی اسی طرح سے پیروی کرنی چاہیے ۔

اگر ہمیں یہ مان ہے کہ لوگ ہمارے اصولوں پر چلیں گے تو پہلے ہمیں بھی کسی کے اصولوں پر چلنا پڑے گا

لیکن پھر بھی گاڑی کی سپیڈ بہت کم ہے اس کی بات کی تاکید کرتے ہوئے وہ پھر سے بولی تویارم بے ساختہ مسکرا دیا ۔

ہاں جانو یہ بات تو تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہوپانچ کلو میٹر کا سفر مجھے بھی بہت لمبا لگ رہا ہے

ان کا ارادہ پہاڑی کی طرف جانے کا تھا اور پھر وہی تھوڑی دیر ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزار کر واپس آ جانے کا

لیکن یہ سفر ان کے لئے بہت لمبا ثابت ہو رہا تھا

جگہ جگہ بوٹ لگے تھے کہ گاڑی کی سپیڈ کم رکھی جائے اور آواز پیدا کرنے سے گریز کیا جائے

اور رات کے وقت ان راستوں پر نکلے ہی نہیں جنگل خطرناک ہے

اور ایسے میں ان اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے آگے کی طرف سفر کرنا بھی اپنے آپ میں ایک بہت مشکل کام تھا

روح باہر کی جانب دیکھ رہی تھی جہاں سوائے اندھیرے کے کچھ نظر نہیں آرہا تھا جب اچانک یارم نے گاڑی کی سپیڈ تیز کردی

کیا ہوا یارم آپ نے گاڑی کی سپیڈ اچانک اتنی تیز کیوں کر دی

اس سے آواز پیدا ہو سکتی ہے روح نے فورا کہا تھا

یہاں جنگلی جانور ہیں ہمہیں جلدی یہاں سے نکل جانا چاہے روح یہ ہم پر حملہ کر سکتے ہیں

اگر تم گاڑی کا شیشہ بند کر سکتی تو ہمارے لئے آسانی ہوتی لیکن اس سے تمہاری طبیعت خراب ہو جاتی ہے

اسی لیے میں نے گاڑی کی سپیڈ تیز کی ہے

یارم وہ کیا تھا ۔۔۔؟

جو ابھی یہاں سے نکلا اس کی بات کو کاٹتے ہوئے روح نے اپنی گاڑی کے سامنے سے کسی تیز چیز کو نکلتے دیکھا

جو سفید رنگ کی تھی

۔وہ سفید چیتا تھا یہ دنیا میں بہت کم ہیں لیکن سوئزرلینڈ کے جنگلوں میں یہ بہت ہیں یا یوں کہہ لوکہ سوئرزرلینڈ کے جنگل ہی ان کا اصل گھر ہیں

ایک وقت تھا کہ جب یہ دنیا سے ختم ہوگئے تھے پھر نہ جانے کتنے سالوں کے بعد انہیں سوئٹزرلینڈ کی پہاڑیوں پر پایا گیا

پھر یہ لوگ ان کی اس نسل کی خفاظت کرتے ہیں یہ بہت نایاب ہوتے ہیں

ان میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ ایک ہی وار سے اپنے شکار کو ختم کر دیتے ہیں

یارم نے تفصیل بتاتے ہوئے اسے ڈرا دیا تھا

لیکن اس کی کوئی بات جھوٹ نہیں تھی اور روح کو ڈرانے کا بھی اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا

وہ تو بس روح اس سے جو بھی سوال پوچھتی وہ اس کا صحیح جواب دے دیتا تھا لیکن اس بار اسے سچ بتا کر تھوڑا پچھتا رہا تھا

کیونکہ روح بہت زیادہ خوفزدہ ہو چکی تھی جب اچانک اس نے ایک سفید چیتا سامنے سڑک پر بھاگتے ہوئے اس طرف آتا دیکھا

گھبراؤ مت روح کچھ نہیں ہوگا

وہ اس طرح سے حملہ نہیں کرتے یارم نے اسے سمجھانا چاہا

لیکن اس چیتے کو اس طرف بڑھتا دیکھ کر روح نے فورا یارم کے سینے میں اپنا منہ چھپایا تھا بروقت یار اگر گاڑی کر نہ سنبھالتا تو کچھ بھی ہو سکتا تھا

یارم واپس چلیں مجھے آگے کہیں نہیں جانا وہ گھبرا کر بولی تو اس سنگین سچویشن میں اس کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ کھلی تھی ۔

روح اگر تم اس طرح سے میرے ساتھ لگی رہو گی تو گاڑی چلانے کی بجائے میری نیت بری طرح سے خراب ہوگئی جو کہ ہو رہی ہے اور پھر ہم دونوں ان سفید چیتوں کا ڈنر بن جائیں گے

یارم نے شرارت سے اس کے کان میں سرگوشی کی جبکہ اس طرح سے گاڑی سنبھالنا ایک مشکل ترین کام تھا

اور اس کی پوری بات سننے کے بعد روح اس کے سینے سے ذرا سا منہ نکال کر ایک بار پھر سے سامنے سرک کو دیکھتے ہوئے سیدھی ہوئی

اور گاڑی کا شیشہ آدھے سے زیادہ بند کر لیا

ایم سوری یارم مجھے ضد نہیں کرنی چاہیے تھی ہمیں اس وقت باہر نکلنا ہی نہیں چاہیے تھا

سوری یارم میری وجہ سے ہم یہاں اتنی خطرناک جانوروں کے بیج آگئے آپ گاڑی واپس مڑے ہم واپس ہوٹل چلتے ہیں

رات تو رات یہاں تو دن کو بھی کوئی نہ آئے ہم واپس چلتے ہیں وہ کافی خوفزدہ اس سے کہہ رہی تھی۔

میرا بچہ اتنی سی بات پے ڈر گیا ہم واپس تو چلیں گے روح لیکن یہاں سے گاڑی موڑنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ہمہیں تھوڑا اور جانا ہوگا

وہ نرم سے اس کے گال پہ ہاتھ رکھ کر سمجھاتے ہوئے بولا ۔توروح خوف سے اس کا بازو تھام کر کبھی سڑک کی جانب دیکھتی تو کبھی اس کی جانب

وہ اندر ہی اندر بہت پچھتا رہی تھی

اس لیے یارم کے ساتھ اس طرح کی حطرناک جگہ کیوں آئی

یہ کوئی اس کا ملک تھوڑی تھا جہاں جب دل چاہے وہ منہ اٹھا کر چل دی اس جگہ کے کچھ اصول تھے اور یہ جگہ بہت خطرناک بھی تھی

اس نے اپنی وجہ سے یارم کو بھی بہت بڑی مصیبت میں ڈال دیا تھا جس کا اسے بہت افسوس تھا

یہاں کچھ بھی ہوسکتا تھا

یارم اس کی ہر ضد پوری کرتاتھا تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ اس کی نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھاتی

۔لیکن اب تو غلطی ہو گئی تھی لیکن اس کے باوجود بھی یارم نے ایک بار بھی یہ بات جتائی نہیں تھی بلکہ وہ تو بہت محبت سے اسے ٹریٹ کر رہا تھا

یار م پلیز بھی آپ بھی اپنی طرف شیشہ بند کریں مجھے ڈر لگ رہا ہے وہ شیشے کو کھلا دیکھ کر بولی

ہاں میرا بچہ میں ابھی بند کر دیتا ہوں تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں میں ہونا تمہارے ساتھ

یارم نے بہت نرمی سے

جب اچانک کوئی چیز بھاگتی پوئی ان کی گاڑی کی سائیڈ سے ٹکرائیمروج کانتی تھی کہ وہ سفید چیتا ہی ہے اس کہ بے ساختہ چیخ بلند ہوئی اور اس لے ساتھ وہمیارم سے چیپک گئی

لیکن یارم نے گاڑی روکی نہیں اب بھی گاڑی آگے کی طرف ہی بھر رہی تھی اور اب تھوڑا سا مزید آگے جانے کے بعداب گاڑی موڑنے کی جگہ ملتے ہی اس نے گاڑی موڑ لی تھی

جان اب کوئی جانور نہیں ہے یارم نے سرگوشی کی

پتا نہیں دنیا کے سارے خطرناک جانور ہمارے پیچھے ہی کیوں پڑے ہیں

پہلے آئزلینڈ میں وہ انسان نما پتا نہیں کیا چیز تھی

اور اب یہ سفید چیتا

ہم آئندہ کہیں نہیں جائیں گے اپنے گھر پر ہی رہا کریں گے دبئی میں ۔مجھے جانا ہی نہیں ہے کہیں پھر بھی اس سے تو بہتر دبئی ہے

جہاں ہم پرسکون ہو کر تو رہ سکتے ہیں

وہاں کے جنگلوں میں کوئی جنگلی جانور نہیں ہوتا

اس سے تو بہتر وہی جگہ ہے روح نے اس کی طرف کا شیشہ بھی بند دیکھ کر اب مطمئن انداز میں کہا ۔

ہاہاہا روح میری جان وہاں پر بھی بہت سے جنگلی جانور ہیں

تم نے دبئی دیکھا ہی کہاں ہے جب دیکھوگی تب پتہ چلے گا خیرتمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں میں ہوں نہ تمہارے ساتھ جب تب میں ہوں تمہیں انچ بھی نہیں آئے گی

روح تم یارم کاظمی کی رگوں میں خون بن کر دوڑتی ہو اپنی آخری سانس تک خفاظت کروں تمہاری

میرے ہوتے ہوئے تمہیں ڈر نے یا گھبرانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے تمہیں کچھ نہیں ہوگا وہ نرمی سے سمجھاتے ہوئے مسکرا کر بولا

آئی ایم سوری یارم میں نہیں جانتی تھی کہ یہاں کچھ ایسا ہوگاےمجھ سے غلطی ہوگئی تو پلیز مجھے معاف کر دیجیے

میں آئندہ کبھی ایسی ضد نہیں کروں گی وہ معصومیت سے بولی

مجھے پتا ہے میری جان تمہیں پتا نہیں تھا ورنہ میری روح جائز ضد نہیں کرتی لیکن تمہیں بار بار سوری بولنے کی ضرورت نہیں ہے

میں جانتا ہوں کہ تم اس جگہ سے پوری طرح ناواقف ہو اور اب تو ہم واپس جا رہے ہیں پریشان ہونے کی ضرورت ہی نہیں ہے

وہ گاڑی دوبارہ سے ہوٹل کے راستے پر ڈالتا ہوا بولا

راستہ پہاڑی کے چاروں طرف گھوم رہا تھا

جس سے نیچے موجود ہوٹل صاف نظر آ رہا تھا جس میں بے شمار روشنیاں جل رہی تھی لیکن اب بھی وہ کافی فاصلے پر تھا

اس کے تو وہم و گمان بھی ہمیں بھی نہیں تھا کہ ہوٹل کے ایریا کے قریب ہیں اتنے جنگلی جانور موجود ہوں گے

°°°°°

ہوٹل میں واپس آنے کے بعد اس نے قسم کھالی تھی رات تو رات وہ دن میں بھی کبھی باہر نہیں نکلے گی

جب تک وہ واپس نہیں چلے جاتے یارم اس قدر پریشان ہو رہا تھا وہ تو اسے یہاں خوش رکھنے آیا تھا

اور یہاں وہ اتنی خوفزدہ ہو چکی تھی

وہ بھی سفید چیتوں سے جو کہ چیتے کی سب سے معصوم نسل ہونے کے ساتھ ساتھ سب سے خطرناک نسل بھی تھی

لیکن سویزرلینڈ کے لوگوں کے لیے یہ اتنا خطرناک نہیں تھا

یہ ایک ایسا جانور تھا جس کے ساتھ چھیڑ خانی کے بعد وہ حملہ کرتاھا ورنہ کسی کو نقصان نہیں پہنچتا تھا

اپنے آپ سے ہی مطلب رکھتا تھا

ہوٹل کے اتنا قریب ہونے کے باوجود بھی جنگلی جانوروں نے کبھی ہوٹل کے لوگوں پر حملہ نہیں کیا تھا

سوئیزرلینڈ کی حکومت انہیں پسند کرتی تھی یہاں تک کہ جنگل میں بہت سارے حفاظتی انتظامات بھی کیے گئے تھے

تاکہ جنگل میں رہنے والے جانوروں کو کوئی مسئلہ نہ ہو

یہاں پر جانوروں کو رکھنے کے بھی کچھ اصول تھے

اگر یہاں پر ایک جانور کو پالتو جانور کے طور پر پالا جائے تو یہ ان لوگوں کا اصول تھا کہ وہ ایک نہیں بلکہ دو ہوں گے

مطلب کے جوڑی کی صورت میں یہاں کے لوگوں کو اکیلا جانور پالنے کی اجازت نہیں تھی ان لوگوں کے خیال سے اس طرح سے اکیلا جانور خود کو تنہا محسوس کرتا تھا

اس لیے یہاں پر صرف اور صرف جوڑی کی صورت میں ہی جانور رکھنے کی اجازت تھی

یہ بھی ان لوگوں کے اصولوں میں شامل تھا

اسی لئے تو وہ شونو کو یہاں نہیں لایا روح کی اتنی ضد کرنے کے باوجود بھی اس نے اس کی بات نہیں مانی تھی ۔

کیونکہ وہ کسی بھی جگہ کے اصول نہیں توڑنا چاہتا تھا

وہ خود اصول رکھنے والا انسان تھا اسے اصول توڑنے والے لوگ خود بھی پسند نہیں تھے ایسے میں اس کا کسی جگہ کا اصول توڑنا اس کی شان کے خلاف تھا

°°°°°°

صبح ہوتے ہی یار ہم نے اسے ایک بار پھر سے باہر چلنے کو کہا

نہیں یارم ہم کہیں نہیں جائیں گے ہمہیں جتنے دن رہنا ہے یہی پر رہتے ہیں

اور پھر واپس چلتے ہیں

میری جان کیا ہو گیا ہے تمہیں ہم یہاں گھومنے پھرنے آئے ہیں اور میں نے تمہیں بتایا کہ وہ جانور اتنا خطرناک نہیں تھا جتنا کہ تم سمجھی

نہیں یارم وہ جانور بہت خطرناک تھا وہ چیتا تھا اور جیتے معصوم نہیں ہوتے کو چیر پھاڑ کر ہی دم لیتے ہیں

مجھے کہیں نہیں جانا یہی پر رہنا ہے اور خبردار جو آپ بھی کہیں باہر نکلے اگر مجھے پتا ہوتا کہ یہ جگہ اتنی خطرناک ہے تو میں کبھی یہاں نہیں آتی

اچھا بابا اب ہم اس طرف نہیں جائیں گے ہم دوسری کسی جگہ گھومنے چلتے ہیں اور اب تمہارا سفر بورنگ بھی نہیں ہوگا میں وعدہ کرتا ہوں

ہم بہت انجوائے کریں گے یارم نے اس کا چہرہ ہاتھوں می تھامتے ہوئے کہا تو روح تو ماننا ہی برا

ٹھیک ہے فریش ہو کر چلتی ہوں لیکن وعدہ کریں کہ ہم اس طرف نہیں جائیں گے روح نے پھر سے یقین دہانی چاہیے یارم نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اسے یقین دلایا جس کے ااتھ ہی وہ اس کے لبوؑ پر جھکا ہلکی سی جسارت لر گیا

جس کا روح نے نپبرا نہیں منایا اور روح فائنلی تیار ہونے چلے گی

وہ نہا کر باہر نکلی تو یارم یہاں نہیں تھا یقین ریسیپشن سے چابہ لینے گیا ہوگا یہاں کے ہوٹلوں کے بھی عجیب اصول تھے

اپنی گاڑی لانا بالکل الاؤڈ نہیں تھا

جہاں بھی جانا تھا ہوٹل کے گاڑی میں جانا تھا وہاں ڈرائیور بھی موجود تھا اگر چاہیں تو اسے بھی لے کر جا سکتے تھے اور اگر ان کے مہمان پرائیویسی چاہتے ہیں تو وہ گاڑی خود ڈرائیو کر سکتے ہیں

بس ان کے پاس لائسنس ہونا چاہیے

اور یارم کو اپنی پرائیویسی بے حد عزیز تھی ۔

وہ کھڑکی پہ کھڑے یارم کا انتظار کرنے لگی جب باہر کی جانب جاتے راستے پر اسے پھر سے وہی کل والی لڑکی نظر آئی

لیکن اس وقت وہ کافی پریشانی سے کسی کی منتیں کر رہی تھی وہ ہاتھ جوڑ رہی تھی بری طرح سے رو رہی تھی

جبکہ دوسرا شخص اس کی طرف پیٹھ کیے کھڑا تھا جسے وہ پہچان نہیں پائی لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد جب اس نے اس لڑکی کو تھپڑ مارا

وہ اس لڑکے کا چہرہ بھی دیکھ چکی تھی یہ تو وہی تھا جو دبئی میں اس سے ملا تھا اور پھر کل رات بھی تو روح نے سے دیکھا تھا

وہ اس لڑکی کو کیوں مار رہا تھا بلا اس کے ساتھ اس کی کیا دشمنی تھی

وہ اس کے ساتھ اتنا جارحانہ سلوک کیوں کر رہا تھا

وہ اسے دیکھ رہی تھی جب اچانک دروازہ کھلا اور یارم اندر داخل ہوا۔

چلو جان میں تمہیں سوئٹزرلینڈ کی ایک بہت ہی خوبصورت جگہ پر لے کر جانے والا ہوں وہ مسکراتا ہوا اس کے قریب آیا تھا

یارم اس طرف دیکھیں وہ کڈنپر جو شاید کڈنپر نہیں ہوگا وہ لڑکی کو مار رہا ہے وہ اس کا ہاتھ تھامے سے تیزی سے کھڑکی کے قریب لائی تھی

لیکن یہ کیا جیسے ہی یارم نے باہر دیکھا وہ لڑکی اس کے گلے لگی بڑی بے باکی اور خوشی کا اظہار کر رہی تھی

روح بےبی گندی بات یہ تم کیا دیکھ رہی ہو وہ ہزبینڈ وائف رومانس کر رہے ہیں وہ تو یہاں چھپ چھپ یر ان کو دیکھ رہی ہو

کتنی غلط بات ہے روح اس کے چہرے کے ایکسپریشن چینج ہوتے دیکھ یارم نے شرارت سے کہا تو وہ اسے گھور کر رہ گئی ۔

نہیں یار م وہ دونوں ایسا ویسا کچھ نہیں کر رہے تھے وہ لڑکا اس لڑکی کو مار رہا تھا میں نے خود دیکھا ہے

اسے مارتے ہوئے روح نے یقین دلاتے ہوئے کہا اسے خود سمجھ نہیں آئی تھی کہ اچانک ہو کیا گیا ہے ابھی تو وہ لڑکا اتنا غصہ کر رہا تھااس پر

یہاں تک کہ بے دردی سے اس کے منہ پر تھپڑ تک ماراتھا

اور اب کیسے اسے اپنے گلے سے لگائے شاید بہلا رہا تھا یا منا رہا تھا لیکن لڑکی کے چہرے پر خوشی تھی

روح ہمیہں کیا مطلب ہے کہ کوئی کیا کر رہا ہے وہ دونوں رومانس کریں یا ایک دوسرے کو جان سے مار ڈالے ہمارا ان سے بھلا کیا لینا دینا

ہمیں تو بس اپنے ہنیمون ٹور کو خوشگوار بنا نا ہے

اس کے ہاتھوں کو اپنے لبوں کے قریب لے جاتے ہوئے یارم نے محبت سے کہا اور اس کی انگلیوں کو چوم کر اس کا ہاتھ تھامے باہر چلنے کا اشارہ کیا

ویسے یارم ہم کہاں جا رہے ہیں اپنا زکاف سیٹ کرتی ہوئے روح پھر سے پوچھنے لگی جبکہ ڈارک بلو زکاف میں اس کا حسین چہرہ کسی حسین پری سے کم نہیں لگ رہا تھا

یارم مدہوش سا اس کے لبوں پر جھکتے ہوئے اس کے لبوں لو چوم گیا

۔روح حیرت اور صدمے کی کیفیت میں اسے دیکھنے لگی

وہ تو اس سے عام سوال کر رہی تھی اور یہاں پر بھی وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا آپ کبھی نہیں سدھر سکتے وہ غصے سے پٹکتی باہر نکل گئی

جب کہ اپنی بے اختیاری پر وہ اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتا مسکراتے ہوئے اس کے پیچھے ہی کمرے سے نکلا

°°°°°